Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 3

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 3

–**–**–

آنکھ میں آنسو نہيں پر رلاتا ہے بہت
وہ دسمبر،ہر دسمبر،یاد آتا ہے بہت

ساتھ میرے بھیگتا ہے بارشوں میں بیٹھ کر
یاد کے سارے دریچے کھول جاتا ہے بہت

روندتا ہے یہ جہاں کی ساری دیوایں کھڑی
دو قدم پر لا کر اسکو آزماتا ہے بہت

مسکراہٹ“گنگناہٹ،قہقہے،باتیں تیری
خواب بن کر رات بھر مجھ کو جگاتا ہے بہت۔۔

مجھ کو دے جاتا ہے چھپ کر اسکی خوشبو کا پتہ
ایک دیوانے کو یہ پاگل بناتا ہے بہت۔۔!!

پچھلے ایک گھنٹے سے وہ سوشل میڈیا پر مختلف اکاٶنٹس کو چیک کر رہی تھی لیکن وہ شخص اسے کہیں بھی نظر نہيں آیا تھا۔
بیٹھے بیٹھے اسکی نازک کمر اکڑ گٸی تھی مگر اسکے تجسس میں ذرا برابر بھی کمی نہيں آٸی تھی۔
”بس کرو ماہی اور کتنا ڈھونڈو گی اسے۔۔؟“
ایلا نے اکتا کر ماہی سے پوچھا جسکے خوبصورت چہرے پر عجیب سی چمک تھی۔

جب وہ مل نہيں جاتا ماہی اسے ڈھونڈتی رہے گی۔۔!!!

”مجھے سمجھ نہيں آتا کہ پانچ منٹ کی ملاقات میں وہ شخص تم پر کیا جادو کر گیا ہے کہ جو تم یوں خوار ہو رہی ہو۔۔۔؟؟“

”یہی بات تو میں جاننا چاہتی ہوں۔۔ اس سے مل کر پوچھنا چاہتی ہوں کہ ماہی پر کیسا جادو کیا ہے اس نے۔۔۔؟؟“
ماہی شوق سے مسکرٸی تھی۔

”وہ تمہیں نا ہی ملے تو بہتر ہے جب بنا ملے یہ حال ہے یہ تو جانے مل کر کیا ہوگا۔۔؟؟“
ایلا نے لیپ ٹاپ اسکے سامنے سے اٹھاتے ہوئے کہا۔

”تمہارے منہ میں خاک۔۔ میرا لیپ ٹاپ واپس کرو۔۔!!“
ماہی سخت بدمزہ ہوٸی۔
”پہلے ڈنر۔۔۔ تمہیں یاد ہے نا کہ ہم نے پلان بنایا تھا آج ڈنر باہر کرینگے۔۔ مجھے بھوک لگی ہے جلدی اٹھو۔۔ بعد میں ڈھونڈتی رہنا اپنے عشق گمشدہ کو۔۔“
ایلا نے اسے ہاتھ سے پکڑ کر کھڑا کیا۔

”ڈھونڈنے دو نا ایلا۔۔ شاید مل ہی جاۓ۔۔ “

“”اے عشق مجھے مل زرا مجھے قرار ملے””

ماہی کے لہجے میں حسرت تھی۔

”ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے ماہی۔۔ اور وہ چیز اپنے وقت پر ملتی ہے۔۔ اگر اسے ملنا ہوا نا۔۔ تو خود ہی مل جائے گا“

”ارے واہ ایلا۔۔ بڑی سمجھدار ہوگٸ ہو۔۔“
ماہی نے ایلا کا گال کھینچا۔

”تعریف بعد میں کرنا جاٶ تیار ہوجاٶ میں دعا کرونگی وہ شخص ایک بار تمہيں ضرور ملے“

”آمین۔۔آمین۔۔آمین۔۔۔“
ماہی کی خوشی دیکھنے لاٸق تھی۔

”میں بس ابھی آٸی تیار ہو کر۔۔ بس پانچ منٹ میری پیاری دوست۔۔“
ماہی اسکے گال کو پیار سے تھپتاتی کمرے کی سمت بھاگی تھی جبکہ ایلا اسکے پاگل پن پر دھیرے سے مسکرا دی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”ہشام“
وہ بہت محویت سے کتاب پڑھنے میں مشغول تھا جب آواز پر چونکا۔

”جی چھوٹے بابا ساٸیں۔۔“
وہ ایک دم پلٹا۔
”ارے آپ یہاں۔۔ مجھے بلا لیا ہوتا میں آجاتا“
ہشام نے سید جبیل کو اسٹڈی روم کے دروازے میں کھڑا دیکھا تو کہا۔

”کوٸی بات نہيں۔۔ یہ بتاٶ تمہارا لاڈلا آرہا ہے یا نہيں۔۔؟“

”بابا ساٸیں آپ اندر تو آٸیں۔۔پھر بتاتا ہوں“
ہشام نے کتاب(خانہ بدوش) کو ایک طرف رکھتے ہوئے کہا اور اپنی جگہ سے کھڑا ہوگیا۔

”نہيں بیٹا مجھے ذرا ضروری کام ہے یہ بتاٶ وہ آرہا ہے یا نہيں۔۔؟“

”جی بابا ساٸیں۔۔ میری بات ہوٸی تھی اس سے وہ آرہا ہے۔۔“
ہشام نے مسکرا کر جواب دیا۔

اس نے وعدہ کیا ہے آنے کا
رنگ دیکھو غریب خانے کا

“جوش ملیح آبادی”

ایک شفیق سی مسکراہٹ جو اسکی شخصیت کا حصہ تھی۔

”چلو شکر۔۔۔ اس پر بھی کچھ پڑھ کر پھونک دو جس سے وہ سدھر جائے ناک میں دم کردیا ہے اس لڑکے نے۔۔“
سید جبیل شاید بہت ہی تنگ تھے اس انسان سے جس کا وہ ذکر کر رہے تھے۔

”آپ فکر نا کریں بابا ساٸیں میں اسے سمجھاٶں گا اب وہ کچھ الٹا سیدھا نہيں کرے گا“
ہشام نے اعتماد سے کہا تھا لیکن یہ بات وہ بھی اچھے طریقے سے جانتا تھا کہ ساری دنیا بدل سکتی تھی۔۔ قیامت آ سکتی تھی لیکن ”وہ“ کبھی سدھر نہيں سکتا تھا۔

”ٹھیک ہے تم آرام کرو۔“
سید جبیل چلے گئے۔۔۔ جبکہ ہشام صرف مسکرا کر رہ گیا تھا۔ اور موبائل اٹھا کر اسکا نمبر ملانا شروع کیا جسکی ابھی ابھی تعریف ہوٸی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Cause I wanna touch you, baby
And I wanna feel you, too
I wanna see the sunrise and your sins
Just me and you
Light it up, on the run
Let’s make love, tonight
Make it up, fall in loVe

گاڑی میں میوزک کی آواز کانوں کے پردے پھاڑ دینے کے برابر تھی لیکن وہ آرام سے ڈرائيونگ کرنے کے ساتھ ساتھ گنگنا بھی رہا تھا۔

”ہے مکی۔۔“
اس نے آواز کم کرتے ہوئے پچھلی سیٹ پر دراز مکی کو پکارہ۔

”یس۔۔بڈی۔۔“
مکی نے جواب دیا۔

”گھر جا رہا ہوں میں کل۔۔ تم نے جانا ہے؟“
دبلا پتلا سا وہ لڑکا اپنے دوست سے پوچھ رہا تھا۔

”میرا گھر جا کر بور ہونے کا کوٸی ارادہ نہيں ہے سنو تم بھی جلدی آجانا“
مکی جواب دے کر دوبارہ موبائل کی طرف متوجہ ہو چکا تھا۔ جبکہ میوزک کی آواز ایک بار دماغ میں چبنے لگی تھی۔

But you’ll never be alone
I’ll be with you from dusk till dawn
I’ll be with you from dusk till dawn
Baby, I’m right here
I’ll hold you when things go wrong
I’ll be with you from dusk till dawn
I’ll be with you from dusk till dawn
Baby, I’m right here
I’ll be with you from dusk till dawn
Baby, I’m right here

We were shut like a jacket
So do your zip
We will roll down the rapids
To find a wave that fits
Can you…

اس نے گاڑی سڑک کے کنارے کھڑی کی اور سیٹ سے ٹیک لگا کر آنکهيں بند کرلی۔
دو گھنٹے کی پرفارمنس کے بعد وہ تھوڑا سا تھک گیا تھا۔
جانے اسکا دماغ کہاں پہنچا ہوا تھا جب اچانک گاڑی کے شیشے پر کسی نے دستک دی۔
اس نے جھٹ سے آنکهيں کھولیں۔ اسکی سماعت دوسروں کی نسبت کافی تیز تھی۔

اس نے اکتا کر گاڑی کا شیشہ نیچے کیا تو سامنے کھڑے وجود کو دیکھ کر جہاں اسکی آنکهوں کی چمک بڑی اسی پل چہرے پر ناگواری ابھری۔
سامنے ایک سجی سنوری لڑکی کھڑی تھی۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اس علاقے میں اس وقت کونسی عورت مل سکتی تھی۔

”کیا میں اندر بیٹھ سکتی ہوں۔۔“
لڑکی نے ایک ادا سے پوچھا۔

”جی جی بالکل۔۔ آٸیے۔۔“
اس سے پہلے وہ کچھ کہتا مکی اس لڑکی کی دعوت قبول کر چکاتھا اور وہ لڑکی بھی گاڑی کی پچھلی سیٹ کی طرف بڑھ گٸی۔

”یار گاڑی چلاٶ۔۔“
مکی نے لڑکی کو اندر بٹھانے کے بعد خباثت سے مسکرا کر کہا۔
وہ بنا کچھ کہے گاڑی آگے بڑھا چکا تھا۔ اس نے ایک بار بھی پیچھے نہيں دیکھا تھا اور وہ جانتا تھا بھی تھا مکی کیا کر رہا ہوگا۔

”کب سے کر رہی ہوں یہ کام۔۔؟؟“
جانے کیوں اس نے پہلی بار کسی سے سوال کیا تھا۔
”پچھلے پانچ سال سے “
لڑکی نے سنبھل کر جواب دیا۔

”وجہ۔۔؟“

”شوہر نے طلاق دے دی تھی چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ان پڑھ ہوں کوٸی کام ملا نہيں۔خاندان میں دوبارہ کسی نے شادی نہيں کی مجھ سے۔۔ آخر مجھے اس طرف آنا پڑا۔“
لڑکی حیران تھی کہ کوٸی پہلی بار اس سے کچھ پوچھ رہا تھا۔

”کیا یار۔۔۔ ایسے سوال کر کے کیوں دل خراب کر رہے ہو۔۔؟“
مکی کو اسکی مداخلت پسند نہيں آٸی تھی۔

اس نے ساتھ والی سیٹ پر رکھے بیگ سے ہاتھ بڑھا کر پیسے نکالے اور پیچھے لڑکی کی طرف پھینکے۔۔

”جاٶ اب یہاں سے۔۔“
گاڑی روکنے کے بعد حکم دیا گیا۔
وہ لڑکی اور مکی دونوں حیران تھے۔

”کیا سچ میں صاحب۔۔؟“
لڑکی کو یقین نا ہوا۔

”دفع ہو جاٶ اب۔۔“
وہ دھاڑا۔
اور لڑکی ایک پل بھی ضائع کیے بنا گاڑی سے باہر نکل گٸی تھی۔
اور اس نے دوبارہ گاڑی جھٹکے سے آگے بڑھا دی۔

”پیچھے بیٹھے مِکی کی سمجھ میں کچھ نہيں آیا۔۔ وہ تو اپنے حساب برابر رکھنے والا شخص تھا پھر آج کیسے۔۔؟؟
مکی سوچ رہا تھا لیکن کچھ پوچھا نہيں۔ وہ جانتا تھا کہ آگے بیٹھے شخص کا دماغ کسی بھی وقت الٹ سکتا تھا۔
البتہ اسکا موڈ بری طرح خراب ہوگیا تھا۔

ّ“ہمارے ہندو دھرم میں طلاق نہيں ہے۔۔ تم مسلم لوگ طلاق کیوں دیتے ہو۔۔؟ اگر طلاق کے بعد اس عورت سے کوٸی شادی نا کرے اور مجبواً وہ جسم فروشی پر آجاۓ تو اسکا ذمہ دار کون ہوتا ہے۔۔؟؟ تم لوگوں سے اچھا تو ہمارا دھرم ہے جس میں طلاق ہے ہی نہيں اور عورت ہمیشہ اپنے پتی کے ساتھ رہتی ہے۔۔“
اسکے ذہن میں آج صبح اسکی پوسٹ پر ایک انڈین لڑکی نے جو کمینٹ کیا تھا وہ گونج گیا تھا۔
وہ لڑکی وقتاً فوقتاً اس سے عجیب و غریب سوال پوچھتی رہتی تھی۔ خود وہ اسکی مداح بتاتی تھی۔ لیکن اسکے سوال ہمیشہ اچھے ہوتے تھے۔

لیکن آج شالنی نے جو سوال کیا تھا اس سے اسکا دماغ بری طرح گھوم گیا تھا۔

“I am not a Muslim”
اس نے بس یہ جواب دیا تھا۔
“O Really۔۔??”
شالنی کو زبردست جھٹکا لگا تھا۔ اسکے بعد وہ ہزار کمینٹ کر چکی تھی۔ میسج کر چکی تھی لیکن اس نے جواب دینا ضروری نہيں سمجھا تھا۔
اور اب اس وقت اس لڑکی کو دیکھ کر اسے وہ سوال یاد آگیا تھا۔ اس لیے اسکا دماغ بری طرح سے گھوم گیا تھا۔
میوزک کی آواز وہ اور زیادہ بلند کر چکا تھا۔ جبکہ مکی نے چپ رہنے میں ہی عافیت جانی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”کیا ہوا ہے ہانی آج کل تمہارا دھیان پڑھاٸی میں بالکل بھی نہيں ہے۔ کوٸی پریشانی ہے کیا؟“
وہ دونوں کلاس لے کر باہر نکلی تھیں جب مہرو نے اپنی بہترین دوست ہانی سے پوچھا جو واقعی کافی دنوں سے الجھی الجھی نظر آتی تھی۔

”نہيں تو ایسی کوٸی بات نہيں ہے۔۔!“
حانم نے ٹالنا چاہا۔

”مس ام حانم۔۔ عرف ہانی۔۔ تم نے مجھے اتنا بےوقوف سمجھا ہے کیا جو میں تمہاری خاموشی محسوس نہيں کر پاٶنگی؟“

”میں سوچ رہی ہوں کہ کوٸی جاب کرلوں۔۔ لیکن سمجھ نہيں آتا کہ جاب دے گا کون مجھے۔۔؟“

“”میری غربت نے اڑایا ہے میرے فن کا مزاق”””

“”تیری دولت نے تیرے عیب چھپا رکھے ہیں”””

حانم پریشان تھی۔

”اووہ۔۔ پیسوں کا مسٸلہ ہے؟“
مہرو نے اکیڈمی کے اس چھوٹے سے لان میں بیٹھتے ہوئے پوچھا جہاں شام کی مدھم مدھم دھوپ چمک رہی تھی۔

”ہاں۔۔ مسٸلے ہی مسٸلے ہیں۔۔ داخلہ فیس جمع کرانی ہے۔ دکانوں سے جو پیسے آتے ہیں وہ میری،ماہم اور جواد کی فیس میں چلے جاتے ہیں جبکہ باقی گھر کے خرچے میں۔۔ اب داخلہ فیس کہاں سے لاٶں۔۔ اماں سے مانگتے ہوئے شرم آتی ہے۔۔ وہ پریشان ہوجاۓ گی“
دھوپ نے اسکے معصوم چہرے کی چمک کو مزید بڑھا دیا البتہ آنکهيں اداس تھیں۔

”بس اتنی سی بات۔۔ بتاٶ مجھے کتنے پیسے چاہیۓ میں لادونگی صبح۔۔“
مہرو نے دوستی کا حق ادا کرتے ہوئے کہا۔

”نہيں مہرو۔۔ میں خود کچھ کرنا چاہتی ہوں۔۔“

”اچھا چلو تم پریشان مت ہو اللہ بہتر کرے گا۔۔“
مہرو نے اسکا ہاتھ ہلکہ سا دبایا۔

اس سے پہلے وہ کچھ کہتی حانم کے بیگ سے واٸبریشن کی آواز ابھری۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر موبائل بیگ سے نکالا۔ یہ ایک چھوٹا کیپیڈ موبائل تھا۔ شاید کسی کا میسج آیا تھا۔

”تم سے بہت کچھ کہنا ہے مگر
کبھی تم نہيں ملتے،کبھی الفاظ نہيں ملتے۔۔“

نمبر دیکھ کر اسکے رگ و جاں میں ایک زہر سے پھیل گیا تھا۔ اس نے میسج فوراً ڈیلیٹ کیا اور موبائل غصے میں بیگ میں پٹخا۔

”آرام سے ہانی کیا ہوا۔ کس کا میسج تھا؟“
مہرو نے پوچھا۔

”پتا نہيں کوٸی رونگ نمبر تھا اور فکر مت کرو یہ کوٸی سمارٹ فون نہيں ہے جو ٹوٹے گا یا خراب ہوگا۔۔ پچھلے ایک سال سے استعمال کر رہی ہوں ابھی تک کچھ نہيں بگڑا اسکا۔“
جانے وہ کیوں اتنی تلخ ہوگٸ تھی۔
یا پھر حالات نے اسے ایسا بنا دیا تھا۔

”اچھا یہ سب چھوڑو۔۔ بتاٶ چاۓ پیو گی؟“
مہرو نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔

“جی۔۔“
حانم نے اثبات میں سر ہلایا۔

”اچھا تم بیٹھو میں لے کر آتی ہوں۔“
مہرو یہ کہہ کر کینٹین کی طرف بڑھ گٸی تھی جبکہ اس نے ایک گہری سانس لی تھی۔ جانے تقدیر اسکے ساتھ کیا کرنا چاہتی تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تنقید آپ کا حق ہے ضرور کیجیے لیکن مدلل دلیل کے ساتھ بے پرکی ہانکنے سے اجتناب کیا جائے شکریہ

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: