Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 11

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 11

–**–**–

اسکی دل سوز آواز نے پورے کالج پر سحر طاری کردیا تھا۔
گٹاربجاتے ہوئےلبوں سے لفظوں کو آزاد کرتے وہ وہاں موجود لڑکيوں کی دھڑکنوں کو تیز کرگیا تھا۔۔۔ اس نے آنکھ اٹھا کر کسی کو نہيں دیکھا تھا البتہ سب کی نظریں اس پر جمی تھیں۔

دس منٹ بعد وہ کرسی سے اٹھا تھا۔ گٹار کو کندھے پر لٹکانے کے بعد اس نے اپر کے ہُڈ کو سر پر گرایا تھا جس سے اسکا پورا چہرہ چھپ گیا تھا۔
اسکے اٹھنے پر وہاں موجود ہر ایک شخص نے تالیاں بجاٸی تھیں۔
آرجے نے قدم کینٹین سے باہر کی طرف بڑھائے تھے۔
اسکے چاروں طرف لڑکوں اور لڑکيوں کا ہجوم تھا۔ اسے آتا دیکھ کر سب نے اسے راستہ دیا تھا۔
اور وہ اَپر کی جیبوں میں ہاتهوں کو ٹھونسے، چہرہ جھکاۓ،سیٹی پر دھن گنگناتا وہاں موجود لوگوں کے ہجوم سے نکلتا چلا گیا تھا۔۔ بنا جانے کہ لوگ کتنی حسرت سے اسے دیکھ رہے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اتوار کا دن تھا۔ ماہم،حانم اور جواد تینوں بہن بھاٸی گھر میں ہی موجود تھے۔
باہر چلتی ٹھنڈی ہواٶں نے دھند کو چھٹنے پر مجبور کیا تھا لیکن ہوا کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں میں دبکے پڑے تھے۔

وہ کچن میں کھڑی ناشتہ بنا رہی تھی۔
کل ہونے والے واقعے نے اسے روحان جبیل سے مزید دور کردیا تھا۔
جب پرنسپل اسے ڈانٹ رہی تھی اس وقت جس طرح سے وہ محفوظ ہورہا تھا حانم کو یاد تھا۔
وہ چیز اسے اندر سے جلا رہی تھی۔ وہ کچھ نہيں کر سکتی تھی۔

”کیا ہوگیا ہانی سارا آملیٹ جل گیا۔۔دھیان کہاں ہے تمہارا۔۔؟؟“
اسے یوں گم سم کھڑے دیکھ کر آسیہ بیگم نے چولہا بند کیا۔
وہ چونک کر خیالوں سے باہر آٸی تھی۔
”اس لیے کہتی ہوں یہ اوٹ پٹانگ کتابيں کم پڑھا کرو انسان پاگل ہوجاتا ہے۔۔!!“
اماں کی بات سن کر اسے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گٸی تھی۔

”آپ گھوم پھر میری کتابوں پر آجاتی ہیں اماں۔۔!!“
وہ ناراض ہوٸی۔

”میں سچ کہہ رہی ہوں۔ وہ حمدان بھی اتنی کتابيں پڑھتا تھا اور پھر یوں گم سم کھڑا رہتا تھا۔۔!!“
حمدان کے نام پر حانم نے چونک انہيں دیکھا۔
وہ کبھی کبھی حمدان کا ذکر کرتی تھیں جو انکا کزن تھا۔ لیکن کبھی نا وہ ان سے ملنے گٸیں نا اور حانم نے حمدان انکل کو دیکھا تھا۔

”ہمارے خاندان کا سب سے زیادہ پڑھا لکھا لڑکا تھا وہ باہر سے پڑھ کر آیا تھا۔۔
جب میری شادی ہوٸی تب وہ پڑھاٸی مکمل کر کے لوٹا تھا۔۔۔ بالکل ہی بدل گیا تھا۔ خاموش خاموش سا رہنے لگا تھا۔
زیادہ بات چیت بھی نہيں کرتا تھا ناجانے کیا سوچتا رہتا تھا۔
تمہاری نانی اماں کہتی تھیں کہ بچے کو سایہ ہو گیا ہے۔۔!!!“
آسیہ بیگم کو باٸیس سال پرانی باتيں خوب یاد تھیں۔

”وہ کبھی ملنے نہيں آٸے آپ سے اماں؟؟“
حانم نے پوچھا تھا۔

”جس دن میری شادی ہوٸی تھی اس سے اگلے دن وہ واپس چلا گیا تھا پھر پتا نہيں واپس نہيں آیا۔۔!!
آسیہ بیگم نے گہری سانس لی تھی۔
حانم نے کچھ کہے بنا ناشتے کی پلیٹ اٹھا کر کمرے کی طرف قدم بڑھا دیۓ تھے۔
کمرے میں میوزک کی بےہنگم آواز گونج رہی تھی۔
ماہم اور جواد دونوں اپنی سریلی آواز میں سنگر کے ساتھ ہی گا رہے تھے۔

”پاگل ہوگٸے ہو تم دونوں۔۔!!“
حانم نے کانوں پر ہاتھ رکھنے کے بعد چلا کر کہا تھا۔
”ہانو آپی آرجے کا شو لگا ہوا ہے مزہ آرہا بہت۔۔!!“
جواد کافی پرجوش تھا۔

”آواز کم کرو۔۔!!“
حانم کو سخت غصہ آیا تھا۔

”تم سڑیل اس کمرے میں ہی نا آیا کرو۔۔!!“
ماہم نے آنکهيں سکیڑتے ہوئے کہا تھا۔
حانم بنا کچھ کہے پلیٹ اٹھا کر کمرے سے باہر نکل گٸی تھی۔

”اسکا کچھ نہيں بن سکتا۔۔ سڑیل۔۔!!“
اسکے جانے کے بعد ماہم بڑبڑاٸی تھی۔ ٹی وی کی آواز پھر سے پورے کمرے میں گونج گٸی تھی۔

کچھ یاد آنے پر حانم واپس اسی کمرے میں آٸی تھی
”میرا میگزین لائے ہو؟؟“
اس نے تقریباً چیخنے والے انداز میں جواد سے پوچھا تھا کیونکہ جتنی گانے کی آواز تھی نارمل آواز سے تو انہيں سنائی نا دیتا۔

”آہستہ چیخو ہانو گلا خراب ہوجائے گا“
ماہم نے شرارت سے کہا تھا۔

”امی کے پاس ہے میں لے آیا تھا۔۔!!“
جواد نے والیوم کو میوٹ کرتے ہوئے جواب دیا تھا۔ جب بھی آرجے کا شو لگتا تھا وہ ریموٹ اپنے ہاتھ میں رکھتا تھا۔

”کالج میں وہ روحان جبیل نہيں جینے دیتا اور گھر میں یہ دو لوگ۔۔!!“
وہ بڑبڑا رہی تھی اور اور ساتھ اپنا مطلوبہ میگزین تلاش کر رہی تھی۔
کافی دن پہلے اس نے میگزین کے ادارے کو سوال بھیجا تھا۔ وہی دیکھنا چاہ رہی تھی کہ جواب ملا ہے یا نہيں۔

”شکر ہے مل گیا۔۔!!“
کتابوں کے اوپر پڑے میگزین کو دیکھ کر اس نے شکر کیا تھا اور ”جستجو“ کا صفحہ کھولنے پر اسکی آنکهیں چمک اٹھی تھیں۔

”شعور کیا ہے اور لاشعور کسے کہتے ہیں۔۔؟؟“
اسکا سوال جواب سمیت موجود تھا۔
اس نے میگزین ایک طرف رکھا اور فٹافٹ ناشتہ کرنے لگی۔ وہ مکمل طور پر پرسکون ہونے کے بعد جواب پڑھنے والی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بھانپ اڑاتے کافی کے کپ کو اس نے اٹھا کر جیسے ہی لبوں سے لگایا اسکی نظر ایک کونے میں بیٹھے شخص پر پڑی تھی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا نظریں ملنے پر وہ گڑبڑا کر چہرے کا رخ موڑ گیا تھا۔
اینجل کی تیوری چڑی تھی۔ اس نے کپ کو میز پر پٹخا اور اپنی جگہ سے اٹھنے کے بعد قدم اس شخص کی طرف بڑھا دیے تھے جسکا آدھا چہرہ چھپا ہوا تھا۔
یہ شخص ناجانے کیوں اسکا پیچھا کرتا تھا۔
اینجل کو اس سے حددرجے کی کوفت ہوتی تھی۔آج تو اس نے صاف صاف بات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
اینجل کو اپنی طرف آتا دیکھ کر وہ سنبهل کر بیٹھا تھا اور اس طرح ظاہر کرنے لگا جیسے وہ اسے جانتا ہی نا ہو۔

”ایکسکیوز می۔۔“
پاس جانے پر اینجل نے سخت سے لہجے میں اسے پکارہ۔
وہ چاۓ پینے میں ایسے مگن تھا جیسے سنا ہی نا ہو۔

”مسٹر مون آپ گونگے ہونے کے ساتھ ساتھ بہرے بھی ہیں کیا؟؟“
اسکی اس بات پر مون نے چونک کر اپنے سامنے کھڑی اینجل کو دیکھا تھا جو اس وقت اینجل کم اور ڈاٸن زیادہ لگ رہی تھی۔
مون نے اسکے بہرہ کہنے پر برا سا منہ بنایا تھا۔

”یس۔۔“
آنکهوں سے اشارہ کیا گیا تھا کہ بولیے۔

”آپ میرا پیچھا کیوں کرتے ہیں۔۔۔؟؟ میں جہاں جاٶں آپ وہاں کیوں موجود ہوتے ہیں؟؟“
وہ غصے سے پوچھ رہی تھی۔

”نو۔۔۔“
مون نے نفی میں سرہلایا۔جیسے کہہ رہا ہو کہ میں نے ایسا کچھ نہيں کیا۔

”اووہ تو آپ جھوٹ بھی بولتے ہیں۔۔؟؟“
اینجل نے دونوں ہاتھوں کو ذرا سا اوپر اٹھا کر خالص برٹش لہجے میں کہا تھا۔

”نو۔۔“
مون نے پھر سر نفی میں ہلایا تھا اور ہونٹوں پر آٸی مسکراہٹ کو مشکل سے ضبط کیا تھا۔

”لسن مسٹر مون۔۔ اگر آپ آٸندہ مجھے اپنے آس پاس نظر آئے نا تو یہ گرم گرم چائے کا کپ منہ پر گرا کر جو آدھا چہرہ بچا ہوا ہے نا وہ بھی جلا دونگی۔۔یا پھر۔۔
وہ جو سامنے گلدان نظر آرہا نا وہ اٹھا کر سر میں مارونگی۔۔ سمجھ آٸی۔۔!!“
اسکی دھمکی سن کر مون کی آنکهيں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گٸی تھیں۔

یہی اصل حقیقت ہے​
کہ میری بے رخی چاہت​
ہوئی مثلِ قفس مجھ کو​

“مجھے تم سے محبت ہے”​
بس اتنی بات کہنے میں​
لگے کئی برس مجھ کو​

وہ اتنی خطرناک کب سے ہوگٸی تھی۔۔ مون کو حیرت ہوٸی۔

”سمجھ آگٸی نا۔۔؟؟“
اس کے خاموش رہنے پر اینجل نے دوبارہ پوچھا۔

”نو۔۔۔“
وہ ایک بار پھر سر نفی میں ہلا چکا تھا جبکہ اینجل غصے سے مٹھیاں بھینچتی وہاں سے چلی گٸ تھی۔
اسکے لمبے اوورکوٹ کے پیچھے انگلش میں بروکن اینجل لکھا تھا۔

I am so lonely broken angel..
One and only broken angel..
جینی کے ساتھ گاٸے گٸے گانے کے الفاظ اسکے ذہن میں گونج گٸے تھے۔ اور پھر اسکی دھمکی کو یاد کر کے وہ کھل کر مسکرادیا تھا۔

تیری داستان بےوفائی
میرے چہرے پہ رقم ہے
زندگی میں صرف سوزش غم ہے
تیری بے وفائی کا غم،
تیری بے اعتنائی کا غم،
تیرے مغرور لہجے میں
جھلکتی ہتک کا غم،
دل بےتاب کی نارسائی کا غم،
پاکیزہ جذبات کی رسوائی کا غم،
غم ہے مجھے تیری بے رخی کا،
تیرے انداز و اطوار کی بے زاری کا،
غم ہے مجھے دھڑکن تھم جانے کا،
سانس رک جانے کا، خون جم جانے کا،
اور غم ہے مجھے یوں جیتے جی اپنے مر جانے کا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بارہ سال کا جب پہلی بار پولیس نے اسے گرفتار کیا تھا۔
وجہ یہ تھی کہ وہ قبرستان میں موجود تھا اور مرحومہ سیدہ عاٸشہ جبیل کی قبر کو کھودتے ہوٸے پکڑا گیا تھا۔
بہت بار پوچھنے پر بھی اس نے کچھ نہیں بتایا تھا۔
”سر بچہ ہے وہ قبر اسکی ماں کی ہے شاید ماں کی محبت میں اسے دیکھنے کیلیے اس نے ایسا کیا ہو۔۔!!“
ایک سپاہی کے کہنے پر پولیس انسپکٹر نے اثبات میں سر ہلایا تھا اور پھر اپنی گاڑی میں بٹھا کر وہ اسے سید حویلی چھوڑنے گٸے تھے۔

اور آج پھر وہ اسی پوليس اسٹيشن میں موجود تھا پورے دوسال بعد۔

”کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ رات کے اس پہر تم قبرستان میں کیا کر رہے تھے؟“
پولیس انسپکٹر نے اپنے سامنے بیٹھے چودہ سالا لڑکے سے پوچھا۔ جو سر جھکائے بیٹھا تھا۔

”جواب دو“
اسکے کچھ نا بولنے پر انسپکٹر نے دوبارہ پوچھا۔

اس نے سر اٹھا کر ایک نظر انسپکٹر کو دیکھا اور پھر کچھ گنگنانا شروع کردیا تھا۔
انسپکٹر کو لڑکے پر بےتحاشہ غصہ آیا۔

”میں تم سے پوچھ رہا ہوں۔۔ جواب دو نہيں تو۔۔

”کیا نہيں تو۔۔؟؟“
لڑکےکے چہرے پر ایک دم ناگواری ابھری۔

”جو پوچھا ہے اسکا جواب دو۔۔ کیوں کیا تم نے ایسا۔۔؟؟
کیا ہے ایسا اس قبرستان میں جو روز تم وہاں جاتے ہو۔۔؟“

”کیا مجھے قبرستان جانے کا حق نہيں ہے کیا؟“
الٹا سوال آیا۔

”لیکن قبر کھودنے کا حق کس نے دیا تمہيں۔۔؟؟“
انسپکٹر نے دانت بھینچتے ہوۓ پوچھا۔

”میں بس ایک تجربہ کرنا چاہتا تھا۔۔“
لڑکا اب پرسکون ہوچکا تھا۔

”کیسا تجربہ۔۔؟؟“
انسپکٹر حیران ہوا۔

”یہی کہ مرنے کے بعد قبر میں انسانی جسم کے ساتھ کیا کیا ہوتا ہے۔۔ کون کونسے کیڑے جسم۔۔

”کیا بکواس ہے یہ۔۔؟؟“
انسپکٹر نے لڑکے کی بات کاٹی۔۔ اسکی باتیں وہاں موجود سبھی لوگوں کے رونگھٹے کھڑے کر رہی تھیں۔ جبکہ وہ پرسکون بیٹھا تھا۔۔ ہونٹ سیٹی بجانے کے انداز میں سکڑے ہوئے تھے۔

انسپکٹر کو اس پر کسی پاگل کا گمان ہوا تھا۔ کیا وہ واقعی پاگل تھا۔۔۔ کیا اسکے ساتھ کوٸی نفسياتی مسٸلہ تھا۔ انسپکٹر سمجھنے سے قاصر تھا۔
مسٹر جیبل کو فون کیا جاٸے آج انہيں میں بتاٶں گا کہ انکا بیٹا کیا کر رہا ہے۔
انسپکٹر نے اپنے داٸیں طرف کھڑے ایک سپاہی سے کہا تھا جو بےیقینی سے انسپکٹر کو دیکھ رہا تھا۔

”سنا نہيں تم نے فون ملاٶ۔۔“
انسپکٹر نے غصے سے حکم دیا۔

”لیکن سر وہ علاقے کی معزز شخصیت ہیں انہيں یہاں بلانا۔۔
انسپکٹر کے گھورنے پر باقی الفاظ اسکے منہ میں ہی دم توڑ گٸے تھے اور وہ فوراً فون کی طرف لپکا۔ جبکہ لڑکا پرسکون انداز میں بیٹھا کچھ گنگنا رہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”شعور کیا ہے؟“
سوال کے پہلے حصے کا جواب اس نے پڑھنا شروع کیا تھا۔
=> کچھ سوال سوچ لیتے ہیں۔ کیا خودکار روبوٹ جو اپنا راستہ خود تلاش کر سکتا ہو، باشعور ہے؟ کیا پالتو کتا جو جذبات کا اظہار کر سکتا ہے اور خود سے فیصلے بھی لے سکتا ہے، کیا شعور رکھتا ہے؟ ایک نوزائیدہ بچہ جو دودھ پی کر لڑھک کر سوگیا ہے، اسے باشعور کہیں گے؟ یا ایک سوتے ہوئے شخص کا شعور جاگتے شخص سے فرق ہے؟

اس بارے میں سچ یہ ہے کہ ہمیں ابھی ہمارے پاس شعور کی معروضی تعریف یا اس کی پیمائش کا طریقہ یا فریم ورک نہیں۔ مادے یا توانائی کے بارے میں تفصیلی اور کامیاب فریم ورک موجود ہیں مگر ذہن کے بارے میں ان کا متوازی نہیں۔ مگر یہ صورتحال اب بدل رہی ہے۔

اس دور کی مشترکہ زبان معلومات ہے۔ کتابیں، تصاویر اور فلمیں ہوں یا ہماری جینیاتی سٹرکچر، ان سب کو معلومات کے سٹرکچر میں ڈھالا جا سکتا ہے جسے صفر اور ایک کی صورت میں بھی ڈھالا جا سکتا ہے. یہ معلومات خود کسی میڈیم کی محتاج نہیں۔ چاہے یہ کمپیوٹر کی یادداشت میں برقی چارج کے طور پر رہے یا کسی صفحہ پر لکھی گئی لکیروں میں۔ ویسے ہی معلومات اعصابی خلیوں کے جوڑوں میں بھی حالت کے طور پر رہ سکتی ہے۔

کمپیوٹر کے ابتدائی دنوں سے ایک بحث رہی کہ ذہن کو معلومات کی حالتوں سے سمجھا جا سکتا ہے مگر اس خیال کو کسی بھی نظریے میں بدلنے کے ذرائع کی کمی رہی۔ پہلی بار گیولیو ٹنونی نے ایک مربوط نظریہ پیش کیا جس کو انٹیگریٹڈ انفورمیشن تھیوری (مربوط معلومات کا نظریہ) کہا جاتا ہے۔

یہ نظریہ دو بنیادوں پر کھڑا ہے۔ ایک یہ کہ شعور کی حالتیں ممتاز ہیں اور معلومات سے بھرپور ہیں۔ دوسرا یہ کہ یہ معلومات مربوط ہے۔ کوشش بھی کی جائے تو ایک حالت کے ٹکڑے نہیں کئے جا سکتے۔ یعنی اگر آپ اپنے دوست کو روتے دیکھیں تو یہ نہیں کر سکتے کہ چہرہ دیکھ لیں اور رونے کو نوٹس نہ کر یں، یا کسی منظر کا ایک حصہ دیکھ کر یاد رکھ لیں اور دوسرا چھوڑ جائیں، تو جو بھی معلومات ہے وہ مکمل اور ناقابلِ تقسیم ہے۔

جیسے جیسے وہ پڑھ رہی تھی سوچ کی لکیریں اسکے چہرے پر واضح ہو رہی تھیں۔ اتنا پڑھنے کے بعد اس نے صفحہ پلٹا تھا۔

اس مربوط معلومات اور شعور کی اکائی کے پیچھے اعصابی نظام کے بہت سے حصے مل کر کام کرتے ہیں۔ جب یہ تعلق منقطع ہونا شروع ہو جائے، جیسا کہ نیند یا بے ہوشی کی حالت میں ہوتا ہے، تو شعور مدہم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

اگر منقسم دماغ والے مریٖضوں کو دیکھیں جن کے دماغ کے دو حصوں کا رابطہ مرگی کے دوروں کے علاج کے لئے منقطع کیا جاتا ہے تو یہ نظر آ جاتا ہے کہ ایسا کرنے سے شعور بھی دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ اس لئے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ شعور کے لئے اکائی کی صورت میں ممتاز حالتوں کا ربط درکار ہے۔ ایک کمپیوٹر ہارڈ ڈسک میں کیپیسیٹی ذہن سے زیادہ ہو گی مگر یہ اکائی کی صورت میں جڑی نہیں۔ اس ہارڈ ڈسک میں معلومات صفر اور ایک کی صورت میں ہے اور اس میں محفوظ تصاویر سے کمپیوٹر یہ اندازہ آسانی سے نہیں کر سکتا کہ اس میں محفوظ تصاویر ایک لڑکی کی ہیں جو بچپن سے بڑی ہوتی ہوئی اب ٹین ایجر بن چکی ہے۔ بائیولوجیکل ذہن کم انفارمیشن رکھنے کے باوجود ان کو بہت آسانی سے یکجا کر سکتا ہے۔ ایسا نیورونز کے کراس لنک ہونے کی وجہ سے ہے، جتنے لنکس بڑھتے جاتے ہیں، وہی معلومات اتنی معنی خیز ہوتی جاتی ہے۔ ان سے ٹنونی یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ انٹیگریٹڈ انفارمیشن کی پیمائش ہی شعور کی پیمائش ہے۔

ان خیالات کو ریاضی کی زبان میں انفارمیشن تھیوری کے تصورات کے طور پر بتایا جا سکتا ہے اور اصولی طور پر ان کی پیمائش کسی بھی چیز کے لئے کی جا سکتی ہے۔ بائیولوجی میں کسی ایک دماغ کے نیورون، ایکزون، ڈئنڈرائٹ اور سائنیپسز کو دیکھتے ہوئے اس انٹیگریشن کی پیمائش کرنا ممکن ہو سکے گا۔ اس سے جو نمبر نکلے گا جو اس نیٹ ورک کی حالت کی پیمائش کر دے گا۔ اسے یوں کہہ لیں کہ ان کے اتحاد کا نمبر ہو گا۔ جتنا انٹیگریٹڈ سسٹم ہو گا، اتنا یہ اتحاد زیادہ ہو گا اور اتنا ہی یہ نمبر۔ اور یہ نمبر شعور کی حالت بتائے گا۔

اس نظریے سے ہمیں کئی مشکل سوالوں کے جواب مل جاتے ہیں۔ سیریبلم، جو کہ دماغ کے پچھلے حصے میں ہے، اس میں نیورونز کی تعداد سیریبرل کورٹکس سے زیادہ ہے۔ اگر سیریبلم کام کرنا چھوڑ دے تو کئی صلاحیتیں متاثر ہوتی ہیں مگر مجموعی طور پر شعور پر اثر نہیں پڑتا جب کہ کورٹکس یا تھیلیمس شعور کے لئے بہت ضروری ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ مربوط معلومات کا نظریہ اس کا جواب اس حصے کی سرکٹ کی پیچیدگی کے فرق سے دیتا ہے۔

اسی طرح گہری نیند میں اور جاگتی حالت میں انفرادی خلیے کی ایکٹیویٹی میں فرق نہیں آتا مگر ان حالتوں میں شعوری کیفیت کے فرق کا جواب اس نظریے سے مل جاتا ہے۔

اس نظریے سے یہ بھی وضاحت ہو جاتی ہے کہ شعور کے لیے نہ کوئی حس چاہیے اور نہ ہی کوئی آوٹ پٹ۔ یہ خود اپنے اندر ایک ڈائنامک انٹیٹی ہے اور اسی میں کینسر کے مریض کی تکلیف، بچپن کی یادیں اور مراقبہ کرتے شخص کا سکون پایا جاتا ہے۔ آسکر وائلڈ کی تشریح کی جائے تو گلاب کی مہک، سیب کی سرخی اور کوئل کی آواز انہیں اسبابی تعاملات میں ہی موجود ہیں۔

ڈس کلیمر: آئی آئی ٹی ابھی شعور کی مکمل وضاحت نہیں کرتا لیکن اس بارے میں اب تک کی بہترین سائنٹفک تھیوری انٹیگیریٹڈ انفارميشن تھیوری ہے۔ یہ 2004 میں پہلی بار پیش کیا گیا اور اسے بہتر کرنے پر کام ہو رہا ہے۔ اس کی تیسری ریویژن 2014 کی ہے۔ شعور کے بارے میں ہونے والا بہتر کام ابھی تک یہی ہے. اسے سمجھ کر آپ اس موضوع پر ہونے والے کام اور سمت سے متعارف ہو سکتے ہیں۔
#Wahara_Umbakar

انسانی دماغ میں 100 ارب کے قریب نیورونز ہیں- ان میں سے زیادہ تر نیورونز دماغ کے ان حصوں میں ہیں جن کا شعور کی پراسیسنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے- مثال کے طور پر انسان کے دماغ میں سب سے زیادہ نیورونز cerebellum میں ہیں جو ہماری حرکات کی coordination کا کام کرتا ہے- لیکن اس حصے کا شعور سے کوئی تعلق نہیں ہے- اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم بہت سی ایسی حرکات کرتے ہیں جن کے بارے میں نہ تو ہمیں یہ علم ہوتا ہے کہ یہ حرکات کیسے طے پا رہی ہیں اور اکثر صورتوں میں ہمیں یہ بھی علم نہیں ہوتا کہ کوئی بھی حرکت ہو رہی ہے- نیوروسائنس کی ایجاد سے پہلے ان حصوں میں ہونے والی پراسیسنگ کو لاشعور کا نام دیا جاتا تھا۔

پڑھنے کے بعد حانم نے ایک گہرہ سانس لیا تھا۔ جتنا وہ چیزوں کو جاننا چاہ رہی تھی وہ اتنی ہی پیچیدہ ہوتی جارہی تھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”سلام سید صاحب۔۔۔“
وہ گیٹ سے اندر داخل ہوا تھا جب گارڈ نے اسے دیکھ کر سلام کیا تھا۔ گارڈ سیّدوں کا بہت احترام کرتا تھا جبکہ وہ بدقسمتی سے سید خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔
وہ بنا کچھ جواب دیٸے آگے بڑھ گیا تھا۔
کلاس کی طرف جاتے ہوٸے اسکی نظر لان میں ٹہلتی حانم پر پڑی تھی۔
وہ رک گیا تھا۔
وہ فون پر کسی سے بات کر رہی تھی۔ آرجے کی نظر فون پر بات کرتی حانم پر جمی تھی۔
وہ اسکے ہونٹوں کی حرکت کو دیکھنے کے بعد اچھے طریقے سے سمجھ رہا تھا کہ وہ کیا بات کر رہی تھی۔
اچانک اسکے چہرے پر ناگواری ابھری تھی۔
وہ اپنے غصے کو ضبط کرتا آگے بڑھ گیا تھا۔
وہ جان گیا تھا کہ حانم نے فون پر کیا کہا تھا۔

”کون روحان جبیل۔۔۔؟؟ دنیا کی بدقسمت ترین لڑکی ہوگی وہ جسکی زندگی میں روحان جبیل داخل ہوگا۔۔!!“
فون پر حانم نے مہرو سے کہا تھا۔
آرجے کی آنکهيں غصے کے باعث سرخ ہوچکی تھیں۔
کاریڈور میں داخل ہونے پر اس نے پلر کو زوردار ٹھوکر ماری تھی۔
شاید حانم جانتی نہيں تھی کہ وہ انجانے میں جو کہہ گٸی تھی اسکے بدلے میں آرجےاسے کبھی معاف نہيں کرنے والا تھا۔۔!!

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: