Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 23

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 23

–**–**–

”آپ مسلمانوں کو نہيں اسلام کو دیکھیں مسٹر آرجے کیونکہ مسلمان پرفیکٹ نہيں ہیں لیکن اسلام پرفیکٹ ہے۔۔!!!

ہال ایک بار پھر تالیوں سے گونج اٹھا تھا۔ اگر آرجے مجمع کو خاموش کروانے کی صلاحيت رکھتا تھا تو وہ لوگوں کو خوش کرنے کی صلاحيت رکھتی تھی۔

ایسا پہلی بار ہوا تھا کسی نے آرجے کو جواب دیا تھا۔۔
جانے وہ مطمئن ہوا تھا یا نہيں لیکن وہ جان گیا تھا کہ پہلی بار کسی نے اسکے سوال کو سمجھتے ہوٸے اسی کے انداز میں جواب دیا تھا۔

آرجے کو پہلی بار محسوس ہوا تھا کہ کوٸی اسکے جیسی سوچ رکھنے والا بھی اس دنیا میں موجود ہے۔

”ویل ڈن مس ام حانم۔۔۔“
عثمان ملک جوش سے اسکی طرف بڑھا تھا۔

”شکریہ۔۔۔ ابھی میرا جواب مکمل نہيں ہوا۔۔ ابھی مجھے کچھ اور بھی کہنا ہے۔۔!!!
اسکی آواز پر دروازے کی طرف قدم بڑھاتے آرجے نے پلٹ کر اسے دیکھا تھا۔

”کچھ وقت اور مسٹر آرجے آپکے تھیسس کے جہاز کا معمہ بھی حل کرتے ہیں۔۔
حانم نے کہتے ہوٸے ڈاٸز پر رکھے ہوٸے لیپ ٹاپ سے اپنا موبائل اٹیچ کیا تھا جسکی سکرین اب پروجيکٹر پر نظر آرہی تھی۔

پروجيکٹر کی سکرین پر اب ہیرے اور سونے کے ہار یعنی نیکلس نظر آرہے تھے۔

آرجے گہری خاموش نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
کیا واقعی وہ اسے معمعے کو حل کر سکتی تھی۔

”کیا آپ لوگ بتا سکتے ہیں کہ ان دونوں میں سے کونسا نیکلس قیمتی ہے۔۔ ہیرے کا یا سونے کا۔۔؟؟“
اس نے سٹوڈنٹس سے پوچھا تھا۔

آرجے اب اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا تھا۔ دونوں کہنیوں کو گھٹنوں پر جماٸے دونوں ہاتھوں کی مٹھی بند کیۓ تھوڑی کے نیچے رکھے وہ غور سے سکرین کو دیکھ رہا تھا البتہ اسکے کان حانم کی طرف لگے تھے۔

”آف کورس ڈاٸمنڈ کا نیکلس قیمتی ہے۔۔!!!“
سٹوڈنٹ کے جواب پر حانم مسکراٸی تھی۔

”تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ڈاٸمنڈ کا نیکلس تھیسس کا جہاز ہے یعنی یہ متبرک ہے۔۔“
حانم نے کہتے ہوٸے لیپ ٹاپ پر انگلیوں کو چلا کر سکرین کو بدلا تھا۔

اب بھی سکرین پر ہیرے اور سونے کے ہار نظر آرہے تھے۔ ایک ہیرے کا اور تین سونے کے۔

”اگر ہم ڈاٸمنڈ والے نیکلس میں سے تین ڈاٸمنڈز نکال کر ان تین گولڈ والے نیکلس میں لگا دیں تو کیا گولڈ والے نیکلسز کی قیمت بڑھے گی مسٹر آرجے۔۔۔؟؟“
حانم نے آرجے سے پوچھا تھا ایسا ہی کچھ سکرین پر نظر بھی آرہا تھا۔ تین سونے کے ہاروں میں تین ہیرے جڑے تھے۔ یعنی ہر ایک ہار میں ایک ہیرا۔۔

”بالکل بڑھے گی۔۔“
آرجے نے توجہ سے جواب دیا تھا۔ ۔وہاں بیٹھے ہر سٹوڈنٹ کیلیئ یہ ایک دلچسپ گیم تھی۔ جو آرجے اور حانم نے درمیان چل رہی تھی۔ وہ سب اسے بہت انجواٸے کر رہے تھے۔

”یعنی ایک متبرک چیز کا حصہ اگر کسی عام چیز میں چلا جاٸے تو عام چیز بھی متبرک ہوجاتی ہے۔۔ دوسرے لفظوں میں ہیروں کے جڑنے سے ہار کی قیمت بڑھ گٸی ہے۔۔؟؟“
وہ سوالیہ انداز سے سٹوڈنٹس کو دیکھ رہی تھی۔

”آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں مس ام حانم۔۔ ایسا ہو سکتا ہے۔۔!!
آرجے اسکی بات کو سمجھ رہا تھا۔

”تو یہ جواب ہے آپکے تھیسس کے جہاز کے سوال کے دوسرے حصے کا جواب کہ اگر تھیسس کے متبرک جہاز کے کچھ حصوں سے ایک نیا جہاز بنایا جاٸے تو وہ اصلی ہوگا؟ متبرک ہوگا یا نہيں۔۔؟؟
وہ بالکل متبرک ہوگا۔۔“

”اب اس نیکلس کو دیکھیں۔۔ یہ وہ نیکلس ہے جس سے تین ڈاٸمنڈز نکال کر اس میں گولڈ کے Pearls لگادیئے گٸے ہیں۔۔
یہ تھا تھیسس کا اصلی جہاز۔۔ جس میں ٹوٹ پھوٹ کے بعد بہت سے پرزوں کو بدلا گیا تھا۔۔ چونکہ ابھی اس میں ڈاٸمنڈز موجود ہیں تو کیا یہ متبرک نہيں رہا۔۔؟؟“
وہ ایک بار پھر سوالیہ نظروں سے سب کو دیکھ رہی تھی۔

”یہ قیمتی ہے اور متبرک ہے۔۔ لیکن پہلے سے کم کیونکہ اب اس میں ڈاٸمنڈز کم ہوگٸے ہیں لیکن موجود ہیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ بھی اصلی ہے۔۔ یعنی متبرک ہے۔۔!!
اب کی بار جواب عثمان ملک نے دیا تھا۔

”جی بالکل۔۔ تو یہ تھا تھیسس کے سوال کے پہلے حصے کا جواب کہ جب تھیسس کا جہاز جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا اور اسکے کچھ پرزوں کو بدلے گیا چونکہ پہلے جہاز کا کچھ حصہ باقی تھا تو وہ ابھی بھی متبرک ہی تھا۔ جبکہ اسکے تمام پرزے نا تبدیل کر دیے جاتے۔۔“
حانم کی آنکهوں کی چمک بڑھ گٸی تھی۔

”لیکن مس ام حانم تھیسس جہاز کا صرف ایک حوالہ دیا تھا میں نے، اصل سوال تو مذہب پر تھا کہ تبدیليوں سے گزرنے پر آخر میں آنے والا مذہب حقیقی کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔؟؟“
آرجے پوچھ رہا تھا۔

”درست فرمایا آپ نے مسٹر آرجے میں نے بھی ابھی صرف ایک مثال دی ہے۔۔ مذہب پر بھی میں آتی ہوں۔۔،
وہ خوشدلی سے مسکراٸی تھی۔
”اب دیکھیں مسٹر آرجے یہ ایک نیا ڈاٸمنڈ نیکلس ہے۔۔ جس میں تین ڈاٸمنڈز کی کمی ہے۔۔،
سکرین پر اب ایک ہیرے کا ہار نظر آرہا تھا جس میں بڑے بڑے تین ہیروں کی جگہ خالی تھی۔

”اب اگر ہم ان تین گولڈ والے نیکلسز میں سے تینوں ڈاٸمنڈز کو نکال لیں جو ہم نے پہلے فٹ کیئے تھے تو کیا اب یہ تین گولڈ والے نیکلس قیمتی یا متبرک بچے یا نہيں۔۔؟؟؟“

اگلی سکرین پر اب تینوں سونے والے ہار میں سے تینوں ہیرے نکال لیے تھے وہ نظر آرہے تھے۔

”نہيں۔۔ کیونکہ پہلے ہی میں نے کہا تھا کہ قیمتی اور متبرک چیز ڈاٸمنڈ نا کہ گولڈ اگر وہی نہيں رہا نیکلس میں تو نیکلس کی کوٸی قیمت نہيں رہی۔۔“
حانم نے اپنے سوال کا جواب خود دیا تھا۔

”اور اگر ہم ان تین ڈاٸمنڈز کو اس نٸے نیکلس میں فٹ کردیں جس میں جگہ خالی ہے تو کیا اس نیکلس کی قیمت بڑھے گی۔۔ کیا یہ متبرک ہوگا۔۔؟؟“
اب سکرین پر وہ تینوں ہیرے اس نٸے ہار میں جڑے نظر آرہے تھے جس میں جگہ خالی تھی۔

”جی بالکل ہوگا۔۔ کیونکہ اب یہ مکمل ڈاٸمنڈز کا نیکلس ہے تو قیمتی ہوگا نا۔۔؟؟“
حانم کی سوالیہ نظریں آرجے پر جمی تھیں جس نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔

“thats great..,
”اب غور کیجیۓ گا مسٹر آرجے کہ یہ جو پہلا ڈاٸمنڈ والا نیکلس تھا یہ وہ پیغام تھا جو حضرت آدم علیہ اسلام لے کر آٸے تھے کہ اللہ ایک ہے اسی کی عبادت کی جاٸے۔۔ جو بہت خالص تھا۔۔،
پھر اس نیکلس میں سے تین ڈاٸمنڈز نکال لیۓ گٸے یعنی وقت گزرتا گیا لوگوں گمراہ ہوتے گٸے،
وہ جو چیز اصل تھی جو پیغام حقيقی تھا وہ جہالت کے اندھیروں میں قیمت کھو گیا تھا۔

اب آپ ان تین نیکلسز کو دیکھیں یہ گولڈ والے نیکلس جن میں تین ڈاٸمنڈز جڑے ہیں یہ وہ تین مذہب ہیں جن پر قرآن پاک سے پہلے کتابيں نازل کی گٸی۔۔
ان میں جڑے ڈاٸمنڈز اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں متبرک،خالص اور حقيقی پیغام ان میں بھی ایک ہی تھا یعنی اللہ ایک ہے صرف اسی کی عبادت کی جاٸے۔۔،
اور جو گولڈ جڑا ہے وہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ مذہب خالص نہيں رہے۔۔ وقت کے ساتھ لوگوں نے ان میں اپنی مرضی سے تبدیلياں کی اور انکی قیمت کم ہوگٸی۔۔ لیکن چونکہ ڈاٸمنڈز ابھی بھی جڑے تو ظاہر تھا کہ یہ پیغام اللہ کا ہی تھا۔۔ جسے توڑ مروڑ کر عجیب و غریب شکل دے دی گٸی ہے۔۔،
وہ سانس لینے کو رکی تھی۔ سٹوڈنٹس دم سادھے اسے سن رہے تھے۔

”اب آپ اس نیکلس کو دیکھیں جو نیا تھا جس میں ڈاٸمنڈز کی کمی تھی اور وہ تین ڈاٸمنڈز گولڈ والے نیکلس سے نکال کر اس میں ڈال دیے گٸے تھے۔۔،
یہ نیا نیکلس دین اسلام ہے۔۔ جو تبدیليوں سے گزرا ہے۔۔ آپ نے خود کہا کہ یہ قیمتی اور متبرک ہے۔۔،
اس نیکلس میں جو تین ڈاٸمنڈز لگے ہیں وہ پچھلے مذاہب کی تصدیق کرتے ہیں اور اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ پہلے بھی پیغام ایک تھا یعنی اللہ ایک ہے اور اب بھی پیغام ایک ہی ہے یعنی اللہ ایک ہے صرف اسی کی عبادت کی جاٸے۔۔،
چونکہ یہ نیکلس پورا کا پورا ڈاٸمنڈز کا ہے۔۔ بیشک یہ تبدیليوں سے گزرا ہے لیکن یہ قیمتی ہے، متبرک ہے، خالص اور حقيقی ہے۔۔،
یہ ہے تبدیليوں سے گزر کر آخر میں آنے والے دین اسلام کی حقيقت۔۔!!“
حانم نے ایک گہرا سانس لیا تھا۔
اسکی نظریں آرجے پر جمی تھیں۔

”ونڈر فل۔۔“
بےاختیاری میں آرجے کے منہ سے نکل گیا تھا۔
وہ کمال کا لاجک لاٸی تھی۔ نا ساٸنس کا حوالہ دیا تھا نا کوٸی آیت لے کر آٸی تھی وہ اسے اسی کے انداز میں سمجھا گٸی تھی۔

”آپکا لاجک اچھا ہے مس ام حانم۔۔،
ہال میں چھاٸی خاموشی کو آرجے نے توڑا تھا۔ سٹوڈنٹس کو جیسے سانپ سونگ گیا تھا۔

”لیکن ابھی بھی میرے بہت سے سوال ہیں۔۔ اس مذہب میں بہت سے جھول ہیں جن کے مجھے جواب چاہیۓ۔۔“

”ضرور ملیں گے مسٹر آرجے چونکہ اس سیشن کا وقت ختم ہو چکا ہے، آپکے باقی سوالوں کے جواب اگلے سیشن میں ملیں گے۔۔!!
عثمان ملک نے آگے بڑھ کر اسے ٹوکا تھا۔
آرجے کی تیوری چڑھی تھی۔ اسے اپنے اور حانم کے درمیان مداخلت کرتا عثمان ملک زہر لگ رہا تھا۔

”کمال کردیا آپ نے حانم۔۔ کیا آپ میری ٹیم کا حصہ بنیں گی۔۔؟؟“
عثمان ملک ستاٸشی نظروں سے حانم کو دیکھ رہا تھا۔
حانم کا جواب سننے سے پہلے آرجے ہال سے باہر نکل گیا تھا۔

”مسٹر آرجے بات سنیں۔۔ آپکے ذہن میں ایسے سوالات کہاں سے آتے ہیں۔۔؟؟
سٹوڈنٹس کا ہجوم اسکے پیچھے بھاگا تھا۔

”میں اس قابل نہيں ہوٸی ابھی کہ آپکی ٹیم کے ساتھ چل سکوں۔۔“
حانم نے مسکرا جواب دیا تھا۔

اسٹیج پر بیٹھی نیلم جو کہ عثمان ملک کی ٹیم کی ہیڈ اور اسکی چہیتی تھی اس وقت جل کر راکھ ہوگٸی تھی۔

”آپ ہی تو اس قابل ہیں مس حانم۔۔ آپ سوچ لیں۔۔میں انتظار کروں گا۔۔،
وہ بضد تھا۔ اس سے پہلے حانم کچھ بولتی مہرو آندھی طوفان کی طرح اسکی طرف بڑھی تھی۔

”تم ادھر مرو ہانی۔۔،
وہ اسے کھینچتے ہوٸے لے گٸی تھی جبکہ عثمان ملک دیکهتا رہ گیا تھا۔۔!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”آخر اس ام حانم میں اتنا کنفیڈینس کہاں سے آیا ہے۔۔؟؟
سٹوڈنٹس کے ہجوم میں گھرے آرجے کا ذہن کہیں اور الجھا تھا۔

اس نے مہرو اور حانم کو ڈیپارٹمنٹ سے باہر جاتا دیکھا تھا۔

”بتائيں نا آرجے آپکا دماغ اتنا تیز کیسے چلتا ہے۔۔؟؟“
ایک لڑکی نے کسی اینکر کی طرح اس سے سوال کیا تھا۔

”بہن جی میرا دماغ ہے آہستہ چلے،تیز چلے،ڈبل سپیڈ سے چلے، الٹا گھومے یا نا چلے۔۔ اینی پرابلم۔۔؟؟“
آرجے کی پیشانی پر بل پڑے تھے۔ وہ تنگ آگیا تھا لوگوں کے سوالات سے،

وہ ایک جھٹکے سے آگے بڑھ گیا تھا جبکہ لڑکی اپنا سا منہ لے کر رہ گٸی تھی۔

”بدتمیزی کی تمام حدیں مسٹر آرجے پر آکر ختم ہوتی ہی۔۔!!
وہ بڑبڑاٸی اور پھر دور جاتے آرجے کو دیکھا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”تم نے جواب کہاں سے ڈھونڈے ہانی۔۔؟؟مجھے تو یقین نہيں آرہا تھا کہ یہ تم ہی ہو۔۔؟؟
مہرو ابھی تک شاکڈ تھی۔

”طلاق والا جواب میں نے بہت سرچ کیا، انٹرنيشنل سکالرز کو سنا تب جا کر مجھے لاجک سمجھ میں آیا کہ آرجے کو کیسے قاٸل کرنا ہے۔۔،
جب مجھے لاجک کی سمجھ آٸی پھر میں دین والی اور تھیسس کے جہاز والی بات میں اپنا دماغ لگایا اور بالآخر میں پالیا۔۔!!
وہ مسرور سی بتا رہی تھی۔
وہ دونوں ہاسٹل جا رہی تھیں۔ شام کے چھے بجنے والے تھے، سورج غروب ہونا شروع ہوچکا تھا۔

”لیکن اتنے اطمينان اور اعتماد سے جواب دیا تم نےپہلے تو تم ایسی نہيں تھی۔۔“
مہرو کو جانے کس بات کا صدمہ لگا تھا اسے یقین نہيں آرہا تھا کہ جو ابھی اندر لوگوں کو قاٸل کر رہی تھی وہ ہانی ہی تھی۔

اسکی بات سن کر ہانی مسکراٸی تھی اور اسکا ذہن پیچھے کہیں بھٹکا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ پچھلے ویک اینڈ کی بات تھی جب وہ گھر گٸی تھی۔ وہ آرجے کے سوالات کو لے کر پریشان تھی۔ اسے سمجھ نہيں آرہا تھا کہ اس نے ہامی تو بھر لی تھی لیکن جواب کیسے دی گی۔۔؟
وہ مغرب کی نماز کے بعد لان میں بیٹھی تھی کرسی سے ٹیک لگاٸے، آنکهيں بند کیئے، اسکے چہرے پر پریشانی واضح تھی۔

”کیا ہوا ہانی بیٹا سب خیریت ہے نا۔۔؟؟“
اچانک اسکے کانوں سے حمدان انکل کی آواز ٹکراٸی تھی۔
وہ چونک کر سیدھی ہوٸی تھی۔

”ارے انکل آپ۔۔ بیٹھیں پلیز۔۔!!
حانم کے کہنے پر وہ اسکے سامنے والی کرسی پر براجمان ہوچکے تھے۔

”یہاں اکیلی کیوں بیٹھی ہو۔۔؟؟ کوٸی پریشانی ہے۔۔؟؟“
وہ پوچھ رہے تھے۔

”نہيں ایسی کوٸی بات نہيں ہے۔۔،
وہ زبردستی مسکراٸی تھی۔

”لیکن بیٹا پریشانی آپکے چہرے سے واضح ہے۔۔!!
وہ ایک تجربہ کار انسان تھے۔ فوراً سمجھ گٸے تھے۔

”انکل اگر ایک ساٸنس کا پیروکار آپکے مذہب پر سوال اٹھاٸے اور آپکو لاجک کے فلسفے میں الجھادے، تو اسکو کیسے جواب دینا چاہیئے۔۔؟؟“
وہ پوچھ رہی تھی۔

”بیٹا پہلے تو یہ سمجھیں کہ وہ چاہتا کیا ہے۔۔؟؟
پھر اسکے سوالات پر دھیان دیں۔۔ نوٹ کر اسے کیا چیز پریشان کرتی ہے۔۔؟
پھر اسکی منطق کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ وہ کیسے قاٸل ہو سکتا ہے۔۔؟؟
پھر کاٸنات سے نشانیاں ڈھونڈیں اور اسے اسی کے انداز میں جواب دیں۔۔!!
وہ اسے سمجھا رہے تھے۔

”اورا نکل ان سب کیلیے مجھے کیا کرنا ہوگا۔۔؟؟

”سوچنا ہوگا۔۔ جوابات کے متلعق، اگر ایک انسان سوالات کی کھوج میں رہتا ہے تو دوسرے کو جوابات تلاش کرنے چاہیئے۔۔،
اگر وہ انسان آپکو سوالوں الجھاتا ہے تو آپ اسے جوابات میں الجھا دیں۔۔!!“

کیا کمال لاجک بتایا تھا حمدان انکل نے اسے۔
وہ سمجھ کر مسکرا دی تھی۔

”جو انسان کاٸنات کو جتنا تسخیر کرنا چاہے گا یہ اُس انسان کیلیے اتنی ہی کھلتی جاٸے گی، یہ راز افشاں کرتی جاٸے گی۔۔!!
وہ پتے کی بات کر رہے تھے۔
حانم نے اثبات میں سرہلادیا تھا۔
اور قرآن پاک میں ارشاد ہے،

” إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَاب،○
ِ ترجمہ: یقیناً آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں، اور شب و روز کے باری باری آنے جانے میں اہل عقل کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں ۔ [آل عمران: 190]”

اس آیت میں اللہ تعالی نے لوگوں کو اس کائنات میں غور و فکر کی ترغیب دی ہے کہ کائنات کی نشانیوں سے بصیرت حاصل کریں، اس کی تخلیق میں غور و فکر کریں، اس کے لئے لفظ “آیات” کو مبہم رکھا اور یہ نہیں کہا کہ: “اس میں فلاں فائدہ ہے” ؛ کیونکہ ان فوائد اور آیات کی اقسام ہی بہت زیادہ ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کائنات میں ایسی محیر العقول نشانیاں ہیں جو دیکھنے والوں کو دنگ کر دیں، ان میں غور و فکر کرنے والے انہیں تسلیم کیے بغیر رہ نہیں سکتے، یہ نشانیاں متلاشیان حق کے دلوں کو اپنی طرف کھینچتی ہیں، اللہ تعالی کے تمام اہداف کے متعلق روشن دماغوں کو متنبہ بھی کرتی ہیں، چنانچہ اس کائنات میں موجود اجرام فلکیہ اور اشیا کی تفصیل کسی بھی مخلوق کے لئے شمار کرنا ممکن نہیں ہے، تفصیل تو کیا کسی ایک چیز کی مکمل معلومات حاصل کرنا بھی ممکن نہیں !

مختصر یہ کہ اس کائنات کے حجم، وسعت، اور اس کا منظم نظام حرکت، اس کائنات کے خالق کی عظمت ، عظیم سلطنت، اختیارات اور وسیع قدرت کی واضح دلیلیں ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”روحان نماز پڑھی آپ نے۔۔؟؟“
ایک چھوٹے سے لکڑی کے ڈیسک کے پیچھے بیٹھے،لمبی داڑھی والے مولوی نے سات سال کے روحان سے پوچھا تھا جو جانے کن خیالوں میں کھویا ہوا تھا۔

مولوی صاحب کے دونوں طرف بچوں کی لمبی قطاریں تھیں،بچے سر ہلا ہلا کر اور زور لگا کر اونچی اونچی آواز میں پڑھ رہے تھے۔

روحان ان تمام بچوں میں سب سے ذہین اور لاٸق بچہ تھا۔ وہ چار سال کا تھا جب اس مسجد میں ناظرہ پڑھنے آیا تھا۔ وہ ایک سال میں قرآن پاک پڑھ گیا تھا۔ وہ دوسرے بچوں کی نسبت کم گو تھا اپنے سبق پر دھیان دیتا تھا۔
وہ قرآن پاک کے صفحات پر لکھے حروف کو غور سے دیکھتا تھا جیسے کیمرہ کسی چیز کو سکین کرتا ہو۔۔!!
دو سال میں اس نے دوبارہ قرآن پاک مکمل کیا تھا اب وہ حفظ کر رہا تھا۔ لیکن اچانک وہ عجیب و غریب سوال کرنے شروع ہوگیا تھا۔ جنہیں سن کر کبھی تو مولوی صاحب حیران رہ جاتے،کبھی گھبرا جاتے تھے اور شدید غصہ کرتے تھے۔

”نہيں پڑھی۔۔“
روحان نے اطمينان سے کہا تھا۔

”کیوں نہيں پڑھی آپکو پتا ہے نا اللہ پاک سزا دیتے ہیں نماز نا پڑھنے پر۔۔؟؟“
وہ سخت سے لہجے میں کہہ رہے تھے۔

”لیکن کیوں۔۔؟؟ کیوں سزا دیتے ہیں وہ۔۔؟؟ آپ تو کہتے ہیں کہ وہ ہم سے بہت پیار کرتے ہیں پھر سزا کیوں دینگے۔۔؟؟“
اسکا سوال مولوی صاحب کو خاموش کرواگیا تھا۔

”کیونکہ وہ اللہ ہے۔۔۔ سب سے بڑا ہے۔۔ اس لیے۔۔“
کچھ دیر بعد وہ بولے تھے۔

”اللہ ہونے مطلب سزا دینا ہوتا ہے۔۔۔؟؟ اگر ہم اللہ بن گٸے تو کیا ہم بھی سزا دینگے۔۔؟؟ اور مجھے ایسا اللہ نہيں پسند جو سزادیتے ہو۔۔ مجھے نہيں پسند۔۔ آٸی ڈونٹ لاٸک ہم۔۔“
وہ معصوم تھا۔نہيں جانتا تھا کہ کیا پوچھ رہا ہے۔ کیا بول رہا ہے،

چٹاخ کی آواز پورے ہال میں گونج گٸی تھی۔ مولوی صاحب کے ہاتھ کی انگلیوں کے نشان اسکے نازک گال پر بری طرح چھپ گٸے تھے۔
وہ حیران سا مولوی کو دیکھ رہا تھا جسکے چہرے پر وحشت چھاٸی تھی۔

”تم بچے نہيں ہو شیطان ہو شیطان۔۔“
وہ اسے بازو سے پکڑ کر حویلی لے آٸے تھے۔ مولوی صاحب کی پورے علاقے میں بہت عزت تھی۔ جبیل صاحب خود انکا بہت احترام کرتے تھے۔

”آپکے گھر میں انسان کے روپ میں شیطان پیدا ہوا ہے سید صاحب۔۔
اسے یہاں سے دور لے جاٸیں اور آٸندہ مسجد مت بھیجنا باقی بچوں کو بھی خراب کرے گا۔۔!!“
وہ غصے سے بولتے واپس جا چکے تھے۔

”آپ نے کیا کہا تھا روحان بیٹا۔۔؟؟“
عاٸشہ جبیل،اسکی ماں، نے پیار سے پاس بیٹھا کر پوچھا تھا۔

روحان کی بڑی بڑی آنکهوں سے آنسو کا قطرہ ٹپکا تھا جو اسکے پھولے گالوں پر ہھسل گیا تھا۔ انگلیوں کے نشان ابھی بھی واضح تھے۔

”انہوں نے کہا تھا کہ اللہ نماز نا پڑھنے پر سزا دیتے ہیں میں نے پوچھا کیوں؟ انہوں نے کہا کہ وہ بڑے ہیں۔۔
اور پھر میں نے کہا کہ مجھے سزا دینے والا اللہ نہيں پسند۔۔ مجھے ایسا اللہ نہيں چاہیۓ۔۔!!
وہ روتے ہوٸے اپنی ماں سے لپٹ گیا تھا۔ عاٸشہ جبیل کا دل پھٹ گیا تھا جیسے۔

اسکا سوال اتنا برا نہيں تھا کہ ایک معصوم بچے کو شیطان کا نام دے دیا جاتا،
”آج سے میں اپنے بیٹے کو پڑھاٶں گی۔۔ میں بتاٶں گی سب۔۔!!
وہ انہيں لے کر کمرے میں چلی گٸی تھی۔

ہمارے معاشرے کا یہی المیہ ہے کہ ہمیں ڈرایا جاتا ہے، دھمکایا جاتا ہے، اللہ کو سزا دینے والا بتایا جاتا ہے، ہمیں صرف یہ کہا جاتا ہے کہ نماز پڑھو نہيں تو اللہ مارے گا۔
ہمیں اللہ کی محبت نہيں سمجھاٸی جاتی، بندے اور اللہ کا تعلق نہيں بتایا جاتا۔۔،
وہ بچہ تھا اسکے معصوم سوالوں کے جواب دیۓ جا سکتے تھے لیکن اسے شیطان کہہ کر دھتکار دیا گیا تھا۔۔۔!!
کسی نے نہيں سوچا تھا ان سب کے سخت الفاظ واقعی اسے اللہ سے بہت دور اور اسکا انکار کرنے والا بنا دینگے۔۔!!

“یہ نہیں بتایا جاتا وہ ستر ماوب سے زیادہ پیار کرنے والا بھی ہے غفورورحیم ہے”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں ڈیپارٹمنٹ سے سیدھا STC آٸی تھیں۔ یہ سٹوڈنٹس ٹیچرز سینٹر تھا جو ہاسٹل ایریا میں تھا جو ایک چھوٹے سے شاپنگ مال کی طرح تھا، جہاں ضرورت اور پسند کی ہر چیز مل جاتی تھی۔
مہرو کو کچھ چیزیں لینی تھیں۔

”میں تھک گٸی ہوں یار۔۔“
حانم نے ایک طرف بیٹھتے ہوٸے کہا تھا۔ وہ ڈیپارٹمنٹ سے وہاں تک پیدل آٸی تھیں جو اچھا خاصا فاصلہ تھا۔

”اچھا تم بیٹھو میں چیزیں لے کر آتی ہوں۔۔“
مہرو شاپ کی طرف بڑھ گٸی تھی۔ رات کو stc پر سٹوڈنٹس کا ایک میلہ لگا ہوتا تھا۔
ہنستے مسکراتے چہرے، وہاں زندگی دوڑتی تھی۔

اچانک حانم کی نظر لڑکوں کے ایک گروپ میں بیٹھے آرجے پر پڑی تھی جو سگریٹ پی رہا تھا۔

”نشٸی۔۔“
حانم اسے دیکھ کر بڑبڑاٸی تھی۔
اپنے چہرے پر کسی کی نظروں کی تپش محسوس کرکے آرجے نے چاروں طرف نظریں دوڑاٸی تھیں اور پھر حانم پر اسکی نظریں رکی تھیں جو اسے ہی دیکھ رہی تھی اور پھر آرجے کے دیکھنے پر نظریں چرا گٸی تھیں۔

وہ سگریٹ کا دھواں اڑاتے حانم کو دیکھ رہا تھا۔ دھوٸیں کے مرغولوں میں حانم کا چہرہ کبھی دھندلا جاتا تھا اور کبھی واضح ہوجاتا تھا۔
وہ اسے دیکھ کر ناجانے کی کس گہری سوچ میں پڑ گیا تھا۔

”لفنگا۔۔“
وہ اسے ہی تک رہا تھا۔ حانم ایک جھٹکے سے اٹھی تھی اور پھر اس شاپ کے اندر چلی گٸی تھی جہاں مہرو گٸی تھی۔
جبکہ آرجے ابھی تک سوچ کے زیر اثر تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈیپارٹمنٹ میں مڈ ٹرم ایگزامز چل رہے تھے۔ سیمینار کو کچھ دنوں کیلیئے ملتوی کردیا گیا تھا۔
ایک ہفتے تک وہ بری طرح سے پڑھاٸی میں غرق رہے تھے۔ آج انکا رزلٹ تھا۔
توقع کے مطابق آرجے نے ٹاپ کیا تھا۔ وہ سب سے اوپر تھا۔
حانم کو اسکے ٹاپ کرنے پر کوٸی مسٸلہ نہيں تھا البتہ وہ حیران تھی کہ کبھی وہ کلاس میں آجاتا تھا اور کبھی دنوں غاٸب رہتا تھا،
پھر بھی ٹاپ کرگیا تھا۔

البتہ ایک بات پر وہ شکر کرتی تھی کہ کبھی انکی براہ راست بات نہيں ہوٸی تھی۔
وہ سیمینار روم کے باہر ایسے ہوتا تھا جیسے اسے جانتا ہی نا ہو۔۔!!

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: