Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 10

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 10

–**–**–

”میرے بارے میں کیا خیال ہے مس۔۔ میں اپنے خوابوں کو کنٹرول کر سکتا ہوں۔۔ میں ایک Lucid dreamer ہوں۔۔ اور میرا ہر خواب سچا ہوتا ہے جبکہ میں کسی بنانے والے کو نہيں مانتا۔۔۔؟؟“
سب سے پیچھے بیٹھے آرجے کی آواز کلاس روم میں گونجی تھی۔ حانم تو اسکی بات سن کر دنگ رہی تھی۔
اسکی آنکھیں ہُڈی میں چھپی ہوٸی تھیں جبکہ صرف ہونٹ نظر آرہے تھے۔ البتہ اسکا چہرہ حانم کی طرف تھا۔ اس وقت حانم کو اس سے خوف محسوس ہوا تھا۔
عجیب مخلوق تھا وہ۔۔ پراسرار۔۔ خطرناک اور پتا نہيں کیا کیا۔۔
آج اسے دیکھ کر بار بار حانم کو اپنا خواب یاد آرہا تھا۔
کیا وہ روحان جبیل ہی تھا جس نے مجھے دھکا دیا تھا؟؟
حانم نے ایک بار سوچا اور پھر جھرجھری لے کر رہ گٸی تھی۔

”بولیے نا ٹیچر جی۔۔ کیا خیال ہےآپکا میرے بارے میں۔۔!!“
وہ طنز کر رہا تھا۔

”آپکے ماننے یا نا ماننے سے حقیقت بدل نہيں جائے گی مسٹر روحان جبیل۔۔۔ اگر آپ کسی بنانے یا پیدا کرنے والے کو نہيں مانتے تو اسکی بنائی کوٸی چیز بدل کر دکھا دیں۔۔کیا آپ کر سکیں گے؟؟“
حانم کا لہجہ بھی تلخی لیے ہوا تھا۔

وہ ہنسا تھا۔۔ اور پھر ہنستا چلا گیا۔
حانم کو اس پر کسی پاگل کا گمان ہوا تھا۔
اس سے پہلے کوٸی کچھ کہتا وہ اٹھا اور کلاس سے باہر نکل گیا تھا۔ جبکہ حانم ایک گہرہ سانس لے کر رہ گٸی تھی۔

”میم کیا جانور بھی خواب دیکھتے ہیں۔۔؟؟“
کلاس کے ماحول کو بہتر بنانے کیلیے ایک سٹوڈنٹ نے سوال کیا تھا۔

”جی میں زیارہ نہيں جانتی لیکن ساٸنس کچھ کہتی ہے اسکے متعلق۔۔وہ میں آپ لوگوں کو بتا دیتی ہوں۔۔!!
کچھ پل ٹھہرنے کے بعد وہ بولنا شروع ہوٸی تھی۔

خواب ۔ جانوروں کے، انسانوں کے

ایک روز میں ہمارا دماغ تین بہت مختلف شعوری حالتوں میں سے گزرتا ہے۔ ایک وہ والی جس میں آپ اس وقت ہیں۔ اگر آپ کے سر پر الیکٹروڈ لگا کر برین ویو دیکھی جائیں تو ہر سیکنڈ میں تیس سے چالیس بار اوپر اور نیچے ہو رہی ہوں گی جیسے تیز ڈھول بج رہا ہو۔ اس کو فاسٹ فریکونسی برین ایکٹیویٹی کہا جاتا ہے۔ یہ پیٹرن بے ہنگم ہو گا۔ یعنی اگر اس کو آواز میں تبدیل کیا جائے (جو کیا جا سکتا ہے) تو اس پر رقص نہیں کیا جا سکتا۔ کوئی ردھم نہیں ہے۔ جب بستر پر کروٹیں بدلتے آپ نیند میں چلے گئے تو یہ شعوری حالت میں ہونے والی ایک تبدیلی ہے، اس وقت برین ویوز ایک بڑے ترتیب والے لیکن سست پیٹرن میں چلی جائیں گی۔ یہ نان ریم (NREM) نیند ہے۔ اس میں آپ کا شعور آف ہو گیا۔ تیسری حالت وہ ہے جب آپ خواب دیکھ رہے ہیں۔اس وقت آنکھ تیزی سے ہلتی رہتی ہے۔ اس کو ریپڈ آئی موومنٹ یاریم (REM) نیند کہا جاتا ہے۔ اس میں دماغ کی ایکٹیویٹی جاگنے والی حالت کے قریب قریب ہوتی ہے۔ نیند پر ریسرچ کرنے والے بہت ہی آسانی سے بتا سکتے ہیں کہ کب خواب شروع ہوا اور کب ختم۔ ایک رات میں سوتے وقت نوے منٹ کے سائیکل میں ریم اور نان ریم سلیپ کا سائیکل چلتا ہے۔

دوسرے جانداروں میں بھی ایسا ہی ہے؟ جتنے بھی جانداروں میں ہم پیمائش کر سکتے ہیں، ان میں سے تمام نان ریم کی نیند کی حالت کا تجربہ کرتے ہیں۔ البتہ کیڑے، جل تھلیے، مچھلیاں اور اکثر رینگنے والے جانور ریم کی واضح حالت میں داخل نہیں ہوتے۔ پرندے اور ممالیہ مکمل طور پر ریم کی حالت میں داخل ہوتے ہیں۔ یعنی یہ خواب دیکھتے ہیں۔ اس سے ظاہر یہ ہوتا ہے کہ ارتقا کی تاریخ میں خواب کی انٹری کچھ دیر سے ہوئی۔

”میم جو جانور سمندر میں رہتے ہیں اور تیرتے ہیں وہ کیا کرتے ہیں؟؟ کیا وہ مکمل نیند میں داخل ہوتے ہیں؟“

”نہيں۔۔“
حانم نے پھر سے بولنا شروع کیا۔
اس میں استثنا سمندری جانور وہیل اور ڈولفن ہیں۔ اس کی ایک اچھی وجہ سمجھ میں آتی ہے۔ ریم نیند کے دوران ہمارا جسم مکمل طور پر مفلوج ہو جاتا ہے۔ ایسا ہونا اس لئے ضروری ہے تا کہ ہم خواب میں مناظر پر ایکشن اپنے بازو اور ٹانگوں سے نہ لیں۔ پانی کے جانوروں کے لئے تیرنا ضروری ہے۔ انہیں سطح پر آ کر سانس بھی لینا پڑتا ہے۔ اگر یہ مکمل طور پر مفلوج ہو جائیں تو ڈوب جائیں گے۔

جب ہم ایک اور طرح کا گروپ دیکھتے ہیں جن میں فر سیل جیسے ممالیہ جانور ہیں جو کچھ وقت سمندر میں ہوتے ہیں اور کچھ وقت پانی میں۔ جب یہ زمین پر ہوتے ہیں تو ان کی نیند میں ریم اور نان ریم دونوں ہوتے ہیں، جب یہ سمندر میں سوتے ہیں تو نان ریم یا بالکل ختم ہو جاتی ہے یا پہلے سے دسویں حصے سے بھی کم رہ جاتی ہے۔ جب خشکی پر آتے ہیں تو پھر ریم نیند شروع۔

ایک وقت میں خیال تھا کہ انڈے دینے والے ممالیہ جیسا کہ پلاٹیپس ریم نیند نہیں رکھتے۔ لیکن پھر پتہ لگا کہ یہ بھی رکھتے ہیں، البتہ اس کا ایک مختلف ورژن ہے۔ ان کا کورٹیکس (دماغ کا بیرونی سطح والا حصہ) اس نیند کی لہریں نہیں رکھتا لیکن جب اس کو گہرا کر کے دیکھا گیا تو دماغ کی بیس پر خواب والی اس نیند کی خوبصورت برقی ایکٹیویٹی نظر آئی اور یہ کسی بھی دوسرے ممالیہ سے زیادہ تھی۔

خواب والی نیند کی یہ ایک شکل حال میں ایک آسٹریلین چھپکلی میں نظر آئی ہے۔

”نان ریم نیند کی ارتقائی تاریخ زیادہ پرانی ہے لیکن کیا یہ والی نیند خواب والی نیند سے زیادہ اہم ہے؟“
ایک اور سوال ابھرا تھا۔

نہيں۔۔ اس کا جواب نفی میں ہے۔ ہم تیزی سے دریافت کر رہے ہیں کہ اس کی اہمیت گرم خون والے جانوروں کے جسم کے بہت سے فنکشنز میں ہے۔ جذبات کی ریگولیشن، یادداشت کی ایسوسی ایشن، تخلیقی صلاحیت، جسم کے درجہ حرارت کی ریگولیشن اور دل کی صحت کا اس پر اثر ہوتا ہے۔

نیند ایک ایسی چیز ہے جس میں انسان تمام ایپس سے بہت مختلف ہے۔ نیو ورلڈ اور اولڈ ورلڈ منکی میں تمام کی نیند دس سے پندرہ گھنٹے کے درمیان ہے اور تمام پرائمیٹ میں خواب والی نیند کا دورانیہ نو فیصد ہے۔ انسان کی نیند آٹھ گھنٹے ہے اور خواب والی نیند کا دورانیہ بیس سے پچیس فیصد ہے۔ تقریباً تمام پرائمیٹ درختوں کی شاخوں پر یا گھونسلا بنا کر سوتے ہیں۔ گریٹ ایپ اپنا گھونسلا ہر روز بناتے ہیں۔ جبکہ انسان زمین پر سوتے ہیں (یا اس سے تھوڑا سا اوپر بستر پر)۔

زمین پر سونے کا مطلب یہ تھا کہ خطرہ زیادہ ہونے کی وجہ سے نیند کا دورانیہ کم ہو گیا۔ فطرت کا خوبصورت حل نیند کا زیادہ گہرا ہونا تھا۔ اس کیلئے خواب والا حصہ بڑھ سکتا تھا۔ گرنے کا خطرہ نہ ہونے کی وجہ سے خواب والے حصے کی نیند کا دورانیہ زیادہ ہو سکتا تھا۔ خواب والا حصہ بڑھنے کا مثبت تعلق تخلیقی صلاحیت اور جذبات سے ہے۔ انسان کی ایک بڑی خاصیت اس کا سوشل ہونا ہے۔ خواب والی نیند جذبات اور چہروں کو پہچان کے لئے ضروری ہے۔ یہ اس خواب والے حصے کی نیند کی وجہ سے ممکن ہوا۔ کم مگر گہری نیند سے ضرورت پوری کرنے کا مطلب یہ رہا کہ جاگنے کے دورانئے میں اضافے سے جاگنے والی شعوری حالت کے لئے اضافی وقت مل گیا۔ تخلیقی صلاحیت میں بہتری، بہتر معاشرتی تعلقات اور دستیاب ہونے والا اضافی وقت۔۔۔۔۔

خواب تو بہت سے جانور دیکھتے ہیں لیکن انسان جیسے نہیں۔ تو اگر چمپینزی یا گریٹ ایپ یا کوئی بھی دوسری نوع چاند پر نہیں پہنچ سکی، کمپیوٹر نہیں بنا سکی، ویکسین ایجاد نہیں کر سکی تو اس میں ایک وجہ ہمارے خواب ہیں۔ اور یہ محاورے والے نہیں، سوتے میں دیکھے جانے والے خواب ہیں۔

حانم خاموش ہوٸی تھی۔ پوری کلاس میں گہری خاموش چھاٸی تھی اور پھر کلاس تالیوں سے گونج اٹھی تھی۔

”میم آپکو یہ سب کیسے پتا ہے؟؟“
حفصہ نے سوال کیا تھا۔

”آپ جس چیز میں دلچسپی لیں گے اسی کے متلعق جانیں گے۔اور میرا خیال ہے کہ آپکی پسند کی چیزیں جنہيں جاننے کا تجسس آپکے اندر ہو۔۔ وہ خود بخود آپ تک پہنچا دی جاتی ہیں۔۔!!“

کلاس کو اسکی بات سمجھ آٸی تھی یا نہيں لیکن وہ اندرونی طور پر پرسکون تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سفید روٸی کے گالوں جیسی برستی برف میں وہ ایفل ٹاور کے پاس بیٹھی تھی۔
سر سے پاٶں تک اونی کوٹ میں چھپی ہوٸی تھی۔
سفید برف جو مسلسل اس پر پڑ رہی تھی اس میں چھپی وہ برف کی شہزادی لگ رہی تھی۔
نظریں بار بار چاروں طرف بھٹک رہی تھیں ۔ شاید آج پھر اسے کسی کا انتظار تھا۔

اس نے سر اٹھا کر شان و شوکت سے کھڑے ٹاور کو دیکھا جسکا آخری سرا تیز پڑتی برف میں چھپ سا گیا تھا۔

لوگ اس موسم کا بھرپور فاٸدہ اٹھا رہے تھے۔
کیمرے کی آنکهوں میں وقت کو قید کیا جا رہا تھا۔ جبکہ وہ انتظار کی سولی پر لٹک رہی تھی۔

”تمہيں پورا یقین ہے کہ وہ آئے گا ماہی؟؟“
ایلا نے اسکے قریب آتے ہوئے پوچھا تھا۔ وہ خود بھی اونی کوٹ میں چھپی ایک بھالو لگ رہی تھی۔

”میرا دل کہہ رہا ہے وہ ضرور آئے گا ایلا۔۔!!“
ماہی نے نیلے پڑتے ہونٹوں سے مسکرا کر کہا تھا۔
انتظار میں بھی ایک عجیب سا لطف تھا۔

”ٹھیک ہے ہم کچھ دیر اور انتظار کر لیتے ہیں۔۔!!“
ایلا اتنا ہی کہہ پاٸی تھی۔

“دیدار یار نہیں ہوتا تو یہ لب بھی نہیں مسکراتے”
“آ بھی جاو کہ مسکراہٹ ___تیرے انتظار میں ہے”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب سے وہ پیرس آیا تھا اسکے ساتھ عجیب سا معاملہ ہو رہا تھا۔
جہاں بھی اسےروشنی نظر آتی ناجانے کہاں سے ام حانم کا چہرہ اسے یاد آجاتا تھا۔

اس نے گاڑی اپنی مطلوبہ جگہ پر روکی تھی۔اور پھر گلے میں پڑے مفلر کو ٹھیک کرتے وہ گاڑی سے باہر نکل آیا تھا۔
تیز برف باری نے ٹریفک کو مشکل بنادیا تھا۔ جانے وہ کتنی مشکل سے یہاں پہنچا تھا۔

پارکنگ ایریا سے ٹاور تک پہنچنے میں برف کے گالوں نے اسکے بھورے بالوں کو سفید کردیا تھا۔
گھٹنوں تک آتا کوٹ پہنے وہ حویلی میں موجود حشام سے بالکل مختلف لگ رہا تھا۔

ٹاورکے پاس پہنچ کر وہ رک گیا تھا۔

”میں اب تمہاری شادی کرنا چاہتی ہوں حشام بیٹا۔۔!!“
بی جان کے الفاظ اسکے کانوں سے ٹکرائے تھے۔

”بھاٸی کیلیے کوٸی بہت پروقار لڑکی ہونی چاہیے جو انکی مضبوط شخصیت کا مقابلہ کرسکے۔۔“
دور کہیں مدیحہ کے لفظوں نے اپنا آپ منوایا تھا۔

”بتائيں نا بھاٸی آپکو کیسی لڑکی چاہیے۔؟؟“

”بی جان مجھے ابھی شادی نہيں کرنی۔۔ ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔۔!!
اسکے کیلیے بہت مشکل تھا ان دونوں عورتوں کو سمجھانا۔

”منگنی تو کی جاسکتی ہے نا۔۔!!“
مدیحہ بضد تھی۔
”بتادیں بھاٸی آپکو کیسی لڑکی پسند ہے؟؟ کوٸی پسند کی ہوٸی ہے تو وہ بھی بتادیں۔۔!!“

”ایسا کچھ نہيں ہے مدیحہ۔۔۔“
وہ اکتاگیا تھا باتیں سن سن کر۔۔

”پھر بھی۔۔۔ کوٸی تو خاص بات بتائيں تاکہ لڑکی ڈھونڈنے میں ہمیں آسانی ہو۔۔؟؟
مدیحہ امید بھری نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔

”بی جان جیسی شخصیت ہو اسکی۔۔ بارعب۔۔ باوقار۔۔۔ جو اس عالیشان حویلی میں آئے تو اس حویلی کا وقار کہیں دبتا محسوس ہو۔!!“
وہ اپنی پسند بتا چکا تھا۔

”اسکا مطلب آپ ساری عمر کنوارے رہنا چاہتے ہیں۔۔۔؟“
مدیحہ نے اسکی پسند کا سن کر برا سا منہ بنایا تھا۔

”میں اس حویلی کیلیے ایسی ہی دلہن لاٶں گی۔۔!!
بی جان مسکرادیں تھیں۔

”نہيں ملے گی بی جان۔۔میری بات لکھ لیں۔ آج کل ک نازک لڑکياں حشام بن جبیل کے معیار پر پورا نہیں اتر سکتیں۔۔!!
وہ بیڈ سے اتری جوتے پہنتے ہوۓ کہا اور کمرے سے باہر نکل گٸ تھی۔

”کوٸی پسند ہے تو بتادو۔۔!!“
اسکے جانے کے بعد بی جان نے پوچھا تھا۔

”بی جان ایسا کچھ نہيں ہے۔۔ میں بتا چکا ہوں مجھے ابھی شادی نہيں کرنی اور جہاں آپکی مرضی ہوگی میں وہیں کرلوں گا لیکن کرونگا اپنے وقت پر۔۔ آپ بیشک لڑکی ڈھونڈ لیں مگر جب تک میں نا کہوں شادی نہيں ہوگی۔۔!!“
وہ اپنا حتمی فیصلہ سنا چکا تھا۔

اس نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھاٸی تھی۔ سارا آسمان جیسے سفید ہوگیاتھا۔
اچانک اسکے تصور پر سفید ڈوپٹہ اوڑھے روشنی میں بیٹی ام حانم کا چہرہ ابھرا تھا۔
وہ ایک دم چونکا تھا۔
اپنے جیون ساتھی کے بارے میں اسکی بڑی بڑی ڈیمانڈز نہيں تھیں۔
اسے باوقار لڑکياں اچھی لگتی تھیں۔
وہ بی جان کو کہہ آیا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے ڈھونڈ لیں۔۔ لیکن ناجانے کیوں بار بار وہ لڑکی اسکے تصور میں ابھرتی تھی۔

”یہ میں کیا سوچ رہا ہوں۔۔؟“
اس نے اپنا سر جھٹکا تھا جیسے اس طرح کرنے سے وہ دوبارہ اسکے ذہن میں نہيں آۓ گی۔

”ایکسکیوز می۔۔“
آواز پر وہ پلٹا تھا۔
اسکے سامنے ایک لڑکی کھڑی تھی۔ اونی کوٹ پہنے برف نے اسے سفید بنا دیا تھا۔
چہرے کے اطراف میں بکھرے بالوں پر سفید برف اسے دلکش بنا رہی تھی۔

”جی۔۔“
وہ الجھا تھا۔

”آپ حشام بن جبیل ہیں نا؟؟“
وہ کتنی چاہت سے پوچھ رہی تھی جیسے یقین نا ہو سامنے کھڑا حشام جبیل ہی تھا۔

”جی۔۔“
وہ اتنا ہی کہہ پایا تھا۔

”میں ماہین حمدان۔۔ میں نے آپکو میسج بھی کیا تھا۔۔!!
ماہین نے ایک بار بھی پلکیں نہيں جھپکیں تھی۔ اسے لگ رہا تھا اگر ایسا ہوا تو سامنے کھڑا شخص پھر غاٸب ہوجاۓ گا۔
ماہی کو لگ رہا تھا جیسے سب کچھ تھم گیا ہو۔
لوگوں کے چلانے کا شور۔۔۔ سب کچھ جیسے پیچھ چلا گیا تھا۔
اسے یاد تھا تو بس اتنا کہ اس شخص کو اس نے بہت چاہا ہے۔ ایک بار دیکھنے کی بہت سی دعائيں مانگی ہیں۔

”میسج۔۔۔
حشام بڑبڑایا تھا اور پھر کچھ یاد آنے پر وہ چونکا تھا۔

”اور میں نے آپکو جواب دے دیا تھا مس ماہین حمدان کہ مجھے کوٸی دلچسپی نہيں ہے۔۔!!
اسکا لہجہ سخت ہوا تھا۔ اس نے گاڑی کی طرف قدم بڑھائے تھے۔
ماہین کا دل ڈوب کر ابھرا تھا۔
اگر وہ اسکی آنکهوں میں جلتے چراغ جو ایک دم بجھ سے گٸے تھے دیکھ لیتا تو شاید لہجہ سخت نا کرتا۔

”لیکن آپ میری بات تو سنیں۔۔ آپکو یاد ہے ہم یہاں ملے تھے۔ اسی جگہ پر۔۔شاید آپ بھول رہے ہیں!!“
وہ اسکے پیچھے لپکی تھی۔

“”رنگ اُترے لال گلابی سا
کوئی کرتا ہے تیری بات پیا

مجھے نیند کی نہ اب چاہ رہی
میں یادکروں تجھے ساری رات پیا

تو چاند ہے میرے آنگن کا
تیری چمک سے اُجلا گھر بار پیا

تیرے پیار کی دھنک مجھ پہ یوں چڑھی
مجھے آئے نہ کوئی رنگ راس پیا

تیرے ساتھ رہوں کھلیں پھول سبھی
تیرے بعد نہ رہےمیری راکھ پیا

میں دھول بھی نہیں تیری نگری کی
تو ہے میرے سر کا تاج پیا

میری منت ہے تو جو ازلوں سے
میں مانگوں تجھے ہر بار پیا

ہے چاہ میری جب مرنے لگوں
تیرے ہاتھ میں ہومیرا ہاتھ پیا “”

”دیکھیں مس مجھے بہت برا لگ رہا ہے کہ میں آپکو بار بار انکار کروں۔۔ آپ خود سمجھ جاٸیں تو بہتر ہے مجھے نہيں کرنی دوستی۔۔!!
وہ رکا تھا۔اب کی بار اسکا لہجہ پہلے سے بھی سخت تھا۔
جبکہ ماہی کچھ بول نہيں پاٸی تھی۔

مرد کی فطرت ہے جو عورت خود اسکے پاس چل کر آئے وہ اسے کبھی پسند نہيں آتی۔
ماہی شاید یہ نہيں جانتی تھی۔

وہ چلا گیا تھا۔۔ جبکہ برف کی شہزادی برف پر کھڑی رہ گٸی تھی۔
اسکی آنکهوں میں آٸی نمی نے ہر چیز کو دھندلاکر دیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حانم پرنسپل کے آفس میں موجود تھی۔ آج پھر اسکا بلاوہ آیا تھا۔
اسکا ننھا سا دل پھر کانپ رہا تھا۔
اس نے پریشان نظروں سے اپنے سامنے براجمان پرنسپل کو دیکھا جنکے ہاتهوں میں کچھ ٹیسٹ تھے۔

جبکہ دوسری جانب دیوار کے ساتھ رکھے صوفے پر اس نے روحان جبیل کو دیکھا تھا جو ٹانگ پر ٹانگ جمائے ببل چبانے میں مصروف تھا۔
اسکی چہرے پر سنجیدگی جبکہ آنکهوں میں گہری شرارت تھی۔
وہ سمجھ گٸی تھی کہ آج پھر کچھ غلط ہونے والا تھا اسکے ساتھ۔۔ کیونکہ جہاں آرجے ہو وہاں کبھی کچھ ٹھیک نہيں ہوسکتا تھا۔

”مس ام حانم۔۔۔“
پرنسپل نے موٹے شیشوں والی عینک کے پیچھے سے جھانکتے ہوئے کہا تھا۔

”یس میم۔۔“
حانم نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا تھا۔

”میں نے سنا ہے کہ آپ پوری توجہ سے نا تو لیکچر لیتی ہیں بلکہ ٹیسٹ بھی دھیان سے چیک نہيں کرتیں۔۔“

”جی۔۔۔؟؟“
اس الزام پر وہ بوکھلا گٸی تھی۔

”جی۔۔ مجھے آپکی کلاس کے کچھ سٹوڈنٹس نے بتایا ہے۔۔!!
پرنسپل کی بات پر اس نے چونک کر آرجے کی طرف دیکھا تھا جسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گٸی تھی۔

”یہ دیکھیں مس ام حانم۔۔ یہ چیک کیے ہوئے ٹیسٹ آپکی لاپرواہی ثابت کر رہے ہیں“
پرنسپل نے کہتے ہوئے ٹیسٹ کا بنڈل اسکی طرف پھینکا ۔
حانم نے کانپتے ہاتھوں سے ٹیسٹ اٹھا کر دیکھنے شروع کیے ری چیکنگ کی گٸی تھی۔
اس دن دوسری بار خواب دیکھنے کے بعد اسے نیند نہيں آرہی تھی تو اس نے غاٸب دماغی سے ٹیسٹ چیک کرنا شروع کردیے تھے۔
صرف ایک ٹیسٹ ایسا تھا جس پر وہ ٹھیک سے توجہ نہيں دے پاٸی تھی۔

”سوری میم دراصل ابھی میں نے ری چیکنگ نہيں کی تھی۔۔تو۔۔

”تو۔۔کیا اگر آپ نے ری چیکنگ کرنی تھی تو پھر بنا ری چیکنگ کے مجھے کیوں بجھوائے گٸے یہ ٹیسٹ؟؟“
پرنسپل سختی سے پوچھ رہی تھیں۔

”میم۔۔ یہ ٹیسٹ مجھے سٹاف روم کے باہر نیچے پڑے ہوئے ملے تھے۔ چیک کیے ہوئے تھے مجھے لگامیم حانم نے آپکو ہی دینے ہونگے اس لیے میں خود دینے آگیا۔۔!!“
روحان جبیل معصومیت سے کہہ رہا تھا۔

”مجھے اندازہ نہيں تھا کہ میم حانم نے ابھی ری چیک نہيں کیے۔!!“
اور حانم کا دل کر رہا تھا کہ کوٸی چیز اٹھاکر وہ آرجے کے سر میں دے مارے۔

”آٸندہ خیال رکھیے گامس حانم۔۔اب آپ جا سکتی ہیں“
پرنسپل کے حکم پر وہ خاموشی سے باہر نکل آٸی تھی۔
دل تو بہت تھا کہ اپنی صفائی میں کچھ کہے لیکن کوٸی فائدہ نہيں تھا۔اندر وہ طوفان موجود تھا۔

”ہانی۔۔“
وہ کلاس کی طرف بڑھ رہی تھی جب اسے آواز سنائی دی کسی نے اسے پکارہ تھا۔

اس نے دھندلاتی آنکهوں کو صاف کیا اور پیچھے مڑ کر دیکھا۔ سامنے پرنسپل کی بڑی بیٹی اور انکی سینیٸر اسمارہ کھڑی تھی۔

”کیسی ہو؟؟“
وہ پوچھ رہی تھی۔

”جی میں ٹھیک ہوں“
وہ زبردستی مسکراٸی۔

”سیلری مل گٸی تھی آپکو؟؟“
اسمارہ نے پوچھا۔ اسی کی وجہ سے وہ یہاں تھی۔

”جی دو دن پہلے مل گٸی تھی۔۔۔“
وہ بس اتنا ہی کہہ پاٸی تھی۔

”گڈ۔۔ اور کوٸی پرابلم۔۔؟؟“

حانم کا دل کیا کہ وہ کہہ دے سب سے بڑا مسٸلہ تو وہ روحان جبیل ہے لیکن وہ کہہ نا پاٸی اور واپس کلاس میں آگٸی تھی۔۔!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام کے وقت کالج کی کینٹین سٹوڈنٹس سے بھری پڑی تھی۔
وجہ سٹوڈنٹس کے ہجوم میں بیٹھا آرجے تھا جو پہلی بار کالج میں سنگنگ کر رہا تھا۔

وجہ بھی خاص تھی۔ حانم سے جو ٹیسٹ گرے تھے وہ اسے نہيں کسی اور لڑکے کو ملے تھے۔
لڑکے نے اس شرط پر ٹیسٹ اسے دیے تھے کہ وہ سنگنگ کرے گا۔
پورے کالج کو پتا چل گیا تھا کہ وہ آرجے ہے جن کو پہلے نہيں پتا تھا۔۔
لیکن اگر نا معلوم ہوسکا تو بس ام حانم کو جو کب کی جاچکی تھی۔
اسکا مقصد حانم کو شرمندہ کرنا تھا کہ اس سے ٹیسٹ بھی نہيں سنبهالے جاتے۔۔ لیکن پھر پرنسپل نے اسے بلا لیا اور وہ چلا گیا جہاں انہوں نے ٹیسٹ دیکھ لیے یوں بنا کچھ کرے بھی وہ بہت کچھ کر گیا تھا۔

Been sitting eyes wide open behind these four walls, hoping you’d call
It’s just a cruel existence like there’s no point hoping at all

Baby, baby, I feel crazy, up all night, all night and every day
Give me something, oh, but you say nothing
What is happening to me?

I don’t wanna live forever, ’cause I know I’ll be living in vain
And I don’t wanna fit wherever
I just wanna keep calling your name until you come back home
I just wanna keep calling your name until you come back home
I just wanna keep calling your name until you come back home

اسکی دلکش آواز نے پورے کالج پر سحر طاری کردیا تھا۔
گٹاربجاتے لبوں سے لفظوں کو آزاد کرتے وہ وہاں موجود لڑکيوں کی دھڑکنوں کو تیز کرگیا تھا۔۔۔ اس نے آنکھ اٹھا کر کسی کو نہيں دیکھا تھا البتہ سب کی نظریں اس پر جمی تھیں۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: