Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 29

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 29

–**–**–

آرجے نے جھٹکے سے مکی کی طرف دیکھا تھا جو پھیکے پڑتے چہرے کے ساتھ کبھی حانم تو کبھی آرجے کو دیکھ رہا تھا۔۔
اس نے آرجے کو دیکھتے ہوٸے نفی میں سرہلایا تھا جیسے کہہ رہا ہو۔۔”مت کرو آرجے“

آرجے کا دماغ چکرایا تھا۔۔ اسے اپنی آنکهوں کے سامنے اندھیرا چھاتا محسوس ہو رہا تھا۔
یعنی وہ ہانی ام حانم ہی تھی۔۔۔جو مکی کی گرل فرینڈ تھی۔

جبکہ دوسری طرف حانم پریشان سی موبائل کی سکرین کو گھور رہی تھی۔
آرجے فون بند کرتے ہوٸے اٹھا تھا اور ڈیپارٹمنٹ کی طرف بڑھ گیا۔

”آرجے میری بات سنو۔۔“
مکی اسکے پیچھے لپکا تھا۔ لیکن آرجے رکنے والا نہيں تھا۔

”کیا ہوا ہانی کس کا فون تھا۔۔؟؟“
مہرو نے پوچھا تھا۔

”آں۔۔ہاں وہ۔۔“
حانم گڑبڑا گٸی تھی۔ اس سے پہلے وہ کچھ کہتی مہرو کے موبائل پر رنگ ہوٸی تھی۔

”بھاٸی کی کال ہے۔۔“
مہرو نے کہتے ہوٸے کال ریسیو کی تھی۔ اور پھر بات سننے کے بعد اسکے چہرے کے رنگ اڑے تھے۔

”کیا ہوا مہرو سب ٹھیک ہے نا__؟؟
حانم نے پوچھا تھا۔

”میں آتی ہوں بھاٸی__“
مہرو جواب دیتے ہوٸے بوکھلاہٹ میں اٹھی تھی۔

”سب ٹھیک تو ہے نا__؟؟“
حانم نے دوبارہ پوچھا تھا۔

”نہيں ہانی۔۔ ماما کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہے بھاٸی ہاسٹل کے باہر میرے انتظار کر رہے ہیں مجھے جانا ہوگا۔۔!!“
مہرو نے کانپتی آواز سے اسے بتایا تھا۔

”اللہ خیر کرے۔ تم دھیان سے جاٶ__“
مہرو اثبات میں سر ہلاتی آگے بڑھ گٸی تھی جبکہ حانم واپس اپنی جگہ پر بیٹھ گٸی تھی۔ اسکے سامنے جوس کا گلاس رکھا تھا۔
کچھ دنوں سے سب غلط ہو رہا تھا۔ پہلے مہرو کی امی کو ہارٹ اٹیک، مہرو کا اسے نیب آفس کے پاس بلانا، مہرو کا ایکسڈینٹ، رات اس نے پھر سے وہی خواب دیکھا تھا جس میں کسی نے اسے آگ اگلتے دریا میں دھکا دے دیا تھا____
اس آگ کی جلن حانم کو محسوس ہوتی تھی۔

اور اب اس ملک کی کال آنا__ حانم کی کسی انہونی کا احساس ہو رہا تھا۔ اسکا دل کانپ رہا تھا__
وہ کیفے سے اٹھنے کے بعد ڈیپارٹمنٹ کی طرف بڑھ گٸی تھی۔ اسکی اساٸمنٹ مکمل نہيں تھی صبح جمع کروانی تھی۔

”اگر میں ہاسٹل چلی گٸی تو سوجاٶں گی کیوں نا لاٸبریری میں بیٹھ کر مکمل کرلوں__“
حانم سوچتے ہوٸے لاٸبریری کی طرف بڑھ گٸی تھی۔

آج جنت روڈ پر سٹوڈنٹس کا رش نہيں تھا۔۔ روڈ اور کیفے خالی خالی سا نظر آرہا تھا
پہلی وجہ تو یہ تھی کہ جنت روڈ کے دونوں تقریباً آٹھ دس ڈیپارٹمنٹ تھے۔ جن میں سے کچھ ڈیپارٹمنٹس کے فاٸنل پیپرز لیٹ ہوٸے تھے اور اب انہيں سمیسٹر بریک تھی۔۔ اس لیۓ کافی ڈیپارٹمنٹ بند تھے۔
جبکہ دوسری وجہ یہ تھی کہ اس دن فیصل آڈیٹوریم میں ٹیکنالوجی پر ایک بہت بڑا سیمینار تھا جس میں بڑی بڑی شخصيات نے شرکت کرنی تھی۔ انکے ڈیپارٹمنٹ کے بھی تقریباً سبھی سٹوڈنٹس وہاں گٸے ہوٸے تھے۔
حانم کا سیمینار میں جانے کا موڈ نہيں تھا۔
وہ لاٸبریری میں بیٹھی انہماک سے اساٸمنٹ بنا رہی تھی جب اسکے موبائل پر واٸبریشن ہوٸی۔
لاٸبریری میں ایک دو سٹوڈنٹس تھے۔
حانم نے موبائل دیکھا ملک کی کال تھی__جو ابھی کچھ دیر پہلے بھی آٸی تھی اور وہ مہرو میں الجھ کر بھول گٸی تھی۔
نمبر دیکھ کر حانم کی تیوری چڑھی تھی۔ اس نے غصے سے کال اٹھاٸی تھی۔

”ہیلو__“
حانم کی آواز سے بھی غصہ جھلک رہا تھا۔

ّکیسی ہو مس ہانی۔۔؟؟“
کاٹ دار لہجے میں پوچھا گیا تھا۔

”ذرا ڈیپارٹمنٹ کے گراؤنڈ میں تشریف لاٸیں گی آپ___“
اس سے پہلے حانم کچھ بولتی وہ دوبارہ بولا تھا۔ حانم کو وہ آواز جانی پہچانی محسوس ہوٸی تھی۔اسکی ایک کمزوری تھی۔ وہ آوازوں میں جلدی سے فرق محسوس نہيں کر پاتی تھی۔
اگر مہرو بھی کسی انجان نمبر سے اسے کال کرتی تھی تو حانم کافی دیر بعد اسے پہچانتی تھی۔

”کک۔۔کون__؟“
حانم کا گلہ خشک ہوا تھا۔

”ہاہاہا___“
دوسری طرف سے آرجے کا قہقہہ بلند ہوا تھا۔۔ وہ اسکے قہقہہ لگانے کے انداز سے پیچان گٸی تھی۔

”ذرا گراؤنڈ میں تشریف لے آٸیں پھر بتاتا ہوں“
وہ کہہ کر فون بند کر چکا تھا۔

حانم کو اپنی روح فنا ہوتی محسوس ہو رہی تھی۔
”ملک ہی آرجے ہے۔۔؟؟ نہيں یہ نہيں ہو سکتا__“
حانم کا دل ڈوب گیا تھا۔۔ اسے جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا تھا__ملک نام کے ڈر کا سانپ اسکے سینے میں کنڈلی مارے بیٹھا تھا جو آج اسکے اندر سے نکلا تھا___
حانم کے ہاتھ اور ٹانگیں باقاعدہ کانپ رہی تھیں۔
موبائل اسکے ہاتھ سے چھوٹ کر گود میں جا گرا تھا اور وہ خشک ہوتے ہلق کے ساتھ حالات کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی__

______________________

یہ ان دنوں کی بات ہے جو وہ فرسٹ ایٸر میں تھی اور اس نے نیا نیا کالج جانا شروع کیا تھا۔
مہرو اور وہ دونوں ایک ہی کالج میں پڑھتی تھیں۔
کالج گھر سے کافی فاصلے پر تھا۔ اکثر دیر ہوجانے کے باعث آسیہ بیگم کافی پریشان ہوتی تھیں۔
کچھ پیسے جمع کرنے کے بعد انہوں نے حانم کو ایک چھوٹا سا الگ موبائل لے کر دے دیا تھا۔
بیشک انکے گھر میں غربت تھی لیکن زندگی ایک پرسکون ندی کی مانند بہہ رہی تھی۔ اور اس ندی میں پہلا پتھر ملک کے آنے سے پڑا تھا۔

فرسٹ ایٸر میں انہوں نے کالج میں سینٸرز کلاسز کو Fare well پارٹی دی تھی۔
مہرو اپنا اسمارٹ فون لاٸی تھی۔ چونکہ کالج میں صرف لڑکياں ہی تھیں اس لیۓ وہ دونوں خوب اچھے سے تیار ہوٸی تھیں۔مہرو نے اچھی اچھی کافی فوٹوز بناٸی تھیں۔
وہ دونوں بہت پیاری لگ رہی تھیں۔ خاص طور پر حانم____
اور شاید یہی اسکی بدقسمتی تھی۔

”مہرو یہ کون ہے___؟؟“
مکی مہرو کے موبائل میں فکنشن کی تصویریں دیکھ رہا تھا جب اسکی نظر مہرو کے ساتھ مسکراتی حانم پر پڑی تھی۔

”یہ ہانی ہے میری بیسٹ فرینڈ__“
مہرو نے جواب دیا تھا۔

”یہ پیاری ہے۔ معصوم بھی۔“

”ہاں۔ یہ بہت اچھی اور نیک لڑکی ہے__“
مہرو نے سرسری سے انداز میں جواب دیا تھا۔
مہرو کے نیک کہنے پر مکی دل میں ہنسا تھا۔

”اچھا یار چاٸے تو پلادو اتنے دنوں بعد گھر آیا ہوں___“
مکی نے شکوہ کیا تھا۔
اور مہرو اثبات میں سر ہلاتی کمرے سے چلی گٸی تھی۔
مکی نے خباثت سے ہنستے ہوٸے حانم کا نمبر اسکے موبائل سے لیا تھا۔

”پتا چل جاٸے گا کتنی نیک اور پارسا ہے___“
وہ شیطانی ہنسی ہنسا تھا۔

____________________________

”ہیلو ہانی____“
حانم اپنا کمیسٹری کا ٹیسٹ یاد کر رہی تھی جب اسکے موبائل پر بیل ہوٸی تھی۔
اجنبی نمبر دیکھ کر اسے حیرانی ہوٸی تھی۔
مکی نے مہرو کے موبائل سے نمبر لینے کے پورے ایک ماہ بعد حانم کو میسج کیا تھا۔

”کیسی ہو۔۔؟؟“
حانم ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ یہ نمبر کس کا تھا تبھی دوسرا مسیج موصول ہوا۔
وہ شش و پنج میں متلا تھی کہ ریپلاٸے کرے یا نہ کرے تبھی اس نمبر سے کال آٸی تھی۔
حانم نے کال ریسیو کی تھی۔

”ہیلو ہانی میں ملک___“
لڑکے کی آواز اور اسکے منہ سے اپنا نام سن کر حانم دھک سے رہ گٸی تھی۔
اس نے فوراً کال کاٹنے کے بعد موباٸل بند کردیا تھا۔

اور پھر یہ سلسلہ بند نہيں ہوا تھا۔ روز صبح و شام میسج آنے لگے۔
کبھی حسن کے قصیدے پڑھے جاتے تو کبھی اسکی معصومیت کے__
حانم کو سمجھ نہيں آرہا تھا کہ اسے تنگ کرنے والا کون تھا۔
جہاں مہرو اسے اپنی چھوٹی چھوٹی بات بتاتی تھی وہيں حانم اپنے بڑے بڑے اس سے چھپاتی تھی__
یہ اسکی فطرت تھی شاید،

”آخر تم کون ہو کیوں مجھے تنگ کرتے ہو___؟؟“
حانم نے جھجھلا کر پوچھا تھا۔

”تم پر مرمٹا ہوں،دوستی کا خواہاں ہو__“
اسکی بےباکی پر حانم کے چہرے پر ناگواری ابھری تھی۔
اور اس نے کوٸی جواب نہيں دیا تھا۔

_____________________
”پہلی لڑکی ہے یار جو قابو نہيں آرہی دو ماہ ہوگٸے ہیں۔۔“
مکی آرجے کے سامنے صوفے پر براجمان خباثت سے کہہ رہا تھا۔

”لگے رہو۔۔ ایک نا ایک دن مان جاٸے گی، دنیا میں ایسی کوٸی لڑکی نہيں جو پھسلتی نا ہو، بس کچھ وقت لیتی ہیں اور کچھ لمحوں میں پگھل جاتی ہیں___“
آرجے کا نایاب مشورہ دستیاب تھا۔

اور پھر مکی نے ہار نہيں مانی تھی۔

”دیکھو پلیز ایک بار بات کرلو۔ میں باقی لڑکوں جیسا نہيں ہوں، میں بہت الگ ہوں میں سچ میں تمہيں پسند کرتا ہوں___“
ایک بھولی بھالی لڑکی جسکی دنیا اسکی چھوٹی سی فیملی تھی۔ جس نے آساٸشیں نہيں دیکھی تھیں۔۔
وہ اسکی چکنی چپڑی باتوں پر پگھلنے لگی تھی۔

مرد کو اللہ تعالیٰ نے بہت شاطر دماغ دیا ہے۔ وہ اپنی باتوں سے کسی بھی عورت کو بہلا،پھسلا اور ورغلا سکتا ہے،
اس میں بھی قصور عورت کا ہوتا ہے جو وہ پگھل جاتی ہے___

دو ماہ کی انتھک محنت کے بعد آخر وہ اسکی طرف ماٸل ہوہی گٸی تھی۔
”میرا نام ملک ہے___“
مستقیم ملک عرف مکی نے اپنا تعارف کروایا تھا۔
حانم نے ہمیشہ محرومیاں دیکھی تھیں۔ باپ کی محرومی، ضروریات کی محرومی، خواہشات کی محرومی__
بہت سے لاڈ اور پیار کی محرومی،
اسکے اندر ایک خلا تھا۔۔
گھر میں رونے دھونے والے حالات دیکھ کر اسکا دل کڑھتا تھا، ایسے میں جب ملک اس سے بات کرتا تھا تو وہ اسے خوابوں کی دنیا میں لے جاتا تھا___
لیکن یہ سلسلہ زیادہ دن نہيں چل سکا تھا۔
حانم کا ضمیر اسے کچوکے لگاتا تھا،
وہ جانتی تھی یہ سب غلط ہے، انسان معصوم ہے جبکہ شیطان شاطر ہے،
اسے شیطان نے کیسے ورغلایا تھا یہ وہ خود بھی نہيں جانتی تھی،
ملک سے بات کرتے ہوٸے بھی ضمیر کا شور اسے سکون نہيں لینے دیتا تھا__
اس روز جواد کو ساٸیکل چاہیۓ تھی۔ آسیہ بیگم یا کسی اور کے پاس اتنے پیسے نہيں تھے کہ وہ اسے ساٸیکل لا کر دے سکتے۔۔

”بابا ہمیں کیوں چھوڑ گٸے ہیں آپی۔۔ کیوں چلے گٸے وہ۔۔؟؟“
جواد نے روتے ہوٸے سوال پوچھا تھا۔ جبکہ حانم خود رودی تھی۔

”ملک تم چھوڑ تو نہيں جاٶ گے___؟؟“
اس روز پہلی بار حانم نے ایک لمبے میسج کی شکل میں بہت سے الفاظ لکھ کر بھیجے تھے۔ورنہ وہ بس ہوں، ہاں میں جواب دیتی تھی۔

”وہ پوچھ رہی ہے مجھے چھوڑ تو نہيں دو گے۔۔؟؟“
مکی نے آرجے سے پوچھا تھا۔

”اسے کہو کبھی نہيں میری جان___“
آرجے کے جواب پر دونوں کا قہقہہ ابھرا تھا۔

اس رات حانم سو نہيں پاٸی تھی۔ وہ ساری رات سوچتی رہی تھی۔ ضمیر نے اسے یہ بات سمجھا دی تھی کہ وہ غلط کر رہی ہے۔
اسکی نمازیں قضا ہونے لگی تھیں، اسکی پڑھاٸی متاثر ہورہی تھی۔
سب سے بڑی بات اسکے چہرے کی رونق ماند پڑ گٸی تھی__
ملک سے بات کرنے کا گناہ اسکے جسم سے کسی جونک کی طرح چمٹ گیا تھا جو لمحہ بہ لمحہ اسکا خون چوس رہی تھی__

”کیا ہوگیا ہے ہانی تم مجھ سے بات کیوں نہيں کرتی ہو۔۔؟؟“
حانم کے اگنور کرنے پر ملک نے شکوہ کیا تھا۔

”میں تم سے ملنا چاہتا ہوں__“
اسکی اگلی بات سن کر حانم کا دماغ بھک سے اڑا تھا۔
اس نے فوراً موبائل آف کیا تھا۔ اس نے تو کبھی اس چیز کا تصور بھی نہيں کیا تھا۔
حانم کا دل ملک سے اکتانے لگا تھا۔ اسکی باتيں حانم کا دل خراب کرتی تھیں۔
جو تھوڑی سی دلچسپی پیدا ہوٸی تھی وہ اسکی چیپ باتوں سے ختم ہوگٸی تھی۔

وہ اسکا نمبر بلاک نہيں کرسکتی تھی کیونکہ اسکے پاس موبائل سادہ تھا۔
اسی گھبراہٹ،ڈر اور گناہ کے تصور میں اسے بخار ہوگیا تھا۔
وہ پورا مہینہ بیمار رہی تھی۔
اپنے گناہ پر روتی تھی۔ پچھتاتی تھی،
آسیہ بیگم اسے بیمار دیکھ کر خود ہلکان ہوگٸی تھیں۔
حانم کو اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا تھا۔اتنی پیاری ماں تھی اسکے پاس جو اس پر جان دیتی تھی اور وہ اپنی ماں کو دھوکہ دے رہی تھی۔
حانم کا دل ڈوب گیا تھا۔۔۔ آنسوٶں سے تکیہ بھیگنے لگا تھا__
وہ ساری ساری رات روتی تھی۔

”تم مجھ سے بات کیا کرو ہانی۔۔ میں تمہارے بنا نہيں جی سکتا__“

”مجھے ڈر لگتا ہے ملک__“

”ڈر۔۔؟؟ لیکن کس سے۔۔؟؟“

”اللہ سے___“
اور ملک اسکی بات سن کر حیران رہ گیا تھا۔

”اللہ کا واسطہ ہے میرا پیچھا چھوڑ دو۔ میں تمہیں پسند نہيں کرتی اور نا کبھی کرونگی۔ آٸند مجھے میسج مت کرنا___“
حانم نے اس سے التجا کی تھی۔
وہ ٹھیک ہونے لگی تھی۔ رو رو اپنے گناہوں کی معافی مانگی تھی۔
سترہ سال اور کچھ ماہ عمر تھی اسکی اس وقت۔۔ اور اسکے ضمیر نے اسے کتنے بڑگ گناہ سے بچا لیا تھا__

اسکے چہرے کی رونق لوٹ آٸی تھی لیکن جب بھی وہ اسے میسج کرتا تھا حانم کو سب یاد آنے لگتاتھا۔ اسکا دل اذیت سے بھر جاتا ہے__
اسے محسوس ہونے لگا تھا کہ وہ اب باکردار نہيں رہی تھی۔
اپنی کی گٸی چھوٹی سے غلطی نے اسکے اندر تلخی بھر دی تھی۔
اور وہ ملک یعنی مکی بھی اسکی جان نہيں چھوڑ رہا تھا۔
وہ اسے کبھی نا کبھی میسج کرتا رہتا تھا۔
دو سال گزر گٸے تھے حانم نے فورتھ ایٸر کے اگزامز بھی دے دیٸے تھے۔
لیکن وہ اسے نہيں بھولا تھا اور نا حانم کو بھولنے دیتا تھا۔
جب حمدان انکل نے اسے موبائل گفٹ کیا تھا تب حانم نے نمبر بدل لیا تھا۔
لیکن کچھ دن بعد کچھ ضروری نمبر کاپی کرنے کیلیۓ اس نے اپنی پرانی سم موبائل میں ڈالی تھی۔
وہی وہ دن تھا جب زبیدہ آپا اسکے لیۓ طارق کا رشتہ لے کر آٸی تھی۔
وہ پہلے ہی دکھی تھی اوپر سے ملک کے میسج نے کہ ”بھول گٸی ہو تم مجھے۔۔“
اسکے اندر تک خاک کر ڈالا تھا۔

تب حانم نے روتے ہوٸے اسے دوتین سالوں بعد میسج کیا تھا کہ
”خدا سے ڈر اے ابن آدم۔۔خدا سے ڈر___“
اسکے ان الفاظ نے مکی کو اندر تک جھنجھوڑ ڈالا تھا۔
تب حانم نے ملک سے دوٹوک بات کرنے کا فصلہ کیا تھا۔ اس نے نمبر دوبارہ آف نہيں کیا تھا بلکہ سوچ رکھا تھا کہ اس بار اگر اس نے کال یا میسج کیا تھا وہ اس سے صاف صاف بات کرے گی___
لیکن اسکے ان الفاظ نے مکی کے ہاتھ جکڑ دیے تھے۔ اس نے کبھی دوبارہ کال یا میسج نہيں کیا تھا اور یوں حانم بھی جیسے ان واقعات کو برا خواب سمجھ کر بھول گٸی تھی__
لیکن یہ اسکی سب سے بڑی غلطی تھی۔ آج پھر وہ اسکے سامنے کھڑا تھا۔ تقریبا ایک سال کے عرصے کے بعد___

________________________

وہ لاٸبریری میں بیٹھی خود کو نارمل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس نے کبھی خواب میں بھی نہيں سوچا تھا کہ اسکا سامنا کبھی ملک سے ہوگا۔
اور ملک۔۔ وہ بھی آرجے۔۔
حانم کے دماغ میں ساٸیں ساٸیں ہو رہی تھی۔
وہ کانپتے قدموں سے کھڑی ہوٸی تھی۔ اسے بلاوہ آیا تھا اور جانا ہی تھا۔
خود کو گھسیٹتی وہ گراؤنڈ کی طرف بڑھ گٸی تھی جہاں اجل اسکا انتظار کر رہی تھی۔

__________________________

”آرجے میری بات سمجھنے کی کوشش کرو جو تم کر رہے ہو وہ ٹھیک نہيں ہے۔۔“
مکی نے گراؤنڈ میں رکھے لکڑی کے بینچ پر بیٹھے آرجے سے کہا تھا جو اپنی انگلیوں کی مد سے اپنی کنپٹیوں کو سہلا رہا تھا۔

”میں سب جانتا ہوں تم اپنی بکواس بند کرو۔“
آرجے دھاڑا تھا۔ تب اسکی نظر بیگ تھامے انکی طرف قدم بڑھاتی حانم پر پڑی تھی۔ تیز ہوائیں اسکے ڈوپٹے کو اڑا کر لےجانے کی کوشش کر رہی تھیں لیکن اس نے اپنی چادر کو اچھی طرح سے سنبهالا ہوا تھا۔
اسے اپنی طرف آتا دیکھ کر مکی کے دل کو کچھ ہوا تھا۔

”آٸیے آٸیے۔۔ میڈم ہانی۔۔ آپ ہی کا انتظار ہو رہا تھا___“
جیسے ہی وہ انکے قریب پہنچی تھی آرجے نے زہرخند لہجے میں کہا تھا۔

”یہاں کیوں بلایا ہے مجھے۔۔؟؟“
حانم کا لہجہ سخت تھا۔

”بتاتے ہیں اتنی بھی کیا جلدی ہے۔۔ جاٸیں پہلے وہ پڑھیں۔۔“
آرجے نے اسے گراٶنڈ میں لگے پودے کی طرف اشارہ کیا تھا جس پر ایک اشتہار لگا تھا۔
حانم الجھن زدہ چہرے کے ساتھ اس پودے کی طرف بڑھ گٸی۔

سفید کاغذ پر لکھے لفظوں کو پڑھ کر حانم کی روح فنا ہوٸی تھی۔ وہ اسکی اور مکی کی باتیں تھیں اوپر اسکا نام اور نمبر لکھا تھا۔
آرجے انکی کنورسیشن کے سکرین شاٹ لے کر انکے پرنٹ نکلوا لیۓ تھے۔
گراؤنڈ میں ہر طرف دیواروں اور پودوں پر وہ پرنٹ چسپاں تھے۔
وہ کرنٹ کھا کر پلٹی تھی۔

” لڑکيوں کو لگتا ہے کہ وہ اپنی طرف سے اگر پیغامات اور نمبر کو ختم کردینگی تو سب واقعی ختم ہو کر پہلے جیسا ہوجاٸے گا___لیکن یہ لڑکيوں کی خام خیالی ہوتی ہے، وہ پیغامات ہمیشہ کیلیۓ نامہ اعمال اور مرد کے پاس مخفوظ رہتے ہیں، نامہ اعمال سے تو شاید توبہ اور ندامت کے آنسوں ان پیغامات اور گناہوں کو مٹادیں لیکن ایک مرد کے پاس سے ان گناہوں کا مٹنا نامکمن ہے___“
آج اسکے گناہ اژدھے کا روپ دھار کر اسے نگلنے کو تیار کھڑے تھے۔
وہ تین چار سال پہلے ڈر گٸی تھی کہ رب کی پکڑ بڑی شدید ہے___
اور آج وہ پکڑ میں آچکی تھی۔

حانم کا دل اتنی زور سے دھڑک رہا تھا جیسے ابھی پسلیاں توڑ کر باہر نکل آٸے گا، اس نے خشک ہوچکے ہونٹوں پر زبان پھیری تھی۔
آسمان پر سیاہ بادلوں نے اندھیرا سا کردیا تھا، اور کچھ ایسی ہی سیاہی اسکے مقدر پر مل دی گٸی تھی۔

”واہ مس حانم واہ! جس لڑکی کا یونيورسٹی میں کوٸی بواٸے فرینڈ نہيں وہ لڑکی مکی ملک کی جی ایف نکلی۔۔ واہ“
آرجے کا لہجہ کاٹ دار تھا۔ اس نے تالیاں بجا کر داد تھی۔
حانم کو ایک اور جھٹکا لگا تھا۔
مستقیم ملک،
اس نے کبھی غور کیوں نہيں کیا تھا کہ مکی ہی ملک ہوسکتا تھا۔ اور وہ مہرو کا کزن بھی تھا۔۔ اسکے پاس نمبر بھی آسکتا تھا__
حانم نے مکی کو دیکھا تھا جو نظریں چرا گیا تھا۔

”آرجے میری بات سنو۔۔“

”تم خاموش رہو۔۔!!
مکی کی بات پر آرجے دھاڑا تھا۔

”میں دنیا میں منافق لوگ دیکھے ہیں لیکن تم سے کم۔۔“
وہ حانم کی طرف بڑھا تھا۔
حانم کی پوری جان کانپ رہی تھی۔

”میں نے شاطر لڑکياں دیکھی ہیں لیکن تم سے کم۔۔،
کیا کہا تھا تم نے کہ میری روح سے غلاظت لپٹی ہے۔۔ اپنے بارے میں کیا خیال ہے تمہارا__؟؟

وہ صور پھونک رہا تھا۔۔ اور حانم جل کر خاک ہورہی تھی۔
اسکے پاس اپنی صفائی میں کہنے کو کچھ نہيں تھا۔
سارے ثبوت اسکے خلاف تھے۔ وہ کچھ نہيں کر سکتی تھی۔
آسمان پر پھیلی سیاہی کسی طوفان کی آمد کا پتا دے رہی تھی۔

”مجھے زندگی میں پہلی بار محسوس ہوا تھا کہ ام حانم دنیا کی سب سے الگ لڑکی ہے لیکن تم تو سب سے گھٹیا نکلی__
آرجے نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا تھا۔ اسکے بال بکھرے پڑے تھے۔

”بڑا غرور تھا نا تمہيں اپنے کردار پر۔۔ لیکن کس بات کا غرور ہے۔۔ یہ کاغذ دیکھ رہی ہو یہ تمہاری بدکرداری کا منہ بولتا ثبوت ہیں___!!
حانم آنکهيں میچ گٸی تھیں۔ وہ شاید آنکهوں میں آٸی نمی کو چھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔

کچھ دن پہلے اسی گراؤنڈ میں وہ دنوں اسی موسم میں بیٹھے دنیا کے حسین ترین لوگ لگ رہے تھے۔۔ اور آج اسی گراؤنڈ میں انکی بدولت اتنی بدصورتی پھیلی تھی۔

”وہ جس لڑکی کو میں نے دنیا میں پہلی بار نیک سمجھا تھا وہ میرے ہی دوست کی گرل فرینڈ نکلی۔۔ یقین نہيں ہوتا___
وہ خود بھی جل رہا تھا۔

اس وقت آرجے کا دل کر رہا تھا کہ وہ ہر چیز کو بھسم کردے۔۔
مکی کو حانم کو اور پھر خود کو بھی۔۔
اسکی آنکهيں شعلے اگل رہی تھیں۔۔ اور حانم بھسم ہو رہی تھی۔

دنیا میں آرجے کو اتنی نفرت کسی سے نہيں ہوٸی تھی جتنی اس وقت اسے اپنے سامنے کھڑی اس لڑکی سے ہورہی تھی۔

”یہ تو سنا تھا کہ سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی۔۔ آج دیکھ بھی لیا___“
حانم کا دل کیا تھا زمین پھٹے اور وہ اس میں دفن ہوجاٸے__
”تمہيں تو سب نے الگ سمجھا تھا لیکن تم بھی وہی نکلی نا تھرڈ کلاس،ماں باپ سے چھپ کر مَردوں سے باتیں کرنے والی____“
حانم نے مٹھیاں بھینچی تھیں۔ اذیت کی ایک گہری لہر اسکے جسم و جان میں پھیل گٸی تھی۔
آرجے نے گویا تابوت میں آخری کیل ٹھونکا تھا۔
حانم اور اسکا کردار اتنا بدصورت تھا یہ حانم کو آج پتا چلا تھا۔

”سنو۔۔ بس مکی ہی تھا یا پھر اور بھی تھے۔۔ کسی سے تو ملی ہوگی نا،
اور اب۔۔۔ اب کتنے لڑکوں سے چکر ہے تمہارا__؟؟
وہ اس طرح سے بولتا نہایت بھونڈا لگ رہا تھا۔

حانم نے کچھ کہے بنے واپسی کی طرف قدم بڑھاٸے تھے۔
ڈیپارٹمنٹ کے باہر اجل منہ کھولے اسکا انتظار کر رہی تھی__
سب ختم ہوا تھا، سب کچھ، اور وہ خود بھی،

”تم ایسے نہیں جاسکتی۔۔۔“
آرجے چلایا تھا۔۔ حانم کے قدم رکے تھے۔
بارش نے حانم کے خاک ہوتے وجود پر پہلی بوند برساٸی تھی۔

وہ مرے مرے قدموں سے مکی طرف بڑھی تھی۔ اس نے اپنی چادر کو ہلنے نہيں دیا تھا۔

”اور تو تم مستقیم تھے نا___ میں عورت ہوں بھٹکنا مقدر تھا بھٹک گٸی، اللہ نے ہمیشہ مستقیم کو صراط کے ساتھ رکھا ہے، صراط المستقیم۔۔ سیدھا راستہ__تم کیسے بھٹک گٸے____تم تو مستقیم تھے___؟؟
کتنی التجاٸیں کی تھیں کہ معاف کردو مجھے،نہيں کیا نا__ تم تو کر سکتے تھے نا تم تو مستقیم تھے___“
وہ رو رہی تھی۔ اسکی آواز رندھ چکی تھی۔ وہ اسکی آنکهوں میں دیکھ رہی تھی۔
مکی کا دل کانپا تھا۔
وہ کچھ کہنے لگا تھا لیکن حانم آرجے کی طرف بڑھ گٸی تھی۔

“جو کچھ آپ نے کہا بالکل ٹھیک کہا، ایک ایک لفظ سچا ہے، میں کسی چیز سے انکار نہيں کر رہی،
لیکن میری ایک دعا ہے،
جس دن ہر ذی روح کو زندہ کیا جاٸے گا اور مُردوں کو قبروں سے اٹھایا جاٸے گا نا میری دعا ہے کہ ہمارا اس دن بھی سامنا نہ ہو___!!
حانم نے آنکهوں میں آٸی نمی کو ہاتھ کی ہتھیلی سے رگڑتے ہوٸے کہا تھا۔
وہ پلٹی تھی۔

”تم جیسی منافق لڑکی کو دیکھنا بھی کون چاہے گا۔۔!!“
آرجے چلا کر کہا تھا۔

ڈیپارٹمنٹ سے باہر جنت روڈ جہنم کا روپ دھارے آگ کے شعلے اگل رہی تھی۔
آج حانم سب ہار گٸی تھی،
اپنی معصومیت__
اپنی ہنسی___
اپنا کردار___
اپنا اعتماد___
اپنی نیک نامی___
اپنی ذات___
اور شاید،
اپنی زندگی بھی___
اسکی سانسوں کی ڈور الجھ رہی تھی، حانم کو اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہو رہا تھا،
بارش کسی طوفان کی طرخ برس رہی تھی۔
مکی نے نم آنکهوں سے اسے ڈیپارٹمنٹ سے باہر جاتے دیکھا تھا، اور پھر سب ختم ہوگیا تھا__!!

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: