Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 19

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 19

–**–**–

کہاں ہے وہ تمہاری بہن ہانی۔۔ آج میں اسے نہيں چھوڑوں گا۔۔
مجھ سے شادی نہيں کرنی اور امیر لوگوں سے پورے محلے کےسامنے چکر چلاتی ہے۔۔“
وہ پسٹل ہاتھ میں پکڑے،جواد کو دھکا دے کر دندناتا گھر میں داخل ہوا تھا۔
آسیہ بیگم،ماہم اور حانم طارق کی آواز سن کر سہم گٸی تھیں۔۔!!
”یااللہ خیر۔!!
آسیہ بیگم کے منہ سے نکلا تھا۔

”تم یہیں اندر رکو۔۔ باہر مت دیکھنا میں دیکھتی ہوں اسے۔۔“
آسیہ بیگم حانم کو تاکید کرتی باہر نکلی تھیں۔ وہ خود بہت بری طرح سے گھبراٸی ہوٸی تھیں۔
طارق باہر صحن میں کھڑا تھا۔ آسیہ بیگم کو دیکھ کر جواد انکی طرف لپکا تھا۔ وہ بری طرح سے ڈرا ہوا تھا۔

”کیا لینے آٸے ہو تم یہاں۔۔؟؟“
انہوں نے ہمت جمع کرتے ہوٸے پوچھا۔

”ہانی کدھر ہے۔۔ باہر نکالو اسے۔۔ ایسے بےحیا اور بدکردار لڑکيوں کی اس محلے میں کوٸی جگہ نہيں ہے۔۔!!
وہ غصے سے کہتے ہوٸے آگے بڑھا تھا۔

”وہیں رک جاٶ طارق۔۔
آسیہ بیگم دھاڑی تھیں۔
”خبردار جو ایک لفظ بھی غلط کہا تم نے میرے ہانی کے متعلق۔۔
آسیہ بیگم کی آنکهيں سرخ ہوچکی تھیں۔
شور کی آواز سن کر پورا محلہ جیسے وہیں پر اکٹھا ہوگیا تھا۔

”میں سب جانتا ہوں کہ کتنی پارسا ہے وہ۔۔
صبح لمبی گاڑی میں گٸی تھی اب واپس آٸی ہے۔۔
ایسی لڑکيوں کی تو گولی مار دینی چاہیۓ۔۔!!

طارق کی آواز سن کر حانم کا نازک دل کسی چڑیا کی مانند پھڑپھڑا رہا تھا۔ اس نے کچھ غلط نہيں کیا تھا اور وہ کیسے کیسے الزام لگا رہا تھا اس پر۔۔
وہ باہر جانا چاہتی تھی جب ماہم نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے باہر جانے سے روکا۔

کچھ یاد آنے پر ماہم نے حانم کا موبائل اٹھا کر حمدان انکل کا نمبر ملایا تھا۔

”ہیلو انکل۔۔ کہاں ہیں آپ۔۔۔؟؟“
پہلی ہی بیل پر فون اٹھا لیا گیا تھا۔

”انکل یہاں بہت بڑا مسٸلہ ہوگیا ہے آپ پلیز جلدی آٸیں۔۔!!
ماہم کانپتی آواز میں کہہ رہی تھی۔ اسکا دماغ ایسے واقعات پر حانم سے تیز کام کرتا تھا۔

”وہ کسی غلط جگہ پر نہيں گٸی تھی۔ داخلہ لینے گٸی تھی یونيورسٹی میں۔۔“
آسیہ بیگم نے جواب دیا تھا۔

”دیکھ رہے ہو محلے والو۔۔؟ کیسے ہماری ناک کے نیچے کھیل رچایا جا رہا ہے۔۔ یہ لڑکی کالج یونيورسٹی کے بہانے جانے کہاں کہاں جاتی ہے۔۔!!

”میں نے کہا چپ کر جاٶ طارق۔۔ خدا کا خوف کرو کچھ۔۔ کیوں ایک معصوم پر الزام لگا رہے ہو۔۔؟؟
آسیہ بیگم کو تو اسکی باتیں سن کر جیسے سکتہ سا ہوگیا تھا۔
جواد شعلہ بار نگاہوں سے طارق کو گھور رہا تھا۔ وہ چھوٹا سا تھا کچھ نہيں کر سکتا تھا۔ لیکن اسے طارق کا یوں اپنی بہن ہانو کے متعلق بات کرنا بہت برا لگ رہا تھا۔

انکے گھر کے سامنے کچھ فاصلے پر مسجد تھی۔ نمازی مغرب کی نماز پڑھنے کے بعد مسجد سے باہر نکل رہے تھے اور شور کی آواز پر اب سب وہاں جمع ہوگٸے تھے۔

”یہ کیا تماشہ لگا رکھا ہے تم نے طارق؟؟“
محلے کے ایک عزت دار شخص نے اسے یوں کسی کے گھر میں گھسے دیکھا تو غصے سے پوچھا تھا

”باہر نکلو۔۔ کس نے اجازت دی تمہيں لوگوں کے گھروں میں یوں بنا اجازت اندر داخل ہونے کی۔۔؟؟
امام مسجد بھی وہاں آگیا تھا۔

”میری برائیاں آپ لوگوں کو نظر آرہی ہیں اس لڑکی کی نظر نہيں آرہی جو پورے محلے کی آنکهوں میں دھول جھونک رہی ہے۔۔“
طارق بھڑکا تھا۔

”بھاٸی صاحب میری بیٹی نے کوٸی غلط کام نہيں کیا۔۔ وہ ایک عزت دار لڑکی ہے۔۔ یونيورسٹی میں داخلے کیلیے گٸی تھی۔۔
لیکن یہ گھٹیا انسان بلاوجہ الزام لگا رہا ہے میری بچی پر۔۔!!
آسیہ بیگم نے آگے بڑھ کر امام مسجد اور اس شخص سے کہا تھا۔

”اچھا میں الزام لگا رہا ہوں۔۔؟ تو بتاٶ کون ہے وہ شخص جس کے ساتھ گٸی تھی ہانی۔۔؟؟“

”جاننے والا ہے میرا۔۔ تایا زاد بھاٸی ہے۔۔!!
آسیہ بیگم نے جواب دیا تھا۔

حانم سے اب برداشت کرنا مشکل ہوگیا تھا۔ وہ اتنا جو جانتی تھی کہ پورے محلے کے سامنے طارق کچھ نہيں کر سکتا۔۔ وہ ماہم کو جھٹکا دے کر باہر نکلی تھی۔

”کیوں شور مچا رہے ہو تم۔۔ یہيں ہوں میں بھاگی نہيں ہوں۔۔!!
وہ جانے اتنی ہمت کہاں سے لاٸی تھی۔
حانم کو دیکھ کر طارق کی آنکهيں چمکی تھیں۔وہ جس مقصد کیلیے آیا تھا اسے ہر قیمت پر پورا کرنا چاہتا تھا۔

”اووہ۔۔ بھاگنے میں کوٸی کمی نہيں چھوڑی تم نے۔۔
دیکھ رہے ہو محلے والو۔۔ میں نے عزت سے رشتہ بھیجا تھا اسکے لیے۔ لیکن نہيں انکار کردیا۔۔اب پتا چلا مجھے کہ یہ معصوم چہرے کے پیچھے کتنی شاطر لڑکی چھپی ہے۔۔!!
وہ پھر چلایا تھا۔
اس لمحے حانم کو طارق سے شدید نفرت محسوس ہوٸی تھی۔ اس سے پہلے کوٸی کچھ کہتا اچانک پولیس کے ساٸرن کی آواز گونجی تھی جسے سن کر طارق کے چہرے کا رنگ اڑا تھا۔
اس نے پسٹل کو فٹافٹ جیب میں ڈالا تھا۔
چند ہی سیکنڈز میں حمدان صاحب پولیس والوں کے ساتھ اندر داخل ہوا تھا۔ دروازے پر لگے لوگوں کے ہجوم نے انہيں رستہ دیا تھا۔
پولیس کو دیکھ کر کافی لوگ رفوچکر ہوگٸے تھے۔

”کیا ہو رہا ہے یہاں پر۔۔؟؟“
پوليس انسپکٹر نے طارق کی طرف دیکھتے ہوٸے غصے سے پوچھا تھا۔
طارق کی تو سٹپٹا گیاتھا۔

”یہ شخص بلاوجہ گھر میں گھس کر مارنے کی دھمکی دے رہا ہے انسپکٹر صاحب۔۔!!
آسیہ بیگم کا گلہ رندھ گیا تھا۔

اس سے پہلے طارق کچھ کہتا دو تین سپاہیوں نے آگے بڑھ کر اسےہتھکڑی لگاٸی تھی۔
جب ماہم نے حمدان انکل کو کال کی وہ ابھی زیادہ دور نہيں گٸے تھے۔ علاقے کے کمشنر انہيں اچھی طرح سے جانتے تھے۔ انکے فون کال کرنے پر ایس پی خود آیا تھا طارق کو گرفتار کرنے۔

”ہم معذرت چاہتے ہیں سیٹھ صاحب۔۔!!
ایس پی حمدان انکل سے مخاطب ہوا تھا۔

”معذرت کی ضرورت نہيں ہے اسے لے جاٸیں اور کڑی سے کڑی سزا دیں۔۔!!!
وہ طارق کی طرف دیکھ کر خونخوار لہجے میں بولے تھے۔

پولیس طارق کو لے کر چلی گٸی تھی۔
آپ سب لوگ بھی اپنے اپنے گھروں کو چلیں۔
امام مسجد نے باقی رکے ہوٸے لوگوں کو دیکھتے ہوٸے کہا تھا جو تماشائی بن کر تماشہ دیکھ رہے۔
جو اتنے بزدل تھے کہ حق کے خلاف آواز نہيں اٹھا سکتے تھے۔
وہاں ہر کسی کو اپنی جان پیاری تھی۔
ہمارا معاشرے کا یہی المیہ ہے جہاں پر کوٸی غریب لڑکی تھوڑی سی ابھرتی ہے اسے یوں خاموش کروادیا جاتا ہے۔
بہت سی لڑکیوں کو بےموت مار دیا جاتا ہے۔

”امام صاحب مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے۔۔!!
حمدان صاحب نے امام مسجد کو جاتے دیکھا تو کہا۔
وہ رک گٸے تھے اور ساتھ میں وہ سمجھدار اور عقلمند حاجی بھی تھا جو محلے کا سربراہ کہلاتا تھا۔ جسکی اپنی بیٹی کی بارات نے عین موقع پر آنے سے انکار کردیا تھا۔ وجہ جو بھی تھی لیکن الزام لڑکی پرآیا تھا۔

طارق کہتا رہا تھا لیکن پولیس والوں نےاسکی ایک نا سنی تھی۔ وہ اسے لے گٸے تھے۔

”جی کہیے۔۔۔؟؟“
امام مسجد نے عزت سے جواب دیا تھا۔ اسے حمدان صاحب شخصیت سے ہی کوٸی بڑے آدمی لگے تھے جو بہت سلجھے ہوٸے تھے۔

”میں اپنی چچا زاد کزن آسیہ سے جو پچھلے دس سالوں سے بیوگی اور غربت کی زندگی گزار رہی ہے، نکاح کرنا چاہتا ہوں۔۔ کیا میں کرسکتا ہوں؟؟ کیا اس میں کوٸی گناہ تو نہيں ہے؟؟
وہ سنجیدہ سا پوچھ رہا تھا۔
لوگ جاچکے تھے۔ صرف حاجی صاحب اور امام مسجد وہاں موجود تھے۔
آسیہ بیگم کو تو جیسے کرنٹ لگا تھا۔ انکا سر چکرا گیا تھا۔ پہلے طارق نے ایک ڈرامہ لگایا اور اب حمدان۔۔

”نہيں کوٸی گناہ والی بات نہيں ہے۔۔ بلکہ یہ تو سنت رسول ﷺ ہے اور بہت ہی نیک کام ہے۔۔!!
اور یہ حدیث سنائی

“شادی سنت ہے:
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اللّٰہ کے محبوب ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“نکاح میری سنت سے ہے پس جو شخص میری سنت پر عمل نہ کرے وہ مجھ سے نہیں۔ لہٰذا نکاح کرو کیونکہ میں تمہاری کثرت کی بناء پر دیگر امتوں پر فخر کروں گا۔
(سنن ابنِ ماجہ، کتاب النکاح، رقم 1846، ج 2، ص 406)”

وہ کچھ کہنا چاہتی تھی جب امام مسجد نے شاٸستگی سے جواب دیا۔

”تو پھر آپ اس نیک کام کا فریضہ سر انجام دیں۔۔ میں آسیہ اور بچوں کو آج ہی اپنے ساتھ لے جاٶں گا۔۔
یہاں پر یہ لوگ محفوظ نہيں ہیں۔۔!!

”ہمارے ساتھ چلو۔۔“
امام مسجد نے انہيں مسجد کی طرف چلنے کا اشارہ کیا تھا۔ وہ کچھ کہے بنا انکے پیچھے چلے گٸے تھے۔

”اللہ یہ کیا ہو رہا ہے؟؟“
آسیہ بیگم سر پکڑ کر بیٹھ گٸی تھیں۔

”امی مان جاٸیں۔۔۔ انکار مت کیجیٸے گا۔۔ حمدان انکل بہت اچھے ہیں۔۔
وہ آپکا بہت خیال رکھیں گے۔!!
حانم نے انکے پاس بیٹھتے ہوٸے کہا تھا۔

”میں نے کبھی سوچا نہيں تھا کہ ایسے دن بھی دیکھنے پڑیں گے۔۔
وہ رودی تھیں۔
”ماما روٸیں نا۔۔“
جواد ان سے لپٹ گیا تھا۔
کتنی ہی دیر ماہم اور حانم نے انہيں سمجھایا تھا۔ آسیہ بیگم حالات سے ہار گٸی تھیں۔ ایک گھنٹے بعد انکی رضامندی سے حمدان صاحب اور آسیہ بیگم کا نکاح کروا دیا گیا تھا۔۔!!

“اور محبت کی خوبصورتی تو یہی ہےکہ وہ ملے تومحرم بن کے ملے”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تقریباً رات نو بجے وہ لوگ حمدان صاحب کے پہنچے تھے۔
انکا گھر بحریہ ٹاٶن میں تھا۔ آسیہ بیگم تو اتنا بڑا گھر دیکھ کر حیران رہ گٸی تھیں۔
ایک بیگ میں انکے چند کپڑے تھے جو ملازموں نے آگے بڑھ کر آسیہ بیگم کے ہاتھ سے پکڑ لیا تھا۔
وہ بہت روٸی تھیں۔ وہ سب ہی روٸے تھے۔ ان سب کیلیے یہ حادثہ تکلیف دہ تھا۔

”جتنا رونا تھا تم نے رولیا آسی۔۔۔ آج کے بعد تمہاری آنکهوں میں ایک آنسو نہيں آٸے گا۔۔!!
وہ کتنی سنجيدگی سے کہہ رہے تھے۔
وہ لاٶنج میں بیٹھے تھے۔ حانم کا سر درد سے پھٹ رہا تھا۔ طارق نے جو کیا تھا آج وہ ناقابل فراموش تھا۔
صبح وہ کتنی خوشی خوشی گٸی تھی یونيورسٹی داخلے کیلیے ۔۔ اب ایک ہی رات میں انکی زندگی بدل گٸی تھی۔

”رضیہ ماہین کے ساتھ والے کمروں کو ہانی اور ماہم بیٹی کیلیے صاف کردو فٹا فٹ۔۔!!
وہ حکم دے رہے تھے۔
ماہم گھور سے ہرایک ملازم کو دیکھ رہی تھی۔
اسکی تیز نظروں نے ملازمين کی گنتی بھی کرلی تھی۔

”غلام دین کھانا لگاٶ میں فریش ہو کر آتا ہوں۔۔!!

”جی صاحب۔۔!!
ملازم جو ان سب کو حیرت سے دیکھ رہے تھے۔اسکے حکم پر دوڑے چلے گٸے تھے۔

”آپ لوگ بھی فریش ہوجاٸیں بیٹا وہ اوپر داٸیں طرف ماہی کا کمرہ ہے وہاں چلی جاٸیں اور چینج کرلیں پھر سب کھانا کھاتے ہیں۔۔!!
انکے کہنے کی دیر تھی جواد نے اوپر کی طرف دوڑ لگادی تھی۔
حانم اور ماہم آگے پیچھے سیڑھیوں کی طرف بڑھی تھیں اور آسیہ بیگم بھی صوفے سے اٹھ کر انکے پیچھے جانے لگی تھی کب حمدان کی آواز گونجی۔۔

”کہاں جا رہی ہو آسی۔۔؟ہمارا کمرہ ادھر ہے۔۔!!
آسیہ بیگم کے قدم رکے تھے۔ وہ اثبات میں سر ہلاتی حمدان کے پیچھے چلی گٸی تھیں۔
ماہم نے مشکل سے اپنی مسکراہٹ ضبط کی تھی۔

”اوپر مرو۔۔“
حانم نے اسے گھورتے ہوٸے کہا تھا اور وہ کھلکھلاتی اوپر کی جانب بڑھ گٸی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مارتھا کے بنا جورڈن کو گھر کاٹنے کو دوڑ رہا تھا۔
اسکی حالت بری تھی۔ بال بکھرے پڑے تھے۔ شیو بڑھی ہوٸی تھی۔ اب کوٸی اسکا خیال رکھنے والا نہيں تھا۔

”مام۔۔ آپ کیوں چلی گٸی ہیں۔۔“
خالی گھر میں اسکی آواز گونج کر رہ گٸی تھی۔
وہ رو رہا تھا۔
اور پھر نم آنکهيں لیے اپنے ماں کے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا۔
وہ اب کچھ ڈھونڈ رہا تھا۔۔ کوٸی ایسا سراغ جو اسے اس شخص تک لے جاٸے جو اسکی ماں کی موت کا ذمے دار تھا۔
اسے یاد تھا مارتھا اکثر لکڑی کا باکس کھولے بیٹھی رہتی تھی۔
وہ اب اسکی الماری کھولے اس باکس کو ڈھونڈ رہا تھا۔
اسکے سر پر خون سوار تھا۔ وہ اپنی ماں کی گٸی ہر نصیحت کو بھول گیا تھا۔

کچھ دیر بعد وہ اس باکس کو ڈھونڈنے میں کامياب ہوگیا تھا جس پر موٹا سا تالا لگا تھا۔
لیکن بہت کوشش پر بھی اسے چابی نہيں ملی تھی۔
وہ اس باکس کو پکڑے اب کچن کی طرف بڑھ گیا تھا یقیناً وہ اس تالے کو توڑنے والا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حمدان صاحب کا موبائل کب سے رنگ کر رہا تھا۔
آسیہ الجھن زدہ نظروں سے کبھی موبائل تو کبھی واشروم کے دروازے کو دیکھ رہی تھی جہاں وہ کپڑے بدل رہا تھا۔
کچھ دیر بعد وہ شلوار قمیض پہنے باہر نکلے تھے
آسیہ بیگم کو محسوس ہوا تھا جیسے وقت اسکو چھو کر نہيں گزرا تھا۔
وہ آج بھی اتنے ہی جوان نظر آرہے تھےجتنے باٸیس سال پہلے۔۔ بلکہ اب اسکی شخصیت مزید رعب دار ہوگٸی تھی۔

“تو ملا ہے تو یہ احساس ہوا ہے مجھ کو
یہ میری عمر محبت کے لیے تھوڑی ہے

اک ذرا سا غمِ دوراں کا بھی حق ہے جس پر
میں نے وہ سانس بھی تیرے لیے رکھ چھوڑی ہے”

”گھبرانے کی ضرورت نہيں ہے آسی اب یہ تمہارا گھر ہے۔۔ اسے تم نے ہی سنبهالنا ہے۔۔!!!
وہ شاید اسکی الجھن بھانپ گٸے تھے۔

اس سے پہلے وہ کچھ کہتیں موبائل پر دوبارہ رنگ ہوٸی تھی۔
موبائل کی سکرین پر حشام جبیل چمک رہا تھا۔

”اسلام و علیکم انکل۔۔!!
انکے فون اٹھانے پر دوسری طرف سے آواز ابھری تھی۔

”وَعَلَيْكُم السَّلَام۔۔۔ کیسے ہو حشام بیٹا۔۔؟؟“
وہ فریش فریش سے پوچھ رہے تھے۔

”جی انکل الحَمْدُ ِلله آپ سنائیں کیسے ہیں۔۔؟؟“

”میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔ سناٶ برخودار کیسے یاد کیا مجھے؟؟“

”وہ انکل۔۔ بابا ساٸیں کسی فاٸل کا پوچھ رہے تھے۔۔!!
حشام کی بات پر حمدان صاحب کا قہقہہ ابھرا تھا۔

”ضیا ٕ جبیل تمہيں بزنس مین بنا کر دم لے گا حشام۔۔ مجھے یقین ہے۔۔!!
وہ دلچسپی سے کہہ رہے تھے۔

”بس انکل۔۔ جتنا مرضی دور رہ لوں بابا ساٸیں پھر مجھے گھسیٹ لیتے ہیں اس بزنس کی دنیا میں۔۔!!
حشام نے گہری سانس لیتے ہوٸے کہا تھا۔

”چلو کوٸی بات نہيں۔۔ میں فری ہو کر خود بات کرتا ہوں تمہارے بابا سے۔۔ تم پریشان مت ہو۔۔!!
حمدان صاحب اسے تسلی دیتے فون بند کرچکے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہین کا کمرہ بہت خوبصورت تھا۔ وہاں موجود ہر چیز بہت قیمتی تھی۔ اسکی الماری میں بہت سے نٸے کپڑے لٹکے ہوٸے تھے۔ ماہم نے چینج کرلیا تھا۔ البتہ حانم کھڑکی کھولے آس پاس کا معاٸنہ کرنے میں مگن تھی۔
اس نے کبھی آساٸشوں والی اور برانڈڈ زندگی گزارنے کی خواہش نہيں کی تھی۔
وہ نہيں جانتی تھی کہ زندگی اسکے ساتھ کیا کرنے والی تھی۔
چاروں طرف ویسے ہی بڑے بڑے بنگلے تھے۔
گلیاں کھلی اور صاف ستھری تھیں۔

”یہ ڈریس مجھے عجیب تو نہيں لگ رہا نا۔۔؟؟“
ماہم کی آواز پر وہ چونکی تھی۔
اس نے ماہین کے کپڑے پہنے ہوٸے تھے۔ جو بڑے تھے البتہ شرٹ چھوٹی ہونے کی وجہ سے ٹھیک لگ رہے تھے۔

”انکل نے ہمارے کپڑے نہيں لانے دیے اب میں اور کیا پہنتی۔۔؟؟“
حانم نے گھورنے پر ماہم بڑبڑاٸی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”آرجے میرا موبائل دو۔۔“
مکی چلایا تھا۔ وہ لوگ رات کے اس پہر ٹاٶن میں واک کر رہے تھے۔
مکی پچھلے ایک گھنٹے سے کسی سے فون پر بات کر رہا تھا۔ تنگ آکر آرجے نے اسکا موباٸل چھین لیا تھا۔

”تمہیں اور کوٸی کام نہيں ہے کیا۔۔؟؟“
آرجے کو غصہ آیا تھا۔

رات کی خاموشی میں انکی آوازیں گونج کر رہ گٸی تھیں۔

شور کی آواز پر حانم نے چونک کر نیچے کی جانب دیکھا تھا۔
روشنی میں اسے گھر باہر سے دو تین لڑکے گزرتے دکھاٸی دیے تھے۔

وہ ایک دم چونکی تھی۔ سیاہ رنگ کی جیکٹ پہنے گھنے بالوں والے لڑکے پر اسے روحان جبیل کا احساس ہوا تھا۔

”أَسْتَغْفِرُ اللّٰه۔۔۔۔
اس نے اپنی ہی سوچ پر اللہ سے معافی مانگی تھی ناجانے وہ شخص کہاں سے ذہن میں آگیا تھا۔
ملازمہ انہيں کھانے کیلیے بلانے آٸی تھی اور وہ سر جھٹکتی کھڑکی سے ہٹ گٸی تھی۔۔!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ پانچ منٹ میں منہ ہاتھ دو کر نیچے جانے کیلیے تیار تھی۔
ماہم سکون سے آرام دہ بیڈ پر لیٹی تھی۔ اسے اپنی زندگی میں آنے والی یہ تبدیلی بہت پسند آرہی تھی۔

”آ جاٶ ماہم کھانا کھانے چلتے ہیں۔۔“
حانم نے دروازے کی طرف بڑھتے ہوٸے اسے پکارہ تھا۔

”رکو ہانی۔۔
ماہم کی آواز پر وہ پلٹی تھی۔

”تم کپڑے تبدیل نہيں کروگی؟؟“
ماہم نے پوچھا تھا۔

”کیوں کیا ہوا ان کپڑوں کو۔۔ ابھی صبح ہی تو پہنے تھے۔۔ بالکل نیا سوٹ ہے میرا۔۔؟؟“
حانم حیران ہوٸی تھی۔

”نہيں میرا مطلب اس والی الماری میں سارے نٸے کپڑے ہیں جو استعمال نہيں کیے گٸے۔۔تو اس لیے۔۔
ماہم بات ادھوری چھوڑ گٸی تھی۔

”میں نہيں چاہتی کہ کل کو حمدان انکل کی بیٹی کو پتا چلے اور وہ کہے کہ ہم نے آتے ہی اس کی ہر چیز پر قبضہ کرلیا۔۔!!

”یار تم آگے کا کیوں سوچتی ہوں۔۔؟؟“
ماہم جھنجھلاٸی تھی۔

”ہوتا تو وہی ہے جو نصیب میں ہے۔۔ لوگوں کی باتوں سے فرق نہيں پڑتا۔۔ جس چیز پر جس انسان کا نام لکھا ہوتا ہے وہ اسے ہی ملتی ہے۔۔!!
ماہم نے بیڈ سے اترتے ہوٸے کہا تھا۔ وہ اکثر چڑ جاتی تھی حانم کے فلسفوں سے۔

”باقی تمہاری مرضی ہے۔۔!!
وہ دروازہ کھول کر باہر نکل گٸی تھی اور اسکے پیچھے پیچھے حانم بھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن دوپہر کے کھانے کے بعد حمدان صاحب انہيں شاپنگ کروانے مال لے آٸے تھے۔
انہوں نے سب کو انکی پسند اور ضرورت کی ہر چیز دلاٸی تھی۔
وہ پہلی بار پیسہ خرچ کرکے اتنا خوش ہوٸے تھے۔

یہ جو امیر لوگ ہوتے ہیں نا یہ اکثر رشتوں کے معاملے میں غریب ہوتے ہیں۔۔!!
کچھ یہی حال سیٹھ حمدان کا بھی تھا جسکے پاس پیسے تو بہت تھے لیکن خرچ کرنے والے نہيں تھے۔۔
سواٸے ماہی کے جو انکے پاس رہتی ہی نہیں تھی۔
اب اتنے سارے رشتوں کو پاکر وہ کافی خوش اور خود کو پرسکون محسوس کر رہے تھے۔

انکے ہوتے ہوٸے بھی آسیہ نے اتنے سال غربت میں اپنی خواہشات کو ختم کرتے گزار دیے تھے۔۔ یہ چیز انکے دل میں پھانس کی طرح اٹکی تھی۔
اب وہ اس چیز کا ازالہ کرنا چاہتے تھے۔ جو کہ کافی حد تک کر چکے تھے۔۔!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”ہانی بیٹا صبح سے آپکی کلاسز سٹارٹ ہورہی ہیں تیاری کرلی آپ نے۔۔۔؟؟“
وہ بہت پیار سے پوچھ رہے تھے۔

”جی انکل۔۔۔ دیکھا تھا میں نے۔۔ تیاری کیا کرنی ہے ابھی، یونيورسٹی جا کر ہی کچھ علم ہوگا۔۔!!
حانم نے جواب دیا تھا۔

”ٹھیک ہے میں نے رحیم (ڈرائيور ) کی ڈیوٹی لگادی ہے وہ پک اور ڈراپ کیا کرے گا آپکو۔۔ یہاں سے آپکی یونيورسٹی کافی فاصلے پر ہے۔۔!!

”جی انکل۔۔
وہ بس اتنا ہی کہہ پاٸی تھی۔
اسکی یونيورسٹی شروع ہونے والی تھی یعنی اسکی روٹین بدلنے والی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مہرو اور حانم دونوں کیفے ٹیریا میں موجود تھیں۔
”جنت روڈ بہت خوبصورت ہے نا۔۔!!“
حانم نے جوس کا سپ لیتے ہوٸے کہا۔

”ہاں۔۔ تمہيں ہر چیز میں خوبصورتی نظر آتی ہے ہانی۔۔
اب دیکھ لو سیمنٹ پتھر سے بنے اس روڈ میں ایسی کیا خاص بات ہے جو تمہيں یہاں بیٹھنا اچھا لگتا ہے۔۔!!
مہرو مسکراٸی تھی۔

” میں نہيں جانتی مجھے اس جگہ میں اتنی دلچسپی کیوں نظر آتی ہے۔۔؟ میں نہيں جانتی یہ روڈ مجھے کیوں اچھا لگتا ہے؟؟
شاید اس لیے کہ اس روڈ کا نام جنت ہے۔۔!!
وہ خود ہی اپنے سوال کا جواب دے چکی تھی۔
کیفے کے بالکل سامنے انکا ڈیپارٹمنٹ تھا۔
اچانک انہوں نے بہت سارے سٹوڈنٹس کو ڈیپارٹمنٹ کے اندر جاتے دیکھا تھا۔

”یہ سٹوڈنٹس اتنی جلدی میں کیوں جا رہے ہیں؟؟ کیا کوٸی خاص وجہ ہے۔۔؟؟“
حانم بڑبڑاٸی تھی۔

”سب سٹوڈنٹس جلدی سے آجاٸیں آرجے سنگنگ کرنے لگا ہے۔۔!!“
ڈیپارٹمنٹ کے گیٹ پر کھڑے ہو کر ایک لڑکے نے نعرہ لگایا تھا۔
آرجے کے نام پر حانم کے کان کھڑے ہوٸے تھے۔
اسے اتنا یاد تھا کہ ماہم اور جواد کسی آرجے کے بہت بڑے فین تھے۔
وہ دونوں بھی سٹوڈنٹس کے پیچھے پیچھے ڈیپارٹمنٹ میں داخل ہوٸی تھی۔

گیٹ سے اندر داخل ہونے پر دونوں طرف گراؤنڈ تھا۔
داٸیں طرف سٹوڈنٹس کا ایک ہجوم لگا ہوا تھا۔
ایک خوشگوار سی دھن حانم کے کانوں سے ٹکراٸی تھی اور بےخود سی اس ہجوم کی طرف بڑھتی چلی گٸی تھی۔

”ایکسکیوز می۔۔ تھوڑا ساٸیڈ پر ہوجاٸیں پلیز۔۔“
حانم نے آرجے کے گرد گھیرا ڈالے سٹوڈنٹس سے درخواست کی تھی۔ وہ اسے دیکھنا چاہتی تھی۔
اور پھر پتھر سے بنے بینچ پر گٹار ہاتھ میں تھامے گنگناتے شخص کو دیکھ کر حانم کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا۔
اسے ڈیپارٹمنٹ کی پوری بلڈنگ اپنے اوپر گرتی محسوس ہوٸی تھی۔

”روحان جبیل۔۔ یہاں۔۔!!“
وہ بڑبڑاٸی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: