Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 12

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 12

–**–**–

”کون روحان جبیل۔۔۔؟؟ دنیا کی بدقسمت ترین لڑکی ہوگی وہ جسکی زندگی میں روحان جبیل داخل ہوگا۔۔!!“
فون پر حانم نے مہرو سے کہا تھا۔
آرجے کی آنکهيں غصے کے باعث سرخ ہوچکی تھیں۔
کاریڈور میں داخل ہونے پر اس نے پلر کو زوردار ٹھوکر ماری تھی۔
شاید حانم جانتی نہيں تھی کہ وہ انجانے میں جو کہہ گٸ تھی اسکے بدلے میں آرجےاسے کبھی معاف نہيں کرنے والا تھا۔۔!!

ایک پل لگا تھا اسے خود کو نارمل کرنے میں اور پھر وہ گہری سانس لیتا ہوا آگے بڑھ گیا تھا۔
پانچ منٹ بعد وہ پرسکون سا کلاس میں بیٹھا مس ام حانم کا انتظار کر رہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”کیا پتا ہانی وہ دنیا کی سب سے خوش قسمت ترین لڑکی ہو جو روحان جبیل کی زندگی میں داخل ہو۔۔!!

”نہيں ایسا نہيں ہوسکتا۔۔۔ ایک Rationalist اگر خدا کو نا مان کر اپنے آپکو عظيم سمجھے تو وہ بےقوف ہوا نا۔۔
اسکے پاس عقل ہوتی تو وہ خدا کی نشانیوں کو پہچان لیتا نا۔۔!!

”اچھا چھوڑو ان باتوں کو تم آج جلدی اکیڈمی آجانا کچھ کام ہے۔۔ اور کوٸی انسان یہ نہيں جانتا کہ دوسرا انسان اللہ پاک سے کتنا قریب تر ہے۔!!

”کیسا کام؟؟“
حانم نے پوچھا۔وہ اسکی دوسری بات کو نظرانداز کر گٸی تھی۔

”تم آٶ تو سہی پھر بتاتی ہوں۔۔!!

”اوکے کلاس کا ٹائم ہوگیا ہے وہ لے لوں پھر آتی ہوں!!
حانم نے پرسکون سے انداز میں کہتے ہوٸے فون بند کیا تھا۔

جیسے ہی وہ کلاس میں داخل ہوٸی آرجے کو کلاس میں دیکھ کر وہ تھوڑا حیران ہوٸی تھی۔ وہ آج وقت سے پہلے موجود تھا۔
اور کمال یہ کہ وہ کھڑکی سے باہر آسمان کو نہيں تک رہا تھا۔

”کیسی ہیں آپ مس ام حانم؟؟“
وہ تمیز سے پوچھ رہا تھا۔ حانم کاتو حیرت سے منہ کھل گیا تھا۔

”کیا ہو مس حانم۔۔ آپ ٹھیک ہیں؟؟“
وہ ہونک بنی اسےدیکھ رہی تھی جب آرجے نے دوبارہ پوچھا۔ وہ سنجیدہ دکھاٸی دےرہا تھا۔

”اللہ توبہ کتنے روپ ہیں اس شخص کے۔۔ اللہ اس بلا سے بچانا مجھے“
حانم نے دل ہی دل میں دعا کی تھی۔

”جی میں ٹھیک ہوں اللہ کا شکر ہے!!“
وہ سنبهل کر بولی تھی البتہ آرجے کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری تھی وہ جیسے اسکی سوچ پڑھ گیا تھا۔
کچھ دن رہ گٸے تھے حانم کے اس کالج میں۔ دو مہینے پورے ہونے والے تھے وہ یہ کچھ دن بنا کسی ہنگامے کے گزارنا چاہتی تھی لیکن آرجے ایسا ہونے نہيں دینے والا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آسیہ بیگم ماہم کے ساتھ بازار آٸی تھیں گھر کا کچھ سامان لینے کی غرض سے۔ شام ہوگٸی تھی انہيں وقت کا پتا ہی نہيں چلا۔
سردیوں کے موسم میں شامیں ویسے بھی جلدی دن کو ختم کردیتی ہیں۔

”جلدی چلو ماہم ہانی بس آنےوالی ہوگی اور کھانا بھی بنانا ہے۔۔!!
آسیہ بیگم نے بےدھیانی میں سڑک پار کرتے ہوٸے کہا تھا جب سامنے سے آتی گاڑی ان سے ٹکراگٸی تھی۔

”امی۔۔۔!!
ماہم جو تھوڑا پیچھے تھی اسکی خوفناک آواز گونج کر رہ گٸی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گیٹ سے باہر نکلی تھی بےدھیانی میں راستے میں پڑے ہوٸے پتھر سے اسکا پاٶں ٹکرا گیا تھا۔

”حسبی اللہ۔۔
حانم بڑبڑاٸی تھی۔ جانے کیوں اسکا دل گھبرا گیا ایک دم۔
اسے سخت غصہ آیا ہوا تھا۔ مہرو نے اسے جلدی آنے کا کہا تھا اور وہ خود وہ آٸی بھی نہيں تھی۔
اندھیرا ہونا شروع ہوگیا تھا۔ ٹھنڈ کی شدت میں بھی اضافہ ہوا تھا وہ جلد از جلد اب گھر پہنچنا چاہتی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے کمرے میں لیٹا تھا۔ باہر سے اسے شور کی آوازیں آرہی تھی۔
مکی کھانا بنا رہا تھا اور آرجے اچھا سے جانتا تھا کہ آج کچن کی خیر نہيں تھی۔
وہ ابھی بیڈ سے نیچے اترا ہی تھا جب چنگھاڑتے موباٸل نے اسکی توجہ اپنی جانب مبزول کرواٸی۔
موبائل کی سکرین پر نمبر دیکھ کر اسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ ابھری۔

”کیسے ہو شامو کاکا۔۔؟؟“
فون کو کان سے لگاتے ہوٸے اس نے پوچھا۔

”سلام کرتے ہیں پہلے آرجے۔۔!!“
حشام نے جواب دیا۔

”اففف پھر سے لیکچر۔۔ مولوی صاحب آپ مجھے اس لیۓ فون کرتے ہیں کہ اخلاقیات کی باتیں بنا سکیں۔۔؟؟“
آرجے نے مصنوعی خفگی سے کہا۔

”نہيں۔۔ تم خود ہی سیکھ جاٶ گے۔۔!!“
حشام کو یقین تھا۔
اور اسکی بات پر آرجے کا فلک شگاف قہقہہ ابھرا تھا۔
وہ دروازہ کھول کر کمرے سے باہر نکلا تھا اب اسکا رخ کچن کی طرف تھا۔
جہاں مکی نے ہر چیز کو تہس نہس کیا ہوا۔ پورے کچن میں اس نے سبزیوں کو پھیلایا ہوا تھا۔
آرجے کے کچن کو دیکھ کر ہوش اڑ گٸے تھے۔ وہ کافی صفائی پسند تھا اور یہ شاید اس میں واحد ایک اچھی عادت تھی۔

”مکی۔۔ یہ کیا کیا تم نے؟؟“
وہ تقریباً چلایا تھا۔

“فراٸیڈ راٸس بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔!!“
اپرن پہنے مکی نے پلٹ کر کہا تھا جسکی آنکهوں سے آنسو نکل رہے تھے۔

”لیکن تم رو کیوں رہے ہو؟؟“
آرجے حیران ہوا۔

”رو نہيں رہا یار پیاز کاٹ رہا ہوں۔۔!!“
مکی نے سوں سوں کرتے ہوٸے جواب دیا تھا جس پر ایک بار پھر آرجے کا قہقہہ ابھرا تھا۔

”ہنسو مت آرجے تمہيں اسکی ہیلپ کرنی چاہیے۔!!
حشام جو انکی باتیں سن رہا تھا اسکے ہنسنے پر کہا تھا۔

”اس نے ملازم کو چھٹی دی تھی۔ اب بھگتے۔۔!!
وہ بےرحم ہوا۔

”نہيں حشام بھاٸی۔۔ ملازم کی واٸف کی طبیعت خراب تھی وہ چھٹی مانگ رہا تھا میں نے دے دی۔۔ اب یہ کہہ رہا کہ کھانا تم بناٶ۔۔!!
مکی نے روتے ہوٸے اسکی شکایت لگاٸی تھی۔

”یار تم لوگ آرڈر کرلو۔۔ کیوں اپنے آپ کو عذاب میں ڈال رہے ہو۔۔

”نہيں کھانا تو یہی بناٸے گا۔۔۔۔“
اس نے حشام کی بات کاٹی۔

”لگے رہو منا بھاٸی۔۔!!“
وہ ایک آنکھ دباتا شرارت سے کہتا کچن سے باہر نکل گیا تھا۔ جبکہ مکی نے موبائل میں ریسیپی پر نظر دوڑاٸی اور پھر جلدی جلدی ہاتھ چلانے لگ گیا۔

”سنو بی جان چاہتی ہیں کہ میں شادی کرلوں۔۔!!
حشام اسے اب اپنی مشکل بتانے والا تھا۔

”یعنی کہ خود کشی کرلو۔۔!!
آرجے نے مذاق اڑایا۔

”شادی خود کشی نہيں ہوتی آرجے۔۔!!“
حشام کو اسکی بات بری لگی تھی۔

”اچھا۔۔ تو کرلو نا پھر۔۔!!

”مجھے ابھی بہت کچھ کرنا ہے میں چاہتا ہوں کہ تم شادی کرکے بی جان کی یہ خواہش پوری کردو۔۔!!
حشام نے صاف بات کی۔

”واٹ۔۔۔
آرجے کو جھٹکا لگا۔۔ وہ حشام کی بات پر ہنسا اور پھر ہنستا ہی چلا گیا تھا۔

”تمہیں لگتا ہے کہ شامو کاکا میں اتنا بےوقوف ہوں۔۔ جو دوسروں کی خواہشات پوری کرنے کیلیے شادی کرلوں گا۔۔؟؟ ویری انٹرسٹنگ!!“
وہ طنزیہ بول رہا تھا۔

”تم تو کچھ بھی کر سکتے ہو نا۔۔؟؟“
حشام نے اسے اسکی بات یاد دلاٸی۔

”لیکن وہ کام جو میں کرنا چاہوں۔۔ اور ویسے بھی آج کل کے دور میں شادی کی کیا ضرورت ہے۔۔ تین چار نام کی بیویاں تو میں ویسے بھی ایک وقت میں رکھ سکتا ہوں۔۔۔!!
وہ محفوظ ہوتے ہوٸے بولا تھا۔

”اب تم شادی کا بھی مذاق اڑاٶ گے؟؟“
حشام ناراض ہوا۔

”لیکن کوٸی شادی کے لاٸق ہو تب نا۔۔ اور ایک ہی عورت کے ساتھ زندگی گزارنے کا سوچنے سے ہی میرا دم گھٹتا ہے۔۔
شادی میں ضرور کرونگا۔۔ اپنی پسند سے اور تین چار لڑکيوں سے کرونگا گا نا۔۔!!
وہ اسے اپنے ارادوں سے آگاہ کر رہا تھا۔

”ویسے آرجے تم نا کوٸی بہت ہی۔۔

”گھٹیا اور ذلیل انسان ہوں۔۔!!
آرجے نے اسکی بات اچکی تھی اور پھر خود ہی اپنی بات پر قہقہہ لگایا تھا۔

”تم سے بات کرنا فضول ہے۔۔!!
حشام کو افسوس ہوا تھا۔
”یعنی تم تین چار لڑکيوں کی زندگی برباد کروگے!!

”کون روحان جبیل۔۔۔؟؟ دنیا کی بدقسمت ترین لڑکی ہوگی وہ جسکی زندگی میں روحان جبیل داخل ہوگا۔۔!!“
ام حانم کے الفاظ اسکی سماعت میں گونج گٸے تھے۔
اسکی ہونٹوں پر پھیلی ہنسی ایک دم سمٹی تھی۔

”لیکن تم سے بات کرکے میں اچھا خاصا فریش ہوجاتا ہوں کیونکہ تم باتيں ہی ایسی کرتے ہو۔۔!!
روحان جبیل واقعی حشام جبیل کی باتوں پر سب سے زیادہ ہنستا تھا۔

”اور جہاں تک بات ہے لڑکيوں کی زندگی خراب کرنے کی لڑکياں تو اب بھی خود میرے پاس برباد ہونے آتی ہیں۔۔ البتہ شادی کا ابھی میں نے سوچا نہيں۔۔!!
وہ ایک دم سنجیدہ ہوگیا تھا۔

”اور سناٶ حویلی کب جارہے ہو۔۔ بی جان یاد کر رہی تھیں تمہيں۔۔!!
جبکہ حشام نے بات پلٹ دی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی چلاتے ہوٸے اسکے موبائل پر رنگ ہوٸی تھی جس سے اسکا دھیان بھٹکا اور گاڑی سامنے سڑک پار کرتے ہوٸے کسی سے ٹکرا گٸی۔

”آپ ٹھیک ہیں۔۔!!“
وہ گھبرا کر گاڑی سے باہر نکلا تھا۔ اور پھر سامنے موجود شخصیت کو دیکھ کر وہ دنگ رہ گیا تھا۔

آسی۔۔۔!!
وہ بڑبڑایا تھا۔
ماہم ہاتھ میں پکڑے شاپر ایک طرف رکھتے ہوٸے آسیہ بیگم کی طرف بڑھی تھی۔
گاڑی نے بس ہلکا سا چھوا تھا۔
سیٹھ حمدان نے بروقت بریک لگا لی تھی۔

”آپ ٹھیک ہیں امی۔۔“
ماہم ایک دم ڈر گٸی تھی۔
لوگوں کا ہجوم انکے ارد گرد جمع ہوگیا تھا۔

”ہاں میں ٹھیک ہوں۔۔!!
آسیہ بیگم نے اٹھنے کی کوشش کی تھی لیکن ٹانگ میں ایک ٹھیس سی اٹھی تھی۔

”آپکو نظر نہيں آتا۔۔۔ جب ڈراٸیونگ نہيں آتی تو روڈ پر کیوں نکلتے ہیں آپ لوگ؟؟
ماہم اس شخص کو دیکھتے ہوٸے ایک دم چیخی تھی۔

”آسی تم ٹھیک ہو۔۔؟؟“
سیٹھ حمدان جیسے ٹرانس سے باہر آیا اور آسیہ بیگم کی طرف بڑھا تھا۔
وہ اسے پہچان گیا تھا۔ اتنے سالوں بعد بھی وہ اسے ایک پل میں پہچان گیا تھا۔
اور یہی حال آسیہ بیگم کا ہوا تھا جب انہوں نے اپنے سب سے اچھے کزن کو اتنے سالوں بعد دیکھا تھا۔

” زیادہ لگی تو نہيں۔۔!!“
وہ پاس بیٹھتے ہوٸے پوچھ رہا تھا۔
جبکہ ماہم ہونک بنی دونوں کودیکھ رہی تھی۔

”نہيں میں ٹھیک ہوں۔۔!!“
آسیہ بیگم نے ماہم کا سہارا لے کر اٹھتے ہوٸے جواب دیا۔
سیٹھ حمدان نے آسیہ بیگم کے چہرے پر تکلیف کے آثار دیکھ لیے تھے۔
آسیہ بیگم کو سلامت دیکھ کر لوگوں کو ہجوم چھٹ گیا تھا۔

”آجاٶ ہاسپٹل چلتے ہیں۔۔ شاید تمہیں زیادہ لگی ہے۔۔!!

”نہيں میں ٹھیک ہوں۔۔!!

”میں نے کہا نا چلو۔۔!!“
حمدان صاحب نے غصے سے انکی بات کاٹی تھی۔
اور آسیہ بیگم کو لگا تھا وقت کہیں نہيں گیا۔ اسکے سامنے کھڑا ہوا شخص آج بھی ویسے کا ویسا تھا۔
جیسے کہیں کوٸی تبدیلی نہيں آٸی تھی۔
اور اسے سیٹھ حمدان کو دیکھتے ہی اسے اپنی ڈائری میں لکھی غزل یاد آگئی۔۔۔

تمہیں آسماں بنایا ہے اپنا
تو آسماں سے گرا بھی سکتی ہوں

ستاؤ گے مجھ کو یونہی
تو چھوڑ کر جا بھی سکتی ہوں

بے رحموں کی کمی کب ہے ؟!
میں اپنے زخموں پر
مسکرا بھی سکتی ہوں

روتی ہی رہوں گی کیا ہمیشہ؟؟؟
ظالم ہوں !
تمہیں رلا بھی سکتی ہوں

تمہارے کہنے سے
بیوفا ہو جاؤں گی کیا؟!

یہ الزام میں تُم پر بھی
تو لگا سکتی ہوں۔۔۔!

جاگے تھے جو جذبات محبت کہ
اُنہیں میں گہری نیند
سلا بھی سکتی ہوں۔۔۔

سہم لیا بہت تیرے
چھوڑ جانے کے ڈر سے
اب اِس خوف سے
تُجھے ڈرا بھی سکتی ہوں۔۔۔

چیخو مت۔۔۔چیخو مت میری جان!
تمہاری آنکھوں پر ترس آتا ہے
ورنہ
یہ تماشہ میں بھی لگا سکتی ہوں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جیسے ہی وہ گلی میں داخل ہوٸی تھی ایک بڑی سی سیاہ رنگ کی گاڑی گلی سے مین روڈ پر داخل ہوٸی۔
حانم چونکی تھی۔ انکے محلے میں اس طرح کی گاڑی کسی کی نہيں تھی۔ وہ آس پاس کے گھروں کو جانتی تھی۔
”شاید کسی نے نٸی لی ہو۔!!
وہ بڑبڑاتی ہوٸی گھر کی جانب بڑھی۔
خلاف معمول پہلی دستک پر ہی دروازہ کھل گیا تھا جو ماہم نے کھولا تھا۔

”امی کدھر ہیں۔۔؟؟“
حانم کو حیرت ہوٸی۔

”اندر ہیں۔۔!!“
ماہم تھوڑی سنجیدہ تھی۔ حانم نے قدم تیزی سے کمرے کی طرف بڑھاٸے۔

”اماں کیا ہوا آپکو۔۔طبیعت ٹھیک ہے نا؟؟“
آسیہ بیگم کو بستر میں لیٹے دیکھ کر حانم ایک دم پریشان ہوگٸی تھی۔

”ہاں میں ٹھیک ہوں۔۔!!
آسیہ بیگم نے مسکرا کر جواب دیا۔

”بازار سے واپسی پر چھوٹا سا ایکسیڈینٹ ہوگیا تھا امی کا۔۔!!
ماہم نے جیسے دھماکہ کیا تھا۔ حانم تو جیسے سن ہوگٸی تھی۔

”ارے نہيں میں بالکل ٹھیک ہوں۔ کچھ نہيں ہوا مجھے۔۔تم اپنی آنکهوں سے دیکھ لو۔۔!!
آسیہ بیگم نے حانم کے پیلے پڑتے چہرے کو دیکھتے ہوٸے کہا۔

”اور کمال یہ کہ وہ گاڑی والا امی کا کزن نکلا۔۔ جو ابھی ابھی گیا ہے۔!!
ماہم کی بات پر حانم کو وہ گاڑی یاد آگٸی۔

”انہیں نظر نہيں آیا کیا۔۔ ایسے کیسے انہوں نے۔۔
حانم کے آنسو جیسے گلے میں اٹک گٸے تھے۔

”غلطی اسکی کی نہيں ہے میرا ہی دھیان نہيں تھا۔ اور خوشی ہے مجھے اس بات کی اگر میں اسکی گاڑی سے نا ٹکراتی تو ہم دوبارہ کبھی نا ملتے۔۔ چلو اس بہانے ملے تو سہی۔۔!!
آسیہ بیگم کے لہجے میں واقعی خوشی تھی۔
جبکہ حانم پریشان ہوگٸی تھی۔

”اگر امی کو کچھ ہوجاتا۔۔
وہ اس خیال سے ہی گھبرا گٸی تھی۔
انکا واحد سہارا اس دنیا میں انکی ماں ہی تھی۔
وہ شکر ادا کر رہی تھی اللہ کا جس نے ان پر اپنا رحم کردیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”آسی نے اتنے سال بیوگی اور غربت میں اس چھوٹے سے گھر میں گزار دیے۔۔ میں کیسا انسان ہوں کبھی پلٹ کر خبر تک نا لی۔۔!!
سیٹھ حمدان گاڑی ڈرائيو کرتے ہوٸے سوچ رہے تھے۔

”اتنے پیارے بچے ہیں اگر آج میری وجہ سے آسی کو کچھ ہوجاتا تو میں کبھی خود کو معاف نہيں کرپاتا۔۔!!
آسیہ بیگم کی اجڑی حالت دیکھ کر کہیں دور۔۔ بہت پرانے سوٸے جذبات ایک دم جاگے تھے۔
وہ جتنی اہم اسکے لیے کل تھی آج بھی اتنی ہی تھی۔ وہ کبھی اسے نہيں بھولا تھا۔ آج بھی نہيں!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حانم کا آج کالج میں آخری دن تھا۔
اسکے دو ماہ پورے ہوگٸے تھے۔ کالج کا مستقل ٹیچر واپس آگیا تھا۔
ویسے بھی اسکے اپنے پیپر ہونے والے تھے وہ مزید جاب نہيں کر سکتی تھی۔

پہلے لیکچر میں آرجے نہيں تھا حانم نے شکر ادا کیا تھا۔
بچوں نے آج کچھ بھی نہيں پڑھا تھا۔ بلکہ حانم نے ان سے اپنی کچھ باتيں شیٸر کی تھیں اور انہيں بہت سی اچھی باتيں بتائی تھیں۔

اس وقت وہ سٹاف روم میں اکیلی بیٹھی تھی جب سٹوڈنٹس کا گروپ اسکے پاس آیا تھا۔

یہ وہ بچے تھے جنہيں وہ بہت پسند آٸی تھی۔

”میم ہمیں آپکا آٹو گراف چاہیۓ۔۔۔!!
حانم حیران ہوٸی۔۔ اس نے کبھی اپنی سٹوڈنٹ لاٸف میں یہ کام نہيں کیا تھا۔

”لیکن کیوں۔۔؟؟
اس نے پوچھا۔

”ہمیں یاد رہے گا کہ مس ام حانم نے ہمیں پڑھایا تھا کبھی۔۔!!
انکی عجیب و غریب خواہش پر حانم نے انکی ڈائری پر کچھ اقوال لکھ کر اپنا نام لکھ دیا تھا۔
سب چلے گٸے تھے حفصہ رہ گٸی تھی۔

”آپکو کیا چاہیۓ۔۔؟؟“
حانم نے سوالیہ نظروں سے پوچھا۔

”آنکهيں کھول کر تو سبھی لکھ لیتے ہیں سبھی ساٸن کر لیتے ہیں میں چاہتی ہوں کہ آپ آنکهيں بند کرکے میری ڈائری پر ساٸن کریں۔۔!!

”یہ کیا بات ہوٸی۔۔ مجھے نہيں آتے ساٸن کرنے آنکهيں بند کرکے۔۔!!
حانم نے جواب دیا۔

”پلیز میم۔۔۔ پلیز۔۔ آپ میرے لیے اتنا نہيں کر سکتی۔۔ اتنی سی گزارش قبول کرلیں۔
حفصہ نے منت کی۔

”ٹھیک ہے۔۔ مجھے قبول ہے لاٶ کدھر کرنے ہیں ساٸن۔۔؟؟
حانم نے کچھ نا سمجھتے ہوٸے زبردستی مسکراہٹ چہرے پر لا کر ہامی بھری تھی۔

جتنے صفحات پر میں کہوں گی آپ نے اتنی بار ساٸن کرنا ہے۔۔!!
حفصہ نے کہتے ہوٸے اپنی ڈائری آگے بڑھاٸی۔

حانم نے آنکهيں بند کر کے پہلے صفحہ پر ساٸن کیا۔
بس۔۔؟؟

”نہيں میم۔۔ اور بھی کرنے ہیں۔۔!!
وہ ناجانے کتنی جگہ پر اس سے ساٸن لے چکی تھی۔

”اب کھولوں آنکهيں۔۔؟؟“
جانے کیوں حانم کو عجیب سا محسوس ہوا تھا۔۔ اسکی چھٹی حس نے کوٸی الارم بجایا تھا۔
حفصہ نے کوٸی جواب نہيں دیا تھا۔

“کھول لیں آنکهيں مس ام حانم۔۔!!
وہ آواز اسے کرنٹ کی طرح لگی تھی۔ حانم نے جھٹ سے آنکهيں کھولی تھیں۔
سامنے روحان جبیل کھڑا تھا۔ زہریلی مسکراہٹ لیے۔۔
حانم کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا تھا۔
اسکے ہاتھ میں کچھ کاغذ تھے۔

”تم یہاں کیا کر رہے ہو۔۔؟؟“
وہ چیخی۔

”ریلیکس ٹیچر جی۔۔ یہ دیکھیں۔۔ بقول آپکے میں نے آپکو دنیا کی بدقسمت ترین لڑکی بنا دیا ہے۔۔!!
آرجے نے وہ کاغذ اسکی جانب بڑھاٸے۔

”کیا ہے یہ؟؟
ناگواری سے پوچھا گیا۔

”خود دیکھ لو۔۔۔!!
وہ گہری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
کاغذ پر نظر پڑھتے ہی حانم کا دماغ الٹا تھا۔ وہ نکاح نامہ تھا۔ جس پر اسکے ساٸن موجود تھے۔ حفصہ اسے دھوکہ دے گٸی تھی۔
حانم کو اپنا سر چکراتا محسوس ہوا تھا۔

”کیا بکواس ہے یہ۔۔؟؟“
مشکل سے ہمت جمع کرکے حانم نے وہ کاغذ اسکے منہ کی طرف اچھالا تھا بلکہ منہ پر مارا تھا۔

”افف آہستہ بولو۔۔ مسز۔۔ تم نے ہی کہا تھا نا دنیا کی بدقسمت ترین لڑکی ہوگی جسکی قمست میں روحان جبیل داخل ہوگا۔۔ لو اب میں نے تمہيں ہی بدقسمت بنا دیا۔۔
وہ آنکھ دباتے ہوٸے بولا تھا اور پھر ٹانگ پر ٹانگ جما کر آرام سے صوفے پر بیٹھ گیا تھا۔
حانم کو تو اسکی بات سن کر ٹھنڈے پسینے آگٸے تھے۔
اس نے چاروں طرف دیکھا تھا اور شکر کیا تھا کہ وہاں کوٸی موجود نہيں تھا۔

”اپنی بکواس بند کرو۔۔ میں ابھی پرنسپل کو بتاتی ہوں تم نے انتہائی شرمناک حرکت کی ہے۔۔!!
حانم کا دل کر رہا تھا کہ وہ اسے مار ڈالے۔۔ اسکا دل ڈوب رہا تھا۔

”اور تمہیں کیا لگتا ہے وہ تمہارا یقین کرینگی؟؟
وہ ہنسا تھا۔
جبکہ حانم کو سمجھ نہيں آرہا تھا کہ کیا کرے۔

”تمہاری اس بکواس سے مجھے کوٸی لینا دینا نہيں۔۔!!
حانم نے قدم باہر کی جانب بڑھاٸے۔

”نکاح ہوگیا ہے ہمارا۔۔ مس ام حانم۔۔!!
وہ سکون سے کہتا اسے آگ لگاگیا تھا۔

”نکاح کوٸی بچوں کا کھیل ہے جو ساٸن کرنے سے ہوجاۓ گا۔۔!!
وہ مذاق اڑانے والے لہجے میں بولی تھی۔

”لڑکی کی رضا مندی چاہیۓ ہوتی ہے نا۔۔ وہ مجھے مل گٸی۔۔
آرجے نے نکاح نامے کی طرف اشارہ جسے وہ نیچے سے اٹھا چکا تھا۔

”اور تم نے بھی قبول کرلیا ہے۔۔!!

”ٹھیک ہے مجھے قبول ہے لاٶ کدھر کرنے ہیں ساٸن۔۔“
وہ اسکی آواز ریکارڈ کر چکا تھا۔
حانم تو دنگ رہ گٸی تھی۔

”باقی کی کاروائی اب دیکھ لو۔۔“
اس نے موبائل پرکسی کا نمبر ملایا تھا۔

”ہاں مکی۔۔ لڑکی نے ساٸن کردیۓ ہیں مولوی کو کہو کہ نکاح پڑھاٸے۔۔!!
اسکے الفاظ نے حانم کے پیروں نیچے سے زمین کھینچ لی تھی۔

دوسری طرف سے مولوی کی آواز ابھری تھی۔
وہ نکاح پڑھا رہا تھا۔
”کیا آپکو قبول ہے؟؟“
ام حانم نے باقاعدہ اپنا اور روحان جبیل کا نام سنا تھا۔
اور روحان نے کس قدر چالاکی سے مولوی کے پوچھنے پر حانم کی ریکارڈ کی گٸی آواز سے صرف قبول ہے کو مولوی تک پنچایا۔

اسکے اس طرح کرنے پر حانم پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
تین بار مولوی نے پوچھا تھا اور تین بار قبول ہے وہ سن چکے تھے۔

”جی ساٸن کردیۓ ہیں حانم نے اب میری باری۔۔!!
وہ پرسکون سا کہہ رہا تھا۔
ساٸن وہ پہلے کر چکی تھی۔
اس سے پہلے مولوی مزید کچھ بولتا۔۔ حانم کو جیسے ایک جھٹکا لگا تھا۔
وہ بنا کچھ بولے سٹاف روم سے باہر کی جانب بھاگی تھی اور پھر وہ بھاگتی چلی تھی۔

اور پیچھے آرجے اب قبول ہے بول رہا تھا۔
نکاح نامے پر ساٸن کرنے کے بعد اس نے موباٸل پر چلتی ریکارڈنگ جس سے مولوی کی آواز ابھر رہی تھی اسکو بند کیا۔

”سٹوپڈ۔۔ بھاگ گٸی ڈر کر۔۔
منتیں بھی نہيں کی میری کہ یہ سب نا کرو۔۔!!
اپنی ہی بات پر اس نے قہقہہ لگایا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: