Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 27

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 27

–**–**–

آرجے تو چلا گیا تھا لیکن حانم کو الجھن میں ڈال گیا تھا۔۔ اس نے اپنی پوری زندگی میں نعمتوں سے اتنا نوازاگیا شخص نہيں دیکھا تھا۔۔
جہاں اسے آرجے پر رشک آیا تھا وہیں افسوس بھی ہوا تھا کہ ایسے نوازے ہوٸے شخص کا کیا فاٸدہ جسے کچھ نظر نا آتا ہو۔۔۔۔؟؟؟

”اووہ ماٸے گاڈ۔۔ مجھے تو یقین نہيں آرہا۔۔“
مہرو شاکڈ سی حانم کے پاس آٸی تھی۔

”کچھ ایسی ہی حالت میری بھی ہے۔۔!!“
حانم نے سنجیدگی سے جواب دیا تھا۔ پروفيسر جا چکے تھے اور کچھ دیر بعد وہ دونوں بھی کلاس سے باہر نکل آٸی تھیں۔

” ام حانم۔۔۔“
اسے اپنے عقب سے آواز سنائی دی تھی۔ حانم نے جیسے ہی پلٹ کر عثمان ملک اسکے سامنے کھڑا تھا۔
”کیسی ہیں آپ۔۔؟؟“
وہ خوشدلی سے پوچھ رہا تھا۔

”جی الحَمْدُ ِلله۔۔ آپ کیسے ہیں۔۔؟؟“

”میں بالکل ٹھیک دراصل مجھے آپ سے بات کرنی تھی۔ میں نے آپکو اپنی ٹیم کا حصہ بننے کی آفر کی تھی آپ نے بتایا نہيں کچھ۔۔؟؟“
وہ پوچھ رہا تھا۔

”جی مجھے یاد ہے۔۔ دراصل پیپرز ہوجاٸیں فاٸنل تو میں سیمینار اٹینڈ کرنا شروع کردونگی۔۔!!
حانم نے سلیقے سے جواب دیا تھا۔

”چلیں ٹھیک ہے بیسٹ آف لک۔۔ جلدی سے اگزامز دیں اور پھر میری ٹیم کی میمبر بنیں۔۔!!
وہ مسکرا کر کہتا واپس جا چکا تھا جبکہ وہ دونوں بھی گیٹ کی طرف بڑھ گٸی تھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انکے فاٸنل پیپر شروع ہوگٸے تھے۔ ہر کوٸی کتابوں اور نوٹس میں سر دیٸے پڑھتا نظر آتا تھا۔
کچھ دیر پڑھنے کے بعد حانم اکتا جاتی تھی اور پھر موبائل پکڑ کر ویڈیوز دیکھنا شروع کر دیتی تھی۔

ابھی بھی وہ یوٹیوب پر کسی لڑکے کا انٹرویو سن رہی تھی جو مسلمان ہونے سے پہلے ملحد تھا اور اب اپنی کہانی سنا رہا تھا۔

”میں کسی مذہب پر یقین نہيں رکھتا تھا مجھے لگتا تھا کہ کوٸی بھی مذہب مکمل نہيں ہے۔۔ میرا دوست یہودی تھا میں نے ایسے ہی شوقیہ طور پر یہودیت کا مطالعہ کیا اور میں متاثر ہوا۔مجھے لگا کہ مجھے یہ مذہب اپنانا چاہیۓ۔۔ لیکن میری قسمت یہودیوں کے ربی نے کہا کہ وہ اپنے مذہب میں کسی کو داخل نہيں ہونے دیتے۔۔ مجھے افسوس ہوا اور پھر اللہ کا کرم ہوا۔۔ اسلام کو پڑھا جانا اور پھر دل ایمان لے آیا۔۔!!

”ایک منٹ ایک منٹ۔۔یہ کیا کہہ رہا تھا۔؟؟“
مہرو ایک دم چونکی تھی۔

”کیا۔۔؟؟“
حانم حیران ہوٸی۔

”یہی یہودی والی بات۔۔؟؟
مہرو حیران تھی۔

”ہاں ٹھیک کہہ رہا تھا وہ۔۔ یہودی کسی باہر والے کو اپنے مذہب میں داخل نہيں ہونے دیتے۔۔!!
حانم نے بتایا۔۔

”کیا تمہيں نہيں پتا تھا۔۔؟؟“
حانم نے پوچھا۔

”نہيں۔۔مجھے تو ابھی پتا چلا۔۔“
مہرو حیران سی بتا رہی تھی۔

”اسکی وجہ کیا ہے۔۔ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں۔۔۔؟؟

”کیونکہ بنی اسراٸیل اللہ تعالیٰ کی سب سے لاڈلی قوم تھی جیسے موسیٰ علیہ اسلام لاڈلے نبی تھے۔
یہودیوں کو لگتا ہے کوٸی قوم ان سے بڑھ کر نہيں ہے۔ اور اگر انہوں نے باہر سے کسی انسان کو اپنے مذہب میں داخل کیا تھا تو انکی قوم ناپاک ہو جاٸے گی۔۔ انکی صدیوں سے چلی آرہی لاڈلی اور پاک نسل کا تسلسل ٹوٹ جاٸے گا۔۔!!
حانم نے مختصراً جواب دیا تھا۔

”کمال ہے۔۔“
مہرو کو ابھی بھی یقین نہيں ہو رہا تھا۔

اس سے پہلے وہ کوٸی اور سوال کرتی حانم نے موبائل رکھنے کے بعد اب پڑھنے کیلیۓ نوٹس اٹھا لیۓ تھے اور وہ خاموش ہوگٸی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخری پیپر کی تیاری کیلیے وہ دونوں مین لاٸبریری آٸی تھیں۔
لاٸبریری میں داخل ہونے پر داٸیں طرف شیلف لگے تھے۔ ہر شیلف کے اندر باکس بنے تھے اور اب پر نمبر لکھا ہوا تھا۔
بیگ، کتاب یا نوٹس وغیرہ لاٸبریری کے اندر لے جانا سخت منع تھا۔
مہرو نے آگے بڑھ کر کاٶنٹر پر بیٹھے انکل سے دو پاس لیۓ تھے۔ یہ پاس ان باکس کے ایک طرح کی چابی تھے جو شیلف میں بنے تھے اور پھر اس نے اپنے اور حانم کے بیگ کو شیلف میں رکھا تھا۔
واپسی پر یہی پاس واپس کرنے پر انہيں بیگ واپس مل جانے تھے۔
اگزامز کے دن تھے لاٸبریری سٹوڈنٹس سے کھچا کھچ بھری نظر آتی تھی۔ عام دنوں میں بھی سٹوڈنٹس کی ایک بڑی تعداد لاٸبریری میں موجود ہوتی تھی۔
یہ پاکستان کی سب سے بڑی لاٸبریری تھی جہاں ایک کروڑ کے قریب کتابيں، جنرلز، ریسرچ پیپرز ہر چیز موجود تھی۔
انٹری ڈور پر دونوں نے اپنا کارڈ سکین کیا تھا اور پھر وہ دونوں لاٸبریری میں داخل ہوٸی تھیں۔

سامنے ہی کمپيوٹر پر حانم کو آرجے بیٹھا نظر آگیا تھا۔

”کیا واقعی یہ کتابیں بھی پڑھتا ہے۔۔۔؟؟“
اسے دیکھ کر حانم نے مہرو سے پوچھا تھا۔

”پڑھتا ہی ہوگا۔۔ اب بنا پڑھے گولڈ میڈل کون حاصل کر سکتا ہے۔۔؟؟“
مہرو نے جواب دیا تھا۔

وہ دونوں گروپ اسٹڈی کیلیۓ آٸی تھیں۔ اور گروپ اسٹڈی کا سیکشن دوسرے فلور پر تھا۔

”مجھے اس سے ملنا ہے۔۔ انفیکٹ مبارکباد دینی ہے۔۔“
مہرو کہتے ہوٸے آرجے کی طرف بڑھی تھی۔

”کس بات کی مبارکباد۔۔؟؟“
حانم حیران ہوٸی تھی۔

”مکی بتا رہا تھا آرجے کی منگنی ہوگٸی ہے۔۔!!“
مہرو نے گویا دھماکہ کیا تھا۔
حانم تو منہ کھولے اسکی بات سن کر رہی تھی۔

”کیا واقعی۔۔؟؟“
وہ حیران ہوٸی تھی۔

”ہاں۔۔“
مہرو شرارت سے کہتی آرجے کی طرف بڑھ گٸی تھی۔ جب حانم ہونق سی اسے جاتا دیکھ رہی تھی۔

”ہیلو آرجے۔۔!!“
مہرو نے اسکے پاس جا کر آرجے کو مخاطب کیا تھا۔

”ہاٸے۔۔“
مہرو کو دیکھتا ہوا وہ خوشدلی سے مسکرایا تھا۔
گردن موڑ کر دیکھا تو تھوڑے سے فاصلے پر منہ بناٸے کھڑی حانم اسے نظر آرگٸی تھی۔ وہ زیرلب مسکرا دیا تھا۔

”آپ بھی کتابيں پڑھتے ہیں۔۔؟؟“
مہرو نے پوچھا تھا۔

”جی کہہ سکتی ہیں آپ۔۔“
وہ بات گول مٹول کر گیا تھا۔

”بہت خوشی ہوٸی آپکی شاندار کاميابی کا سن کر۔۔“

“Thanks pretty lady..”
وہ بنا دیکھے بھی محسوس کر سکتا تھا کہ حانم اس وقت کتنے غصے میں تھی۔

”لگتا ہے آپکی دوست کافی غصے میں ہے۔۔ اگر آپ ایک منٹ سے پہلے یہاں سے نا گٸی تو وہ آپکو کچا چبا جاٸے گی۔۔!!
آرجے نے شرارت سے کہا تھا۔

”نہيں وہ شاکڈ ہے۔۔“
مہرو نے جواب دیا تھا۔

”کس بات پر۔۔؟؟“
آرجے حیران ہوا۔

”میں نے اسے کہا ہے کہ آپکی انگیجمنٹ ہوچکی ہے۔۔!!“

”رٸیلی۔۔“
آرجے کا قہقہہ بلند ہوا تھا۔
”اور آپکی دوست اس وقت سوچ رہی ہوگی کہ کس کی زندگی برباد ہوٸی ہے۔۔!!
وہ ہنس رہا تھا۔

”دانت تو ایسے نکال رہا ہے جیسے جنت مل گٸی ہو۔۔۔پتا نہيں کس کی قسمت پھوٹی ہے جو اسکی زندگی میں آگٸی۔۔“
حانم اسے قہقہہ لگاتے دیکھ کر بڑبڑاٸی تھی۔

”کیا بات ہے۔۔ اتنا جانتے ہیں آپ ہانی کو۔۔“
مہرو حیران ہوٸی۔

”جی اس سے بھی زیادہ ،بیشک جا کر پوچھ لیں وہ اس وقت یہی سوچ رہی ہے۔۔!!
وہ پر اعتماد تھا۔

”ٹھیک ہے پھر ملتے ہیں۔۔!!
اس سے پہلے حانم وہاں آتی مہرو اسے باٸے کہتی حانم کی طرف بڑھ گٸی تھی جبکہ آرجے ان دونوں کو دلچسپی سے سیڑھیوں کی طرف جاتا دیکھ رہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلے دن آخری پیپر کے بعد وہ دونوں Millennial پر بیٹھی تھیں کچھ دیر بعد مکی، آرجے اور رُشنہ جو اسمارہ کی بہن اور پرنسپل کی بیٹی تھی وہاں آگٸے تھے۔

”آج آرجے سب کو اپنی منگنی کی خوشی میں ٹریٹ دے رہا ہے۔۔!!!
مہرو نے اسکا ذکر لازمی کرنا تھا۔

”تو۔۔؟؟“
حانم کا لہجہ سخت تھا۔

”ہمیں بھی جانا چاہیٸے۔۔“
مہرو نے مسکراہٹ دبا کر کہا تھا۔

”بھاڑ میں جاٸے وہ اور اسکی ٹریٹ۔۔مجھے کوٸی شوق نہيں ہے اور تم بار بار اسکا ذکر مت کیا کرو۔۔“
حانم چڑ گٸی تھی۔

”اچھا ٹھیک ہے غصہ تو مت کرو۔۔ آج تو آزادی کا دن ہے۔۔“
مہرو مسکراٸی تھی۔

کچھ دیر بعد Millennial کے سامنے گاڑی رکی تھی اور اس میں سے ایک سٹائلش سی لڑکی نکلی تھی۔ وہ اب آرجے کی طرف قدم بڑھا رہی تھی۔

“تم میرے ساتھ ایسا نہيں کر سکتے آرجے۔۔“
وہ اسکے پاس آنے پر چلاٸی تھی۔

آرجے چونک کر اسے دیکھا تھا۔۔

”کون ہو تم۔۔“
وہ اجنبی سا پوچھ رہا تھا۔

”بھول گٸے اتنی جلدی۔۔لیکن میں نہيں بھولی۔۔ میں تمہيں کیسے بھول سکتی ہوں۔۔؟؟“
لڑکی کی آواز رندھ گٸی تھی۔

”ایکسکیوز می مس۔۔۔ کیا بول رہی ہو تم۔۔؟؟“

”ایک سال کا ریلیشن شپ رہا ہے ہمارا۔۔ ایسے کیسے تم مجھے بھول سکتے ہو۔۔؟؟ جب مجھے تم سے پیار ہوا تو تم اکتا گٸے مجھ سے۔۔؟؟ چھوڑ دیا مجھے۔۔ لیکن میں تمہيں نہيں بھول سکتی اور نا چھوڑ سکتی ہوں۔۔“
وہ چلا رہی تھی۔

”چلاٶ مت۔۔ اور دماغ خراب مت کرو میرا۔۔
تمہيں اب تک کتنے لڑکوں سے پیار ہوچکا ہے یہ میں اچھے سے جانتا ہوں۔۔اب جاٶ یہاں سے تماشہ کرنے کی ضرورت نہيں ہے۔۔!!
آرجے کا لہجہ برف جیسا سرد تھا۔

وہاں موجود تمام سٹوڈنٹس حیرت اور دلچسپی سے انہيں دیکھ رہے تھے۔
حانم کے چہرے پر واضح ناگواری تھی۔

”پلیز آرجے۔۔ میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں پلیز میرے ساتھ ایسا مت کرو۔۔ میں سب کو چھوڑ دونگی۔۔ میں تم سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔۔ پلیز مجھے اپنا لو۔۔“
وہ لڑکی رونے لگ گٸی تھی۔

”میں نے کہا نا دماغ خراب مت کرو۔۔ جاٶ یہاں سے مجھے تم میں کوٸی دلچسپی نہيں ہے۔۔!!

”لیکن میں تمہيں نہيں چھوڑ سکتی۔۔ اور اگر تم میرے نا ہوٸے تو دیکھنا۔۔ بہت برا ہوگا۔۔“
وہ اسے دھمکی دیتی جاچکی تھی۔ جبکہ آرجے پرسکون ہوچکا تھا۔
لوگ اپنے اپنے کاموں میں دوبارہ مشغول ہوچکے تھے۔

اچانک آرجے کی نظر حانم پر پڑی تھی جو کھاجانے والی نظروں سے اسے گھور رہی تھی۔

”کیا تھا۔۔؟؟“
مہرو لڑکی کے جانے کے بعد بولی تھی۔

”تمہارے آرجے کا لگایا ہوا تماشہ۔۔۔“
حانم نے ایک ایک لفظ چبا کر کہا تھا۔

”افف۔۔ میرا آرجے۔۔“
مہرو بلااختیار ہی ہنسی تھی۔

اب وہ تینوں اپنی ٹیبل سے اٹھ چکے تھے۔ گزرنے کے راستہ مہرو اور حانم کی ٹیبل کے پاس سے تھا۔

”اللہ پاک دل توڑنے والوں کو کبھی معاف نہيں کرتا۔۔!!“
حانم کے لہجے میں بلا کی کاٹ تھی۔
پاس سے گزرتا آرجے فوراً رکا تھا۔ وہ اسکی بات سن چکا تھا۔ درحقيقت اسے ہی یہ بات سناٸی گٸی تھی۔

”کمال ہے مس حانم۔۔۔ اللہ کا ان سب سے کیا تعلق۔۔؟؟“
وہ پلٹ کر اب حانم سے پوچھ رہا تھا۔
حانم ایک دم گڑبڑا گٸی تھی اسے اندازہ نہيں تھا کہ وہ یوں سوال کرے گا۔

”یقین نہيں ہوتا کہ اکیسویں صدی میں بھی کوٸی کیسے خدا پر یقین کر سکتا ہے۔۔؟؟ جب ساٸنس ہر میدان میں ایجادات کر رہی ہے اور ایک ہمارے لوگ ہیں جو خدا کی رٹ لگا کر بیٹھے ہیں۔۔۔!!!
وہ عام سے لہجے میں بات کر رہا تھا۔

”تم نا مانو۔۔ کسی نے فورس نہيں کیا تمہيں۔۔!!!
وہ دوسروں کے سامنے اسے ”آپ“ کہتی تھی لیکن آج وہ بھرم بھی ختم کردیا تھا۔ وہ سب کے سامنے ہی ”تم“ پر اتر آٸی تھی۔

”لیکن آپ تو خدا پر یقین رکھتی ہیں تو پھر دلاٸل سے ثابت کریں کہ خدا ہے۔۔!!“
آرجے پوچھ رہا تھا۔

”چلو یار آرجے ہر وقت بحث نہيں کرنی چاہیۓ۔۔!!
مکی نے اسے بلانا چاہا تھا۔

”چلو آرجے کیوں وقت ضائع کر رہے ہو۔۔ ایسے لوگوں کے منہ نہيں لگتے“
رشنہ نے بالوں کو جھٹکا دیتے ہوٸے کہا تھا۔

”تم لوگ جاٶ۔۔ یہ میرا مسٸلہ ہے میں جس سے چاہوں بحث کروں۔۔“
رشنہ کی بات پر اسے غصہ آیا تھا۔

”میں خدا کو مانتی ہوں۔۔ تم نہيں۔۔ مجھے دلاٸل کی ضرورت نہيں ہے لیکن تمہيں ہے۔۔ اور جسے ضرورت ہوتی ہے وہی ڈھونڈتا ہے۔۔ اتنی ذہانت لیٸے پھرتے ہو تو ڈھونڈ لو دلاٸل۔۔کیا اتنا سا بھی نہيں کرسکتے تم۔۔“
وہ چیلنج کرنے والے انداز میں کہتی وہاں سے چلی گٸی تھی ایک منٹ کیلیۓ بھی نہيں رکی تھی۔ مہرو اسکے پیچھے لپکی تھی۔
وہ جب بھی ملتے تھے سب الٹ ہوتا تھا۔ ناچاہتے ہوٸے بھی انکی بحث ہوجاتی تھی۔

حانم نے پہلی بار اسکے سوال کا جواب دینے سے انکا کیا تھا۔
آرجے جانتا تھا کہ اگر وہ چاہتی تو جواب دے سکتی لیکن اس بار ایسا نہيں ہوا تھا۔
یعنی وہ اس سے اتنا خار کھانے لگی تھی کہ اسکی بات کا جواب دینا بھی پسند نہيں کرتی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیرز کے بعد انہيں ایک ہفتے کی سمیسٹر بریک ملی تھی۔ آٹھ دن بعد وہ دوبارہ ڈیپارٹمنٹ میں موجود تھے۔
آج پھر سیمینار تھا۔ عثمان ملک اسے ڈھونڈ رہا تھا۔
آخر وہ اسے گراؤنڈ میں نظر آہی گٸی تھی۔
چونکہ فروری کا مہینہ تھا۔ بادل امڈ امڈ کر آتے تھے۔ سردی کم ہوٸی تھی لیکن ختم نہيں۔۔

”حانم۔۔ کیسی ہیں آپ۔۔؟؟“
وہ اسکے پاس پہنچ چکا تھا۔

”جی میں ٹھیک ہوں۔۔“

”آج سیمینار ہے آپ جانتی ہیں آج تو آپ میرے ساتھ چلیں۔۔ آپ میری ٹیم کا حصہ بن چکی ہیں۔۔!!
عثمان ملک نے کہا تھا۔
”میں کوشش کرونگی۔۔ لیکن میں دعویٰ نہيں کرتی کہ میں ٹھیک سے کام کر پاٶنگی یا نہيں۔۔“

”مجھے امید ہے آپ کرلینگی۔۔“
وہ پرامید سا کہہ رہا تھا۔

ّٹھیک ہے پھر چلیں۔۔“
اسے خاموش دیکھ کر عثمان ملک نے دوبارہ پوچھا تھا۔

اس سے پہلے حانم کوٸی جواب دیتی اسکے موبائل پر رنگ ہوٸی تھی۔ گھر سے آسیہ بیگم کا فون تھا۔

”میں کچھ دیر میں آتی ہوں۔۔“
حانم نے موبائل کی طرف دیکھتے ہوٸے کہا تھا۔

”ٹھیک ہے جلدی آٸیں میں انتظار کر رہا ہوں آپکا۔۔“
وہ مسکرا کر کہتا واپس پلٹ گیا تھا۔
جبکہ حانم نے کال ریسیو کرنے کے بعد فون کان سے لگایا تھا۔
دور ایک شخص نے حسد بھری نظروں سے دونوں کو دیکھا تھا۔
مہرو کو اقصیٰ کسی کام کیلیۓ دوسرے ڈیپارٹمنٹ لے کر گٸی تھی۔
اسی لیے آج وہ اکیلی تھی۔

کچھ دیر بات کرنے کے بعد حانم سیمینار ہال کی طرف بڑھ گٸی تھی۔ اندر شاید سیمینار شروع ہوچکا تھا۔

جیسے ہی اس نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی تھی نیلم جو کہ عثمان ملک کی ٹیم کی میمبر تھی اسکا راستہ روک کر کھڑی ہوگٸی تھی۔

”تم اندر نہيں جا سکتی۔۔“
نیلم نے غصے سے کہا تھا۔

”لیکن کیوں۔۔۔؟؟“
حانم حیران ہوٸی تھی۔

”میری مرضی۔۔ یہ جو تم کھیل کھیلا ہے نا۔۔ سب اچھے سے جانتی ہوں۔۔ عثمان کو اٹریکٹ کرنے کیلیے تم نے یہ سب کیا۔۔ تم ٹیم کا حصہ تو بن گٸی ہو لیکن میں تمہيں اسکے قریب نہيں ہونے دونگی۔۔“
نیلم پھنکار رہی تھی۔
حانم کا دماغ اسکی بات سن کر بھک سے اڑا تھا۔ اسے سمجھ نہيں آرہا تھا کہ وہ کیا کر رہی تھی۔

”آپکا دماغ تو ٹھیک ہے مس نیلم۔۔؟؟“
حانم کو غصہ آیا تھا۔

”میرا تو ٹھیک ہے لیکن شاید عثمان کو دیکھ کر تمہاری نیت خراب ہوگٸی ہے۔۔ میں تمہيں اچھے سے بتادوں کہ میں اور عثمان کزنز ہیں اور بہت جلد ہمارا نکاح ہونے والا ہے تو اپنی گھناٶنی چالوں سے باز آجاٶ۔۔!!

ٕحانم کا دل کیا تھا کہ ایک زوردار تھپڑ اس نیلم کا رسید کرے۔۔ لیکن وہ تماشہ نہيں بنانا چاہتی تھی۔
اسے دکھ ہوا تھا۔ لوگ کیسے الزام لگا دیتے ہیں دوسروں پر اسے یقین نہيں آرہا تھا۔

”مجھے آپکے عثمان ملک اور انکی ٹیم کا حصہ بننے میں کوٸی دلچسپی نہيں ہے۔۔،
اور آپ سینیٸر ہیں آٸندہ ایسی بات کرنے سے پہلے سوچ لیجیۓ گا مجھے اچھا نہيں لگے گا کہ میں آپ سے کچھ کہوں۔۔۔“
حانم نے کچھ پر زور دیا تھا۔ اسکا مطلب انسلٹ تھا۔

وہ اسکا جواب سنے بنے واپس گراؤنڈ میں آگٸی تھی۔
گراؤنڈ خالی تھا کچھ سٹوڈنٹس سیمینار کے نام پر ہی ڈیپارٹمنٹ سے بھاگ جاتے تھے۔ جبکہ کچھ کی کلاس ہورہی تھی اور باقی سیمینار ہال میں تھے۔

وہ لکڑی سے بنے بینچ پر بیٹھ گٸی تھی۔
آنکهيں نم ہونا شروع ہوٸی تھیں۔ وہ اچھا کرنا چاہتی تھی تو برا ہو جاتا تھا۔ وہ جو سوچتی بھی نہيں تھی لوگ وہ الزام لگا دیتے تھے اس پر۔۔

وہ اپنے بیگ پر انگلی سے کچھ لکھ رہی تھی۔ آنسوٶں کو ضبط کرنے کی کوشش جاری تھی۔
گردن جھکی ہوٸی تھی۔ اسے لگ رہا تھا کہ اگر اس نے آنکهیں اوپر کیں تو لوگ اسکے آنسو دیکھ لیں گے۔
وہ جتنی سخت دل نظر آتی تھی اتنی حساس بھی تھی۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر آنکهيں بھر آتی تھیں۔
جانے زندگی کے کس تجربے نے اسے تلخ بنادیا تھا وہ پہلے تو ایسی نہيں تھی۔ اسے غصہ شدید آتا تھا۔

کچھ ہی پل گزرے تھے جب اسے محسوس ہوا کہ کوٸی اسکے پاس آکر بیٹھا تھا۔
اسکی گردن اور جھک گٸی تھی۔

”اووہ تو مس ام حانم روتی بھی ہیں۔۔ اسٹرینج۔۔ مجھے تو لگا تھا کہ وہ اپنے کاٹ دار لہجے سے بس دوسروں کو گھاٸل کرتی ہیں۔۔“

آواز پر جیسے حانم کو کرنٹ لگا تھا۔ اس نے مڑ کر اپنے داٸیں طرف دیکھا تھا۔
آرجے بینچ کے اوپر چڑھ کر بیٹھنے والے حصے پر پاٶں جماٸے، ٹیک لگانے والے حصے پر چڑھ کر بیٹھا تھا۔
حانم نے فٹافٹ آنکهوں میں آٸی نمی کو صاف کیا تھا۔ وہ سیمینار ہال میں تھا۔ حانم اسے وہاں دیکھ کر حیران ہوٸی تھی۔

”تم یہاں کیا کر رہے ہو۔۔؟؟“
وہ غصے سے بولی تھی۔

”جو تم کر رہی ہو۔۔ یعنی آنسو بہا رہا ہوں۔۔“
وہ قہقہہ لگا کر ہنسا تھا۔
حانم جانتی تھی وہ اسے جلاٸے بنا باز نہيں آنے والا تھا۔

”تم تو سیمینار میں تھے نا۔۔؟؟“

”ہاں۔۔ تھا تو۔۔ ایک بےوقوف لڑکی سے بحث کرنی تھی لیکن وہ ڈر کر بھاگ گٸی وہاں آٸی ہی نہيں تو میں بھی باہر آگیا۔۔۔!!“
وہ شرارت سے کہہ رہا تھا۔ حانم نے گھور کر اسے دیکھا تھا۔

”ایک بات تو بتاٶ۔۔۔“
اسکے لہجے کا انداز ایک دم بدلا تھا۔
حانم نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تھا۔ گرے آنکهيں رونے کے باعث گلابی ہوچکی تھیں۔
پلکیں نم تھیں۔

”کیا مصیبت ہے یار۔۔؟؟“
وہ بڑبڑا کر کہتا چہرے کا رخ موڑ گیا تھا۔
اسکی نم آنکهيں آرجے کا دماغ خراب کر رہی تھیں۔

”کیا بات۔۔؟؟“
حانم نے پوچھا تھا۔ وہ اسکی بڑبڑاہٹ نہيں سن پاٸی تھی۔

”کبھی کبھی کسی انسان کو دیکھ کر ایسا کیوں لگتا ہے کہ اُس انسان سے ہمارا صدیوں پرانا تعلق ہے۔۔؟؟ ایسا کیوں لگتا ہے وہ انسان ہمیں پہلے بھی کہیں مل چکا ہے۔۔؟؟ وہ ہمیں اپنا جیسا کیوں لگتا ہے۔۔؟؟“

آرجے کی بات سن کر حانم پھیکی سی ہنسی ہنس دی تھی۔
اسے آرجے سے اس سوال کی توقع نہيں تھی۔ وہ حیران بھی ہورہی تھی۔ وہ کتنے نارمل لہجے میں بات کر ہا تھا۔ نا کوٸی غصہ، نا طنز۔۔
ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ واقعی کسی الجھن کا شکار ہو۔
ٹھنڈی ہوا دونوں کے چہروں کو چھو کر پلٹ رہی تھی۔
موسم کافی خوشگوار تھا۔

”تم تو خدا پر یقین نہيں رکھتے، تم عالم ارواح کو کیا مانو گے۔۔؟
یہ سب روحوں کے کھیل ہیں مسٹر آرجے۔۔ یہ تمہارے بس کی بات نہيں۔۔!!

”کیا مطلب۔۔؟؟“
آرجے نے الجھن آمیز لہجے میں پوچھا تھا۔

”مطلب یہ کہ اس جہاں کے علاوہ اور بھی جہاں ہیں۔۔ اور ایک روحوں کا جہان ہے۔۔
تمہارے پاس scanning eyes ہیں نا۔۔ لیکن تم پھر بھی وہ سب نہيں دیکھ پاتے جو مجھے نظر آتا ہے۔۔!!
ٕحانم نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوٸے کہا تھا۔
یہ اسکا پسندیدہ موضوع تھا۔ بادلوں سے ڈھکے آسمان نے اسے پرسکون کیا تھا۔ جانے وہ وہاں کسے دیکھ رہی تھی۔

”بہت کچھ نظر آکر بھی بہت کچھ چھپا ہوتا ہے۔۔ اسے دیکھنے کیلیے بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے جو شاید تمہارے پاس نہيں ہے۔۔ لیکن مجھے امید ہے کی ایک وقت آٸے گا۔۔ جب تمہيں سب نظر آنا شروع ہوجاٸے گا۔۔ ایک وقت آٸے گا جب تم کسی چیز کا انکار نہيں کر پاٶ گے۔۔ لیکن ناجانے وہ وقت کب آٸے گا۔۔!!

”یہ روحوں کا جہان کونسا ہے۔۔؟؟“
آرجے نے اسکی بات کو نظر انداز کرتے ہوٸےاپنا سوال دہرایا تھا۔

”کیا روح پر یقین ہے تمہيں۔۔؟؟“

حانم کے سوال پر وہ چونکا تھا۔ وہ واقعی روح جیسی کسی چیز پر بھی یقین نہيں رکھتا تھا۔

”جب روح پر یقین نہيں ہے تو اسکے جہان کے بارے میں جان کر کیا کرو گے۔۔؟؟ ویسے بھی وہ دوسرا جہان ہے۔۔ وہ تمہارے بس کی بات نہيں ہے۔۔ تمہارے بس کی بات نہيں ہے۔۔!!
حانم کا لہجہ جذباتی ہوگیا تھا۔ اس نے ایک بار پھر آسمان کی طرف دیکھا تھا۔
بارش کی پہلی بوند نے اسکے چہرے کو چھوا تھا، حانم آنکهيں بند کر گٸی تھی۔ بادلوں کے گرجنے کی زوردار آواز کے ساتھ بجلی چمکی تھی۔
بجلی کی چمک میں اسکے چہرے پر کچھ چمکا تھا۔
وہ ایک دلفریب منظر تھا۔
آرجے نے خود کو اس وقت بہت بےبس محسوس کیا تھا۔ اسکے الفاظ گم ہونے لگے تھے۔
بارش کی بوندوں نے شدت پکڑی تھی۔ یک لخت ہر طرف گہرے سیاہ بادلوں کی وجہ سے اندھیرا سا پھیل گیا تھا۔

حانم اپنے بیگ کو سنبهالتے ہوٸے بینچ سے اٹھی تھی۔ اور گیٹ کی طرف قدم بڑھا دیٸے تھے۔
اس سے پہلے بارش تیز ہوتی وہ ہاسٹل پہنچنا چاہتی تھی۔

آرجے کی نظر بینچ پر رکھے اسکے موبائل پر پڑی تھی۔ اس نے بےاختیار ہی ہاتھ بڑھا کر حانم کا موبائل اٹھایا تھا۔

“Don’t Touch My Phone You Muggles”
وال پیپر پر لکھا تھا اور نیچے ایک سانپ منہ کھولے ڈسنے کو تیار تھا۔
آرجے کا بےساختہ قہقہہ بلند ہوا تھا۔ اس نے چہرہ اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا تھا۔ اسکا چہرہ بارش سے بھیگ گیا تھا۔
وہ بےتحاشہ ہنس رہا تھا۔ اسے یقین نہيں آرہا تھا کہ واقعی وہ اس لڑکی کا موبائل تھا۔۔

”اپنا موبائل مجھے گفٹ کرنے کا ارادہ ہے کیا مس جادوگرنی۔۔؟؟“
وہ اونچی آواز میں چلایا تھا۔

حانم کرنٹ کھا کر پلٹی تھی۔ پھر تیز تیز قدموں سے اسکی جانب بڑھی تھی۔ آرجے دلچسپ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
حانم نے اسکے ہاتھ سے موبائل پکڑا نہيں جھپٹا تھا اور پھر ایک گھوری سے نوازتی واپس جاچکی تھی۔

وہ بارش میں بیٹھا بھیگ رہا تھا۔
پھر ہاتھ بڑھا کر اس نے اپنی جیکٹ سے اپنا موبائل نکالا تھا جسکے وال پیپر پر
“Don’t Touch My Phone You Bromides”
لکھا چمک رہا تھا۔

بروماٸڈز عام لوگ تھے۔ جبکہ HP سیریز کے مطابق Muggle ایسے لوگ تھے جو عام ہوتے تھے۔ جنہيں جادو نہيں آتا تھا۔

دونوں کے موبائل کا وال پیپر ایک ہی پیغام دیتا تھا کہ
“عام لوگوں ہمارے فون کو مت چھوٶ۔۔“
وہ کتنی ہی دیر بارش میں بیٹھا بھیگتا اور ہنستا رہا تھا۔ اسے یقین نہيں آرہا تھا کہ دنیا میں کوٸی تھا جو اسکے جیسے سوچتا تھا۔

”اور کون کہہ سکتا تھا کہ وہ دو لوگ ایک جیسے نہيں تھے۔۔؟ کون کہہ سکتا تھا کہ وہ دونوں سلفاٸیٹ نہيں تھے اور کون کہہ سکتا تھا کہ وہ دونوں جادوگر نہيں تھے۔۔؟؟“
کون کہہ سکتا تھا۔۔۔؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حانم دو دن ڈیپارٹمنٹ نہيں گٸی تھی۔ اسے بارش میں بھیگنے کی وجہ سے ٹھنڈ لگ گٸی تھی۔ ڈیپارٹمنٹ میں سپورٹس گالا کی تیاریاں چل رہی تھی۔
آج انکے ڈیپارٹمنٹ میں مشاعرہ تھا۔ مشہور شاعروں کو دعوت دی گٸی تھی۔
شام کو پانچ بجے وہ تیار ہو کر ڈیپارٹمنٹ پہنچ گٸی تھیں۔
ہروجگہ رنگ بکھرے پڑے تھے۔
خوشبوٶں میں بسی لڑکياں دیکھنے لاٸق تھیں۔
ڈیپارٹمنٹ کے باہر جنت روڈ پر رونق لگی ہوٸی تھی۔

”شاعروں نے ہمیں بور ہی کرنا ہے آرجے تم ہی کچھ سنا دو۔۔“
سٹوڈنٹس اسکے پیچھے لگے ہوٸے تھے۔
اسکی نظریں حانم کو ڈھونڈ رہی تھیں۔

”حانم کس طرح کی لڑکی ہے اسے لڑکوں میں کیا اچھا لگتا ہے۔۔؟؟“

”وہ چاہتی کہ کوٸی لڑکا بارش میں اسکے لیے گنگناٸے۔۔!!“
آرجے کچھ دن پہلے عثمان ملک اور مہرو کی باتيں سن چکا تھا۔
یقیناً اب وہ اسکی یہ شام خراب کرنے والا تھا۔
اچانک اسکی نظر کیفے کے پاس درختوں کے نیچے کھڑی حانم پر پڑی تھی۔
وہ خباثت سے مسکرایا تھا۔
گٹار تھامنے کے بعد اب وہ گنگنانا شروع ہوگیا تھا۔
سٹوڈنٹس خاموش ہوچکے تھے۔
مہرو کے ساتھ باتيں کرتی حانم گٹار کی آواز پر چونکی تھی۔

کرسیوں،درختوں اور پودوں پر بھی روشنی کی سجاوٹ کی گٸی تھی۔
یہ پورا ہفتہ بارشیں تھی۔ اور اس وقت بھی ٹھنڈی ہوائیں ہڈیوں میں گھسی جا رہی تھیں۔
حانم نے پلٹ کر آرجے کی طرف دیکھا تھا۔

”کیا جانے تو میرے ارادے،
لے جاٶں گا سانسیں چرا کے

وہ گٹار تھامے گنگناتا اسکی طرف بڑھ رہا تھا۔ حانم حیرت سے گنگ منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی۔ آرجے کی آنکهوں میں عجیب سی الوہی چمک تھی۔ وہ چمک آج سے پہلے کسی نے بھی نہيں دیکھی تھی۔
اسکی آنکهيں کچھ اور پیغام دے رہی تھیں جسے وہاں موجود کوٸی شخص نہيں پڑھ پایا تھا۔

”دل کہہ رہا ہے گنہگار بن جا،
بڑا چین ہے ان گناہوں سے آگے۔۔

وہ اب اسکے گرد گھوم رہا تھا۔

”میں گمشدہ سی رات ہوں
میں خوشنما صبح تم ہو۔۔!!

وہ اب مسکراتا دوسری لڑکیوں کی جانب بڑھ گیا تھا۔

”میں جو جی رہا ہوں
وجہ تم ہو۔۔
وجہ تم ہو۔۔،

وہ گنگناتا اپنا کام ختم کرکے ڈیپارٹمنٹ کی طرف بڑھ گیا تھا۔ سٹوڈنٹس اسکے پیچھے گٸے تھے۔
حانم نے گھور کر مہرو کو دیکھا تھا۔

”قسم لے لو میں نے اسے تمہاری خواہش کے بارے میں نہيں بتایا۔۔!!
مہرو نے صفاٸی دی تھی۔
حانم کا موڈ بگڑا تھا۔ اس نے کتنے دل سے خواہش کی تھی اور وہ آرجے پانی پھیر گیا تھا اسکے ارمانوں پر۔۔

”میں تمہاری دوست کی لو اسٹوری کا ہیرو نہيں ہوں۔۔ بلکہ ولن ہو ولن۔۔
اور مجھے ولن بن کر اسکی زندگی خراب کرنے کا شوق ہو رہا ہے۔۔!!
مہرو کے موبائل پر میسج آیا تھا۔ وہ قہقہہ لگا کر ہنسا تھا۔
میسج پڑھنے پر حانم کا پارہ ہاٸی ہوا تھا۔
”اللہ کرے اسکا گٹار ٹوٹ جاٸے۔۔ اسکی۔۔ اسکی۔۔“
حانم نے منہ اور مٹھیاں بھینچ کر خود کو اور بددعا دینے سے روکا تھا۔
اسکی حالت دیکھ مہرو کا قہقہہ بلند ہوا تھا۔ وہ کتنی ہی دیر ہنستی رہی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: