Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 16

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 16

–**–**–

”تم مکی تھے نا اس لیے۔۔ آرجے ہوتا تو جانے نا دیتا۔۔ بلکہ وہ خود نہیں جاتی۔۔!!!“
وہ دونوں خباثت کی تمام حدیں پار کرتے ہوٸے قہقہہ لگا کر ہنسے تھے۔

دور بیٹھی ایلا ستاٸش سے اس ہینڈسم سے لڑکے کو دیکھ رہی تھی جس پر اسے حال ہی میں کرش ہوا تھا۔
لیکن شاید وہ نہيں جانتی تھی کہ جو انسان باہر سے خوبصورت نظر آتا ہو۔۔ ضروری نہيں اسکا اندر بھی اتنا ہی خوبصورت ہو۔۔!!

آرجے کی نظر حشام پر پڑی تھی جو انکی طرف بڑھ رہا تھا۔
اسے دیکھ کر وہ دونوں سیدھے ہو کر بیٹھ گٸے تھے۔ حشام کو ایسی باتيں نہيں پسند تھیں اس لیۓ خاص طور پر مکی تو ڈرتا تھا اس سے۔۔ اور اسکے سامنے اس طرح کی باتيں کرنے سے گریز کرتا تھا۔

تقریباً آدھے گھنٹے بعد وہ لوگ اس ریسٹورینٹ سے باہر نکلے تھے۔
ماہی نے ایک بھی پل ایسا نہيں تھا جب اس نے اپنی نظروں کو حشام کے چہرے سے ہٹایا ہو۔
اسے جی بھر کر دیکھنے کا موقع ملا تھا اور اس نے اس موقع سے خوب فائدہ اٹھایا تھا۔

”وہ لوگ جا چکے ہیں ماہی اب ہمیں بھی چلنا چاہیے۔۔!!“
انکے جانے کے بعد ایلا نے ماہی کو جھنجھوڑا تھا۔

”ہاں۔۔ ٹھیک ہے۔ چلو۔۔“
ماہی کسی ٹرانس کے زیر ِ اثر تھی۔
وہ دونوں بھی دروازے کی طرف بڑھ گٸی تھیں۔
ایلا آگے چل رہی تھی جبکہ ماہی اسکے پیچھے تھی۔
ایلا دروازے سے باہر نکل چکی تھی۔ جیسے ہی ماہی نے دروازے سے باہر قدم بڑھاٸے ایک زور دار وزنی چیز اسکے سر سے ٹکراٸی تھی۔
ماہی کو اپنا دماغ گھومتا ہوا محسوس ہوا تھا۔
درد کی شدت نے اسے کراہنے پر مجبور کیا تھا۔
وہ نیچے بیٹھتی چلی گٸی تھی۔
آنکهوں کے آگے اندھیرا چھا گیا تھا۔ نیچے گرنے سے پہلے اس نے تھوڑی سی آنکهيں کھولی تھیں اور اپنے سامنے ایک اونچے لمبے لڑکے کو کھڑا پایا تھا۔
جو حیرانگی سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا۔
اسکے بعد ماہی کا ذہن تاریکیوں میں ڈوب گیا تھا۔!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حانم آج صبح سے ہی دعائيں مانگ رہی تھی۔ اسکا بی ایس سی کا ریزلٹ آنے والا تھا۔

”آج تو ہانو آپی کا اعمال نامہ کھلنے والا ہے۔۔اللہ خیر کرے۔۔!!
جواد اسے پریشان دیکھ کر مزید پریشان کر رہا تھا۔

”دعا کرو میرے لیے۔۔!!“
حانم کا دل دھک دھک کر رہا تھا۔

”نہيں کرونگا۔۔ آپ کونسا مجھے آرجے کا شو دیکھنے دیتی ہیں۔۔؟؟“
جواد نے منہ بنایا۔

”اچھا دعا کرو نا۔۔ اگر میرے مارکس اچھے آٸے تو ضرور دیکھنے دونگی۔۔!!
حانم نے جیسے منت کی۔

”پکا پرامس۔۔“
وہ ٹلنے والا نہيں تھا۔

”پرامس نہيں کرتے جواد۔۔“

”ٹھیک ہے پھر۔۔ ایک دو کتابوں میں ہانو آپی پکا اڑے گی۔۔!!“
وہ ایک دم ہی نجومی بن گیا تھا۔

”منہ بند کرو اپنا۔۔!!
حانم کو غصہ آیا۔

”تو پھر وعدہ کریں کہ آرجے کا شو ہمارے ساتھ دیکھا کرینگی آپ۔۔ اور اگر نہيں دیکھنا تو ہمیں دیکھنے دینگی۔۔!!“
جواد نے ایک ہاتھ میں ریموٹ پکڑا تھا جبکہ دوسرا ہاتھ اسکے سامنے پھیلایا۔

”آرجے گیا بھاڑ میں۔۔ تم نے مجھے بد دعا دی۔۔۔ ایک تھرڈ کلاس سنگر کیلیے مجھے بددعا دی۔۔!!
حانم کا صدمے سے برا حال تھا۔

”تھرڈ کلاس نہيں ہے وہ۔۔ آرجے ایک برانڈ ہے۔۔!!
حانم نے حیرت سے اپنے سامنے کھڑے تیرہ چودہ سالا جواد کو دیکھا تھا اسے یقین نہيں آرہا تھا کہ وہ آرجے کو اتنا پسند کرتا تھا۔

”اب اس گھر میں یا تو آرجے رہے گا یا ہانی۔۔!!“
حانم اپنا غصہ ضبط کرتی کمرے سے باہر نکل گٸی تھی۔

”اوووہ ہانو آپی آپ کتنی بےوقوف ہیں۔۔ آرجے کو کوٸی نہيں نکال سکتا۔۔ آپ اس موسم میں کہاں جاٸیں گی۔۔!!
جواد سمجھداری سے سر پیٹ کر رہ گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہی کی جب آنکھ کھلی تو اس نے اپنے آپ کو ہاسپٹل کے بیڈ پر پایا تھا۔
وہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی لیکن سر پر لگنے والی چوٹ کی وجہ سے اچانک چکر سا آگیا تھا۔

”لیٹی رہو ماہی۔۔ تم ٹھیک ہو۔۔؟؟“
ایلا جو پاس ہی بیٹھی نیوز پیپر پڑھ رہی تھی ماہی کو اٹھتادیکھ کر اسکی طرف لپکی۔

”یہ مجھے کیا ہوا ہے؟؟“
ماہی نے اپنے سر پر ہاتھ رکھتے ہوٸے پوچھا۔

”کچھ نہيں تمہارے سر پر چوٹ لگ گٸی تھی۔۔لیکن اب تم ٹھیک ہو۔۔!!“

”چوٹ کیسے؟؟ ہم تو ریسٹورینٹ سے باہر نکل رہے تھے نا۔۔ وہاں

”اتنا مت سوچو ماہی۔۔ سب ٹھیک ہے۔ میں ڈاکٹر سے بات کر کے آتی ہوں انہوں نے کہا تھا کہ ہوش میں آتے ہی تمہيں ڈسچارج کردیا جاٸے گا۔۔!!
ایلا اسکا ہاتھ تھپتھپاتے باہر نکل گٸی تھی۔ جبکہ ماہی ناسمجھی سے اسے باہر جاتا دیکھ رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”ہیلو مسٹر جورڈن۔۔!!“
ایلا نے ہاسپٹل کی راہداری میں رکھی کرسی پر بیٹھے جورڈن کو پکارا۔
جورڈن ہی وہ شخص تھا جسکی وجہ سے ماہی کو چوٹ آٸی تھی۔
ناجانے اس نے اپنے بیگ ایسا کیا ڈال رکھا جسکے لگنے کی وجہ سے ماہی کا سر پھٹ گیا تھا۔

وہ اپنی ہی دھن میں بیگ کو گھماتے ہوٸے ریسٹورینٹ کے اندر داخل ہو رہا تھا جب باہر نکلتی ماہی کے سر سے وہ بھاری وزنی بیگ ٹکر گیا تھا۔

”کیا انہيں ہوش آگیا ہے؟؟“
ایلا کے بلانے پر وہ اسکی طرف لپکا۔

”ہاں ماہی کو ہوش آگیا ہے۔۔ لیکن اگر اسے کچھ ہوجاتا تو میں تمہيں ہرگز نا چھوڑتی۔۔!!
ایلا نے خونخوار نظروں سے اسے دیکھتے ہوٸے کہا تھا۔

”تو اب میں جا سکتا ہوں؟؟“
جورڈن نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔

”جب تک وہ ڈسچارج نہيں ہوجاتی تم کہیں نہيں جا سکتے۔۔ اور ابھی تمہيں ماہی سے معذرت کرنی چاہیۓ۔۔!!

”واٹ۔۔۔؟؟“
وہ حیران ہوا۔

”جی بالکل۔۔ یا میں پوليس کو کال کروں؟؟“
ایلا اس وقت کافی سنجیدہ تھی۔
وہ اس حالت میں تمہاری وجہ سے ہے۔۔ ناجانے تم نے اس منحوس بیگ میں کیا ڈالا ہوا ہے۔۔!!
ایلا نے اسکے بیگ کی طرف اشارہ کیا جو جورڈن نے کندھے پر ڈال رکھا تھا۔

جورڈن برا پھنسا تھا وہ پوليس سے نہيں ڈرتا تھا لیکن ریسٹورینٹ کے باہر بےہوش ہوتی ماہی اور اسکے سر سے نکلتے خون کو دیکھ کر وہ ایک دم گھبرا گیا تھا۔

”ٹھیک ہے میں اس سے بات کر لیتا ہوں۔۔ بل میں نے ادا کردیا ہے۔۔!!
وہ ایلا سے کہتا کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حانم بہت خوش تھی اسکے ساتھ ساتھ وہ بہت اداس بھی تھی۔
خوش اس لیے تھی کہ وہ بہت اچھے گریڈز کے ساتھ پاس ہوٸی تھی۔ البتہ اداس ہونے کی وجہ کافی سنجيدہ تھی۔
وہ یہ سوچ سوچ کر پریشان ہو رہی تھی کہ آگے کیا کرے گی؟؟

”کیا ہوگیا ہے ہانی اب کیوں پریشان ہو؟؟“
ماہم نے اسے گم سم دیکھا تو پوچھا۔

“پریشان نہيں ہوں سوچ رہی ہوں کہ اب کیا کرونگی؟؟ ماسٹرز کرنا چاہتی ہوں لیکن یونيورسٹی کی فیس کہاں سے لاٶنگی۔۔!!
حانم نے ایک گہرہ سانس لیا تھا۔

”فکر نا کرو کچھ نا کچھ ہو ہی جاٸے گا ویسے بھی تمہارے اتنے اچھے مارکس ہیں سکالرشپ مل جاٸے گا۔۔!!
ماہم نے امید دلاٸی تھی۔

”ماہم مرغی بات سن۔۔ حمدان انکل آٸے ہیں باہر۔۔!!
جواد کمرے میں جھانکتا اور ماہم کو ناپسندیدہ ترین نام سے پکارتا غاٸب ہوچکا تھا۔

”یہ مجھ سے مار کھاٸے گا۔۔!!
ماہم کا چہرہ سرخ ہوا تھا۔ جبکہ حانم کو جواد کی بات پر ہنسی آگٸی تھی البتہ وہ حیران تھی کہ حمدان انکل۔۔
وہ اسکی موجودگی میں پہلی دفعہ گھر آٸے تھے۔
وہ دونوں ڈوپٹہ اچھے سے سر پر لیتی باہر نکلیں تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جورڈن بڑبڑاتا کمرے میں داخل ہوا تھا۔ اسے انتہا کا غصہ آیا ہوا تھا حالانکہ غلطی بھی اسی کی تھی۔
جیسے ہی اسکی نظر سامنے بیڈ پر موجود ماہی پر پڑی تھی وہ ٹھٹک سا گیا تھا۔
وہ لڑکی معصوم بھی تھی اور پیاری بھی۔۔

“”جب کسی مہ جبیں سے بات ہوئی
موسمِ گُل کی پہلی رات ہوئی

کون کرتا ہے عشق دانِستہ
اِتفاقاً یہ واردات ہوئی

قول دیں اور اُسے وفا نہ کریں
جانِ من یہ بھی کوئی بات ہوئی

اُف، وہ سادہ سی بےزبان نظر
جو میری قیمتِ حیات ہوئی

دل سے خوشبو تو آرہی ہے عدم
کیا خبر کس نگر میں رات ہوئی””

آنکهيں بند کیے بیڈ سے ٹیک لگاٸے وہ مسکرا رہی تھی۔
اسکے سر پر پٹی بندھی تھی۔ جورڈن کو اچھی طرح یاد تھا اسکا کافی زیادہ خون بہہ گیا تھا۔
اسے سمجھ نہيں آرہا تھا کہ وہ کیا بات کرے۔۔؟
جورڈن نے ایک دفعہ تو سوچا تھا کہ وہ واپس چلا جاٸے۔۔ ناجانے کیوں پھر اسکے دل نے خواہش کی تھی کہ بیڈ پر لیٹا وہ وجود ایک بار آنکهيں کھول کر اسے دیکھے۔۔!!
وہ خاصا بدذوق قسم کا انسان تھا۔۔ اسے خوبصورتی اور معصومیت کا نہيں پتا تھا۔۔ لیکن اس وقت وہ رکا ہوا تھا۔۔ ناجانے کیوں۔۔!!

ماہی نے کمرے میں کسی کی موجودگی کو محسوس کرتے ہوٸے آنکهيں کھولی تھیں اور پھر سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر اسکے چہرے پر واضح الجھن ابھری تھی۔

”ہیلو۔۔ میں جورڈن ہوں۔۔!!
جورڈن نے اسکے آنکهيں کھولنے پر سٹپٹا کر کہا تھا۔
تھوڑا غور کرنے پر ماہی کو یاد آگیا تھا کہ جب وہ بےہوش ہوٸی تھی اس نے اسی شخص کو دیکھا تھا۔
”سوری میری وجہ سے آپکو سر پر۔۔
جورڈن کو سمجھ نہيں آرہا تھا کہ وہ کیسے معافی مانگے۔

”جی۔۔ انہيں جناب کی بدولت تم اس وقت یہاں موجود ہو۔۔!!
ایلا نے کمرے میں داخل ہوتے ہوٸے کہا تھا۔

”اس نے اپنا بھاری وزنی بیگ تمہارے سر پر مارا تھا۔۔!!
ایلا کی بات پر ماہی نے حیرانگی سے جورڈن کے کندھے پر لٹکے بیگ کو دیکھا تھا۔
جبکہ جورڈن کا دل کر رہا تھا کہ اب وہ اسی بیگ سے ایلا کا سرپھاڑ دے۔ لیکن اسے دیر ہو رہی تھی اسے جلد اپنی مطلوبہ جگہ پر پہنچنا تھا۔

”اٹس اوکے مسٹر جورڈن۔۔ ہوجاتا ہے۔۔!!
ماہی نے رحم دلی سے کہا تھا۔ وہ دونوں حیران ہوٸے تھے۔

جورڈن کو اندازہ نہيں تھا کہ وہ اسے معاف کردے گی۔۔ اگر نا بھی کرتی تو وہ اسکا کچھ بگاڑ نہيں سکتی تھی۔۔
لیکن وہ سچ میں حیران ہوا تھا۔ ماہی کے چہرے پر شفیق سی مسکراہٹ تھی۔
کمرے میں ڈاکٹر داخل ہوا تھا۔ وہ اب ماہی کا چیک اپ کر رہا تھا۔ ایلا غصے سے بڑبڑا رہی تھی۔ جورڈن کو جب اپنا آپ وہاں اضافی لگا تو وہ خاموشی سے وہاں سے نکل آیا تھا۔

وہ تیز تیز قدم اٹھاتا باہر کی جانب بڑھ رہا تھا۔
اسے اچھے سے یاد تھا کہ اس وقت اینتھنی اسکا انتظار کر رہا ہوگا۔۔!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”ماشاءاللہ تمہاری بیٹیاں بہت پیاری ہیں آسی۔۔!!
حمدان نے اپنے سامنے میز پر چاٸے رکھتی حانم کو دیکھ کر کہا تھا۔
” اتنی زبردست کاميابی پر بہت بہت مبارک ہو بیٹا“
انہوں نے حانم کے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔ حانم کا ایک دم شفقت کا احساس ہوا تھا۔

”میں بھی ماہین سے مل کر آیا ہوں ابھی کچھ دن پہلے۔۔ بزنس ٹور تھا۔۔ معذرت کرتا ہوں اتنے دنوں سے خیریت پوچھنے نہيں آیا۔۔!!
وہ چاٸے کا کپ اٹھاتے ہوٸے کہہ رہا تھا۔
حانم کو حیرت ہوٸی تھی کہ اتنا بڑا آدمی کیسے عام لوگوں کی طرح انکے گھر میں موجود تھا اور تو اور اوپر سے معذرت کر رہا تھا۔
گرے رنگ کی پینٹ پر سفید شرٹ اور گرے ہی کوٹ پہنے وہ شخص انتہا کی شاندار شخصیت کا مالک تھا۔
عمر پچاس کے قریب تھی لیکن وہ چالیس پینتالیس سے زیادہ کا نہيں لگتا تھا۔

”کیسی ہے آپکی بیٹی۔۔ چھوٹی ہوگی نا وہ تو۔۔؟؟ کیونکہ میری شادی کے بعد ہی آپکی شادی ہوٸی تھی نا۔۔“
آسیہ بیگم اب بیس باٸیس پہلے کی طرح اسے تم نہيں بلا پا رہی تھی۔
وہ اب کافی رعب دار شخصیت کا مالک بن گیا تھا۔
انکی بات سن کر ایک پل کیلیے سیٹھ حمدان کے چہرے کا رنگ پھیکا پڑا تھا۔
“ہاں وہ ٹھیک ہے۔۔!!
وہ ہنس دیے تھے۔۔ ٹوٹی پھوٹی سی ہنسی۔
وہ ناکردہ جرم کی سزا آج تک بھگت رہے تھے۔

”انکل آپکی بیٹی پیرس میں پڑھتی ہے۔۔!!“
ماہم نے اشتیاق سے پوچھا تھا۔

”جی۔۔۔“
حمدان صاحب نے جواب دیا تھا۔

”پھر تو بہت پیاری ہوگی۔۔!!
ماہم بڑبڑاٸی تھی۔ اسے ماہین حمدان کو دیکھنے کا تجسس ہو رہا تھا۔

”وہ تو ابھی بہت چھوٹی ہوگی نا۔۔ آپ نے اکیلے اتنی دور بھیج دیا؟؟“
بالآخر آسیہ بیگم نے وہ سوال پوچھ ہی لیا تھا جس سے حمدان صاحب بچنا چاہ رہے تھے۔

”جی نہيں۔۔۔ ماشاءاللہ تٸیس سال کی ہونے والی ہے میری بیٹی۔۔!!“
حمدان صاحب نے مری مری سی آواز میں جواب دیا تھا جسے سن کر آسیہ بیگم کا منہ حیرت سے کھل گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹاٸیگر باکسنگ کلب تماش بینوں سے بھرا پڑا تھا۔

”جورڈن۔۔۔ جورڈن۔۔“
ہر طرف سے جورڈن کے نعرے لگ رہے تھے۔

”سنو جورڈن۔۔۔ تم نے ہارنا ہے اس بار۔۔
اگر تم جونی سے ہار گٸے تو ہم بہت سا پیسہ کما سکتے ہیں۔۔!!
اینتھنی اسکے پاس کھڑا اسکے کانوں میں جیسے منتر پھونک رہا تھا۔
”سن رہے ہو نا تم۔۔؟؟“
اینتھنی نے اسے متوجہ نا پاکر دوبارہ کہا۔

”سن رہا ہوں۔۔۔“
جورڈن کی آنکهيں سرخ انگارہ ہو رہی تھیں۔

”ریلیکس رہو۔۔۔۔ بس تم نے ہارنا ہے۔۔!!
وہ اسے حکم دیتا ایک ساٸیڈ پر چلا گیا تھا۔
اور اب جورڈن ہٹے کٹے جونی کے سامنے کھڑا تھا۔

جیسے ہی سیٹی کی آواز گونجی جونی اسکی طرف لپکا تھا۔
وہ اب بری طرح ایک دوسرے پر وار کر رہے تھے۔
جورڈن سرخ جبکہ جونی پیلے رنگ کی وردی میں ملبوس تھا۔

جورڈن نے ایک زوردار گھونسا جونی کے منہ پر مارا تھا۔
جونی پیچھے کی جانب لڑکھڑایا۔

ہر طرف سے جورڈن کی صداٸیں گونج اٹھی تھیں۔ وہاں اسکے چاہنے شاٸقین کی بہت بڑی تعداد موجود تھی۔
اینتھنی نے جورڈن کو اشارہ کیا تھا۔ اور جورڈن نے خود کو ڈھیلا چھوڑ دیا تھا۔

اب جونی اسے بری طرح پیٹ رہا تھا جبکہ جورڈن صرف مارنے کا تکلف کر رہا تھا۔
جورڈن پر پیسہ لگانے والے لوگ ایک دم بجھ سے گٸے تھے۔

جونی نے ایک زور دار مکا جورڈن کے منہ پر مارا تھا۔
جورڈن کے منہ سے خون نکل آیا تھا۔ جیسے ہی جورڈن کی نظر اپنے خون پر پڑی اسکی آنکهوں میں ریسٹورینٹ کے باہر نیچے گرتی ماہی کا سراپا گھوم گیا جسکے سر سے خون بہہ رہا تھا۔

جورڈن کا دماغ ایک دم گھوما تھا۔ وہ کسی خونخوار جانور کی طرح جونی کی طرف بڑھا تھا۔

”جورڈن نو۔۔ نو جورڈن۔۔
اینتھنی جورڈن کے بدلے ہوٸے تیور دیکھ کر آہستہ سے بڑبڑایا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا اب جونی کی خیر نہيں تھی۔
وہ ہارنے کے ساتھ ساتھ اپنی ہڈیاں بھی تڑوانے والے تھا۔
ایتھنی سر پیٹ کر رہ گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”یہ موبائل کس کیلیے ہے۔۔؟؟“
حانم بالکل نیا اور مہنگے والا سمارٹ فون دیکھ کر حیران رہ گٸی تھی جو پیک تھا اور حمدان کا ڈرائيور بہت سا سامان دے کر گیا تھا۔ جس میں وہ موبائل بھی تھا۔

”یہ تمہارا گفٹ ہے۔۔ تمہارے اچھے گریڈز کا۔۔
ماہم نے بتایا تھا جبکہ حانم تو حیرت زدہ سی اس پیک موبائل کو دیکھ رہی تھی جسکی اسے بہت ضرورت تھی۔
لیکن اسے سمجھ نہيں آرہا تھا کہ وہ اسے رکھنا چاہیے تھا یا نہيں۔۔؟؟“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”آسی نے مجھے اپنے گھر آنے سے منع کیا کردیا ہے ماہی بیٹا۔۔
اس نے کہا ہے کہ غریب لوگوں کے پاس عزت کے علاوہ کچھ نہيں ہوتا۔۔ اور میرے انکے گھر آنا جانا اسکے محلے والوں کو نہيں پسند۔۔!!
وہ دلبرداشتہ سے کہہ رہے تھے۔

”وہ کون ہوتے ہیں ناپسند کرنے والے۔۔ وہ آپکی کزن کا گھر ہے جب چاہیں جا سکتے ہیں۔۔“
ماہی کو حقيقتاً غصہ آیا تھا۔ وہ اپنے باپ کے حالات و واقعات سے اچھے سے واقف تھی۔

”وہ کہہ رہی تھی کہ ایک بیوہ جسکی دو جوان بیٹیاں ہوں اسکے گھر میرے یوں آنے جانے سے اسکی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔۔!!

”تو بابا آپ انہيں اپنے گھر لے آٸیں۔۔!!

”وہ نہيں آٸے گی۔۔ کیسے لے کر آٶں؟؟“
وہ شکستہ دل کے ساتھ پوچھ رہے تھے۔

”بابا آپ ان سے ایسا رشتہ بنائيں جس سے دنیا کا منہ بند ہوجاٸے اور لوگ آپکے اور انکے خلاف کوٸی بات نا کر سکیں۔۔!!
ماہی کی بات پر سیٹھ حمدان بری طرح چونکے تھے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: