Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 21

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 21

–**–**–

وہ دونوں ابھی ڈیپارٹمنٹ سے کچھ فاصلے پر تھیں جب دوسری جانب سے اچھلتے کودتے ڈیپارٹمنٹ کی طرف آتے مکی کی نظر مہرو کے ساتھ چلتی حانم پر پڑی تھی۔
وہ دنگ رہ گیا تھا۔ وہ ایک جھٹکے سے رکا تھا۔
اسے اپنی آنکهوں پر یقین نہيں آرہا تھا۔
مہرو کے ساتھ جو لڑکی تھی کیا وہ واقعی وہی تھی جسے وہ جانتا تھا۔۔

وہ سو فیصد وہی تھی۔۔

”ہانی۔۔۔“
مکی نے زیرِ لب دہرایا تھا۔
اس نے کبھی خواب میں بھی نہيں سوچا تھا کہ وہ ہانی کو یوں اپنے سامنے دیکھے گا۔

”مکی۔۔۔“
مہرو کی آواز پر اسکا سکتہ ٹوٹا تھا۔ مکی حانم کو اپنے ساتھ لیے اسی کی طرف بڑھ رہی تھی۔

”کہاں گم ہوتے ہو تم مکی۔۔؟؟
اس سے ملو یہ میری سب سے پیاری دوست ہے ام حانم عرف ہانی۔۔!!
اصل جھٹکا مکی کو اب لگا تھا۔
اسے محسوس ہوا تھا کہ اسکے کانوں نے کچھ غلط سنا ہو۔
”ام حانم“ یہ نام وہ کتنی مرتبہ آرجے کے منہ سے سن چکا تھا۔
اسکو فرشتوں کو بھی خبر نہيں تھی کہ ہانی ہی ام حانم تھی۔

”اور ہانی یہ میرا کزن ہے مستقیم عرف مکی۔۔۔ سب اسے مکی ہی بلاتے ہیں۔۔!!“

”اَلسَلامُ عَلَيْكُم ۔۔۔“
حانم نے مسکرا کر سلام کیا تھا۔ اسے وہ لڑکا حلیے سے تھوڑا عجیب لگا تھا۔
مکی نے ہاتھ بڑا کر اپنی پیشانی پر آٸے پسینے کو صاف کیا تھا۔

”اگر آرجے کو پتا چل گیا کہ۔۔
اس سے آگے وہ سوچ نہيں سکا تھا۔

”مجھے کچھ کام ہے میں آتا ہوں۔۔!!
وہ بنا سلام کا جواب دیے واپس پلٹ گیا تھا۔

”مکی بات سنو۔۔
تم آرجے سے ملنے آٸے ہوگے نا۔۔ پلیز مجھے اس سے ملوا دو۔۔!!
مہرو چلاٸی تھی لیکن وہ تیز تیز قدم اٹھاتا سٹوڈنٹس کے ہجوم میں غائب ہوگیا تھا۔

”تمہيں کیا ضرورت ہے آرجے سے ملنے کی۔۔؟؟“
حانم کا موڈ بگڑا۔
”ویسے ہی یار دل کر رہا تھا۔۔آرجے کونسا روز ڈیپارٹمنٹ آتا ہے کل آیا تھا اتنے دنوں میں آج پتا نہيں وہ آٸے گا یا نہيں۔۔!!
مہرو اس سے ملنا چاہتی تھی جبکہ حانم نے اسکی اس خواہش پر افسوس کیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”حشام آپ۔۔۔؟؟“
ماہی کو یقین نہيں آرہا تھا کہ اسکے سامنے حشام جبیل کھڑا تھا۔۔ اور تو اور اس نے خود ہی ماہی کو مخاطب بھی کیا تھا۔

”معاف کیجیے گا۔۔ میں کوٸی اور سمجھا تھا۔۔!!
وہ معذرت کرتا پلٹ گیا تھا۔

”بات تو سنیں حشام۔۔“
وہ اسے پیچھے لپکی تھی۔ البتہ ایک دم ڈوب کر ابھرا تھا جب حشام نے کسی اور کا ذکر کیا تھا۔

پچھلے کچھ دنوں سے ماہی کے سر میں درد رہنے لگا تھا اور بال بھی روکھے سے ہورہے تھے۔
آسیہ بیگم نے اسے تین چار آٸل کو مکس کرکے بالوں میں لگانے کا کہا تھا۔
اس وقت اس نے وہی کام کیا تھا ہوا تھا۔ ایلا کو کچھ چیزیں لینے تھیں۔ وہ ماہی کو زبردستی اٹھا لاٸی تھی۔ اور ماہی نے بالوں کو باندھ کر گلے میں لٹکا سفید سکارف سر پر حجاب کی طرح چپکے لیۓ تھا جس پر حشام دھوکا کھا گیا تھا۔

”آپ یہاں کسے ڈھونڈ رہے تھے۔۔؟؟“
ماہی نے اسکے پیچھے چلتے ہوٸے پوچھا تھا جبکہ حشام کو کوفت ہوٸی تھی۔
وہ اب خود کو کوس رہا تھا کہ کسی بھی انجان لڑکی کو مخاطب کرنے کی کیا ضرورت تھی۔

”آپ کو اس سے مطلب مس ماہین۔۔؟؟“
اس نے ٹھہر کر سرد سے لہجے میں پوچھا تھا ماہی کے چہرے کا رنگ ایک دم پھیکا پڑا تھا۔

”نہيں۔۔۔مم۔۔۔ میں۔۔ وہ۔۔“
ماہی سے کوٸی جواب نہيں بنا تھا۔

”اللہ حافظ۔۔“
وہ سپاٹ لہجے سے کہتا آگے بڑھ گیا تھاجبکہ ماہی ایک بار پھر اسے نم آنکهوں سے جاتے ہوٸے دیکھ رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ دونوں سیمینار روم میں بیٹھی تھیں۔ حانم نے شکر ادا کیا تھا اب تک اسے آرجے کہیں نظر نہيں آیا تھا۔
ڈیپارٹمنٹ میں موجود Debating and literary سوسائٹی نے ایک سیمینار رکھا تھا۔
اس سوسائٹی کا مقصد سٹوڈنٹس میں اور خاص طور پر نٸے آبے والے سٹوڈنٹس میں شعور کو اجاگر کرنا تھا۔
یہ سوسائٹی ڈیپارٹمنٹ میں ہر ہفتے میں ایک بار سیمینار کرواتی تھی۔
جہاں سٹوڈنٹس کو بولنے کا موقع دیا جاتا تھا۔
پینل ڈسکشن ہوتی تھی۔ سٹوڈنٹس اپنے لیڈرز خود چنتے تھے اور پھر مختلف موضوعات پر بحث شروع ہوتی تھی۔
سوسائٹی کا President محمد عثمان ملک ڈیپارٹمنٹ کا سب سے سینیٸر سٹوڈنٹ تھا جو کافی ذہين اور سمجھدار انسان تھا۔

آہستہ آہستہ سیمینار روم سٹوڈنٹس سے بھرنے لگا تھا۔ ڈیپارٹمنٹ کے دو ٹیچرز وہاں پر کورآڈینیٹر کےطور پر موجود تھے۔
حانم کو یہ سب کافی دلچسپ لگ رہا تھا۔

”پریزیڈنٹ کی پرسنیلٹی اچھی ہے۔۔!!
حانم نے کمینٹ کیا تھا۔
سیمنار شروع ہوچکا تھا۔ ڈاٸز پر کھڑے ہوٸے عثمان ملک نے بولنا شروع کیا تھا۔

”میں یہاں پر تمام نیو سٹوڈنٹس کو ویلکم کرتا ہوں۔۔
جیسے کہ آپ سب جانتے ہیں کہ ہمارا سیمنار کروانے کا مقصد سٹوڈنٹس کو بولنے کا موقع دینا ہے۔۔۔ ہر انسان کے ذہن میں ہر موضوع سے متعلق کچھ نا کچھ سوال ہوتے ہیں۔۔ اور انہی سوالوں کا جواب دینے میں ہر بار نٸے موضوعات کو لے کر آتا ہوں۔۔!!
سلام دعا کے بعد وہ شاٸستگی سے کہہ رہا تھا۔

”اس بار میرا موضوع بہت عام سا ہے۔۔ لیکن صرف سننے اور دیکھنے میں۔۔ میں اور میری ٹیم اس موضوع پر روشنی ڈالنا چاہیں گے کچھ الگ طریقے سے۔۔
آپکے سوال ہونگے اور ہمارے جواب۔۔
آج کا ہمارا موضوع ہے۔۔ ”اسلام سے لوگ ڈرتے کیوں ہیں۔۔؟؟ لوگ اس مذہب کو ایک فوبیا سمجھتے ہیں۔۔“

”کیا مطلب اسکا اب مذہب پر بحث ہوگی۔۔؟؟“
حانم کو برا لگا تھا۔

”سن تو لو یار وہ کیا کہہ رہا ہے۔۔باقی بعد میں فیصلہ کرنا۔۔!!
مہرو نے اسے چپ کروایا۔

” ہم ان پہلوؤں پر روشنی ڈالیں گے کہ کن وجوہات کی بنا پر لوگوں کو اسلام فوبیا ہے۔۔ اور کن باتوں اور کاموں سے ہم اس فوبیا کو اور اسلام کے ساتھ لگے دہشت گردی کے ٹاٸٹل کو ختم کر سکتے ہیں۔۔؟؟“
اس نے اپنے پہلے میمبر کو دعوت تھی۔ جس نے اسلام کی حقیقت پر روشنی ڈالی تھی۔ اور بتایا تھا کہ کیسے اسلام امن و سلامتی والا ملک ہے۔۔۔
اسکی تقریر سن کر سٹوڈنٹس کافی پرجوش ہوگٸے تھے۔

”اسلام ایک حقیقی اور بہترین مذہب ہے۔۔“
اب اس پر میں اپنی بہت ہونہار ٹیم میمبر کو دعوت دونگا۔
وہ لڑکی اسٹیج پر آٸی تھی اور اس نے دلاٸل اور واقعات سے ثابت کیا تھا اسلام ایک بہترین اور حقیقی مذہب ہے۔۔
یہ موضوع ایسا تھا کہ وہاں بیٹھا کوٸی بھی سٹوڈنٹ مذہب پر سوال نہيں اٹھانا چاہتا تھا۔
چونکہ نٸے سال کا آغاز تھا تو سیمینار کا آغاز بھی اللہ اور اسکے دین سے کیا گیا تھا۔

“Any Question..??”
لڑکی نے تقریر کرنے بعد سٹوڈنٹس سے پوچھا تھا۔
اسکی تقریر پر پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا تھا۔ بیشک کو اچھا بولتی تھی۔

“I have a Question Miss”
آواز پر سب نے پلٹ کر دیکھا تھا۔ آرجے سب سے آخر میں بیٹھا تھا۔ اور اس وقت وہ کھڑا تھا اپنا سوال لیۓ۔۔

”یہ کب آیا۔۔؟؟“
حانم نے اسے دیکھ کر اپنا چہرہ چھپایا تھا جیسے وہ اسے ہی ڈھونڈ رہا ہو۔۔!!

”آپ نے کہا کہ اسلام ایک حقیقی مذہب ہے۔۔!! میں اس موضوع پر میں کچھ کہنا چاہوں گا۔۔ کیا میں وہاں آسکتا ہوں۔۔؟؟
اس نے پوچھا تھا۔

”یس شور پلیز۔۔“
عثمان ملک نے اسے آنے کی اجازت دی تھی۔

وہ پورے اعتماد سے قدم اٹھاتا اسٹیج کی طرف بڑھا تھا۔
”یہ کیا کرنے والا ہے۔۔؟؟“
حانم کو کچھ عجیب سا محسوس ہو رہا تھا۔ اسے یقین تھا وہ کچھ الٹ ہی بولنے والا تھا۔
ڈاٸز پر پہنچنے کے بعد آرجے نے اپنا موبائل سامنے نظر آتی سکرین یعنی پروجيکٹر سے اٹیج کیا تھا۔
اچانک سکرین پر ایک بحری جہاز نظر آنے لگا تھا۔

وہاں بیٹھا ہر سٹوڈنٹ حیران تھا۔ سب دلچسپی سے اسے دیکھ رہے تھے۔ وہ نہيں جانتے کہ اس جہاز کا مذہب سے کیا تعلق تھا۔؟؟
اب وہ ڈاٸز سے اسٹیج کی طرف چلا گیا تھا۔۔

”یہ جو آپ ایک بحری جہاز دیکھ رہے ہیں ناں، یہ آپ کو پاگل کر سکتا ہے۔۔۔“
آرجے نے بولنا شروع کیا تھا۔

“سٹوڈنٹس، توّجہ…!!

”اب مَیں آپ کو ایک معمہ بتانے لگا ہوں جس نے گزشتہ 2 ہزار برس سے انسانی دماغ کو پلپلا کیے رکھا ہے۔ جوں جوں دماغ کی وسعت بڑھتی جا رہی ہے، اُتنا ہی یہ معمہ دہی بناتا جا رہا ہے، دماغ کی۔ آپ بھی سُنیے اور دماغ کے پیچ ڈھیلے کیجیے۔

یہ معمہ 50 برس بعد از مسیح دَور کے ایک یونانی ڈرامہ نگار اور رائیٹر “پلوٹارش” نے اپنے ڈرامے “بادشاہ تھیسیئس کی زندگی” میں پیش کیا ہے۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ بادشاہ تھیسیئس اور نوجوان ایتھنا شہزادی دُور دراز کے رومی جزیرے کرِیٹ سے لکڑی کے ایک بحری جہاز میں سوار ہوئے اور یونانی جزائر کی سیر فرمائی۔ یہ شاہی جوڑا یونانیوں میں بہت متبرک سمجھا جاتا تھا۔ بلکہ یونان کے مرکز ایتھنز کا نام ہی ایتھنا شہزادی کے نام پر ہے۔ بعد میں رفتہ رفتہ ایتھنز کے باسیوں نے اُس تاریخی جہاز کو “تھیسیئس کا جہاز” نام دے کر تبرک کے طور پر اپنی بندرگاہ میں کھڑا کر لیا یہاں تک کہ ڈھائی سو برس بِیت گئے اور بادشاہ ڈیمیٹریئس کا دَور آ گیا۔ اس دوران جیسے جیسے اور جہاں جہاں جہاز کی لکڑی شکستہ ہوتی گئی، اُس کی جگہ نئی لکڑی لگا کر جہاز کو درست کر لیا جاتا۔ کچھ عرصہ بعد پورے جہاز میں کوئی حصہ بھی ایسا نہ رہا جو تبدیل نہ ہو گیا ہو۔ اُس زمانے کے فلاسفروں نے اس جہاز کے متعلق عجیب خیالات رکھنے شروع کر دیے۔ کچھ فلاافر کہتے تھے کہ چونکہ پورا جہاز بدل چکا ہے اس لیے اب یہ متبرک جہاز نہیں رہا۔ کچھ نے کہا کہ ان تبدیلیوں کے بعد بھی یہ وہی جہاز ہے۔”
وہ ایک پل کیلیے خاموش ہوا تھا۔ اور پھر بولنا شروع کیا تھا۔

تو، سٹوڈنٹس ، پلوٹارش پوچھتا ہے کہ آپ کا کیا خیال ہے؟ یقیناً آپ میں سے زیادہ تر یہی سوچیں گے کہ یہ عین وہی جہاز ہے۔ اگر ایسا ہے تو آگے سنیٸے۔۔

صدیوں بعد 16 ویں صدی میں تھامس ہوبز نے اِس معمہ پر کام کرنا شروع کیا۔ اُس نے حل دینے کی بجائے جان بوجھ کر معمہ مزید پیچیدہ کر دیا۔ پہلے تو کچھ بھی رائے رکھ سکتے تھے مگر اب جو بھی رائے رکھیں گے، ہر صورت میں نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ جیسے اگر کائنات میں ہماری زمین کے علاوہ کہیں اور زندگی بھی ہے تو واہ واہ… اور اگر ہم اکیلے ہیں تو شدید شاوا۔“
اسکی بات پر ہال میں سٹوڈنٹس کی دھیمی دھیمی ہنسی کی آواز گونج گٸی تھی۔

”تھامس نے اس معمہ میں مزید تفصیل شامل کرتے ہوئے کہا کہ بالفرض اُس متبرک جہاز کے پچھلے تمام تختے اور جو بھی تبدیل کیا گیا تھا اُن سے جہاز دوبارہ بنا کر بندرگاہ میں کھڑا کر دیا جائے تو اب آپ کے پاس دو جہاز ہو گئے: ایک تبدیلیوں میں سے گزرا ہوا جہاز اور ایک اصل لکڑی سے بنا ہوا جہاز۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اِن میں سے تھیسیئس کا جہاز کونسا ہے؟؟؟

وہ ایک بار پھر خاموش ہوا تھا۔
حانم آنکهيں سکوڑے اور کان کھولے اسے سن رہی تھی۔ وہ کافی دلچسپ باتیں کر رہا تھا۔
سٹوڈنٹس کے ذہن میں کھلبلی سی مچ گٸی تھی۔

”پلوٹارش سے پہلے ہیراکلیٹس اور پلاٹو بھی اسی قسم کا سوال پوچھ چکے تھے۔ انہوں نے پوچھا تھا کہ ایک لکڑہارے نے اپنے کلہاڑے کا دستہ تبدیل کروایا۔ کچھ عرصہ بعد دستے میں لوہے کی تیز دھار تبدیل کروا لی۔ کیا وہ کلہاڑا وہی ہے یا کوئی اور ہو چکا ہے؟ تھامس نے یہاں بھی پنگا لیا اور پوچھا کہ کلہاڑا کے قدیم پرزوں کو جوڑ کر اگر کلہاڑا بنا لیا جائے تو اب دو کلہاڑے ہو گئے۔ سوال یہ ہے کہ اصلی والا کلہاڑا کونسا ہے؟؟“

ہال میں گہری خاموشی چھاٸی تھی۔

”پہلے والا کلہاڑا اصلی ہے۔۔“
جس لڑکی نے تقریر کی تھی اس نے بلااختیار ہی جواب دیا تھا۔

”نہيں۔۔ بعد والا اصلی ہوگا۔۔!!
ایک سٹوڈنٹ نے ہال سے جواب دیا تھا۔ اور لڑکی کی نفی کی تھی۔
آرجے کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گٸی تھی۔
ایک دلچسپ کھیل کا آغاز ہوا تھا۔

اِس فلسفیانہ معمہ کا سائیڈ ایفیکٹ ابھی کچھ عرصہ پہلے ایک قانونی جنگ کی صورت میں نظر آیا تھا۔ تفصیل کے مطابق 1854 میں امریکی جنگی جہاز یو-ایس-ایس کونسٹالیشن بنایا گیا اور اُس نے سو برس امریکہ کی سروس کی۔ رفتہ رفتہ اُس کے حصے تبدیل ہوتے گئے۔ تب اُسے بالٹیمور کے عجائب گھر میں منتقل کر دیا گیا۔ 1990 میں اُس جہاز کے قدیم حصوں کو جوڑ کر جہاز دوبارہ تخلیق کر لیا گیا۔ تاریخ دانوں نے کیس دائر کر دیا کہ تبدیلیوں میں سے گزرا ہوا جہاز ہی اصلی ہے۔ پرانی لکڑی والے جہاز کو یو-ایس-ایس کونسٹالیشن نہ کہا جائے۔ یہ کیس 2004 تک بھی حل نہ ہو سکا۔ اب جب بھی کوئی افسر ریٹائر ہوتا ہے اور نیا افسر آتا ہے وہ اپنی مرضی سے کسی ایک جہاز کو اصل مان لیتا ہے تب اُس کے خلاف حسبِ ذائقہ سازشیں شروع ہو جاتی ہیں۔

جاپان میں شِنٹو مذہب کی عبادت گاہیں مذہبی رسوم کے سلسلے میں ہر 20 برس بعد دوبارہ تعمیر ہوتی ہیں مگر پھر بھی اُنہیں قدیم عبادت گاہیں کہا جاتا ہے۔ ایک عبادت گاہ 62 بار تعمیرِ نو سے گزری.. پھر بھی وہ قدیم کہلاتی ہے۔ جبکہ دوسرے مذاہب کے لوگ اِن شِنٹو عبادت گاہوں کی قدامت کو تسلیم نہیں کرتے۔

ہیراکلیٹس نے اس معمہ کا حل پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ “جب تم دریا میں قدم رکھتے ہو تو ہر لمحہ نہ دریا وہ رہتا ہے اور نہ ہی تُم…. لیکن اس تبدیلی سے شناخت نہیں بدل جاتی۔” تھامس نے اعتراض کیا کہ بھیا، دریا میں صرف پانی بدلتا ہے، کنارے نہیں بدلتے اس لیے دریا کی مثال غلط ہے۔

ہر دور میں مختلف فلسفیوں نے اس معمہ کا حل پیش کیا ہے مگر اُن تشریحات میں نقائص ہمیشہ موجود رہے۔ ہر حل اپنے آپ کو غلط ثابت کر دیتا تھا۔
یہ سب فلاسفیوں کا خیال تھا۔ اب آتے ہیں ساٸنس کی طرف۔۔،
کچھ پل خاموش ہونے کے بعد وہ دوبارہ بولنا شروع ہوا۔

آج 21 ویں صدی میں بھی یہ معمہ جوں کا توں موجود ہے اور کئی اشکال میں سامنے آیا ہے۔

بالفرض ایک انسان کے جسم کے تمام عضلات رفتہ رفتہ ٹرانسپلانٹ ہو جاتے ہیں.. دل اور دماغ سمیت۔ تب اُس انسان کی اصل شناخت کیا ہو گی۔۔۔؟؟ ابھی ایسا مکمل طور پر ہوا تو نہیں مگر مستقبل قریب میں ہونے لگ جائے گا۔

ہر 5 سے 7 برس کے اندر انسان میں موجود تمام ایٹم نئے ایٹموں سے تبدیل ہو چکے ہوتے ہیں۔ اس دوران شکل و صورت اور جسم بھی بدل جاتا ہے۔ پیدائش سے لے کر بڑھاپا تک انسان کئی بار بدلتا ہے۔ جو ایٹم براہِ راست ہوا میں جھڑ جاتے ہیں وہ کسی نہ کسی صورت کسی اور انسان کے جسم میں شامل ہو جاتے ہیں۔ یعنی آپ کے جسم میں چند ارب ایٹم شاید علامہ اقبال کے ہوں، کچھ ایٹم قائدِاعظم کے ہوں گے، کچھ ہٹلر کے اور کچھ گوتم بدھ کے بھی ہوں گے۔ آپ کے اپنے ایٹم بھی دوسرے متعلقہ یا غیرمتعلقہ انسانوں میں ہوں گے۔ کہہ سکتے ہیں کہ آپ کی بے شمار “لاشیں” اس وقت آپ کے جسم سے باہر کسی نہ کسی صورت موجود ہیں۔ میرا خیال ہے کہ پیناڈول کھا لیں۔

یعنی دریا تو بدلتا ہی ہے، تُم زیادہ بدل جاتے ہو، بلکہ بالکل نئے جسم کے مالک ہو جاتے ہو۔

تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اصلی والے آپ کون ہیں؟ ہر انسان میں اُس کا اپنا جسم تو موجود ہی نہیں، دوسرے زندہ و مردہ انسانوں سے ادھار لیا ہوا ہے۔۔۔!!
اس نے سٹوڈنٹس سے سوال کیا تھا۔ لیکن کسی کے پاس جواب نہيں تھا۔

یہی تھیسیئس کے جہاز والا معمہ ہے جو خود تبدیلی سے نہیں گزر رہا.. جوں کا توں وہیں کھڑا ہے۔
وہ اسٹیج پر کبھی داٸیں تو کبھی باٸیں چل رہا تھا۔
تو یہ تھا تھیسیئس کے جہاز کا معمہ جو سات سمندر عبور کرتا ہے اور زیادہ تر لاجواب رہتا ہے۔

”اب آپ مجھے بتائیں مس کہ آپ نے کہا اسلام حقیقی مذہب ہے۔۔
جب سے دنیا بنی ہے بہت سے مذاہب گزرے ہیں۔۔
آپکے خدا نے چار پیغمبروں پر کتابيں نازل کی ہیں۔۔
اور آخر میں قرآن نازل کیا اور اسلام کو حقیقی مذہب قرار دے دیا گیا۔۔
یعنی عبادت خدا کی ہی کرنی تھی سبھی مذاہب میں تو،
قدیم مذاہب بہت سی تبدیلیوں میں سے گزر کر موجودہ دور تک پہنچتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ مذہب کی اول ساخت پر اصرار کیا جائے یا تبدیلیوں میں سے گزرے مذہب پر اعتماد کیا جائے؟

”آپ نے کہا تھا کہ پہلے والا کلہاڑا اصلی تھا۔۔
اور آپ اپنی تقریر میں کہہ رہی ہیں کہ بعد میں آنے والا اسلام حقیقی مذہب ہے اس سے پہلے والے نہيں۔۔!!
میرا آپ سے سوال ہے مس کہ اگر کلہاڑا پہلے والا اصلی اور حقیقی تھا تو تبدیليوں سے گزر کر آخر میں آنے والا مذہب اسلام حقیقی کیسے ہو سکتا ہے۔۔؟؟“
آرجے نے لڑکی کی طرف رخ کر کے پوچھا تھا۔
لڑکی سمیت پورے ہال کو سانپ سونک گیا تھا۔
وہاں بیٹھے کسی شخص نے گمان نہيں کیا تھا کہ وہ انہيں انہی کے موضوع میں بری طرح سے پھنسا دے گا۔

حانم کا منہ حیرت سے کھل گیا تھا۔ وہ جانتی نہیں تھی کہ آرجے کیا چیز تھا۔ کیا وہ اتنی گہراٸی میں جاتا تھا چیزوں کو لے کر۔۔؟؟
اسے اپنے دماغ میں درر کی ایک ٹھیس اٹھتی محسوس ہوٸی تھی۔

”یہ لوگوں کو گمراہ کرنا چاہتا ہے۔۔!!“
حانم نے غصے سے پاس بیٹھی مہرو کے کانے میں کہا تھا۔
آرجے کو لاکهوں لوگ جانتے تھے اور لاکهوں لوگ یہ بھی جانتے تھے کہ وہ ملحد تھا۔۔ اسکے کسی مذہب سے تعلق نہيں تھا۔۔
لیکن لوگ یہ نہيں جانتے تھے کہ اسکا تعلق سید خاندان سے تھا۔۔!!
”اگر وہ گمراہ کر رہا ہے تو لوگوں کو اسکے سوال کا جواب دینا چاہیے نا تاکہ غلط فہمی دور ہو۔۔!!
مہرو نے جواب دیا تھا۔

سوال حانم کے مذہب پر اٹھایا گیا تھا۔۔ وہ تلملا رہی تھی اسے سمجھ نہيں آرہا تھا کہ وہ کیا جواب دے آرجے کو۔۔
اسے فلسفہ کا زیادہ علم نہيں تھا۔ اسے تو ساٸنس پڑھنے کے باوجود اتنا علم حاصل نہيں ہوا تھا جتنی باتيں وہ کر گیا تھا۔

دونوں ٹیچرز شاکڈ بیٹھے تھے۔

”کوٸی ہے جو میرے سوال کا جواب دے۔۔؟؟
کوٸی بھی۔۔؟؟“
اس نے چلا کر ہال میں بیٹھے سٹوڈنٹس سے کہا تھا۔ وہ شو آف نہيں کروا رہا تھا۔۔ لیکن حانم کو ایسا ہی محسوس ہو رہا تھا کہ وہ شو آف کروا رہا تھا کہ” میں بہت بڑی چیز ہوں۔۔“
وہ تو صرف اپنے ذہن میں پلتے سوالات کے جواب لینے آیا تھا۔
سب خاموش تھے کسی کے پاس بھی جواب نہيں تھا۔
کوٸی دلاٸل کوٸی لاجک نہيں تھا کسی کے پاس۔۔!!

”میں کچھ کہنا چاہتی ہوں۔۔“
حانم نے آنکهيں بند کرکے ایک گہری سانس لی تھی اور پھر ایک دم اپنی جگہ پر کھڑی ہوگٸی تھی۔ اسکا دل تیز تیز دھڑک رہا تھا۔ وہ وہاں بیٹھے تقریباً ہر سٹوڈنٹ سے کم اعتماد تھی۔ لیکن اس سے مذہب پر سوال برداشت نہيں ہوا تھا۔

سب نے پلٹ کر اسے دیکھا تھا اور اس بار حیران ہونے کی باری آرجے کی تھی۔ اس نے بھی کبھی سوچا نہيں تھا کہ وہ ام حانم سے دوبارہ ملے گا۔
وہ بھولنے والوں میں سے نہيں تھا۔
اسکی آنکهوں میں چمک ابھری تھی۔ ایک بار پھر وہ اسکے سامنے کھڑی تھی۔۔ یعنی آرجے کے سامنے۔۔۔

”آپ ساٸنس کی بات کر رہے ہیں۔۔ جبکہ ساٸنس سے زیادہ جدید مذہب ہے ہمارا۔۔ ابھی میرے پاس آپکے سوال کا دلاٸل کے ساتھ جواب نہيں ہے۔۔
لیکن مذہب کا تعلق عقیدت اور ایمان سے ہوتا ہے۔۔ اور عقیدت کسے کہتے ہیں ایمان کسے کہتے ہیں یہ آپکو کیا پتا۔۔؟؟“
ناجانے کیوں اسکا لہجہ آخر میں طنزیہ ہوگیا تھا۔
آرجے نے ابھرو اچکا کر اسے دیکھا تھا۔

میں صرف اتنا کہنا چاہوں گی کہ۔۔،

”بدل کر بھی کچھ نہیں بدلا
تصور ِ عقیدت کے گرد گھومتی نسبت۔۔۔!!!“

نسبت ایک ہی ہے۔۔عقیدت ایک ہی ہے۔۔
اللہ ایک ہی ہے۔۔
جو اسے مانتا ہے وہ ہی اصل ہے وہی حق پر ہے ہے۔۔!!
حانم جذباتی ہوگٸی تھی۔

اب کی بار ہال تالیوں سے گونج اٹھا تھا اور اسکی شروعات اسٹیج پر بیٹھے ٹیچرز نے کی تھی۔ وہاں بیٹھا تقریباً ہر شخص اللہ کو مانتا تھا۔

آرجے نے قہقہہ لگایا تھا۔
”یہ میرے سوال کا جواب نہيں ہے مس ام حانم۔۔
جذبات سے نہيں دلاٸل سے جواب دیں۔۔ کوٸی لاجک لاٸیں۔۔
میں ان جذبات پر یقین نہيں رکھتا۔۔!!
وہ مسکراتے ہوٸے کہہ رہا تھا۔

ڈیڑھ گھنٹہ کیسے گزر گیا تھا پتا ہی نہيں چلا تھا۔ سٹوڈنٹس کیلیے آج کا سیمینار بہت دلچسپ رہا تھا۔

”آج کے سیمینار کا وقت ختم ہو چکا ہے۔۔ آپکو آپکے سوال کے جواب ہم نیکسٹ سیشن میں دینگے۔۔!!
عثمان ملک نے آگے بڑھ کر بات کو سنبهالا تھا۔ اور آرجے مسکراتا اپنا موبائل اتار کر اسٹیج سے نیچے اتر گیا تھا۔ اسکی مسکراہٹ میں طنز نمایاں تھا۔
وہ سب سے پہلے ہال سے باہر نکلا تھا۔
لیکن جاتے جاتے جو سٹوڈنٹس اسکو نہيں جانتے تھے انہيں دل و جان سے متاثر کر گیا تھا۔

”یہ کون تھا۔۔؟؟“
سٹوڈنٹس سرگروشیاں کر رہے تھے۔
ہر طرف آرجے کی فضا بلند تھی۔ وہ انہيں سوچنے کی ایک نٸی جہت دے کر گیا تھا۔
جبکہ حانم کا دل ابھی بھی تیز دھڑک رہا تھا۔
وہ دبو سی لڑکی تھی ناجانے اس میں جوش کہاں سے آگیا تھا۔؟؟

سیمینار ختم ہوچکا تھا۔۔ سب باری باری باہر نکل رہے تھے۔۔ شاید وہ اگلے سیشن تک بھول بھی جاتے۔۔۔
لیکن یہاں سے آغاز ہوا تھا دو سلفاٸیٹس کی ایک عجیب و غریب داستان کا جسکا انجام کوٸی نہيں جانتا تھا۔۔!!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”ایک نمبر کا گھٹیا اور ذلیل انسان ہے یہ آرجے۔۔!!
حانم نے چیٸر کو کھینچتے ہوٸے دھیمی آواز میں کہا تھا اور پھر دھپ سے اس پر بیٹھ گٸی۔۔ البتہ اسکا لہجہ سخت کا۔۔
وہ دونوں ابھی میس روم میں آٸی تھیں۔

”کیا ہوگیا ہے ہانی یہ میس ہے کچھ تو خیال کرو۔!!
مہرو کو اسکی بات نہایت ناگوار گزری تھی۔

”کیوں کیا کچھ غلط کہا میں نے۔۔؟؟“
حانم نے گلاس میں پانی ڈالتے ہوٸے پوچھا۔ اب وہ سکون سے پانی پی رہی تھی۔
میس میں ابھی لڑکياں آنا شروع ہوٸی تھیں۔ انکے ٹیبل پر صرف وہ دونوں بیٹھیں تھیں۔

”کیا آرجے نے تمہيں کبھی فون کیا۔۔؟؟ کیا اس نے تمہيں کبھی تنگ کیا۔۔؟؟“
مہرو نے پوچھا تھا۔

”نہيں۔۔۔“
حانم نے بےخیالی میں گلاس رکھتے ہوٸے جواب دیا۔

”کیا اس نے کبھی تمہيں چھیڑا۔۔۔؟؟“

”نہيں۔۔۔“

”کیا اس نے کبھی تمہیں ہراس کرنے کی کوشش کی۔۔؟؟کیا اس نے کبھی تمہيں چھونے کی کوشش کی۔۔؟؟

”نہيں۔۔۔“
اس بار حانم چونکی تھی۔

”کیا اسکی آنکهوں میں تمہيں کبھی ہوس نظر آٸی۔۔؟؟
کیا تمہيں کبھی محسوس ہوا کہ وہ تم میں دلچسپی لیتا ہے۔۔؟؟
مہرو اسکی آنکهوں میں آنکهيں ڈالے پوچھ رہی تھی۔

”نہيں۔۔۔“
“ہمارا المیہ یہی ہے ہم بنا پرکھے قیاس آرائی کرتے”
حانم گڑبڑا گٸی تھی۔

”تو پھر تم کیسے کہہ سکتی ہو کہ وہ ایک گھٹیا انسان ہے۔۔؟؟
تم مان کیوں نہيں لیتی ہانی کہ آرجے کو مس ام حانم میں کوٸی دلچسپی نہيں ہے۔۔!!
وہ دبی دبی آواز میں چلاٸی تھی۔

”پتا ہے پچھلے کٸی مہینوں سے اسکا کوٸی افیٸر منظر عام پر نہيں آیا۔۔
سوشل میڈیا پر کسی نے اُس سے پوچھا تھا کہ آرجے کوٸی نٸی گرل فرینڈ نہيں بناٸی۔۔؟؟
اور جانتی ہو آرجے نے کیا ٹویٹ کیا تھا۔۔۔؟؟“

اسکی بات پر حانم نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا۔

”اس نے جواب دیا تھا کہ عورت ذات سے اُسکا دل بھر چکا ہے۔۔!!!
اسٹرینج۔۔ اکیس سال کی عمر میں ایک لڑکےکا عورت ذات سے دل بھر چکا ہے۔۔!!
اورتم پتا نہيں کیا سمجھتی ہو اسے۔۔؟؟“
مہرو کا موڈ بگڑ چکا تھا۔ ایک پل کیلیے حانم لاجواب ہوگٸی تھی۔

”وہ اپنی سوچ، اپنے عمل اور ردعمل ہر چیز سے لوگوں کو چونکا دیتا ہے بس اسی لیے تمہيں برا لگتا ہے۔۔
اگر تم غور کروگی تو وہ تمہيں ایک دلچسپ اور عجیب و غریب مخلوق معلوم ہوگا۔۔!!!!
اور آج تم نے دیکھا نہيں اس نے کیسے سب کو لاجواب کردیا تھا۔۔
البتہ تم نے بھی اچھا جواب دیا تھا۔۔!!

”عورت ذات سے دل ایک گھٹیا انسان کا ہی بھرتا ہے نا مہرو۔۔ اور مجھے وہ اس لیے برا لگتا ہے کہ وہ ایک ملحد ہے۔۔!!
حانم نے جواب دیا تھا۔

”تو یار یہ اسکا مسٸلہ ہے نا۔۔ ویسے بھی اس نے ٹویٹ کیا تھا کہ ”مذہب ہر انسان کا ذاتی مسٸلہ ہوتا ہے اسکی بنا پر کسی انسان کو جج نہيں کرنا چاہیے اور نا حقارت کا نشانہ بنانا چاہیۓ۔۔!!

حانم نے اسکی بات سن کر افسوس کیا تھا۔ اسے سمجھ نہيں آرہا تھا کہ کیا کرے۔۔
گھر میں ماہم اور جواد آرجے کی رٹ لگا کر رکھتے تھے۔۔
یونيورسٹی میں وہ خود موجود ہوتا تھا۔۔ اور ہاسٹل میں مہرو اسکا نام لیتے نہيں تھکتی تھی۔۔
اسکے چاروں جانب آرجے تھا۔۔!! حانم کو بلاوجہ کی کوفت ہونے لگی تھی۔

”ٹھیک ہی تو کہہ رہی ہے مہرو۔۔ یہ اسکا ذاتی مسٸلہ۔۔ وہ کافر ہو کر مرے ، عیساٸی بن کر مرے یا ملحد ہی مرے مجھے کیا۔۔ ہونہہ!!
حانم نے سر جھٹکا تھا اور پھر کھانے کی طرف متوجہ ہوگٸی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: