Shetani Gurriya Novel by Nazia Shazia – Last Episode 3

0
شیطانی گڑیا از نازیہ شازیہ – آخری قسط نمبر 3

–**–**–

پاکیزہ نے دیکھا کے زویا کھڑکی میں کھڑی ہے اور تھوڑی پیچھے گڑیا اونچی اونچی قہقہ لگا رہی تھی ،پورا کمرہ گوشت کے ٹکڑوں اور خون سے بھرا ہوا تھا ،پاکیزہ تھوڑا آگے بڑھی تو دیکھا کے ایک ہیبت ناک عورت جس کی آنکھیں باہر لٹک رہی تھی ،اس نے شیشے کا ایک ٹکڑا پکڑا ہوا تھا اور پاکیزہ کی بیٹی سارا کے جسم کے ٹکڑوں کو کاٹ کاٹ کر ان میں سے گوشت نکال کر کھا رہی تھی اور اس کا خون پی رہی تھی ،پاکیزہ لرزتے ہوئے پیچھے ہٹی تو کسی چیز سے ٹکڑا کر نیچے گر گئی ،جب پاکیزہ نے غور کیا تو وہ بلال کا کٹا ہوا سر تھا ، یہ دیکھ کر پاکیزہ کے پسینے چھوٹ گئے ،زویا نے پاکیزہ کی طرف منہ کیا تو پاکیزہ کا کلیجہ منہ کو آگیا ،زویا کے چہرہ بری طرح سے کٹا پھٹا تھا اور گوشت کے لوتھڑے باہر لٹک رہے تھے جن میں سے خون رواں تھا ،یہ دیکھ کر پاکیزہ چیخیں مارتی ہوئی باہر کی جانب بھاگی،اس کو خود پر یقین نہیں ہو رہا تھا ،وہ صنم کے کمرے کی جانب بھاگی ،جیسے ہی صنم کے کمرے کا دروازہ پاکیزہ نے کھولا تو وہاں بھی گوشت کے ٹکڑے اور خون پھیلا ہوا تھا وہ پاگلوں کی مانند چیخ رہی تھی ثانیہ سچی تھی ثانیہ سچی تھی ،اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے پھر اس نے سوچا کے مزمل اور سعد کو لے کر وہ یہاں سے بھاگ جاۓ گی ،پھر وہ اس کمرے کی جانب بھاگی جہاں مزمل اور سعد تھے مگر وہاں بھی گوشت کے ٹکڑے اور خون پھیلا ہوا تھا اسے یقین ہوگیا تھا کے کوئی نہیں بچا ،پھر وہ اکیلی گھر سے باہر کی جانب بھاگی لیکن main دروازہ تو جام ہو چکا تھا اس نے بہت زور لگایا لیکن وہ نا کھلا اتفاق سے آج تمام ملازمین کو بھی چھٹی دے دی گئی تھی،پاکیزہ کو کسی کے چیخنے کی آواز آئ ،جیسے ہی اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک خوفناک عورت جس کے منہ سے خون رس رہا تھا اور اس کے بڑے اور لمبے نوکیلے دانت تھے ،وہ پاکیزہ کے پیچھے کھڑی تھی اس نے اپنے دانت پاکیزہ کی گردن میں گاڑ دئیے،اور اس کا خون پینے لگی آخر کار پاکیزہ بھی دم توڑ گئی ،پورے زید ہاؤس میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ وحشی درندہ ثانیہ کی جانب بڑھا ، ثانیہ اونچی اونچی چلانے لگی بچاؤ مجھے بچاؤ ،یہاں کیا ہو رہا ہے اندر ،انسپکٹر ثمینه چلائی ،انسپکٹر ثمینه نے دروازہ کھولا تو دیکھا کے ثانیہ کا دوپٹہ ایک جانب پڑا ہے اور شاہد کھڑا اپنے ہاتھوں کو مل رہا تھا ،ثمینه آگے بڑھی اور ایک زور دار تماچہ شاہد کے منہ پر مارا ،ثمینه نے ثانیہ کو اس کا دوپٹہ اوڑھایا اور اس کو باہر لی گئی ،شکر ہے انسپکٹر آپ وقت پر پہنچ گئی ورنہ میرا پتہ نہیں کیا ہوتا ،ثانیہ روتے ہوئے بولی ،جس کی حفاظت کا ذمہ اللّه نے لے لیا ہو تو اس کو کوئی کچھ نہیں کہ سکتا ،ثمینه نے ثانیہ کو تسلی دی اور اس کو زندان میں بھیج دیا ،انسپکٹر میں نے کچھ نہیں کیا یہ لڑکی خود آئ تھی میں تو بس۔۔۔۔۔۔،شاہد اپنی صفائی دینے لگا ،ایک اور لفظ نہیں مجھے اصغر نے سب بتا دیا کے کس طرح تم نے اس کو پیسے دئیے تھے کے مجھے کسی کام سے باہر لے جاۓ تاکہ تم ثانیہ کی عزت بے آبرو کر سکو وہ تو شکر ہے کہ اصغر کے دل میں رحم آگیا اور اس نے مجھے سب سچ سچ بتا دیا ،تمھارے خلاف تو میں رپورٹ درج کرتی ہوں ،اصغر اس درندہ صفت انسان کو گرفتار کرو اور جیل میں ڈال کر آؤ ،انسپکٹر ثمینه نے حکم دیا ،اصغر نے شاہد کو ہتھکڑیاں لگائی ،شاہد نے اصغر کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھا ،اصغر نے منہ نیچے کرلیا اور شاہد کو گرفتار کر کہ جیل میں ڈال آیا ،بیچاری ثانیہ زندان میں بیٹھی دعا کر رہی تھی ،یا اللّه مجھ بےقصور کو بچا لے میری مدد فرما ،میرے گھر والوں کی حفاظت فرما ،بیچاری کو اب بھی اپنے گھر والوں کی فکر تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن شام کو ثمینه زندان میں آئ، مبارک ہو ثانیہ ،کیا ہوا انسپکٹر؟؟ ثانیہ نے حیرت سے پوچھا ،تمہاری بھابھی پارسا کا پوسٹمارٹم کیا گیا تھا اور اس کے جسم پر ملنے والے finger prints تمہارے نہیں ہیں ،جس سے واضح ہوتا ہے کے قاتل تم نہیں ہو ،تمھیں قتل کے الزام سے با عزت بری کیا جاتا ہے ،ثانیہ کو یقین نا آیا ،وہ رونے لگی اور اس نے ثمینه کو گلے لگا لیا ،ثمینه نے ثانیہ کو خدا حافظ کہا اور ثانیہ جب تھانے سے باہر نکلی تو اسکو عامل صاحب اور اس کا شوہر عادل کھڑے نظر آۓ ،عادل آپ یہاں کیوں آۓ ہیں اب میں آپ کے لئے اور آپ میرے لئے نامحرم ہیں ،ثانیہ کا لہجہ بہت غصّیلہ تھا ،کیا ہم کہیں بیٹھ کر بات کریں ؟؟ عامل صاحب نے کہا ،جس پر ثانیہ نے اثبات میں سر ہلا دیا ،عامل صاحب اور عادل ثانیہ کو پارک میں لے آۓ آپ دونوں باتیں کریں میں آتا ہوں اور عامل صاحب وہاں سے چلے گۓ ،ثانیہ نے منہ دوسری طرف پھیر لیا ،ثانیہ میں نے تمھیں طلاق نہیں دی یہ سب پاکیزہ باجی کا کیا دھرا ہے ،(پاکیزہ عادل کی کزن تھی)کیا مطلب ،ثانیہ نے حیرانی سے کہا،مطلب یہ کہ ثانیہ تم پاکیزہ آپی کو ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی ،انہوں نے مجھے شروع میں بھی بولا کہ میں تمھیں طلاق دے دوں مگر میں نا مانا پھر جب میں چھ ماہ کے لئے امریکہ گیا تو انہوں نے اس بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے طلاق کے جعلی کاغذات تیار کرواۓ ،اور شور مچا دیا کے ہماری طلاق ہوگئی ہے اور اوپر سے تم نے بھی یقین کر لیا ،عادل نے اپنی صفائی دی ،میں آپ کا یقین کیسے کر لوں؟؟ثانیہ نے سوال کیا ،تم ان وکیل سے بات کرلو جنہوں نے یہ کاغذات تیار کیے تھے ،ثانیہ کی عادل نے وکیل صاحب سے بات کروائی اور سب کچھ واضح ہوگیا،ثانیہ یہ تم نے اپنی کیا حالت کر لی ہے،عادل ثانیہ کی حالت دیکھ کر دکھی ہوگیا ، عامل صاحب واپس آگئے ،ہاں بھئی الجھی ہوئی گرہیں سلجھ گئی ،عامل صاحب عادل سے مخاطب تھے جس کے جواب میں عادل نے اثبات میں سر ہلایا ،اچھا عادل مجھے گھر لے چلیں مجھے ابو سے اور بھائیوں سے ملنا ہے ،عادل نے عامل صاحب کی طرف دیکھا ،عامل صاحب ثانیہ سے بولے ،ثانیہ وہ گڑیا ایک شیطان تھا جس پر پانچ شیطانی طاقتوں کا قبضہ تھا ،کیوں کہ تم ایک نیک دل لڑکی تھی لہٰذا وہ شیطان تم پر قبضہ کر کہ تم سے شیطانی کام کروانا چاہتے تھے،لیکن اللّه کی مہربانی دیکھو وہ تمھیں شیطان کے چنگل سے نکال لایا جانتا ہوں کے تمھیں کچھ دن زندان میں اذیت کاٹنا پڑی لیکن اس کے پیچھے بھی اللّه کی بہتری تھی ،بیشک اللّه سب سے بہترین چال چلنے والا ہے ،عامل صاحب بولے ،ثانیہ بہت غور سے عامل صاحب کی باتیں سن رہی تھی ،میرے علم کے مطابق ،یہ بہت پرانی بات ہے ایک جادوگرنی اس گڑیا کو جادو کے لئے استمال کیا کرتی تھی ایک روز جب وہ جادو کر رہی تھی تو اس سے انجانے میں ایک غلطی ہوگئی اور ان شیطانی قوتوں نے مل کر اس جادوگرنی کو مار دیا اور اس گڑیا پر قابض ہوگئی اور اس گڑیا نے نا جانے کتنے قتل کیے ہیں اور بہت افسوس سے کہنا پڑھ رہا ہے کے تمہارے گھر والوں کو بھی اس نے مار دیا اور زویا گڑیا کے ساتھ نا جانے کہاں غائب ہوگئی ،یہ سننا تھا کہ ثانیہ بیہوش ہوگئی ،جب اسے ہوش آیا تو وہ ہسپتال میں تھی اور عادل اس کہ قریب بیٹھا سوگیا تھا ،ثانیہ نے اپنی آنکھیں بند کرلیں جن میں سے آنسو رواں تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(تین سال بعد)
ثانیہ اور عادل نے دوبارہ اپنا گھر بسا لیا اور اب ان کے پاس اللّه کی نعمت بھی ہے اور رحمت یعنی ایک بیٹا اور ایک بیٹی ،ایسا نہیں کہ ثانیہ اپنے گھر والوں کو بھول گئی وہ اکثر ان کو یاد کر کے رویا کرتی تھی حالاں کے اس کے گھر والوں نے اس پر ظلم کے پہاڑ توڑ ڈالے لیکن اس نرم دل لڑکی نے کبھی بھی اپنے دل میں اپنے گھر والوں کے لئے نفرت کو جگہ نا دی ،ثانیہ قرآن مجید کی تلاوت کر رہی تھی اس کی آنکھیں نم ہوگئی جب اس نے یہ آیت پڑھی
💖انا اللّه مع الصبرین💖
💕بیشک اللّه صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے💕
ثانیہ نے قرآن مجید کو چوم لیا اور زارو قطار رونے لگی ،عادل پیچھے کھڑا ثانیہ کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زید ہاؤس کو ثانیہ نے بیچ دیا ،ایک نیا خاندان اس گھر میں آگیا ،گڑیا درخت کے نیچے بیٹھی مسکرا رہی تھی ،اسی نۓ خاندان کی سب سے چھوٹی اور لاڈلی بچی آمنہ نے آکر اس شیطانی گڑیا کو اٹھا لیا ،امی دیکھیں مجھے کیا ملا ہے ،آمنہ چلائی، آمنہ گڑیا کو اندر لے گئی گڑیا کو نہیں شیطان کو

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: