Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 14

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 14

–**–**–

”اٹھا لو نا ہانی کس کا فون ہے؟؟“
مہرو کی بات پر وہ چونکی تھی۔

”پتا نہيں۔۔!!“
حانم کا موڈ خراب ہوا تھا۔

”یار پوچھ تو لو ایک بار۔۔“

مہرو کے اصرار کرنے پر حانم نے کال ریسیو کی تھی۔
”میم پلیز میری بات سن لیں۔۔ پلیز فون بند مت کیجیۓ گا پلیز میم۔۔“
حفصہ منتیں کر رہی تھی۔

”حفصہ مجھے آپ سے کوٸی بات نہيں کرنی۔“
حانم نے دوٹوک جواب دیا تھا۔

”نا کریں بات۔۔ لیکن میری سن لیں پلیز۔۔۔
وہ روحان نے مذاق کیا تھا میم۔۔ پرانک۔۔ اس نے مجھ اموشنلی بلیک میل کیا تھا کہ اگر میں نے اسکی بات نہيں مانی تو وہ کسی سے بھی یہ کام کروا لے گا۔۔ اور پھر شاید سب کو یہ بات پتا چل جاٸے۔۔!!
اس نے مجھے اس لیے کہا کہ میں کسی کو نہيں بتاٶنگی کیونکہ آپ مجھے عزیز ہیں۔۔“
وہ آخری بات کہتے پر رو دی تھی۔

”اٹس اوکے حفصہ۔۔ کوٸی بات نہيں۔ آپ بھی بھول جاٶ اس بات کو۔۔!!
حانم نے گہرا سانس لیا تھا۔
”پکا آپ ناراض تو نہيں ہیں نا اب؟؟“

”نہيں میں ناراض نہيں ہوں۔۔ پھر بات ہوگی۔!!
وہ اسکا جواب سنے بنا فون بند کر چکی تھی۔
دل سے ایک بوجھ سا اتر گیا تھا۔ ایک ڈر جو تھا وہ ختم ہوگیا تھا اسے یقین ہوگیا تھا کہ وہ سب ڈرامہ تھا۔

”کیا ہوا ہانی؟؟“
مہرو نے جو اسے غور سے دیکھ رہی تھی اسکے فون بند کرنے پر پوچھا تھا۔

”کچھ نہيں بس کالج کا ایک مسٸلہ تھا۔۔“
وہ خوشدلی سے مسکرا دی۔ واقعی حفصہ نے اسے بہت بڑے صدمے سے باہر نکال لیا تھا۔
حانم اب اپنے آپ کو بہت ہلکا پھلکا سا محسوس کر رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسٹیڈیم لوگوں کے ہجوم سے بھرا پڑا تھا۔
ہر طرف نوجوان لڑکے لڑکياں اسکے انتظار میں تھے۔
ہر ایک کی زبان پر بس آرجے تھا۔ رات کے اندھرے میں بھی رنگ برنگی روشنیوں نے اسٹیڈیم کے درمیان بنے اسٹیج کو منور کیا ہوا تھا۔
وہ پروفشنل سنگر نہيں تھا۔ اور نا کسی کیلیے گاتا تھا۔ البتہ اسکے فین ڈیمانڈ کرتے تھے اس سے سننے کی۔ اور وہ ایک دن فاٸنل کر دیتا تھا۔ اسی دن دیکھنے اور سننے والوں کا ہجوم جمع ہوجاتا تھا۔

#جینی_مارٹن سے اسکی دوستی سوشل میڈیا پر ہوٸی تھی۔ وہ برطانیہ سے تعلق رکھتی تھی۔
تیس سالا جینی کہیں سے بھی تیس سال کی نہيں لگتی تھی۔
وہ ایک پروفیشنل سنگر تھی جسکی آواز نہایت دلکش تھی۔
البتہ جب سے اس نے آرجے کی آواز سنی تھی وہ حیران رہ گٸی تھی۔ اور اسکی شدید خواہش تھی کہ وہ آرجے کے ساتھ سنگنگ کرے۔
اور آج وہ آرہی تھی۔ آرجے کے ساتھ۔۔ وہ دونوں ایک ساتھ دھماکہ کرنے والے تھے۔

انتہائی سخت سیکیورٹی کے اندر انکی گاڑیاں آگے پیچھے اسٹیڈیم میں داخل ہوٸیں تھیں۔

اور کچھ دیر بعد میڈیا، کمیروں کی چمک اور لوگوں کی زبردست ہوٹنگ میں وہ اسٹیج کی طرف بڑھے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”رات تقریباً دو بجے شو ختم ہوگا۔۔ اور اسکے بعد جینی کی خواہش پر وہ دونوں واپس ہوٹل جاٸیں گے۔۔
جینی کی یہ خواہش آرجے لازمی پوری کرے گا۔۔
ایک بار وہ دونوں ہوٹل پہنچ جاٸیں۔۔ پھر ہمارا کام آسان ہوجاٸے گا۔۔!!“
وہ پروجيکٹر کے سامنے کھڑی بتا رہی تھی۔
سکرین پر اسٹیڈیم کے اندر باہر۔۔ اسٹیڈیم سے ہوٹل تک اور ہوٹل کے اندر تک ہر چیز کا نقشہ تھا اور دوسری سکرین پر اسٹیڈیم کی ویڈیو نظر آرہی تھی۔

”دھیان رہے اس بار پلان فیل نہيں ہونا چاہیۓ۔۔!!
باس نے سخت تنبیہہ کی تھی۔ لڑکی نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جینی اور آرجے دونوں سیاہ رنگ کے کپڑوں میں تھے۔
جینی نے گھٹنوں تک آتے شارٹ کپڑے پہن رکھے تھے۔ جبکہ آرجے گھٹنوں سے پھٹی جینز پہنے جسکی بلیک جیکٹ بھی جگہ جگہ سے پھٹی ہوٸی تھی، ربر بینڈ سے بالوں کو پیچھے کی جانب کیے گلے اور بازٶں میں لٹکتے بینڈز جن پر آرجے واضح لکھا چمک رہا تھا، وہ دونوں عوام کی توجہ کا مرکز بنے تھے۔
گٹار ہاتھ میں پکڑے وہ اسٹیج پر جھول رہا تھا۔
جینی اس سے دس سال بڑی تھی اور تھی برٹن لیکن آرجے کہیں سے بھی نا اس سے متاثر نظر آرہا تھا اور نا ہی وہ خوف کا شکار تھا۔ اسکا اعتماد دیکھنے لاٸق تھا۔
I’m so lonely broken angel
I’m so lonely listen to my heart
جینی نے گانا شروع کیا تھا۔

من دوسِت دارم
به چشم من گریه نده
نه، نمی تونم
بدون تو حالم بده

آرجے اپنی طلسماتی آواز سے ایک بار پھر سحر پھونک رہا تھا۔
لوگ دیوانوں کی طرح انہيں سن رہے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حشام جس فلیٹ میں رہتا تھا اس عمارت میں زیادہ آبادی مسلمانوں کی تھی جو برسوں سے وہاں رہ رہے تھے۔
اس عمارت ( بلڈنگ) کے سب سے اوپری فلیٹ کو وہاں موجود لوگوں نے مسجد کا نام دیا ہوا تھا جہاں وہ لوگ عبادت کرتے تھے۔
آرجے نے حشام کو بتایا تھا کہ آج اسکا شو تھا۔
وہ دیکھنا چاہتا تھا تبھی اسے چھوٹے بابا ساٸیں (حیدر جبیل) کا فون آیا تھا۔

”دیکھ رہے ہو تم اپنے لاڈلے کے کام۔۔ ایک سید گھرانے سے ہو کر وہ انگریزوں کے ساتھ مل کر کیسے کام کر رہا ہے۔۔
کیا منہ دکھاٶں گا میں کل کو اگر آقا حضرت مُحَمَّد ﷺ نے مجھ سے اسکے متعلق سوال پوچھ لیا۔۔۔؟؟
کیا منہ دکھاٶں گا اگر اس ذات نے جس پر میری جان قربان۔۔ اگر اس نے پوچھ لیا کہ میں نے اپنے بیٹے کی تربیت کیسے کی تھی؟؟
بتاٶ کیا جواب دونگا میں۔۔؟؟“
وہ حشام سے پوچھ رہے تھے جبکہ وہ خود نہيں جانتا تھا کہ اگر اس سے پوچھ لیا گیا تو وہ کیا جواب دے گا؟؟

چھوٹے ساٸیں اپنا غصہ نکال کر فون بند کر چکے تھے۔
حشام نے ٹی وی لگایا تھا۔ اسے اچھی طرح پتا تھا کہ آرجے کا شو کس چینل پر براہ ِراست دکھایا جانا تھا۔
جیسے ہی حشام کی نظر سکرین پر پڑی تھی اسکے چہرے پ واضح ناگوای پھیل گٸی تھی۔
جینی آرجے کے گلے میں باہیں ڈالے کھڑی تھی۔ جبکہ عوام ہوٹنگ کر کر کے پاگل ہوٸی پڑی تھی۔
حشام نے فوراً غصےسے ٹی وی بند کیا تھا۔ اسکی سمجھ میں نہيں آرہا تھا کہ وہ آرجے کا کیا کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”مجھے یہ چڑیل آرجے کا ساتھ ذرا اچھی نہيں لگ رہی۔۔!!“
جواد نے منہ بنا کر پاس بیٹھی ماہم سے کہا تھا۔

”تم اسے مت دیکھو بس آرجے کو دیکھو نا۔۔“
ماہم نے حل پیش کیا تھا۔
اچانک حانم کمرے میں داخل ہوٸی تھی رات کے دس بج رہے تھے اور وہ دونوں ٹی وی پر نظریں جماٸے بیٹھے تھے۔

”یہ کیا دیکھ رہے ہو تم لوگ؟؟“
حانم کی نظر اچانک سکرین پر پڑی تھی اور وہ دنگ رہ گٸی تھی۔
اس نے آرجے کو نہيں پہچانا تھا کیونکہ اسکا چہرہ کیمرے کے بالکل سامنے نہيں تھا۔

”بند کرو یہ بےہودہ چیزیں دیکھنا۔۔!!
وہ تقریباً چیخی تھی۔

”بس آپی تھوڑا سا۔۔ تھوڑا سا رہ گیا ہے پھر خود ہی بند کردیں گے۔۔!!“
جواد نے ٹانگ اٹکاٸی تھی۔

”میں امی کو بلاتی ہوں وہ خود آکر دیکھ لیں گی کہ تم لوگ کیا گھٹیا چیزیں دیکھتے ہو۔۔!!
وہ بڑبڑاتی باہر نکل گٸی تھی۔ جبکہ ماہم اوع جواد دونوں نے شکر ادا کیا تھا۔

I’m so lonely broken angel
I’m so lonely listen to my heart
One n’ only, broken angel
Come n’ save me before I fall apart

تا هرجا که باشی، کنارتم
تا آخرش، دیوونه تم (اوه)
تو، تو نمیدونی که جونمی
برگرد پیشم

La la Leyli, la la Leyli, la la la la la
La la Leyli, la la Leyli, la la la la la

دنیا و مافیا سے بیگانہ وہ دونوں اپنی اپنی دھن میں گاٸے جا رہے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الله أكبر الله أكبر
اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے،
وضو کیےگٸے چہرے پر ابھی بھی پانی کی کچھ بوندیں چمک رہی تھیں۔
پیرس میں عشا ٕ کا وقت تھا۔ حشام نماز پڑھنے آیا تھا۔
لیکن اس سے پہلے وہ اذان دیتا تھا خود ہی۔۔
جب بھی اسے وقت ملتا تھا۔ وہ لازمی یہ کام خود کرتا تھا۔

مسجد میں اسپيکر نہيں لگا ہوا تھا۔ البتہ جتنے بھی مسلمان خاندان وہاں رہتے تھے انکے فلیٹ میں آٹو میٹک ساٶنڈ سسٹم کے ذریعے ازان کی آواز گونج جاتی تھی۔

“حی الفلاح، حی الفلاح”
آو وہ کاميابی کی طرف بلا رہا تھا۔
ہے کوئی جو اس رب کے بلاوے پہ لبیک کہے جو بادشاہوں کا بادشاہ ہے شاہوں کا سربراہ ہے پہاڑوں سے بلند دریاوں کے پانی سے تیز ہوا اور روشنی جس کے قبضے میں ہے لیک ن اس رب کریم کی عاجزی تو دیکھو وہ دن میں پانچ وقت اپبے پاس بلاتا ہے اور ہماری اوقات کیا ہے فقط ایک گندے پانی کے چند قطرے اللہ تعالی قرآن میں فرماتے ہیں کہ

(سورہ المومن

هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ يُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوا أَشُدَّكُمْ ثُمَّ لِتَكُونُوا شُيُوخًا ۚ وَمِنْكُمْ مَنْ يُتَوَفَّىٰ مِنْ قَبْلُ ۖ وَلِتَبْلُغُوا أَجَلًا مُسَمًّى وَلَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ {67}

وہی تو ہے جس نے تم کو (پہلے) مٹی سے پیدا کیا۔ ہھر نطفہ بنا کر پھر لوتھڑا بنا کر پھر تم کو نکالتا ہے (کہ تم) بچّے (ہوتے ہو) پھر تم اپنی جوانی کو پہنچتے ہو۔ پھر بوڑھے ہوجاتے ہو۔ اور کوئی تم میں سے پہلے ہی مرجاتا ہے اور تم (موت کے) وقت مقرر تک پہنچ جاتے ہو اور تاکہ تم سمجھو {67})

لیکن وہ اتنا مہربان رحیم و کریم ہے جس کی اجازت کے بنا ایک چڑیا پر نہیں ہلا سکتی ایک درخت پتا نہیں ہلا سکتا مگر اپنے بندوں کے بار بار نا آنے پر اپنا بلاوا ترک نہیں کرتا ہم پہ رزق بند نہیں کرتا پھر سے پکارتا ہے “حی الفلاح” ہے کوئی جو آئے ہے کوئی جو مانگے ہے کوئی گدا جوآواز لگائے ہے کوئی مفلس جو مفلسی میں مجھے سجدہ کرے کوئی نیند ترک کر کہ سجدہ ریز ہو ہے کوئی بخشش مانگنے والا ہے کوئی توبہ کرنے والا آو آو تمہارا رب تمہیں خود پکار رہا ہے ہاں وہی رب جس کے قبضے میں تمہاری جان وہی تم ناچار لوگوں کو تمہیں تمہاری ہی کامیابی کے لیے پکار رہا ہے

کون جانتا تھا پیرس میں رہنے والا۔۔ انگلش میں پی ایچ ڈی کرنے والا شخص ایسا تھا۔
چھوٹی سی مسجد میں سادے سے کپڑے پہنے،لوگوں کو کاميابی کی طرف بلاتا وہ شخص ہزاروں کے مجمع میں داد وصول کرتے آرجے سے کہیں بہتر لگ رہا تھا۔
نماز پڑھنے کے بعد اس نے دعا کیلیے ہاتھ اٹھاٸے تھے۔

”یا اللہ روحان جبیل کو ہدایت دے۔۔ یااللہ پاک اسکی حفاظت فرما۔۔!!!
اور آج بھی سب سے پہلے اس نے آرجے کیلیے ہی سب کچھ مانگا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”آج میں اینجل سے اپنے دل کی بات کہہ کر ہی دم لونگا۔۔“
میڈی نے فرضی کالر جھاڑتے ہوٸے کہا تھا۔

”تم سے نہيں ہوگا میڈی۔۔“
البرڈ صاف گو تھا۔

”تم جلتے ہی رہنا۔۔ دیکھنا آج میں یہ کام ضرور پورا کرونگا۔۔!!
میڈی کافی پرجوش تھا۔
ریسٹورینٹ میں اسکی ڈیوٹی چار بجے شروع ہوتی تھی۔ وہ تین بجے وہاں موجود تھا۔
میڈی اس ریسٹورینٹ میں پارٹ ٹائم ویٹر کا کام کرتا تھا۔

”وہ آگٸی ہے میڈی۔۔ جاٶ۔۔ اور فتح کرلو۔۔“
البرڈ نے میڈی کو اکسایا تھا۔
اینجل اپنی مقررہ جگہ پر بیٹھی تھی۔

”جاٶ اب۔۔۔“
البرڈ نے کشمکش کا شکار کھڑے میڈی سے کہا تھا۔

”اچھا اچھا جا رہا ہوں۔۔۔!!
میڈی نے خود کو تسلی دی تھی۔
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اینجل کی طرف بڑھا تھا۔
”کیسی ہو اینجل۔۔۔؟؟“
وہ اسکے سامنے بیٹھتے ہوٸے پوچھ رہا تھا۔
اینجل نے اسے گھوری سے نوازا تھا۔

”کچھ بات کرنی تھی۔۔“
میڈی نے اسکے گھورنے پر سنبهل کر کہا تھا۔

”بولو۔۔۔“
سرد سا لہجہ تھا۔

”وہ۔۔ میں۔۔
میڈی کا گلہ خشک ہوگیا تھا۔ اس نے میز پر رکھا پانی کا گلاس اٹھا کر پیا تھا۔
اینجل اسے گہری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔

”کیا میں۔۔؟ بولو اب۔۔۔“

“will you marry me??”
میڈی نے آنکهيں بند کر کے کہا تھا۔ اسکا سانس اٹکا ہوا تھا۔
اینجل اسے حیرانی سے دیکھ رہی تھی اور پھر میڈی کی حالت دیکھ کر بہت کوشش کرنے کے باوجود بھی وہ اپنی ہنسی ضبط نہيں کر پاٸی تھی۔۔ وہ ہنسی تھی اور ہنستی چلی گٸی تھی۔

”اس میں ہنسنے والی کیا بات ہے اینجل۔۔؟؟“
میڈی کو برا محسوس ہو رہا تھا۔

”تم پاگل ہوگٸے ہو میڈی۔۔اب میرے پیچھے مت آنا“
اینجل نے ہنستے ہوٸے کہا تھا اور پھر اپنی جگہ سے اٹھ کر باہر نکل گٸی تھی۔

”جواب نہيں دیا۔۔“
میڈی کا منہ بن گیا تھا۔ وہ بیچارہ اداس ہوگیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات گیارہ بجے کا ٹائم تھا۔ میڈی رسٹورینٹ سے فارغ ہو کر اب گھر کی طرف جا رہا تھا۔
اچانک اسے محسوس ہوا تھا کہ اسکے پیچھے کوٸی ہے۔
وہ ایک نازک دل کا لڑکا تھا۔ وہ ایک دم گھبرا گیا تھا۔
ایک دو بار پیچھے مڑ کر دیکھنے کے بعد اب اس نے اپنی رفتار تیز کردی تھی۔۔۔ جب اچانک کوٸی آندھی طوفان کی طرح آیا تھا۔
اسکے سر اور چہرے کو جیکٹ سے ڈھانپنے کے بعد مکے اور گھونسوں کی خوب بارش کی گٸی تھی اس پر۔

”کون ہو تم چھوڑ دو مجھے۔۔ کیوں مار رہے ہو۔۔؟
بچاٶ مجھے۔۔!!“
وہ چیخ رہا تھا۔

”میری اینجل کو پرپوز کرتے ہو۔۔ خبردار جو آٸندہ اسکے آس پاس بھی نظر آٸے تو۔۔!!
مارنے والے نے اردو زبان میں کہاتھا۔ میڈی کو صرف لفظ ”اینجل“ سمجھ آیا تھا اور کچھ بھی نہيں۔
دو چار گھونسے اسکے پیٹ میں مارنے اور اپنی بھڑاس نکالنے کے بعد اب وہ رات کے اندھیرے میں رفو چکر ہوگیا تھا۔۔جبکہ میڈی نے، جسکی حالت بری ہوگٸی تھی مشکل سے اپنے چہرے سے جیکٹ اتاری تھی اور پھر بنا آگے پیچھے دیکھے گھر کی طرف دوڑ لگادی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شو ختم ہوچکا تھا اب وہ لوگ واپس جا رہے تھے۔ آرجے جینی کو چھوڑنے ہوٹل جا رہا تھا۔
انکی گاڑی کے آگے اور پیچھے بھی گاڑیاں گامزن تھیں جن میں جینی کی پوری ٹیم تھی۔
آج کے شو کے بعد آرجے کی فین فالونگ دوگنی بڑھی تھی۔

وہ دونوں گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھے تھے۔
جینی کافی تھکی نظر آرہی البتہ نیند آرجے کے آس پاس بھی نہيں پھٹکی تھی۔ اسے اس وقت نیند آتی ہی نہيں تھی۔

جینی آرجے سے چپکی بیٹھی تھی۔ اسے کوفت ہو رہی تھی۔
اچانک آرجے کی نظر سامنے لگے مرر سے جھانکتے ڈرائيور پر پڑی تھی۔ وہ ایک دم چونکا تھا۔
جو ڈرائيور انہيں لے کر آیا تھا وہ کوٸی اور تھا۔ وہ آنکهوں سے پہچان گیا کہ ڈرائيور بدل چکا ہے۔
آرجے کو کسی گڑبڑ کا احساس ہوا تھا۔

”کیا ہوا بےبی۔۔؟؟“
جینی نے اسکے چہرے کا رخ اپنی طرف کیا تھا۔
آرجے کی نظر اسکے گلے میں لٹکے ڈاٸمنڈ کے نیکلس پر پڑی تھی۔
اسکی آنکهیں سکڑی تھیں۔۔ اور پھر وہ شاکڈ رہ گیا تھا۔
اسے لاکٹ کے اندر ماٸیکرو کیم نظر آگیا تھا۔

اس سے پہلے وہ کچھ کہتا اسکے موبائل نے چنگھاڑنا شروع کیا تھا۔
مکی کی کال تھی۔

”ہیلو آرجے کہاں ہو تم میرا ایکسیڈینٹ ہوگیا ہے۔۔!!“
مکی کی گھٹی گھٹی سی آواز ابھری تھی۔

”گاڑی روکو۔۔۔“
آرجے نے کہا تھا۔

”کیا ہوا صاحب۔۔۔؟“
آگے بیٹھے ڈرائيور نے پوچھا تھا۔

”میں نے کہا گاڑی روکو۔۔۔!!“
وہ چلایا تھا۔ جینی ڈر کر اس سے الگ ہوٸی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: