Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 25

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 25

–**–**–

حانم کا دل ایک دم کانپ اٹھا تھا۔ آرجے کی سرد نگاہ جو وہ اس پر ڈال کر گیا تھا،حانم کو اسکی سمجھ نہيں آٸی تھی۔
شیراز زمین پر پڑا کراہ رہا تھا۔ فٹبال اسکے سینے پر لگا تھا۔
سٹوڈنٹس اسے اٹھا کر اندر لے گٸے تھے۔ حانم کے دل میں اچانک ہی آرجے کیلیۓ نفرت کی ایک لہر دوڑ گٸی تھی۔
اسے بہت غصہ آیا تھا۔ وہ کسی کو خوش نہيں دیکھ سکتا تھا یہ حانم سمجھ گٸی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”تم نے شیراز کو کیوں مارا آرجے۔۔۔؟؟“
وہ ٹیرس پر کھڑا تھا۔ ٹھنڈی ہوا میں ایک باریک سی ٹی شرٹ پہنے جب مکی اسکے پیچھے نمودار ہوا تھا۔
ہاتھ میں جلتے سگار کے وہ فرصت سے کش لگا رہا تھا البتہ اسکا ذہن کہیں اور پہنچا ہوا تھا۔

”میرا دل کر رہا تھا اس لیے۔۔!!

”کوٸی تو وجہ ہوگی نا مجھے پتا ہے تم بلاوجہ نہيں مارتے۔۔!!
مکی اب اسکے باٸیں طرف آکر کھڑا ہوگیا تھا۔

”وہ ام حانم کو تنگ کر رہا تھا۔۔“
آرجے بات پر مکی نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔

”تو۔۔؟؟“

”تو یہ کہ یہ اچھی بات نہيں ہے۔۔!!
آرجے کا لہجہ سخت تھا۔

”اووہ کم آن آرجے۔۔ یقین نہيں ہوتا یہ تم کہہ رہے ہو۔۔ کیا تم خود کبھی کسی لڑکی کے قریب نہيں گٸے۔۔؟؟

”میں نے لڑکيوں کی مرضی سے کیا ہے جو بھی کیا ہے۔۔ جبکہ وہ سراسر زبردستی دوست بننے کو کہہ رہا تھا اور آرجے کو زبردستی نہيں پسند۔۔!!

”ایسا تو ہر جگہ ہوتا ہے، تم کس کس کو ماروگے۔۔؟؟
مکی طنزیہ پوچھ رہا تھا۔

”جس جس پر غصہ آٸے گا۔۔!!
اسکا لہجہ اٹل تھا۔

”اوہ بھاٸی ہلاکو خان کی اولاد شرٹ پہن لے۔۔ ہر وقت لڑنے مرنے پر تلے رہتے ہو۔۔ کبھی ٹھنڈے دماغ سے بھی سوچ لیا کرو۔۔!!
ٹھنڈی ہوا مکی کی ہڈیوں میں گھسی جارہی تھی وہ آرجے کو تلقين کرتا اندر جاچکا تھا کیونکہ وہ اچھے سے جانتا تھا کہ آرجے ہمیشہ اپنی مرضی کرتا تھا۔
جبکہ آرجے ابھی بھی وہیں کھڑا تھا۔ اسکے چہرے پر سنجيدگی چھاٸی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”ہانی واک کرنے چلیں۔۔؟؟“
ماہم پوچھ رہی تھی۔ دسمبر کی چھٹیاں ہوچکی تھیں۔ حمدان انکل اسے ہاسٹل سے لے آٸے تھے۔ مہرو اپنے گھر جا چکی تھی۔
وہ جب سے گھر آٸی تھی، باہر نہيں نکلی تھی۔

”نہيں مجھے نہيں جانا۔۔“
حانم نے صاف انکار کیا تھا۔

”یار کیا مسٸلہ ہے کبھی بات مان بھی لیا کرو۔۔ سب ہی واک کرنے جاتے ہیں۔۔ شام کو اتنا اچھا نظارہ ہوتا ہے باہر۔۔
میں اور جواد بھی روزانہ جاتے ہیں آج تم بھی چلو نا۔۔!!
ماہم نے منت کی تھی۔

”یار مجھے کام ہے میں نہيں جا سکتی۔۔“
حانم جان گٸی تھی کہ آرجے اسی ٹاٶن میں دو گھر چھوڑ کر رہتا تھا۔ اور اسکی شدید خواہش تھی کہ اسے غلطی سے بھی یہ پتا نا چلے کہ وہ بھی وہیں رہتی تھی۔۔
اس لیے وہ باہر جانے سے گریز کرتی تھی۔

”مرو تم۔۔ یونہی اکیلے جل بھن کر اور سڑ سڑ کر مر جانا۔۔!!
ماہم پھاڑ کھانے والے انداز میں کہتی باہر نکل گٸی تھی جب اسکی بات پر حانم کا قہقہہ ابھرا تھا۔ وہ اسکے جانے کے بعد بھی کافی دیر تک ہنستی رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”جورڈن تم مسٹر جوزف کی کرسمس پارٹی میں چلو گے۔۔؟؟“
انتھنی نے پش اپس کرتے جورڈن سے پوچھا تھا۔ جب سے مارتھا کی موت ہوٸی تھی انتھنی اسے اپنے پاس لے آیا تھا۔

”نہيں۔۔“
جورڈن نے انکار کیا تھا۔

”مجھے لگتا ہے تمہيں جانا چاہیے۔۔ باہر نکلو گے تو دل کو سکون ملے گا۔۔!!!
انتھنی نے خیال ظاہر کیا تھا۔

”میں ادھر ہی ٹھیک ہوں۔۔“
جورڈن کا لہجہ برف سے بھی زیادہ سرد تھا۔

”ٹھیک ہے۔۔“
انتھنی نے کندھے اچکاٸے تھے۔

”ویسے میں نے سنا ہے کہ جوزف کی واٸف پاکستان سے ہے۔۔ اور اس کرسمس میں اسکی فیملی بھی آٸے گی۔۔!!
انتھنی نے صوفے پر بیٹھتے ہوٸے کہا تھا۔ وہ ترچھی نگاہوں سے جورڈن کو دیکھ رہا تھا۔

پاکستان کے نام پر جورڈن کے کان کھڑے ہوٸے تھے۔
حرکت کرتےاسکے جسم میں ایک دم ٹھہراٶ آیا تھا۔

”اچھی بات ہے۔۔!!
اس نے اتنا ہی جواب دیا تھا۔ انتھنی نے اپنا سر پیٹ لیا تھا۔
وہ جانتا تھا کہ جورڈن اپنی مرضی کرے گا۔
وہ اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا۔

آدھے گھنٹے بعد وہ تیار ہوکر باہر نکلا تھا۔ جورڈن اب لاٶنج میں صوفے پر بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا تھا۔

”یہ دعوتی کارڈ ہے۔۔ اگر تمہارا موڈ بدل جاٸےتو آجانا۔۔ اسکے بغیر اندر داخل نہيں ہونے دینگے۔۔!!
انتھنی میز پر کارڈ رکھتا باہر کی جانب بڑھ گیا تھا۔ جبکہ جورڈن نے اسکی بات پر توجہ نہيں دی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مسٹر جوزف کا گھر روشنیوں سجا تھا۔ مسٹر جوزف پیرس مشہور کسینو کا مالک تھا۔ اسی وجہ سے انتھنی اسے جانتا تھا۔

گھر کے باہر بڑے سے لان میں کرسمس ٹری بنایا گیاتھا۔ مہمان آنا شروع ہوگٸے تھے۔ کچھ دیر پہلے ہونے والی برف باری نے لان کو سفید بنا دیا تھا جس پر کی گٸی سجاوٹ نے اس جگہ کو پریوں کے دیس میں بدل دیا تھا۔

” یہ سب کتنا اچھا ہے نا۔۔ بالکل خواب جیسا۔۔!!
ماہی نے پاس بیٹھی ایلا سے کہا تھا۔ ایلا مسٹر جوزف کی بھتیجی تھی۔
اور وہ ہی ماہی کو اس پارٹی میں لاٸی تھی۔

”ہاں ہر سال ایسا ہی ہوتا ہے۔۔ اسی لیے میں تمہيں یہاں لاٸی ہوں۔۔!!
ایلا نے جواب دیا تھا۔ اس سے پہلے وہ مزید کچھ کہتی اسکی نظر گیٹ کی طرف سے آتے جورڈن پر پڑی تھی وہ اسے لمحوں میں پہچان گٸی تھی۔
بلیک ڈنر سوٹ پہنے وہ تھوڑا تہذیب یافتہ لگ رہا تھا ورنہ ایلا نے تو اسکا نام ہی جنگلی رکھ دیا تھا۔

”یہ یہاں کیا کر رہا ہے۔۔؟؟“
ایلا کی تیوری چڑھی۔

جورڈن اب مسٹر جوزف اور انتھنی کے پاس کھڑا تھا۔ مسٹر جوزف اسے کسی بات پر کندھا تھپتھپا کر داد دے رہا تھا۔

”کس کی بات کر رہی ہو۔۔؟؟“
ماہی نےاسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تھا۔ اسے بھی جورڈن نظر آگیا تھا۔

”وہی جنگلی۔۔“
ایلا نے چبا چبا کر کہا تھا۔

”چھوڑو یار۔۔ رات گٸی بات گٸی“
ماہی نے عام سے لہجے میں کہا تھا۔

”لیکن اسے یہاں کس نے بلایا ہے۔۔؟؟
ایلا سوچ رہی تھی۔

”اچھا کیا جورڈن تم آگٸے۔۔ میرے کسینو کو چلانے میں تمہارا بہت بڑا کردار ہے۔۔!!
مسٹر جوزف اکثر جورڈن کے قصے سنتا رہتا تھا۔ وہ بہت اچھا فاٸٹر تھا۔

”انجواٸے کرو۔۔“
مسٹر جوزف اپنا مشروب کا گلاس میں تھامے وہاں سے دوسرے مہمانوں کی طرف چلا گیا تھا۔

”ّمجھے پتا تھا تم آٶ گے۔۔“
انتھنی نے مسکراتے ہوٸے جورڈن کے کندھے پر ہٹ کیا تھا۔ جبکہ جورڈن کی نگاہیں وہاں موجود ہر شخص کے چہرے کا طواف کر رہی تھیں۔ وہ ان چہروں میں مشرقی چہروں کو تلاش کر رہا تھا کہ شاید کوٸی اسے اسکی منزل تک پہنچا دے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آدھی رات کا وقت تھا جب ایک جھٹکے سے حانم کی آنکھ کھلی تھی۔ آج کافی دنوں بعد اسے اپنا وہ خواب نظر آیا تھا جس میں اسے کوٸی آگ کے دریا میں دھکا دے دیتا ہے۔

اسکی سانسیں تیز تیز چل رہی تھیں۔ کچھ منٹ وہ خود پر قابو پاچکی تھی۔
میز پر رکھے پانی کے جگ سے اس نے پانی پیا تھا۔
اسے سردی میں بھی گھبراہٹ ہو رہی تھی۔
وہ بیڈ سے نیچے اتری اور پھر کمرے میں موجود کھڑکی کو کھول کر اس میں کھڑی ہوگٸی تھی۔
تازہ ہوا کے جھونکے نے اسے فریش کیا تھا۔
شور کی آواز پر اس نے داٸیں طرف مڑ کر دیکھا تھا۔
آرجے کے گھر کے لان میں اسے کافی لوگ نظر آٸے تھے۔
وہاں سے میوزک کی ہلکی آواز بھی آرہی تھی۔
اس نے گھر کے سامنے گاڑی کو رکتے اور پھر اس میں سے لڑکيوں کو اترتے دیکھا تھا جنکا لباس قابل اعتراض تھا۔
یقیناً وہاں کوٸی پارٹی چل رہی تھی۔ اور میوزک کافی تیز تھا جسکی مدھم آواز حانم تک پہنچ رہی تھی۔

وہ تصور کر سکتی تھی کہ اندر کیا ہو رہا ہوگا۔
غصےاور ناگواری کی ایک لہر اسکے پورے جسم میں دوڑ گٸی تھی۔
وہ اسے کچھ کہہ کر اپنی زبان گندی نہيں کرنا چاہتی تھی اسی لیے ٹھاہ کی آواز سے کھڑکی بند کر چکی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”ماہی ریڈی ہوجاٶ۔۔ تم نے کچھ سنانا ہے۔۔!!
ایلا ماہی سے کہتی اپنے انکل کی طرف بڑھ گٸی تھی۔

”ریڈی ہوجاٶں۔۔؟؟ لیکن کس چیز کیلیے ایلا۔؟؟“
ماہی نے حیرت سے اسے جاتے ہوٸے دیکھ کر پوچھا تھا۔ لیکن ایلا ان سنی کر گٸی تھی۔

دوتین منٹ مسٹر جوزف سے بات کرنے کے بعد وہ اب لوگوں کے ہجوم کے درمیان کھڑی ہوگٸی تھی۔

”لیڈیز اینڈ جینٹل مین۔۔“
ایلا نے خوشدلی سے سب کو متوجہ کیا تھا۔

”جیسے کہ آپ سب جانتے ہیں یہ رات ہمارے کیلیے بہت ہی خاص ہے، تو کیوں نا اس خاص موقع کو مزید خاص بنایا جاٸے۔۔؟؟“
وہ سوالیہ انداز میں پوچھ رہی تھی۔
لوگوں میں سرگوشیاں شروع ہوگٸی تھیں۔

”یہاں میری ایک پیاری سی دوست ہے جسے کبھی گانے کا بہت شوق ہوتا تھا۔۔“
ایلا نے گویا دھماکہ کیا تھا۔ ماہی پھٹی پھٹی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔

پچھلے سال اسے میوزک کا شوق چڑھا تھا اور اس نے میوزک سیکھا بھی تھا باقاعدہ کلاسز لے کر،
اسکے گھر میں پیانوں تھا وہ کبھی کبھی بجا لیتی تھی، ہزاروں بار بجانے پر وہ صرف ایک دوبار گنگناٸی تھی۔ ماہی کی آواز اچھی تھی۔
لیکن اب جو کام ایلا نے کیا تھا ماہی کا دل کر رہا تھا کہ وہ جا کر اس چڑیل کا منہ نوچ لے جو لوگوں کی تالیوں میں اپنی بتیسی کی نماٸش کی رہی تھی۔

”آجاٶ ماہی اور اپنی سریلی آواز سے جادو بکھیرو۔۔!!
ایلا نے ایک آنکھ بھینچتے ہوٸے شرارتی انداز میں کہا تھا۔
لوگ اب اسکی طرف دیکھ رہے تھے اور اپنی تالیوں سے اسے آنے کی دعوت دے رہے تھے۔

ماہی غصے سے اپنی جگہ سے کھڑی ہوٸی اور ایلا کی طرف بڑھی تھی۔

”یہ کیا بکواس ہے ایلا۔۔؟؟“
ماہی نےکاٹ کھانے والے انداز میں کہا تھا البتہ اسکی آواز دھیمی تھی۔

”تم کب سے رونے والا منہ بنا کر بیٹھی تھی میں نے سوچا کچھ نیا ہوجاٸے۔۔!!
وہ پھر مسکراٸی تھی جبکہ ماہی کو سمجھ نہيں آرہا تھا کہ کیا کرے۔

اچانک ساری لاٸٹس بند ہوگٸی تھیں۔ ایک سپاٹ لاٸٹ برف سے بنے قالین پر رکھے پیانو پر پڑی تھی جسکے ارد گرد رکھی مشعلیں کسی اور دنیا کا نظارہ پیش کر رہی تھیں۔
ماہی بےاختیار ہی اس پیانو کی طرف بڑھی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جورڈن کرسمس ہمیشہ اپنی ماں کے ساتھ مناتا تھا۔ اسے یاد تھا پچھلے سال بھی مارتھا بہت بیمار تھی لیکن پھر بھی اس نے جورڈن کےساتھ مل کر کرسمس Tree بنایا تھا اور پھر سینٹا والے کپڑے پہن کر اسے خوش کرنے کی کوشش کی تھی۔
وہ اب جوان ہوگیا تھا لیکن مارتھا اسے بچوں کی طرح ٹریٹ کرتی تھی۔

مارتھا کے یاد آتے ہی اسکی نم ہوٸی تھیں اور آس پاس کا سارا منظر دھندلا سا گیا تھا۔
جورڈن کا دل وہاں موجود ہر چیز سے اچاٹ ہوگیا تھا۔ اس نے بنا انتھنی کو بتانے واپسی کیلیے قدم بڑھا دیئے تھے جب اسکے کانوں نے ایک بھلی سی آواز سنی تھی۔
وہ پیانو کی آواز تھی،
ایک خوبصورت دھن،
کوٸی بجا رہا تھا۔۔
کوٸی دل سے بجا رہا تھا،
جورڈن کے قدم ساکت ہوٸے تھے اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تھا جہاں اسے لوگوں کا ہجوم ایک جگہ نظر آیا تھا۔
وہ بے اختیار کی دھن کی آواز کی طرف بڑھا تھا،
جسم کا روح سے،
کیوں لگے ہے فاصلہ۔۔

وہ ایک لڑکی کی آواز تھی۔ وہاں موجود لوگ گول داٸرے میں ۔ماہی کے ارد گرد کھڑے تھے۔ اس نے لوگوں کے پیچھے کھڑے ہوکر اسے دیکھنے کی کوشش کی تھی لیکن اسکی طرف ماہی کی پشت تھی۔

میں ہوں یا ہیں بس
میری یہ پرچھاٸیاں۔۔۔،
ہے بچھی بس زمین
راستے ہیں لاپتہ
لفظ ہوں میں ان کہا،
ہیں یہ سچاٸیاں۔۔،

وہ گول داٸرے میں چلتے ہوٸے اسکے سامنے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ وہ جو بھی بہت اچھا گا رہی تھی۔ اسکے سامنے پہچنے کے بعد جورڈن کے قدم ساکت ہوٸے تھے۔

میرے سینے کی خلا۔۔
جیسے جنموں کی بلا،
کیوں نا سانسوں سے مٹے
ہیں یہ تنہائیاں۔۔۔۔،

اسکی آواز میں انتہا کا درد تھا۔ وہی درد جو جورڈن کے سینے میں موجود تھا،
اسکی آواز میں اتنی ہی نمی گھلی تھی جتنی جورڈن کی آنکهوں میں رہتی تھی۔
وہ اس وقت جورڈن کو اپنا عکس معلوم ہوٸی تھی۔
زمین کو چھوتی میکسی پر بھورے رنگ کا کوٹ پہنے، بھورے بالوں کو کندھے ہر بکھراٸے، جورڈن کو اس وقت اس پر کسی اداس شہزادی کا گمان ہوا تھا۔

کوٸی اندھا سا کنواں،
میرے اندر ہے چھپا
مجھے ملتی ہی نہيں
میری گہرائیاں۔۔۔!!!!!

”میرا پیچھا چھوڑ دیں مس ماہین حمدان۔۔!!
حشام کی آواز اسکے کانوں سے ٹکراٸی تھی اور ماہی کے ہاتھ ایک دم ساکت ہوٸے تھے۔
لوگوں کا سکتہ ٹوٹا تھا۔ ماہی نے اپنی آنکھوں میں آٸی نمی کو ہاتھ بڑھا کر صاف کیا تھا۔

”تم نے کمال کردیا ماہی۔۔“
ایلا نے جھکتے ہوٸے اسکے گال کو چھوا تھا۔
جورڈن اسے پہنچان گیا تھا۔ وہ وہی لڑکی تھی جسے کچھ ماہ پہلے جورڈن کی وجہ سے چوٹ آٸی تھی۔

کرسمس کا کیک کاٹنے کے بعد کھانا لگایا گیا تھا۔
وہ جورڈن کی نظروں میں تھی۔ وہ انکے ساتھ والے ٹیبل پر بیٹھا تھا اور وہ ایسا کیوں کر رہا تھا یہ وہ بھی نہيں جانتا تھا۔

”کاش آج یہاں حشام جبیل ہوتا۔۔میں اسے دیکھ پاتی۔۔“
ماہی نے حسرت سے کہا تھا۔
جبیل کے نام پر جورڈن کے کان کھڑے ہوٸے تھے۔ اسکے چہرے کے زاویے ایک دم بدل گٸے تھے۔

اچانک ہی اسکی آنکهوں میں خون اتر آیا تھا۔ وہ جان بوجھ کر انکے قریب بیٹھا تھا کہ انکی باتیں سن سکے۔۔ لیکن اسے اندازہ نہيں تھا کہ وہ لڑکی جبیل کو جانتی تھی۔۔جسے وہ ختم کرنا چاہتا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حانم اور آرجے دونوں ایک بس اسٹیشن پر کھڑے تھے۔
ہر طرف بارش ہورہی تھی،طوفانی بارش، ان دونوں کے علاوہ اس اسٹیشن پر اور کوٸی نہيں تھا۔

ڈری سہمی سی حانم نا جانے کیوں آرجے کو غصہ دلا رہی تھی۔
وہ اسکی جانب بڑھا تھا۔ حانم سہم کر ایک قدم پیچھے ہوٸی تھی۔
وہ دونوں لوہے کی بنی اس چھت کے نیچے کھڑے تھے جہاں مسافروں کے انتظار کرنے کیلیے کرسیاں رکھی تھیں۔
لوہے کی چھت پر طوفانی بارش کے برسنے کی آواز کسی خوفناک چڑیل کے چیخنے جیسی تھی۔
جیسے جیسے وہ اسکی طرف بڑھ رہا تھا حانم پیچھے ہو رہی تھی۔
اب وہ کنارے پر پہنچ گٸی تھی۔ اگر وہ ایک قدم باہر نکالتی تو اسے بارش کا سامنا کرنا پڑتا۔

آرجے نے اسکی آنکهوں میں دیکھا تھا۔ جہاں ڈر تھا اور التجا تھی کہ مجھے بخش دو۔۔
لیکن وہ بخشنے والوں میں سے نہيں تھا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر حانم کو دھکا دیا تھا۔ وہ باہر سڑک پر گری تھی۔
اچانک پانی کا رنگ سرخ ہوا تھا اور بارش خونی بارش میں بدل گٸی تھی۔
حانم کی چیخیں بلند ہوٸی تھیں۔ دیکھتے دیکھتے بارش اب آگ کا روپ دھار گٸی تھی۔ جو اسے بری طرح سے جھلسا رہی تھی۔
حانم نے دل دہلا دینے والی چیخ ماری تھی۔

اور آرجے ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا تھا۔
کتنے ہی پل وہ شاکڈ بیٹھا رہا تھا۔ اسکے دل کی دھڑکن بہت تیز چل رہی تھی۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر چہرے پر آیا پسینہ صاف کیا تھا۔ ۔اگر وہ خواب تھا تو اس نے اپنی پوری زندگی میں اتنا برا خواب نہيں دیکھا تھا۔

وہ لوگ صبح پانچ بجے سوٸے تھے۔ ساری رات تیز میوزک میں بےہنگم ڈانس کرتے تھک چکے تھے۔ صبح فجر کی اذان کے وقت میوزک بند ہوا تھا۔
اپنے کمرے سے باہر نکلنے کے بعد وہ اب نیچے آیا تھا۔ پورا لاٶنج بکھرا تھا۔ کانچ کی بوتلیں، کین کے ڈبے، کھانے پینے کی چیزیں ہر جگہ پڑی نظر آرہی تھیں۔
آرجے کا دماغ گھوما تھا۔ وہ ابھی ایک گھنٹہ پہلے سویا تھا۔
ابھی چھ بجے رہے تھے۔ لیکن راتیں لمبی ہونے کی وجہ سے باہر اندھیرا تھا۔
اسکے کچھ دوست رات کو ہی جا چکے تھے جبکہ کچھ گیسٹ روم میں سوٸے پڑے تھے۔

لاٶنج میں ایک صاف ستھرا صوفہ دیکھنے کے بعد وہ اس پر بیٹھ گیا تھا۔ خواب نے اسے بری طرح ڈرا دیا تھا۔
نیند تھی کہ اس پر غلبہ پا رہی تھی اور پھر وہ کچھ دیر بعد گہری نیند سوچکا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چھٹیاں کیسے گزریں تھیں پتا ہی نہيں چلا تھا۔
وہ اکتیس دسمبر کا دن تھا۔ مہرو صبح سے اسے فون کر رہی تھی۔
مہرو اور حانم کی کلاس میں ایک لڑکی اور لڑکے سے اچھی بول چال ہوگٸی تھی۔ انفیکٹ لڑکی تو اب انہيں اپنی فرینڈز ہی کہتی تھی۔ جس کا نام اقصی تھا۔

”ہانی مان جاٶ نا پلیز دیکھو اقصی مجھے روزانہ فون کال کرتی ہے وہ چھوٹی سی نیو ایٸر پارٹی دے رہی ہے۔ ہم چلتے ہیں نا۔۔“
مہرو اسکی منتیں کر رہی تھی۔

”مہرو میرا رات کے فنکشن اٹینڈ کرنے کو دل نہيں کرتا یہ تم بھی جانتی ہو۔۔۔ اور پھر نیو ایٸر۔۔ بارہ بجے تک۔۔۔
حانم سوچ بھی نہيں سکتی تھی۔

”میرا نہيں تو اقصی کا ہی دل رکھ لو۔۔وہ اسپیشل ہمارے لیے یہ سب کر رہی ہے۔۔ ہمیں جانا چاہیۓ۔۔!!!
مہرو چاہتی تھی کہ وہ کسی طرح مان جاٸے۔

”میں اتنی رات گٸے تک باہر نہيں رہ سکتی امی پریشان ہونگی“

”آنٹی سے میں بات کر لونگی بس تم ہاں کرو۔ ہم نو دس بجے تک واپس آجاٸیں گے۔۔!!

”ٹھیک ہے۔۔۔!!
حانم نے ایک گہرہ سانس لیا تھا۔ وہ جانتی کہ مہرو اسے منا کر ہی دم لے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اقصی کا گھر گلبرگ میں تھا۔ وہ دونوں سات بجے کے قریب اسکے گھر پہنچ گٸی تھیں۔
مہرو کا ڈرائيور انہيں چھوڑ گیا تھا اور اس نے ہی لینے آنا تھا۔

اقصی نے خوشدلی سے انکا استقبال کیا تھا۔ اسکے گھر میں اسکی بہن،امی اور ملازموں کے علاوہ اور کوٸی مرد نہيں تھا۔
حانم کویہ دیکھ کر تھوڑا اطمينان ہوا تھا۔
کلاس کی کچھ اور لڑکياں اور اقصی کی کزنز بھی تھیں۔ ان سب نے مل کر باربی کیو کیا تھا۔
غرض کہ فنکشن اچھا جا رہا تھا۔

آرجے آٸے گا نا۔۔؟؟“
اقصی کی ایک کزن نے دھیرے سے اسکے کان میں پوچھا تھا۔

”اللہ کرے آجاٸے۔۔ بہت منتیں کی تھیں مکی کہ کسی طرح وہ اسے لے آٸے۔۔
وہ کہہ رہا تھا کہ آرجے آج تک اپنے رشتےداروں کے گھر بھی نہيں گیا اسکا آنا ناممکن ہے۔۔!!
اقصی کا لہجہ افسردہ تھا۔

”تو تم کہہ دیتی کہ ہم باہر کر لیں گے فنکشن۔۔“

”میں نے کہا تھا۔۔۔ اب دیکھو“

”یہ وہی لڑکی ہے نا جسکی آرجے سے نہيں بنتی۔۔؟؟
اقصی کی کزن نے سنہری بالوں والی لڑکی طرف اشارہ کیا تھا۔ جسکے بال کمر پر بکھرے پڑے تھے۔ جن میں نیچے سے کرل ڈالے گٸے تھے۔

”ہاں یہ ام حانم ہے، ویسے تو بہت اچھی ہے لیکن آرجے کو کافی ناپسند کرتی ہے۔۔!!

”ہممم۔۔ اسے دیکھ کر لگتا بھی ہے۔۔!!

حانم مہرو کے ساتھ باربی کیو کرنے میں مگن تھی۔ وہ کافی انجواٸے کر رہی تھی۔
انہوں نے لان میں ڈیرا ڈالا ہوا تھا۔

اچانک کافی شور ابھرا تھا۔ باہر کا گیٹ کھلا تھا اور پھر اندر کافی سارے لڑکے آٸے تھے۔
حانم کا رنگ تو لڑکوں کو دیکھ کر پھیکا پڑا تھا۔ مہرو نے اسے کہا تھا کہ وہاں کوٸی لڑکا نہيں ہوگا۔۔ اور اب۔۔۔

حانم نے ایک شکایتی نظر مہرو پر ڈالی جو نظریں چرا گٸی تھی۔ ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ مہرو نے حانم سے جھوٹ بولا تھا اور دھوکا دیا تھا۔

حانم اپنا ڈوپٹہ سر پر ڈالتے ہوٸے اندر کی جانب بڑھ گٸی تھی۔
حانم کا دل دکھا تھا اسے مہرو سے اس درجہ بےوقوفی کی امید نہيں تھی۔
وہ اچھے سے جانتی تھی جس فنکشن میں لڑکےہوتے تھے وہاں حانم کو ان کمفرٹیبل محسوس ہوتا تھا۔
وہ سیدھا اقصی کے کمرے میں آٸی تھی۔ اس نے سب سے پہلے گھر فون کیا تھا۔

”امی رحیم انکل کو مجھے لینے بھیج دیں ماہم کو ایڈریس پتا ہے۔“

”میں نے اسے پندہ منٹ پہلے ہی بھیج دیا تھا۔ میرا اپنا دل بیٹھا جا رہا تھا۔“
حانم نے سکون کا سانس لیا تھا۔

بالوں کو اچھے طریقے سے باندھنے کے بعد اب وہ اپنے ڈوپٹے سے حجاب کرنے میں مصروف تھی۔
جب اسے یقین ہوگیا کہ اب ڈوپٹہ نہيں ہلنے والا اس نے اپنا کوٹ اٹھاکر پہنا تھا۔ جو یہاں آنے کے بعد اتار دیا تھا۔
جیسے ہی وہ دروازے کی طرف بڑھی دروازے میں کھڑے انسان کو دیکھ کر دھک سے رہ گٸی تھی۔
آرجے دروازے میں کھڑا بتیسی نکالے اسے دیکھ رہا تھا۔
حانم کا اسے اپنے سامنے دیکھ کر سر چکرا گیا تھا۔ اسکے فرشتوں نے بھی نہيں سوچا تھا کہ وہ یہاں آٸے گا۔

وہ خود پر قابو پاتے ہوٸے آگے بڑھی تھی۔

”راستہ دو۔۔“
حانم نے لہجے کو سخت بنانے کی کوشش کی تھی۔ البتہ اسکا نازک سا دل کانپ رہا تھا۔

”اگر نہيں دیا تو۔۔؟؟“
وہ پوچھ رہا تھا۔
یہ پہلی مرتبہ تھا جو وہ دونوں اس طرح ذاتی طور پر آمنے سامنے آٸے تھے۔ نہيں تو اکثر سیمینار روم میں ہی ملتے تھے۔

” یہ تمہارے باپ کا گھر نہيں ہے سمجھ آٸی۔ شرافت سے راستہ چھوڑو میرا۔۔“
اسکی بات پر آرجے کا قہقہہ بلند ہوا تھا۔

”شرافت نام کی چیز مجھے چھو کر نہيں گزری۔۔میں بس یہاں پر کچھ چیک کرنے آیا تھا۔“
وہ پراسرار سے لہجے میں کہتا اسکی طرف بڑھا تھا۔
حانم ایک دم اچھلی تھی لیکن وہ اپنی جگہ سے نہيں ہلی تھی۔

”میں نے سنا ہے مس ام حانم۔۔
وہ اسکی طرف جھک کر بہکہ بہکہ سا کہہ رہا تھا۔
اس سے پہلے وہ اپنی بات پوری کرتا حانم کا ہاتھ اٹھا تھا۔ اور آرجے دنگ رہ گیا تھا۔

”اپنی بکواس بند رکھو، تم ہو ہی گھٹیا۔۔“
وہ اسکے منہ پر تھپڑ مارنے کے بعد اب وہاں سے بھاگ گٸی تھی۔

”میں نے سنا ہے کہ مس ام حانم باقی لڑکیوں سے بہت الگ ہے، وہ دوسروں کی طرح آرجے کی خوش آمد نہيں کرتی، میں نے سنا ہے وہ واحد لڑکی ہے جو آرجے کو دل سے ناپسند کرتی ہے۔۔

”اور میں نے بالکل ٹھیک سنا ہے مس ام حانم۔۔ تم واقعی الگ ہو۔۔!!
وہ قہقہہ لگا کر ہنسا تھا۔ اسکی آنکهوں کی چمک بڑھ گٸی تھی۔
اسے یہاں آنے میں کوٸی دلچسپی نہيں تھی وہ یہاں جس کام کیلیۓ آیا تھا وہ پورا ہو چکا تھا۔
وہ اپنے گال پر ہاتھ رکھے اسے سہلا رہا تھا۔ البتہ ہونٹوں پر مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔
زندگی میں ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ کسی نے آرجے پر ہاتھ اٹھایا تھا اور بدلے میں اسے غصہ نہيں آیا تھا بلکہ وہ مسکرا رہا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: