Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 30

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 30

–**–**–

اسکی سانسوں کی ڈور الجھ رہی تھی، حانم کو اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہو رہا تھا،
بارش کسی طوفان کی طرح برس رہی تھی۔
مکی نے نم آنکهوں سے اسے ڈیپارٹمنٹ سے باہر جاتے دیکھا تھا، اور پھر سب ختم ہوگیا تھا__!!

”یہ تم نے اچھا نہيں کیا آرجے۔۔“
مکی اسکی طرف بڑھا تھا۔

”تم اپنی بکواس بند رکھو۔۔
آرجے نے مکی کو دھکا دیا تھا۔ وہ لڑکھڑا کر پیچھے ہٹا تھا۔
”تم سب جانتے تھے، تم نے بتایا نہيں مجھے___“
آرجے کی آنکهيں سرخ انگارہ ہورہی تھیں۔ تیز ہوا کے ساتھ بارش پتھروں کی مانند انکے جسم سے ٹکرا رہی تھی۔

”سب پتا تھا تمہيں، کیوں چھپایا مجھ سے۔۔ کیوں___؟؟“

”مجھے نہيں پتا تھا کہ جس حانم کا تم ذکر کرتے ہو وہی ہانی ہے، جس دن میں نے اسے یونيورسٹی میں دیکھا تب مجھے پتا چلا تھا،
میں نے صرف اس لیۓ نہيں بتایا کہ یہ کوٸی اتنی بڑی بات نہيں تھی، اور مجھے لگا تھا کہ تمہيں شاید برا لگے گا___“
آرجے نے ڈرتے ڈرتے صفائی دی تھی۔

”مجھے کیوں برا لگتا؟؟ کیوں برا لگتا ہاں۔؟؟ تم مجھے پہلے بتا دیتے تو میرے ذہن میں اسکی اچھاٸی کا خاکہ نا بنتا___“
آرجے کا دل جل رہا تھا، لیکن کیوں؟ یہ وہ خود نہيں جانتا تھا۔

”مجھے لگا شاید تم حانم کو پسند کرتے ہو اس لیۓ___

”پسند۔۔؟؟ ماٸے فٹ__
ایسی لڑکياں نفرت کے قابل بھی نہيں ہوتيں!!“

”پہلے بھی ایسی ہزار لڑکياں ہماری زندگی میں آٸی ہیں پہلے تو تم نے کبھی ایسے ری ایکٹ نہيں کیا۔۔ پھر آج کیوں۔۔؟؟“
مکی نے سوال اٹھایا تھا۔

”کیونکہ وہ لڑکياں جیسی ہوتی ہیں ویسی دکھتی ہیں، اچھاٸی کا لبادہ پہن کر مردوں کو گمراہ نہيں کرتیں۔۔!!
آرجے نے منہ پر ہاتھ پھیر کر بہتے پانی کو صاف کیا تھا۔

”وہ اچھی لڑکی ہے آرجے تم نے اسکے ساتھ اچھا نہيں کیا____!!“

”تم اسکی اتنی طرفداری کیوں کر رہے ہو۔۔؟؟ تمہيں عشق تو نہيں ہوگیا اس سے۔۔؟؟“
آرجے کا لہجہ جلا کر خاک کردینے کی مانند تھا۔
مکی ساکت ہوا تھا۔

”دنیا میں واحد لڑکی حانم ہے جسکی میں نے دل سے عزت کی ہے__“
مکی کا لہجہ اسکی بات کی سچائی کا اعتراف کر رہا تھا۔

”کیا اچھا ہے اس میں۔۔کیوں کرتے ہو تم اس بدکردار لڑکی کی عزت__ اسکا تم سے افیٸر رہا ہے!!“

”شٹ اپ آرجے۔۔ جسٹ شٹ اپ___“
مکی دھاڑا تھا۔ اس نے پہلی بار آرجے کے سامنے اس طرح بات کی تھی۔

”بدکردار نہيں ہے وہ یہ تم بھی جانتے ہو، پوچھو اپنے دل سے___
اور جہاں تک بات ہے اسکی پارساٸی کی تو میں گواہ ہوں۔۔ ہاں میں گواہ ہو ام حانم کی پاکیزگی،اسکے ایمان کا___!!“
آرجے غصے مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا تھا۔ ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ کسی لڑکی کی وجہ سے ان میں لڑائی ہوٸی تھی۔

”اور آج میں وہ کنورسیشن ڈلیٹ کرنے والا تھا جب تم نے میرے ہاتھ سے موبائل چھینا،
اور میرا کوٸی غلط رشتہ نہيں تھا اس سے، کبھی بن ہی نہيں پایا، میری باتيں اور تمہارے ڈاٸیلاگ، اگر تمہيں یاد ہوں تو حانم کو اس راستے پر گھسیٹ ہی نہيں پاٸے، اسکی حفاظت کی گٸی ہے، ایک لڑکپن کی نادانی کی وجہ سے تم نے اسے بدکراد بنا دیا، واہ___!!
مکی کی آواز رندھ گٸی تھی اسے حانم کی حالت دیکھ کر خوف آیا تھا، وہ خاموش بنا بددعا دیٸے چلی گٸی تھی اور مکی اللہ کو ماننے والا تھا، اتنا تو وہ جانتا تھا کہ جو بد دعائيں دی نہيں جاتیں، وہ تباہ کر دیتی ہیں۔

”پتا ہے جب اس نے مجھے کہا تھا کہ خدا سے ڈر اے ابن آدم، خدا سے ڈر، میں واقعی ڈر گیا تھا___!!“
اسکی آنکھ سے آنسو پھسلا تھا جو بارش کی بوندوں جذب ہو کر گم ہوگیا تھا۔
مکی اب گراؤنڈ میں لگے ان اشتہارات کی طرف بڑھا تھا جو آرجے وہاں لگاٸے تھے۔
تیز بارش نے ان اشتہارات کو کافی حد تک خراب کردیا تھا،
مکی نے ہاتھ بڑھا کر وہ سارے اشتہارات اتارے اور پھر پھاڑے تھے۔
آرجے لکڑی کے بینچ پر دونوں ہاتهوں سے سر تھام کر بیٹھا تھا۔
تیز طوفانی بارش، اور بادلوں کی دل دہلا دینے والی گرج و چمک کی وجہ سے ڈیپارٹمنٹ کے گیٹ کے پاس بنے سیکیورٹی روم سے کوٸی گارڈ باہر نہيں نکلا تھا۔
جو سٹوڈنٹس ڈیپارٹمنٹ میں موجود تھے وہ ڈیپارٹمنٹ کے اندر کینٹین اور چھوٹے سے لان میں بارش سے لطف اٹھا رہے تھے۔
مکی نے اپنے قدم ڈیپارٹمنٹ سے باہر کی جانب بڑھا دیٸے تھے۔ پورے جنت روڈ کے دونوں طرف دیواروں پر لگے اشتہارات وہ اپنے ہاتھوں سے پھاڑ رہا تھا، جن پر ام حانم کا باقاعدہ نام،سمیسٹر اور رولنمبر واضح تھا۔

مکی کے جانے کے پندرہ منٹ بعد وہ اپنی جگہ سے اٹھا تھا۔ آرجے کو اپنا دماغ گھومتا محسوس ہو رہا تھا___
وہ جنت روڈ پر پیدل چل رہا تھا، وہ خود نہيں جانتا تھا کہ اس نے اپنے ساتھ کیا کیا تھا، وہ خود نہيں جانتا تھا کہ اس نے آج کیا کھویا تھا___
اسکے دماغ میں بس غصہ، اور نفرت بھری تھی۔

وہ اپنی نفرت میں اتنا اندھا ہوگیا تھا کہ اسے یہ نظر نہيں آیا کہ جنت روڈ کے دونوں طرف ایک بھی اشتہار نہيں تھا___

“خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَعَلٰى سَمْعِهِمْ ۗ وَعَلٰىۤ اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَّلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ○
البقرہ

”اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑ گیا ہے وہ سخت سزا کے مستحق ہیں“
_________________________

حانم نہيں جانتی تھی کہ اس نے ڈیپارٹمنٹ سے ہاسٹل کا فاصلہ کیسے طے کیا تھا۔۔؟؟ اسکا دماغ ساٸیں ساٸیں کر رہا تھا۔۔
کمرے میں آنے کے بعد اس نے دروازے کو کنڈی لگاٸی تھی۔

”اللہ_______

بیگ بیڈ پر پھینکنے کے بعد اس نے دل دہلا دینے والی چیخ ماری تھی۔ باہر بادلوں کی گرج و چمک میں اسکی چیخ کہیں دب کر رہ گٸی تھی۔
وہ فرش پر بیٹھ گٸی تھی۔ اور اپنے سر کو گھٹنوں میں دیٸے ہزیانی انداز میں رو رہی تھی۔

کتنی دعائيں مانگی تھیں اس نے اللہ سے کچھ بھی ہوجاٸے اسے اسکی کم عمری کی ایک چھوٹی سی نادانی کی وجہ سے رسوا نا کیا جاٸے__
وہ کبھی کسی شخص کے راز فاش نہيں کرتی تھی اور اس نے اللہ سے بدلے میں یہی امید لگاٸی تھی، پھر کیسے آج اسے رسوا کردیا گیا____
حانم کا دل پھٹ رہا تھا،
اس نے زندگی میں پہلی بار موت کی خواہش کی تھی،
اتنی تذلیل، اتنی رسواٸی۔۔؟؟
حانم کا لگ رہا تھا جیسے اسکے دماغ کی کوٸی رگ پھٹ جاٸے گی_
کیوں ہوا تھا اسکے ساتھ ایسا__؟؟

”اللہ_____
اسکا رواں رواں تڑپ رہا تھا، اور اللہ کو پکار رہا تھا__
اسکا سسکیاں لیتا وجود آہستہ آہستہ ساکت ہوا تھا اور وہ فرش پر ڈھے گٸی تھی۔

___________________________

”ماہم تمہاری ہانی سے بات ہوٸی ہے کیا۔۔؟؟“
آسیہ بیگم نے ماہم سے پوچھا تھا۔

”نہيں امی۔۔“
ماہم نے موبائل سے نظریں اٹھا کر جواب دیا تھا۔

”پتا نہيں میری کل سے اس سے بات نہيں ہوٸی، عجیب سا دل ہو رہا ہے، اللہ خیر کرے__!!“

”امی آپ فون کرلیں۔۔“
ماہم نے مشورہ دیا تھا۔

”کب سے نمبر ملارہی ہوں بیل جا رہی ہے لیکن وہ فون نہيں اٹھا رہی__!!
آسیہ بیگم کے لہجے میں واضح پریشانی تھی۔

”اچھا آپ پریشان نا ہوں مصروف ہوگی، یا سوٸی ہوگی، اسکا موبائل اکثر ساٸیلنٹ پر ہوتا ہے جب دیکھے گی تو کرلے کی آپکو فون__“
ماہم نے حوصلہ دیا تھا لیکن آسیہ بیگم کے دل کو قرار نہيں آیا تھا۔
وہ بے چینی میں بار بار حانم کا نمبر ملا رہی تھیں۔

_______________________

ایک عجیب سے احساس کے ساتھ حانم کی آنکھ کھلی تھی،
کمرے میں اندھیرا تھا، اذان کی آواز آرہی تھی۔
اسے اپنے سر سے درد کی ٹھیسیں اٹھتی محسوس ہو رہی تھیں۔
اسے سمجھ نہيں آرہا تھا کہ کس وقت کی اذان ہورہی تھی،
اور اذان کی آواز اسکے زندہ ہونے کا ثبوت تھا۔
وہ ٹھنڈے فرش پر اوندھے منہ پڑی تھی،
دماغ میں ایک فلم سی چلنے لگی تھی۔ حانم کی سسکی ابھری تھی۔

”امی___“
وہ دوبارہ پھر رو دی تھی۔ دماغ سے اٹھنے والا درد اسے پاگل کر رہا تھا۔
فون کی گھنٹی بج رہی تھی۔
حانم میں اٹھنے کی ہمت نہيں تھی۔ مشکل سے اس نے بیڈ تک پہنچ کر بیگ سے فون نکالا تھا۔
موبائل کی تیز روشنیوں اسکی آنکهوں سے ٹکراٸی تو اسکے دماغ میں ایک چبھن سی ہوٸی تھی۔
آسیہ بیگم کا فون تھا۔ حانم کا دل تڑپ اٹھا تھا۔

”ہیلو امی___“
حانم کی آواز نہيں نکل رہی تھی۔

”کہاں ہو تم ہانی میں کب سے فون کر رہی ہوں فون کیوں نہيں اٹھا رہی ہو۔۔؟؟“
آسیہ بیگم پریشان سی پوچھ رہی تھیں۔

”امی۔۔“
حانم رو دی تھی۔

”کیا ہوا ہانی تم ٹھیک تو ہو نا۔۔؟؟“
اسے سسکیاں سن کر آسیہ بیگم کا دل لرز اٹھا تھا۔

”امی میرا سر___“
حانم سے بولا نہيں جا رہا تھا۔

”کیا ہوا سر کو۔۔؟؟ درد ہو رہا ہے۔؟؟ دواٸی لے لیتی۔۔ مہرو کہاں ہے۔۔؟“

”مہرو نہيں ہے__“
حانم مشکل سے بول پاٸی تھی۔

”اچھا میں ڈرائيور کو بھیج رہی ہوں تم فکر نا کرو بس تیار رہو یا میں آجاٶ ساتھ__!!“
آسیہ بیگم خود بوکھلا گٸی تھیں۔ وہ پہلے ہی حانم کے ہاسٹل جانے پر راضی نہيں تھیں اب اسے تکلیف میں دیکھ کر انکی خود کی جان ہوا ہورہی تھی۔

”ڈرائيور انکل کو بھیج دیں__!!“
حانم مشکل سے کہہ کر فون بند کر چکی تھی۔
اسے روشنی تکلیف دے رہی تھی۔
بیگ سے بوتل نکال کر ایک گھونٹ پانی پیا تھا،
وہ سوچنا نہيں چاہتی تھی لیکن آرجے کا حقارت بھرا لہجہ اور آنکهيں بار بار اسکے سامنے آرہی تھیں۔

اس نے کمرے میں لگا زیرو بلب روشن کرکے اپنے کچھ کپڑے بیگ میں رکھے تھے، اپنے گیلے کپڑے بدلنے کی اس میں سکت نہیں تھی۔
اسکا وجود ابھی بھی کانپ رہا تھا، سسکیاں تھمنے کا نام نہيں لے رہی تھیں۔
ڈرائيور کا انتظار کرتے کرتے ایک بار پھر وہ بےہوشی کی دنیا میں چلی گٸی تھی۔

________________________

”پریشان مت ہو آسیہ سب ٹھیک ہوگا ان شاء اللہ،“
حمدان انکل انہيں سمجھا رہے تھے۔

”حمدان میری بچی سسکیوں سے رو رہی تھی۔ اور ایسا اس وقت ہوتا ہے جب وہ شدید تکلیف میں ہو۔۔“
حمدان انکل کچھ دیر پہلے آفس سے آٸے تھے۔آسیہ بیگم کو یوں پریشان اور آنسوں صاف کرتا دیکھ کر وہ خود پریشان ہوگٸے تھے۔

”تم مجھے کال کر دیتی میں چلا جاتا ہانی کو لینے، یا پھر خود چلی جاتی۔۔ بس اب ڈرائيور اسے لے کر آتا ہی ہوگا تم پریشان نا ہو۔۔“
وہ اسے دلاسہ دے رہے تھے۔

”اوپر سے موسم اتنا طوفانی ہو رہا ہے میرا دل جانے کیوں بہت گھبرا رہا ہے__!!

”اچھا میں رحیم کو کال کر کے پوچھتا ہوں تم پلیز پریشان مت ہو۔۔“
وہ اپنا موبائل نکالتے ہوٸے اٹھ کھڑے ہوٸے تھے۔

_______________________

دروازے پر دستک کی زور دار آواز اسکے دماغ پر ہتھوڑے کی طرح لگ رہی تھی۔
حانم نے مشکل سے آنکهيں کھولی تھیں۔

”ام حانم تمہارے گھر سے ڈرائيور تمہيں لینے آیا ہے۔۔ وہ کب سے باہر تمہارا انتظار کر رہا ہے__!!
یہ حانم کے ساتھ والے روم کی لڑکی تھی۔
حانم نے مشکل سے اٹھی تھی اور پھر دروازہ کھولا۔
باہر اندھیرا پھیل گیا تھا۔ بارش ابھی بھی ہلکی ہلکی سی جاری تھی۔
کبھی یہ موسم حانم کی جان ہوتا تھا، اور آج اسی موسم میں اسکی جان لی گٸی تھی۔

”کیا ہوا تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے__“
حمنہ نے اسکی سرخ اور سوجھن زدہ آنکهوں کو دیکھ کر پوچھا تھا۔

”نہيں طبیعت ٹھیک نہيں ہے“
حانم نے آنسوٶں کا گولا گلے میں ہی روکتے ہوٸے مشکل سے جواب دیا تھا۔
وہ اپنا بیگ اٹھا لاٸی تھی اور ٹیبل پر پڑا تالا بھی۔
اسکے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
”لاٶ میں لگا دیتی ہوں“
حمنہ نے اسکے ہاتھ سے تالا پکڑا تھا۔
حانم کے قدم اب باہر کی طرف اٹھ رہے تھے۔ حمنہ نے پریشانی سے اسے جاتے دیکھا تھا۔

انٹری گیٹ پر انگوٹھا لگانے پر انٹری کرکے وہ باہر نکل آٸی تھی۔
لڑکيوں کی ہنسی کی آوازیں اسے پاگل کر رہی تھیں۔ سب وہاں خوش تھے۔
باہر کینٹن پر لڑکيوں کا رش لگا تھا۔
تیز روشنیوں میں پودوں پر پڑے بارش کے قطرے موتیوں کی طرح چمک رہے تھے۔
اب وہ ہاسٹل گیٹ سے باہر نکل آٸی تھی۔

اس نے ایک الوداعی نظر اپنے ہاسٹل پر ڈالی تھی۔ حانم کا دل بھر آیا تھا۔ رحیم انکل نے آگے بڑھ کر اسکا بیگ پکڑا تھا۔ وہ غاٸب دماغی سے گاڑی میں بیٹھی تھی۔

”میں کب سے آپکا انتظار کر رہا ہوں ہانی بیٹا آنے میں اتنی دیر لگادی۔۔ گھر سے صاحب کا کتنی بار فون آچکا ہے__!!
رحیم انکل پریشانی سے کہہ رہے تھے جبکہ حانم آنکهيں بند کیۓ سیٹ سے ٹیک لگاٸے خوش و خرد سے بیگانہ پڑی تھی۔

_________________________

آسیہ بیگم ہانی کا بےصبری سے انتظار کر رہی تھیں جب انہوں پورچ میں گاڑی رکنے کی آواز آٸی تھی۔ وہ دروازے کی طرف بھاگیں،

”ہانی بیٹا۔۔“
رحیم انکل نے اسے آواز دی تھی۔

نا وہ مکمل حواسوں میں تھی اور نا بےہوشی میں۔۔
”آنکهيں کھولو بیٹا گھر آگیا ہے“
وہ اسے اٹھانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اور پھر کچھ دیر بعد اس نے آنکهيں کھولی تھیں۔
رحیم انکل نے اسکی ناساز طبیعت کو دیکھتے ہوٸے گاڑی سے باہر نکل کر اسکی جانب والا دروازہ کھولا تھا۔
ورنہ وہ اس بات کا بہت غصہ کرتی تھی۔ اپنا بیگ خود پکڑتی تھی اور دروازہ بھی خود کھولتی تھی۔
اسے بی بی جی کہلوانا نہيں پسند تھا اس لیۓ رحیم انکل اسے اسکے نام سے پکارتے تھے۔
وہ مرے مرے قدموں سے گاڑی سے باہر نکلے تھے۔

”ہانی۔۔“
آسیہ بیگم اسکی طرف بڑھی تھیں۔
حانم کا انہيں دیکھ کر دل بھر آیا تھا۔ وہ انکے گلے لگ کر خوب روٸی تھیں۔

”کیا ہوا ہانی۔۔؟ تم ٹھیک ہو نا۔۔؟؟“
وہ پریشانی سے پوچھ رہی تھیں۔

”چلو اندر۔۔۔“
وہ اسے اندر لے آٸی تھیں۔

”میرا سر درد سے پھٹ رہا ہے مجھے سونا ہے___!!!
وہ کمرے میں جاتے ہوٸے بولی تھی۔

”اچھا تم جاٶ میں چاٸے بنا کر لاتی ہوں اور یہ تمہارے کپڑے کیوں بھیگے ہوٸے ہیں۔۔۔؟؟“
آسیہ بیگم کے ہاتھ پاٶں پھول گٸے تھے۔

کچھ دیر بعد حمدان انکل اپنے کمرے سے باہر نکلے تھے۔ وہ فون پر کسی سے بات کر رہے تھے۔ انہوں نے ہانی کو اپنے کمرے میں جاتے دیکھا تھا۔

”کیا ہوا سب ٹھیک ہے نا۔۔؟؟“
وہ آسیہ بیگم سے پوچھ رہے تھے۔

”نہيں۔۔ مجھے لگتا ہے اسے بہت تیز بخار ہے__!!
آسیہ بیگم نے بتایا تھا۔

”میں ڈاکٹر کو کال کرتا ہوں۔۔“
وہ پریشان سے ڈاکٹر کا نمبر ملا رہے تھے۔ جبکہ آسیہ بیگم کچن کی طرف بڑھ گٸی تھیں۔
جواد اکیڈمی گیا تھا جسے اب رحیم انکل لینے گٸے تھے جبکہ ماہم سوٸی ہوٸی تھی۔
ملازم حانم کو یوں کھویا کھویا سا دیکھ کر پریشان ہوگٸے تھے۔

حانم نے اپنے کمرے میں آکر سب سے پہلے دروازہ لاک کیا تھا۔
پھر اس نے اپنا موبائل نکال کر اسے میز پر رکھا تھا۔ اسے اس موبائل سے شدید خوف آرہا تھا۔
اسے لگ رہا تھا کہ ابھی سب لوگ اسے کال کریں گے۔۔
سب اسکا مذاق اڑاٸیں گے۔۔
ان اشتہارات پر اسکے دونوں نمبر تھے۔

”نہيں ایسا نہيں ہو سکتا۔۔“
وہ چلاٸی تھی۔ اس نے میز پر رکھا بھاری گلدان اٹھا کر موبائل پر دے مارا تھا۔
موبائل کے ٹکڑے ٹکڑے ہوچکے تھے۔

ٹوٹے پھوٹے موبائل کو اس نے الٹ کر اس میں سے سم نکالی تھیں جسے اس نے واشروم میں جا کر پانی میں بہا دیا تھا۔

”بدکراد ہو تم___“
آرجے کی آواز کسی ہتھوڑے کی طرح اسکے سماعت سے ٹکراٸی تھی۔ اسے لگ رہا تھا کہ کوٸی اسکے کانوں میں پگھلا سیسہ انڈیل رہا تھا۔

وہ روٸی تھی۔۔ بہت روٸی تھی۔۔ سسکیوں سے۔،
اسے اپنا دم گھٹتا محسوس ہو رہا تھا۔۔
آہستہ آہستہ حانم کو سب گھومتا محسوس ہوا تھا۔ ہر طرف اندھیرا پھیل گیا تھا۔
اسکے دماغ میں درد کی ایک ٹھیس اٹھی تھی اور پھر وہ چکرا کر گر چکی تھی۔

__________________________

”ہانی دروازہ کھولو۔۔“
آسیہ بیگم کب سے دروازہ کھٹکھٹا رہی تھیں لیکن حانم دروازہ نہيں کھول رہی تھی۔

”کیا ہوا امی۔۔“
ماہم اپنی کمرے سے باہر نکلی تھی لیکن حانم نے دروازہ نہيں کھولا تھا۔
شور کی آواز پر حمدان انکل بھی ادھر آگٸے تھے۔
ہر کمرے کی ایک دوسری چابی موجود تھی۔
آسیہ بیگم بھاگ کر اپنے کمرے سے چابیوں کا گچھا اٹھا لاٸی تھیں۔
وہ بری طرح سے ہانپ رہی تھیں۔
گھر کے سارے ملازم بھی ڈرے ہوٸے تھے۔
آسیہ بیگم رو رہی تھیں۔ کمرے کا دروازہ کھولا گیا تھا۔
سامنے وہ بے سدھ پڑی تھی۔

”ہانی۔۔۔“
آسیہ بیگم چلاتے ہوٸے اسکی جانب بڑھی تھیں لیکن حانم اپنے ہوش کب کی کھوچکی تھی۔

_________________________

رات ہوگٸی تھی مکی گھر نہيں آیا تھا۔ آرجے لاٶنج میں بیٹھا اسکا انتظار کر رہا تھا۔
اسکا نمبر بند جا رہا تھا۔
آرجے کا دماغ گھوما تھا۔ ایسا پہلے کبھی نہيں ہوا تھا۔ مکی اسے بتا کر جاتا تھا۔ اور اسکا نمبر کبھی بند نہيں ہوا تھا۔
آرجے نے کبھی خود کو کسی نشے کا عادی نہيں بنایا تھا۔ اور اس وقت اسے سمجھ نہيں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔
لاٶنج میں رکھی میز کے دراز سے اس نے سگریٹ نکالا تھا۔ اسے جلانے کے بعد اب وہ دھوٸیں اڑا رہا تھا۔

”لیکن میری ایک دعا ہے،
جس دن ہر ذی روح کو زندہ کیا جاٸے گا اور مُردوں کو قبروں سے اٹھایا جاٸے گا نا میری دعا ہے کہ ہمارا اس بھی سامنا نہ ہو___!!
دھوٸیں کے مرغولوں میں اسے حانم کا چہرہ نظر آیا تھا۔
جتنا حانم کی آنکهوں میں دکھ تھا اتنا ہی آرجے کی آنکهيں نفرت اور حقارت سے لبریز تھیں۔

”کیا مصیبت ہےیار___“
آرجے نے سگریٹ کو دور پھینکا تھا اور پھر اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا۔

______________________

آسیہ بیگم ICU کے باہر رکھے صوفے پر بیٹھی بری طرح سے رو رہی تھی۔
حانم کو نروس بریک ڈاٶن ہوا تھا۔ڈاکٹر نے کہا تھا اسے کوٸی گہرہ صدمہ پہنچا ہے۔
حمدان صاحب بہت زیادہ پریشان تھے۔

”آخر کیا ہوا تھا یونيورسٹی یا ہاسٹل میں جو حانم کی یہ حالت ہوگٸی__“
وہ سوچ رہے تھے۔

”اگلے چوبیس گھنٹے مریضہ کیلیۓ بہت critical ہیں۔ آپ لوگ دعا کریں کہ مریضہ کو ہوش آجاٸے!!“
ڈاکٹر کی باتوں نے آسیہ بیگم کے دل کو تڑپا کر رکھ دیا تھا۔

آخر اجل اپنا کام کر ہی گٸی تھی___
وہ جہنم جیسی آگ میں تڑپ رہی تھی__
زندگی اور موت کی جنگ لڑتی حانم___
آرجے کو احساس بھی نہيں تھا کہ اس نے کسی حانم کو ختم کر ڈالا تھا ہمیشہ ہمیشہ کیلیۓ__!!

______________________

حانم کو دو دن بعد ہوش آیا تھا۔ آسیہ بیگم کی جان میں جان آٸی تھی۔ یہ دو دن انکے لیۓ سولی پر لٹکنے کے برابر تھے۔
جیسے ہی حانم کو ہوش آیا تھا۔ آرجے کے الفاظ کسی گھات لگاٸے بیٹھے دشمن کی طرح اس پر حملہ آور ہوٸے تھے۔
”میں نے کچھ نہيں کیا___“
وہ چلاٸی تھی۔

حمدان صاحب اسکی طرف بڑھے تھے۔ آسیہ بیگم نماز پڑھ رہی تھیں۔

”ہانی بیٹا کچھ نہيں ہوا تم ٹھیک ہو۔۔ سب ٹھیک ہے۔۔ ریلیکس۔۔!!
وہ اسے پرسکون کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

”میں ڈاکٹر کو بلاتا ہوں۔۔“
یہ ضیا ٕ جبیل تھے جو حمدان صاحب کے دو دن آفس نا آنے پر ہاسپٹل آگٸے تھے۔ انہيں حمدان صاحب نے ہی ہانی کی خراب طبیعت کا بتایا تھا۔ وہ ہانی کی عیادت کیلیۓ آٸے تھے۔ دونوں بہت اچھے دوست تھے۔

”انکل۔۔وہ آ۔۔۔ آر۔۔ آرجے___“
ہانی بامشکل بول پاٸی تھی۔ وہ رو رہی تھی۔

آرجے کے نام پر ضیا ٕ جبیل کے قدم ساکت ہوٸے تھے۔

”کیا ہوا۔۔ کون آرجے___!!“
حمدان انکل نے پوچھنے کی کوشش کی تھی۔

”انکل۔۔ وہ۔۔ میں نے کچھ نہيں کیا۔۔ جاٶ یہاں سے میں نے کچھ نہيں کیا__!!
وہ دروازہ کی طرف دیکھ کر چلاٸی تھی۔ اسے وہاں آرجے کھڑا مسکراتا نظر آرہا تھا۔ وہ اس پر قہقہے لگا رہا تھا۔

ڈاکٹر نے کمرے میں آنے کے بعد اسے نیندآور انجیکشن لگایا تھا۔
انہيں کمرے سے باہر نکال دیا گیا تھا۔

”کہاں پڑھتی ہے تمہاری بیٹی حمدان___؟؟“
ضیا ٕ جبیل نے اپنے خشک ہوتے گلے کے ساتھ ہانی کے متعلق پوچھا تھا۔
حمدان انکل نے پریشانی سے انہيں حانم کی یونيورسٹی کا بتایا تھا۔

”آرجے بھی وہیں پڑھتا ہے۔۔ اسی یونيورسٹی میں اور اسی سبجیکٹ میں وہ ماسٹر کر رہا ہے یہ ضرور اس نے ہی کچھ غلط کیا ہوگا__!!
ضیا ٕ جبیل سوچ کر رہ گٸے تھے۔
انہيں حانم کی حالت دیکھ کر اس پر ترس آرہا تھا۔

______________________

”کیا کِیا ہے تم نے اس لڑکی کے ساتھ___؟؟“
آرجے کو ضیا ٕ جبیل کی کال آٸی تھی۔ وہ اسے کبھی کبھی فون کرتے تھے۔ لیکن اس طرح اتنے غصے میں کبھی بات نہيں کی تھی۔
وہ گویا دھاڑ رہے تھے۔

”کونسی لڑکی بڑے ڈیڈ۔۔؟؟“
آرجے حیران ہوا تھا۔

”زیادہ معصوم مت بنو۔۔ حمدان کی بیٹی کی بات کر رہا ہوں۔۔
جانتے ہو وہ بزنس پارٹنر ہے میرا۔۔ ساٹھ فیصد شیٸرز کا مالک ہے وہ میری کمپنی میں___!!“

”حمدان۔۔۔
آرجے زیر لب بڑبڑایا تھا۔ اسکی زندگی میں جتنی بھی لڑکياں آٸی تھیں وہ اسے اپنا شجرہ ِ نسب بتادیتی تھیں جو آرجے کو ہمیشہ یاد رہتا تھا۔
یہ پہلی بار ہوا تھا۔۔ اسے یاد تھا اسکی کسی گرل فرینڈ کے باپ کا نام سیٹھ حمدان نہيں تھا۔

”ہاں حمدان۔۔ وہ لڑکی اسکی بیٹی ہے جسکے ساتھ تم نے پتا نہيں کیا کیا ہے اور اس وقت ہاسپٹل میں ہے نروس بریک ڈاٶن ہوا ہے اسے۔۔ اگر اسے کچھ ہوا ہوگیا نا تو تمہاری خیر نہيں___!!
وہ غصے سے دھاڑتے فون بند کر چکے تھے۔

”واٹ ربش۔۔۔“
آرجے کا دماغ گھوما تھا۔ وہ پہلے ہی بری طرح ڈسٹرب تھا۔ اب پتا نہيں کس کی غلطی اور گناہ کا اسے قصور وار ٹھہرایا جا رہا تھا اسے خود سمجھ نہيں آرہی تھی۔
_______________________

آٹھ دن ہاسپٹل میں رہنے کے بعد وہ گھر آٸی تھی۔
سب کچھ بدل گیا تھا۔ حانم کی رنگت میں زردیاں گھل گٸی تھیں۔
اسے ہر طرف آرجے نظر آتا تھا۔۔ قہقہے لگاتا ہوا۔۔
وہ اس پر کسی آسیب کی طرح مسلط ہوگیا تھا۔

”جاٶ یہاں سے۔۔ میں نے کچھ نہيں کیا__میں کسی سے نہيں ملی__جاٶ جان چھوڑو میری__!!
وہ صوفے پر رکھے کشن اٹھا اٹھا کر لاٶنج کے دروازے پر مار رہی تھی جہاں اسے آرجے نظر آرہا تھا۔
اسے ہر وقت ڈر لگا رہتا تھا۔ آرجے کا گھر پاس ہی تھا۔
حانم کو لگتا تھا کہ وہ ابھی آٸے گا اور سب کو اسکی اصلیت بتاٸے گا۔

”کیا ہوا ہانی۔۔ کوٸی نہیں ہے وہاں پر__“
آسیہ بیگم نے اسے اپنے سینے سے لگایا تھا۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔

”مجھے یہاں نہيں رہنا۔۔ مجھے دور جانا ہے بہت دور__ پلیز انکل مجھے کہیں دور بھیج دیں پلیز___!!
وہ آنسوٶں سے بھیگے چہرے کے ساتھ حمدان انکل کی منتیں کر رہی تھی۔

حمدان انکل اسکی باتیں سن کر گہری سوچ کا شکار نظر آرہے تھے۔
یہی صلاح انہیں ڈاکٹر نے بھی دی تھی کہ بچی کو کچھ دنوں کیلیۓ یہاں سے دور لے جایا جاٸے۔۔
وہ کچھ سوچ کر اٹھ گٸے تھے۔ یقیناً وہ اس سوچ پر عمل پیرا ہونے والے تھے۔

______________________

آج پورے ایک مہینے بعد 28 اپریل کے دن آرجے کو مکی کی کال آٸی تھی۔
پہلی بار آرجے نے مکی کے بغیر اتنے دن گزارے تھے۔

”کہاں مر گٸے تم مکی۔۔ کہاں چلے گٸے ہو یار___“
آرجے بہت غصے میں تھا۔

”بدنصیبی کے مرا نہيں لیکن ڈر ہے کہ سزا سے پہلے موت نہيں آٸے گی!!
مکی عجیب سے لہجے میں بول رہا تھا۔

”کیا ہوگیا ہے تمہيں ایسی باتیں کیوں کر رہے ہو۔۔؟؟“
آرجے نے پوچھا تھا۔

”تمہیں یاد ہے آرجے تم نے مجھے ایک بار بتایا تھا کہ تم نے خواب میں ہانی کو آگ میں دھکا میں دے دیا تھا__!!!

”اسکا ذکر کیوں کر رہے ہو۔۔؟؟“
آرجے نے غصے سے کہا تھا۔

”ایسا ہی ہوا تھا نا۔۔؟؟“
مکی پوچھ رہا تھا۔

”ہاں لیکن۔۔ اس بات کا اس وقت کیا مقصد۔۔؟؟“
آرجے الجھا تھا۔

”مبارک ہو۔۔ تم نے اپنا خواب پورا کردکھایا آرجے۔۔ تم نے جیتے جی ام حانم کو جہنم میں دھکیل دیا ہے۔۔
تم نے اسے آگ کے اس دریا میں پھینکا ہے جس میں نا صرف اسک جسم بلکہ روح بھی جھلس گٸی ہوگی___!!!
مکی کی بات سن کر ایک پل کو آرجے کا دل رکا تھا۔
وہ دنگ رہ گیا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: