Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 26

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 26

–**–**–

اور میں نے بالکل ٹھیک سنا ہے مس ام حانم۔۔ تم واقعی الگ ہو۔۔!!
وہ قہقہہ لگا کر ہنسا تھا۔ اسکی آنکهوں کی چمک بڑھ گٸی تھی۔
اسے یہاں آنے میں کوٸی دلچسپی نہيں تھی وہ یہاں جس کام کیلیے آیا تھا وہ پورا ہو چکا تھا۔
وہ اپنے گال پر ہاتھ رکھے اسے سہلا رہا تھا۔ البتہ ہونٹوں پر مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔
زندگی میں ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ کسی نے آرجے پر ہاتھ اٹھایا تھا اور بدلے اسے غصہ نہيں آیا تھا بلکہ وہ مسکرا رہا تھا۔

حانم لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ باہر آٸی تھی۔ اسکا دل ابھی تک کانپ رہا تھا۔ اسے امید نہيں تھی کہ آرجے یوں اکیلے میں اسکے قریب آنے کی جرات کرے گا۔

”ہانی میری بات سنو۔۔“
مہرو اسکے پیچھے لپکی تھی۔ لیکن وہ ان سنی کرتے ہوٸے گیٹ کی طرف بڑھ گٸی تھی۔

”ہانی رک جاٶ۔۔پلیز“
وہ اسکی منتیں کر رہی تھی لیکن حانم کو لگا تھا کہ اگر وہ رکی تو کچھ غلط کردے گی۔ اپنے ساتھ یا مہرو کے ساتھ۔

”ہانی۔۔

”میرے پیچھے مت آٶ۔۔!!!
وہ ایک دم رکتے ہوٸے چیخی تھی۔ حانم کا چہرے غصے کو ضبط کرنے کی وجہ سے سرخ ہو چکا تھا۔
مہرو کے چودہ طبق روشن ہوٸے تھے اسے اندازہ نہيں تھا کہ حانم اتنا غصہ کرے گی۔
اسکے اس طرح چلانے پر مہرو کے قدم رک گٸے تھے۔ اور حانم خاموشی سے گیٹ پار کر گٸی تھی۔
مہرو کو اب افسوس نے گھیر لیا تھا۔
اسے محسوس ہوا رہا تھا کہ اس نے کتنی بڑی غلطی کردی تھی۔

حانم کے جانے کے بعد مہرو بھی گھر چلی گٸی تھی۔ اسکے بعد آرجے اور باقی لڑکے،لڑکياں بھی نیا سال منانے کیلیے باہر جا چکے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حانم گھر آنے کے بعد خوب روٸی تھی۔ اسے احساس ہو رہا تھا کہ اگر اسکے تھپڑ مارنے پر آرجے اسے سزا دیتا تو۔؟؟
اگر وہ مستقبل میں اسکے مارے گٸے تھپڑ کو معاف نا کرے تو۔۔؟؟
اسے اپنا سر پھٹتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ بالآخر رات کے آخری پہر رونے کے بعد، سر میں ہونے والے درد کی وجہ میڈیسن لے کر وہ مشکل سے ہی سوگٸی تھی۔

یونيورسٹی پانچ جنوری کو اوپن ہونی تھی۔مہرو نے اسے سینکڑوں مرتبہ فون کیا تھا لیکن حانم نے بات نہيں کی تھی۔ وہ اسے شدید ناراض تھی۔
تھک ہار کر مہرو نے بھی فون اور میسجز کرنے بند کر دیٸے تھے۔ اب وہ اسے یونيورسٹی میں ہی منانے والی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھٹیاں کب ختم ہوٸیں کچھ پتا ہی نہيں چلا تھا۔
چار جنوری کی شام کو ڈرائيور نے حانم کو ہاسٹل چھوڑا تھا۔ مہرو بھی کچھ دیر پہلے ہی آٸی تھی۔

کمرے میں داخل ہونے پر حانم نے مہرو کو دیکھ کر سرسری سا سلام کیا تھا۔
اسکا غصہ کافی حد تک ٹھنڈا ہوا چکا تھا۔
مہرو اسے غور سے دیکھ رہی تھی جو سنجیدہ سی اپنے کپڑے الماری میں رکھ رہی تھی۔

”ہانی۔۔“
مہرو نے اسے پکارہ تھا۔ اسے حانم کی خاموشی سے وحشت ہو رہی تھی۔

”بولو۔۔“
حانم کا لہجہ سرد تھا۔ جبکہ مہرو کو سمجھ نہيں آرہا تھا کہ کیسے بات کرے؟ کیسے معافی مانگے۔۔؟؟

”ناراض ہو۔۔؟؟“
مہرو نے ڈرتے ڈرتے پوچھا تھا۔ اسکا چہرہ مرجھایا ہوا تھا۔

”نہيں۔۔ ناراض کیوں ہونگی میں تم سے۔۔؟؟“
وہی روح کو چیرتا سرد پن۔

”یار پلیز غصہ کرو نا مجھ پر۔۔چیخو چلاٶ برا بھلا کہو مجھے لیکن یوں نظرانداز مت کرو۔۔!!
مہرو کا لہجہ آخر میں نم ہوگیا تھا۔
حانم اب موبائل چارج پر لگارہی تھی۔ ایک پل کیلیے اسکے ہاتھ ساکت ہوٸے تھے۔
مہرو اچھے سے جانتی تھی کہ حانم برا بھلا نہيں کہتی تھی وہ بس خاموشی کی موت مارتی تھی۔

”دیکھو اقصی نے کہا تھا اسکی کزنز آرجے سے ملنا چاہتی ہیں۔۔ اگر آرجے آگیا تو اسکی ویلیو بڑھ جاٸے گی اسکی کزنز کے نزدیک،
اور آرجے کا اسکے بلانے پر آنا نامکمن تھا۔ اسی لیے اس نے تمہيں بلایا،
کیونکہ وہ جانتی تھی آرجے اور تم ایک دوسرے کو ناپسند کرتے ہیں، اگر تم آٶ گی تو تمہارا موڈ خراب کرنے وہ ضرور آٸے گا۔۔!!
مہرو نے ڈرتے ڈرتے سچائی بتائی تھی۔

”میں کوٸی سیڑھی نہيں ہوں مہرو جسکے ذریعے لڑکياں آرجے تک پہنچنا چاہتی ہیں۔۔میں ایک انسان ہوں اور مجھے دھوکے سے شدید نفرت ہے۔۔!!
بالآخر وہ بول پڑی تھی۔ حانم کی آواز رندھ گٸی تھی۔ سب نے مل کر اسے آرجے کیلیے دھوکا دیا تھا اور یہ بات اسے دکھ پہنچا رہی تھی۔

”معاف کردو پلیز آٸندہ ایسا نہيں ہوگا۔۔ میں قسم اٹھاتی ہوں آٸندہ کبھی ایسا کچھ نہيں کرونگی۔۔!!
مہرو روتے ہوٸے اسکے گلے لگ گٸی تھی اور اس سے زیادہ تو حانم بھی اس سے ناراض نہيں رہ سکتی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حانم نے سیمینار ہال میں جانا چھوڑ دیا تھا۔ جہاں اسے آرجے کی موجودگی محسوس ہوتی وہ اس جگہ سے سو قدم کے فاصلے پر رہتی تھی۔
انکا اب تک دوبارہ آمنا سامنا نہيں ہوا تھا۔ شاید وہ خود بھی حانم کو نظرانداز کر رہا تھا۔
حانم اسے سمجھ نہيں پاٸی تھی، عجیب شخص تھا کام کرنے کے بعد ایسے ہوجاتا تھا جیسے وہ کام اس شخص نے نہيں کسی بلکہ اور نے کیا ہو۔۔
اور جب سامنے آتا یا بولتا تھا تو محسوس ہوتا تھا کہ وہ کچھ نہيں بھولتا۔۔!!
لیکن وہ شکر ادا کر رہی تھی کہ تھپڑ کے بدلے میں آرجے کی طرف سے اب تک کوٸی پیش قدمی نہيں ہوٸی تھی۔
حانم نے یہ بات بھی مہرو کو نہيں بتائی تھی کہ اس نے آرجے کو تھپڑ مارا تھا۔۔ یقیناً یہ سن کر مہرو کو اٹیک ہوجانا تھا۔
وہ چاہتی تھی کہ وقت جیسا گزر رہا تھا۔۔ اسے گزرنے دیا جاٸے۔۔
وہ کوٸی تماشہ نہيں چاہتی تھی۔ لیکن وہ یہ نہيں جانتی تھی کہ خاموشی سے بہتی زندگی کی پرسکون ندی میں ایک ایسا پتھر گرنے والا تھا جو اسکی زندگی کے بہاٶ کا رخ ایک پل میں پلٹ دے گا۔۔!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ان کے فاٸنل پیپر شروع ہونے والے تھے۔ حانم اور مہرو ڈیپارٹمنٹ کے لان میں دھوپ میں بیٹھی پریکٹیکلز کی نوٹ بکس تیار کر رہی تھیں۔
کچھ ہی دیر لکھنے کے بعد مہرو بور ہوگٸی تھی۔

”ہانی اچھا یہ بتاٶ تمہيں اپنی زندگی میں کیسا لڑکا چاہیے۔ مطلب لاٸف پارٹنر۔۔؟؟“
مہرو نے اچانک ہی کاپی کو ایک طرف رکھ کر اشتیاق سے حانم سے پوچھا تھا۔

”کبھی سوچا نہيں۔۔“
حانم نے موبائل سے کچھ دیکھ کر کاپی پر لکھتے ہوٸے جواب دیا تھا۔

”پھر بھی یار۔۔۔ کچھ تو، کچھ تو ایسا ہوگا نا جسکی تمہيں خواہش ہو، جو تمہيں لگے کہ میرے ہسبنڈ میں یہ بات ہونی چاہیۓ۔۔؟؟“
مہرو بضد تھی۔

”ہممم۔۔۔ میں چاہتی ہوں کہ میرا لاٸف پارٹنر ایک سکالر ہو، ایک اسلامک سکالر۔۔!!!
حانم نے کچھ دیر بعد سوچتے ہوٸے جواب دیا تھا۔
وہ شاید دنیا کی پہلی لڑکی نے جس نے اپنے جیون ساتھی کے بارے میں ایسی خواہش کی تھی۔
مہرو اسکی بات پر ہونک بنی اسے دیکھ رہی تھی۔
اور پھر اسکا قہقہہ بلند ہوا تھا۔
وہ اب پاگلوں کی طرح ہنس رہی تھی۔

حانم نے مہرو کے اس طرح کے ردعمل پر خشمگیں نگاہوں سے اسے گھورا تھا۔

”تم۔۔ یعنی تم چاہتی ہو کہ تمہارا شوہر ایک مولوی ہو۔۔؟؟“
مہرو ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہی تھی۔

”جی نہيں۔۔ میں نے مولوی نہيں کہا۔۔!!
حانم نے خفگی سے کہا تھا۔

”تو پھر سکالر کون ہوتا ہے۔۔؟؟
مہرو کو اپنی دوست پر حیرانگی ہو رہی تھی۔

”ایک ایسا شخص جسکے پاس بہت سا علم ہو، ایک ایسا شخص جسکے پاس لوگ اپنی الجھنیں لے کر آتے ہوں۔۔ ایک ایسا شخص جو لوگوں کے دل پھیر دینے کی صلاحيت رکھتا ہو۔۔ بیشک ہدایت دینا اللہ کا کام ہے لیکن اس میں کچھ ایسا ہو جس سے لوگ متاثر ہو جاٸیں۔۔ وہ جو اسلام کا ایک غلط تصور لوگوں میں ذہن میں ہے، وہ شخص اس غلط تصور کو ختم کرنے کی صلاحيت رکھتا ہو۔۔!!!
یہ سب کہتے ہوٸے حانم کی آنکهيں چمک رہی تھیں۔

”نا ممکن۔۔۔!!“
مہرو نے نفی میں سر ہلایا تھا۔

”کیوں نا ممکن کیوں۔۔؟؟“

”کیا تم نے کبھی ایسا انسان دیکھا ہے ہانی جو ایک میوٹنٹ(Mutant ) ہو۔۔۔؟؟ یعنی جسکے کروموسومز میں جینیٹکلی میوٹیشنز آٸی ہوں اور میوٹیشنز اس شخص کیلیے فائدہ مند ثابت ہوٸی ہوں۔۔؟؟“

”میوٹنٹ دیکھا ہے لیکن فائدے مند نہيں۔۔۔“
حانم نے دماغ پر زور دیتے ہوٸے جواب دیا تھا۔ اس نے ہمیشہ ایسے میوٹنٹس دیکھے تھے جو میوٹیشنز ( تبدیليوں) کی وجہ سے ابنارمل ہوتے تھے۔
انکے پرانے محلے میں بھی ایسے بچے تھے جو ٹھیک سے بول نہيں پاتے تھے، کچھ چل نہيں سکتے تھے، بڑا سا سر ہوتا تھا اور کمزور ہاتھ پاٶں۔۔ کچھ ایسے بھی تھے جو روتے تھے ایسا لگتا تھا جیسے بلی رو رہی ہو۔۔ یہ سب میوٹیشنز سے ہونے والی بیماریوں کی علامات تھیں۔
لیکن اسے کبھی کوٸی مثبت میوٹنٹ نہيں ملا تھا۔ جو نارمل سے بھی غیر معمولی ہو۔

”تو پھر تمہاری یہ خواہش بھی کچھ ایسی ہی ہے۔۔ مجھے نہيں لگتا تمہيں کوٸی ایسا انسان ملے گا۔۔
مجھے تو سینکڑوں مولوی نظر آتے ہیں جو فرقہ واریت پر بات کرتے ہیں۔۔ دین پر نہيں۔۔!!
مہرو نے ایک کڑوی سچائی بیان کی تھی۔آج کے دور میں زیادہ تر ایسا ہی ہو رہا تھا۔

”اچھا چلو یہ سب چھوڑو۔۔ یہ بتاٶ کہ وہ تمہارے لیۓ کیا کرے؟ کچھ خاص۔۔ جو تمہيں اچھا لگے۔۔ جو تمہاری خواہش ہو۔۔؟؟“
آج مہرو اس سے جانے کیا کیا اگلوانے والی تھی۔

”اگر ثواب اور گناہ کے داٸرے سے باہر نکل کر خواہش کی جاٸے تو میں چاہتی ہوں کہ وہ خوبصورت برستی بارش میں میرے لیے کچھ گنگناٸے۔۔ صرف میرے لیے۔۔!!
حانم کے چہرے پر ساتوں رنگ جھلمل کر رہے تھے۔

”یعنی تم چاہتی ہو کہ تمہيں آرجے ملے۔۔؟؟“
مہرو کا پھر سے قہقہہ بلند ہوا تھا۔ وہ آج حانم کی عجیب و غریب خواہشات سن کر پاگل ہو رہی تھی۔

”لا حولہ ولا قوت۔۔۔ أَسْتَغْفِرُ اللّٰه، أَسْتَغْفِرُ اللّٰه، أَسْتَغْفِرُ اللّٰه،“
مہرو کی بات پر حانم نے ایسے رد عمل کا اظہار کیا تھا جیسے آرجے کوٸی انسان نہيں بلکہ شیطان ہو۔
اب وہ کھا جانے والی نظروں سے مہرو کو گھور رہی تھی جو ہمیشہ آرجے کا نام لے کر اسکا موڈ خراب کرتی تھی۔

”اچھا یار سوری اب نہيں ہنستی۔۔“
مہرو نے معذرت کی تھی۔ اس نے کافی دنوں بعد حانم کے سامنے آرجے کا ذکر کیا تھا۔

”ویسے آرجے کو New Hair cut بہت سوٹ کر رہا ہے۔۔!!
مہرو نے مکی کے ساتھ ڈیپارٹمنٹ سے باہر جاتے آرجے کو دیکھ کر کہا تھا۔ وہ دو دن بعد ڈیپارٹمنٹ آیا تھا اور فوراً ہی مکی اسے بلانے آگیا تھا۔
اسکے بال گھنے تھے۔ جو گردن کو چھوتے تھے۔۔لیکن اب پیچھے سے کٹ چکے تھے اور جیل لگا کر سر پر موجود بالوں کو کھڑا کیا گیا تھا۔

”اس میں سوٹ کرنے والا کیا ہے۔۔؟ ایسے لگتا ہے جیسے بالوں کا ایک ٹوکرا سا سر پر رکھ دیا ہو۔۔ ہونہہ“
حانم نے ناک سے مکھی اڑانے والے انداز میں کہا تھا۔

”واہ واہ۔۔ اسکے اتنے اچھے ہیٸر اسٹاٸل کو تم نے ٹوکرے کا نام دے دیا ہے۔۔۔“
مہرو کا قہقہہ بلند ہوا تھا۔
”ویسے یہ ٹوکرا کس زبان کا لفظ ہے۔۔؟؟“

”مجھے خود نہيں پتا۔۔“
حانم نے دونوں ہاتهوں کو منہ پر رکھتے ہوٸے جواب دیا تھا جیسے کچھ غلط کہہ دیا ہو۔ اور پھر دونوں کی ہنسی فضا میں بکھر گٸی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”کیا تم ایک نٸی کاميابی کیلیۓ تیار ہو۔۔؟؟“
حشام پرجوش سا پوچھ رہا تھا۔
آج آرجے کی Convocation تھی۔ اسے ایم بی اے ڈگری ملنے والی تھی۔ اور ساتھ گولڈ میڈل بھی۔۔
اس نے اس بار بھی ٹاپ کیا تھا۔ حشام اسکی کاميابی کو لے کر بہت خوش تھا۔

”میں ہمیشہ تیار رہتا ہوں شامو کاکا۔۔!!
آرجے نے جواب دیا تھا۔

”گھر میں سب بہت خوش ہونگے۔۔ بی جان، مدیحہ، بڑے اور چھوٹے بابا ساٸیں۔۔!!

”ڈیڈ کا تو تم رہنے ہی دو۔۔
انکے نزدیک تو میں گدھا ہی ہوں۔۔ اب گدھا چارہ کھاٸے یا سونا۔۔ انہيں فرق نہيں پڑنے والا۔۔!!
آرجے نے خفگی سے کہا تھا۔

“ھاھا۔۔ واہ آرجے کیا لاجک نکالا ہے۔۔ویسے تم مان گٸے آخر کہ تم ایک گدھے ہو۔۔“

”شامو کاکا۔۔“
وہ احتجاجاً چلایا تھا۔

”چھوٹے بابا ساٸیں کے نزدیک۔۔!!
حشام نے بات پوری کی تھی۔ وہ ہنس دیا تھا۔ وہ خوش تھا آرجے کی کاميابی پر، لیکن آرجے۔۔؟؟
وہ ان سب چیزوں کا عادی تھا۔ اسے کیا فرق پڑنے والا تھا۔۔۔؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”تو یہ تھیں میوٹیشن سے ہونے والی بیماریوں کی اقسام۔۔ اب ہم انکی تفصيل پڑھیں گے۔۔!!
پروفیسر نے پروجيکٹر پر کچھ پواٸنٹس کی طرف اشارہ کرتے ہوٸے کہا تھا۔
جینیٹک ایوولوشن پر انکی کلاس ہو رہی تھی کہ کیسے وقت کے ساتھ ساتھ کروموسوز اور جین میں تبدیلياں آٸیں۔۔
اور اب کیوں ان تبدیليوں کی وجہ سے بیماریاں زیادہ ہوگٸی تھیں۔

”ارتقا ٕ کہتا کہ پہلے ایک سیل تھا پھر ڈبل ہوٸے اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ بندروں سے انسان وجود میں آٸے۔۔ یہ ارتقا ٕ کا نظریہ ہے۔۔
لیکن ہمیں اسلام کچھ اور بتاتا ہے کہ ہم سب حضرت آدم علیہ اسلام کی اولاد ہیں۔۔!!
پروفيسر لیکچر دے رہے تھے۔

”اس سے پہلے کہ ہم آگے چلیں میں آپ لوگوں ایک دلچسپ بات بتانا چاہتا ہوں جسے سن کر یقیناً آپ لوگ حیران ہونگے۔۔!!
کچھ یاد آنے پر پروفيسر ابراہیم کی آنکهيں چمکی تھیں۔

حانم ایکٹو ہو کر بیٹھ گٸی تھی۔ پروفيسر ابراہیم اکثر انہيں دلچسپ معلومات سے نوازتے رہتے تھے۔

”امریکی ایکولوجسٹ ڈاکٹر ایلس سِلور کی تہلکہ خیز ریسرچ،
انہوں نے اپنی اس ریسرچ میں کہا ہے کہ ”انسان زمینی مخلوق نہیں ھے:
انکی اس ریسرچ کی بنیاد پر ارتقاء (Evolution) کے نظریات کا جنازہ اٹھ گیا ہے،
ارتقائی سائنسدان لا جواب ہوچکے ہیں،

”انسان زمین کا ایلین ہے ایسا وہ کہتے ہیں۔۔!!“

انکی باتيں سن کر حانم چونکی تھی۔

ڈاکٹر ایلیس سِلور(Ellis Silver)نے اپنی کتاب (Humans are not from Earth) میں تہلکہ خیز دعویٰ کیا ہے کہ انسان اس سیارے زمین کا اصل رہائشی نہیں ہے بلکہ اسے کسی دوسرے سیارے پر تخلیق کیا گیا اور کسی وجہ سے اس کے اصل سیارے سے اس کے موجودہ رہائشی سیارے زمین پر پھینک دیا گیا۔

پروفيسر ابراہیم نے دلچسپی سے بتانا شروع کیا تھا۔

ڈاکٹر ایلیس جو کہ ایک سائنسدان محقق مصنف اور امریکہ کا نامور ایکالوجسٹ(Ecologist)ھے اس کی کتاب میں اس کے الفاظ پر غور کیجئیے۔ ذہن میں رہے کہ یہ الفاظ ایک سائنسدان کے ہیں جو کسی مذہب پر یقین نہیں رکھتا۔

اس کا کہنا ھے کہ انسان جس ماحول میں پہلی بار تخلیق کیا گیا اور جہاں یہ رہتا رہا ہے وہ سیارہ ، وہ جگہ اس قدر آرام دہ پرسکون اور مناسب ماحول والی تھی جسے وی آئی پی کہا جا سکتا ھے وہاں پر انسان بہت ہی نرم و نازک ماحول میں رہتا تھا اس کی نازک مزاجی اور آرام پرست طبیعت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے اپنی روٹی روزی کے لئے کچھ بھی تردد نہیں کرنا پڑتا تھا ، یہ کوئی بہت ہی لاڈلی مخلوق تھی جسے اتنی لگژری لائف میسر تھی ۔ ۔ وہ ماحول ایسا تھا جہاں سردی اور گرمی کی بجائے بہار جیسا موسم رھتا تھا اور وہاں پر سورج جیسے خطرناک ستارے کی تیز دھوپ اور الٹراوائلیٹ شعاعیں بالکل نہیں تھیں جو اس کی برداشت سے باھر اور تکلیف دہ ہوتی ہیں۔

”کیا واقعی ایسا تھا۔۔؟؟“
حانم نے سوال کیا تھا۔

”بالکل۔۔ ہو سکتا ہے۔۔ اب آگے سنیں۔۔!!

تب اس مخلوق انسان سے کوئی غلطی ہوئی ۔۔

اس کو کسی غلطی کی وجہ سے اس آرام دہ اور عیاشی کے ماحول سے نکال کر پھینک دیا گیا تھا ۔جس نے انسان کو اس سیارے سے نکالا لگتا ہے وہ کوئی انتہائی طاقتور ہستی تھی جس کے کنٹرول میں سیاروں ستاروں کا نظام بھی تھا ۔۔۔ وہ جسے چاہتا ، جس سیارے پر چاہتا ، سزا یا جزا کے طور پر کسی کو بھجوا سکتا تھا۔ وہ مخلوقات کو پیدا کرنے پر بھی قادر تھا۔

ڈاکٹر سلور کا کہنا ہے کہ ممکن ہے زمین کسی ایسی جگہ کی مانند تھی جسے جیل قرار دیا جاسکتا ھے ۔ یہاں پر صرف مجرموں کو سزا کے طور پر بھیجا جاتا ہو۔ کیونکہ زمین کی شکل۔۔ کالا پانی جیل کی طرح ہے ۔۔۔ خشکی کے ایک ایسے ٹکڑے کی شکل جس کے چاروں طرف سمندر ہی سمندر ھے ، وہاں انسان کو بھیج دیا گیا۔

ڈاکٹر سلور ایک سائنٹسٹ ہے جو صرف مشاہدات کے نتائج حاصل کرنے بعد رائے قائم کرتا ہے ۔ اس کی کتاب میں سائنسی دلائل کا ایک انبار ہے جن سے انکار ممکن نہیں۔
اس کے دلائل کی بڑی بنیاد جن پوائنٹس پر ھے ان میں سے چند ایک ثابت شدہ یہ ہیں۔۔

”کیا میں ان پوائنٹس کو بیان کروں۔۔؟؟“
آرجے نے پروفیسر کی بات کاٹی تھی۔ سب نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔ پروفيسر کو حیرت ہورہی تھی کہ واقعی وہ لڑکا اس ریسرچ کو جانتا تھا۔۔ اگر جانتا تھا تو پھر بھی۔۔

نمبر ایک، زمین کی کش ثقل اور جہاں سے انسان آیا ہے اس جگہ کی کشش ثقل میں بہت زیادہ فرق ہے ۔ جس سیارے سے انسان آیا ہے وہاں کی کشش ثقل زمین سے بہت کم تھی ، جس کی وجہ سے انسان کے لئے چلنا پھرنا بوجھ اٹھا وغیرہ بہت آسان تھا۔ انسانوں کے اندر کمر درد کی شکایت زیادہ گریوٹی کی وجہ سے ہے ۔

نمبر دو ؛انسان میں جتنے دائمی امراض پائے جاتے ہیں وہ باقی کسی ایک بھی مخلوق میں نہیں جو زمین پر بس رہی ہے ۔ ڈاکٹر ایلیس لکھتا ہے کہ آپ اس روئے زمین پر ایک بھی ایسا انسان دکھا دیجیٸے جسے کوئی ایک بھی بیماری نہ ہو تو میں اپنے دعوے سے دستبردار ہوسکتا ہوں جبکہ میں آپ کو ہر جانور کے بارے میں بتا سکتا ہوں کہ وہ وقتی اور عارضی بیماریوں کو چھوڑ کر کسی ایک بھی مرض میں ایک بھی جانور گرفتار نہیں ہے ۔

نمبر تین ؛ ایک بھی انسان زیادہ دیر تک دھوپ میں بیٹھنا برداشت نہیں کر سکتا بلکہ کچھ ہی دیر بعد اس کو چکر آنے لگتے ہیں اور سن سٹروک کا شکار ہوسکتا ہے جبکہ جانوروں میں ایسا کوئی ایشو نہیں ھے مہینوں دھوپ میں رہنے کے باوجود جانور نہ تو کسی جلدی بیماری کا شکار ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی اور طرح کے مرض میں مبتلا ہوتے ہیں جس کا تعلق سورج کی تیز شعاعوں یا دھوپ سے ہو۔

”حانم آنکهيں پھاڑے اسے سن رہی تھیں۔۔ جیسے آرجے بول رہا تھا۔۔ حانم کا دل تیز تیز دھڑک رہا تھا۔۔ اسکے ذہن میں کچھ گردش کرنے لگا تھا۔

نمبر چار ؛ ہر انسان یہی محسوس کرتا ہے اور ہر وقت اسے احساس رہتا ہے کہ اس کا گھر اس سیارے پر نہیں۔ کبھی کبھی اس پر بلاوجہ ایسی اداسی طاری ہوجاتی ہے جیسی کسی پردیس میں رہنے والے پر ہوتی ہے چاہے وہ بیشک اپنے گھر میں اپنے قریبی خونی رشتے داروں کے پاس ہی کیوں نا بیٹھا ہوں۔

نمبر پانچ، زمین پر رہنے والی تمام مخلوقات کا ٹمپریچر آٹومیٹک طریقے سے ہر سیکنڈ بعد ریگولیٹ ہوتا رہتا ہے یعنی اگر سخت اور تیز دھوپ ھے تو ان کے جسم کا درجہ حرارت خود کار طریقے سے ریگولیٹ ہو جائے گا، جبکہ اسی وقت اگر بادل آ جاتے ہیں تو ان کے جسم کا ٹمپریچر سائے کے مطابق ہو جائے گا جبکہ انسان کا ایسا کوئی سسٹم نہیں بلکہ انسان بدلتے موسم اور ماحول کے ساتھ بیمار ہونے لگ جائے گا۔ موسمی بخار کا لفظ صرف انسانوں میں ہے۔

نمبر چھ ؛انسان اس سیارے پر پائے جانے والے دوسرے جانداروں سے بہت مختلف ہے ۔ اسکا ڈی این اے اور جینز کی تعداد اس سیارہ زمین پہ جانے والے دوسرے جانداروں سے بہت مختلف اور بہت زیادہ ہے۔

نمبر سات: زمین کے اصل رہائشی (جانوروں) کو اپنی غذا حاصل کرنا اور اسے کھانا مشکل نہیں، وہ ہر غذا ڈائریکٹ کھاتے ہیں، جبکہ انسان کو اپنی غذا کے چند لقمے حاصل کرنے کیلیئے ہزاروں جتن کرنا پڑتے ہیں، پہلے چیزوں کو پکا کر نرم کرنا پڑتا ھے پھر اس کے معدہ اور جسم کے مطابق وہ غذا استعمال کے قابل ھوتی ھے، اس سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ انسان زمین کا رہنے والا نہیں ھے ۔ جب یہ اپنے اصل سیارے پر تھا تو وہاں اسے کھانا پکانے کا جھنجٹ نہیں اٹھانا پڑتا تھا بلکہ ہر چیز کو ڈائریکٹ غذا کیلیئے استعمال کرتا تھا۔
مزید یہ اکیلا دو پاؤں پر چلنے والا ہے جو اس کے یہاں پر ایلین ھونے کی نشانی ھے۔

نمبر آٹھ: انسان کو زمین پر رہنے کیلیے بہت نرم و گداز بستر کی ضرورت ھوتی ھے جبکہ زمین کے اصل باسیوں یعنی جانوروں کو اس طرح نرم بستر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ اس چیز کی علامت ھے کہ انسان کے اصل سیارے پر سونے اور آرام کرنے کی جگہ انتہائی نرم و نازک تھی جو اس کے جسم کی نازکی کے مطابق تھی ۔

نمبر نو: انسان زمین کے سب باسیوں سے بالکل الگ ہے لہذا یہ یہاں پر کسی بھی جانور (بندر یا چمپینزی وغیرہ) کی ارتقائی شکل نہیں ھے بلکہ اسے کسی اور سیارے سے زمین پر کوئی اور مخلوق لا کر پھینک گئی ھے ۔

انسان کو جس اصل سیارے پر تخلیق کیا گیا تھا وہاں زمین جیسا گندا ماحول نہیں تھا، اس کی نرم و نازک جلد جو زمین کے سورج کی دھوپ میں جھلس کر سیاہ ہوجاتی ہے اس کے پیدائشی سیارے کے مطابق بالکل مناسب بنائی گئی تھی ۔ یہ اتنا نازک مزاج تھا کہ زمین پر آنے کے بعد بھی اپنی نازک مزاجی کے مطابق ماحول پیدا کرنے کی کوششوں میں رھتا ھے۔جس طرح اسے اپنے سیارے پر آرام دہ اور پرتعیش بستر پر سونے کی عادت تھی وہ زمین پر آنے کے بعد بھی اسی کے لئے اب بھی کوشش کرتا ھے کہ زیادہ سے زیادہ آرام دہ زندگی گزار سکوں۔ جیسے خوبصورت قیمتی اور مضبوط محلات مکانات اسے وہاں اس کے ماں باپ کو میسر تھے وہ اب بھی انہی جیسے بنانے کی کوشش کرتا ہے ۔ جبکہ باقی سب جانور اور مخلوقات اس سے بے نیاز ہیں۔ یہاں زمین کی مخلوقات عقل سے عاری اور تھرڈ کلاس زندگی کی عادی ہیں جن کو نہ اچھا سوچنے کی توفیق ہے نہ اچھا رہنے کی اور نہ ہی امن سکون سے رہنے کی۔ انسان ان مخلوقات کو دیکھ دیکھ کر خونخوار ہوگیا۔ جبکہ اس کی اصلیت محبت فنون لطیفہ اور امن و سکون کی زندگی تھی ۔۔یہ ایک ایسا قیدی ہے جسے سزا کے طور پر تھرڈ کلاس سیارے پر بھیج دیا گیا تاکہ اپنی سزا کا دورانیہ گزار کر واپس آ جائے ۔ڈاکٹر ایلیس کا کہنا ہے کہ انسان کی عقل و شعور اور ترقی سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ایلین کے والدین کو اپنے سیارے سے زمین پر آئے ہوئے کچھ زیادہ وقت نہیں گزرا ، ابھی کچھ ہزار سال ہی گزرے ہیں یہ ابھی اپنی زندگی کو اپنے پرانے سیارے کی طرح لگژری بنانے کے لئے بھرپور کوشش کر رہاہے ، کبھی گاڑیاں ایجاد کرتا ہے ، کبھی موبائل فون اگر اسے آئے ہوئے چند لاکھ بھی گزرے ہوتے تو یہ جو آج ایجادات نظر آ رہی ہیں یہ ہزاروں سال پہلے وجود میں آ چکی ہوتیں ، کیونکہ میں اور تم اتنے گئے گزرے نہیں کہ لاکھوں سال تک جانوروں کی طرح بیچارگی اور ترس کی زندگی گزارتے رہتے۔

”ایسا ہی ہے نا پروفیسر ابراہیم؟؟“
آرجے نے تصدیق چاہی تھی۔ پروفيسر نے حیرانگی سے سرہلا دیا تھا۔
اسے ہر چیز ازبر ہوتی تھی۔

”آپکا اس بارے میں کیا خیال ہے۔۔۔؟؟“
وہ پوچھ رہا تھا۔

”ڈاکٹر ایلیس سِلور کی کتاب میں اس حوالے سے بہت کچھ ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس کے دلائل کو ابھی تک کوئی جھوٹا نہیں ثابت کر سکا۔۔

پروفيسر نے بولنا شروع کیا۔

”میں اس کے سائنسی دلائل اور مفروضوں پر غور کر رہا تھا۔۔ یہ کہانی ایک سائنسدان بیان کر رہا ھے یہ کوئی کہانی نہیں بلکہ حقیقی داستان ہے جسے انسانوں کی ہر الہامی کتاب میں بالکل اسی طرح بیان کیا گیا ہے۔ میں اس پر اس لئے تفصیل نہیں لکھوں گا کیونکہ آپ سبھی اپنے باپ آدم ؑ اور حوا ؑ کے قصے کو اچھی طرح جانتے ہیں۔۔ سائنس اللہ کی طرف چل پڑی ہے ۔۔ سائنسدان وہ سب کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں جو انبیاء کرام اپنی نسلوں کو بتاتے رہے تھے ۔ میں نے نسل انسانی پر لکھنا شروع کیا تھا۔ اب اس تحریر کے بعد میں اس سلسلے کو بہتر انداز میں آگے بڑھا سکوں گا۔۔

ارتقاء کے نظریات کا جنازہ اٹھ چکا ہے ۔۔ اب انسانوں کی سوچ کی سمت درست ہو رہی ہے ۔۔ یہ سیارہ ہمارا نہیں ہے ۔یہ میں نہیں کہتا بلکہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیشمار بار بتا دیا تھا۔ اللہ پاک نے اپنی عظیم کتاب قران حکیم میں بھی بار بار لاتعداد مرتبہ یہی بتا دیا کہ اے انسانوں یہ دنیا کی زندگی تمہاری آزمائش کی جگہ ہے ۔ جہاں سے تم کو تمہارے اعمال کے مطابق سزا و جزا ملے گی۔“

”معاف کیجیۓ گا سر لیکن جس ساٸنسدان نے یہ مفروضہ پیش کیا ہے وہ ایک مصنف بھی ہے، اور مصنف خیالوں کی دنیا میں زیادہ رہتے ہیں۔۔
آرجے نے پروفيسر کی بات کاٹی تھی۔

”آپ نے کہا اسکے مشاہدات کو غلط ثابت نہيں کیا جا سکتا۔۔ لیکن کوٸی بھی ساٸنسدان ایلس سلور سے متفق نہيں ہے۔
پواٸنٹ نمبر پانچ میں اس نے کہا ہے کہ جانوروں کو موسمی بخار نہيں ہوتا۔۔ جبکہ یہ غلط ہے۔ موسمی بیماریوں کے اکثر جانوروں کو انجیکشن لگتے ہیں۔۔
اسلام کا تھوڑا اثر ہوگیا ہوگا اس پر اسی لیۓ اس نے یہ سب لکھ دیا۔۔ ورنہ جو نتیجہ آپ نے نکالا ہے ایسا کچھ نہيں ہے۔۔!!!
آرجے کا لہجہ تمسخرانہ تھا۔

”پروفيسر خاموش ہوگٸے تھے۔

“تو ساٸنس کہاں تک سو فیصد درست ہے مسٹر آرجے۔۔؟؟
ساٸنس کہتی ہے کہ میوٹیشن سے ہونے والی تبدیليوں سے جو بیماریاں پیدا ہوتی ہیں خاص طور پر Trisomy( جس میں ایک کروموسوم اضافی ہوتا ہے) میں جاندار کو فاٸدہ ہوتا ہے جبکہ میں نے ایسا کوٸی انسان نہيں دیکھا جو ایک میوٹنٹ ہو۔۔ جسے میوٹیشن کی وجہ سے کوٸی خاصیت ملی ہو۔۔ اس بارے میں کیا کہیں گے آپ۔۔؟؟

حانم کی بات سن کر آرجے مسکرایا تھا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ بہت محفوظ ہوا تھا اسکی بات سن کر۔۔

”آپکے پاس کیا ثبوت ہے کہ ایسا کوٸی میوٹنٹ موجود نہيں ہے۔؟؟“
الٹا سوال آیا تھا۔

”کہاں ہے۔۔؟؟ اگر ہے تو بتائيں۔۔؟؟“
حانم بضد تھی۔

”مثال آپکے سامنے ہے مس ام حانم میں ایک trisomic ہوں۔۔۔“
آرجے نے گویا دھماکہ کیا تھا۔

”عموماً اسے لوگ بچپن میں ہی مرجاتے ہیں انکے جینے کے چانسز بہت کم ہوتے ہیں۔۔۔ لیکن یہ کنڈیشن میرے لیے فائدہ مند ثابت ہوٸی ہے۔۔
میرے پاس scanning eyes ہیں۔۔ میرا دماغ بہت تیزی سے کام کرتا ہے، میں HIV کو resist کرسکتا ہوں یعنی مجھے کبھی ایڈز نہيں ہوسکتا۔۔!!
حانم پھٹی پھٹی آنکهوں سے آرجے کو دیکھ رہی تھی۔
وہ بچپن میں ہالی ووڈ موویز بہت دیکھا کرتی تھی۔ خاص طور پر X-Men جس میں میوٹنٹس ہوتے ہیں اور ان میوٹنٹس کے پاس کوٸی نا کوٸی خاصیت ہوتی ہے۔

آج وہ حقیقت میں ایک میوٹنٹ کو دیکھ رہی تھی۔ وہ واقعی سکین کرنے والی آنکهيں اور دماغ رکھتا تھا۔۔!!
حانم سمیت وہاں موجود ہر انسان دنگ رہ گیا تھا۔

اس نے غیر معمولی چیزوں کا سنا تھا۔۔ آج حقیقت میں ایک ایسے انسان کو دیکھا تو حالت عجیب ہو رہی تھی۔

وہ شخص شاید جانتا نہيں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کتنی بڑی نعمت سے نوازا تھا۔

”اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاٶ گے۔؟؟“
اور سامنے کھڑا شخص جھٹلاتا تھا۔ہر ایک نعمت جو اسے دی گٸی تھی وہ صرف اسے اپنا حق سمجھ کر استعمال کرتا تھا۔

”مسٹر آرجے یہ سب جاننے کے باوجود بھی آپ خدا پر یقین نہيں رکھتے۔۔؟؟“
وہ بلااختیار ہی پوچھ گٸی تھی۔

”اس میں خدا کو ماننے والی کیا بات ہے۔۔؟؟
یہ ایک بیماری ہے بس میری قسمت کہ یہ بیماری میرےلیے فائدے مند ثابت ہوٸی۔۔!!
وہ عام سے لہجے میں کہہ رہا تھا۔

”اوراگر یہ بیماری واقعی آپکے لیے عذاب بن جاتی تو۔۔؟؟

”نہيں بنی نا۔۔ اور میں کسی چیز کو فرض نہيں کرتا کہ ایسا ہوگا۔۔ یا ایسا ہوتا۔۔ تو، ایسا ہوا ہی نہيں۔
خیر کلاس کا وقت ختم ہو چکا ہے۔۔ پھر ملاقات ہوگی پروفيسر۔۔ گڈ باٸے۔۔!!
وہ کلاس سے باہر چلا گیا تھا۔

حانم خاموشی سے اسے جاتا دیکھ رہی تھی جبکہ اسکے ذہن میں صبح تلاوت کی گٸی آیت گونج گٸی تھی۔

صُمّم بُکْم عُمْی فَھُمْ لَا یَرْجِعُوْن۔ (البقرة:١٨)
” اور وہ بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں اب یہ نہیں پلٹیں گے۔“

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: