Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 13

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 13

–**–**–

”جی ساٸن کردیے ہیں حانم نے اب میری باری۔۔!!
وہ پرسکون سا کہہ رہا تھا۔
ساٸن وہ پہلے کر چکی تھی۔
اس سے پہلے مولوی مزید کچھ بولتا۔۔ حانم کو جیسے ایک جھٹکا لگا تھا۔
وہ بنا کچھ بولے سٹاف روم سے باہر کی جانب بھاگی تھی اور پھر وہ بھاگتی چلی تھی۔

اور پیچھے آرجے اب قبول ہے بول رہا تھا۔
نکاح نامے پر ساٸن کرنے کے بعد اس نے موباٸل پر چلتی ریکارڈنگ جس سے مولوی کی آواز ابھر رہی تھی اسکو بند کیا۔

”سٹوپڈ۔۔ بھاگ گٸی ڈر کر۔۔
منتیں بھی نہيں کی میری کہ یہ سب نا کرو۔۔!!
اپنی ہی بات پر اس نے قہقہہ لگایا تھا۔

وہ ایک جھٹکے سے صوفے سے اٹھا تھا۔نکاح نامے کو پھاڑنے لگا تھا پھر اچانک کچھ سوچ کر رک گیا۔

”کیا پتا کبھی زندگی میں اسکی ضرورت پڑ جاٸے۔۔!!
اس نے خود سے کہا تھا۔ اسے اس وقت نا تو اس نکاح میں کوٸی دلچسپی تھی اور نا ہی ام حانم میں۔۔
اس کیلیے یہ ایک ایڈوینچر جیسا تھا۔۔ حانم کی حالت نے اسے کافی لطف دیا تھا۔

”لیکن حیرت ہے اس گھمنڈی لڑکی نے نا معافی مانگی اور نا منتیں کی میری۔۔؟؟“
وہ بڑبڑایا تھا۔
اور پھر اس کاغذ کے ٹکرے کو جیب میں رکھنے کے بعد وہ سیٹی بجاتا سٹاف روم سے باہر نکل آیا تھا۔

وہ جیت گیا تھا۔۔۔ وہ #فتح کا بادشاہ تھا۔ وہ وقت اور قسمت دونوں پر حکومت کرتا تھا۔ وہ جیسا چاہتا تھا ویسا ہو جاتا تھا۔۔ وہ فاتح بننا چاہتا تھا۔۔

اس کالج میں اب اسکی دلچسپی کے لاٸق کوٸی چیز نہيں بچی تھی۔
وہ سیٹی پر دھن بجاتا کالج سے باہر نکل گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حانم کو اپنا دماغ ماٶف ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔ اسے روحان جبیل سے اس درجہ پاگل پن کی امید نہيں تھی۔
اگر اسے پتا ہوتا کہ وہ ایسا کرے گا تو وہ اسکی لاٸف پارٹنر کے بارے میں کبھی ایسی بات نہيں کرتی۔
لیکن اب کیا ہوگا؟؟
اسکا دل بری طرح سے ڈر رہا تھا۔
”اللہ اب کیا ہوگا؟؟“
وہ بہت پریشان تھی۔ دل بیٹھا جا رہا تھا۔ اگر اس نے پرنسپل کو بتادیا اور کوٸی اور کہانی سناٸی تو۔۔؟؟
سب مجھے برا سمجھیں گے۔۔“
وسوسے اس کھاٸے جا رہے تھے۔

اس نے پڑھا تھا کہ سلفاٸیٹ اپنے عمل اور اپنے ردعمل دونوں سے لوگوں کو چونکا دیتے ہیں لیکن اس آرجے نے تو اسکا دماغ ہی گھما دیا تھا۔
اس نے طے کرلیا تھا کہ اب وہ اس کالج میں کبھی نہيں جاٸے گی۔۔
اپنی اپنی طرف سے وہ دونوں اس کالج کو ہمیشہ کیلیۓ چھوڑ گٸے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آرجے سنادو کچھ۔۔“
محسن نے اسکی منت کی تھی۔ کلب کے تیز میوزک اور تھرتھراتے جسموں کی بھیڑ میں وہ لوگ پرسکون سے بیٹھے تھے۔

سیاہ رنگ کی جیکٹ کے پیچھے جس پر بڑا سا RJ لکھا تھا اور گلے میں چین پہنے جس پر آرجے لکھا ہوا لٹک رہا تھا۔۔ وہ اس کلب کی شان لگ رہا تھا۔
اس نے مکی کو لڑکيوں کی جھرمٹ میں گھرا دیکھا تھا۔۔۔ اسکے دیکھنے پر مکی نے ایک آنکھ دبا کر اسے آنے کا اشارہ کیا تھا۔ لیکن جانے کیوں آج نا تو اسے نشہ چڑھ رہا تھا اور نا ہی یہاں کوٸی لڑکی اسے متاثر کر رہی تھی۔
وہ پہلے بھی ایسا ہی تھا اسے کچھ متاثر نہيں کر پاتا تھا لیکن آج تو حد ہی ہوگٸی تھی۔

”یار میرا موڈ نہيں ہے۔۔۔!!“
گلاس کے کنارے پر انگلی پھیرتے ہوٸے آرجے نے محسن کو انکار کیا تھا۔
اسے اتنا سنجیدہ دیکھ کر مکی اسکی طرف آیا تھا۔

”کیسا رہا تمہارا نکاح۔۔“
وہ خباثت سے دانت نکالے پوچھ رہا تھا۔

”نکاح۔۔ واٹ ربش۔۔!!
کونسا نکاح؟؟ وہ جسٹ پرانک تھا اس ام حانم کو ڈرانے کیلیۓ۔

”اور وہ نکاح نامہ۔۔؟؟
مکی نے دوبارہ پوچھا۔
اسکی بات پر آرجے چونکا تھا۔ وہ تو اس نے پھینکا ہی نہيں تھا۔
کچھ یاد آنے پر اس نے پینٹ کی جیب سے وہ کاغذ نکالا تھا جس پر ان دونوں کے ساٸن تھے۔

”یہ رہا۔۔
مکی نے اسکے ہاتھ سے وہ کاغذ جھپٹا تھا۔

”دلہا دلہن دونوں کے ساٸن ہیں بس گواہوں کےخانے خالی ہیں۔۔ ادھر لاٶ ساٸن کرتا ہوں۔۔!!
مذاق سمجھتے ہوٸے مکی نے اپنے ساٸن کردیے تھے۔ اور پھر کاغذ کو محسن کی طرف بڑھایا۔
محسن نے بھی ہنستے ہوٸے ساٸن کیے تھے۔
اسکے بعد وہ اس کاغذ کے ٹکڑے کو لے کر گروپ کے دوسروں لڑکوں کی طرف بڑھا تھا۔
پانچ منٹ وہ نکاح نامے کو لہراتا واپس آیا تھا۔

”یہ لو آرجے کام مکمل ہوگیا ہے۔۔!!“
شیطانی مسکراہٹ لیے وہ آرجے کی طرف دیکھ رہا تھا۔

”انٹرسٹنگ۔۔“
آرجے کیلیےیہ سب ایک نیا کھیل تھا اسکی آنکھیں چمکی تھیں۔
اس نے پھر وہ کاغذ کا ٹکرا جسکی اسکے نزدیک کوٸی اہمیت نا تھی بنا سوچے سمجھے جیکٹ کی جیب میں رکھ لیا تھا۔
وہ نہيں جانتا تھا کہ وہ کاغذ کا ٹکرا اب قانونی اور شرعی طور پر ایک مکمل نکاح نامے کی حثیت اختيار کرگیا تھا۔

”پلیز یار کچھ سنادو۔۔!!“
اس بار مکی نے گٹار اسے تھماتے ہوٸے کہا تھا اور کچھ سوچ کر آرجے نے اسے پکڑ لیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حانم کالج سے سیدھا گھر آگٸی تھی وہ اپنی اکیڈمی نہيں گٸی تھی۔
اسکا سر درد سےپھٹا جارہا تھا۔

”کیا ہوا ہانی تم ٹھیک ہو؟؟“
آسیہ بیگم نے پریشانی سے پوچھا۔

”جی اماں میں ٹھیک ہوں۔۔!!“
وہ بس اتنا ہی کہہ پاٸی تھی۔
اسکے بعد وہ بستر میں گھس گٸی تھی۔

اگر مہرو کو پتا چل گیا۔۔ اور اسمارہ آپی۔۔ وہ سب لوگ کیا سوچیں گے میں بارے میں۔۔

نہيں ایسے نکاح تو نہيں ہوتا۔۔!!
اب وہ خود کو تسلیاں دے رہی تھی۔

لیکن اس نکاح نامے پر ساٸن تو میرے ہی ہیں۔۔۔!!
اسکا دل بیٹھا جا رہا تھا۔

اسی ڈر اور خوف میں اسے رات تک بخار ہوگیا تھا۔
وہ کسی سے کچھ کہہ بھی نہيں سکتی تھی۔

”یااللہ مجھ پر رحم کر!!“
اسے اپنے پچھلے سارے گناہ یاد آرہے تھے اور نم آنکهوں سے وہ صدق دل سے دعائيں مانگ رہی تھی کہ وہ روحان جبیل اس بات کا ذکر کسی سے نا کرے۔۔

اور حفصہ۔۔ اسے تو میں نے بہت اچھا سمجھا تھا۔
اس نے دھوکہ کیا میرے ساتھ۔۔!!
حانم جو سخت افسوس ہو رہا تھا۔ اور وہ کچھ کر بھی نہيں سکتی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”تمہيں پتا ہے ماہی بیٹا آج میں کس سے ملا۔۔؟؟“
سیٹھ حمدان بہت ہی پرجوش سے اپنی بیٹی کو بتا رہے تھے۔

”کس سے بابا۔۔؟؟“
فون کی دوسری جانب سے آواز ابھری تھی۔

”آسی سے۔۔!!“
سیٹھ حمدان کے لب کانپے تھے۔

”کیا سچ میں بابا۔۔۔؟؟
وہ حیران ہوٸی تھی۔

”ہاں۔۔ اور اسکی حالت دیکھ کر مجھے بہت افسوس ہوا خود پر۔۔۔ میں بہت شرمندہ ہوں ایک ہی شہر میں رہتے ہوٸے میں نے کبھی جا کر اسکی خبر نہيں لی۔۔!!
سیٹھ حمدان سچ میں بہت افسوس تھا۔

”کیسی ہیں بابا وہ۔۔؟؟“
ماہی نے پوچھا تھا۔

”میرے لیے تو آج بھی ویسی ہی ہے۔۔ باٸیس سال پہلے والی آسی۔۔ مجھ سے فرمائشیں کر کر کے چیزیں منگوانے والی۔۔
لیکن وقت اور حالات نے اسے کافی بدل دیا ہے۔۔ اب کچھ نہيں مانگتی وہ۔۔!!

”تو بابا آپ اب انکی مدد کریں نا۔۔ قسمت نے آپکو دوسرا موقع دیا ہے اسے مت گنواٸیں۔۔!!
ماہی کی بات نے سیٹھ حمدان کو چونکا دیا تھا۔
جبکہ ماہی جانتی تھی کہ وہ ایسا کیوں کہہ رہی تھی۔
اسکے بابا نے کتنے سال اکیلے گزار دیے تھے صرف ماہی کی وجہ سے۔۔
وہ پہلی محبت کو آج بھی اپنے دل میں بساٸے بیٹھے تھے۔یہ قدرتی امر ہے انسان اپنی پہلی محبت کو چاہ کر بھی بھول نہیں سکتا وہ گلے کا طاق بن کر ہمیشہ ساتھ رہتی ہے۔ہر ہر لمحے اپنے ہونے کا احساس دلاتی ہے یہ اک خالص جذبہ ہے۔جسے چاہ کےکر بھی ہم بھلا نہیں سکتے!!!۔
پہلی محبت پرانے مقدمے کی طرح ہوتی ہے۔۔۔
نا ختم ہوتی ہے نا انسان باعزت بری ہوتا ہے۔۔۔
اور محبت نا ملنے کا دکھ ماہی سے بہتر کون جانتا تھا۔!!

محبت جن سے ہوتی ہے
اُنہیں کھونے کا ڈر ہر وقت
دامن گیر رہتا ہے
یقین کی آخری منزل پر آ کر بھی
کوئی جذبہ کوئی شک
کوئی اندیشہ
بہت بے چین رہتا ہے
محبت جن سے ہوتی ہے
اُنہیں کھونے کا ڈر ہر وقت
دامن گیر رہتا ہے
کہیں یہ وصل کے لمحے
بدل جائیں نہ فرقت میں
کہیں یہ قرب کی گھڑیاں
جدائی میں نہ ڈھل جائیں
کہیں ایسا نہ کہ کوئی اُسکو
بدگماں کردے
کہیں ایسا نہ ہو وہ مہرباں
آنکھیں بدل جائے
کہیں ایسا نہ ہو یہ گرم جوشی
سرد پڑ جائے
تپاکِ جاں سے ملنے کی روِش
یخ بستہ ہو جائے
ادائے دلبرانہ بے رخی کا روپ دھارے
اور دل کا درد بن جائے
محبت جن سے ہوتی ہے
انہیں کھونے کا ڈر ہر وقت
دامن گیر رہتا ہے
کبھی محفل میں سب کے سامنے
وہ احتیاطاً بھی
نظریں چرا جائے
تو دل پر چوٹ لگتی ہے
آنسوؤں کا مئے برستا ہے
کبھی مصروفیت میں فون کی گھنٹی کا
وہ نوٹس نہ لے
اور
رابطے کا سلسلہ موقوف ہوجائے
دھڑک اُٹھتا ہے دل
کیا جانئے کیا ہوگیا اُس کو
توجہ میں کمی کیوں آگئی
کیوں اُس کی جانب
ایک سنّاٹا سا چھایا ہے
جو اپنا اس قدر اپنا تھا
آخر کیوں پرایا ہے
محبت جن سے ہوتی ہے
انہیں کھونے کا ڈر ہر وقت
دامن گیر رہتا ہے
محبت جن سے ہوتی ہے…..!!!!!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”سنو آرجے تم نے دوبارہ مس ام حانم کو تنگ تو نہيں کیا؟؟“
حشام لیپ ٹاپ کی سکرین پر نظر آنے والے آرجے سے پوچھ رہا تھا۔
حشام کی بات سن کر وہ ایک دم چونکا تھا۔

”کیا بات ہے شامو کاکا۔۔ ویسے تو تمہيں لڑکیوں کے نام یاد نہيں رہتے اور مس ام حانم تمہارے بڑی یاد ہے۔۔!!
آرجے شرارت سے کہہ رہا تھا۔

”کیونکہ میں تمہيں اچھے سے جانتا ہوں۔۔ بتاٶ تنگ تو نہيں کیا نا؟؟“
حشام کو ناجانے کیوں فکر کیوں رہی تھی۔ وہ اتنے دنوں سے پوچھنا چاہ رہا تھا لیکن ہمت نہيں ہوٸی۔ وہ جانتا تھا کہ آرجے کتنا چالاک ہے۔

”نہيں تنگ نہيں کیا بس بھگا دیا۔۔ایک چھوٹا سا ڈرامہ کر کے۔۔!!

”کیسا ڈرامہ۔۔؟؟“
حشام چونکا۔

”پھر کبھی بتاٶں گا شامو کاکا مجھے ابھی کچھ کام ہے۔۔!!
اس سے پہلے حشام کچھ کہتا۔۔ وہ آف لاٸن جاچکا تھا۔
”پتا نہيں اب اس نے کیا کیا ہوگا اس معصوم کےساتھ۔۔!!
حشام کو فکر ہو رہی تھی۔ لیکن وہ کچھ کر نہيں سکتا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آرجے اپنی نٸی ویڈیوز جو اس نے اپلوڈ کی تھیں انہيں چیک کر رہا تھا۔

پچھلے ایک ہفتے سے ایک نٸی follower اسکی ویڈیوز پر ری ایکٹ کر رہی تھی۔ اور تعریف الگ۔۔
وہ کبھی کسی کے کمینٹس نہيں پڑھتا تھا البتہ کبھی کبھی کچھ چیزیں اسے مسکرانے پر مجبور کر دیتی تھیں۔

“Can we be friends??”
اس نٸی لڑکی رحمہ کی طرف سے میسج آیا تھا۔
آرجے نے اسکے ٹائپ کیے گٸے میسج کو سکین کیا تھا۔۔ اور پھر بلااختیار ہی وہ ہنس دیا تھا۔

“Don’t Try To Make Me fool Miss Shalni”
وہ ایک سیکنڈ کے اندر اسے حقیقت سے روشناس کرا گیا تھا۔
”اسٹوپڈ“
وہ بڑبڑایا تھا۔
جبکہ دوسری جانب شالنی اسکا میسج پڑھ کر حیران و پریشان رہ گٸی تھی۔ وہ انسان تھا یا کوٸی جادوگر۔۔؟؟
اسے بےقووف بنانا واقعی ناممکن تھا۔
وہ کچھ دیر شاکڈ رہی تھی اور پھر زیرلب مسکرادی تھی۔ اسکا انتخاب سو فیصد درست تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ یہ آنسو کہیں ہجرت کر لیں
آ کسی روز ترے غم کی ضیافت کر لیں

اس نے جاتے ہوئے پرسے میں یہی بولا تھا
اب یہ بہتر ہے کہ یادوں پہ قناعت کر لیں

گاوں سب ہار کے ہم جو کبھی واپس لوٹیں
کیا ہی اچھا ہو اگر تیری زیارت کر لیں

تو کہیں ہم کو ملے تو لپٹ کر تجھ سے
اتنا پھر روئیں کہ ضائع یہ بصارت کر لیں،

کانپ اٹھتا ہوں میں اب دیکھ کے ہنستے چہرے
لوگ یہ بھی نہ محبت کی حماقت کر لیں

اس محبت پہ بھی تم نے جو ستم ڈھائے ہیں
عین ممکن ہے کہ ہم تم سے عداوت کر لیں

حانم پچھلے دو دنوں سے اکیڈمی نہيں گٸی تھی۔ بخار اسکی جان نہيں چھوڑ رہا تھا۔ اسے ڈر تھا کہ اگر وہ اکیڈمی جاٸے گی تو مہرو اسے سوال کرے گی۔
موبائل پر آنے والی ہر کال پر وہ ڈر جاتی تھی۔ اسے لگتا تھا کہ ابھی پرنسپل کا فون آٸے گا اور پھر اسکی انسلٹ ہوگی۔

ابھی بھی موبائل پر ہونے والی بپ پر وہ گھبرا گٸی تھی۔
لیکن پھر نمبراور میسج دیکھ کر وہ چونکی تھی۔ ایک ناگواری اسکے چہرے پر پھیل گٸی تھی۔

”یہ شخص میرا پیچھا کیوں نہيں چھوڑ دیتا۔۔!!“
وہ روہانسی ہوٸی تھی۔
بہت کچھ تھا جو وہ کہنا چاہتی تھی۔۔ بہت کچھ تھا جو وہ بتانا چاہتی تھی لیکن اسے سمجھ نہيں آتا تھا کہ وہ اپنے احساسات کو کس سے شیٸر کرے؟
مہرو سے اسکی بہت اچھی دوستی تھی اسکے برعکس وہ اس سے اپنے دل کی بات نہيں کہہ پاتی تھی۔
تھک ہار کر اس نے میسج ڈیلیٹ کیا تھا۔
”مجھے نمبر تبدیل کر لینا چاہیۓ۔۔!!“
آخر وہ اس آخری نتیجے پر پہنچی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکی نمازیں لمبی ہوتی جارہی تھیں۔۔ گڑگڑا کر وہ ناجانے کیا مانگتی تھی۔
ایک ڈر نے اسکے دل میں ڈیرا ڈال لیا تھا۔
اس نے دوبارہ اکیڈمی جانا شروع کردیا تھا۔ نا مہرو نے کوٸی بات کی تھی۔ نا پرنسپل کا فون آیا تھا اور نا آرجے نے کوٸی پیش رفت کی تھی۔

دھیرے دھیرے وہ بھی اسے مذاق سمجھ کر بھولنے لگی تھی۔

”یہ تمہاری سیلری ہے ہانی۔۔ اسمارہ آپی نے بھیجی ہے۔۔ تم بنا پرنسپل سے ملے واپس آگٸ تھی۔۔!!“
مہرو نے ہانی کی امانت اسے دی تھی۔ جس پر ہانی نے شکر ادا کیا تھا کہ سب نارمل تھا ٹھیک تھا۔
پچھلے کچھ دنوں سے اسے انجانے نمبر کال آ رہی تھی جسے وہ جان بوجھ کر نہيں پک کر رہی تھی۔

”میم میری بات سنیں۔۔ میں حفصہ ہوں پلیز میم۔۔!!!“
اسکا میسج پڑھنے کے بعد تو حانم کا دماغ گھوما تھا۔ اس نے موبائل ہی بند کردیا تھا۔

اور اب پھر کسی اور نمبر سے فون آرہا تھا۔

”اٹھا لو نا ہانی کس کا فون ہے؟؟“
مہرو کی بات پر وہ چونکی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: