Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 2

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 2

–**–**–

میز پر رکھا ہوا کافی کا کپ ٹھنڈا پڑ چکا تھا۔ اُسکی نظریں گلاس ڈور سے باہر تیزی سے گزرتی گاڑیوں پر جمی تھیں۔
جانے کس احساس کے تحت اس نے نگاہیں اپنے کپ کی طرف مرکوز کیں۔ کپ اٹھایا تو کافی ٹھنڈی ہوچکی تھی۔ ایک گہرہ سانس لینے کے بعد اس نے وہ کڑوا اور ٹھنڈا مشروپ اپنے اندر انڈیلا تھا۔۔۔
میز پر رکھے موبائل سے ٹائم دیکھا۔

”اووہ صرف دس منٹ رہ گئے ہیں“
وہ بڑبڑاتے ہوئے ایک دم کھڑی ہوٸی۔ کافی کے پیسے اس نے میز پر رکھے اور دروازے کی طرف قدم بڑھادیئے۔ یہ اسکی تقریباً روزانہ کی روٹین تھی۔

”گھڑی پہننے کے باوجود موبائل پر وقت دیکھنے کی عادت آج بھی نہيں بدلی تمہاری۔۔!!“
اس سے کچھ فاصلے پر بیٹھے ہوئے شخص کی نظریں دروازے سے باہر نکلتی لڑکی پر جمی تھیں۔ وہ ہلکا سا مسکرایا تھا۔

“جب سے ڈوبا ہوں تیری آنکھوں کے دریا میں”
“تڑپ رہا ہوں چشم یعقوب کی مانند”

اس شخص کا آدھا چہرہ چھپا ہوا تھا۔ تقریباً پانچ منٹ بعد وہ اٹھا اور اسکے پیچھے چلنا شروع کردیا۔

ان دونوں کے جانے کے بعد ایک لڑکا تیزی سے ریسٹورینٹ کے اندر داخل ہوا اور کاٶنٹر کی طرف بڑھا۔

”ہے البرڈ اینجل آئی تھی کیا؟“
میڈی نے کاٶنٹر پر کھڑے لڑکے پوچھا۔

”ہاں ہمیشہ کی طرح۔۔۔“
البرڈ نے کافی کپ میں ڈالتے ہوئے جواب دیا۔

”اور مون۔۔“

”ہاں وہ بھی آیا تھا اور اسکے پیچھے چلا گیا ہمیشہ کی طرح۔۔“

”یہ مون مرجائے گا میرے ہاتھوں۔۔“
میڈی کو نا جانے کس بات کا غصہ آیا تھا۔

”ریلیکس میڈی وہ اسے نقصان نہيں پہنچانے والا“
البرڈ ٹرے اٹھا کر ایک میز کی طرف بڑھ گیا۔

”لیکن مجھے اس پر بالکل بھی بھروسہ نہيں ہے“
میڈی اسکے پیچھے لپکا۔

”اگر بھروسہ نہيں ہے تو جاٶ نا اسکے پیچھے۔۔ ویسے بھی تمہاری ان فضول باتوں میں ٹرین گزر چکی ہوگی۔۔“

”اووو شٹ“
البرڈ کی بات سن کر میڈی چلایا اور باہر کی طرف بھاگالیکن شاید قسمت نے اسکا ساتھ نہيں دیا تھا۔ ٹرین گزر چکی تھی اب اسے پندرہ منٹ انتظار کرنا تھا جب تک دوسری ٹرین نہيں آجاتی۔ میڈی کا موڈ بری طرح خراب ہوچک تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب وہ گھر پہنچی تو تقریباً پوری بھیگ چکی تھی۔ اکیڈمی میں اسے رکشے پر آنا جانا پڑتا تھا۔ جو کہ اسے مین روڈ پر اتار دیتا تھا۔ مین روڈ سے گھر تک کا سفر پانچ منٹ کا تھا۔ اور ان پانچ منٹوں میں وہ بارش تیز ہونے کی وجہ سے بھیگ گٸی تھی۔

”کتنی بار کہا ہے کہ رکشے والے سے کہہ کر گھر تک رکشہ لے آیا کرو۔ اپنے گھر کے سامنے اتارا کرو“
آسیہ بیگم نے اپنی بیٹی سے کہا جو ہمیشہ انکی بات ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتی تھی۔

”اماں رکشے والا پیسے زیادہ مانگتا ہے۔ پانچ منٹ کے سفر کیلیے میں اسے زیادہ پیسے ہرگز نہيں دے سکتی۔“
وہ تولیے سے بال صاف کرتے ہوئے بڑبڑاٸی۔

”وہ تو ٹھیک ہے لیکن کبھی کبھی حالات کو بھی دیکھ لینا چاہیے نا۔ آج موسم خراب تھا اور اتنی تیز بارش تھی آج تو آجاتی نا۔۔“

”کیا مجھے کھانا ملے گا“
وہ اپنی ماں کی بات مکمل نظرانداز کر گٸی تھی۔

آسیہ بیگم سے اسکی بات سن کر سر جھٹکا۔ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ انکی بیٹی اپنی من مانی کرتی ہے ہمیشہ۔

”کپڑے بدل لو۔ میں گرم کر کے لاتی ہوں کھانا۔“
آسیہ بیگم برآمدے ملحقہ چھوٹے سے کچن میں چلی گٸی تھیں۔جبکہ وہ کمرے کی طرف بڑھ گٸی۔

”ماہم اور جواد کہاں ہیں؟ نظر نہيں آ رہے؟“
گھر میں چھاٸی خاموشی کو محسوس کرکے اسے اپنے دونوں چھوٹے بہن بھاٸی یاد آگئے تھے۔

”چھت پر ہیں۔ کچن کی چھت ٹپک رہی تھی تو سیمنٹ لگا رہے ہیں دونوں۔۔
بھاٸی صاحب پیسے دے دیتے تو مرمت ہی کروالیتی مکانوں کی لیکن جو اللہ کو منظور۔“
آسیہ بیگم نے ایک گہری سانس لیتے ہوئے جواب دیا۔اور کھانا برآمدے میں بچھی چارپاٸی پر رکھ دیا۔

”مجھے نہيں لگتا امی کہ وہ ہمیں پیسے دینگے۔ لوگ یتمیوں اور غریبوں کا حق بہت آسانی اور بنا خوف کے مار لیتے ہیں“
اور اسے قرآن کی آیت مبارکہ اور احادیث مبارکہ یاد آئی جس میں یتیموں کے حقوق بیان فرمائے گئے ہیں اور سوچا کیوں لوگ صرف قران کو صرف پڑھتے ہیں سمجھتے کیوں نہیں۔۔۔۔

#بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ
وَاٰتُوا الْيَتَامٰٓى اَمْوَالَـهُـمْ ۖ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيْثَ بِالطَّيِّبِ ۖ وَلَا تَاْكُلُـوٓا اَمْوَالَـهُـمْ اِلٰٓى اَمْوَالِكُمْ ۚ اِنَّهٝ كَانَ حُوْبًا كَبِيْـرًا°
#ترجمہ۔۔۔
اور یتیموں کو ان کے مال دے دو، اور ناپاک کو پاک سے نہ بدلو، اور نہ کھاؤ ان کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر، بے شک یہ بڑا گناہ ہے۔
#سورۃ النساء:2

یتیم کی سرپرستی اور خیرخواہی :۔
معاشرتی قباحتوں میں سے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے یتیموں کے حقوق کی طرف توجہ دلائی۔ یتیم کی پرورش کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔ چناچہ

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
میں اور یتیم کا سرپرست جنت میں اس طرح ہوں گے۔ پھر آپ نے اپنی شہادت کی اور درمیانی انگلی ذرا کھول کر اشارہ کیا۔
(بخاری۔ کتاب الادب۔ باب فضل من یعول یتیما)

لیکن عرب میں یتیموں کے حقوق کئی طرح سے پامال ہو رہے تھے۔ انہی حقوق کی پامالی کا بالترتیب یہاں ذکر ہو رہا ہے۔ مثلاً جو چیزیں بطور امانت سرپرست کے پاس ہوتیں انہیں واپس کرتے وقت وہ یہ کوشش کرتا کہ اچھی چیز کے بدلے کوئی پرانی اور گھٹیا چیز دے کر خانہ پری کر دے۔
دوسری صورت یہ تھی کہ کھانے پینے کی اشیاء کو ملا جلا لیا جس میں یتیم کو کسر لگانے اور اپنا فائدہ ملحوظ رکھنے کی کوشش کی جاتی تھی۔۔۔۔۔۔۔

لیکن یہ تو بس اس کی سوچ تھی نا کہ دنیا ویسا سوچ سکتی بس یہ سوچ کر ہی خاموش ہو گئی

وہ پیسوں کے ذکر پر سخت بدمزہ ہوٸی تھی۔

”اچھا تم کھانا کھا لو میں ذرا ان دونوں کو دیکھ لوں بھیگ رہے ہونگے اوپر“

”آپ رہنے دیں امی میں دیکھ لونگی کھانے کے بعد۔۔ آپ بس آواز دے کر دونوں کو نیچے بلا لیں“
وہ کہہ کر کھانے کی طرف متوجہ ہوچکی تھی۔ البتہ ذہن بری طرح انتشار کا شکار تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شور کی آواز پر وہ چونکی۔ اسکے بالکل سامنے ایک لڑکے کا بیگ نیچے گر گیا تھا۔ ٹرین کی رفتار آہستہ ہوٸی۔
#Marne_la_Vallee_station
وہ ایک دم سیدھی ہوٸی۔ اسکا اسٹیشن آگیا تھا ہر وہ ایسے ہی خیالوں میں کھوٸی رہتی تو شاید اسثیشن گزر جاتا۔
اس نے مسکرا کر اپنے سامنے بیٹھے ٹین ایج لڑکے کو دیکھا جیسے شکریہ ادا کیا ہو۔
اور پھر ٹرین رکنے پر وہ ٹرین باہر نکل گٸ۔
اسکے بالکل سامنے وہ گاٶں تھا۔۔۔ ہاں (Disney village) جس سے ایک منٹ کے فاصلے پر Disney land تھا۔۔
شہزادیوں اور پریوں کا دیس۔۔ اسکے لیے آج بھی ویسا ہی تھا۔
بہت سے لوگ ٹرین سے اترے تھے اور اب انکا رخ ڈزنی لینڈ کی طرف تھا۔

”تھینکس بڈی۔۔“
ٹرین سے باہر نکلتے ہوئے اس آدھے چھپے ہوئے چہرے والے شخص نے سیٹ پر بیٹھے اس لڑکے سے کہا جس نے جان بوجھ کر اسکے اشارے پر اپنا بیگ نیچے گرایا تھا۔

اب اسکی نگاہیں اینجل کو ڈھونڈ رہی تھیں۔۔ اتنے سارے لوگوں کے ہجوم میں وہ کہیں کھو گٸی تھی۔ وہ تھوڑا سا بےچین ہوا۔۔
پھر اسے ایک طرف وہ نظر آگٸی تھی۔۔ ہاں وہی۔۔ اینجل۔۔
اینجل کو دیکھتے ہی اسکے چہرے پر سکون پھیل گیا تھا اور اب تھوڑا سا فاصلہ رکھ کر وہ اسکے پیچھے پیچھے چل پڑا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”سن رہا ہے نا تو
رو رہا ہوں میں۔۔
سن رہا ہے نا تو۔۔“

”ماہم ٹی وی کی آواز کم کرلو۔۔ کب سے کہہ رہی ہوں۔۔“
وہ اپنی کتابيں پھیلائے بیٹھی تھی۔ مسلسل آنے والی گانے کی آواز اسکی توجہ اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔

”ارے ہانی ذرا آکر دیکھو آج RJ کا شو ہے۔۔ قسم سے کمال لگ رہا ہے۔۔“
ماہم نے آواز کیا کم کرنی تھی اوپر سے چلا کر کہا۔

”ہاں ہانی آپی۔۔ بہت اچھا لگتا ہے مجھے بھی RJ “
جواد نے بھی ماہم کی پیروی کی۔

”عاشقی ٹو والا آر جے۔۔؟ اففف توبہ ذرا نہيں پسند مجھے نا یہ فلم۔۔۔ نا اسکے گانے اور نا ہیرو۔۔ اور اگر اب تم لوگوں نے آواز کم نا کی تو میں امی سے کہہ دونگی۔۔“
وہ جانے کیوں غصے کرنے لگ گٸی تھی۔۔ شاید حالات نے اسے چڑچڑا بنا دیا تھا۔

”نہيں یہ وہ آر جے نہيں ہے یہ تو پاکستان کا مشہور۔۔۔

“بلاٶں امی کو۔۔؟“
ہانی نے ماہم کی بات کاٹ کر دھمکی دی تو وہ منہ بنا کر آواز کم کرنے لگ گٸی۔

”ہاۓ کتنا اچھا گاتا ہے نا یہ۔۔۔ کاش میں بڑا ہو کر ایسا بن جاٶں۔۔“
جواد کے لہجے میں حسرت تھی۔۔۔ وہ چھوٹا سا بچہ جانے کب سکرین پر گٹار پکڑے گاتے ہوئے لڑکا فین بن چکا تھا اسے خود بھی معلوم نہيں تھا۔

”کل رات مولانا صاحب کی #روح پرواز کر گٸی“
ہانی کی نظر سامنے رکھے اخبار پر پڑی تھی۔
اسکے دماغ نے لفظ روح کو بہت بری طرح سے Capture کیا تھا۔

روح۔۔۔ روح۔۔
وہ بڑبڑاٸی۔

”روح کیا ہے۔۔؟؟“
ایک سادہ سے سوال نے اسکے دماغ میں جنم لیا۔
اسکا ذہن اٹکا تھا۔۔ وہ سوچتی رہی لیکن کوٸی سرا نا پکڑ پاٸی۔

تھک ہار کر اس نے کتابيں اٹھا کر ایک طرف رکھیں اور لیٹ گٸ۔۔ اسکا ذہن آج کل پڑھاٸی میں نہيں لگ رہا تھا۔
عجیب و غریب سوچوں نے اسکے دماغ کو گھیرا ہوا تھا۔
”کبھی تم لوگ پڑھ بھی لیا کرو۔۔ہر وقت ٹی وی میں گھسے رہتے ہو۔۔“
ہانی نے اپنے دونوں بہن بھاٸیوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ جو اس سے کچھ فاصلے پر نظریں ٹی وی میں گاڑے بیٹھے تھے۔

”ہمیں کتابی کیڑا نہيں بننا۔۔۔ کیوں جواد۔۔؟؟“
ماہم نے جواد کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
وہ بھی مسکرادیا تھا جبکہ ہانی نے افسوس سے سر ہلایا۔

یہ تھی اُمِ حَانم عرف ہانی۔۔ جو بی ایس سی سال دوٸم کی طالبہ تھی جسکی کل کاٸنات اسکی ماں اور دو بہن بھاٸی تھے۔
ماہم،ہانی سے دو سال چھوٹی تھی جو سیکنڈایٸر میں تھی اور جواد ماہم سے چار سال چھوٹا تھا۔
ابصار صاحب جو کہ ہانی کے والد سات سال پہلے ہی دنیا سے رخصت ہوگۓ تھے۔ وقت اور حالات نے اسے عمر سے بڑا بنا دیا تھا۔ البتہ ماہم میں ابھی بچپنا تھا۔

”روح کیا ہے؟“
ایک بار پھر اسکا ذہن الجھا۔۔ بالآخر وہ اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گٸی تھی۔

”تیرے سنگ گزر جائے یہ عمر جو باقی ہے۔۔
ہنس دو نا ذرا کھل کر۔۔ کاہے کی اداسی ہے۔۔“
دروازے سے باہر نکلتے وقت اسکی سماعت سے گانے کی آواز ٹکراٸی۔
آواز اچھی تھی۔چاہنے کے باوجود وہ واپس پلٹ کر ٹی وی پر نظر آتے اس آر جے کو نہيں دیکھ پاٸی تھی۔ اور خاموشی سے وہ صحن کی طرف بڑھ گٸ تھی جہاں ٹھنڈی ہوا نے اسکا استقبال کیا تھا۔۔ اسے روزانہ رات کو صحن میں ٹہلنے کی عادت تھی۔۔ اور آج تو پھر ٹھنڈی ہواٸیں اسے سکون بخش رہی تھیں۔

۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: