Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 24

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 24

–**–**–

دسمبر کا دوسرا ہفتہ چل رہا تھا۔ سردی کی شدت میں اچانک ہی اضافہ ہوگیا تھا۔ لاہور کا درجہ حرارت پانچ سے چار ڈگری پر چلا گیا تھا۔

حانم بستر میں دبکی بیٹھی تھی۔ باہر چلنے والی تیز ہوائیں اسے اندر رکے رہنے پر مجبور کر رہی تھیں کیونکہ اسے حد سے زیادہ ٹھنڈ لگتی تھی۔
وہ پوری طرح سے اپنے موبائل میں مگن تھی جب مہرو کی آواز پر چونکی۔

”ہانی چلو نا stc چلتے ہیں۔۔“
حانم کیلیے مہرو نے گویا دھماکہ کیا تھا۔ وہ ٹھنڈ سے مری جا رہی تھی اور مہرو کو stc جانے کی پڑی تھی۔

”نا بابا۔۔ بہت ٹھنڈ ہے۔۔“
حانم نے صاف انکار کیا تھا۔

”یار چلو نا۔۔ ڈیپارٹمنٹ سے آکر کمرے میں گھس جاتی ہو،ہم کہیں باہر بھی گھومنے نہيں جاتے۔۔“
مہرو منمناٸی تھی۔

”ابھی فرسٹ سمیسٹر ہے مہرو دو سال پڑے ہیں گھوم لیں گے، ویسے بھی کہہ تو ایسے رہی ہو جیسے تم نے لاہور نہيں دیکھا۔۔!!

”دیکھا ہے یار لیکن ہم دونوں تب ساتھ نہيں تھیں نا۔۔ اور میں اچھے سے جانتی ہوں یہ دوسال بھی ایسے ہی گزر جاٸیں گے تمہيں تو فرق نہيں پڑنے والا۔۔“

حانم کافی introvert قسم کی لڑکی تھی۔ اپنے کمرے میں رہنا، گوگل پر چیزیں سرچ کرنا اور کتابيں پڑھنا یہ اسکا اولین مشغلہ تھا، اسے باہر گھومنا پھرنا ایک حد تک اچھا لگتا تھا وہ ان چیزوں کیلیے پاگل نہيں تھی۔ نا وہ زیادہ سوشل تھی اس سے فرینڈز نہیں بنائے جاتے تھے اور اسکا ثبوت تھا کہ پوری سکول، کالج اور اب یونيورسٹی لاٸف میں اسکی کوٸی فرینڈ نہيں تھی سواٸے مہرو کے۔۔،
وہ اکثر حیران ہوتی تھی کہ مہرو اسکی دوست کیسے بن گٸی تھی۔۔؟؟ یہ شاید مہرو کی پیش قدمی تھی،
وہ اپنے آپ میں مگن رہنے والی لڑکی تھی اور لوگ اسے اکثر بورنگ کہتے تھے۔

”کل چلیں گے نا۔۔ اب تو شام ہوگٸی ہے ویسے بھی باہر بہت ٹھنڈ ہے۔“

”اوہ شٹ۔۔۔“
مہرو نے اپنے سر پر ہاتھ مارا تھا۔

”کیا ہوا۔۔؟؟“
حانم حیران ہوٸی۔

”یار آج آرجے کا انٹرویو تھا۔ میں بھول گٸی۔۔!!!
مہرو فوراً بستر کے اندر گھسی تھی اور لیپ ٹاپ اٹھا کر یوٹیوب آن کی تھی۔
وہ اسکا انٹرویو کیسے مس کر سکتی تھی۔ جبکہ حانم افسوس سے سر ہلا کر رہ گٸی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”کیسے ہیں آپ مسٹر آرجے۔۔۔“

”جیسا ہمیشہ سے تھا۔۔“
وہ مسکرایا تھا۔

”اور آپ ہمیشہ سے کیسے ہیں۔۔؟؟“
ایکنر نے دوبارہ پوچھا۔

”جیسے ابھی نظر آرہا ہوں۔۔“

”یعنی آپ بدلتے نہيں ایک سے رہتے ہیں۔۔؟؟“
اینکر نے تصدیق چاہی تھی۔

”جی آپ کہہ سکتی ہیں۔۔“
وہ پھر مسکرایا تھا۔

”آپ پر چیزیں، موسم اور خوبصورتی اثر نہيں کرتی کیا۔۔۔؟؟ موسموں کا بدلنا آپکی شخصیت پر کتنا اثر کرتا ہے۔۔؟؟“
سوال موجود تھا۔

”کچھ خاص نہيں، مجھے یہ سب چیزیں جلدی متاثر نہيں کر پاتیں۔۔!!

”کمال ہے۔۔ خیر یہ سب چھوڑیں اپنا حقيقی نام بتائيں مجھ سمیت یہاں بہت سے لوگ نہيں جانتے ہونگے کہ آرجے کا اصل نام کیا ہے۔۔؟؟“
اینکر نے پوچھا۔

”روحان جبیل۔۔،لیکن لوگ مجھے آرجے کے نام سے ہی جانتے ہیں۔۔“

”آپکی گرل فرینڈ آپکو کس نام سے بلاتی ہے۔۔؟؟

”میری گرل فرینڈز۔۔۔؟؟
اس نے گرل فرینڈز پر زور دیا تھا یعنی کوٸی ایک نہيں تھی،
”بریک اپ سے پہلے جان، بریک اپ کے بعد شیطان۔۔“
اس نے ڈھٹاٸی سے قہقہہ لگایا تھا۔

”اور آپکے پیرنٹس۔۔؟؟“

”آرجے تم ایک نمبر کے گدھے اور الو کے پٹھے ہو، تم سے زیادہ بےوقوف کوٸی نہيں۔۔۔“
سید جبیل کہ آواز اسکے کانوں سے ٹکراٸی تھی۔

”لگتا ہے وہ آپ سے کچھ زیادہ ہی پیار کرتے ہیں۔۔؟؟“
آرجے کو خاموش دیکھ کر اینکر نے پوچھا۔

”وہ کچھ ایکسٹرا ہی پیار کرتے ہیں۔۔“
آرجے بڑبڑایا تھا۔

”آپکو گانے کا شوق کب ہوا۔۔؟؟

”جب میں چھ سال کا تھا۔۔“

”آپکی آواز بہت اچھی ہے۔۔ جادو کرتی ہے۔۔ آپ پروفشنل اور آفیشل سنگر کیوں نہيں بن جاتے۔۔؟؟

”مجھے شوق نہيں۔۔“
سنجیدہ سا جواب آیا تھا۔

”تو پھر کس چیز کا شوق ہے آپکو۔۔؟؟

”گانے اور تیرنے کا۔۔“
لوگوں کو تنگ کرنا انکا جینا حرام کرنا، یہ سب کہنا وہ شاید بھول گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”یہ گدھا مجھ سے مار کھاٸے گا۔۔“
سید جبیل کی آواز پر مدیحہ ایک دم اچھلی تھی۔
وہ حویلی آٸی ہوٸی تھی، اور لاٶنج میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی جہاں آرجے کا شو چل رہا تھا۔

”ارے چھوٹے بابا ساٸیں آپ کب آٸے۔۔؟؟“
وہ ایک دم اپنی جگہ سے کھڑی ہوٸی تھی۔
سید حویلی میں مرد عورتوں کا اور عورتیں مردوں کا خاص احترام کرتی تھیں۔

بڑے بابا ساٸیں، چھوٹے بابا ساٸیں اور حشام آج تک مدیحہ کے کمرے میں نہيں گٸے تھے۔ کوٸی کام ہوتا تو پیغام بھیج کر بلا لیتے تھے۔
ایک آرجے تھا جو طوفانوں کی طرح آتا اور جاتا تھا، نا کسی کا ڈر نا لحاظ، سواٸے سید جبیل کے جن سے وہ خار کھاتا تھا۔

” یہ لڑکا نہيں سدھرنے والا۔۔ اللہ جانے اسکا کیا بنے گا۔۔؟؟ کرتا ہوں اس گدھے کو فون۔۔“۔
وہ افسوس کرتے جا چکے تھے جبکہ مدیحہ ایک بار پھر سر جھٹک کر انٹرویو کی طرف متوجہ ہوچکی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”سُنا ہے آپ بہت موڈی( moody)ہیں مسٹر آرجے۔۔؟؟“
خوبصورت اینکر نے اپنے سامنے شان سے براجمان آرجے سے پوچھا تھا۔
یہ Shining Stars چینل کا سیٹ تھا۔ جہاں پر زیادہ تر نٸی نٸی شہرت حاصل کرنے والے نوجوانوں کے انٹرویو ہوتے تھے۔
اینکر صنم پچھلے کٸی مہینوں سے آرجے کو انٹرویو کیلیۓ بلا رہی تھی جو مسلسل انکار کر رہاتھا۔
اسے شہرت کا زیادہ شوق نہيں تھا وہ یہ چیز پروفشنل سنگر بن کر بھی حاصل کر سکتا تھا۔
اچانک اس نے اب انٹرویو کیلیۓ ہاں کردی تھی۔

”نہيں۔۔۔ موڈی نہيں ہوں۔۔ لیکن میرے موڈ کا کوٸی بھروسہ نہيں ہوتا۔۔ میں بہت quick ریسپانس دیتاہوں ہر چیز کا۔۔ شاید اسی وجہ سے لوگوں کو ایسا محسوس ہوتا ہے۔۔!!“
وہ سنجیدہ سا بتا رہا تھا۔

”فرض کریں مسٹر آرجے کہ آپکو کسی سے محبت ہو جاتی ہے۔۔ کسی سے بھی۔۔ کیا ہو سکتی ہے۔۔؟؟“

”نو نیور۔۔۔،
لیکن میں ہزار محبتیں کر چکا ہوں۔۔“
وہ ہنسا تھا۔

”چلیں محبت نا چھوڑیں پسندیدگی ہی لگا لیں۔ کوٸی آپکو اچھا لگنے لگے اور پھر آپکو محسوس ہو کہ وہ ایک دھوکے باز شخص ہے، فرض کریں وہ آپکے دل کے بہت قریب ہوجاٸے، فرض کریں وہ آپکو چھوڑ جاٸے اور آپ اسکی یاد میں روٸیں کیسے لگا گا آپکو۔۔؟؟“
لڑکيوں کی فرماٸش پر جو آرجے کی مداح تھیں اینکر صنم اس سے محبت کے بارے میں بہت سوال کر رہی تھی۔

”ھاھاھا۔۔۔،
اینکر کی بات سن کر آرجے نے زوردار قہقہہ لگایا تھا، وہ ہنسا تھا اور پھر ہنستا چلا گیا تھا۔

”ویری انٹرسٹنگ۔۔
بہت دلچسپ ہوگا یہ سب۔۔ مجھے اچھا لگے گا اگر ایسا ہوا تو۔۔ انفیکٹ میں چاہوں گا اب ایسا ہو۔۔!!

وہ بےتحاشہ ہنس رہا تھا۔ اسکی آنکهيں چمک رہی تھیں۔ جن میں بہت زیادہ ہنسنے کے باعث اب نمی سی پھیل گٸی تھی۔
جس بات کے تصور سے ہی عام لوگ کانپ جاتے تھے کہ انہيں محبت میں دھوکا نا ملے، وہ اس بات پر قہقہے لگا رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ اسکے لیے یہ سب دلچسپ ہوگا۔
لوگ حیران و پریشان سے اسکا شو دیکھ رہے تھے۔۔وہ اپنی سوچ میں سلفاٸیٹ ہونے کا ثبوت دے رہا تھا، اینکر صنم جانتی تھی کہ آج کا یہ شو سپر ہٹ ہونے جا رہا تھا۔

”ہو ہی نا جاٸے اس ڈیش کو کہیں محبت۔۔“
مہرو نے فل والیوم میں اسکا انٹرویو لگایا ہوا تھا۔ آخری بات سن کر حانم بڑبڑاٸی تھی۔

”یار ہانی کچھ تو احترام کیا ہو جانتی ہو وہ سید ہے۔۔“
مہرو نے اسے ٹوکا تھا۔

”ہاں تو میں نے کب کوٸی گالی دی۔۔؟ میں تو بس ڈیش کہا ہے۔۔ اور جسے خود اپنے خاندان کا احساس نا ہو دوسروں سے توقع کیا رکھنی۔۔؟؟“
وہ بھی اپنے نام کی ایک تھی، مجال تو مان جاتی۔

”اللہ معاف کرنا، بس غلطی سے منہ سے نکل گیا۔۔ ورنہ آپ جانتے ہیں میں ہر انسان کی عزت کرتی ہوں۔۔“
وہ اب دل ہی دل میں اللہ سے معافی مانگ رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مکی اور آرجے سینٹرل پلازہ کے سامنے گاڑی میں بیٹھے تھے، مکی کی نظریں بار بار پلازہ کی طرف اٹھ رہی تھیں جہاں سے انکے دوست نے باہر آنا تھا۔ وہ اسی کا انتظار کر رہے تھے۔
دیکھتے ہی دیکھتے مکی اچانک چونکا تھا۔ اسے گاڑی سے کچھ فاصلے پر ایک پیزا ہٹ کی طرف جاتی ہوٸیں مہرو اور حانم نظر آٸی تھیں،

”یہ یہاں کیا کر رہی ہیں۔۔؟؟“
انتہا کی دھند پڑ رہی تھی، مہرو اور حانم دونوں گھٹنوں تک آتے کوٹ پہنے بالو لگ رہی تھیں لیکن پھر مکی انہيں پہچان گیا تھا۔

”یہ مہرو کبھی سکون سے نہيں بیٹھ سکتی۔۔“
مکی کی تیوری چڑھی تھی۔

”تم کس بات کی فکر ہو رہی ہے؟ تمہاری ہونے والی زوجہ ہے کیا مہرو۔۔؟؟“
آرجے نے اپنی ہی بات پر چھت پھاڑ قہقہہ لگایا تھا۔

”میرے ہونے والی زوجہ ہو یا نا ہو۔۔ لیکن تمہاری قانونی واٸف بھی اسی کے ساتھ ہے۔۔!!“
مکی نے تپ کر کہا تھا۔ اسکے اشارہ حانم کی طرف تھا۔
آرجے نے چہرہ اسکی جانب کرکے دیکھا تھا۔ وہ واقعی وہی دونوں تھی۔

”منہ بند رکھو مکی۔۔“
آرجے نے سنجیدہ سے لہجے میں کہا تھا۔ جب خود پر بات آتی تھی وہ سیریس سے ہوجاتا تھا۔

”ویسے میں حیران ہوں اچھی خاصی لڑکی ہے حانم ابھی تک یونيورسٹی میں یا باہر کوٸی بواٸے فرینڈ نہيں بنایا اس نے۔۔؟؟“
وہ پرسوچ سے لہجے میں کہہ رہا تھا۔

”کیوں تمہارا دل کررہا ہے کیا اسکا بواٸے فرینڈ بننے کو۔۔؟؟“
آرجے کے لہجے میں بلا کی کاٹ تھی۔

” نہيں، میری اتنی مجال کہ میں آرجے کی قانون واٸف کی طرف میلی آنکھ سے دیکھوں۔۔“
مکی کھسیانی ہنسی ہنسا تھا۔

”اچھی بات ہے۔۔ دوسو قدم دور رہنا چاہیے اُس سے۔“
آرجے کی بات پر مکی نے چونک کر اسے دیکھا تھا، اسے سمجھ نہيں آیا تھا کہ آرجے نے مذاق کیا تھا یا سچ میں وہ سنجیدہ تھا۔
اس سے پہلے وہ کچھ کہتا انکا دوست واپس آگیا تھا اور آرجے نے بنا کچھ پوچھے گاڑی آگے بڑھا دی تھی۔۔!!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس رات حانم کو نیند نہيں آرہی تھی، صبح انہيں یونيورسٹی سے دسمبر کی چھٹیاں ہونی تھیں۔
آرجے پچھلے دو ہفتوں سے یونيورسٹی نہيں آیا تھا۔ وہ اکثر سوچتی تھی کہ اتنی چھٹیاں کرنے کے باوجود بھی ڈیپارٹمنٹ والے اسے کچھ نہيں کہتے تھے،
اس دوران ایک سیمینار ہوا تھا جس میں آرجے نہيں تھا اور حانم کو اس میں مزہ نہيں آیا تھا۔
اسکے سوال دماغ کو ہلانے والے ہوتے تھے، وہ سوچنے پر مجبور کردیتا تھا جبکہ باقی سٹوڈنٹس اتنی گہرائی میں نہيں جاتے تھے۔
اس نے مہرو سے بھی نہيں پوچھا تھا کہ آرجے کیوں نہيں آتا؟ اگر وہ ایسا کرتی تو مہرو لازماً اسے تنگ کرتی۔۔،

وہ بور ہو رہی تھی اور پھر اس نے مہرو کا لیپ ٹاپ اٹھاکر اپنے سوالوں کا جواب ڈھونڈنے شروع کیے تھے۔

”روح کیا ہے۔۔۔؟؟“
اس نے ٹاٸپ کیا تھا، لیپ ٹاپ کی روشنی میں اسکی گرے آنکهيں جگمگ کر رہی تھیں۔

”روح اللہ کا امر ہے۔
“یسئلون عن الروح قل روح من امر ربی۔●
(القرآن)”
اگر روح کی ماہیت کو سمجھنا چاہتے ہیں تو ابھی تک سائنس اس قدر ترقی نہیں کر پائی کہ آخر روح ہے کیا ایک انسان ہی کو باقی جانداروں سے زیادہ شعور کیوں ہے ؟؟
اسکا جواب سائنس کے پاس ابھی تک نہیں ہے۔
لیکن منطقی طور پر اتنا جان لیا گیا ہے کہ روح ہی وہ امر ہے جسکی وجہ سے انسان اپنی اور اپنے ارد گرد ماحول کی بقا کی فکر میں سر گرداں رہتا ہے اسی روح کی بدولت وہ موت اقر بعد از موت کیا ہوتا ہے کے جواب کا بھی متلاشی ہے۔ اسکا جواب بھی سائنس کے پاس نہیں ہے کیونکہ سائنس کا دائرہ اختیار سے یہ موضوع باہر ہے۔
ایک بات زہن میں رکھ لیجئے کہ موت کا تعلق روح سے نہیں موت یا زندگی کا تعلق مادہ کی خاص ترکیبی بناوٹ سے ہے۔ جو ترقی کرکے ایک مائیکرو سے میکرو جاندار بن جاتا ہے۔
ممکن ہے فیوچر میں سائنس خود یونی سیلولر بنانے کے قابل ہو جائے اور موت پر بھی قابو پا لے لیکن یہ ناممکن کے قریب تر ہے۔
لیکن اس مادہ کو شعور دینا انسان کیلئے نا ممکن ہی رہے گا۔ وہ شعور جس سے انسان خود ایجادات کرنے کے قابل ہوا ہے۔۔۔!!

”یعنی روح شعور کا دوسرا نام ہے۔۔“
حانم نے زیرلب کہا تھا۔

کوانٹم فزکس کا روح سے کیا تعلق ہے؟

صرف مذہبی ہی نہیں بلکہ سائنس دان بھی موت سے قبل کے غیرمعمولی تجربے کو مطالعہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے کو فقط کوانٹم طبعیات کے ذریعے ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ جس کے بارے نیلز بوہر نے پیش گوئی کی تھی۔ نیلز بوہر کے مطابق ایک منبع سے متعلق ذرات کے درمیان ایک مضبوط ربط پایا جاتا ہے۔ تاہم آئن اسٹائن نے اسے ’بھوتیا رابطہ‘ قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔ اس نظریے کے مطابق دو مربوط ذرات یعنی ایک منبع سے الگ الگ کیے جانے والے ذرے آپس میں ایک تعلق قائم رکھتے ہیں اور ان کے درمیان یہ ربط کائناتی فاصلے کے باوجود بھی قائم و دائم رہتا ہے۔ کوانٹم طبیعات سے وابستہ سائنس دان اب اس نظریے کو مکمل طور پر تسلیم کرتے ہیں۔ اسی نظریے کو سامنے رکھ کر بعض محققین کہتے ہیں کہ جسم اور روح اسی طرز پر ایک منبع سے جڑے دو الگ الگ عناصر ہیں اور جسم سے روح دور ہو جانے کے باوجود ان کے بیچ ایک تعلق باقی رہ سکتا ہے۔ تاہم سائنسی طور پر ابھی اس مفروضے کا ثابت یا رد کیا جانا باقی ہے۔

”موت کیا ہے۔۔؟؟“

طبعی زندگی کا عمل عموماﹰ مختلف اعضاء کے ناکارہ ہونے، قلبی نظام کے تھم جانے، پھیپڑوں اور دماغ کے ناکارہ ہونے کی صورت میں رکتا ہے۔ طبی نکتہ ہائے نگاہ سے موت کی مختلف اقسام ہیں، ایک طرف تو ’کلینیکل موت‘ ہے، جس میں قلبی نظام رک جاتا ہے، جس کے نتیجے میں آکسیجن کی مختلف اعضاء تک ترسیل بند ہو جاتی ہے۔ کلینکل موت کو ٹالنے کے لیے منہ سے سانس دینے، یا مصنوعی سانس دینے اور سینے کو دبانے سے اسے ٹالنا ممکن ہو سکتا ہے۔

لیکن اگر دماغ ناکارہ ہو جائے، یعنی موت دماغی ہو، تو پھر اسے ٹالنا ممکن نہیں ہوتا۔ گو کے دماغ کی نچلی تہوں میں کچھ خلیات برین ڈیتھ کی صورت میں بھی زندہ ہو سکتے ہیں، مگر شعور جاتا رہا ہے۔ یہ بات تاہم اہم ہے کہ دماغی طور پر مرنے والوں کو بھی مصنوعی طریقے سے طویل عرصے تک زندہ رکھا جا سکتا ہے۔ دماغی طور پر مر چکی خواتین کو بچے کی پیدائش تک مصنوعی طور پر زندہ رکھنے کے واقعات ہمارے سامنے ہیں۔ دماغی طور پر مردہ ہو چکے بعض مریض بیرونی عوام پر ردعمل ظاہر کر سکتے ہیں، تاہم ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کی وجوہات ریڑھ کی ہڈی سے وابستہ ہو سکتی ہے اور اصل میں یہ درد یا بیرونی چھونے کا ردعمل نہیں ہوتے۔

ایک کرنٹ سا حانم کے پورے جسم میں دوڑ گیا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ موت اٹل ہے۔ اور ہر ذی روح کو اسکا ذائقہ چکھنا ہے۔ لیکن یہ سب پڑھ کر اسکا دل کانپ اٹھا تھا۔
ابھی تو اس نے کوٸی تحقيق نہيں کی بس سادے سا جواب ڈھونڈا اور اسے اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا تھا۔
انسان کے اندر صدیوں جینے کی چاہ صدیوں سے موجود ہے، لیکن موت پھر بھی اٹل ہے۔

وہ ان سوالات پر بہت تحقيق اور ریسرچ کرنا چاہتی تھی لیکن وہ اچھے طریقے سے جانتی تھی کہ موت،حیات اور روح کا علم اللہ کے علاوہ اور کسی کو نہيں معلوم۔

”موت کے وقت انسان کو کیا نظر آتا ہے۔۔؟؟“

موت کے قریب جا کر واپس آئے والے کئی لوگوں نے بتایا کہ انہیں ایک دلکش روشنی نظر آئی تھی۔ شاید موت اتنی بری یا خوفناک چیز نہیں ہے۔ مگر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ موت سے چند لمحے پہلے اکثر لوگ شدید تکلیف میں ہوتے ہیں۔ یہ تکلیف جانوروں میں نظر آتی ہے۔ مگر موت کے بعد کیا ہوتا ہے یہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا۔ ، دنیا سے جانے والوں کے ساتھ ہم رابطہ قائم نہیں کر سکتے۔ مگر کچھ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ دوسرے جہان کے کسی شخص سے انکا رابطہ ہوا ہے، جسے سائنس ماننے کو تیار نہیں۔ اس قرہء ارض پر موت ایک ضرورت ہے۔ یہ چھوٹا سا سیارہ جس کا ستر فیصد سمندر ہے انسانوں یا حیوانوں کی بہت بڑی تعداد کو سنبھال نہیں سکتی۔ اس لئے اس جہان میں موت ناگزیر ہے۔ میری ذاتی رائے میں موت اگلے جہاں تک پہنچنے کا ذریعہ ہے۔ اور اگلے جہاں میں ہم بہت بہتر اور بامقصد زندگی میں داخل ہونگے۔ بلکہ شاید ہم اس #نور کا حصہ بن جائینگے جس میں خوشیاں ہی خوشیاں ہونگی۔۔۔!!!

حانم نے ایک گہرہ سانس لیا تھا، کچھ ایسا تھا جسے دیکھ کر اسے سکون ہوا تھا،
کیا پتا وہ ایک اور جہاں ہو۔۔ جہاں واقعی ابدی خوشیاں ہوں۔۔،
کیا پتا وہ جہاں اس جہاں سے بہت خوبصورت ہو۔۔!!
اس نے اپنے دل کو تسلی دی تھی، اسکی آنکهيں اب بند ہونا شروع ہوگٸی تھیں۔
ان سب میں کوٸی لاجک نہيں تھا، لاجک اسے خود تلاش کرنا تھا،
وہ سونے کیلیے لیٹ گٸی تھی اور پھر کچھ دیر بعد وہ نیند کی وادی میں اتر گٸی تھی۔!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آرجے فٹ بال لیے گراؤنڈ میں پریکٹس کر رہا تھا۔ آج انکا فٹ بال میچ تھا جو ڈیپارٹمنٹ کی ہی مختلف ٹیمز کے درمیان تھا۔

اس نے سامنے دوسرے گراؤنڈ میں دھوپ میں بیٹھی حانم اور مہرو کو دیکھا تھا۔
وہ دونوں کسی بات پر ہنس رہی تھیں۔ پانچ منٹ بعد حانم کے پاس کلاس کا ایک لڑکا آیا تھا۔ آرجے اسے غور سے دیکھ رہا تھا۔ اسکے ذہن میں کل والی مکی کی بات گھوم رہی تھی۔

”ہیلو حانم کیسی ہو۔۔؟؟“
وہ اسکے بیٹھتے ہوٸے پوچھ رہا تھا۔
وہ دونوں چونکی تھیں۔

”جی الحَمْدُ ِلله میں ٹھیک ہوں۔۔“
وہ حیران سی بتا رہی تھی۔

” دراصل مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے۔۔“
اسے ہلتے لبوں کو دیکھ کرآرجے کا حرکت کرتا ہوا فٹ بال والاہاتھ رکا تھا۔
وہ اسکی Lipsing سے اسکی بات کو سمجھ رہا تھا۔

”تم بہت اچھا بولتی ہو، میں نے ہمیشہ تمہیں آرجے سے بحث کرتے دیکھا ہے، اور مجھے بہت اچھا لگتا ہے تمہيں سننا۔۔۔“
وہ صاف صاف بتا رہا تھا۔ حانم کے چہرے کا رنگ پھیکا پڑا تھا۔

”شکریہ۔۔“
وہ بس اتنا ہی کہہ پاٸی تھی۔

”کیا ہم اچھےدوست بن سکتے ہیں۔۔؟؟ میرا مطلب ہے صرف دوست، ویسے بھی ہم کلاس فیلوز ہیں۔۔“

اسکی بات کو سمجھ کر حانم اور آرجے دونوں کا دماغ گھوما تھا،
مہرو تو منہ کھولے اس شیراز کو دیکھ رہی تھی۔ اسے توقع نہيں تھی کہ وہ اسکے سامنے ہی بول دے گا۔

”ہم کلاس فیلو ہی بہتر ہیں مسٹر شیراز۔۔!!
اب کی بار حانم کا لہجہ سرد ہوا تھا۔

”آج چھٹیاں ہو جاٸیں گی میں چاہتا ہوں ہم نمبر ایکسچينج کرلیں۔۔ ویسے تو کلاس گروپ سے بھی میں لے سکتا تھا لیکن پھر میں نے سوچا شاید تمہيں برا لگے۔۔!!

حانم تو اسکی ڈھٹاٸی پر حیران رہ گٸی تھی۔

”مجھے آپ سے بات کرنے میں کوٸی دلچسپی نہيں ہے، اور پلیز آٸندہ میرے سامنے اس طرح کی باتیں کرنے سے پرہيز کیجیۓ گا۔۔!!
وہ ایک دم ہی بھڑک اٹھی تھی۔ اور بیگ اٹھا کر کھڑی ہوگٸی تھی۔
اس نے صرف دوستی کا کہا تھا کوٸی اور بات نہيں کی تھی۔ لیکن ناجانے کیوں حانم کا ردعمل بہت سخت تھا۔
یونيورسٹی میں ایسی دوستیاں کرنا عام سی بات ہوتی ہے۔ دوستی نا بھی ہو اپنے گروپ کے لڑکوں سے اچھی بول چال ہو جاتی ہے۔

”آپ پلیز بیٹھ جاٸیں، میں ایسے ہی پوچھ رہا تھا سوری اگر برا لگا ہو تو۔۔“
وہ اب معذرت کر رہا تھا۔ اور پھر کچھ سنے بنا ہی وہاں سے چلا گیا تھا۔
وہ دونوں نہيں جانتے تھے کہ وہ کسی کی نظروں کے حصار میں تھے۔

”یہ کیا ہو رہا تھا۔۔؟؟“
اسکے جانے کے بعد مہرو ایک دم چونکی تھی۔

”مجھے کیا پتا تمہیں نظر نہيں آیا کیا۔۔؟؟“
حانم غصے سے کہتی لاٸبریری کی طرف بڑھ گٸی تھی۔

آدھے گھنٹے بعد مہرو اسے کھینچ کر میچ دیکھنے لاٸی تھی۔
آرجے کی ٹیم اور ایک دوسری ٹیم کھیل رہی تھی۔ دوسری ٹیم میں وہ شیراز تھا۔

کھیل کھیل کے دوران آرجے نے شیراز کا نشانہ لے کر فٹ بال پوری قوت سے اسے دے مارا تھا۔
وہ دھڑام سے اوندھے منہ نیچے گرا تھا۔ حانم حیرت سے منہ کھولے کبھی آرجے تو کبھی اس شیراز کو دیکھ رہی تھی جو نیچے پڑا کراہ رہا تھا اور باقی لڑکے اسکی طرف لپکے تھے۔

حانم نے دیکھا تھا کہ آرجے نے جان بوجھ کر اسے فٹ بال مارا تھا۔
اس سے پہلے کوٸی کچھ سمجھتا یا آرجے کو کچھ کہتا وہ ہاتھ جھاڑتا ہوا گراؤنڈ سے باہر آیا تھا اور پھر ایک سرد کی نگاہ حانم پر ڈال کر یہ جا وہ جا۔۔!!
جبکہ حانم بت بنے اسے جاتا دیکھ رہی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: