Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 22

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 22

–**–**–

ان چیزوں کے بارے میں بات کرنی چاہیے جو کہ ہیں نہ کہ جیسی ہوں گی_مستقبل کے متعلق کسے معلوم؟ ایک بار لوگ آزاد ہو گئے تو وہ خود فیصلہ کر لیں گے کہ ان کے لیے سب سے بہتر کیا ہے؟ لوگوں کے دماغوں میں ان کے کہے بغیر پہلے ہی بہت کچھ بھر دیا گیا ہے_
وقت آ گیا ہے کہ انہیں اپنے آپ سوچنے دیا جائے_ہو سکتا ہے کہ وہ ہر چیز مسترد کر دیں….ساری زندگی اور ساری تعلیم_
ممکن ہے وہ سمجھیں کہ کلیسا کے خدا کی طرح یہ سب چیزیں بھی ان کی دشمن ہیں_ان کے ہاتھوں میں کتابیں دے دو اور لوگ خود ہی جواب تلاش کر لیں گے_ بات دراصل یہی ہے!”

رات کے دو بجے کا وقت تھا۔۔ حانم میکسم گورکی کا ناول #ماں پڑھنے میں مگن تھی۔۔!!
اچانک اسکے ذہن میں آرجے کی باتيں گونج گٸی تھیں اس نے کتاب کو اٹھا کر ایک طرف رکھا اور سوچنا شروع کردیا تھا۔
بیشک جوسوال اس نے پوچھا تھا وہ بالکل ٹھیک پوچھا تھا۔ اگر اسکی جگہ کوٸی عیساٸی اور یہودی یا کوٸی اور سوال کرتا تو ایسے ہی کرتا۔۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسے کسے متفق کیا جاتا۔۔

”آرجے قرآن اور حدیث سے دیۓ گٸے دلائل پر یقین نہيں کرنے والا۔۔ اسے اسی کے انداز میں جواب دینا ہوگا۔۔ میں نے جذبات میں آکر اسے جواب دینے کا کہہ تو دیا ہے لیکن میں کیسے دونگی۔۔؟؟یااللہ میری مدد کرنا۔۔!!“
اسکی سوچ کے دھارے مختلف سمتوں میں بہہ رہے تھے۔۔ ”اللہ جانے یہ شخص اتنا ذہین کیوں ہے۔۔ اتنا دماغ کہاں سے آیا ہے اسکے پاس۔۔؟؟“
حانم بڑبڑاتے ہوٸے لیٹ گٸی تھی۔ اس نے مہرو کی طرف دیکھا تھا جو کب سے سو گٸی تھی اور پھر موبائل اٹھا کر اس پر لگے وال پیپر کو۔۔
آسیہ بیگم اور حمدان صاحب دونوں ایک ساتھ بیٹھے تھے اور بہت خوش نظر آرہے تھے۔۔
آسیہ بیگم کو خوش دیکھ کر حانم کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گٸی تھی۔
اسکی ماں خوش اور پرسکون تھی اور یہی چیز اسے مطمئن رکھے ہوٸے تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”کیا بات ہے مکی تم آج کل بڑے خاموش اور الجھے ہوٸے سے ہو۔۔؟؟“
آرجے نے مکی سے سوال کیا تھا۔

”نہيں۔۔ ایسی بات نہيں ہے۔۔!!
ناشتہ کرتا مِکی اسکی بات سن کر گڑبڑا گیا تھا۔ اس نے نظریں چراٸی تھیں۔

”تم کل کیوں واپس چلے آٸے تھے۔۔؟؟“
آرجے کی گہری نظریں مکی کے چہرے پر جمی تھیں۔

”وہ بس سر میں درد تھا۔۔“
مکی نے اپنی کنپٹیوں کو مسلتے ہوٸے جواب دیا۔

”اچھا۔۔ اب ٹھیک ہے۔۔؟؟“

”ہاں اب ٹھیک ہے۔۔!!
مکی نے جواب دیا تھا۔

”چلو اچھی بات ہے۔۔!!
آرجے نے مکی کے چہرے پر زندگی میں پہلی دفعہ پریشانی دیکھی تھی لیکن وہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ مکی کیا چھپا رہا تھا۔
لیکن آرجے کو پوچھنے میں دلچسپی نہيں تھی وہ جانتا تھا کہ مکی خود ہی بتادے گا۔۔!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”اٹھ جاٶ مہرو کلاس کا ٹاٸم ہو رہا ہے۔۔!!
حانم مہرو کو اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی جو گھنٹہ پہلے سوٸی تھی۔ بارہ بج رہے تھے ایک بجے انکی کلاس شروع ہوتی تھی۔
وہ اسے اٹھا رہی تھی کیونکہ مہرو اٹھتے اٹھتے اور پھر تیار ہوتے دیر کر دیتی تھی۔

”اگر تم اس بار نہيں اٹھی تو میں اکیلی چلی جاٶں گی۔۔!!
حانم اسے آخری دھمکی دیتے ہوٸے کمرے سے باہر نکل گٸی تھی جبکہ اسکی دھمکی سن کر مہرو نے جھٹ سے آنکهيں کھولی تھیں۔ وہ اچھے سے جانتی تھی کہ حانم سچ میں اسے چھوڑ کر جا سکتی تھی۔

”کیا مصيبت ہے یار۔۔۔ ایک بجے کلاس۔۔ کتنا غلط وقت ہے۔۔!!
مہرو کو کوفت ہو رہی تھی۔ اور پھر وہ حانم کے آنے سے پہلے بستر سے اٹھ گٸی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

موسم ابر آلود ہو رہا تھا۔ سیاہ بادلوں نے نیلے آسمان کو کہیں چھپا لیا تھا۔
ٹھنڈی ہواٸیں روح سے ہو کر گزرتیں تو سکون بخشتی تھیں۔
حانم کو یہ موسم بہت پسند تھا۔ یہ موسم اسکے چہرے پر حقيقی مسکراہٹ پھیلا دیتا تھا۔

اسکے دل میں ایک خوف ضرور تھا کہ کہیں سے آرجے اسکے سامنے آٸے گا اور کہے گا ”تم زیادہ ذہین بنتی ہو نا اب جواب دو۔۔!!! یا پھر کہے گا کہ ”تمہیں مجھ سے پنگے لینے کی عادت کیوں ہے۔۔ تم آرام سے کیوں نہیں رہ سکتی۔۔؟؟“
انہی سوچوں میں گم وہ دونوں ڈیپارٹمنٹ پہنچ گٸ تھیں۔

کلاس شروع ہونے میں ابھی پندرہ منٹ ہیں ہم جوس پی لیں۔۔؟؟“
مہرو نے کہا تھا اور حانم نے اسکی بات پر سر اثبات میں ہلایا تھا۔
وہ دونوں کبھی ڈیپارٹمنٹ کے کیفے نہيں جاتی تھیں بلکہ ڈیپارٹمنٹ سے باہر بنے کیفے پر جانا انہيں اچھا لگتا تھا۔
جنت روڈ کو کراس کرنے کے بعد وہ دونوں کیفے آگٸی تھیں۔
حانم کی نظر سٹوڈنٹس کے جھرمٹ میں بیٹھے آرجے پر پڑی تھی۔
اس نے سیاہ گھنے بالوں کو جیل کی مدد سے پیچھے کی جانب چپکے رکھا تھا۔ اور وہ گرے پینٹ پر بلیک ٹی شرٹ پہنے لوگوں کو اٹریکٹ کر رہا تھا۔
ایک پل کیلیے حانم کا دل سہما تھا کہ وہ ابھی اٹھ کر اسکی جانب آٸے گا اور اسکا مذاق اڑاٸے گا۔۔
لیکن نہيں۔۔ آرجے کی نظر اس پر بےدھیانی میں پڑی تھی اور پھر وہ اسے نظر انداز کر گیا تھا جیسے جانتا ہی نا ہو۔۔

”شکر ہے۔۔“
حانم نے اسکے اگنور کرنے پر شکر ادا کیا تھا۔
وہ بہت جلد لوگوں کے دلوں میں گھر کر لیتا تھا۔ اب تو ویسے بھی وہ سنگر تھا۔۔ لوگ خودبخود اسکی طرف ماٸل ہوتے تھے۔

اور آرجے۔۔ بےدھیانی کی نظر میں بھی اسے اچھا خاصا نوٹ کرگیا تھا۔
وہ اس وقت بلیک ٹراٶزر پر پیچ کلر کی شرٹ پہنے ہوٸی تھی۔
اور پیچ کلر کے بڑے سے ڈوپٹے کو خود پر پھیلا رکھا تھا۔
وہ جب کالج جاتی تھی تو اسکے کپڑے اتنے مہنگے اور برانڈڈ نہيں ہوتے تھے لیکن اب۔۔ وہ کافی برانڈڈ کپڑے پہننا شروع ہوگٸی تھی۔

اسکے چہرے پر جو سب سے زیادہ متوجہ کرنے والی چیز تھی وہ اسکی آنکهيں تھیں۔۔
بڑی بڑی گرے آنکهيں۔۔ باٸیں آنکھ کے باٸیں طرف ایک تل تھا۔۔۔ جب وہ آنکهيں کھول کر دیکھتی تھی تو وہ تل واضح نظر آتا تھا۔
بلاشبہ وہ خوش شکل لڑکی تھی۔۔ جسے معصوم اور پیاری کہا جاسکتا تھا۔
آرجے نے ابھی تک اسکی تھوڑھی( چن) پر چمکتے اس نشان کو نہيں دیکھا تھا جو اسے پیداٸشی ملا تھا۔
یا شاید اسکی آنکهوں کے پاس وہ خوبصورتی وہ وسعت نہيں تھی جس سے وہ ایک چمکتی چیز کو دیکھ سکے۔۔

مہرو جوس لے کر آگٸی تھی۔۔ اسکا پورا گروپ اٹھ کر چلا گیا تھا اور وہ بھی ساتھ ہی گیا تھا۔
حانم نے ایک گہرہ سانس لیا تھا۔
جہاں وہ ہوتا تھا وہاں حانم کو Uncomfortable محسوس ہوتا تھا۔

اسکے جانے کے بعد حانم کے چہرے کی چمک بڑھ گٸی تھی اب وہ مہرو کی کسی بات پر کھلکھلا کر ہنستی موسم کا لطف اٹھا رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ویک اینڈ پر وہ گھر آٸی ہوٸی تھی۔ بارش زوروں سے جاری تھی۔
جواد،ماہم اور وہ تینوں بارش میں لان میں فٹ بال کھیل رہے تھے۔
حمدان صاحب آفس گٸے تھے۔ آسیہ بیگم اندر ملازموں کے ساتھ کھانا بنا رہی تھیں۔
وہ تینوں بہن بھاٸی بہت خوش نظر آرہے تھے۔
اور انکے ساتھ اس گھر کے ملازم بھی کیونکہ انکے آنے سے گھر میں رونق میں اضافہ ہوگیا تھا۔

اچانک جواد فٹ بال اٹھا کر گیٹ کی طرف بھاگا تھا۔

”جواد کہاں جا رہے ہو۔۔ فٹ بال دو ادھر۔۔“
حانم اسکے پیچھے بھاگی تھی جبکہ ماہم تھک ہار کر بیٹھ گٸی تھی۔
وہ تینوں مکمل طور پر بھیگ چکے تھے۔۔ آسیہ بیگم انہيں کتنی بار بلانے آٸی تھیں لیکن وہ کھیلنے میں مگن تھے۔

جواد گیٹ کھول کر باہر نکل گیا تھا۔

”جواد۔۔ واپس آٶ۔۔۔!!“
حانم نے گیٹ میں کھڑے ہو کر اسے آواز لگاٸی تھی۔
چیخ کی آواز سن کر دو گھر چھوڑ کر اپنے گھر کے سامنے باٸیک پر بیٹھے آرجے نے مڑ کر دیکھا تھا۔
وہ گیٹ سے منہ باہر نکالے اس لڑکے کو آوازیں لگا رہی تھیں جو اسکے پاس سے گزر کر آگے بھاگ گیا تھا۔ جواد کی نظر آرجے پر نہيں پڑھی تھی۔

اتنی دور سے بھی حانم نے آرجے کو دیکھ لیا تھا۔ وہ ایک جھٹکے سے اندر ہوٸی تھی اور ٹھاہ کی آواز سے گیٹ بند کیا تھا۔

”آرجے یہاں۔۔؟؟“
حانم کے چہرے کا رنگ پھیکا پڑ گیا تھا۔ وہ اندر کی جانب بھاگی تھی۔
جبکہ جواد کچھ دیر بعد واپس آگیا تھا۔

”کیا ہوا وہاں کیا دیکھ رہے ہو۔۔؟؟“
مکی نے دوسری باٸیک پر بیٹھتے ہوٸے پوچھا تھا۔

”کچھ نہيں۔۔ مجھے لگا میں نے ام حانم کو دیکھا تھا ابھی۔۔“
آرجے کہہ رہا تھا۔
اسکی بات سن کر ہیلمٹ سر پر باندھتے مکی کا ہاتھ کانپا تھا۔

”ام حانم اور یہاں۔۔؟؟ آرجے تم پاگل ہوگٸے ہو۔۔؟؟“
بالآخر مکی ہنسا تھا۔ اسے لگا تھا کہ آرجے کو وہم ہوگیا تھا۔

”ہاں۔۔۔ مجھے ایسا ہی لگا تھا کہ وہ ام حانم تھی۔۔“
آرجے اب بھی اس بند گیٹ کو دیکھ رہا تھا۔

”ظاہر سی بات ہے بیوی ہے تمہاری نظر تو آٸے گی نا ہر جگہ۔۔!!“
مکی نے شرارت سے کہا تھا۔

”بکو مت۔۔۔“
معمول کے مطابق آرجے بھڑکا تھا۔ تھوڑی دیر پہلے والا حیران سا آرجے کہیں غاٸب ہوگیا تھا۔
پہلی بار زندگی میں اسے وہم ہوا تھا۔۔ یہ اسے لگ رہا تھا۔
وہ جانتا تھا کہ ام حانم ایک غریب گھر کی لڑکی تھی۔ وہ یہاں کبھی بھی نہيں ہو سکتی تھی۔

پانچ منٹ وہ باٸیکس کو فل بارش میں آگے پیچھے بھگاٸے جا رہے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”یعنی میرا اس دن والا وہم ٹھیک نکلا ہے۔۔ وہ آرجے ہی تھا۔۔ وہ یہاں رہتا ہے۔۔ اللہ خیر کرے۔۔!!
حانم اپنے بالوں کو خشک کرتے ہوٸے بڑبڑا رہی تھی۔

”یہ منحوس ہر جگہ میرے پیچھے پہنچ جاتا ہے۔۔!!ماہم کا دل خراب ہوگیا تھا۔
اسے سمجھ نہيں آرہا تھا کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔۔
کیوں اسے اتنا آرجے کے قریب لایا جا رہا تھا۔

بےخیالی میں اسکی نظر سامنے لگے آٸینے میں پڑی تھی۔ وہ ایک دم چونک گٸی تھی۔ جب سے وہ یونيورسٹی گٸی تھی پیاری ہوتی جارہی تھی۔
سیاہ رنگ کے کپڑوں میں اسکا رنگ دمک رہا تھا۔ اسکے سنہری لمبے بال کمر پر بکھرے پڑے تھے۔

پریشانیاں اور دکھ انسان کو کھا جاتے ہیں۔۔ اور اب اسے نا کوٸی پریشانی تھی اور نا ہی دکھ۔۔
وہ خوش تھی کیونکہ اسکی ماں خوش تھی۔۔ انہيں اب چھوٹی چھوٹی چیزوں کیلیے ترسنا نہيں پڑتا تھا۔۔

وہ اب خوشحال تھیں۔۔
اور یہی چیز انہيں خوبصورت بنا رہی تھی۔ وہ نکھرتی جا رہی تھی۔۔ خوبصورتی اور ذہانت دونوں میں۔۔!!

کچھ موسم کا اثر تھا کچھ بارش میں بھیگنے کا اور کچھ اپنے آپکو خوبصورت محسوس کرنے کا۔۔
آرجے کا خیال کہیں اڑن چھو ہوگیا تھا۔۔ وہ مسکراٸی تھی۔۔ اور پھر دوبارہ اپنے آپکو آٸینے میں دیکھ کر شرما گٸی تھی۔

”تیرے کمرے کے آٸینوں کو میں،
دشمنوں میں شمار کرتا ہوں۔۔۔!!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ویک اینڈ کے بعد وہ ہاسٹل واپس آگٸی تھی۔
ڈرائيور اسے گاڑی میں چھوڑ جاتا تھا۔ آسیہ بیگم اسے کھانے کی بہت سی چیزیں بنا کر دیتی تھیں۔۔
اسی لیے وہ اور مہرو میںس کم جاتی تھیں۔
ہر پندرہ دن بعد حمدان انکل اسکے اکاٶنٹ میں اچھی خاصی رقم ٹرانسفر کروادیتے تھے۔
اسے سمجھ نہيں آتا تھا کہ وہ پیسے کہاں خرچ کرے۔۔ کیونکہ اسے فضول خرچی کی عادت نہيں تھی۔۔
اس میں اعتماد پیدا ہو رہا تھا۔ وہ اپنے آپکو آزاد محسوس کر رہی تھی۔
آج پھر ڈیپارٹمنٹ میں انکا سیشن تھا۔۔ یعنی پھر سیمینا تھا۔ آرجے وہ دونوں کلاس میں ایسے ہوتے تھے جیسے ایک دوسرے کو جانتے ہی نا ہوں۔۔
اور یہی چیز حانم کو پرسکون کیے ہوٸے تھی وہ بلاوجہ اسکا سامنا نہيں کرتا تھا۔

اس دن جیسے ہی وہ دونوں کلاس میں داخل ہوٸی تھیں انہيں ایک افرا تفری سی نظر آٸی تھی۔
سٹوڈنٹس ایک لڑکی کے گرد جمع تھے جو بری طرح سے رو رہی تھی۔
وہ کومل تھی۔۔ جسکی نٸی نٸی شادی ہوٸی تھی ابھی کچھ دن پہلے۔۔ اس نے شوہر نے اسے طلاق دے دی تھی۔

اسکے ماں باپ نہيں تھے۔ وہ اپنے ماموں کے گھر رہتی تھی۔ طلاق کے بعد اسکے ماموں نے بھی اسے رکھنے سے انکار کردیا تھا۔
مہرو اور حانم دونوں کو دلی افسوس ہوا تھا۔
اچانک حانم کی نظر آرجے پر پڑی تھی۔ جسکے چہرے پر کافی غصہ نظر آرہا تھا۔ وہ حیران ہوٸی تھی کہ اسے کس بات پر غصہ آرہا تھا۔

ایک لیکچر لینے کے بعد انکا سیمینار شروع ہوا تھا۔ حانم اپنے آپکو اس بار تیار کرکے آٸی تھی کہ اگر آرجے نے جواب مانگ لیا تو وہ اسے دے سکے۔

کلاس میں ٹیچرز نے افسوس کیا تھا۔ آج کل ویسے بھی طلاق کی شرح بڑھتی جا رہی تھی۔

”ہمارا آج کا سیمنار کسی خاص موضوع پر نہيں ہے بلکہ آج آپ لوگ معاشرے سے متعلق جو آپ سوال آپکے ذہن میں ہوں انہيں پوچھ سکتے ہیں۔۔ آج ہم معاشرے میں پھیلی کچھ براٸیوں کا ذکر کرینگے۔۔“
عثمان ملک اپنے مخصوص انداز میں بول رہا تھا۔
اس نے پانچ میمبرز کو اسٹیج پر بٹھایا ہوا تھا جو کافی ذہین کہلاتے تھے اور کافی تیاری کے ساتھ آٸے تھے۔

سوال جواب کا سیشن شروع ہوا تھا۔ مختلف سٹوڈنٹس نے مختلف سوال کیے تھے جنکا جواب دیا گیا تھا۔
برائیوں کی وجوہات کو زیر بحث لایا گیا تھا۔
آرجے انکی باتيں سن سن کر پک گیا تھا۔
وہ ایک جھٹکے سے کھڑا ہوا۔

”میرا ایک سوال ہے۔۔“
اسے دیکھ کر عثمان ملک اور اسکی ٹیم کے چہرے کا رنگ اڑا تھا۔ وہ ڈر گٸے تھے کہ جانے وہ کیا پوچھنے والا تھا۔

”جی پوچھیں۔۔“
اجازت دی گٸی تھی۔

”اسلام میں طلاق کیوں دی جاتی ہے۔۔؟؟ جبکہ ہندو مذہب میں ایسا نہيں ہے۔۔؟؟
اسلام میں عورت کو طلاق کے بعد گھر سے نکال دیا جاتا ہے۔۔ کوٸی دوسری شادی کرنے کو راضی نہيں ہوتا۔۔ اگر وہ مجبوراً جسم فروشی شروع کردے تو کس کا قصور ہوگا۔۔؟؟ اسلام سے اچھا تو ہندو مذہب۔۔ وہ اپنی بیوی کو چھوڑتے تو نہيں۔۔!!!
آرجے کا لہجہ تلخی سے بھرا ہوا تھا۔ یہی سوال کچھ عرصہ پہلے شالنی نے کیا تھا۔

حانم کے چہرے پر غصہ پھیل گیا تھا۔ اسے آرجے کی بات کے ہندو مذہب بہتر ہے سن کر خود پر برداشت کرنا مشکل ہوگیا تھا اسکا دل کر رہا تھا کہ آرجے کو شوٹ کردے۔

”پلیز اب یہ مت کہنا کہ یہ ہمارے خدا کا حکم ہے۔۔ ہمارے دین کا حصہ ہے۔۔ مجھے لاجک سے سمجھایا جاٸے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے اسلام میں۔۔؟؟“

اسٹیج پر بیٹھے میمبر نے جواب دینے کیلیے منہ کھولا ہی تھا کہ آرجے نے پہلے ہی اچھی خاصی سنا کر اسے چپ کروادیا تھا۔
وہاں بیٹھے سٹوڈنٹس اسے اسلام کے حوالے سے ہی سمجھا سکتے تھے لیکن آرجے نے منع کردیا تھا۔
اس بار وہ سب سے پہلی رو میں بیٹھا تھا۔
آج کے اس سیمنار میں ٹیچرز موجود نہيں تھے۔
اس سیمنار عثمان ملک کی ذمےداری پر منقعد کیا گیا تھا۔

سب خاموش تھے۔ عثمان ملک کی نظریں سٹوڈنٹس میں کسی کو ڈھونڈ رہی تھیں۔۔ اور پھر نظروں نے حانم کو ڈھونڈ لیا تھا۔
وہ خاموش بیٹھی تھی البتہ اسکے چہرے پر ایک چمک تھی۔
حانم نے محسوس کیا تھا کہ عثمان ملک گھبرایا ہوا تھا۔
وہ لوگ ایک Rationalist کے ہاتھوں ذلیل نہيں ہونا چاہتے تھے۔
حانم نے عثمان ملک کو سر کے اشارے سے پرسکون رہنے کا کہا تھا۔

”کیا میں کچھ کہہ سکتی ہوں۔۔؟؟“
آواز پر آرجے نے پلٹ کر دیکھا تھا۔ وہ اپنی جگہ پر کھڑی تھی۔ آرجے کے چہرے پر حانم کو دیکھ کر ناگواری ابھری تھی۔
وہ اب نیچے کی جانب اتر رہی تھی۔
سیمنار ہال میں ہمیشہ کرسیاں پیچھے کی جانب اونچاٸی میں رکھی ہوتی ہیں۔۔
تاکہ پیچھے والوں کو آسانی سے سب نظر آٸے۔

وہ پر اعتماد سی آکر آرجے کی ساٸیڈ پر کھڑی ہوٸی تھی۔

”اووہ تو مس ام حانم اب آپ کہیں گی کہ نسبت ایک ہی ہے۔۔ ہمارا ایمان ہے۔۔ دین ہے۔۔ وغيرہ وغيرہ۔۔“
آرجے نے اسکے پچھلے جواب کا مذاق اڑایا تھا۔

”مسٹر آرجے کیا آپکی کوٸی بہن ہے۔۔؟؟“
حانم نے سوال کیا تھا۔

”اس بات کا میرے سوال سے کیا تعلق ہے۔۔؟؟“
وہ اچنبھے سے اسے دیکھ رہا تھا۔

”ہے یا نہيں۔۔؟؟“
حانم نے اسکی بات کو نظرانداز کیا تھا۔

” ہاں ہے۔۔۔!!
وہ مدیحہ کو اپنی بہن ہی سمجھتا تھا۔

”کیا وہ شادی شدہ ہے۔۔؟؟“

”نہيں۔۔۔۔“
آرجے نے جواب دیا تھا۔

ھممم۔۔ وہ کچھ قدم بڑھا کر اسکے سامنے اسٹیج پر جا کر کھڑی ہوگٸی تھی۔ مہرو حیرت سے منہ کھولے اسکے اعتماد کو دیکھ رہی تھی۔

”فرض کریں کہ آپکی بہن کی شادی ہوجاتی ہے اور اسکا شوہر ایک نہایت لنفگا انسان نکلتا ہے۔۔ جو نشہ کرتا ہو۔۔ جوا کھیلتا ہوا۔۔ بری عادتوں میں مبتلا ہو۔۔!!

”کیا بکواس ہے یہ۔۔؟؟“
آرجے دھاڑا تھا۔

” ریلیکس مسٹر آرجے صرف فرض کرنا ہے۔۔!!
وہ پرسکون سی بول رہی تھی۔

”وہ روزانہ شراب پینے کے بعد آپکی بہن کو بری طرح سے مارتا ہو۔۔ اذیت دیتا ہو۔۔ اسے جانور سمجھتا ہو۔۔ اور اسکے ساتھ جانوروں کی طرح پیش آتا ہو۔۔ آپ کیا کرینگے۔۔؟؟
حانم نے پوچھا تھا۔

”کیا آپ اپنی بہن کو اسکے پاس مرنے کیلیے چھوڑ دینگے۔۔؟؟“

آرجے نے غصے سے اپنے دانت اور مٹھیوں کو بھینچا تھا۔

”میں اسے ختم کردوں گا۔۔!!“
وہ غصے سے بولا تھا۔

”اسکا مطلب آپ اپنی بہن کو بیوہ کردیں گے۔۔ لیکن طلاق نہيں دلواٸیں گے۔۔!!
حانم نے خود ہی جواب دیا تھا۔

”میں اپنی بہن کیلیے ایسا گھٹیا اور وحشی انسان نہيں ڈھونڈوں گا۔۔!!

”لیکن فرض کریں ایسا ہو جاٸے پھر۔۔۔
فرض کریں آپ اسے نا مار سکیں کسی مشکل کی وجہ سے۔۔
فرض کریں وہ روزانہ رات کو اپنے دوستوں کو اپنی بیوی کے پاس لاتا ہو پھر۔۔؟؟
آخری بات کہتے ہوٸے حانم کا چہرہ سرخ ہوا تھا لیکن وہ آرجے کا ردعمل دیکھنا چاہتی تھی۔

”کیا کرینگے آپ۔۔؟؟“
آرجے کا دل کر رہا تھا کہ وہ ام حانم کا گلہ دبا کر اسے مار ڈالے۔

”کیا آپ اپنی بہن کو ساری عمر ایسے شخص کے ساتھ رہنے دے سکتے ہیں۔۔؟؟“

”نہيں۔۔۔“
وہ فوراً بولا تھا۔

”کیا آپ کسی بھی معصوم لڑکی کیلیے ایسے شوہر کا سوچ سکتے ہیں۔۔؟؟

”ّنہيں۔۔۔“
وہ کسی روبوٹ کی طرح جواب دے رہا تھا۔

”کیا آپ چاہیں گے کہ آپکی بہن کی اس شخص سے ہمیشہ کیلیۓ جان چھوٹ جاٸے۔۔؟؟“

”ّہاں۔۔“

”ڈیٹس گریٹ مسٹر آرجے۔۔!!
وہ مسکراٸی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں طلاق کو رکھا گیا ہے۔
اس بار چونکنے کی باری آرجے کی تھی۔

اسلام میں طلاق کو رکھا گیا کہ اگر میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ نا رہنا چاہیں تو وہ الگ ہوسکتے ہیں۔۔
ایک بار طلاق دینے کے بعد دونوں فریقين کو غلطی کا احساس ہو تو رجوع کیا جاسکتا ہے۔
“جہاں مرد کو طلاق کا حق دیا گیا ہے وہیں عورت کو خلع کا حق حاصل ہے اگر کسی بھی وجہ سے عورت متد کو ناپسند کرے عدالت سے رجوع کر کر خلع کا حق استعمال کر سکتی ہےکسی اور مذہب میں ایسا قانون دکھا سکتے ہو؟؟
اس دین کی بات کرتے ہو جس میں عورت کو پیدا ہوتے زندہ گاڑ دیا جاتا تھا چلتی حاملہ عورت پہ شرط لگائی جاتی تھی کہ پیٹ میں لڑکا ہے یا لٹکی اور اس کا پیٹ چاک کر دیا جاتا تھا عورت کو تمام تر برائیوں کا محور سمجھا جاتا تھا
عورت کو شیطان سے تشبیح دی جاتی تھی عورت کو جینے مرنے کا حق نا تھا شوہر کے مرتے ہی عورت کو ستی کر کے زندہ جلا دیا جاتا تھا اس کا جینا مرنا مرد کے ہاتھ مین تھا خب زندگی دے کب قتل کر دے “”
معاشرہ برائیوں کے اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا پھر ایک دین آیا جسے دین اسلام کہتے ہیں اس نے عورت کو پستی چکی سے نکالا پستیوں سے نکال کر آسمان کی بلندیوں پہ پہنچایا
اگر عورت ماں ہے قدموں تلے جنت رکھ دی اگر بیوی ہے تو اسے سکون کا نام دیا گیا اگر بیٹی ہے تو اسے رحمت خداوندی کا نام دیا گیا ہے کوئی مذہب جو عورت کو اتنی عزت دے سکے؟؟
آج بھی قدیم یونانی فلاسفر عورت کو تمام تر نحوست کی جڑ قرار دیتے ہیں لیکن ایک اسلام ہے جو عورت کو معاشرے میں مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے آپ اس پہ بنا دلیل کے کیسے سوال کر سکتے ہیں؟؟؟””

اور طلاق کے بعد عورت کو آزادی دی گٸی ہے دوسری شادی کی۔۔
اسلام ہر طرح سے مکمل ہے مسٹر آرجے۔۔
یہ تو مسلمان ہیں جنہوں نے معاشرے میں بگاڑ پیدا کیا ہوا ہے۔۔ زکوۃ کی مدد سے بیوہ اور انکے بچوں کی کفالت کی جا سکتی ہے۔۔
وہ خود یتیم تھی اور وہ غربت کا دکھ بھی اچھے سے جانتی تھی۔

”آپ مسلمانوں کو نہيں اسلام کو دیکھیں مسٹر آرجے کیونکہ مسلمان پرفیکٹ نہيں ہیں لیکن اسلام پرفیکٹ ہے۔۔!!!

ہال ایک بار پھر تالیوں سے گونج اٹھا تھا۔ اگر آرجے مجمع کو خاموش کروانے کی صلاحيت رکھتا تھا تو وہ لوگوں کو خوش کرنے کی صلاحيت رکھتی تھی۔

ایسا پہلی بار ہوا تھا کسی نے آرجے کو جواب دیا تھا۔۔
جانے وہ مطمئن ہوا تھا یا نہيں لیکن وہ جان گیا تھا کہ پہلی بار کسی نے اسکے سوال کو سمجھتے ہوٸے اسی کے انداز میں جواب دیا تھا۔


#جاری

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
جی کیسے ہیں آپ لوگ۔۔ یعنی پیارے پیارے ریڈرز۔۔؟؟ کیسا چل رہا ناول سلفاٸیٹ۔۔؟؟ ناول اب جا کر شروع ہوا ہے۔۔ امید ہے آگے بہتر ہی ہوگا۔
دراصل مجھے ناول کے متعلق کچھ باتيں کرنی تھی۔
پہلی بات۔۔میں یہ ناول کسی سے مقابلہ کرنے،کسی کو نیچا دکھانے یا ڈی گریڈ کرنے کیلیۓ نہيں لکھ رہی۔۔!!
یہ ناول لکھنے کا میرا ایک مقصد ہے۔۔ اس دنیا میں ہر انسان کسی نا کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔۔ لیکن لیکن۔۔ ایک بہت بڑی آبادی جو کہ تیزی سے بڑھ رہی ہے وہ لوگ ہیں ملحد یعنی Atheist جوخدا کو نہيں مانتے۔۔ جن کا کسی مذہب سے تعلق نہيں ہوتا۔۔ جو ساٸنس کے پیروکار ہوتے ہیں۔۔
پہلے ایسے لوگ کم دیکھنے میں آتے ہیں لیکن اب میں نے نوٹ کیا کہ فیس بک پر بھی آپکو آرام سے ملحد لوگ مل جاتے ہیں۔۔ جو اپنی باتوں سے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔!!
یہ بات تو طے ہے کہ انسانی دماغ میں سوچ کا ایک کیڑا موجود ہوتا ہے جو ہر وقت کسی نا کسی چیز کے بارے میں سوچتا رہتا ہے۔۔
اور یہ بات درست ہے انسان جتنا سوچتا ہے اتنے شک و شبہات اسکے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں۔۔!!
اسی لیۓ مذہب پر ہمارا عقیدہ دل سے جڑا ہوتا ہے۔۔ اگر ہم سوچنے لگ جاٸیں کہ مجھے اللہ سے ملنا ہے اسی دنیا میں ملنا ہے اسے دیکھنا ہے تو یقيناً ہم بھٹک جاٸیں گے۔
میں جو اس ناول میں سوال و جواب لکھ رہی ہوں وہ میرے ذہن میں پیدا ہونے والے سوال تھے جو آپکو آگے بھی نظر آٸیں گے۔ اور کچھ سوال وہ ہیں جو ملحد زیادہ تر کرتے ہیں اسلام سے متلعق۔۔
دنیا میں سب سے زیادہ اسٹڈی کیۓ جانے والا مذہب اسلام ہے۔۔ اور مجھے میرا مذہب اپنی جان سے زیادہ پیارا ہے۔۔ یہ ہم سب کا ایمان ہوتا ہے۔۔!!
پچھلی قسط میں آرجے نے جو سوال کیا تھا کہ وہ دراصل کچھ یوں تھا کہ جب ایک چیز تبدیليوں سے گزرتی ہے تو ہمارا یہ کہنا مشکل ہوجاتا ہے کہ کونسی چیز اصلی تھی۔۔ بیشک اسکی بنیاد ایک ہی ہے۔۔ یہی معمع تھیسس کے جہاز کا تھا۔۔ خیر یہ تو ہوگٸی پرانی بات۔۔
اب آتے ہیں جواب کی طرف۔۔ آپ سب لوگوں نے جنہوں نے جوابات دیۓ ہیں بہت اچھے سے اور تفصيل سے اپنے نقطہ نظر کو پیش کیا ہے۔۔ جو کہ مجھے بہت پسند آیا ہے۔۔ ویل ڈن ٹو آل۔۔ 😊
لیکن ایک بات جو آپ لوگوں نے نوٹ نہيں کی وہ یہ کہ ہر چیز کا ایک لاجک ہوتا ہے۔۔ اور ساٸنس کے پیروکار خاص طور پر ملحد لوگ لاجک سے بات کرتے ہیں۔۔ آپ سب نے قرآن و حدیث سے حوالے دیۓ ہیں یہ ہم جانتے ہیں کہ درست ہیں لیکن جب ہم ایسی بات کسی ساٸنس کے پیروکار کے سامنے کریں گے تو وہ ہنسے گا۔۔ جیسے آرجے ہنسا تھا حانم کی بات پر۔۔
ایسے انسانوں کو لاجک کی مار مارنی پڑتی ہے۔میں ہر سوال کا جواب لاجک سے ڈھونڈا ہے جو آگے آپ لوگوں کو پتا چل جاٸے گا۔۔!!
میں یہ نہيں کہہ رہی کہ میرے پاس بہت علم۔۔ نعوذباللہ اللہ سب کو غرورسے بچاٸے۔۔ مجھے تو خود کچھ نہيں پتا اور نا میرا تجربہ چالیس پچاس سالوں کا ہے، لیکن میں نے محنت سے ہرچیز میں لاجک ڈھونڈا ہے۔۔ میں یہ ناول آخر میں لکھنا چاہتی تھی۔۔ جب میں نے سوچا تھا تو ایک فیصلہ کیا تھا کہ یہ میرا آخری ناول ہوگا۔۔ لیکن۔۔ ناجانے کیوں سب سے پہلے اسی کو لکھ لیا۔۔!!
بس وہی چیز یعنی لاجک آپ لوگوں تک پہنچانا چاہتی ہوں۔۔ آپ لوگ مجھ سے اختلاف راٸے رکھ سکتے ہیں کیونکہ ہر انسان کا نقطہ نظر اور سوچنے کی صلاحيت الگ ہوتی ہے۔۔!!
میں چاہتی ہوں کہ کل کو اگر آپکا سامنا کسی ملحد سے ہوجاٸے اور وہ آپکو الجھانا چاہۓ تو آپ اسے جواب دے سکیں۔۔ وہ بھی لاجک سے۔۔ اور یہی چیز میں سکھانا چاہتی ہوں کہ آپ باتوں سے لاجک کیسے نکال سکتے ہیں۔۔ ایک انسان کو اسی کی باتوں میں کیسے الجھا سکتے ہیں۔۔؟ یہ مقصد ہے لکھنے کا۔۔!!
دوسری بات۔۔۔ میں رہنما کی طرح اس ناول میں بھی ایک حقیقی کہانی لے کر آٸی ہوں جو سلفاٸیٹ کی دنیا سے نکل کر ہمارے معاشرے کے عام افراد کی ہے۔۔ جس میں جذبات اور احساسات ہیں۔۔
نفرت ہے محبت ہے۔۔ ایک پیاری سی ریڈر کہتی ہیں کہ میں اس کہانی میں محبت کو نا لے آٶں کہیں۔۔ اور میں نے انہيں جواب دیا تھا کہ محبت کے بنا کوٸی داستان مکمل نہيں ہوتی۔۔ لیکن ضروری نہيں محبت پوری ہو۔۔ وہ ادھوری بھی ہو سکتی ہے۔۔!!
تیسری بات ۔۔ آرجے کا کردار بہت سے لوگوں کو خاص طور پر #ذرمین کو بالکل پسند نہيں آرہا۔۔۔ تو میں کہنا چاہوں گی کہ وہ ایک کردار ہے۔۔ آپ اسکی براٸیوں کو ابھی نا دیکھیں۔۔ ایک وقت دیا جاٸے گا آپ لوگوں کو اس سے نفرت کرنے کا۔۔ لیکن ابھی یہ سوچیں کہ وہ ایسا کیوں ہے۔۔؟؟“

آخری بات۔۔ یہ کہ پچھلی قسط میں ایک ریڈر نے کہا کہ آپ سیدوں کو بدنام نا کریں۔۔ اففف۔۔ میں ایک منٹ کیلیۓ ڈر گٸی تھی۔۔ کہ کہیں میں نے انکی شان میں گستاخی تو نہيں کردی۔۔ لیکن میں ایک حقیقت لکھنا چاہ رہی ہوں۔۔ Rationalist آپکو کہیں بھی مل سکتا ہے۔۔ وہ کسی بھی خاندان میں پیدا ہو سکتا ہے۔۔ اور اچھاٸی دیکھنی ہے تو حشام کو دیکھ لیں وہ بھی تو سید ہی ہے۔۔!!
خیر سمجھنے کی بات ہے۔۔ آپ لوگ نیوٹرل ہو کر پڑھیں اپنے خیالات بیان کرتے ہیں جو بھی سوال کیا گیا ہو قرآن و حدیث اور اپنی سمجھ کے مطابق جواب دیتے رہیں اس سے آپ لوگوں کی صلاحيت بھی اجاگر ہوگی۔۔
پوسٹ لمبی ہوتی جارہی ہے باقی باتيں بعد میں ہوتی رہیں گی۔۔۔ خوش رہیں، اللہ حافظ۔۔!!!

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: