Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 20

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 20

–**–**–

ایکسکیوز می۔۔ تھوڑا ساٸیڈ پر ہوجاٸیں پلیز۔۔“
حانم نے آرجے کے گرد گھیرا ڈالے سٹوڈنٹس سے درخواست کی تھی۔ وہ اسے دیکھنا چاہتی تھی۔
اور پھر پتھر سے بنے بینچ پر گٹار ہاتھ میں تھامے گنگناتے شخص کو دیکھ کر حانم کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا۔
اسے ڈیپارٹمنٹ کی پوری بلڈنگ اپنے اوپر گرتی محسوس ہوٸی تھی۔

”روحان جبیل۔۔ یہاں۔۔!!“
وہ بڑبڑاٸی تھی۔
وہ ایک جھٹکے سے پیچھے ہوٸی تھی۔ کالج میں ہونے والی ایک ایک بات اور آرجے سے ملاقات اسکی آنکهوں کے سامنے گھوم گٸی تھی۔
وہ سٹوڈنٹس کے ہجوم سے پیچھے ہٹتی جا رہی تھی۔ اس نے کبھی خواب میں بھی روحان جبیل سے دوبارہ سامنہ کرنے کا نہيں سوچا تھا۔

”ہانی کہاں جارہی ہوں تم۔۔۔ ادھر آٶ جلدی۔۔“
مہرو نے اسے پیچھے ہٹتے دیکھا تو کہا۔
لیکن وہ شاکڈ تھی۔ وہ واپس کیفے چلی گٸی تھی۔ (Millinials cafe ) جو بہت شاندار اور جدید طرز کا نہيں تھا بلکہ ایک عام سا اور سادہ سا کیفے تھے۔
اسکی خوبصورتی وہاں موجود درخت تھے۔۔ لمبے اور گھنے درختوں کے نیچے بنا یہ کیفے آنے والے کو اپنی طرف کھینچتا تھا۔
کیفے کے بالکل سامنے جنت روڈ کے دوسری جانب انکا ڈیپارٹمنٹ تھا۔
مالیکیولر باٸیولوجی اینڈ مالیکیولر جینیٹکس (MMG) وہ اس سبجیکٹ میں ماسٹرز کرنے آٸی تھی اور یہی ڈیپارٹمنٹ کا نام تھا۔

کتنی ہی دیر وہ خاموش بیٹھی رہی تھی۔

”کیا اسے سب یاد ہوگا۔۔؟؟“
”کیا پھر وہ مجھ سے کوٸی بدلہ لے گا؟؟“
حانم کے ذہن میں سوال کسی آندھی طوفان کی طرح اٹھ رہے تھے۔

”کیا وقعی روحان جبیل ہی آرجے ہے۔۔؟؟
اسے یقین نہيں ہو رہا تھا۔

”جو بھی ہے لیکن وہ میرے ڈیپارٹمنٹ میں کیا کر رہا ہے۔۔۔؟؟“
وہ سچ میں گھبرا گٸی تھی۔

“اس سے پہلے وہ مجھے دیکھے مجھے یہاں سے چلے جانا چاہیے۔۔!!
حانم نے فیصلہ کیا،اپنا بیگ اٹھایا اور یونيورسٹی کے گیٹ (8) کی طرف قدم بڑھا دیے تھے۔
وہ تیز تیز چل رہی تھی جیسے ابھی وہ اسے دیکھ لے گا اور پھر ”ٹیچر جی“ کہہ کر اسکا مذاق اڑاٸے گا۔۔
بڑا گیٹ باہر سے آنے جانے والوں کیلیے تھا جبکہ وہ دوسرے تھوڑے سے فاصلے پر بنے چھوٹے گیٹ کی جانب بڑھ گٸی تھی۔۔ جس سے باہر نکلنے پر ایک چھوٹا سا رستہ بنا تھا جو برج (Bridge )تک جاتا تھا۔
یہ رستہ پیدل آنے جانے والے سٹوڈنٹس کیلیے تھا جسکے دونوں جانب باڑ لگی تھی۔
وہ اب تیزی سے برج کی سیڑھیاں چڑھ رہی تھی جو ڈبل روڈ کراس کرنے کیلیے بنایا گیا تھا۔
تقریباً پندرہ منٹ کے وقت میں وہ کیفے سے برج کراس کرکے اب ہاسٹل کے گیٹ پر پہنچ گٸی تھی۔۔۔ یونيورسٹی کے دوسری جانب ہاسٹل ایریا تھا جو باہر سے برج کی مدد سے اور اندر سے انڈر پاس کی مدد سے یونيورسٹی سے ملحقہ تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”انکل میں سوچ رہی ہوں کہ ہاسٹل شفٹ ہوجاں۔۔ یہاں سے یونيورسٹی کا فاصلہ بہت ہے۔۔ کافی ٹائم لگ جاتا ہے اور پھر میری کلاسز بھی سیکنڈ ٹائم ہوتی ہیں۔۔
انکل رحیم صبح جواد کو سکول چھوڑنے جاتا ہے اور پھر بارہ بجے مجھے یونيورسٹی لے کر جاتا ہے۔۔
پھر جواد کو لےکر آتا ہے اور پر شام کو واپس مجھے۔۔
وہ سارا دن اسی کام پر لگا رہتا ہے۔۔!!
وہ آج پہلے دن یونيورسٹی گٸی تھی اور اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ بحریہ سے یونيورسٹی کا سفر کافی ہے۔
اور ٹریفک کی وجہ سے وہ آج پہلے ہی دن لیٹ ہوگٸی تھی۔
بہت سوچنے پر اس نے حمدان انکل کے سامنے تجویز پیش کی تھی۔

”لیکن ہاسٹل میں رہنے کی کیا ضرورت ہے۔۔؟؟“
آسیہ بیگم پریشان ہوٸی تھیں۔

”امی پریشانی ہوگی نا سب کو۔۔ اب ایک دو دن تک ماہم کا رزلٹ آجاٸے گا پھر اسکا ایڈمیشن ہوگا۔۔ ڈرائيور انکل کس کس کو پک اینڈ ڈراپ کی سروس دینگے۔۔
اور پھر میری کلاسز بھی شام تک ہوتی ہیں، باقاعدگی سے نہيں ہوتیں۔۔“
حانم نے تفصيل سے جواب دیا تھا۔
حمدان انکل گہری سوچ میں تھے۔

”لیکن بیٹا ہاسٹل میں تو کافی مشکل ہوگی نا۔۔ وہاں کا رہن سہن۔۔۔ ماحول اور پھر کھانا پینا۔۔“
وہ بھی فکرمند نظر آرہے تھے۔

”انکل میں سنبهال لونگی سب۔۔ اب ایڈمیشن لیا ہے تو مشکلات بھی برداشت کرنی پڑیں گی نا۔۔؟؟“
وہ مسکراٸی تھی۔

”ایک بار پھر سوچ لیں۔۔!!
وہ پوچھ رہے تھے۔

”جی انکل میں نے سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے۔۔

”حمدان آپ بھی اسکا ساتھ دیں رہے ہیں یہ تو جذباتی ہے۔۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر گھبرا جاتی ہے ایک دن لیٹ ہوگٸی تو کیا ہوا۔۔
ہاسٹل رہنے کی اجازت میں نہيں دے سکتی۔۔
اگرمشکلات برداشت نہيں کر سکتی تو پڑھاٸی چھوڑ دے۔۔ لیکن میں اسے ہاسٹل نہيں جانے دونگی۔۔!!!
آسیہ بیگم نے خفگی سے اپنا فیصلہ سنایا تھا۔

ّ”امی آپ یوں کہیں نا کہ آپکا دل نہيں لگے گا ہانی کے بغیر۔۔
ماہم نے منہ بنایا تھا۔
اور امی آپ بالکل مت جانے دینا اسے۔۔ ابھی کچھ دن پہلے میں نے ایک ڈرامے میں ڈاٸیلاگ سنا تھا کہ ہاسٹل میں رہنے والی لڑکيوں کے رشتے نہيں آتے۔۔!!“
ماہم نے اپنی طرف سے کام مکمل کیا تھا۔

”ماہم بری بات بیٹا۔۔ ایسے نہيں کہتے۔۔!!
حمدان انکل نے اسے ٹوکا تھا۔

” ہاٸے اللہ نا کرے۔۔“
آسیہ بیگم کا دل دہل گیا تھا۔
جبکہ حانم کے گھورنے پر ماہم نے مشکل سے اپنی مسکراہٹ ضبط کی تھی۔

”ایسا کچھ نہيں ہے آسیہ۔۔ وہاں سب کچھ اچھا ہے۔۔
ویسے تو وہ لاہور میں رہنے والوں کو ہاسٹلز الاٹ نہیں کرتے لیکن میرے جاننے والے ہیں۔ ان شاء اللہ کام ہوجاۓ گا۔۔!!!
حمدان انکل کی بات پر حانم نے شکر ادا کیا تھا۔

”لیکن ہاسٹل۔۔میرا دل نہيں مانتا حمدان۔۔“
آسیہ روہانسی ہوٸی تھی۔

”کچھ نہيں ہوتا آسیہ۔۔ ماہی کو دیکھو وہ بھی تو رہ رہی ہے اور وہ بھی دوسرے ملک میں۔۔
اپنے بچوں پر بھروسہ رکھنا چاہیئ۔۔ ان شاء اللہ سب ٹھیک ہوگا۔۔!!!
وہ ہمیشہ مثبت سوچتے تھے۔
آسیہ بیگم جانے قاٸل ہوٸی تھیں یا نہيں لیکن انہوں نے اثبات میں سرہلا دیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”سب بہت اچانک ہوا تھا ماہی بیٹا بتانے کا ٹائم ہی نہيں ملا۔۔!!
وہ ماہی سے بات کر رہے تھے۔ ایک پل کیلیے تو ماہی کا دل بھی ڈر سا گیا تھا اپنے باپ کی دوسری شادی کا سن کر۔۔ حالانکہ اس نے ہی مشورہ دیا تھا۔
لیکن جلد ہی وہ سنبهل گٸی تھی۔

”کوٸی بات نہيں بابا۔۔“
وہ زبردستی مسکراٸی تھی۔

”تم آسیہ سے بات کرو میں آتا ہوں کچھ دیر تک۔۔!!
وہ موبائل جس پر ویڈیو کال چل رہی تھی آسیہ بیگم کو پکڑا کر کمرے سے باہر چلے گٸے تھے۔

وہ دونوں ہی ڈر رہی تھیں۔۔ دونوں کو خوف تھا کہ ناجانے سامنے والا کا رویہ کیسا ہوگا۔
ماہی نے شاٸستگی سے سلام کیا تھا اور اس سے زیادہ پیار سے آسیہ بیگم نے جواب دیا تھا۔
چہرے سے ہی ماہی کو آسیہ بیگم رحم دل محسوس ہوٸی تھیں۔

”ایک بات کہوں آنٹی اگر آپ برا نا مانیں۔۔؟؟“
ماہی نے ڈرتے ڈرتے پوچھا تھا۔

”آنٹی مجھے نہيں پتا ماں کیسی ہوتی ہے؟؟ اسکا پیار کیسا ہوتا ہے۔۔ میرے لیے میری ماں میرے بابا ہی تھے۔
انہوں نے بہت مشکلوں سے پالا ہے مجھے۔۔ میں ان سے بہت پیار کرتی ہوں۔۔ آپ سے درخواست ہے پلیز کبھی میرے بابا کو مجھ سے دور مت کیجیۓ گا۔۔ میرا اس دنیا میں انکے علاوہ اور کوٸی نہيں ہے۔۔!!
ماہی کا لہجہ بھرا گیا تھا۔۔ اسکی آنکهيں نم ہوٸی تھیں۔۔ بیشک اس نے اپنے باپ کے چہرے پر خوشی محسوس کرلی تھی لیکن ایک سوتیلی ماں کا جو خاکہ اسکے ذہن میں بنا ہوا تھا وہ ڈر گٸی تھی۔
ماہی کی بات سن کر آسیہ بیگم کے دل کو کچھ ہوا تھا۔ اس نے کبھی ایسا نہيں سوچا تھا یہ تو وقت اور حالات اسے یہاں تک لے آٸے تھے۔

اور وہ اچھے سے جانتی تھیں کہ حمدان اسکے بچوں کو اپنے بچے ہی سمجھ رہے تھے اور انکی شفقت اور محبت دے رہے تھے۔۔ بدلے میں وہ خود ایسا ہی کرنا چاہتی تھیں۔

” ماہی بیٹا آپ پریشان نا ہوں۔۔ حمدان پر سب سے پہلے اور سب سے زیادہ حق آپکا ہے۔۔ میں مجبور نا ہوتی تو کبھی آپ سے حمدان کو نا چھینتی۔۔!!

”شکریہ آنٹی۔۔“
ماہی کو انکی باتوں میں سچائی محسوس ہوٸی تھی۔ اسکے اندر تک سکون اتر گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مہرو نے حانم کو وہاں نا پاکر اپنے آس پاس نظریں دوڑاٸی تھیں لیکن وہ اسے کہیں بھی نظر نہيں آٸی تھی۔

”یہ ہانی کہاں چلی گٸی؟؟“
وہ حیران ہوٸی تھی۔
وہ خود آرجے کی بہت بڑی مداح تھی۔ آرجے اسکے کزن مستقیم کا دوست تھا۔
وہ اکثر و بیشتر مستقیم سے اسکا ذکر سنتی رہتی تھی۔ تصویروں میں دیکھا تھا اسے لیکن کبھی ملی نہيں تھی۔
مگر وہ یہ نہيں جانتی تھی کہ جس روحان جبیل کا حانم ذکر کرتی وہ آرجے ہی تھا۔

”ہانی۔۔۔
مہرو نے پاگلوں کی طرح آواز لگاٸی تھی اور پھر ہجوم سے ہٹ گٸی تھی اب وہ اسکا نمبر ملا رہی تھی۔

”کہاں ہو تم۔۔؟؟“
اسکے ہیلو کہنے پر مہرو نے پھاڑ کھانے والے انداز میں پوچھا تھا وہ اسے ڈیپارٹمنٹ اور کیفے ہر جگہ ڈھونڈ چکی تھی۔

”ہاسٹل ہوں۔۔“
حانم نے پرسکون سے لہجے میں جواب دیا تھا۔

”کیا لینے گٸی ہو ہاسٹل۔۔ تمہيں پتا ہے نا ابھی ایک کلاس رہتی ہے۔۔؟؟“
مہرو کو سمجھ نہيں آرہا تھا کہ حانم کو اچانک کیا ہوا تھا۔

”میرے سر میں درد ہو رہا تھا اس لیے آگٸی۔۔!!

”ہاٸیں۔۔ سر میں درد کب ہوا۔۔؟ ابھی کچھ دیر پہلے تک تو تم ٹھیک تھی۔۔“
مہرو نے اچنبھے سے پوچھا۔

”یار اب کیا فون پر ہی پوری تفشیش کرو گی جاٶ جا کر کلاس لو اور میرے بھی نوٹس لے لینا۔۔!!
وہ غصے سے کہہ کر فون بند کرچکی تھی۔

”اسکو کیا ہوگیا ہے۔۔؟؟“
مہرو کو سمجھ نہيں آرہا تھا۔ اب وہ بھی کہاں کلاس لینے والی تھی۔ موبائل بیگ میں ڈالنے کے بعد وہ خود بھی ڈیپارٹمنٹ سے باہر نکل آٸی تھی۔

جب مہرو کو پتا چلا تھا کہ حانم ہاسٹل رہے گی اس نے رو دھو کر گھر میں سب کو منا لیا تھا۔ وہ اسکے ساتھ ہی رہنا چاہتی تھی۔۔ وہ دونوں بچپن سے ایک کلاس اور ایک ہی ادارے میں پڑھتی آٸیں تھیں۔۔ اب کیسے مہرو اسے اکیلی کو جینے دیتی۔۔؟؟ اور وہ دونوں ایک ہی ہاسٹل میں ایک ہی کمرے میں رہتیں تھیں۔۔!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جورڈن اس باکس کا تالہ توڑنے میں کامياب ہوگیا تھا اب وہ اسے لیے چھوٹے سے ڈرائينگ روم میں بیٹھا تھا۔
اسکی آنکهوں میں ابھی بھی نمی سی تھی۔
دکھ بہت گہرا تھا۔ جو اسکی روح تک کو جھلسا گیا تھا۔
باکس میں اسکی ماں اور باپ کی بہت سی تصویریں تھیں۔۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ بہت خوش نظر آرہے تھے۔
جورڈن نے کبھی اپنے باپ کو نہيں دیکھا تھا۔
تصویر میں موجود شخص بہت وجیہہ تھا۔ وہ مشرقی مرد تھا شاید اسی لیے مارتھا اس پر دل ہار گٸی تھی۔

تصویروں کے علاوہ اس باکس میں سے ایک لاکٹ نکلا تھا۔
جس پر Jabail لکھا ہوا تھا۔
نفرت کی ایک لہر جورڈن کے پورے جسم میں پھیل گٸی تھی۔

”میں تمہيں نہيں چھوڑوں گا مسٹر جبیل۔۔ میں تمہيں ختم کردوگا۔۔!!
وہ چیخ رہا تھا۔۔
وہ پاگل ہوگیا تھا۔۔ ہاں پاگل۔۔اپنی ماں کے دکھ میں۔۔!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”کیا میں پوچھ سکتی ہوں کہ ایسی کیا آفت آگٸی تھی جو تم یوں ڈیپارٹمنٹ سے بھاگ آٸی۔۔؟؟“
مہرو نے بیگ کو بیڈ پر پھینکتے ہوٸے سکون سے بیٹھی حانم سے پوچھا۔

”ویسے ہی مجھے بھوک لگی تھی۔۔

”کیا۔۔ تم پاگل ہو ہانی۔۔؟؟“
مہرو اسکی منطق پر حیران رہ گٸی تھی۔

”تمہیں کیا آفت پڑی تھی جو میرے پیچھے پیچھے بھاگ آٸی ہو۔۔؟؟“
حانم نے الٹا سوال کیا۔

”کیونکہ تم وہاں سے چلی آٸی تھی میں اس لیے آگٸی۔۔

” تو میں بھی اسی لیے آگٸی تھی کہ وہاں پر وہ آگیا تھا۔۔!!

”وہ کون۔۔؟؟“
مہرو اسکی بات پر چونکی تھی۔

”وہی روحان جبیل۔۔منحوس۔۔!!
حانم نے موبائل کو پٹختے ہوٸے کہا۔

”کون روحان جبیل۔۔؟؟“
مہرو حیران تھی۔ اسے نہيں پتا تھا کہ آرجے ہی روحان جبیل تھا جیسے حانم کو نہيں پتا کہ تھا کہ روحان جبیل ہی آرجے تھا۔

”وہی تمہارا کرش۔۔ آرجے۔۔!!
حانم نے جلے کٹے لہجے میں جواب دیا تھا۔

”کیا۔۔ سچ میں۔۔؟؟“
مہرو کو لگا تھا جیسے کوٸی دھماکہ ہوا ہو۔ اس یاد آیا تھا روحان جبیل جس نے کالج میں حانم کی ناک میں دم کردیا تھا۔

”اففف۔۔۔ کیا واقعی۔۔۔
کیا آرجے ہی روحان جبیل ہے۔۔ وہی روحان جو کالج میں تھا۔۔؟؟

”ہاں وہی۔۔۔“
حانم کو کوفت ہوٸی تھی۔

”قسم کھاٶ۔۔۔“
مہرو کا غصہ رفو چکر ہوگیا تھا اب وہ دلچسپی سے پوچھ رہی تھی۔
اسکے اس طرح کہنے پر حانم نے اسے گھورا تھا۔ جبکہ مہرو نے ڈھیٹ پن سے دانت نکالے تھے۔

”مزہ آنے والا ہے پتا ہے وہ ہمارا ہی کلاس فیلو ہے۔۔ ہمارے ڈیپارٹمنٹ کا ہمارے بیج کا۔۔!!!

”کیا۔۔؟؟“
مہرو نے کی بات سن کر حانم کرنٹ کھاکر اچھلی تھی۔

”ہاں میرا کزن بتا رہا تھا۔۔ میں نے بہت سنا تھا اسکے بارے میں۔۔ صبح میں اس سے ملوں گی۔۔ میرا کزن ملواٸے گا اور تمہیں میں اپنے کزن سے ملواٶں گی۔۔
مستقیم عرف مکی۔۔ آرجے کا بہت اچھا دوست ہے۔۔!!
مہرو اور بھی کچھ کہہ رہی تھی جبکہ حانم کی شکل دیکھنے لاٸق تھی۔ آنسو اسے اپنے گلے میں اٹکتے محسوس ہو رہے تھے۔

”وہ ہمارا کلاس فیلو کیسے بن گیا۔۔ اسی سال اس نے پری میڈیکل میں ایف ایس سی کی ہے۔۔ایم ایس سی سے پہلے بی ایس ای کرنی ہوتی ہے۔۔ وہ ڈاٸریکٹ ماسٹرز میں کیسے آگیا۔۔؟؟“
وہ حیرت سے پوچھ رہی تھی۔

”وہ سب کر سکتا ہے۔۔ کچھ بھی۔۔ جتنا میں نے سنا ہےاسکے بارے مجھے نہيں لگتا کہ اسکے لیے مشکل ہوگا ایڈمیشن لینا۔۔ کوٸی نا کوٸی جگاڑ لگا لیا ہوگا۔۔!!
مہرو اپنی دھن میں کہہ رہی تھی۔ وہ نہيں جانتی تھی کہ کالج میں آرجے نے حانم کے ساتھ کیا کیا تھا؟ حانم نے اسے کچھ نہيں بتایا تھا۔
اس نے حانم کے چہرے پر غور نہيں کیا تھا جس پر پریشانی واضح تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”کیسی ہیں آپ بی جان اور بابا ساٸیں کیسے ہیں۔۔؟؟“
حشام نے گاڑی پارک کی اور باہر نکلتے ہوٸے کان سے لگاٸے فون پر بی جان سے پوچھا تھا۔

”میں ٹھیک ہوں بیٹا۔۔ تمہارے بابا پچھلے تین دن سے بزنس ٹور پر گٸے ہیں میرا فون نہيں اٹھایا اور نا خود کال کی ہے۔۔!!
بی جان افسردہ سی کہہ رہی تھیں۔
انکے لہجے میں دکھ محسوس کرکے حشام کا دل دکھا تھا۔

”ایک بات پوچھوں آپ سے بی جان۔۔؟؟“
حشام نے مال میں داخل ہوتے ہوٸے پوچھا تھا۔ وہ کچھ ضروری چیزیں لینے آیا تھا۔

”ہاں پوچھو بیٹا۔۔“

”بی جان بابا ساٸیں آپ سے اتنی محبت کیوں نہيں کرتے جتنے چھوٹے بابا ساٸیں ( حیدر جبیل،جنہیں سب لوگ شاہ جبیل کہتے تھے) چھوٹی ماں (عاٸشہ جبیل) سے کرتے تھے۔ انکے اس دنیا سے جانے کے بعد بھی چھوٹے بابا ساٸیں نے دوسری شادی نہيں کی۔۔ وہ اب تک انہيں چاہتے ہیں۔۔
اور ایک میرے بابا ساٸیں ہیں جنہيں آپکی زیادہ فکر نہيں ہوتی۔۔؟؟“
جس سوال سے بی جان ڈر رہی تھیں کہ انکی اولاد ان سے وہ سوال نا کرلے وہی سوال آج حشام کے لبوں پر آہی گیا تھا۔
بی جان کا دل دکھ سے بھر گیا تھا۔
وہ ضیا ٕ جبیل کی پسند نہيں تھیں۔ وہ ان سے عمر میں بڑی تھیں۔ بی جان سے شادی ضیا ٕ جبیل نے اپنے خاندان کی روایات کیلیے کی تھی۔
انکے خاندان میں لڑکے اور لڑکیوں کی شادی سید خاندان میں ہی کی جاتی تھی۔

”نہيں تو۔۔ ایسی بات نہيں ہے بیٹا۔۔ وہ مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں اور خیال بھی رکھتے ہیں۔۔!!
بی جان نے جھوٹ بولا تھا۔

”اچھا مجھے کچھ کام ہے ہم پھر بات کرتے ہیں۔۔!!
وہ حشام کی بات سنے بنا ہی فون بند کرچکی تھیں۔ حشام ایک گہری سانس لے کر رہ گیا تھا۔
وہ سر جھٹک کر ایک کچھ چیزیں چیک کرنے شیلف کی طرف بڑھا تھا جب اچانک چونکا۔

اس سے کچھ فاصلے پر ایک لڑکی سفید سکارف سے حجاب کیے کھڑی تھی۔ اسکے چہرے کا رخ دوسری جانب تھا۔
حشام ٹھٹھکا تھا۔ اسے سفید ڈوپٹہ اوڑھے کالج کے ایک کمرے میں بیٹھی ام حانم یاد آگٸی تھی۔

وہ بلا اختیار ہی اس لڑکی جانب بڑھا تھا۔

”ایکسکیوز می۔۔“
حشام نے پکارا تھا۔ لڑکی نے مڑ کر دیکھا تھا اور پھر اپنے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر وہ حیران رہ گٸی تھی۔

”حشام جبیل۔۔“
ماہی کا منہ حیرت سے کھل گیا تھا۔ اور شش و پنج میں مبتلا اسے دسمن جان کو تکنے لگے تھی

“کبھی خود کو خود سے جھگڑتے دیکھا
کبھی شبء تنہائی میں خود کو تڑپتے دیکھا

روئے اتنا کہ دامن بھگو دیا آنسوئوں سے
تو کبھی روتے روتے خود کو مسکراتے دیکھا

کبھی ناراض ہوئے خود سے اتنا کہ مر جانا چاہا
تو کبھی آئینے میں خود کو مناتے دیکھا

کبھی مسکرانے لگے دیکھ کر تصویر تیری
تو کبھی آنسوئوں میں خود کو ڈوبتے دیکھا

کبھی جنونء عشق میں، لکھ دیا نام تیرا دیواروں پہ
تو کبھی بے بسی میں تیرا نام خود کو مٹاتے دیکھا

کبھی بہت تڑپا میں تیری یاد کے عالم میں
تو کبھی تجھے یاد کر کہ خود کو بہلاتے دیکھا

اتنا سب ہونے کے بعد فقط ایک تجربہ ہوا حاصل
تیرے بعد جب بھی دیکھا تو خود کو سنبھلتے دیکھا””
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلے دن حانم خود کو بہت پرسکون کرکے ڈیپارٹمنٹ گٸی تھی۔
اس نے خود سے عہد کیا تھا کہ وہ آرجے کو پہچانے گی نہيں۔۔
”اور اسے بھی میں یاد نہيں ہونگی۔۔“
حانم نے خود کو تسلی دی تھی۔

وہ دونوں ابھی ڈیپارٹمنٹ سے کچھ فاصلے پر تھیں جب دوسری جانب سے اچھلتے کودتے ڈیپارٹمنٹ کی طرف آتے مکی کی نظر مہرو کے ساتھ چلتی حانم پر پڑی تھی۔
وہ دنگ رہ گیا تھا۔ وہ ایک جھٹکے سے رکا تھا۔
اسے اپنی آنکهوں پر یقین نہيں آرہا تھا۔
مہرو کے ساتھ جو لڑکی تھی کیا وہ واقعی وہی تھی جسے وہ جانتا تھا۔۔

وہ سو فیصد وہی تھی۔۔

”ہانی۔۔۔“
مکی نے زیرِ لب دہرایا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: