Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 15

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 15

–**–**–

”ہیلو آرجے کہاں ہو تم میرا ایکسیڈینٹ ہوگیا ہے۔۔!!“
مکی کی گھٹی گھٹی سی آواز ابھری تھی۔

”گاڑی روکو۔۔۔“
آرجے نے کہا تھا۔

”کیا ہوا صاحب۔۔۔؟“
آگے بیٹھے ڈرائيور نے پوچھا تھا۔

”میں نے کہا گاڑی روکو۔۔۔!!“
وہ چلایا تھا۔ جینی ڈر کر اس سے الگ ہوٸی تھی۔
ڈرائيور نے گاڑی ایک جھٹکے سے روکی تھی۔

آرجے بنا کچھ کہے گاڑی سے باہر نکل گیا تھا۔
آرجے کی گاڑی کے پیچھے جو گاڑیاں تھیں وہ بھی ایک جھٹکے سے رکی تھیں۔
جینی اور ڈراٸیور دونوں منہ کھولے حیرت سے دو جاتے آرجے کو دیکھ رہے تھے۔

وہ اسے کچھ نہيں کہہ سکتے تھے اور نا اب روک سکتے تھے۔ وہ اپنی مرضی سے انکے ساتھ جاتا تو الگ بات تھی۔

ڈرائيور نے گھور کر جینی کو دیکھا تھا۔
”میرا کوٸی قصور نہيں میں نے کچھ نہيں کیا،اسے کوٸی شک نہيں ہونے دیا۔۔!!
جینی اسکے گھورنے پر منمناٸی تھی۔
جبکہ ڈرائيور نے غصے سے گاڑی آگے بڑھا دی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”ایسا نہيں ہو سکتا۔۔۔ ہم اپنی منزل کے اتنا قریب آکر یوں خالی ہاتھ نہيں رہ سکتے۔۔!!
وہ چلا رہا تھا۔۔
کمرے میں پڑے کمپيوٹر سسٹم اور کیمروں کو اس نے اٹھا اٹھا کر نیچے پٹخ دیا تھا۔

”باس۔۔ جینی نے پوری کوشش کی تھی۔ وہ اسکے ساتھ ہوٹل پہنچنے ہی والا تھا۔۔ پھر اچانک۔۔

”کیا اچانک۔؟؟
باس نے اس لڑکی کو منہ سے دبوچا تھا۔

”مجھے وہ لڑکا ہر حال میں چاہیے۔۔ عین موقعے پر اسے کیا معلوم ہوا تھا۔۔ اسے کس کی کال آٸی تھی جو وہ گاڑی سے اتر گیا۔۔؟؟ بتاٶ مجھے۔۔ کون ہے غدار۔۔؟؟“
باس کا غصے اور صدمے سے برا حال ہوا پڑا تھا۔

”دفع ہوجاٶ میری نظروں کے سامنے سے۔۔جاٶ۔۔“
باس کے چیخنے پر لڑکی گھبرا کر کمرے سے باہر بھاگی تھی۔

”آرجے۔۔۔۔“
وہ ایک بار پھر پوری طاقت سے چلایا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”ہیلو آرجے تم کہاں ہو۔۔ ابھی تک ہاسپٹل نہيں پہنچے۔۔ میرا اتنا برا ایکسڈینٹ ہوا ہے۔۔ گاڑی الٹ گٸی تھی۔۔ اور میں۔۔۔
جیسے ہی آرجے نے دوبارہ فون اٹھایا تھا مکی ایک بار پھر سے شروع ہوگیا تھا۔

”بکواس بند کرو مکی۔۔۔ اور یہ ڈرامہ کیوں کر رہے ہو تم۔۔؟؟
اسکا دماغ پہلے ہی گھوما ہوا تھا اور اوپر سے مکی کا ڈرامہ اسے سمجھ نہيں آرہا تھا کہ کیا ہورہا ہے۔

”کک۔۔ کونسا ڈرامہ؟؟“
مکی سنبهل کر بولا۔

”تمہارا ایکسڈینٹ ہوا ہے۔۔ ہے نا؟؟

”ہاں ہوا تو ہے۔۔ ہاٸے میری ٹانگ۔۔ بہت درد ہو رہا۔۔!!
مکی کراہ رہا تھا۔

”اچھا۔۔۔
آرجے نے اچھا پر زور دیا۔
گاڑی الٹ گٸی۔۔ اور تم الٹی گاڑی میں الٹے لٹکے مجھے فون پر آرام سے بتا رہے ہو کہ میرا ایکسیڈینٹ ہو گیا ہے۔۔۔ واہ۔۔ آرجے کو اتنا اسٹوپڈ سمجھا ہے۔۔؟؟
اس نے طنزیہ کہا۔

”نن۔۔۔ نہيں وہ۔۔ وہ میں تو۔۔!!
مکی سٹپٹا گیا تھا اس سے کوٸی بہانہ نہيں بن رہا تھا۔
”جلدی مرو گھر۔۔ میں انتظار کر رہا ہوں۔۔!!
آرجے نے کہتے ہوٸے فون بند کیا تھا۔

”پانچ منٹ بعد مکی اوپر سے نیچے آیا تھا۔

آرجے نے اسے گھوری سے نوازا تھا۔ وہ گھر میں بیٹھا ایکسیڈینٹ کا ناٹک کر رہا تھا۔

”چھوڑ آٸے جینی کو۔۔؟“
مکی نے اسکے سامنے بیٹھتے ہوٸے خباثت سے ہنستے ہوٸے پوچھا تھا۔

”منہ بند رکھو اپنا۔۔۔“
آرجے نے صوفے سے کشن اٹھا کر مکی کے منہ پر مارا تھا۔ نشانہ پکا تھا کشن سیدھا اسکے منہ پر لگا تھا۔

”یار میری کوٸی غلطی نہيں ہے۔۔ مجھے حشام بھاٸی نے کہا تھا کہ ایکسیڈینٹ کا ناٹک کروں۔۔ تاکہ تم واپس آجاٶ۔۔
لیکن مجھے حیرت ہو رہی ہے تم سچ میں کیسے آگٸے۔۔؟؟“
مکی کو واقعی حیرت ہو رہی تھی۔ وہ اچھی طرح سے جانتا تھا کہ آرجے کا دماغ کتنا تیز چلتا ہے وہ ایک سیکنڈ سے پہلے اسکا ڈرامہ پکڑ لے گا۔ لیکن پھر بھی اس نے کوشش کی تھی۔

ٰ”بس میری مرضی۔۔“
آرجے نے بیزاری سے کہا تھا۔

”وہ حشام بھاٸی چاہتا تھا کہ تم جینی کے ساتھ رات نا گزارو۔۔!!
مکی نے ڈرتے ڈرتے بتایا تھا۔

”اس شامو کی تو۔۔۔ اور تم میرے دوست ہو یا اسکے۔۔؟؟
آرجے نے دوسرا کشن اٹھا کر مارا تھا اسے۔

”یار مار کیوں رہے ہو۔۔ میں نے بس حشام بھاٸی کی بات مانی ہے پہلی دفعہ۔۔!!
مکی اچھلا تھا۔
جبکہ آرجے نے کوٸی جواب نہيں دیا تھا۔ وہ اب دو انگلیوں اور ایک انگوٹھے کی مدد سے اپنی کنپٹیوں کو مسل رہا تھا۔

اسے پچھلے کچھ دنوں میں بارہا محسوس ہوا تھا کہ کوٸی اس پر نظر رکھے ہوٸے ہے۔
اسکی چھٹی حس نے اسے کٸی بار چوکنا کیا تھا۔
لیکن آج تو حد ہی ہوگٸی۔۔

”آخر جینی کس کے کہنے پر پاکستان مجھ سے ملنے آٸی تھی؟؟“
وہ سوچ رہا تھا۔
”لیکن میں واپس کیوں آگیا؟ میں وہاں جا کر بھی تو پتا لگاسکتا تھا نا۔۔؟؟
لیکن شاید وہ نہيں جانتا کہ حشام جبیل کی دعا اسے کتنے بڑے نقصان سے واپس بچا کر لاٸی تھی ۔۔ ناصرف نقصان بلکے گناہ سے بھی۔۔!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”توبہ توبہ کیسا زمانہ آگیا ہے آج کل تو بیٹیوں پر ذرا بھروسہ نہيں کیا جا سکتا۔۔!!
زبیدہ آپا نے منہ چڑا کر پاس بیٹھی آسیہ بیگم سے کہا تھا۔

”کیا ہوا زبیدہ آیا خیر تو ہے؟؟“
آسیہ بیگم نے پوچھا۔

”ارے وہ گلی کے کونے پر جو حاجی صاحب ہیں نا انکی بیٹی کی شادی تھی کل۔ عین بارات والے دن لڑکے کو پتا چل گیا کہ لڑکی کا پہلے کہیں اور چکر تھا۔ حاجی صاحب انتظار کرتے رہ گٸے بارات ہی نہيں آٸی۔۔ ویسے تو حاجی بنے پھرتے ہیں اور اولاد کو لگام نہيں ڈالی۔۔ پورے محلے میں بدنام ہوگٸے۔۔!!“
زبیدہ آپا نے حقارت سے کہا تھا۔

واشنگ مشین سے کپڑے نکالتی حانم کے ہاتھ کانپے تھے۔ اسکا نازک سا دل ڈوب کر ابھرا تھا۔ اسے کچھ یاد آگیا تھا جس نے اسے ڈرا کر رکھ دیا تھا۔

”بس آپا اللہ سب کی بیٹیوں کی حفاظت کرے۔۔ آمین۔۔!!
آسیہ بیگم نے صدق دل سے دعا کی تھی۔

”میں کہتی ہوں کہ خیر سے اپنی بچیاں بھی شادی کے لاٸق ہوگٸی ہیں کوٸی دیکھ کر انکا بھی کردو۔۔ اس سے پہلے کہ کچھ غلط ہو۔۔!!
زبیدہ آپا نے رازداری سے کہا تھا۔
ماہم نے کان جو اسی طرف لگے ہوٸے یہ بات سن کر اسے سخت غصہ آیا تھا۔

”ویسے زبیدہ آپا آپکی اپنی بیٹیوں کی عمر کیا ہے؟؟“
ماہم نے اچانک باہر آکر پوچھا تھا۔
حانم نے اسکا ارادہ سمجھتے ہوٸے ماہم کو گھوری سے نوازا تھا۔ لیکن وہ ماہم ہی کیا جو باز آجاٸے۔

”ارے میری بیٹیاں تو ابھی بچیاں ہیں۔۔معصوم اور نیک شریف۔۔ پورے محلے میں ڈھونڈنے سے بھی ایسی لڑکیاں نہيں ملیں گی۔۔!!
زبیدہ آپا نے اپنی بیٹیوں کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیے تھے۔

”جی جی بالکل۔۔ ایک اٹھاٸیس سال کی اور دوسری تیس سال کی۔۔ ابھی تو دودھ پیتی ہیں وہ۔۔ اور نیک شریف اتنی کہ ہروقت دوسرے لوگوں کے گھروں میں موجود رہتی ہیں اور لڑکوں کی ایک لمبی لاٸن آپکے گھر کے باہر لگی ہوتی ہے۔۔۔!!“
ماہم نے زبیدہ آپا کے انداز میں ہاتھ ہلا ہلا کر کہا تھا۔
زبیدہ آپا کی تو آنکهيں پھٹی کی پھٹی رہ گٸی تھیں۔
”توبہ توبہ کتنی زبان چلتی ہے اس لڑکی کی۔۔ دیکھ لینا آسیہ یہ تمہاری ناک کٹواٸے گی۔۔!!
زبیدہ آپا نے چاٸے کا کپ غصے سے چھوٹی سی میز پر رکھتے ہوٸے کہا تھا۔

”ہاں ہاں جاٸیے جاٸیے میں بدزبان ہی ٹھیک ہوں۔۔!!
ماہم دو چار اور سناتی اندر جاچکی تھی۔

”بس اب نہيں آتی میں تمہارے گھر۔۔!!
زبیدہ آپا ناراض ہوگٸی تھیں۔

”ارے آپا۔۔ یہ نادان ہے اسکو میں پوچھتی ہوں آپ بیٹھ جاٸیں ناراض نا ہوں۔۔!!
آسیہ بیگم نے بوکھلا کر کہا تھا۔ جبکہ حانم نے مشکل سے اپنی مسکراہٹ کو ضبط کیا تھا۔

”نا بس۔۔ اللہ معاف کرے تمہاری بیٹیوں کو تو میں نے اچھا سمجھا تھا۔۔ دیکھا کیسے زبان چلا کر گٸی ہے یہ ماہم میرے سامنے۔۔“
زبیدہ آپا کو یقین نہيں آرہا تھا کہ ماہم یوں انکی بیٹیوں کے بارے میں منہ پر بات دے مارے گی۔

”بیٹھ جاٸیں آپا۔۔ شادیاں بھی ہو جاٸیں گی ہماری لیکن اپنے وقت پر۔۔!!
حانم نے مسکراتے ہوٸے کہا تھا۔

دو مہینے گزز گٸے تھے روحان جبیل نام کا بھوت اسکے دماغ سے ہمیشہ کیلیے مٹ شکا تھا۔
مارچ کے آخری دن تھے۔ سردی کی شدت میں کافی حد تک کمی آگٸی تھی۔
اسکے اور ماہم کے فاٸنل پیپر ہونے والے تھے۔
حانم نے اب اکیڈمی جانا بھی بند کردیا تھا۔ وہ گھر میں ہی تیاری کر رہی تھی۔

وہ اپنا نمبر بھی بند کر چکی تھی۔ جس سے حفصہ اور اس انسان کی اسکی جان چھوٹ گٸی تھی جو اسے میسج کرتا تھا۔

”ایک بات پوچھوں آسیہ اگر تم برا نا مناٶ۔۔؟؟“
زبیدہ آپا اب نا جانے کیا جاننا چاہتی تھیں۔

”جی جی آپا پوچھیے۔۔“

”پورے محلے میں باتیں ہو رہی ہیں کہ ہر ہفتے ایک لمبی سی گاڑی تمہارے دروازے پر آکر رکتی ہے۔۔ خیر سے کون ہے وہ۔۔؟ کس کی گاڑی ہے؟؟“
زبیدہ آپا کے سوال پر حانم کا رنگ پھیکا پڑا تھا۔

”ارے آپا وہ گاڑی میرے تایازاد بھاٸی کی ہے۔۔ بہت بڑا آدمی ہے۔۔
پہلے باہر رہتا تھا اب پاکستان شفٹ ہوگیا ہے۔۔ کبھی کبھی خیریت دریافت کرنا آجاتا ہے۔۔!!
آسیہ بیگم نے سنبهل کر جواب دیا تھا۔

”اچھا اچھا۔۔
لیکن پھر بھی لوگ تو باتیں بناتے ہیں نا کہ لمبی گاڑی میں جانے کون آتا ہے انکے گھر۔۔! بھٸی شریفوں کا محلہ ہے ایسی ویسی بات بنتے دیر نہيں لگتی۔۔!
زبیدہ آپا جو کہنا چاہ رہی تھیں آسیہ بیگم اور حانم اچھے سے سمجھ گٸیں تھیں۔
زبیدہ آپا تو خطرے کی گھنٹی بجا کر جا چکی تھیں جبکہ پیچھے وہ دونوں خاموش ہو گٸیں تھیں۔
حانم کو خود یہ سمجھ نہيں آتی تھی کہ حمدان انکل ان پر اتنے احسانات کیوں کر رہے تھے۔ بلکہ تو انہیں خیال نہيں آیا تھا اب اچانک۔۔
سیٹھ حمدان اس گھر میں ہمیشہ حانم کی غیر موجودگی میں آٸے تھے۔ وہ اکثر کالج اور اکیڈمی ہوتی تھی جب وہ آتے تھے۔
اور اب جب سے وہ گھر میں تھی صرف انکا ڈرائيور آتا تھا سامان لے کر۔۔
حانم کو انہيں دیکھنے کا تجسس تھا لیکن وہ ابھی کچھ کہہ نہيں سکتی تھی۔

شام کو پھر حمدان کا ڈرائيور آیا تھا۔ گاڑی سامان سے بھری ہوٸی تھی۔
کھانے پینے کا سامان، سودا سلف، پھل،کپڑے ڈھیروں سامان تھا۔
ڈرائيور کو دیکھ کر حانم کا موڈ بگڑا تھا۔

”امی یہ حمدان انکل ہم پر اتنے احسانات کیوں کر رہے ہیں۔۔ پہلے تو انہيں کبھی ہمارا خیال نہيں آیا۔۔!!

”یہ تو میں خود پوچھنا چاہتی ہوں ان سے۔۔ لیکن وہ آٸیں تب نا۔۔!!
آسیہ بیگم بھی بوکھلا سی گٸی تھی۔
انہيں محلے والوں کی باتوں سے ڈر لگتا تھا۔

”سنو بھاٸی صاحب۔۔!!
آسیہ بیگم نے حمدان کے ڈرائيور کو مخاطب کیا تھا جو گاڑی سے سامان نکال کر گھر میں لا کر رکھ رہا تھا۔
”جی بی بی جی۔۔؟؟“
ڈرائيور نے ادب سے جواب دیا تھا۔

”حمدان سے کہنا ان سب کی ضرورت نہيں ہے ہم اپنے گھر میں بہت خوش ہیں اور آٸندہ ان سب تکلفات کی زحمت نا کرے۔۔!!

”ٹھیک ہے بی بی جی آپکا پیغام صاحب تک پہنچا دونگا میں۔۔ وہ پچھلے ایک مہینے سے پیرس گٸے ہیں کی اپنی بیٹی سے ملنے۔۔ لیکن مجھے فون پر تلقين کرتے ہیں نا میں یہ سب آپکے گھر وقت پر پہنچاتا رہوں۔۔!!
ڈرائيور اپنی ڈیوٹی پوری کر رہا تھا۔

”ٹھیک ہے لیکن اس بار فون آٸےتو اسے کہنا کہ جب واپس آٸے تو مجھ سے ملے۔۔!!
آسیہ بیگم نے الجھے ہوٸے لہجے میں کہا تھا۔ ڈرائيور سر جھکا کر واپس چلا گیا تھا۔
زبیدہ آپا کی باتوں نے آسیہ بیگم کو پریشانی میں ڈال دیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آرجے نے کچھ دنوں کیلیے اپنے سوشل میڈیا پر جتنے بھی اکاٶنٹس تھے بند کر دیے تھے۔
وہ کچھ دن اس دنیا سے الگ رہنا چاہتا تھا جہاں لوگ اسے جاننے لگے تھے۔۔ اور جاننے کے ساتھ ساتھ اس پر نظر بھی رکھی جا رہی تھی۔

یونيورسٹی سے فارغ ہونے پر وہ حشام کے پاس چلا گیا تھا۔
مکی اسکے ساتھ تھا۔ وہ دنیا گھومنا چاہتے تھے۔
آرجے نے مکی کو سختی سے منع کیا تھا کہ وہ سوشل میڈیا پر اسکی تصاویر کو شیٸر نا کرے۔

لوگ حیران تھے کہ آرجے کہاں چلا گیا تھا۔
البتہ اکاٶنٹس بند کرنے سے پہلے اس نے اپنے شاٸقین کیلیے پیغام چھوڑا تھا کہ وہ جلد واپس آٸے گا۔

اور واقعی جلد ہی واپس آنے والا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مکی،آرجے اور حشام تینوں پیرس کے مشہور ریسٹورینٹ میں بیٹھے تھے۔
وہ وہاں ڈنر کرنے کی غرض سے آٸے تھے۔
”بہت بھوک لگی ہے حشام بھاٸی۔۔“
مکی نے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھتے ہوٸے کہا تھا۔

”آڈر کر تو دیا ہے پانچ منٹ انتظار کرلو بھوکے انسان۔۔“
جواب آرجے کی طرف سے آیا تھا۔

”میں ایک منٹ میں آیا۔۔“
حشام نے موبائل کی طرف دیکھتے ہوٸے کہا تھا۔ کوٸی اہم کال تھی۔

”یہ حشام کے ساتھ لڑکے کون ہیں؟؟“
ماہی نے پاس بیٹھی ایلا سے پوچھا تھا۔

”دوست ہونگے اور کون ہو سکتے ہیں۔“
ایلا نے کھانا کھاتے ہوٸے جواب دیا۔
ماہی کب سے اپنے سامنے بیٹھے حشام کو دیکھ رہی تھی۔ آرجے کی اسکی طرف پشت تھی وہ اسے نہيں دیکھ پاٸی تھی۔ البتہ مکی اور حشام اسے نظر آرہے تھے۔

یہ اتفاق یا اسکی خوش نصیبی۔۔ کہ حشام اسے آج نظر آگیا تھا۔
ماہی نےاسے تنگ کرنا تو چھوڑ دیا تھا لیکن چاہنا اور دیکھنا نہيں چھوڑا تھا۔

ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻤﺴﻔﺮ ﺗﯿﺮﯼ ﺑﮯ ﺭُﺧﯽ —– ﺩﻝِ ﻣُﺒﺘﻼﺀ ﮐﯽ ﺷﮑﺴﺖ ﮨﮯ،
ﺍِﺳﮯ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﻮﮞ ﻓﺘﺢ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻧﺎﺀ ﮐﯽ ﺷﮑﺴﺖ ﮨﮯ،

ﺗﻮ ﭼﻼﮔﯿﺎ ﻣُﺠﮭﮯ ﭼﮭﻮﮌﮐﺮ میں نے ﭘﮭﺮﺑﮭﯽ تجھکو صدﺍﺋﯿﮟ ﺩﯾﮟ
ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻤﺴﻔﺮ ﺗﻮ ﺭُﮐﺎ ﻧﮩﯿﮟ– یہ ﻣﯿﺮﯼ صدا ﮐﯽ ﺷﮑﺴﺖ ﮨﮯ،

ﺗﺠﮭﮯ ﻻ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺩﯾﺎ ﺗُﺠﮭﮯ ﺭﺍﺯ ﮨﺮ ﺍﮎ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺎ،
ﺗﻮﻧﮯ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﻓﺎ ﻧﮧ ﮐﯽ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﻭﻓﺎ ﮐﯽ ﺷﮑﺴﺖ ﮨﮯ،

ﻣﯿﮟ ﭼﺮﺍﻍِ ﮐﻮﻧﮧ ﻣﺰﺍﺝ ﺗﮭﺎ —– ﺗﺠﮭﮯ ﺑﺠﻠﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﻠﺐ ﺭﮨﯽ،
ﻣﺠﮭﮯ ﺁﻧﺪﮬﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﺑُﺠﮭﺎ ﺩﯾﺎ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺿﯿﺎﺀ ﮐﯽ ﺷﮑﺴﺖ ﮨﮯ،

ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﮔﻼ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﻣﻼ ﺗﮭﺎ ﮐﺐ ﮐﺎ ﺑﭽﮭﮍ ﮔﯿﺎ،
ﻣﯿﺮﮮ ﺟﺮﻡ ﮐﯽ ﮨﮯ ﯾﮩﯽ ﺳﺰﺍ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﺰﺍ ﮐﯽ ﺷﮑﺴﺖ ﮨﮯ،

ﻣﯿﺮﯼ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﮐﮯ ﺑﯿﺎﻥﮐﻮ ﺗﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺳﻤﺠﮫ ﺳﮑﺎ،
ﻣﯿﺮﮮ ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﮐﺎ ﭘﯿﺎﻡ ﮨﯽ ——– ﺩﻝ ﺑﮯﻧﻮﺍﺀ ﮐﯽ ﺷﮑﺴﺖ ﮨﮯ،

ﻏﻢِ ﺩﺍﺳﺘﺎﻥِ ﺣﯿﺎﺕ ﮐﮯ —— ﺳﺒﮭﯽ تذﮐﺮﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺭﺍﺋﯿﮕﺎﮞ،
ﻣﯿﺮﮮ ﭼﺎﺭﮦ ﮔﺮ ﺗﯿﺮﺍ ﯾﮧ ﮨُﻨﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﮨﺮ ﺩﻋﺎ ﮐﯽ ﺷﮑﺴﺖ ﮨﮯ،

ﻣﺠﮭﮯ ﺧﺎﻣوﺷﯽﺀِ ﺣﯿﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﯾﻮﮞ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﺮﺍ ﺳﮑﺎ،
ﺗﯿﺮﯼ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﮐﯽ ﭘُﮑﺎﺭ ﮨﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﺑﺘﺪﺍﺀ ﮐﯽ ﺷﮑﺴﺖ ﮨﮯ….!!!

”دوست۔۔؟؟ حشام کو دیکھ کر لگتا تو نہيں کہ اسے دوست ایسے ہونگے۔۔ یہ تو شکل سے ہی لوفر لگ رہا ہے۔۔!!
ماہی نے قہقہہ لگاتے مکی کو دیکھ کر کہا تھا۔

”یار چھوڑو نا تمہیں کیا پرابلم ہے۔۔ جو بھی ہوں۔۔!!
ایلا نے انکی طرف دیکھتے ہوٸے کہا تھا جب اسے اچھو لگا۔۔
کھانے اسکے گلے میں اٹک گیا تھا۔

”کیا ہوا ایلا۔۔ پانی پیو۔۔“
ماہی نے اسے پانی کا گلاس تھمایا تھا۔

”او ماٸے گاڈ۔۔!!
ایلا کا منہ حیرت سے کھلا کا کھلا رہ گیا تھا۔ اسکی نظریں مکی اور آرجے پر جمی تھیں۔

آرجے نے جیکٹ کی بازوٶں کو فولڈ کیا ہوا تھا اور نظر آتی بازو پر عجیب سا ٹیٹو بنا ہوا تھا جس میں آرجے لکھا نظر آرہا تھا۔

”کیا وہ انسان واقعی آرجے ہے۔۔؟؟“
ایلا ایک دم اچھلی تھی۔

”کیا ہوا ایلا کہاں جا رہی ہو تم؟؟“
ماہی نے اسے اٹھتے دیکھ کر پوچھا تھا۔ جبکہ ایلا بنا جواب دیے آرجے کی طرف بڑھ گٸی تھی۔

”ّایکسکیوز می“
آرجے کے پاس جا کر اس نے اسے مخاطب کیا تھا۔
آواز پر آرجے نے پلٹ کر دیکھا تھا۔
اور ایلا نے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی چیخ کو روکا تھا۔
وہ واقعی آرجے تھا۔

”کیا میں کوٸی خواب دیکھ رہی ہوں؟؟“
وہ حیران سی دیکھ رہی تھی۔ جبکہ آرجے کی آنکھوں میں الجھن ابھری۔

”کیا آپ سچ میں میرے سامنے ہیں؟؟“
ایلا آرجے کی بہت بڑی مداح تھی۔

”کیا آپ آرجے ہیں؟؟“
وہ پرجوش سی پوچھ رہی تھی۔

”نہيں تو۔۔۔“
آرجے کی آنکهوں میں شرارت ابھری۔

”آپ آرجے ہی ہیں یہ آپکا ٹیٹو۔۔ یہ میں نے دیکھا ہے آپکی پکچرز میں۔۔ گٹار کے ساتھ۔۔ آپ نے اکثر اس ہاتھ میں پکڑا ہوتا ہے۔۔!!“
ایلا نے شاید اسے کچھ زیادہ ہی فرصت سے دیکھا ہوا تھا۔
وہ مسکرادیا تھا۔

ّآٹو گراف پلیز۔۔۔“
ایلا نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔

”میں آٹو گراف نہيں دیتا۔۔“
آرجے نے انکار کیا تھا۔

”اووہ سیریسلی۔۔؟؟“
ایلا کو حیرانی ہوٸی۔ لوگ تو اپنے مداحوں کو دیکھ کر شوخے ہوجاتے ہیں ایک وہ تھا جسے فرق تک نہيں پڑا تھا۔ پرسکون سا بیٹھا تھا۔ شاید اسے یہ چیزیں متاثر نہيں کرتی تھیں۔ یا شاید وہ اپنی اہمیت کو اچھے سے جانتا تھا۔

”سیلفی تو لے سکتی ہوں نا ایک۔۔؟؟”
ایلا نے امید سے پوچھا تھا۔
اور آرجے نے اثبات میں سرہلایا تھا۔

آرجے کے ساتھ پکچر بنانے اور کچھ باتیں کرنے کے بعد وہ ماہی کے پاس واپس آٸی تھی جو اسے کھا جانے والی نظروں سے گھور رہی تھی۔

”واپس آنے کا دل تو نہيں کر رہا تھا۔۔۔ مجھے یقین نہيں آرہا میں آرجے سے ملی ہوں۔۔۔“
ایلا کی خوشی دیکھنے لاٸق تھی۔

”تمہارے ہوتے ہوٸے کوٸی ہمیں دیکھتا بھی نہيں۔۔۔“
ایلا کے جانے کے بعد مکی نے منہ بنایا تھا۔
ویٹر انکی میز پر کھانا لگا رہا تھا۔

”یہ حشام کہاں رہ گیا؟؟“
آرجے بڑبڑایا تھا۔ جبکہ مکی اب موبائل پر کسی کا نمبر ملایا تھا جو بند جا رہا تھا۔

”افسوس رہے گا ساری عمر۔۔۔ زندگی میں صرف ایک ایسی لڑکی آٸی ہے جسے مکی حاصل نہيں کرسکا۔۔،
جو مکی سے بچ کر نکل گٸی۔۔!!“
مکی نے حسرت سے موبائل کی سکرین چمکتے نمبر کو تکتے ہوٸے کہا تھا۔

”تم مکی تھے نا اس لیے۔۔ آرجے ہوتا تو جانے نا دیتا۔۔ بلکہ وہ خود نہیں جاتی۔۔!!!“
وہ دونوں خباثت کی تمام حدیں پار کرتے ہوٸے قہقہہ لگا کر ہنسے تھے۔

دور بیٹھی ایلا ستاٸش سے اس ہینڈسم سے لڑکے کو دیکھ رہی تھی جس پر اسے حال ہی میں کرش ہوا تھا۔
لیکن شاید وہ نہيں جانتی تھی کہ جو انسان باہر سے خوبصورت نظر آتا ہو۔۔ ضروری نہيں اسکا اندر بھی اتنا ہی خوبصورت ہو۔۔!!

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: