Sitamgar Ki Sitamgari Novel by Nageen Hanif – Last Episode 14

0
ستمگر کی ستمگری از نگین حنیف – آخری قسط نمبر 14

–**–**–

گھر میں آج کافی شور و گل تھا.
احمد صاحب اپنے کمرے میں موجود تھے، جب ابان اور سبحان کمرے میں داخل ہوئے تھے.
ڈیڈ بھائی آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں. آپ ہیں کہ انہیں موقع ہی نہیں دے رہے.
کیا ضرورت تھی اتنی رات کو آئس کریم کھانے کی؟ احمد صاحب ابان کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے بولے تھے.
اتنے میں ذری چائے لئیے اندر داخل ہوئی.
ڈیڈ آپ کی بہو ہی ضد کر رہی تھی، اگر اسے آئسکریم نہ لے کر دیتا تو پھر آپ کو یا آغا جان کو شکایت آنی تھی میری….. یہ سب ابان نے زری کو دیکھتے ہوئے بولا….
جبکہ زری تو حیران رہ گئی… کیسے اپنے بچاؤ کے لیے اسے آگے کردیا.
اگر ہماری بیٹی کے کہنے پر گئے تھے تو پھر معاف کیا. وہ ذری ہاتھ سے چائے کا کپ لیتے ہوئے بولے. ڈیڈ بھائی سے بھی ناراضگی ختم کریں…
میں ناراض نہیں ہوں اسے کہہ دو کہ کل سے فیکٹری آنا شروع کرے. اب تم لوگوں کا باپ بڑھا ہو رہا ہے.
ابھی تو آپ ینگ ہیں ڈیڈ…. سبحان اٹھ کر ان کے گلے لگتا ہوا بولا…
وہ سب مسکرا دیئے.
آج ظفر صاحب اپنے بیٹے دانیال کے ساتھ ماہی کے رشتے کے لئے آ رہے ہیں.
میں چاہتا ہوں کہ تم لوگ بھی اس وقت گھر پر موجود ہو.
دانیال…. ؟؟
ہاں! زری کی خالہ کا بیٹا. اس کی ماں اس دنیا میں نہیں رہیں، اکیلا بھائی ہے اور اس کے باپ کا اپنا بزنس ہے.
اس کے والد صاحب فیکٹری آئے تھے.
اب تم دونوں بھی دیکھ بھال لو. مجھے تو یہ رشتہ ٹھیک لگا ماہی کے لیے….
اور بیٹا تم بھی ماہی سے ایک بار اپنے طریقے سے پوچھ لو….
جی تایا ابو….
_____________
وہ کمرے میں داخل ہوئی تھی جب ابان کو خود سے شرٹ پہنتے دیکھا.
وہ اس کی طرف بڑھی تھی اور اس سے شرٹ لی تھی. مگر مقابل اپنی شرٹ واپس لے چکا تھا.
تم یہ جانتی تھی کہ دانیال رشتہ بھیجنا چاہتا ہے؟وہ بنا جواب دیے شرٹ لینے کے لئے آگے ہوئی…
میں کچھ پوچھ رہا ہوں؟
ہاں….. جانتی تھی.
تو مجھے کیوں نہیں بتایا؟
میں بتانا چاہتی تھی لیکن آپ نے مجھے کمرے سے باہر نکال دیا تھا. وہ دوسری طرف منہ کرتے ہوئے بولی….
اسے اپنے سوال کرنے پر پچھتاوا ہوا.
اس نے اسے اپنی طرف موڑا.
زری اگر کبھی میں تمہیں خود سے بھی کہوں کہ مجھے چھوڑ دو یا مجھ سے دور چلی جاؤ تو بھی تم مجھے اکیلا چھوڑ کر مت جانا….. وہ اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے بولا.
اچھا اب شرٹ پہنا دو….
خود ہی پہنیں اپنی شرٹ… وہ شرما گئی تھی.
ایسے کیسے پہنچوں گا؟ کیا تم جانتی نہیں تمہاری وجہ سے گولی کھائی ہے؟
اس کے بولنے پر زری نے فٹ سے اسے دیکھا.
آپ مجھے قصوروار مانتے ہیں؟
اس کے اس طرح دیکھنے سے وہ جان گیا تھا کہ وہ غلط کہہ گیا ہے.
وہ جانے کو تھی. جب وہ اس کی چین پکڑ گیا تھا. تم چاہتی ہو کہ یہ ٹوٹ جائے؟ تو شرافت سے میری طرف دیکھو…
وہ اس کی طرف مڑی تھی.
یار ذری میں جو کہنا چاہتا ہوں وہ کہہ نہیں پاتا اور میرے منہ سے کچھ غلط ہی نکل جاتا ہے.
اچھا ٹھیک ہے. اب مجھے چھوڑیں، مجھے ماہی کو بھی تیار کرنا ہے. اور آپ بھی جلد ہی نیچے آ جائیں.
_____________
ماہی میں معافی چاہتی ہوں کہ میں نے تمہیں اس کے بارے میں پہلے نہیں بتایا. وہ اسے تیار کرتی ہوئی بولی…
تم کیوں معافی مانگ رہی ہوں. اس میں تمہاری کوئی غلطی نہیں ہے اور ویسے بھی میرے لئے یہ خوشی کی بات ہے کہ میری وجہ سے میرے دونوں بھائی اکٹھے ہوگئے ہیں. اس طرح ہماری فیملی پھر سے پوری ہوگئی ہے. اور سب اس رشتے سے راضی ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے.
آمنہ بیگم نے بھی اس رشتے سے کوئی اعتراض نہیں کیا تھا، وہ بھی اسی میں راضی تھیں کہ ان کا پورا خاندان پھر سے ایک ہوگیا ہے.
اور ویسے بھی دانیال کھاتے پیتے گھر کا تھا نہ کوئی بہن بھائی اور نہ ہی کوئی لمبا چوڑا خاندان وہ مطمئن تھیں کہ ان کی بیٹی خوش رہے گی.
شادی کی تاریخ ایک ماہ بعد کی رکھی گئی تھی…
__________
آمنہ بیگم نے ذری اور ردا کو اپنے کمرے میں بلوایا تھا.
وہ دونوں اس وقت آمنہ بیگم کے کمرے میں موجود تھیں.
میں تم دونوں کو کچھ دینا چاہتی ہوں…. آمنہ بیگم نے دو ڈبے اپنی الماری سے نکالے تھے ایک ذری کی طرف بڑھایا تھا اور دوسرا ردا کی طرف…
یہ میں نے اپنی بہوؤں کے لئے رکھے تھے اب جب کہ مجھے میری دونوں بہوئیں مل گئی ہیں تو پھر دیر کیسی….
تھینک یو سو مچ آنٹی….
آنٹی نہیں بیٹا تم بھی مجھے موم کہا کرو سبحان کی طرح…
شکریہ تائی امی…
وہ دونوں باری باری آمنہ بیگم کے گلے لگیں …
_____________
ایک ماہ بعد:
ماہین لال جوڑے میں سجی سنوری دلہن بنی بہت پیاری لگ رہی تھی اور اس کے ساتھ بیٹھا دانیال خوب جچ رہا تھا.
کیا تم واقعی ہی خوش ہو ماہی؟
ہاں میں خوش ہوں…. وہ ہال میں نگاہ دوڑاتے ہوئے بولی جہاں اس کے ماں باپ، بھائی بھابھی، آغا جان چچی سب بہت خوش دکھائی دے رہے تھے.
زری کب سے ادھر سے ادھر پھرے جا رہی تھی اور ابان اسے یو پھرتے دیکھ غصے میں آیا تھا.
اور اس کے پاس آ کھڑا ہوا تھا.
وہ سٹیج پر چڑھنے کو تھی، جب وہ اس کا ہاتھ پکڑے فاصلے پر لے آیا تھا.
یہ کیا حرکت ہے؟
تم کیوں بھول جاتی ہوں کہ ڈاکٹر نے کیا کہا تھا؟
آج میری بہن کی شادی ہے. آپ کیا چاہتے ہیں میں خوش بھی نہ رہوں ؟
یار یوں مٹکتی مٹکتی مت پھرو… یہ ہماری ڈول کے لئے ٹھیک نہیں ہے.
وہ اس کے لفظ مٹکتی مٹکتی پر مسکرا دیی.
ابان آپ کو ایسے الفاظ کہاں سے مل جاتے ہیں؟
تمہارے ملتے ہی مجھے دنیا کی ہر چیز مل گئی تھی، تو یہ الفاظ کیا چیز ہیں؟ وہ اسے اپنے قریب کرتے ہوئے بولا….
آپ کو مجھ سے محبت کب ہوئی تھی؟
تمہیں کس نے کہا کہ مجھے تم سے محبت ہے؟
مطلب آپ کو مجھ سے محبت نہیں ہے؟
یار بیوی سے محبت کسے ہوتی ہے؟
کیوں بیوی سے محبت کیوں نہیں ہو سکتی؟ وہ منہ بنائے بولی تھی.
چھوڑیں مجھے اگر آپ کو مجھ سے محبت نہیں ہے تو….
میں نے آپ کا نام صحیح رکھا تھا. “ستمگر”
ہاہاہا یہ کیسا نام ہوا بھلا؟
آپ ہیں ہی ستمگر….. وہ یہ کہہ کر جانے کو تھی جب وہ اسے تھام چکا تھا.
ابان لغاری کے لیے زرفشاں ابان لغاری سانس لینے کی وجہ بن گئی ہے. میں خود نہیں جانتا کب سے لیکن یہ سچ ہے کہ ابان لغاری کو زرفشاں لغاری سے محبت ہے اور اس محبت کی انتہا وہ خود نہیں جانتا…. وہ اسے اپنے سینے سے لگائے بولا تھا.
تری خوشبو نہیں ملتی، ترا لہجہ نہیں ملتا
ہمیں تو شہر میں کوئی ترے جیسا نہیں ملتا
یہ کیسی دھند میں ہم تم سفر آغاز کر بیٹھے
تمہیں آنکھیں نہیں ملتیں ہمیں چہرہ نہیں ملتا
ہر اک تدبیر اپنی رائیگاں ٹھہری محبت میں
کسی بھی خواب کو تعبیر کا رستہ نہیں ملتا
بھلا اس کے دکھوں کی رات کا کوئی مداوا ہے
وہ ماں جس کو کبھی کھویا ہوا بچہ نہیں ملتا
زمانے کو قرینے سے وہ اپنے ساتھ رکھتا ہے
مگر میرے لیے اس کو کوئی لمحہ نہیں ملتا
مسافت میں دعائے ابر ان کا ساتھ دیتی ہے
جنہیں صحرا کے دامن میں کوئی دریا نہیں ملتا
جہاں ظلمت رگوں میں اپنے پنجے گاڑ دیتی ہے
اسی تاریک رستے پر دیا جلتا نہیں ملتا !

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Mullan Pur Ka Sain Novel By Zafar Iqbal – Episode 9

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: