Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 18

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 18

–**–**–

میں ہمیشہ ساتھ دونگا۔۔ بس تم ایسا کرو کہ مجھے ساتھ دینے کا حق دےدو۔۔
مجھ سے نکاح کرلو آسی۔۔ نکاح کرلو۔۔!!
جس بات کو کرنے کیلیے وہ اتنے دنوں سے الفاظ ڈھونڈ رہے تھے۔ اور بات کرنے کی ہمت نہيں تھی۔ وہ آج ایک ہی پل میں کہہ گٸے تھے۔
آسیہ بیگم کو لگا تھا کہ انہوں نے کچھ غلط سنا ہو۔۔
وہ حیرت سے منہ کھولے موبائل کو دیکھ رہی تھیں جس سے حمدان کی آواز ابھر رہی تھی۔۔!!

”آپکا دماغ خراب ہوگیا ہے حمدان شرم نہيں آتی ایسی بات کرتے ہوٸے۔۔؟؟”
آسیہ بیگم بھڑک اٹھی تھی۔
آسیہ کا بھڑکنا بھی بجا تھا
اپنے آفس میں بیٹھے حمدان نے پریشانی سے چہرے پر ہاتھ پھیرا تھا۔

”میری بات سنو آسیہ۔۔ یہ وقت بحث کرنے کا نہيں ہے۔۔!!!
حمدان نے اسے سمجھانا چاہا۔

”مجھے آپکی کوٸی بات نہيں سننی۔۔ آپ نے یہ سوچا بھی کیسے؟؟“
آسیہ روہانسی ہوگٸی تھی۔
وہ جانتی تھی ہمارا معاشرہ کس قدر منافق ہے اسے وہ تمام اسلامی واقعات یاد ائے جب متعدد بار بیوہ سے نکاح معزز لوگوں نے کیے تھے جیسا کہ

“”ﻏﺰﻭﮦ ﻣُﻮﺗﮧ ﺳﮯ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮐﺎ ﻣﻨﻈﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺳﻤﺎﺀ ﺑﻨﺖ ﻋﻤﯿﺲ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻋﻨﮩﺎ ﻣﺠﺎﮨﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮐﯽ ﺧﺒﺮﯾﮟ ﺳُﻦ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﯿﺎﺭﮮ ﺷﻮﮨﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﺟﻌﻔﺮ ﻃﯿﺎﺭ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﭽﮭﺎﺋﮯ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﮨﯿﮟ، ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ، ﺩُﻭﺭ ﺳﮯ ﺁﮨﭧ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﻨﺎﺋﯽ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺟﻌﻔﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﻧﺒﯽ ﭘﺎﮎ ﻣﺤﻤﺪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺍﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺫﺍﺕِ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﮨﮯ، ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺳﻤﺎﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮩﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯﮮ ﮨﯽ ﺳﮯ ﺳﻤﺠﮫ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﮨﻢ ﺳﻔﺮ، ﮨﺠﺮﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﺎﺭﮮ ﺷﻮﮨﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﺟﻌﻔﺮ ﻃﯿﺎﺭ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺑﭽﮭﮍ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ –
ﯾﮩﯽ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺳﻤﺎﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮩﺎ ﮐﻮ ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﻨﮩﺎ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ –
ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﻣﺤﻤﺪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺍﻭﺭ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﺗﺮﺑﯿﺖ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﮐﺎ ﻭﺳﯿﻊُ ﺍﻟﻘﻠﺒﯽ ﻭﺍﻻ ﺩَﻭﺭ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺑﯿﻮﮦ ﮐﻮ ﮐﯿﺴﮯ ﺍِﻥ ﺣﺎﻻﺕ ﻭ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﺩﮬﮑﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﮐﯿﻼ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ؟
ﯾﺎﺭِﻏﺎﺭ، ﻏﯿﺮ ﺍﻧﺒﯿﺎﺀ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﻓﻀﻞ ﺷﺨﺺ ﯾﻌﻨﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺑﮑﺮ ﺻﺪﯾﻖ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧٰ ﻧﮯ ﺍُﻧﮭﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻭﺟﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺎﭖ ﺟﯿﺴﯽ ﮔﮭﻨﯽ ﺷﻔﻘﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﺴﺮ ﺁ ﮔﺌﯽ، ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺍُﻧﮭﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﯿﭩﺎ ﺑﮭﯽ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﯾﺎ۔
ﭘﮭﺮ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺑﮑﺮ ﺻﺪﯾﻖ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﮐﺎ ﻭﺻﺎﻝ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ، ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺳﻤﺎﺀ ﺑﻨﺖ ﻋﻤﯿﺲ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮩﺎ ﻧﮯ ﻏﺴﻞ ﺩﻟﻮﺍﯾﺎ۔
ﺩﻭ ﺩﻓﻌﮧ ﺑﯿﻮﮦ ﮨﻮﻧﺎ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺗﻨﮓ ﻧﻈﺮ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﻧﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻏﯿﺮﺕ ﻣﻨﺪ ﺭﺟﻼﻥ ﺍﻥ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﺎﻭﺍﻗﻒ ﺗﮭﮯ، ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﻓﻮﺭﺍً ﻣﻌﺎﺷﺮﺗﯽ ﺩﮬﺎﺭﮮ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﺁﮨﻨﮓ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﺗﻦ ﺗﻨﮩﺎ ﻧﻔﺴﯿﺎﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺬﺑﺎﺗﯽ ﺟﻨﮓ ﻧﮧ ﻟﮍﻧﯽ ﭘﮍ ﺟﺎﺋﮯ۔
ﺍﺱ ﺩﻓﻌﮧ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻏﯿﺮﺕ ﮐﮯ ﭘﯿﮑﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﮩﯿﮟ؛ ﺑﻠﮑﮧ ﺷﯿﺮِ ﺧﺪﺍ، ﺍﺑﻮ ﺗﺮﺍﺏ، ﻓﺎﺗﺢِ ﺧﯿﺒﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﺗﮭﮯ۔ ﺁﭖ ﺣﻀﺮﺕ ﺟﻌﻔﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺻﺮﻑ ﺑﮭﺘﯿﺠﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﻔﺎﻟﺖ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﺑﻠﮑﮧ ﻓﺮﺯﻧﺪِ ﺍﺑﻮﺑﮑﺮ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﭘﺎﻻ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﮭﺘﯿﺠﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﺎﻻ –
ﯾﮧ ﮐﯿﺴﺎ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺍﯾﺴﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺣﻘﻮﻕ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﻣﺤﺎﻓﻆ ﺗﮭﺎ ﯾﮧ ﺳُﻦ ﮐﮯ ﺭﺷﮏ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﮨﻢ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﻥ ﺟﯿﺴﺎ ﺑﻨﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﻧﻔﺲ ﭘﺮ ﺯﺩ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﮐﯽ ﭼﺎﺩﺭ ﺍﻭﮌﮪ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺑﯿﻮﮦ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﺤﻔﻆ ﺩﯾﻨﺎ ﺍﯾﺴﺎ ﺍﺱ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺭﭼﺎ ﺑﺴﺎ ﮐﺎﻡ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻘﺮﯾﺮﮐﺮﻧﮯ، ﮐﻮﺋﯽ ﻣﮩﻢ ﭼﻼﻧﮯ، ﮐﻮﺋﯽ ﺣﮑﻤﺖِ ﻋﻤﻠﯽ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ۔
ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺭﻭﯾﮯ —- ؟؟؟
ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮐﯿﺰﮦ ﺻﺤﺎﺑﯿﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺎﺗﮑﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮩﺎ ﮐﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﻮﮞ ﮔﺎ –
ﭘﮩﻼ ﻧﮑﺎﺡ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﺍﺑﻮ ﺑﮑﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧٰ ﺳﮯ ﮨﻮﺍ، ﺁﭖ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮩﺎ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺟﻮﮌﮮ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﻋﺮﺏ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﺜﺎﻝ ﺑﻦ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ –
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﺍﺑﻮﺑﮑﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧٰ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﺁ ﮐﺮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻋﮩﺪ ﮐﺮﻭﺍ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﻭﻓﺎﺕ ﭘﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻧﮑﺎﺡ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﯽ۔
ﭘﮭﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧٰ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﺑﻌﺪ ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﻮﮦ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﻮ ﺗﻨﮩﺎ ﭼﮭﻮﮌﻧﮯ ﮐﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﻣﺤﯿﺮ ﺍﻟﻌﻘﻞ ﺗﮭﯽ، ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺑﮍﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﺁﭖ ﻧﮑﺎﺡِ ﺛﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧٰ ﺟﻮ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭼﭽﺎ ﺯﺍﺩ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﮯ ﺍُﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺎﺗﮑﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮩﺎ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﮑﺎﺡ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ۔ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧٰ ﺑﮭﯽ ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ۔
ﻋﺪﺕ ﭘﻮﺭﯼ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻋﺸﺮﮦ ﻣﺒﺸﺮﮦ ﺻﺤﺎﺑﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﺯﺑﯿﺮ ﺑﻦ ﺍﻟﻌﻮﺍﻡ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧٰ ﻧﮯ ﻧﮑﺎﺡ ﮐﺎ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺎﺗﮑﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮩﺎ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻧﮑﺎﺡ ﻣﯿﮟ ﺁ ﮔﺌﯿﮟ۔ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﺯﺑﯿﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮧٰ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﻡِ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﻧﻮﺵ ﮐﯿﺎ۔
ﺁﭖ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮩﺎ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﻋﺮﺏ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺟِﺴﮯ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮐﯽ ﺗﻤﻨﺎ ﮨﻮ ﻭﮦ ﺁﭖ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮩﺎ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﺡ ﮐﺮ ﻟﮯ – ﺍﺳﯽ ﻣﻨﺎﺳﺒﺖ ﺳﮯ ﺁﭖ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻨﮩﺎ ﮐﻮ ﺷﮩﺪﺍﺀ ﮐﯽ ﺯﻭﺟﮧ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ –
ﺍﺱ ﻋﻈﯿﻢ ﻣﺜﺎﻝ ﮐﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﺳﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮐﺮﯾﮟ !.
ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻟﻠﮧ … ﮐﯿﺴﺎ ﮐﮭﻠﮯ ﺩﻝ ﻭﺍﻻ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ ﮐﯿﺴﺎ ﺗﻨﮓ ﻧﻈﺮ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﭩﻦ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ ﮬﮯ، ﺍﯾﺴﺎ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ ﺟﮩﺎﮞ ﺑﯿﻮﮦ ﮐﻮ ﺗﻦ ﺗﻨﮩﺎ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﺟﻦ ﻣﺸﮑﻼﺕ ﻭ ﻣﺼﺎﺋﺐ ﮐﮯ ﭘﮩﺎﮌ، ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﻃﻌﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﯾﮧ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺯﻧدگی گزارتی ہیں معاشرہ ان سے جینے کا حق سلب کر لیتا ہے
وہ یہ تمام وقعات سوچ کر افسردہ سی خاموسخ اختیار کر گئی تھی””
“جسے حمدان نے اچھی طرح بھانپ کر بات بدلی اور مخاطب ہوئے؛

”اچھا یہ سب چھوڑو میری ہانی بیٹی سے بات کرواٶ مجھے ایک ضروری بات کرنی ہے۔۔!!
حمدان نے بات بدلتے ہوٸے کہا وہ چاہتا تھا کہ آسیہ اس بات کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کرے کس کے دباؤ میں آکر نہيں۔۔

”جی انکل۔۔ اسلام و علیکم! کیسے ہیں آپ؟؟“
آسیہ بیگم نے فون حانم کو پکڑا دیا تھا۔

”وعلیکم و اسلام۔۔ بیٹا آپ نے لسٹ چیک کی؟؟
فرسٹ لسٹ میں آپکا نام آچکا ہے۔۔ اب یہ بتائيں کہ واقعی آپ پنجاب یونيورسٹی میں ایڈمیشن لینا چاہتی ہیں؟؟“
وہ سنجيدہ سے پوچھ رہے تھے۔
جبکہ حانم تو دنگ رہ گٸی تھی اسے یقین نہيں آرہا تھا کہ وہ واقعی میرٹ پر پورا اتری ہے۔
کتنے ہی پل وہ خوشی سے کچھ بول نہيں پاٸی تھی۔

”بولیں ہانی بیٹا۔۔؟؟ “
وہ پوچھ رہے تھے۔

”جی جی۔۔ انکل۔۔ مجھے اسی یونيورسٹی میں پڑھنا ہے اب مجھے کیا کرنا ہوگا؟؟“
وہ پوچھ رہی تھی۔

”کچھ نہيں بس آپ نے کل تیار رہنا ہے بارہ بجے کے قریب میں لینے آٶنگا پھر آپکے ایڈمیشن کیلیے چلیں گے۔۔!!“
وہ اپنی بات مکمل کر کے فون بند کر چکے تھے۔
جبکہ حانم کا دل خوشی سے اڑ رہا تھا۔ وہ ایک دم جیسے سارے دکھ بھول گٸی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”تم سے میں نے کتنی بار کہا تھا کہ ہارنا ہے ہارنا ہے جورڈن۔۔ تمہيں بات سمجھ کیوں نہيں آتی ہے۔۔؟؟“
اینتھنی سر پر ہاتھ رکھے افسوس سے بیٹھے جورڈن سے کہہ رہا تھا۔

”ہر وقت سر پر خون کیوں سوار رہتا ہے تمہارے۔۔؟؟
اچھے بھلے ٹھیک جارہے تھے۔۔ اچانک تمہيں ہوا کیا تھا؟؟“

”مجھے نہيں پتا اینتھنی۔۔۔ مجھے کچھ سمجھ نہيں آرہا کہ مجھے ہوا کیا تھا۔۔ اچانک وہ ہاسپٹل والی لڑکی۔۔۔
وہ کہتا کہتا اچانک چپ ہوگیا تھا۔

”لڑکی۔۔ کونسی لڑکی۔۔؟؟ دیکھو جورڈن اگر کسی لڑکی کا چکر ہے تو ابھی ختم کردو۔۔ یہ لڑکياں مردوں کو کمزور بنا دیتی ہیں۔۔!!
اینتھنی نے اسے سمجھایا۔

”کوٸی چکر نہيں ہے۔۔ مجھے خود سمجھ نہيں آرہا کچھ۔۔!!
وہ چیخا تھا۔
اس سے پہلے اینتھنی کچھ کہتا جورڈن کے موبائل پر آنے والی کال نے اسے متوجہ کیا تھا۔

”ہیلو مسٹر جورڈن۔۔۔ کہاں ہیں آپ؟؟ آپکی مدر کی حالت بہت نازک ہے۔۔ انکا آپریشن کرنے پڑا گا اگر آپ کچھ دیر تک پیسے لے کر نا پہنچے تو ہم آپریشن نہيں کرینگے۔۔ اور انکا بچنا مشکل ہو جاٸے گا۔۔!!
ڈاکٹر کی بات سن کر جورڈن کے چہرے کی ہوائیاں اڑ گٸی تھی۔

”آپ آپریشن کی تیاری کریں ڈاکٹر میں بس پہنچ رہا ہوں۔۔!!
وہ ایک دم کھڑا ہوا تھا۔

”مجھے پیسے چاہیئ اینتھنی۔۔ مام کا آپریشن ہے اور لازمی ہے۔۔!!
پیسوں کا ذکر سن کر اینتھنی نے منہ بنایا تھا۔

”جو کام تم نے کیا ہے نا اسکے بعد ایک پیسہ نہيں بنتا تمہارا۔۔

”مجھے پیسے چاہیے اینتھنی۔۔ کہا نا دوبارہ ایسا نہيں ہوگا۔۔ تم جیسے کہو گے میں ویسے ہی کرونگا۔۔!!
وہ اتنی زور سے چلایا تھا کہ اینتھنی ڈر کر پیچھے ہوا تھا۔ وہ جورڈن کے غصے سے اچھے سے واقف تھا۔

”کک۔۔ کتنے پیسے۔۔؟؟
اینتھنی نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔

”جتنے بھی ہیں سب دے دو۔۔!!
وہ پریشان سا کہہ رہا تھا۔
کچھ دیر بعد اینتھنی نے پیسوں کا بیگ اسکے سامنے رکھا تھا۔

”شام کو فاٸٹ ہے۔۔۔ جو تمہيں ہرحال میں جیتنی ہے۔۔ سمجھ گٸے نا تم۔۔؟؟“
اینتھنی نے کہا تھا۔

”ہاں۔۔۔!!
جورڈن اثبات میں سر ہلاتا پیسے لے کر باہر نکل گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آسیہ بیگم کو اس رات نیند نہيں آٸی تھی۔ حمدان اور طارق کی باتوں نے اسکا سکون ختم کردیا تھا۔
وہ ساری رات جاگتی رہی تھی۔
کبھی حانم کو چہرہ دیکھتی تو کبھی طارق کا خیال اسے جھنجھوڑ دیتا۔

”میری ہانی اس طارق کیلے نہيں بنی۔۔“
وہ خود سے کہہ رہی تھیں۔

”اورحمدان اس نے ایسا سوچا بھی کیسے۔۔ وہ شادی شدہ ہے۔۔ ایک بیٹی کا باپ ہے۔۔ پھر اسکے ذہن میں یہ خیال کیسے آیا؟؟“
حمدان کی باتیں اسے سلگنے پر مجبور کر رہی تھیں۔
ساری رات سوچتے سوچتے گزر گٸی لیکن وہ کسی نتيجے پر نہيں پہنچ پاٸی تھیں۔

”ہمیں یہ محلہ چھوڑ کر چلے جانا چاہیے۔۔ لیکن جاٸیں کہاں؟؟
سوال اسے الجھا رہے تھے۔
جب وہ کسی فیصلے پر نہيں پہنچ پاٸی تو خدا کے حضور کھڑی ہوگٸی۔

”یااللہ ہماری مدد فرما۔۔ ہمارا اس دنیا میں تیرے سوا کوٸی بھی نہيں۔۔ ہم پر رحم کر مالک۔۔!!
وہ ناجانے کتنی دیر دعا مانگتی رہی تھیں۔
اللہ کے حضور رونے اور گڑگڑانے سے اسکا دل ہلکا ہوگیا تھا۔ اسے یقین تھا کہ اللہ انکی مدد ضرور کرے گا۔ بیشک وہ سننے اور جاننے والا ہے۔!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”جورڈن بیٹا تم آگٸے۔۔ آگٸے میرے بچے۔۔!!“
مارتھا نے تھوڑی سی آنکهيں کھول کر جورڈن کو دیکھا تھا جو اسکا ہاتھ تھامے پاس بیٹھا تھا۔

”مام آپ ٹھیک ہو جاٸیں گی۔۔ میں پیسے لے آیا ہوں۔۔ آپکا آپریشن ہوگا اور پھر آپ ٹھیک ہو جاٸیں گی۔۔!!
جورڈن نے نم آنکهيں سے کہا تھا اور اپنی ماں ہاتھ ہونٹوں سے لگایا تھا۔

”نہيں۔۔ میں اب اور نہيں جی سکتی۔۔

”مام ایسی باتيں مت کریں۔۔ آپکو جینا ہے۔۔ ہمارے لیے۔۔ میرے لیے۔ اپنے جورڈن کیلیے۔۔!!
وہ رو دیا تھا۔

”میری بات دھیان سے سنو۔۔
مارتھا نے اپنی ٹوٹتی سانسوں کے ساتھ کہا تھا۔

”تمہارا ڈیڈ۔۔

”مت نام لیں اس شخص کا مام۔۔ مجھے نفرت ہے ان سے۔۔!!
جورڈن نے انکی بات کاٹی تھی۔ اسکے اندر اپنے باپ کے ذکر پر اذیت سی پھیل گٸی تھی۔

”نہيں بیٹا۔۔ وہ تم سے بہت پیار کرتا تھا۔۔
اور مجھ سے بھی۔۔

”اگر وہ پیار کرتے وہ چھوڑ نا جاتے مام۔۔
جورڈن کی آنکهوں سے ایک آنسو پھسل کر مارتھا کے ہاتھ پر گرا تھا جسے اس نے اپنے ہاتهوں میں تھام رکھا تھا۔

”وہ مجبور تھا میرے بچے۔۔ مجبور تھا۔۔
تم میرے بعد اسکے پاس چلے جانا۔۔ دیکھنا وہ تمہيں اپنا لے گا۔“

”نہيں میں نہيں جاٶں گا۔۔ مام آپکو میرے لیے جینا ہے۔۔ اگر آپکو کچھ ہوا نا تو میں اس شخص کو نہيں چھوڑوں گا۔۔!!
جورڈن کی آنکهوں میں خون اتر آیا تھا۔

” تم ایسا کچھ نہيں کرو گے جورڈن۔۔ تم خوش رہو گے۔۔!!
مارتھا نے اسے نصیحت کی تھی۔

”آپریشن کا ٹائم ہوچکا ہے مسٹر جورڈن۔۔ ہمیں انہيں لے جانا ہوگا۔۔!!
ڈاکٹر نے کہا تھا۔
جورڈن نے آگے بڑھ کر اپنی ماں کی پیشانی پر بوسہ دیا تھا۔
مارتھا نے ایک شفیق سی مسکراہٹ لیے اسے دیکھا تھا اور پھر ڈاکٹرز اسے آپریشن تھیٹر میں لے گٸے تھے۔
وہ نم آنکهوں سے اپنی کل کاٸنات کو جاتے دیکھ رہا تھا۔
اسکے جانے کے بعد جورڈن کو یاد آیا تھا کہ اسکی فاٸٹ تھی جو اسے کسی بھی قیمت پر جیتنی تھی۔
وہ آنکهوں کو صاف کرتے باہر کی طرف بڑھ گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”ہانو آپی انکل آگٸے ہیں باہر۔۔ جلدی آجاٶ۔۔!!
جواد نے خبر دی۔
حانم تیار تھی۔ اس نے چادر اٹھا کر اچھی طرح سے اوڑھا تھا۔

”دھیان رکھنا اپنا۔۔ اور جب ایڈمیشن ہو جاٸے تو فون کر دینا۔۔!!
آسیہ بیگم نے اسے تنبیہہ کی تھی۔
”ٹھیک ہے امی۔۔“
حانم نے فاٸل اٹھاتے ہوٸے کہا تھا۔

حمدان صاحب اندر نہيں آٸے تھے۔ وہ باہر ہی گاڑی میں بیٹھے رہے تھے۔

وہ دعا مانگتی گھر سے باہر نکلی تھی۔

حانم نے دکان کے باہر کھڑے طارق کو دیکھا تھا جو اسے گھور گھور کر دیکھا تھا۔
وہ اسے نظرانداز کرتی گاڑی میں بیٹھ گٸی جسے حمدان صاحب ایک سیکنڈ بھی ضائع کیے بنا آگے بڑھا دیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”بی جان اس گدھے کو فون کر کے سمجھا دیں کہ وہ اب سنجيدہ ہوجاٸے اپنے مستقبل کو لے کر۔۔“
سید جبیل بی جان سے کہہ رہا تھا اور تعریف آرجے کی ہورہی تھی۔

جبیل صاحب آرجے کو ہمیشہ گدھا ہی کہتے تھے۔اسکی حرکتیں ہی ایسی تھیں۔

”شاہ نے فون کیا تھا اسے۔۔ وہ کہہ رہا ہے کہ یونيورسٹی نہيں چھوڑنا چاہتا۔۔!!
بی جان نے بتایا کیونکہ کچھ دن پہلے ضیا ٕ جبیل نے اسے فون کیا تھا جو بات سننے کو راضی نہيں تھا۔

”اللہ کو اس گدھے کو عقل دے۔۔!!
وہ پریشان ہوٸے تھے۔

”بھاٸی جان آپ پریشان نا ہوں ابھی بچہ ہے سمجھ جاٸے گا۔۔!!
بی جان نے تسلی دی تھی۔

”بچہ نہيں ہے وہ۔۔ باپ ہے سب کا۔۔ لیکن عقل تو اس میں گدھے جتنی بھی نہيں ہے۔۔!!
وہ بڑبڑاتے باہر نکل گٸے تھے۔ جبکہ بی جان سوچ رہی تھیں کہ ایسا کیا کیا جاٸے جس سے آرجے جو عقل آجاٸے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”آپ خوش ہیں نا ہانی بیٹا۔۔؟؟“
حمدان صاحب نے خاموش بیٹھی حانم سے پوچھا تھا۔

”جی انکل بہت۔۔ میں نے کبھی سوچا نہيں تھا کہ میں اس یونيورسٹی میں پڑھ پاٶنگی۔۔!!
اسکا ایڈمیشن ہوچکا تھا۔ وہ اب واپس آرہے تھے۔
حانم کے ڈیپارٹمنٹ والے سیٹھ حمدان صاحب کو اچھے سے جانتے تھے۔
انہيں زیادہ دیر نہيں لگی تھی۔ جلدی ہی اسکا ایڈمیشن ہوگیا تھا۔

”کوٸی بات نہيں اب دل لگا کر پڑھنا اور کچھ بن کر دکھانا۔۔!!
وہ اسکا حوصلہ بڑھا رہے تھے۔

”اب میرا گھر دیکھنا چاہو گی یا آپکو آپکے گھر چھوڑ دوں؟؟

”انکل پھر کبھی دیکھ لونگی۔۔ آپ مجھے گھر چھوڑ دیں امی انتظار کر رہی ہوگی۔!!
حانم نے جواب دیا تھا۔

”آپکی واٸف کیسی ہیں انکل۔۔؟؟“
اچانک حانم نے سوال کیا تھا۔

”وہ نہيں ہے۔۔!!
انکی بات سن کر حانم چونکی تھی۔

”جب ماہین پیدا ہوٸی تھی وہ تب ہی مجھے چھوڑ گٸی تھی۔۔!!
وہ افسردہ سے کہہ رہے تھے۔
حانم کو افسوس ہو رہا تھا۔

”میں آسی سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔!!
انکی بات پر حانم کا رخ موڑ انہيں دیکھا تھا۔

”کیا آپ مذاق کر رہے ہیں؟؟“
حانم کو حیرت ہوٸی۔

”ہرگز نہيں۔۔
وہ سنجيدہ تھے۔

”میں چاہتا ہوں کہ اسکی ساری محرومیوں کا ازالہ کروں۔۔۔ ساری زندگی اس نے پریشانیوں میں گزاری ہے۔۔۔ اگر آپ لوگ میرے ساتھ ہونگے تو محلے کا تو کیا دنیا کا کوٸی انسان آپ لوگوں کو تنگ نہيں کر پاٸے گا۔۔!!

حانم کو انکی بات سمجھ آرہی تھی۔
”لیکن انکل امی؟؟“

”اس نے انکار کردیا۔۔ وہ نہيں کرنا چاہتی۔۔اسے زمانے کا ڈر ہے۔۔!!
وہ سنجيدہ سے کہہ رہے تھے۔
حانم اچھی طرح جانتی تھی کہ اسکی ماں نے ساری زندگی دکھوں میں گزاری تھی۔ وہ خود دل سے چاہتی تھی کہ اسکی ماں اب خوش رہے اپنی زندگی کو جیۓ۔۔

”اگر آسی مان گٸی آپ لوگوں کو کوٸی اعتراض تو نہيں ہوگا نا۔۔؟؟“
وہ اب حانم سے پوچھ رہے تھے۔

”نہيں انکل۔۔ ہمیں کوٸی اعتراض نہيں ہوگا۔۔میں خود چاہتی ہوں کہ وہ خوش رہیں۔۔!!
وہ مسکراٸی تھی۔
”میں بھی یہی چاہتا ہوں۔۔!!
گاڑی میں ایک گہری خاموشی چھا گٸی تھی۔

”میں نے بچپن سے آسی کو چاہا ہے۔۔ میں باہر پڑھنے گیا تھا تاکہ اسے اچھا مستقبل دے سکوں۔۔
لیکن شاید وہ میری قسمت میں نہيں تھی۔۔۔“
وہ غور سے انکی بات سن رہی تھی۔

”جب آسی کی شادی ہوٸی اس سے پہلے ہی میری شادی ہوگٸی تھی۔ میں آیا ضرور تھا لیکن بہت پریشان تھا۔ اپنی چاہت کو کسی اور کا ہوتے دیکھنا بہت تکليف دہ تھا۔
لیکن میں اسے دھوکا نہيں دے سکتا تھا۔
وہ کسی اور کی ہوگٸی تھی اور میں چپ چاپ دیکھتا رہا پھر واپس چلا گیا۔

”انکل آپکی واٸف کون تھی۔۔ مطلب کیسے شادی ہوٸی تھی؟؟

”وہ ایک پاکستانی لڑکی تھی۔۔۔ یہاں کی ایک کمپنی میں کام کرتی تھی۔ کمپنی والوں نے اسے امریکہ بھیج دیا تھا۔۔ اور اسے وہاں جا کر پتا چلا تھا کہ اسکے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔۔
وہ رات وہ ہوٹل سے بھاگ گٸی تھی اور اتفاقاً میری گاڑی سے ٹکرا گٸی تھی۔
انسانیت کے ناطے مجھے اسے تحفظ دینا پڑا۔
میں نے اس سے شادی کرلی اور یوں آسی مجھ سے بچھڑ گٸی۔۔۔!!
حانم کو انکی کہانی سن کر حقيقتاً دکھ ہوا تھا۔

”اتنا تو کبھی ابو نے بھی امی کو نہيں چاہا ہوگا جتنا حمدان انکل چاہتے ہیں۔۔ اللہ انکی خواہش پوری کرے۔۔ آمین۔
حانم نے صدق دل سے دعا کی تھی۔
کچھ دیر بعد حمدان انکل نے اسے گھر کے سامنے اتارا تھا۔ وہ اندر نہيں آٸے تھے۔

”کوٸی بھی مسٸلہ ہو مجھے فون کردینا میں خود دیکھ لونگا۔۔!!
حانم انکا اشارہ سمجھ چکی تھی۔
”اور میں آپکے لیے دعا کرونگی انکل کہ وہ آپکے اور امی کیلیے بہتر کریں۔۔!!

وہ مسکرا کر آمین کہتے واپس جا چکے تھے۔
اور حانم گہرا سانس لے کر گھر کے اندر داخل ہوٸی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کی یہ لڑائی جورڈن کو ہر قیمت پر جیتنی تھی۔
اسے اپنے مدمقابل شخص میں اپنا باپ نظر آرہا تھا جس سے وہ انتہا کی نفرت کرتا تھا۔
وہ لوگ بری طرح سے ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔

بالآخر وہ جیت گیا تھا۔
زخموں سے چور وہ باقی پیسے لے کر ہاسپٹل کی طرف بھاگا تھا۔
وہ اپنی ماں کو ہرحال میں بچانا چاہتا تھا۔
لیکن شاید قسمت کی دیوی اس سے ناراض ہوگٸی تھی اور موت کی دیوی نے مارتھا کو اپنا بنا لیا۔

”ہم معذرت کرتے ہیں مسٹر جورڈن۔۔ ہم آپکی مدر کو نہيں بچا سکے۔۔!!
ڈاکٹر کے الفاظ اس پر کسی بم کی طرح گرے تھے۔
وہ اتنی زور سے چلایا تھا کہ پورا ہاسپٹل سہم سا گیا تھا۔

” آپ مجھے چھوڑ کر نہيں جا سکتی مام۔۔ آپ نہيں جا سکتی۔۔!!
وہ ہاسپٹل کی راہداری میں فرش پر بیٹھ کر اتنا رویا تھا کہ لوگوں کو اس پر ترس آنا شروع ہوگیا تھا۔
”آپکی وجہ سے میری ماں مری ہے مسٹر جوبیل۔۔ میں آپکو نہيں چھوڑوں گا۔۔!!
وہ تصور میں اپنے باپ سے مخاطب ہوا تھا۔
آپریشن تھیٹر میں وہ اپنی ماں کی مردہ جسم سے لپٹ لپٹ کر رویا تھا۔

وہ جسمانی طور پر انتہائی طاقتور شخص ذہنی طور پر بہت کمزور ثابت ہوا تھا۔
وہ غش کھا کر گر گیا تھا۔ اسے اپنے جسمانی زخموں کی پرواہ نہيں تھی۔ جو زخم اسکی روح پر لگا تھا وہ گہرا تھا۔۔ وہ نہیں بھرنے والا تھا۔

اینتھنی اسکے پیچھے آیا تھا اور پھر اسے یوں ٹوٹا پھوٹا دیکھ کر رودیا تھا۔
کتنے گھنٹوں بعد اسے ہوش آیا تھا۔
مارتھا کو اسکے ہوش آنے پر دفنا دیا گیا تھا۔ وہ دوبارہ نہيں رویا تھا۔ ایتھنی کو اس پر پتھر کا گمان ہوا تھا۔
وہ خاموش تھا لیکن اسکے اندر کتنا بہت بڑا طوفان پل رہا تھا یہ صرف وہی جانتا تھا۔ اسکے جسم کا رُواں رُواں جل رہا تھا یہ صرف وہی جانتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”ہیلو اسلام و علیکم انکل کیسے ہیں آپ؟؟
شاہ جبیل نے اپنے نکمے بیٹے کو فون کیا تھا جسے آرجے نے نہيں اٹھایا تھا۔ اب انہوں نے لینڈ لاٸن پرفون کیا تھا جسے مکی نے اٹھایا تھا اور آواز سن کر وہ تمیز سے بات کر رہا تھا۔

”وعلیکم اسلام۔۔ کہاں ہے وہ گدھا،الو کا پٹھہ،دنیا جہان کا نکما شخص۔۔؟؟
وہ غصے سے پوچھ رہے تھے۔
مکی تو انکے اتنے القابات پر عش عش کر اٹھا تھا۔

”جی انکل آپ کس کی بات کر رہے ہیں؟؟“
مکی انجان بنا۔

”تمہارے باپ کی۔۔!!
شاہ جبیل نے غصے سے جواب دیا تھا۔
مکی تو یہ جواب سن کر گڑبڑا گیا تھا۔
”انکل آرجے اس وقت گھر نہيں ہے جیسے ہی وہ آتا ہے میں آپکی بات کروادونگا۔۔
کوٸی میسج ہے تو مجھے دے دیں میں اسے بتادونگا۔۔!!
وہ اب شرافت سے کہہ رہا تھا۔

”اس گدھے کو کہنا کہ اپنے باپ کا فون اٹھا لے۔۔ نہيں تو میں لاہور آکر اسکی کلاس لونگا۔۔!!
وہ غصے سے کہتے فون بند کرچکے تھے۔

مکی نے اپنا اٹکا سانس بحال کیا تھا اور پھر خشمگیں نگاہوں سے اپنے سامنے صوفے پر براجمان آرجے کو دیکھا تھا جو بہت دلچسپ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اور ساتھ ساتھ نوڈلز کھانے میں مگن تھا۔

”سن لیا گدھے۔۔ کیا کہہ رہے تھے انکل۔۔!!
مکی نے جل کر کہا۔۔ کیونکہ آرجے نے اسے فون اٹھانے کو کہا تھا۔

”ہاں سن لیا۔۔“
آرجے نے اسکے گدھا کہنے پر مکی کو گھورا۔

”یار میں نہيں انکل کہہ رہے تھے۔۔ قسم سے کیا کمال کے القابات سے نوازتے ہیں وہ تمہيں۔۔ سچی میں فین ہوگیا۔۔ آرجے کے باپ کو ایسا ہی ہونا چاہیۓ۔۔!!
مکی پرجوش سا کہہ رہا تھا۔ آرجے کے گھورنے پر وہ سٹپٹا کر رہ گیا تھا۔ جبکہ آرجے پوری توجہ سے نوڈلز کھا رہا تھا جیسے دنیا میں اس سے اہم اور کوٸی کام نہیں۔!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حانم کو ابھی گھر آٸے کچھ ہی دیر گزری تھی جب دروازے پر دستک ہوٸی۔

”میں دیکھتا ہوں۔۔“
جواد کہتا دروازے کی طرف لپکا تھا۔ اور پھر اسکی چیخ سناٸی دی تھی۔

”کہاں وہ تمہاری بہن ہانی۔۔ آج میں اسے نہيں چھوڑوں گا۔۔
مجھ سے شادی نہيں کرنی اور امیر لوگوں سے پورے محلے کےسامنے چکر چلاتی ہے۔۔“
وہ پسٹل ہاتھ میں پکڑے،جواد کو دھکا دے کر دندناتا گھر میں داخل ہوا تھا۔
آسیہ بیگم،ماہم اور حانم طارق کی آواز سن کر سہم گٸی تھیں۔۔!!

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: