Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 28

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 28

–**–**–

حانم نے مٹھیاں بھینچ کر خود کو اور بددعا دینے سے روکا تھا۔
اسکی حالت دیکھ کر مہرو کافی دیر تک ہنستی رہی تھی۔
حانم غصے سے منہ پھلا کر وہیں جنت روڈ پر بیٹھ گٸی تھی۔
روشنیوں سے جگمگ کرتے جنت روڈ پر لوگوں سٹوڈنٹس نے اسے تیار شیار نیچے بیٹھا تو مذاق اڑاتے اندر چلے گٸے۔

”بس کرو ہانی اب چلو نا اندر۔۔ مشاعرہ شروع ہوچکا ہوگا۔۔!!
مہرو نے حانم سے کہا۔

”مجھے ہاسٹل جانا ہے۔۔ وہ منحوس آرجے اندر موجود ہے اسکے ہوتے ہوٸے میں خوش نہيں رہ سکتی۔۔!!
حانم نے دہاٸی دی تھی۔ مہرو نے مشکل سے اپنی ہنسی کو ضبط کیا تھا۔

”وہ جا چکا ہے ہانی۔۔“
مہرو نے مسکراتے ہوٸے بتایا تھا۔

”کیا واقعی۔۔؟؟“
حانم چونکی۔

”ہاں سچی۔۔“
مہرو نے اسے یقین دلایا تھا۔

”اوکے۔۔ پھر چلتے ہی۔۔۔“
وہ جھٹ سے کھڑی ہوگٸی تھی جبکہ مہرو اسکے یوں موڈ بدلنے پر حیران رہ گٸی تھی۔

”ویسے اتنا تو برا نہيں ہے وہ۔۔“
مہرو نے خفگی سے کہا تھا۔

”میں نے کب کہا وہ برا ہے۔۔ بلکہ وہ نہایت برا ہے۔۔!!
حانم بھی ضدی تھی۔
مہرو افسوس سے سر جھٹکتی ڈیپارٹمنٹ میں داخل ہوٸی تھی۔
ملک کے مشہور شاعروں کو بلایا گیا تھا۔
مشاعرہ بہت اچھا چل رہا تھا۔
حانم کے غور کرنے پر آرجے اسے کہیں نظر نہيں آیا تھا۔ وہ واقعی جا چکا تھا۔ حانم نے اسکی غیر موجودگی پر شکر ادا کیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کا ناجانے کونسا پہر تھا جب عجیب سے احساسات کے ساتھ حانم کی آنکھ کھلی تھی۔کوٸی اس پر جھکا اسے اٹھا رہا تھا۔

”ہانی اٹھو۔۔ ہانی۔۔ وہ۔۔“
مہرو رو رہی تھی۔

”کیا ہوا مہرو۔؟؟“
حانم ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی تھی۔

”ہانی وہ ماما۔۔“
مہرو سسکیاں لے رہی تھی۔ وہ روتے ہوٸے حانم کے گلے لگ گٸی تھی۔

”کیا ہوا آنٹی کو۔۔ تم رو کیوں رہی ہو۔؟؟“
حانم کا دل کانپ اٹھا تھا۔ اسے کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا تھا۔

”وہ ماما کو۔۔ ہارٹ۔۔ ہارٹ اٹیک ہوا ہے۔۔!!
مہرو نے مشکل سے روتے ہوٸے بتایا تھا۔

”یا اللہ خیر۔۔!!
حانم کا دل دہل گیا تھا۔

”اچھا تم چپ کرو روٶ مت۔۔ یہ بتاٶ کہ تمہيں کیسے پتا چلا۔۔؟؟“

”بھاٸی نے بتایا۔۔ وہ لینے آرہا ہے۔۔ ماما ہاسپٹل میں ہیں۔۔ ICU میں۔۔“
یہ سب سن کر ہانی کی اپنی آنکهيں نم ہوگٸی تھیں۔
اس نے مہرو کو پانی پلایا تھا۔
صبح کے چار بجے کا وقت تھا۔ حانم کمرے سے باہر نکلی تھی۔وہ سیدھا کاٶنٹر پر گٸی تھی جہاں رات کو گارڈ ڈیوٹی دیتا تھا۔
اس نے کاٶنٹر پر موجود گارڈ کو سب بتایا تھا جس نے وارڈن کو کال کی تھی۔
مہرو کے گھر فون کرنے پر انہيں خبر کی تصدیق مل چکی تھی۔
کچھ دیر بعد مہرو اپنے بھاٸی کے ساتھ جا چکی تھی جبکہ وارڈن نے حانم کو اس وقت مہرو کے ساتھ جانے کی اجازت نہيں دی تھی۔
حانم کو غصہ تو آیا تھا لیکن وہ ہاسٹل کے قوانين کو نہيں توڑ سکتی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”جورڈن تم آج کل کہاں ہوتے ہو۔۔ میں کچھ دنوں سے دیکھ رہا ہوں کہ تم زیادہ تر وقت باہر گزارتے ہو۔۔ کیوں۔۔؟؟“
انتھنی جورڈن سے پوچھ رہا تھا۔

”کیوں میں باہر نہيں جا سکتا۔۔؟؟“
جورڈن نے غصے سے الٹا سوال پوچھا تھا۔

”جا سکتے ہو لیکن۔۔

”کیا لیکن۔۔؟؟“
جورڈن نے اسکی بات کاٹی تھی۔

”کچھ غلط حرکت مت کرنا۔۔۔“
انتھنی نے درخواست کی تھی۔ وہ جورڈن کے غصے اور اسکی شخصیت سے اچھی طرح واقف تھا۔
مارتھا کی موت کے بعد وہ اور زیادہ خاموش رہنے لگا تھا۔
پہلے تو زیادہ وقت گھر اور جم میں گزارتا تھا یا پریکٹس کرتے ہوٸے لیکن آج کل وہ تھوڑا عجیب سا رویہ اپناٸے ہوا تھا۔
جلدی جلدی میں ناشتہ کرتا تھا جیسے کہیں پہنچنا ہو۔۔
بار بار وقت دیکھتا رہتا تھا۔

”ڈونٹ وری۔۔ جو کرونگا سب ٹھیک ہی کرونگا۔۔“
جورڈن نے سرد سے لہجے میں کہا تھا جبکہ جورڈن سر ہلا کر رہ گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پیرس میں سالانہ بہت بڑا فیشن شو ہو رہا تھا جسکا ایلا کو کافی عرصے سے انتظار تھا۔
مشکل سے انہيں ٹکٹس ملیں تھیں۔
اس وقت وہ دونوں شو دیکھنے کیلیۓ ہی نکل رہی تھیں۔
جیسے ہی وہ دونوں پارکنگ ایرا میں پہنچیں ماہی کو عجیب سا احساس ہوا تھا۔

اسے روڈ پر ایک باٸیک کھڑی نظر آٸی تھی۔ اور اس پر سوار ہیلمٹ پہنے وہ شخص۔۔
وہ اسے کٸی دنوں سے نوٹ کر رہی تھی۔

”کیا ہوا ماہی جلدی چلو۔۔“
ایلا نے گاڑی میں بیٹھتے ہوٸے کہا تھا۔

”آں۔۔ہاں۔۔ چلو۔۔“
ماہی کے چہرے پر الجھن واضح تھی وہ گاڑی میں بیٹھ گٸی تھی لیکن اسکی نظر بیک مرر سے گاڑی کے پیچھے آتی باٸیک پر تھی۔ اسکے حواس باختہ ہونے لگے تھے۔

”ایلا مجھے لگتا ہے کوٸی ہمارا پیچھا کر رہا ہے۔۔!!
ماہی نے ڈرتے ہوٸے بتایا تھا۔

”واٹ۔۔۔ رٸیلی۔۔؟؟“
ایلا نے پرجوش سے لہجے میں پوچھا تھا۔

”ہاں مجھے کچھ دنوں سے محسوس ہو رہا ہے کہ کوٸی ہم پر نظر رکھے ہوٸے ہے۔۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہم کسی کی نظروں میں ہے۔۔!!
ماہی پریشانی سے بتا رہی تھی۔

”اوو کم آن ماہی۔۔ ایک تو تم وہمی بہت ہو۔۔“
ایلا نے اسکا مذاق اڑایا تھا۔

”نہيں میں سچ کہہ رہی ہوں۔۔ وہ دیکھو گاڑی کے پیچھے۔۔“
ماہی نے اشارہ کرتے ہوٸے دوبارہ مرر میں دیکھا تھا لیکن اب وہ باٸیک غاٸب تھی۔ اسکا دماغ چکرا گیا تھا۔

”کہاں۔۔؟؟“
ایلا نے پوچھا تھا۔
لیکن ماہی کے پاس کوٸی جواب نہيں تھا۔

”تمہيں ریسٹ کی ضرورت ہے ماہی۔۔ حشام کو لے کر تم ذہنی طور پر ڈسٹرب ہوچکی ہو۔۔!!
ایلا نے سنجيدگی سے کہا تھا۔ جبکہ ماہی خاموش ہوگٸی تھی۔ وہ اب اسے کیا بتاتی کیا سمجھاتی اس نے واقعی بہت دفعہ اس ہیلمٹ پہنے شخص کو اپنے آس پاس دیکھا تھا۔
لیکن وہ یہ بھی جانتی تھی کہ ایلا کبھی اسکا یقین نہيں کرنے والی تھی۔ اسی لیۓ اس نے بحث کرنا ضروری نہيں سمجھا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو دن گزر گٸے تھے مہرو واپس نہيں آٸی تھی۔ اسکی امی کی طبیعت اب کچھ ٹھیک تھی۔ ویک اینڈ آگیا تھا حانم بھی گھر چلی گٸی تھی۔ اور پھر گھر سے آسیہ بیگم کو ساتھ لے کر وہ مہرو کی ماں کی خیریت دریافت کرنے گٸی تھی۔

”اچھا کیا تم آگٸی ہو۔۔!!
مہرو اسے دیکھ کر بہت خوش ہوٸی تھی۔ البتہ وہ کافی کمزور نظر آرہی تھی۔
اسکی امی کی طبیعت کافی حد تک سنبهل گٸی تھی لیکن وہ ابھی بھی بیمار تھیں۔
کافی دیر بیٹھنے کے بعد وہ اب واپس جانے کیلیۓ تیار تھیں۔

”اچھا سنو کل منڈے ہے تم یونيورسٹی جاٶ گی۔؟؟“
مہرو نے پوچھا تھا۔

”ہاں۔۔ صبح ہاسٹل چلی جاٶں گی۔۔!!
حانم نے جواب دیا تھا۔

”کل تم ڈیپارٹمنٹ نہيں جاٶ گی۔۔ شام چار بجے سے پہلے تم نے NAB آفس کے پاس پہنچنا ہے۔۔
ہاسٹل سے آٹو لے لینا یا پھر اوبر کروالینا۔۔ لیکن کسی کو بتانا نہيں ہے۔۔!!
مہرو نے رازداری سے کہا تھا۔ حانم اسکی بات سن کر چونکی تھی۔

”کیوں خیریت تو ہے تم ایسے کیوں کہہ رہی ہو؟ بتانا کیوں نہيں۔۔؟؟“
حانم کو حیرانگی ہوٸی تھی۔

”وہ سب میں تمہيں بعد میں بتاٶں گی۔۔ ابھی بس اتنا یاد رکھو کہ چار بجے سے پہلے۔۔ NAB آفس کے سامنے۔۔ میں وہیں آجاٶنگی۔۔“
مہرو نے چار بجے پر زور دیا تھا۔

”یہ تم دونوں سرگوشیوں کیا میں باتیں کر رہی ہو۔۔؟؟ تھوڑا اونچا بولو۔۔ہمیں بھی پتا چلا۔۔!!
مہرو کی بھابھی نے شرارتاً دونوں کو چھیڑا تھا۔

”نہيں۔۔ نہيں بھابھی کچھ نہيں ایسے ہی۔۔“
مہرو نے جواب دیا تھا۔
کچھ دیر مزید بیٹھنے کے بعد وہ واپس اپنے گھر آچکی تھی۔
مہرو کی باتوں نے حانم کو الجھا دیا تھا۔ وجہ کیا تھی یہ تو مہرو مل کر ہی بتا سکتی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حانم مہرو کی بات کو لے کر ساری رات سوچتی رہی تھی۔۔ اسے سمجھ نہيں آرہا تھا کہ مہروکو نیب آفس کے پاس کیا کام تھا۔۔؟؟
اس نے مہرو سے پوچھنے کیلیۓ دو تین بار اسکا نمبر ملایا تھا جو آف جا رہا تھا۔

”کیا مصیبت ہے یار۔۔؟؟“
وہ جھنجھلا گٸی تھی۔
اگلے دن بھی وہ اسکا نمبر ملاتی رہی تھی۔ ایک تو وہ چھٹیاں کر رہی تھی جو کہ غلط تھا اوپر سے فون بھی آف جا رہا تھا۔
حانم اپنے وقت پر ڈیپارٹمنٹ چلی گٸی تھی۔
تین بجے کا وقت تھا وہ کلاس لے کر فری ہوٸی تھی جب اسے مہرو کی کال آٸی تھی۔

”تم پہنچ رہی ہو نا نیب آفس۔۔؟؟“
مہرو پوچھ رہی تھی۔ حانم کا اسکی بات سن دماغ گھوما تھا۔

”تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے مہرو۔۔ فون کیوں بند تھا تمہارا اور تمہيں اس جگہ پر کیا کام ہے۔۔۔؟؟“
حانم نے غصے سے پوچھا تھا۔

”پلیز جلدی آٶ۔۔ میں ادھر ہی جا رہی ہوں۔۔“
مہرو کہہ کر فون بند کر چکی تھی جبکہ حانم سر تھام کر رہ گٸی تھی۔
اسے سمجھ نہيں آرہا تھا کہ کیا وہ کرے۔۔؟؟
کسی کو بھی بنا بتاٸے یوں کلاس چھوڑ کر اسکی بتائی جگہ پر پہنچنا حانم کیلیۓ بہت عجیب تھا۔
”کہیں مہرو کسی مصيبت میں تو نہيں۔۔؟؟“
اچانک اسکے ذہن میں خیال آیا تھا اور بالآخر وہ ہمت کرکے یونيورسٹی سے باہر نکل آٸی تھی۔

تین بج کر چالیس منٹ پر وہ نیب آفس کے سامنے تھی۔ وہاں آرمی کی کثير تعداد نظر آرہی تھی۔
حانم کا دل گبھرا رہا تھا۔ مہرو کا کہیں نام و نشان نہيں تھا۔
پندرہ منٹ وہ روڈ پر کھڑی رہی تھی۔ لوگ اسے عجیب و غریب نظروں سے گھور رہے تھے۔
اس نے اپنی بڑی سی چادر کو اچھے سے خود پر لپیٹ رکھا تھا اور آدھا منہ چھپا ہوا تھا۔
حانم نے کانپتے ہاتهوں سے موبائل نکالا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ مہرو کا نمبر ملاتی موبائل اسکے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گرا تھا۔
اس نے فٹافٹ جھک کر موبائل اٹھایا تھا جو بند ہوچکا تھا۔
حانم کے اب اوسان خطا ہوٸے تھے۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کتنی بڑی غلطی کر چکی تھی۔
ساڑھے چار ہوگٸے تھے لیکن مہرو نہيں آٸی تھی۔ شام کا اندھیرا پھیل چکا تھا۔
موسم ابر آلود ہورہا تھا۔ اور اسکا دل دھک دھک کر رہا تھا۔
اسے سمجھ نہيں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔
بار بار کوشش کرنے پر بھی اسکا موبائل آن نہيں ہوا تھا۔
اس جگہ پر وہ آٹو میں آگٸی تھی لیکن اب واپس جانے کی سمجھ نہيں آرہی تھی۔
گاڑیاں، لوگ اور ہر طرف پھیلا شور اسے پاگل کر رہا تھا۔
وہ ہمیشہ کالج سے گھر اور گھر سے کالج سے اکیلے گٸی تھی۔
لاہور میں رہنے کے باوجود اس نے دوسروں کی طرح لاہور پورا نہيں دیکھا تھا۔

جیسے ہی پانچ بجے تھے حانم کی آنکهيں نم ہونا شروع ہوٸی تھیں۔
اندھیرا پھیل چکا تھا۔ مہرو نہيں آٸی تھی وہ اسے کال بھی نہيں کر سکتی تھی۔ اس وقت سیچویشن ایسی تھی کہ حانم کا دماغ کام نہيں کر رہا تھا۔
اس نے دل سے دعا کی کہ اللہ اسکی مدد کرے۔ اور پھر کچھ دیر بعد ایک گاڑی اسکے سامنے رکی تھی۔

”تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔؟؟
آرجے نے گاڑی کا شیشہ نیچے کرتے ہوٸے پوچھا تھا۔
حانم اپنے سامنے آرجے کو دیکھ کر عجیب سی کیفیت میں مبتلا ہوگٸی تھی۔
پہلی بار اسے آرجے کو دیکھ کر اچھا لگا تھا۔ وہ اس وقت اسکے لیۓ ایک مسیحا بن کر آیا تھا۔

”وہ۔۔وہ میں۔۔“
حانم کے الفاظ ساتھ نہيں دے رہے تھے۔

”گاڑی میں بیٹھو۔۔“
اسکا انداز حکمیہ تھا۔
بنا کوٸی کچھ سوچے سمجھے حانم دوسری طرف کا دروازہ کھول کر گاڑی میں بیٹھ گٸی تھی۔
کچھ دیر گاڑی میں خاموشی چھاٸی رہی تھی۔
حانم کی آنکهيں چھلکنے کو تیار تھیں۔

”کسی کا انتظار کر رہی ہو۔۔؟؟“
آرجے نے نارمل سے لہجے میں پوچھا تھا۔

”مجھے ہاسٹل جانا ہے۔۔“
حانم نے خود پر قابو پاتے ہوٸے کہا تھا البتہ اسکی آواز رندھ گٸی تھی۔

”اوکے۔۔۔“
آرجے نے گاڑی کا رخ کیمپس کی طرف موڑ دیا تھا۔
”تم نے بتایا نہيں۔۔ یہاں کیا کر رہی تھی۔۔؟؟“
چند منٹ کی خاموشی کے بعد آرجے نے دوبارہ پوچھا تھا۔ جبکہ حانم اپنے آنسو ضبط کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔

”کیا ہوتا اگر آرجے وہاں نا آتا۔۔؟؟“
یہ سوچ کر ہی اسکی جان ہوا ہونے لگی تھی۔ اسے مہرو پر انتہا کا غصہ آرہا تھا اور اس سے بھی زیادہ خود پر جو بےوقوفوں کی طرح وہاں چلی آٸی تھی۔
حانم نے آرجے کی بات کا کوٸی جواب نہيں دیا تھا۔
آرجے کو اسکی خاموشی چڑا رہی تھی۔ اس نے گاڑی میں میوزک لگا دیا تھا۔

”پلیز اسے بند کردو۔۔“
حانم نے التجا کی تھی اسکا سر درد سے پھٹ رہا تھا۔
”اور گاڑی تیز چلاٶ مجھے جلدی ہاسٹل پہنچنا ہے۔۔“
اسے پریشانی ہورہی تھی کہ اگر وہ مقررہ وقت تک ہاسٹل نا پہنچی اور لیٹ ہوگٸی تو وارڈن اسے نہيں بخشے گی۔
اسکے بات کا آرجے پر الٹا اثر ہوا تھا اس نے گاڑی کی رفتار کم جبکہ میوزک کا والیوم تیز کردیا تھا۔
حانم نے آنکهيں میچ کر خود کو کچھ غلط کہنے سے روکا تھا۔ اس وقت وہ اسکے رحم و کرم پر تھی۔

”مجھے یہاں مہرو نے بلایا تھا کچھ کام تھا ہمیں لیکن وہ لیٹ ہوگٸی آ نہيں سکی۔۔“
بالآخر اسے بولنا ہی پڑا تھا۔ اسکی بات سننے کیلیۓ آرجے میوزک بند کیا تھا۔

”اوکے۔۔“
وہ بس اتنا ہی کہہ پایا تھا۔
خاموشی۔۔۔ خاموشی۔۔ ایک طویل خاموشی چھاگٸی تھی۔

”ویسے ہو تو تم پانچ فٹ چار انچ کی لیکن نخرہ کیوں ہے اتنا تم میں۔۔؟؟“
آرجے کی بات پر حانم نے حیرت سے رخ موڑ کر اسے دیکھا تھا۔
وہ اب اسے گھور رہی تھی۔

”ہاں نا۔۔ اتنی ہی ہاٸیٹ ہے تمہاری۔۔ ایک انچ اوپر نیچے ہو سکتا ہے۔۔“
وہ ڈھیٹوں کی طرح ہنسا تھا۔

”ویسے تمہارا میری گاڑی میں بیٹھنا اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یا تو میں نہایت باکردار لڑکا ہوں۔۔ یا پھر۔۔ تم بھی میرے ہی جیسی ہو۔۔!!
وہ قہقہہ لگا کر ہنسا تھا۔
حانم بس خود پر ضبط کر رہی تھی۔ وہ کچھ ایسا نہيں بولنا چاہتی تھی جس سے آرجے کو غصہ آتا اور وہ اسے چھوڑ کر چلا جاتا۔

”میری مجبوری کا فائدہ اٹھانے کی کوشش مت کرو۔۔“
حانم کا لہجہ کاٹ دار تھا۔
آرکے کا قہقہہ بلند ہوا تھا۔

”کیا بات ہے۔۔ ویسے نا مجھے تم میں کوٸی دلچسپی نہيں ہے۔۔ اگر ہوتی تو بھی میں زبردستی کا قاٸل نہيں ہوں۔۔
اور ویسے بھی مجھےیاد آیا تم تو میری قانونی بیوی ہو۔۔ میری گاڑی پر حق رکھ رکھتی ہو اسی لیۓ میں تم پر کوٸی احسان نہيں کر رہا بلکہ تم اپنا حق استعمال کر رہی ہو۔۔!!
وہ اسے چڑانے میں کوٸی کمی نہيں چھوڑ رہا تھا۔

”تمہارا نام کس نے رکھا تھا۔۔؟؟“
اب حانم کسی حد تک نارمل ہوچکی تھی۔

”میں نے خود۔۔“
وہ پھر ہنسا تھا۔

”روحان کی بات کر رہی ہوں۔۔“

”وہ مام نے رکھا تھا۔۔“
آرجے نے بتایا۔

”کیا تمہيں پتا ہے کہ روحان کا مطلب کیا ہے۔؟؟“
حانم نے پوچھا۔

”روحوں جیسا پاک صاف۔۔“
آرجے کے نا میں گردن ہلانے پر حانم نے بتایا تھا۔

”واٶٶ۔۔“
ناچاہتے ہوٸے بھی آرجے ہنسا تھا۔

”اور مجھے دنیا میں تمہاری روح سے زیادہ غلاظت میں لپٹی روح کسی اور کی نظر نہيں آٸی۔۔!!
آرجے کے قہقہے کو بریک لگی تھی۔ اچانک اسکے چہرے پر سختی چھاگٸی تھی۔

”اور مجھے اس چیز سے کوٸی فرق نہيں پڑتا کہ میں کیسا ہوں اور کیسا نہيں۔۔ اور تمہيں بھی مجھ پر اتنی گہری نظر رکھنے کی ضرورت نہيں ہے۔۔!!
وہ سخت سے لہجے میں بولا تھا۔
حانم خاموش ہوگٸی تھی۔

”کونسا ہاسٹل ہے تمہارا۔۔؟؟“
وہ لوگ گیٹ نمبر 4 سے ہاسٹل ایریا میں داخل ہوگٸے تھے۔
پہلے بواٸز ہاسٹل تھے۔ ہاسٹل ایریا میں رونق لگی ہوٸی تھی۔
ہر طرف لڑکے گھومتے نظر آرہے تھے۔
کچھ آگے آنے پر stc والے راستے پر لڑکياں اور لڑکوں کے گروپ چہل قدمی کر رہے تھے۔

”یہیں اتار دیں میں خود چلی جاٶں گی۔۔!!
حانم نے تمیز سے کہا تھا۔

”میں نے پوچھا ہاسٹل نمبر بتاٶ۔۔ اور نے فکر رہو
میں تم سے ملنے ہاسٹل نہيں آنے والا۔۔“
وہ ایک ایک لفظ چبا کر بولا تھا۔

”گیارہ۔۔“
حانم نے جواب دیا تھا۔

کچھ منٹ بعد وہ اسکے ہاسٹل کے سامنے کھڑے تھے۔
حانم بنا کچھ کہے گاڑی سے باہر نکلی تھی۔ اور فٹافٹ ہاسٹل کے گیٹ کی طرف بڑھ گٸی تھی۔
جیسے ہی وہ گیٹ کھول کر اندر داخل ہوٸی تھی آرجے نے ایک گہرہ سانس لیا تھا۔ شام کے سات بج رہے تھے۔
اب وہ گاڑی واپسی کیلیۓ موڑ چکا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حانم نے ہاسٹل آنے کے بعد شکرانے کے نفل ادا کیۓ تھے۔ اللہ نے اسکی حفاظت کی تھی۔
اسے مہرو پر شدید غصہ تھا۔ اور اسی غصے کی وجہ سے اس نے دوبارہ مہرو کو کال نہيں کی تھی۔

اگلے دن مہرو ہاسٹل آٸی تھی۔ اسکے سر پر پٹی بندھی ہوٸی تھی حانم اسے یوں دیکھ کر حیران رہ گٸی تھی۔

”سوری حانم کل جب میں تمہارے پاس آرہی تھی تو چھوٹا سا ایکسیڈینٹ ہوگیا تھا۔۔“
مہرو نے بتایا تھا۔
حانم کو اس پر جتنا بھی غصہ تھا وہ اسکی حالت دیکھ کر کم ہوا تھا۔

”پلیز معاف کردو۔۔ میں نے بعد میں تمہارا نمبر ملایا تھا لیکن وہ بند جارہا تھا۔۔“
حانم کے سردو جامد تاثرات دیکھ کر مہرو نے صفائی پیش کی تھی۔

”ٹھیک ہے۔۔“
حانم اتنی بھی پتھر دل نہيں تھی۔ اب وہ اس سے ڈرائيور کے بارے میں پوچھ رہی تھی جسے زیادہ چوٹ آٸی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں ڈیپارٹمنٹ کے لان میں بیٹھی تھیں۔
مہرو کے والد کا اسلام آباد میں ٹرانسفر ہوا تھا وہ لوگ کچھ دنوں تک وہاں شفٹ ہونے والے تھے۔ مہرو کا ابھی کنفرم نہيں تھا۔
حانم اسے منع کر رہی تھی کہ وہ نا جاٸے۔
وہ افسردہ تھی۔
جب مہرو اسے یقین نہيں دلا سکی تو اس نے موبائل نکال کر یوٹیوب کر ویڈیوز دیکھنی شروع کردی تھیں۔

”جتنا وقت تم ان ویڈیوز دیکھنے میں لگاتی ہو اگر اتنا پڑھو نا تم تو ٹاپ کرجاٶ۔۔ آرجے نہيں “
اس بار بھی آرجے نے ٹاپ کیا تھا۔
”تم بھی آرجے جتنی ذہین تو ہو ہی نا۔۔“

”آرجے ذہین نہيں چالاک ہے مہرو۔“
حانم نے موبائل پر نظریں گاڑے جواب دیا تھا۔

”ذہین اور چالاک میں کیا فرق ہوا بھلا۔۔“
مہرو نے اچنبھے س پوچھا تھا۔

”چالاک تو ابلیس بھی تھا مہرو۔۔ اگر وہ ذہین ہوتا تو شیطان نا ہوتا۔۔!!
حانم کی بات نے مہرو کو گنگ کردیا تھا۔ وہ بہت گہری بات کہہ گٸی تھی۔

اور ان سے کچھ فاصلے پر پیچھے کھڑے آرجے کے قدم جو مہرو سے کچھ پوچھنے آیا تھا پتھر کے ہوٸے تھے۔
اس نے دانت بھینچ کر خود پر قابو پایا تھا اور پھر واپس پلٹ گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں کیفے پر بیٹھی تھیں۔ موسم کافی خوشگوار تھا۔

ان سے کچھ فاصلے پر مکی اور آرجے دوسرے ٹیبل پر بیٹھے تھے۔
آرجے مکی سے کچھ بات کر رہا تھا جبکہ مکی کی نظریں موبائل کی سکرین پر جمی تھیں۔
آرجے نے ہاتھ بڑھا کر مکی سے موبائل چھینا تھا۔

مکی اس وقت کوٸی چیٹنگ پڑھ رہا تھا۔۔ میسج چیٹنگ۔۔
نبمر پر X_H لکھا ہوا تھا۔ وہ مکی کی کوٸی ایکس گرل فرینڈ تھی جس سے اب اسکا بریک اپ ہو چکا تھا۔

”آرجے موبائل واپس کرو۔۔“
مکی ایک دم بوکھلا گیا تھا۔

”تم ابھی تک اسے بھولے نہيں ہو۔۔“
آرجے نے پوچھا۔

”بھول چکا ہوں۔۔ بس تم موبائل واپس کرو۔۔“
مکی اس سے موبائل چھیننے کی کوشش کر رہا تھا لیکن آرجے نے نہيں دیا۔
کچھ سوچتے ہوٸے آرجے نے وہ نمبر ملایا تھا۔ مکی کے چہرے کا رنگ فق ہوا تھا۔
بیل جا رہی تھی۔ انکے سامنے دوسرے میز پر رکھا ہوا حانم کا موبائل بجا تھا۔ آرجے چونکا تھا۔
حانم نے موبائل اٹھا کر دیکھا تھا اور نمبر دیکھ کر اسکے چہرے کا رنگ اڑا تھا۔ اس نے کال فوراً کٹ کی تھی۔

آرجے نے دوبارہ کال ملاٸی تھی۔ اس بار پھر حانم کے موبائل پر رنگ ہوٸی تھی۔ حانم نے کانپتے ہاتهوں سے کال ریسیو کی تھی۔

”ہیلو۔۔“
اسکی آواز میں غصہ اور خوف دونوں تھے۔
آرجے کو وہ منظر صاف دکھاٸی دیا تھا۔
کال اٹھانے اور ہیلو بولنے والی حانم تھی۔ آرجے کو یونيورسٹی کی بلڈنگ اپنے سر پر گرتی ہوٸی محسوس ہو رہی تھی۔
اس نے جھٹکے سے مکی کی طرف دیکھا تھا جو پھیکے پڑتے چہرے کے ساتھ کبھی حانم تو کبھی آرجے کو دیکھ رہا تھا۔۔
اس نے آرجے کو دیکھتے ہوٸے نفی میں سرہلایا تھا جیسے کہہ رہا ہو۔۔”مت کرو آرجے“

آرجے کا دماغ چکرایا تھا۔۔ اسے اپنی آنکهوں کے سامنے اندھیرا چھاتا محسوس ہو رہا تھا۔
یعنی وہ ہانی ام حانم ہی تھی۔۔۔جو مکی کی گرل فرینڈ تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: