Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 17

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 17

–**–**–

تو بابا آپ انہيں اپنے گھر لے آٸیں۔۔!!

”وہ نہيں آٸے گی۔۔ کیسے لے کر آٶں؟؟“
وہ شکستہ دل کے ساتھ پوچھ رہے تھے۔

”بابا آپ ان سے ایسا رشتہ بنائيں جس سے دنیا کا منہ بند ہوجاٸے اور لوگ آپکے اور انکے خلاف کوٸی بات نا کر سکیں۔۔!!
ماہی کی بات پر سیٹھ حمدان بری طرح چونکے تھے۔

”اوکے بابا مجھے کام ہے۔۔ میں کچھ دیر بعد کال کرتی ہوں آپکو۔۔!!“
ماہی فون بند کرچکی تھی مگر وہ سیٹھ حمدان صاحب کو گہری سوچ میں ڈال گٸی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”اماں یہ مہنگا موبائل ہے میں کیسے رکھ سکتی ہوں۔۔۔!!
وہ آسیہ بیگم کے پاس کھڑی تھی۔

”خود ہی تو کہہ رہی تھی کہ تمہيں بہت ضرورت پڑتی ہے۔۔

”ہاں ضرورت ہے لیکن انہيں کس نے بتایا۔۔؟؟“
حانم کو اچھا نہيں لگ رہا تھا۔۔ وہ ایک خود دار لڑکی تھی۔ پہلے ہی حمدان صاحب انکے لیۓ بہت کچھ کر رہے تھے اور اب اوپر سے۔۔ وہ الجھ کر رہ گٸی تھی۔

”میں نے تو نہيں بتایا۔۔ انہوں نے اپنی مرضی سے بھیجا ہے۔۔ نہيں رکھنا تو ٹھیک ہے واپس کردینگے۔۔!!
آسیہ بیگم نے صاف بات کی۔

”امی انکل کو برا لگے گا۔۔ انہوں نے اتنے پیار سے تحفہ دیا ہے۔۔ اور ہانی تمہيں اچھی طرح سے پتا ہے کہ تحائف واپس کرنا اچھی بات نہيں ہے۔۔!!
ماہم نے سمجھداری کی بات کی تھی۔

”ویسے اگر تم نے نہيں رکھنا تو مجھے دےدو۔۔!!
ماہم نے شرارت سے کہا تھا جبکہ حانم اسے گھورتی اندر چلی گٸی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”انکل اتنا مہنگا گفٹ دینے کی کیا ضرورت تھی۔۔؟؟“
وہ حمدان صاحب کا نمبر ملاٸے اب ان سے بات کر رہی تھی۔

”کیوں بیٹا پسند نہيں آیا آپکو؟؟“
انہوں نے پریشانی سے پوچھا۔

”نہيں انکل۔۔ ایسی بات نہيں ہے لیکن۔۔

”لیکن کیا بیٹا۔۔ کل کو آپ یونيورسٹی جاٸیں گی آپکو بہت ضرورت پڑنے والی ہے۔۔!!
یونيورسٹی کا نام سن کر حانم کے دل میں حسرت ابھری تھی۔ اب وہ کیا کہتی کہ وہ لوگ اتنا کچھ افورڈ نہيں کرسکتے تھے۔

”انکل۔۔ پتا نہيں یونيورسٹی جانا بھی ہے یا نہيں اور اگر قسمت لے کر گٸی تب لے لیتی نا۔۔

”کیوں۔۔ قسمت کی بات کیوں۔۔ کیا آپ مزید تعلیم جاری نہيں رکھنا چاہتیں؟؟“
وہ بہت شاٸستگی سے پوچھ رہے تھے۔

”ایسی بات نہيں ہے انکل۔۔
حانم سے کوٸی جواب نہيں بن رہا تھا۔ اسے شرمندگی سی محسوس ہو رہی تھی۔

”اچھا آپ ایسا کریں کہ جس یونيورسٹی میں دل چاہے اپلاٸے کردیں باقی میں خود دیکھ لونگا۔۔!!
حمدان صاحب کی بات نے اسے سن کر دیا تھا۔

”لیکن انکل۔۔۔
”جانتا ہوں کہ آپ بہت خود دار بچی ہیں میں کوٸی احسان نہيں کر رہا۔۔ یہ ایک قرض ہوگا جب آپ اس قابل ہو جاٸیں اتار دینا۔۔!!
حانم کی آنکهوں میں نمی سی پھیلی تھی۔ شاید اسکی دعائيں سن لی گٸی تھیں۔
اسے سمجھ نہيں آرہا تھا کہ کیا جواب دے۔ اچانک ہی جیسے بہت مضبوط سہارا اللہ نے انکے لیۓ بنا دیا تھا۔

وہ مزید کچھ باتيں کرنے کے بعد فون بند کر چکی تھی۔ اسکی خوشی کی انتہا نہيں رہی تھی۔۔ حانم کو لگ رہا تھا جیسے اسکے خواب اسکے بہت قریب ہیں۔۔ وہ ہاتھ بڑھاٸے گی اور انکی تعبير پا لے گی۔
لیکن شاید وہ یہ بھول گٸی تھی کہ خوابوں کی تعبير کبھی کبھی الٹی بھی نکل آتی ہے۔۔
یہ خواب انسان کو کاميابی کی بلندیوں پر لے جانے کی بجاٸے ایسے اندھیروں میں پھینک دیتے ہیں جہاں انسان ساری عمر تڑپتا اور سسکتا رہتا ہے لیکن ان اندھیروں سے نہيں نکل سکتا۔۔
اور تاریخ گواہ ہے عورت کو خواب دیکھنے کی ہر زمانے میں ایک بہت بھاری قیمت چکانی پڑی ہے۔۔!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”میں دعا کر رہی ہوں مہرو کہ میرا پنجاب یونيورسٹی (University of Punjab,Lahore) میں داخلہ ہو جاٸے۔۔ تاکہ میں انکل پر زیادہ بوجھ نا بنوں۔۔“
مہرو اس سے ملنے گھر آٸی تھی دونوں نے ایک ساتھ ایم ایس سی کیلیے تین چار یونيورسٹیوں میں اپلاٸے کیا تھا۔

”تم جہاں ایڈمیشن لو گی میں تمہارے ساتھ رہوں گی ہانی۔۔ فکر نا کرو۔۔!!
مہرو نے اسے دلاسہ دیا تھا۔

”وہ تو میں جانتی ہوں لیکن PU مجھے اچھی لگتی ہے بس دعا کرو میں وہاں چلی جاٸیں۔۔ بہت بڑی ہے میں نے سرچ کیا تھا نیٹ پر۔۔
اتنی بڑی ہے کہ انسان وہاں جا کر گم ہوجاٸے۔۔!!
وہ ناجانے کس احساس کے تحت کھوٸے کھوٸے سے لہجے میں کہہ رہی ہے۔

”کیا اول فول بول رہی ہوں ہانی۔۔ ہزار دفعہ کہا ہے کہ ایسی باتيں نا کیا کرو۔۔۔!!
آسیہ بیگم نے سخت سے لہجے میں کہا تھا۔

”بس آنٹی یہ ایسے ہی کرتی ہے۔۔ میرا حوصلہ ہے جو میں اسے جھیلتی ہوں۔۔!!
مہرو نے شرارت سے کہا تھا۔

”بس بس۔۔ اب مل جاٶ دونوں۔۔ ساری غلطی میری ہی ہے۔۔!!
وہ ایک دم ناراض ہوگٸی تھی۔ جبکہ مہرو اسکے منہ بنانے پر ہنس دی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ پلے گراؤنڈ باسکٹ بال کی پریکٹس کر رہا تھا جب موبائل پر آنے والی کال نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔

”کون ہے یہ ربیش تنگ کیے جارہا ہے۔۔!!
آرجے نے بڑبڑاتے ہوٸے غصے سے موبائل جیب سے نکالا اور سکرین پر ابھرنے والا نام دیکھ کر زبان دانتوں تلے دبا لی۔
”ہاٸے بڑے ڈیڈ کیسے ہیں آپ؟؟“
وہ ضیا ٕ جبیل کو بڑے ڈیڈ کہہ کر پکارتا تھا۔

”میں ٹھیک ہوں تم سناٶ کیسے ہو؟؟“

”میں ایک دم فٹ ہوں۔۔۔ کیسے یاد کیا آپ نے؟؟“
آرجے حیران تھا۔

”تمہارا بی بی اے مکمل ہوگیا ہے نا۔۔؟؟“

”جی۔۔۔ ہوگیا مکمل۔۔۔“

”تو تم لندن چلے جاٶ۔۔ یا پھر امریکہ۔۔ یا حشام کے پاس۔۔ میں چاہتا ہوں تم ایم بی اے کرو اور پر بزنس میں میرا ساتھ دو۔۔ تم حشام کو تو اچھے سے جانتے ہو اسے بزنس میں دلچسپی نہيں۔۔ وہ تمہارے بابا کی طرح گدی پر بیٹھے گا سیاست کرے گا اور لوگوں کی خدمت کرے گا۔۔!!!
انہوں نے صاف صاف اپنی بات مکمل کی تھی۔

آرجے کے چہرے پر واضح ناگواری پھیلی تھی۔

” بڑے ڈیڈ آپ مجھے اچھے سے جانتے ہیں میں وہی کام کرتا ہوں جو میرا دل چاہے۔۔۔
اور میں اپنی یونيورسٹی کو چھوڑ کر ابھی تو نہيں جانے والا۔۔ البتہ اگر کچھ ماہ میں میرا موڈ بدل گیا تو آپکو بتادونگا۔۔!!

”لیکن تمہیں اب۔۔

”ڈیڈ میر میچ ہے میں بعد میں بات کرتا ہوں۔۔“
وہ انکی بات سنے بنا فون بند کر چکا تھا۔

”کیا مصيبت ہے یار کیوں پیچھے پڑ گٸے ہیں میرے۔۔ جینے کیوں نہيں دیتے۔۔!!
آرجے نے بڑبڑاتے ہوٸے موباٸل آف کیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”دیکھو آسیہ میں تم سے بہت ضروری بات کرنے آٸی ہوں میری بات کو دھیان سے سننا۔۔۔“
زبیدہ آپا آج پھر انکے گھر حاضر تھیں۔
حانم کو کچھ غیر معمولی سا محسوس ہو رہا تھا۔

”یہ پھر آگٸی لوگوں کی برائیاں کرنے۔۔۔!!
ماہم نے ناگواری سے کہا تھا۔

”مجھے کچھ ٹھیک نہيں لگ رہا۔۔!!
حانم کا دل ناجانے کیوں ڈر رہا تھا۔

”جی جی۔۔ آپا بولیں۔۔!!
آسیہ بیگم نے متوجہ ہوتے ہوٸے کہا تھا۔

”ارے شکر ادا کرو آسیہ میں تمہاری بیٹی یعنی اپنی ہانی کیلیے رشتہ لاٸی ہوں۔۔!!
حانم تو انکی بات سن کر دھک سے رہ گٸی تھی۔

”رشتہ۔۔ لیکن میں نے تو آپ سے نہيں کہا تھا۔۔“
آسیہ بیگم حیران تھیں۔

”اسی لیے تو کہہ رہی ہوں کہ شکر ادا کرو۔۔ گھر بیٹھے ہی اللہ نے تمہاری سن لی۔۔ شاید اللہ کو یتیم بچی پر ترس آگیا۔۔ اس لیے خود ہی رستہ آسان کردیا۔۔!!
زبیدہ آپا کی بات سن کر حانم کے اندر چھن سے کچھ ٹوٹا تھا۔
یتیمی اور غربت انکے لیے گالی بن کر رہ گٸی تھی۔

”لگتا ہے یہ اس دن والی عزت بھول گٸی ہیں آج دوبارہ کرنی پڑے گی۔۔!!
ماہم نے رسالہ ایک طرف رکھا اور بیڈ سے نیچے اتر جوتے پہنتے ہوٸے کہا تھا۔

”میں کچھ سمجھی نہيں آپا۔۔ کس کا رشتہ۔۔؟؟

”طارق کو جانتی ہو نا۔۔ یہ جو دورسری گلی میں رہتا۔۔ اسکا رشتہ لاٸی ہوں۔۔ اسکے گھر والے دلوں جان سے قبول کرنے کو تیار ہیں اپنی بچی کو۔۔!!

”کیسی باتیں کر رہی ہیں آپا آپ۔۔۔؟؟ وہ طارق محلے کا سب سے بدنام لڑکا ہے۔۔ آپ اسکے لیے میری ہانی کا رشتہ۔۔؟؟
آسیہ بیگم تو دنگ رہ گٸی تھی۔ جبکہ طارق کا نام سن کر حانم کا دماغ گھوما تھا۔
وہ ایک انتہائی گھٹیا قسم کا لڑکا تھا۔ وہ جب بھی کالج اور اکیڈمی جاتی تھی اکثر چوک پر کھڑا ملتا تھا۔
پان چباتا۔۔ سرخ دانت۔۔ حانم کو اسے دیکھ کر گھن آتی تھی۔ وہ اسے دیکھ کر منہ چھپا لیتی تھی۔

”ارے کیا ہوگیا۔۔ دیکھا بھالا لڑکا ہے۔۔ اور ویسے بھی کون لیتا ہے آج کل غریب اور یتیم کی بیٹی کا رشتہ۔۔ وہ تو بھلا ہو اس طارق کا جو اس نے خود رشتے کی بات کی ہے۔۔۔“

”کتنے پیسے دیے ہیں اس لفنگے نے آپکو۔۔ جو آپ یہاں اسکا رشتہ لینے آگٸی۔۔ شکل دیکھی ہے اس نے اپنی۔۔ میرا بس چلے نا جوتی ماروں اسکے منہ پر۔۔!!
ماہم زبیدہ آپا کے سامنے آکر ایک دم پھٹ پڑی تھی۔

”زبان سنبهال کر بات کرو لڑکی۔۔۔ اپنی اوقات دیکھی ہے تم لوگوں نے۔۔ گھر آٸی رحمت کو ٹھکرا رہے ہو۔۔!!
زبیدہ آپا نے بھڑک کر کہا تھا۔

”ہم لوگ اپنی اوقات اچھے سے جانتے ہیں۔۔ اوقات تو آپ دکھانے آٸی ہیں اپنی۔۔ چار پیسے لے کر دین ایمان بیچ کر ایک گھٹیا لڑکے کو نیک اور شریف بنا رہی ہیں۔۔!!
ماہم کا غصہ ساتویں آسمان کو چھو رہا تھا۔
ایسا ہی کچھ حال حانم کا بھی لیکن وہ شاکڈ تھی۔

”ماہم تم چپ کرو۔۔ اور اندر جاٶ۔۔
دیکھیں زبیدہ آپا مجھے ابھی شادی نہيں کرنی اپنی بیٹیوں کی۔۔اور نا ہی مجھے یہ رشتہ قبول ہے۔۔ جب کرنا ہوگا میں آپکو بتا دونگی۔۔!!
آسیہ بیگم کی بات سن کر حانم کی روح تک سکون اتر گیا تھا۔

”ارے شادی نا سہی منگنی تو کرلو۔۔ سہارا ہوگا ایک۔۔ ویسے بھی اکیلی لڑکیوں کا یوں باہر آناجانا اچھا نہيں ہوتا۔۔!!
انہوں نے حانم کے کالج اور شام کو اکیڈمی جانے پر طعنہ مارا تھا۔

”آپ اٹھیں اور نکلیں ابھی ہمارے گھر سے۔۔ ہمیں کوٸی منگنی شنگنی نہيں کرنی۔۔“
ماہم نے آگے بڑھ کر باہر کا دروازہ کھولا تھا۔
زبیدہ آپا کا منہ اس عزت افزاٸی پر غصے سے سرخ ہوگیا تھا۔

”اچھا نہيں کیا تم نے آسیہ۔۔ بہت برا کیا۔۔!!
وہ آسیہ بیگم سے کہہ رہی تھیں۔

”اپنے گھر جا کر سوچیے گا اچھا کیا یا برا۔۔ بس ہمارے گھر سےجاٸیں۔۔!!
ماہم کے کہنے پر وہ ان سب کو اور خاص طور پر حانم کو ،جو ابھی کمرے سے باہر نکلی تھی، گھورتی جا چکی تھیں۔

”پتا نہيں کیسے کیسے لوگ ہیں منہ اٹھا کر آجاتے ہیں۔۔!!
دروازہ بند کر کے ماہم بڑبڑاتی واپس کمرے میں چلی گٸی تھی۔ جبکہ حانم نے آسیہ بیگم کو گہری سوچ میں ڈوبا دیکھ کر ایک ٹھنڈی آہ بھری تھی۔

”یا اللہ پاک رحم کر ہم پر اپنا۔۔!!
وہ نم آنکهوں سے دعا کر رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”یار آرجے آج کل مجھے عجیب سی بےچینی ہو رہی ہے۔۔

مکی آرجے کے پاس بیٹھا کہہ رہا تھا۔

کسی نٸی لڑکی پر دل آگیا ہے کیا؟؟“
آرجے نے سگریٹ سلگاتے ہوٸے پوچھا۔

”نہيں۔۔ ایک پرانی ہے۔۔ بس دل کرتا ہے وہ مل جاٸے کہیں سے۔۔ اسے حاصل کرنے کی طلب بڑھ سی گٸی ہے۔۔!!
اور آرجے نے مکی کی بات پر قہقہہ لگایا تھا۔

“تم پاگل ہوگٸے ہو مکی۔۔ ایک مڈل کلاس لڑکی۔۔ جو بقول تمہارے جاہل سی ہے اسکے لیے مر رہے ہو۔۔!!
آرجے نے اسکا مذاق اڑایا۔

“یار جاہل تو واقعی ہے اس لیے تو کبھی ملنے نہيں آٸی مجھ سے اور عرصہ ہوگیا کبھی بات نہيں کی۔۔ لیکن پھر بھی دلکش بہت ہے۔۔!!
مکی نے اسکی تصویر کو ذہن میں لاتے ہوٸے کہا جو اس نے اپنی کزن کے موبائل میں دیکھی تھی۔

”اگر اتنی دلکش ہے تو جاٶ نا۔۔ گھر کا پتہ ڈھونڈو اور اٹھا کر لے آٶ اسے۔۔!!
آرجے نے پھر قہقہہ لگایا تھا۔

”کچھ ایسا ہی کرنا پڑے گا۔۔!!
مکی خباثت سے ہنسا تھا۔

”یار ویسے میرا تو اس لڑکی سے کوٸی رشتہ نہيں تم تو بڑے دل والے ہو۔۔ بھابھی کو چھوڑ دیا نکاح کرکے۔۔!!
مکی نے ایک آنکھ دباتے ہوٸے کہا تھا۔

”ویسے ماننا پڑے گا یار۔۔ موبائل تو اسکے پاس بٹنوں والا تھا اور غرور توبہ توبہ۔۔
وہ خالص جاہلانہ قسم کے انداز میں بولا تھا۔۔ بالکل مکی والا انداز۔۔!!
آرجے کو اچھے سے یاد تھا کہ حانم کے پاس اسمارٹ فون نہيں تھا۔
اسکی بات سن کر مکی کا چھت پھاڑ قہقہہ گونجا تھا۔

”اوکے یار۔۔ ٹاپک چینج کرو۔۔ دماغ نا خراب کرو۔۔!!

“یہ کس کی #جستجو رکھتی ھے #الجھنوں میں مجھے

وہ کون ھے؟ جو مجھے مل نہیں رہا مجھ میں!””

ایک پل کے اندر وہ واپس آرجے بن گیا تھا۔۔ جسے کسی چیز سے نا فرق پڑتا تھا اور نا کسی چیز سے دلچسپی تھی۔ لیکن ناجانے کیوں حانم کے ذکر پر اسے عجیب سی بےچینی ہوٸی تھی۔
اور مکی کو کبھی کبھی حیرت ہوتی تھی کہ آرجے ام حانم کا مذاق کیسے اڑا لیتا تھا اسکے ساتھ مل کر۔۔
حالانکہ اس نے کبھی کسی لڑکی کو موضوع گفتگو نہيں بنایا تھا۔
آرجے نے سگریٹ کا ایک گہرہ کش لے کر دھواں فضا میں اچھالا تھا۔
جبکہ مکی نے موبائل نکال کر دوبارہ سے وہ نمبر ملایا تھا جو اس نے کچھ عرصہ پہلے پیرس کے ریسٹورینٹ میں ملایا تھا جو بند جا رہا تھا۔
لیکن خلاف معمول اس وقت اس نمبر پر بیل جا رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زبیدہ آپا کی باتوں نے حانم کو پریشانی میں ڈال دیا تھا۔
ناجانے کیوں اسکا دل ڈر رہا تھا۔ ابھی بھی وہ نماز پڑھ کر دعا مانگ کر اٹھی تھی جبکہ موبائل پر ہونے والی بپ نے اسے متوجہ کیا تھا۔
جب وہ نماز پڑھ رہی تھی تب فون بھی آیا تھا لیکن اس نے غور نہيں کیا۔

”ابھی تک ناراض ہو جان۔۔؟؟“
نمبر اور میسج دیکھ کر حانم کو چہرہ سرخ ہوا تھا۔
ابھی کل ہی اس نے اس موبائل میں اپنی پرانی سم ڈالی تھی۔ اسے کچھ نمبروں کی ضرورت تھی جو اس نے نٸی سم میں کاپی کیئ تھے۔
اور آج اسے پھر میسج آگیا تھا۔
حانم کا دل مزید برا ہوا تھا۔ اس سمجھ نہيں آرہا تھا کہ وہ ایسا کیا کرے جس سے وہ شخص اسکی جان چھوڑ دے۔

”خدا سے ڈرو ابن آدم۔۔ خدا سے ڈرو۔۔!!
کانپتے ہاتھوں اور نم آنکهوں سے حانم نے میسج ٹائپ کرکے سینڈ کردیا تھا اور پھر موبائل بند کرنے کے بعد وہ ایک بار پھر سے رو دی تھی۔
لیکن وہ یہ نہيں جانتی تھی کہ اسکے یہ الفاظ دوسری جانب موجود شخص کو اندر تک جھنجھوڑ گٸے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حمدان صاحب کا فون آیا تھا۔ ناجانے اس بار آسیہ بیگم خود پر ضبط نہيں رکھ پاٸی تھیں اور انہوں نے روتے ہوٸے طارق کے متعلق سب کچھ حمدان کو بتادیا تھا۔
وہ اکیلی عورت تھک گٸی تھی حالات کا مقابلہ کر کر کے۔۔
طارق نے دھمکی دی تھی کہ شادی تو وہ حانم سے ہی کرے گا۔۔ ورنہ اچھا نہيں ہوگا۔

آسیہ بیگم کو روتا دیکھ کر سیٹھ حمدان کا پارہ ہاٸی ہوا تھا۔
انکا دل کر رہا تھا کہ وہ ابھی اس لڑکے کو شوٹ کردیں۔

”آسیہ روئیں نہيں اور میری بات غور سے سنو۔۔ جب تک میں ہوں نا کوٸی تم لوگوں کو کچھ نہيں کہہ سکتا۔۔

”آپ کب تک ساتھ دینگے ہمارا۔۔؟ اس بات کا بھی لوگ غلط مطلب نکال رہے ہیں۔۔!!
آسیہ بیگم نے دکھی لہجے میں کہا تھا۔

”میں ہمیشہ ساتھ دونگا۔۔ بس تم ایسا کرو کہ مجھے ساتھ دینے کا حق دےدو۔۔
مجھ سے نکاح کرلو آسی۔۔ نکاح کرلو۔۔!!
جس بات کو کرنے کیلیے وہ اتنے دنوں سے الفاظ ڈھونڈ رہے تھے۔ اور بات کرنے کی ہمت نہيں تھی۔ وہ آج ایک ہی پل میں کہہ گٸے تھے۔
آسیہ بیگم کو لگا تھا کہ انہوں نے کچھ غلط سنا ہو۔۔
وہ حیرت سے منہ کھولے موبائل کو دیکھ رہی تھیں جس سے حمدان کی آواز ابھر رہی تھی۔۔!!

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: