Sitamgar Ki Sitamgari Novel by Nageen Hanif – Episode 5

0
ستمگر کی ستمگری از نگین حنیف – قسط نمبر 5

–**–**–

ایسے تو میں بور ہو جاؤں گی…
رابیعہ بیگم ابان کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس چیک اپ کے لیے چلی گئی تھیں. وہ تو زری کی طبیعت خراب کی وجہ سے جانے سے ہی انکار کر رہی تھیں. لیکن پھر خود زری نے انہیں جانے کے لیے منایا.
امی آپ کے سامنے میڈیسن بھی لے چکی ہوں، اب کیا مسئلہ ہے، تھوڑی دیر تک ٹھیک بھی ہو جاؤں گی. اور ویسے بھی آپ نے آج چیک اپ کے لئے ہی تو جانا ہے، گھنٹہ دو گھنٹہ تک آپ واپس بھی آ جائیں گی.
وہ بڑے تحمل سے انہیں سمجھا رہی تھی اور چئیر پر بیٹھا ابان بغور اسی کو دیکھے جا رہا تھا جسے خود سے زیادہ اپنی ماں کی پرواہ تھی.
وہ اس کی لو دیتی نظریں خود پر محسوس کر سکتی تھی.
ٹھیک ہے پھر، تم بیڈ سے نہیں اتروگی، اور کوئی ضرورت نہیں ہے کام کرنے کی…. وہ ممتا سے بھرے لہجے میں کہہ رہی تھیں.
ٹھیک ہے کچھ نہیں کروں گی، کسی کام کو ہاتھ نہیں لگاؤں گی، آپ بے فکر ہوکر جائیں.
ٹھیک ہے میں چادر لے آؤ پھر چلتے ہیں بیٹا وہ ابان کی طرف دیکھ کر بولی تھیں. جس نے انہیں دیکھتے ہاں میں سر ہلایا تھا.
ان کے جانے کے بعد ابان اٹھ کر اس کے بیڈ کی طرف بڑھا تھا اور اس کے سر پر جا کھڑا ہوا تھا.
وہ ایک نظر اسے دیکھ کر آنکھیں جھکا گئی تھی.
وہ چند پل اسی طرح کھڑا اس کا جائزہ لیتا رہا…… یہ لڑکی اپنی معصومیت، اپنے بھولے پن کی وجہ سے اس کے دل کے قریب ہوتی جارہی تھی.
وہ جھکا تھا اور اس کی پیشانی پر محبت بھرا لمس چھوڑا تھا.
“اپنا خیال رکھنا، مائی انوسینٹ گرل…… “
وہ اس کے کان کے قریب سرگوشی کرنے کے بعد باہر کی طرف بڑھ گیا تھا.
اور وہ کتنی ہی دیر تک اس کے پرفیوم کی خوشبو اپنے اردگرد محسوس کرتی رہی اور اپنی آنکھیں بند کئیے بیڈ کی بیک کے ساتھ سر ٹکا گئی جیسے وہ کچھ پل اسے اپنے پاس محسوس کرنا چاہتی ہو.
شامِ غم کی سحر نہیں ہوتی
یا ہمیں کوخبر نہیں ہوتی
ہم نے سب دُکھ جہاں کے دیکھے ہیں
بے کلی اِس قدر نہیں ہوتی
نالہ یوں نا رسا نہیں رہتا
آہ یوں بے اثر نہیں ہوتی
چاند ہے، کہکشاں ہے، تارے ہیں
کوئی شے نامہ بر نہیں ہوتی
ایک جاں سوز و نامراد خلش
اِس طرف ہے اُدھر نہیں ہوتی
دوستو، عشق ہے خطا لیکن
کیا خطا درگزر نہیں ہوتی؟
رات آ کر گزر بھی جاتی ہے
اک ہماری سحر نہیں ہوتی
____________
ماہی تم یہ کپڑے پہن کر مہمانوں کے سامنے آؤں گی. وہ گلابی رنگ کا کامدار سوٹ لیئے ماہی کے کمرے میں داخل ہوتی ہوئی بولی تھیں.
امی اتنی جلدی بھی کیا ہے، ابھی پڑھائی تو ختم کر لینے دیں.
یہ تمہیں جلدی لگ رہا ہے؟ خاندان میں کوئی لڑکی اہسی نہیں ، جس کی شادی نہ ہوئی ہو تمہارے سوا.
شاید آپ بھول گئی ہیں. آپ کی پیاری بہن کی بیٹی (سمعیہ) ابھی رہتی ہے اور وہ مجھ سے دو سال بڑی بھی ہے. اس نے جتاتے ہوئے بتایا.
تمہارے مسئلے سے فارغ ہونے کے بعد میں بات کرتی ہوں ابان سے…… وہ سنجیدگی سے بولی تھیں.
کیا مطلب ابان بھائی سے بات کیوں کریں گئی. خالہ سے بات کریں. اس نے ناسمجھی سے کہا. تمہاری خالہ تو راضی ہے اور سمعیہ بھی یہی چاہتی ہے. بس ابان ہی بچا ہے. اس سے ذرا آرام سے بات کرو گئی، کہ اب وہ اپنی زندگی کے بارے میں بھی کچھ سوچے….. وہ اپنی ہی کہے جارہی تھیں. امی آپ یہ کیسی باتیں کر رہی ہیں کیا آپ بھول گئی ہیں کہ ابان بھائی کا نکاح 5 سال پہلے ہو چکا ہے. پھر ان باتوں کا کیا مقصد ہے.
ایسے نکاح کو برقرار رکھ کر کیا کرنا ہے جس سے میرا بیٹا خوش نہ ہو، وہ اپنی سنجیدہ طبیعت کی وجہ سے کچھ بولتا نہیں ہے تو کیا ہوا، میں ماں ہوں مجھے اس کا غم صاف نظر آتا ہے.
امی آپ…. آپ غلط سوچ رہی ہیں. کیا آپ سے ابان بھائی نے یہ سب کچھ کہا ہے.
اس نے خود نکاح کی ہامی بھری تھی. وہ اپنی غلطی کیوں مانے گا. وہ شروع سے ہی ایسا ہے اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتا لیکن ماں کا دل تو ہر چیز سے واقف ہوتا ہے.
اب بس مجھ سے الجھو مت، مجھے ابھی بہت سے کام ہیں میں اکیلی جان اتنے سارے کام کرکے تھک جاؤگی. سوچ رہی ہوں زری کو بلا لوں، وہی مدد کروا دے گی. وہ یہ سب کہتی ہوئی باہر کی طرف بڑھ گئیں.
اور ماہی کتنی ہی دیر اپنی ماں کے کہے گئے الفاظ پر سوچتی رہی اور وہ اب اس نتیجے پر پہنچ چکی تھی کہ اب اسے اپنے بھائی سے بات کر لینی چاہیے وہ ذری کے ساتھ کچھ غلط ہوتا نہیں دیکھ سکتی تھی.
________________
زری اب سارا کچن کا کام تمہیں دیکھنا ہے. آمنہ بیگم زری کو کام بتا رہی تھیں.
وہ آمنہ بیگم کے ایک فون کال سے ہی آگئی تھی، آتی بھی کیوں نہ آج اس کی کزن کم، بہن کو دیکھنے آ رہے تھے. وہ اپنا درد، اپنی خراب طبیعت کو بھلائے اس کی خوشی میں شامل ہونے کے لئے آ گئی تھی.
ٹھیک ہے تائی جان میں سب دیکھ لوں گی. آپ آرام کریں. میں ماہی کو دیکھ کر آتی ہوں. وہ چہکتے ہوئے بولی……..
ہاں اسے بھی دیکھ لو، اور اس نکمی کو کہنا سہی سے تیار ہو کر آئے.
وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اوپر کی طرف بڑھ گئی.
ماہی! وہ ڈریسنگ کے سامنے بیٹھی تھی، جب زری نے اسے آواز دی.
وہ جھٹ سے اس کے گلے آ لگی اور آنکھیں نیچی ہی رکھیں.
ماہی تم رو رہی ہو….
نہ….. نہیں….. میں بالکل ٹھیک ہوں، تم اتنی گرم کیوں ہو. اس نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تو اسے اندازہ ہوا کہ اسے بخار ہے.
زری تمہیں تو بہت تیز بخار ہے. تمہیں آرام کرنا چاہیے. آؤ بیٹھو یہاں….. وہ اسے بیڈ پر بٹھاتے ہوئے بولی.
نہیں میں بالکل ٹھیک ہوں، اور میڈیسن بھی لے چکی ہوں ابھی تھوڑی دیر تک یہ بخار بھی کم ہوجائے گا. تم مجھے بتاؤ میرے آنے سے پہلے تم رو رہی تھی؟ ان آنسو کی وجہ بتاؤ مجھے ماہی… وہ اسے اپنے ساتھ بیڈ پر بٹھاتے ہوئے بولی.
کیا تم خوش نہیں ہو، وہ اسے خاموش دیکھ کر پھر سے بولی….
میں تمہیں اور بھائی کو لے کر پریشان ہوں اور اسی وجہ سے آنکھ سے آنسو بھی جھلک گئے. وہ صرف یہ سوچ سکی.
میں تو شیشے کے سامنے پریکٹس کر رہی تھی کہ رخصتی کے وقت کیسے رونا ہے. اس کی بات سن کر دونوں مسکرا دیں.
______________
زری تم ذرا جا کر ماہی کو نیچے آنے کا کہہ دو، اور نجمہ (کام والی) تم ٹیبل لگاؤ جلدی سے وہ کچن میں داخل ہوتی ہوئی بولی.
جی بی بی نجمہ ٹیبل لگانے کے لیے باہر کی طرف چل دی.
آمنہ بیگم پلٹنے ہی لگی تھیں لیکن پھر زری کی طرف مڑ گئیں.
میں نہیں چاہتی کہ تم مہمانوں کے سامنے آؤ، اسی لیے کچن سے باہر قدم مت رکھنا. وہ نہیں چاہتی تھیں کہ مہمان اس کے بارے میں پوچھے اور انہیں بتانا پڑے کہ یہ میرے بیٹے کی منکوحہ ہے. کیونکہ انہوں نے مہمانوں کو صرف اتنا ہی بتا رکھا تھا کہ ان کے بڑے بیٹے کی شادی ہوچکی ہے جو کہ دوسرے شہر رہتا ہے. اور چھوٹا ابھی کنوارہ ہے.
آمنہ بیگم کی بات سن کر زری کی آنکھیں نم ہوئی تھیں کہ وہ کتنی بے وقعت تھی. کیا وہ مہمانوں سے اس کا تعارف نہیں کرواسکتی تھیں . ایسے موقعوں پر تو لوگ خوشی خوشی اپنی بہو کا تعارف کرواتے ہیں. لیکن ایک زری تھی جس کو اس کی ساس تو دور اس کا شوہر بھی اپنا نام اس کے ساتھ جوڑنے سے انکاری تھا.
وہ جی کہتی ہوئی چہرہ دوسری طرف موڑ گئی.
________________
لڑکے کی ماں، بڑی بہن اور پھوپھی آئی تھی. جو کہ حال میں ہی موجود تھی اور ماہی بھی ان دونوں عورتوں کے درمیان ہی موجود تھی جبکہ آمنہ بیگم الگ صوفے پر تھیں.
ان عورتوں نے ماہی سے کافی سوال جواب کیے جبکہ اس کی بڑی بہن خاموش ہی تھی.
واش روم کس طرف ہے، لڑکے کی پھوپھی نے پوچھا تھا.
نجمہ انہیں واش روم تک لے جاؤ. آمنہ بیگم نے نجمہ کو انہیں واش روم لے جانے کے لیے کہا.
نجمہ نے اثبات میں سر ہلایا اور انہیں لیے واش روم کی طرف چل دی.
____________________
زری کام کرنے میں مصروف تھی جب اسے اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تو اس نے مڑ کر دیکھا.
السلام علیکم!! اس نے ہچکچاتے ہوئے سلام کیا. جب کہ مقابل اسے دیکھنے میں مصروف تھی.
کیا نام ہے آپ کا؟ ماہین آپ کی کیا لگتی ہے؟
زری کو اس کا سوال عجیب لگا، لیکن اسے جواب تو دینا ہی تھا. وہ شاید لڑکے کی پھوپھی تھیں. زری جان گئی تھی کیونکہ نجمہ نے بتایا تھا کہ تین عورتیں ہیں ایک ماں، بہن اور پھوپھی.
جی میرا نام زری ہے اور میں….. میں چچا زاد کزن ہوں ماہی کی.
وہ زری کے سر پر پیار دے کر باہر کی طرف چل دیں.
_______________
موم…….!!!!! وہ جب گھر میں داخل ہوا تو اس نے سب سے پہلے آمنہ بیگم کو پکارا جو کہ اس کے مطابق حال میں مہمانوں کے ساتھ ہونی چاہیے تھیں. لیکن حال میں کوئی نہیں تھا.
صرف نجمہ ہی تھی جو صفائی کر رہی تھی.
اسی لیے وہ انہیں آواز دیتا ہوا کمرے کی طرف بڑھا.
وہ شرمندہ تھا کہ وہ وقت پر پہنچ نہیں سکا. اور نجمہ جو ہال میں موجود میز صاف کر رہی تھی. اس سے صاف ظاہر تھا کہ مہمان آکر جا چکے تھے اور اب اسے اپنی ماں کو منانا تھا.
موم! آئی ایم سوری، میں مانتا ہوں میری غلطی ہے. میں ٹائم پر نہیں آ سکا لیکن آپ دروازہ کھولیں وہ آمنہ بیگم کے دروازے پر کھڑا انہیں پکار رہا تھا.
دروازہ کھلا تھا لیکن وہ اپنی ماں کا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر پریشان ہوا تھا.
موم کیا ہوا ہے؟ کیا کچھ ہوا ہے؟ وہ ان کی طرف بڑھتا ہوا بولا تھا.
اب کچھ ہونے کو باقی رہا ہے؟ تمام کسر اس منحوس لڑکی نے پوری کر دی ہے مہمانوں کے سامنے آکر………… اسے ایک پل نہ لگا تھا اپنی ماں کا اشارہ سمجھتے ہوئے کہ وہ کس کے متعلق بات کر رہی ہیں.
وہ لوگ ماہی کے لیے انکار کر چکے ہیں لیکن وہ لوگ زری کو مانگ رہے ہیں، اپنے بیٹے کے لیے…… آمنہ بیگم نے ایک نظر ابان کے تاثرات پر ڈالی، جن میں کوئی تبدیلی رونما نہ ہوئی تھی وہ بنا کوئی جواب دیئے باہر کی طرف بڑھ گیا.
_________________
زری میں پوچھتی ہوں ایسا کیا ہوا ہے جو تم مسلسل روئے جا رہی ہو. رابیعہ ماہی کی طرف دیکھتی ہوئی بولیں جو کہ رونے کے شغل میں مصروف تھی.
اتنے میں دروازہ کھٹکنے کی آواز آئی رابیعہ بیگم دروازہ کھولنے کے لیے باہر کی طرف جل دیں . زری کو چند پل پہلے کی باتیں سوچ کر اور رونا آیا.
وہ لوگ زری کے بارے میں آمنہ بیگم سے پوچھ رہے تھے.
لڑکے کی ماں بولی تھی کہ ماشاءاللہ آپ کی دونوں بیٹیاں بہت پیاری ہیں. لیکن ہمیں آپ کی دیورانی کی بیٹی زیادہ پسند آئی ہے، اگر آپ اجازت دیں تو ہم زری کے لئے ہاں کرنا چاہتی ہیں…… ذری یہ سب باتیں سن رہی تھی اسے امید تھی کہ اب آمنہ بیگم انہیں بتا دیں گی کہ زری میرے بیٹے کی منکوحہ ہے، لیکن آمنہ بیگم کے الفاظ سے اسے جتنی تکلیف پہنچی تھی وہ لفظوں میں بیاں کرنا ناممکن سی بات تھی.
“دراصل میری دیورانی کی بیٹی کی شادی ہوچکی ہے لیکن وہ اپنے شوہر کے ساتھ نہیں رہتی اور بہت جلد اسے طلاق ہونے والی ہے اگر آپ لوگ یہ سب جان کر بھی اس کے لیے ہاں کرتے ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں بلکہ یہ تو ہمارے لئے خوشی کی بات ہوگی. ” آمنہ بیگم کا اطمینان دیکھنے لائق تھا.
وہ سوچنے کا ٹائم لے کر چلے گئے تھے لیکن زرفشان نعمان لغاری کے پاؤں تلے سے جیسے زمین کھینچ لی گئی ہو. اس کے لئے وہاں دو پل رکنا محال ہو گیا تھا، بغیر کسی کو بتائے وہ اپنے گھر چل دی.
_________________
بیٹا سب خیریت ہے نا؟ رابیعہ بیگم ابان کو اس وقت دیکھ کر پریشان سے بولیں.
جی چاچی!!! سب ٹھیک ہے. کیا آپ میرے لئے ایک کپ چائے بنا دیں گئی؟ جب تک میں زری سے آپ کے چیک اپ کی ڈیٹیل ڈسکس کر لوں. وہ بنا کوئی جواب سنے زری کے کمرے کی طرف مڑ گیا اور رابیعہ بیگم پریشان سی کچن کی طرف چل دیں.
___________________
وہ ابھی منہ دھو کر نکلی تھی وہ نہیں چاہتی تھی کہ رابیعہ بیگم اور پریشان ہو جائیں.
لیکن ابان کو اپنے کمرے میں دیکھ کر اسے اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا وہ اسی کی طرف بڑھ رہا تھا جو الماری کے پاس کھڑی تھی.
وہ اسے ایک جھٹکے سے الماری کے ساتھ لگا چکا تھا.
“تم نے کس کی اجازت کے سے میرے گھر میں قدم رکھا؟ وہ بھی میری غیرموجودگی میں….” وہ اس کی اس افطاد پر تیار نہ تھی. ایک جھٹکے سے اس کا ہاتھ اسکی کمر کے پیچھے کیا تھا اور دوسرے ہاتھ سے اس کا منہ دبوچے ہوئے تھا.
“م… میں… میں خود نہیں گئی تھی مجھے تائی امی نے بلایا تھا، انہیں مدد کی ضرورت تھی.” اس سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا.
” چلو مان لیا انہیں مدد کی ضرورت تھی لیکن تمہیں کس نے کہا تھا کہ مہمانوں کے سامنے آؤ….؟”
میں… میں ان کے سامنے نہیں آ…. آئی تھی، میں کچن میں تھی.
” انہیں الہام ہوا تھا کہ زرفشاں بی بی کچن میں ہیں؟”
” میں نہیں جانتی….. مجھے درد…. درد ہو رہا ہے…” وہ رو دینے کو تھی.
مانا کہ وہ لوگ نہیں جانتے تھے. لیکن تم تو جانتی تھی نا کہ تمہارا نکاح ہو چکا ہے.. اسکی گرفت اس کے بازوں پر اور بھی سخت ہوئی تھی اور آنکھیں سرخ انگارہ….
” کیا آپ مانتے ہیں اس نکاح کو؟ ” پتہ نہیں اس میں اتنی ہمت کہاں سے آئی تھی لیکن مقابل کو دو منٹ چپ رہنے پر مجبور کر گئی تھی.
“اپنی زبان کا استعمال اتنا ہی کیا کرو جتنا کہا جائے. “وہ اس کا منہ جھٹک کر کمرے سے جاچکا تھا.
___________________
جانتا تھا کہ ستمگر ھے مگر کیا کیجے
دل لگانے کے لئے اور کوئی تھا بھی نہیں
ھائے کیا دل ھے کہ لینے کے لئے جاتا ھے
اُس سے پیمانِ وفا جس پہ بھروسہ بھی نہیں
وہی ھو گا جو ھوا ھے جو ھوا کرتا ھے
میں نے اس پیار کا انجام تو سوچا بھی نہیں
دوستی اس سے نبھی جائے بہت مشکل ھے
اپنا تو وعدہ ھے اس کا تو ارادہ بھی نہیں ۔۔
وہ کس قدر سفاکی سے سارا قصور اسی کا ٹھہرا کر چلا گیا تھا. اس کے جانے کے بعد وہ الماری سے لگی نیچے بیٹھتی چلی گئی.
ربیعہ بیگم کمرے میں داخل ہوئی تھیں. ان کے ہاتھ میں چائے کا کپ تھا، جو کہ زری کی حالت دیکھ کر چھوٹ چکا تھا.
زری….. زری وہ اسے پکارتی ہوئیں اس کی طرف بڑی تھیں. لیکن شاید وہ اپنے ہوش کھو بیٹھی تھی.
زری آنکھیں کھولو بیٹا. ایسے مت کرو میری جان، آنکھیں کھولو تمہاری بیمار ماں تمہیں اس حالت میں نہیں دیکھ سکتی..
_________________
وہ بنا مقصد سڑکوں پر گاڑی دوڑاتا رہا تھا. وہ اپنے اس طرح بے چین ہونے کی وجہ خوب اچھے سے جان گیا تھا، کہ کیسے آج اسے یہ بات برداشت نہیں ہوئی تھی کہ کوئی اور زری کو اپنے بیٹے کے لیے پسند کر سکتا ہے. جبکہ زری صرف اس کی ہے.
اس کی برداشت سے باہر تھا یہ سب سننا اسی لیے وہ اپنا غصہ زری پر نکال آیا تھا. مگر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ اس عمل سے زری کے دل سے بہت دور چلا جائے گا.
اسے مہمانوں کے سامنے نہیں آنا چاہیے تھا. وہ جانتی ہے، وہ صرف میری ہے، صرف ابان لغاری کی، وہ کیسے کسی اور کے سامنے آ سکتی ہے، چلو مان لیا وہ نہیں گئی ان کے پاس. لیکن وہ یہ کہہ تو سکتی تھی نہ کہ اس کا نکاح ہو چکا ہے اور بہت جلد رخصتی بھی ہونے والی ہے اور اس کم عقل لڑکی کو کون سمجھائے . وہ شاید یہ سب کہہ کر خود کو پچھتاوے سے بچا رہا تھا.
کافی وقت کے بعد اس کی نظر اپنے موبائل پر پڑی تھی جہاں پر رابیعہ بیگم کی کافی کالز آ چکی تھیں اور تین کولز ماہی کی بھی تھیں.
وہ پھر سے انہیں کال بیک کرنے لگا.
__________________
مجھے زری کے پاس لے چلوں، میں جانتا ہوں کہ اس کی کنڈیشن سیریس ہے.
آغا جان آپ سمجھنے کی کوشش کریں، آپ نہیں جا سکتے ابھی، آپ کی طبیعت بہت خراب ہے.
آغاجان پہلے سوپ ختم کریں پھر میں ابان بھائی کو کال کرتی ہوں، وہ ہمیں لینے آئیں گے پھر چلیں گے.
احمد لغاری کو جیسے ہی رابیعہ بیگم کی کال موصول ہوئی تھی، تو وہ ہوسپیٹل کے لیے چل دیے تھے. اور ان کے ساتھ آمنہ بیگم بھی ہو لی تھیں. آغاجان کی طبیعت خرابی کی وجہ سے ماہی گھر پر ہی تھی.
_________________
ابان کو ماہین کی کال سے ہی پتہ چلا تھا کہ زری ہوسپٹل میں ہے. یہ وہی جانتا تھا کہ اس نے کس طرح سے ہاسپٹل تک کا رشتہ طے کیا تھا. اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اپنے آپ کو ہی کچھ کر لے.
جب وہ ہوسپیٹل پہنچا تو آمنہ بیگم اور احمد لغاری وہاں پہلے سے ہی رابیعہ بیگم کے پاس موجود تھے.
وہ انہی کی طرف بڑھ گیا جو پہلے سے ہی پریشان حال بیٹھے تھے.
رابیعہ بیگم بینچ پر بیٹھے مسلسل روئے جا رہی تھیں. جب ابان ان کی طرف بڑھا اور انہی کے ساتھ بینچ پر بیٹھ گیا. ابھی وہ کچھ تسلی دیتا کہ اتنے میں ڈاکٹر باہر آیا.
پیشنٹ کے فادر یا ہزبنڈ میں سے کوئی موجود ہے یہاں. ڈاکٹر نے پیشہ ورانہ انداز میں پوچھا تھا.
ج….. جی….. میں پیشنٹ کا ہزبنڈ ہوں.
آپ میرے آفس میں آئیے، مجھے کچھ ڈسکس کرنا ہے پیشنٹ کے متعلق….. ڈاکٹر یہ کہہ کر آگے کی طرف چل دیا.
دل کی تاکید ہے ہر حال میں ہو پاس وفا
کیا ستم ہے کہ ستمگر کو ستمگر نہ کہوں

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: