Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 1

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 1

–**–**–

برستی بارش میں بھیگ جانےدو
بارش کی نیلی فام پریوں میں مست ہو جانے دو
بارش میں اس کو یوں محسوس کر لینے دو
برستی بارش میں اس کے ساتھ چل لینے دو
برستی بارش میں برستے دل کا حال سنا لینے دو
برستی بارش میں یوں خوش رہنے دو
برستی بارش میں بھیگ جانے دو
برستی بارش میں بس اسے میرے ساتھ چلنے دو
برستی بارش میں بھیگ جانے دو
برستی برش میں اسے ساتھ چل لینے دو
برستی بارش میں محسوس کر لینے دو
برستی بارش میں بس بھیگ جانے دو

”ہلکی پھلکی بوندا باندی نے جب موسلا دھار بارش کا روپ دھارا تو ایلا نے چونک کر اس پاگل لڑکی کی طرف دیکھا جو آنکھیں موندے دونوں بازو پھیلائے محبتوں کے شہر میں طلسم خیز جگہ پر بے فکر گھوم رہی تھی ہواٶں میں جھوم رہی تھی!
”ماہی“
ایلا نے جو ایک شان و شوکت پر اسرار انداز میں کھڑے ایفل ٹاور جسے دنیا کو خوبصورت ترین ٹاور ہونے کا اعزاز حاصل ہے اس کی تصاویر کو کیمرے کی آنکھ میں مقید کرنے میں محو تھی، آخری سی کوشش کرتے ہوئے اسے پکارا۔
”ماہی بس کر جاو!
اب اور کتنا انتظار کرو گی؟
دیکھو بارش اب تیز ہو رہی ہے ہمیں چل دینا چاہیے کسی بھی خطرے کے پیش نظر پہلے اسے وارن کر رہی تھی۔“

ایلا نے بارش میں بے خبر بھیگتی ماہی کو پکارا۔
مگر وہ سب چیزوں سے بیگانہ اپنی دھن میں سر دھنتی بارش سے لطف اندوز ہو رہی تھی!
ایلا نے پیچھے سے جا کر چھاتہ اس کے اوپر کیا جو کے بے فکری سے بھیگ رہی تھی۔
کچھ لمحات یوں ہی گزر گئے!
بارش کی بوندیں نا پا کر ماہی نے اوپر کی جانب سر کو جنبش دی اور چھاتے کو دیکھ کر برا سا منہ بنایا،
جو کہ ایلا بھی دیکھ چکی تھی۔
”بس کر جاو ماہی پاگل پن کی بھی کوئی انتہا ہوتی ہے
تمہیں پتا ہے ایلا آج مورخہ 2 نومبر ہے۔
چونکہ کہ یہ دن میرے لیے بہت خوبصورت دن ہے
یہ وہ دن ہے جب مجھے وہ شخص آج پہلی بار یہاں عین اسی جگہ مجھ سے ملا تھا۔“
ماہی نے اک جذب سے کہا

”اور تم پچھلے تین سالوں سے لگاتار یہاں تشریف لاتی ہو
کیا ایک بار بھی پھر سے ملا کیا؟؟“
ایلا نے ماہی کا ہاتھ پکڑ کر اب باقاعدہ چلنا شروع کر دیا تھا۔
”روکو ایلا۔۔۔“

ابھی صرف شام کے چار ہی تو بجے ہیں۔
میں مزید اس دشمن جاں کا انتظار کرنا چاہتی ہوں۔۔۔
کچھ لمحات اس کی یاد کے نام کرنا چاہتی ہوں۔۔۔!
“اس نے ایک بار مجھے کہا تھا میم اسی جگہ تم سے ملوں گا دوبارہ۔۔۔۔۔۔

”بچھڑ کے مجھ سے حبیب میرے۔۔۔
نہ کاٹ سکو تو لوٹ آنا۔۔۔“

‘” پاگل مت بنو ماہی۔۔۔۔۔اب میں مزید تمہاری بکواس برداشت نہیں کرنا چاہتی“

ایلا نےغصیلے لہجےمیں جواب دیا۔
سردیوں کی بارشوں میں بھیگنے کی وجہ سے ماہی کے خوبصورت گلابی لب اب سردی کی شدت سے نیلے پڑنے لگے تھے
ایلا اس کی کپکپاہٹ واضح طور پہ محسوس کر چکی تھی۔
“”لیکن””۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دم چپ تمہاری آواز نا آئے!!!!!!
وہ کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن ایلا اسے سختی سے خاموش رہنے کا عندیہ دے چکی تھی۔۔۔۔
جو اس کا ہاتھ پکڑ کر تیزی سے گاڑی کی جانب رواں تھی۔
ماہی نے ایک الوداعی پر شکوہ نظر ٹاور پر ڈالی اور جیسے
کہہ رہی ہو۔

آج پھر وہ نہیں آیا۔۔۔۔۔“

جیسے جیسے وہ اس جگہ سے دور جا رہی تھی اسے محسوس ہو رہا تھا وہ بہت کچھ پیچھے چھوڑ چکی ہے۔
اک شدت سے وہ گزری منزل کی جانب نظریں واہ کیے ہوئے تھی شاید وہ کہیں سے ایک بار اسے نظر آجائے۔۔۔۔

”لیکن اس کی خواہش کی تکمیل نا ہوئی!

“”جیسے مری نگاہ نے دیکھا نہ ہو کبھی
محسوس یہ ہوا تجھے ہر بار دیکھ کر””

اس کا دل ہمیشہ کی طرف افسردہ تھا،
اور ڈوب رہا تھا ”
:وہ لمبے کڑے انتظار کے بعد بھی نظر نا آ سکا تھا”

“گاڑی کے پاس پہنچتے ہی ایلا نے اس کی طرف کا دروازہ کھولا اور اندر بٹھایا۔۔۔

“تو یہ طے ہے اس کا مجھے اک بہت لمبا انتظار کرنا ہے”

“‏اب وہ دیدار میسر ہے نہ قُربت نہ سخن”
“اِک جُدائی ہے جو تقدیر ہوئی جاتی ہے”

“ماہی نے اک بار پھر سے اپنی آب و تاب سے بارش میں نہاتے ٹاور کو دیکھتے ہوئے،، دل کی گہرائیوں سے سوچا”
“اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ سوچتی یا اس کی خوشی پر اداسی غالب آتی ایلا زن سے گاڑی آگے کی جانب بڑھا چکی تھی”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کا ناجانے کونسا پہر تھا۔
ہوا میں خنکی بہت زیادہ بڑھ چکی تھی۔ آرام دہ بستر پر پرسکون نیند کے زیراثر نظر آنے والا وہ شخص ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا تھا۔

“کچھ ایسے حادثے بھی زندگی میں ہوتے ہیں”
“کہ انسان بچ تو جاتا ہے مگر زندہ نہی رہتا”

لیمپ کی مدھم روشنی میں چہرے پر پسینے کی ننھی ننھی بوندیں واضح تھیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے اذیت کی ایک لہر اس شخص کے چہرے پر پھیل گئی۔
حواس بحال ہونے پر اس نے غصے سے ساٸیڈ ٹیبل پر رکھا لیمپ ہاتھ بڑھا کر نیچے پھینک دیا۔
سسکیوں کی آواز واضح سنائی دے رہی تھی۔اور یہ آواز اسکی روح کو کسی تلوار کی طرح زخمی کر رہی تھی۔ بالآخر اسکی برداشت جواب دے گٸی۔

“Shut up.. just shut up”
وہ چیخا۔
وہ دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ کر اس آواز سے بچنا جا رہا تھا۔۔ لیکن شاید کسی نے رونے کی قسم اٹھاٸی ہوٸی تھی۔
ایسا پہلی بار نہيں ہوا تھا۔۔ پچھلے تین سالوں میں ایک بھی دن ایسا نہيں گزرا تھا جب اس آواز نے اُسکا پیچھا نا کیا ہو۔ ایک بھی رات وہ سکون سے نہيں سو پایا تھا۔
اور پھر ایک جھٹکے سے وہ اٹھا۔۔ اب اسکا رخ اس شفیق ہستی کے کمرے کی طرف تھا جسکی آغوش اسے سکون پہنچاتی تھی۔

اپنے مطلوبہ کمرے کے باہر پہنچنے کے بعد اس نے دروازے پر دستک دی۔ وہ جانتا تھا اندر وہ شفیق ہستی جاگ رہی ہونگی۔

”آجاٶ“
دستک پر اندر سے آواز ابھری تھی۔

وہ جھٹکے سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔
سامنے وہ ہستی اپنے بستر پر بیٹھیں سورہ یسین کی تلاوت کر رہی تھیں۔

”بی جان“
وہ تڑپ کر انکی طرف بڑھا۔

بی جان نے یسین کو عقیدت سے چوم کر ساٸیڈ ٹیبل پر رکھے اونچے طاق پر رکھا۔

”شاہ بیٹا تم۔۔ سب خیریت تو ہے نا۔۔؟“
بی جان کے چہرے پر پریشانی ابھری۔

”وہ بی جان ۔۔ وہ میں۔۔“
وہ کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن آنسوٶں کا ایک گولا سا اسکے گلے میں اٹک گیا تھا۔ وہ آگے بڑھ کر بی بی جان کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا تھا۔

”آج پھر کوٸی برا خواب دیکھا کیا۔۔؟“
بی بی جان پیار بھرے لہجے میں پوچھ رہی تھیں اور ساتھ ساتھ اسکے بالوں میں انگلیاں بھی پھیر رہی تھیں۔

جانے دو آنسو کیسے اسکی آنکهوں سے پھسل کر بی بی جان کی گود میں جذب ہوگئے تھے۔

”کوٸی اتنا کیسے رو سکتا ہے بی جان۔۔۔ کیسے۔۔؟“
وہ اذیت سے دوچار لہجے میں پوچھ رہا تھا۔
بی بی جان نے اسکی بات پر ایک گہرہ سانس لیا۔

”کوٸی تین سالوں سے لگاتار رو رہا ہے بی بی جان۔۔ ایک بھی رات وہ چپ نہيں ہوا۔۔۔
کوٸی اتنا کیسے رو سکتا ہے۔۔؟

“چشمِ یعقوب کی__مانند ہیں برستی آنکھیں__!!

میرے یوسف میری نظروں کو بینائی دے جا__!!

بی بی جان کا کلیجہ جیسے اپنے بیٹے کی بات پر چھلنی سا ہوگیا تھا۔

”کیا وہ شخص تھکتا نہيں بی بی جان۔۔۔ کہاں سے آتے ہیں اسکے پاس اتنے آنسو۔۔؟ وہ چپ کیوں نہيں ہوتا بی جان۔۔۔“
کوٸی اتنا کیسے رو سکتا ہے۔۔؟“
وہ بار بار ایک ہی بات دہرا رہا تھا۔

”زخم گہرا دیا ہے تم نے بیٹا۔۔ اتنا گہرا زخم کہ تم سوچ بھی نہيں سکتے“
بی جان نے کہنے کے بعد اسکے سر پر پھونک ماری جیسے ساری بلاٸیں ٹالنا چاہتی ہوں۔

”اُسے کہہ دیں کہ وہ چپ کر جاۓ بی بی جان۔۔ چپ کر جائے خدا کا واسطہ ہے۔۔“
وہ کہہ رہا تھا۔۔ اور بی بی جان سن رہی تھیں۔۔
کتنی ہی دیر وہ یہی الفاظ دہراتا رہا اور پھر تھک ہار کر یا شاید اس سکون کے باعث جو اسے بی بی جان کی گود میں ملا تھا وہ ایک بار نیند کی آغوش میں جاچکا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” گیلیٹ برگس (Gelett Burgess) نے دنیا کے انسانوں کو دو اقسام میں تقسیم کیا ہے۔
ایک بروماٸڈز (Bromide)
اور دوسرے سلفاٸٹس (Sulphites)
بروماٸڈ عام لوگ ہوتے ہیں جنکی سوچ ایک سی ہوتی ہے جبکہ سلفاٸٹس خاص لوگ ہوتے ہیں جو کہ نایاب ہوتے ہیں۔“
کلاس روم میں ٹیچر کی آواز گونج رہی تھی۔ یہ بی ایس سی کی کلاس تھی اور اس وقت انکا انگلش کا پیریڈ تھا۔

وہ دونوں دوسری قطار میں بیٹھی تھیں۔ ایک طرف لڑکوں کی قطار تھی تو دوسری طرف لڑکیوں کی۔

”اوہو امی نے کل کہا تھا کہ چھت پر سیمنٹ لگا دینا۔۔ میں پھر بھول گٸ۔۔“
آسمان پر چھاۓ گہرے بادلوں کو دیکھ کر اس نے سوچا۔
پچھلے کچھ دنوں سے ہوتی لگاتار بارش نے انکے ایک کمرے کی چھت کو ٹپکنے پر مجبور کردیا تھا۔

”کاش میں سیمینٹ لگا ہی دیتی۔۔ اب امی کو محنت کرنی پڑے گی اور اگر انہيں بھی یاد نا رہا تو آج رات پھر۔۔۔

”مس اُم حَانم“
وہ مزید سوچ نہيں پاٸی تھی کہ کلاس ٹیچر کی سخت سی آواز اسے خیالوں کی دنیا سے نکال کر حقيقت میں لے آٸی تھی۔

”یہ۔۔یس۔۔ میم۔۔“
وہ ہڑبڑا کر کھڑی ہوگٸ۔

”دھیان کدھر ہے آپکا؟“
میم نے غصے سے پوچھا۔

جج۔۔ جی۔۔ وہ۔۔
وہ کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن الفاظ دم توڑ گئے۔

”اگر آپ جیسے سٹوڈنٹ کلاس میں ایسا رویہ اپناٸیں گے تو باقیوں کا کیا ہوگا؟“
غالباً میم کافی غصے میں تھیں۔
لڑکوں کی دبی دبی سی ہنسی کی آواز وہ صاف سن سکتی تھی۔
وہ سر جھکائے کھڑی تھی۔ واقعی اسکا دھیان کلاس میں نہيں تھا۔

”بیٹھ جاٸیں اور آٸندہ ایسی حرکت مت کیجیے گا“
میم کو شاید اس پر رحم آگیا تھا۔
وہ خاموشی سے بیٹھ گٸ۔ اس نے سنا ہی نہيں تھا کہ سلفاٸٹس کیا ہوتے ہیں؟
اسکا ذہن تو بس چھت سے ٹپکتے پانی میں الجھا تھا جو برتن میں گرتا اور ایک عجیب سی آواز پیدا کرتا تھا جو کہ اسے انتہائی بری لگتی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

تنقید کی بھرپور دعوت دی جاتی ہے لیکن بے پرکی ہانکنے سے گریز کیا جائے اختلاف رائے کا آپ کاحق ہے ۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: