Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 31

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 31

–**–**–

”مبارک ہو۔۔ تم نے اپنا خواب پورا کردکھایا آرجے۔۔ تم نے جیتے جی ام حانم کو جہنم میں دھکیل دیا ہے۔۔
تم نے اسے آگ کے اس دریا میں پھینکا ہے جس میں نا صرف اسک جسم بلکہ روح بھی جھلس گٸی ہوگی___!!!
مکی کی بات سن کر ایک پل کو آرجے کا دل رکا تھا۔
وہ دنگ رہ گیا تھا۔

”آخر تم نے اسے اتنا سر پر سوار کیوں کرلیا ہے مکی۔۔ کچھ غلط نہيں کیا میں نے اسکے ساتھ__“
آرجے کڑھ کر بولا تھا۔

”ضروری نہيں کہ جسمانی اذیت ہی غلطی کے زمرے میں آتی ہو۔۔ ذہنی اور روحانی اذیت انسان کی دھجیاں بکھیر دیتی ہے یہ تم نہيں سمجھو گے___“
مکی اسکا اشارہ سمجھ چکا تھا۔

”بس کرجاٶ مکی مجھے سمجھ نہيں آرہی کہ تمہيں ہو کیا گیا ہے۔۔؟؟“
آرجے کو اسکی باتوں سے کوفت ہورہی تھی۔

”یہ میں خود نہيں جانتا بس ڈر لگ رہا ہے بہت۔۔ اس سے بات کرنے کی ہمت نہيں ہورہی، میں معافی مانگنا چاہتا ہوں ام حانم سے__“
مکی نے جواب دیا تھا۔ وہ بہت بے بس نظر آرہا تھا۔

”معافی۔۔ حد ہے مکی،
کس بات کی معافی۔۔؟؟“

”اسکے ساتھ جو کچھ ہوا میں اسکا ذمہدار ہوں اس بات کی معافی__!!“

”یہ بتاٶ کہ واپس کب آرہے ہو۔۔؟؟“
آرجے نے بات بدلتے ہوٸے پوچھا تھا۔

”کبھی نہيں___“
مکی نے جواب دیا تھا۔

”کیا مطلب کبھی نہيں۔۔؟؟“
آرجے حیران ہوا۔

”میں نے ماٸگریشن کروالی ہے اب میں لاہور کبھی نہيں آٶں گا__!!“
مکی کا لہجہ حتمیہ تھا۔ اس سے پہلے کہ آرجے کچھ کہتا وہ فون بند کرچکا تھا۔
اور آرجے حیران پریشان سا فون کو دیکھ کر رہ گیا تھا۔
_______________________

وہ اپنے کپڑے بیگ میں رکھ رہی تھی۔ چہرے پر سنجيدگی چھاٸی تھی۔
اس ایک مہینے میں وہ سر سا پیر بدل گٸی تھی۔
آنکهوں کے نیچے سیاہ ہلکے پڑھنا شروع ہوگٸے تھے۔
اچانک دروازہ کھلنے کی آواز پر حانم نے مڑ کر دیکھا تھا۔

”آجاٸیں امی۔۔“
حانم نے آنکهوں میں آٸے آنسوٶں کو پیتے ہوٸے کہا تھا۔

”مت جاٶ ہانی۔۔ مت جاٶ__“
آسیہ بیگم اسکے اتنی دور جانے پر بہت دکھی تھیں۔
وہ نہيں چاہتی تھیں کہ حانم انہيں چھوڑ کر جاٸے۔
اپنی ماں کی التجا پر حانم کا دل پھٹنے کو آیا تھا۔ وہ خود اپنی ماں سے دور نہیں رہ سکتی تھی۔
لیکن وہ جانتی تھی کہ آج نہيں تو کل اسکی مکی کے ساتھ تعلق کی بات گھر والوں تک پہنچ جانی تھی، اور پھر اسکی ماں نے نفرت کرنی تھی اس سے__
یہ چیز اندر اندر حانم کو کھارہی تھی۔ وہ اپنی ماں کی نفرت برداشت نہيں کر سکتی تھی۔
اسے ہر وقت خوف لاحق رہتا تھا جیسے ابھی آرجے قہقہے لگاتا ہوا آٸے گا اور سب کو بتادے گا۔۔ پھر سب ختم ہو جاٸے گا__
اسی لیۓ وہ یہاں سے دور جانا چاہتی تھی تاکہ جب سب کو اس بات کا علم ہو، وہ دور ہو اور کسی کی نفرت اور حقارت نا دیکھ سکے۔

”میں جلد واپس آٶں گی امی۔۔“
حانم نے اپنی ماں کے ہاتھوں کو تھامتے ہوٸے کہا تھا۔

”میرا دل نہيں مانتا تمہيں اتنی دور بیجھنے کو__“
آسیہ بیگم کی آواز رندھ گٸی تھی۔

”امی___“
حانم کہتی آسیہ بیگم کے گلے لگ گٸی تھی۔ وہ کمزور نہيں پڑنا چاہتی تھی لیکن وہ مضبوط بھی نہيں رہ سکی تھی۔
وہ جی بھر کر روٸی تھی۔ وہ آسیہ بیگم سے ایسے لپٹ رہی تھی جیسے خدانخواستہ پھر کبھی نہيں لوٹے گی۔
_______________________

”جلد ہی ہانی بیٹی تمہارے پاس پہنچ جاٸے گی مجھے امید ہے تم اسکا خیال رکھو گی ماہی__!!“
حمدان انکل فون پر ماہی کو ہانی کے متعلق سمجھا رہے تھے۔
وہ خود سچ نہيں جانتے تھے۔ ڈاکٹرز نے بھی انہيں منع کیا تھا کہ کوٸی بھی حانم سے اس حادثے کے بارے میں نا پوچھے۔
انکا کہنا تھا بار بار ہانی کو اس واقعہ کی یاد دلانا خطرناک ہوسکتا ہے۔
وہ چاہتے تھے کہ حانم خود ہی سب کچھ بتاٸے۔۔ لیکن شاید حانم اسکے لیۓ کبھی تیار نہيں ہوتی۔

ماہین اور حانم نے براہ راست ایک دوسرے کو ابھی تک نہيں دیکھا تھا۔ البتہ تصویریں دیکھ رکھی تھیں اور نہ کبھی دونوں کی بات ہوٸی تھی۔
”جی بابا۔۔“
ماہی کو زیادہ فرق نہيں پڑ رہا تھا اسکے آنے سے۔

”وہ ذہنی طور پر بہت پریشان ہے۔۔ پہلے اسے کچھ وقت دینا۔۔ اور پھر اسکے قریب ہونے کی کوشش کرنا، ہانی بہت اچھی اور صاف دل کی لڑکی ہے ان شاء اللہ تمہاری اس سے جلد دوستی ہوجاٸے گی__!!

”جی۔۔“
وہ حانم کی تعریف اپنے باپ کے منہ سے سن کر بس اتنا ہی کہہ پاٸی تھی۔
وہ حانم کو نہيں جانتی تھی۔ آج وہ اسکے پاس آرہی تھی۔
ماہی کے عجیب سے احساسات تھے۔ آسیہ بیگم سے اسکی اچھی خاصی بےتکلفی ہوگٸی تھی۔
لیکن حانم سے تو کبھی بات بھی نہيں ہوٸی تھی۔

”ٹھیک ہے پھر اپنا خیال رکھنا اور مجھے امید ہے تم حانم کو جلد اپنے ساتھ واپس لاٶ گی وہ بھی ہنستے مسکراتے__!!
وہ پرعزم سے کہہ رہے تھے۔ ماہی بس سر ہلا کر رہ گٸی تھی۔
____________________

وہ پورے مہینے کے بعد گھر سے باہر نکلی تھی۔
بہت روٸی تھی وہ ماہم،جواد اور آسیہ بیگم سے ملتے ہوٸے۔۔
لیکن اسے جانا ہی تھا۔
اسکی حالت کو دیکھتے ہوٸے حمدان انکل نے اپنے تمام تر اختيارات کو استعمال کرتے ہوٸے ایک مہینے کے اندر اسکے پیرس جانے کا انتظام کیا تھا۔

”میں آپ لوگوں سے روزانہ بات کیا کرونگی__!!
یہ حانم کے جاتے ہوٸے آخری الفاظ تھے۔
آسیہ بیگم نے اسے بہت سی دعاٶں کے ساٸے میں رخصت کیا تھا۔ انہيں محسوس ہورہا تھا جیسے انکی بیٹی کی رخصتی ہوگٸی ہو۔

گیٹ سے نکلنے کے بعد وہ بہت تیزی سے گاڑی میں بیٹھی تھی۔ اس نے آرجے کے گھر کی طرف دیکھنا بھی گوارہ نہيں کیا تھا۔
اس شخص کی وجہ سے آج ام حانم کو اپنا گھر، اپنا ملک اور اپنی ماں کو چھوڑ میلوں دور جانا پڑھ گیا تھا__
جیسے جیسے گاڑی ایٸر پورٹ کی طرف بڑھ رہی تھی۔حانم کا دل تڑپ رہا تھا۔
یہ تو طے تھا کہ اسکے ایک ایک آنسو اور اسکی تڑپ کی قیمت آرجے کو چکانی تھی۔ لیکن کب یہ صرف قدرت کو پتا تھا__!!

_______________________

پیرس جانا اسکا خواب تو نہيں تھا لیکن اکثر جو ہم نے نہ سوچا ہو وہی ہو جاتا ہے۔
وہ پیرس کی سرزمین پر قدم رکھ چکی تھی۔
بھیگی پلکوں اور اداس دل کے ساتھ__
اگر وہ اس حادثے سے پہلے یہاں آتی تو یقیناً جھومتی کیونکہ یہاں پر ڈزنی لینڈ تھا۔۔
اسکے خوابوں کی دنیا__
وہ دنیا جسے وہ دیکھنا چاہتی تھی، پریوں کا دیسی__
اسکی چھوٹی چھوٹی خواہشات تھیں جنہيں آرجے کے لفظوں نے ختم کردیا تھا۔اب تو مسکرانے کو دل ہی نہيں کرتا تھا۔

وہ آہستہ آہستہ چلتی ہوٸی ایٸر پورٹ سے باہر آٸی تھی۔
چادر سے خود کو لپیٹا ہوا تھا۔ وہ ماڈرن لوگوں کے درمیان عجیب سی لگ رہی تھی سب سے الگ___
اب اسے ماہی کو ڈھونڈنا تھا،
حمدان انکل نے اسے نیا موبائل لے کر دیا تھا جسکو اس نے چھونے کی بھی ہمت نہيں کی تھی۔
اسے لگتا تھا یہ موبائل اسکی بربادی کا ذمہدار تھا۔ اور وہ اپنی اس سوچ میں ٹھیک بھی تھی۔

____________________

”ہاں میں ایٸر پورٹ پر اپنے دوست کو لینے آیا ہوں۔ جی بی جان میں بالکل ٹھیک ہوں__!!“
وہ مگن سا فون ہر کہتا آگے بڑھ رہا تھا۔

”جی میں کوشش کرونگا کہ ان چھٹیوں میں پاکستان آسکوں۔۔“
حشام بی جان سے بات کر رہا تھا۔ وہ مسکرا رہا تھا۔

کیا اسے کسی نے بتایا نہيں تھا کہ پیرس میں اتنی خوبصورتی سے مسکرایا نہيں کرتے___یہاں پر موجود لوگ ایسی جادوٸی مسکراہٹ پر دل بھی ہار سکتے ہیں__ جہاں ماہی ہار گٸی تھی!!

ایک تیز ہوا کا جھونکا حشام کے وجیہہ چہرے سے ٹکرایا تھا۔ وہ ٹھٹک کر رکا تھا۔ اور پھر گردن موڑ کر پاس سے گزرتی اس لڑکی کو دیکھا تھا جو چادر میں لپٹی تھی۔
اسے کچھ محسوس ہوا تھا۔ وہ جو سال پہلے ہوا تھا جب ام حانم اس سے ملی تھی۔
حشام کا دل زور سے دھڑکا تھا۔ اسے اس لڑکی پر ام حانم کا گمان ہوا تھا۔

اس سے پہلے کہ وہ اسکے پیچھے جاتا اسے مارکیٹ والا واقعہ یاد آگیا تھا جب ام حانم کے دھوکے میں وہ ماہی سے جاملا تھا۔

”یہ ام حانم نہیں ہوسکتی۔۔ وہ یہاں کیسے۔۔؟؟“
خود کو سمجھاتا وہ سر جھٹک کر آگے بڑھ گیا۔
___________________

ایلا اور ماہی حانم کو ایٸر پورٹ سے گھر لے آٸی تھیں۔
وہ خاموش تھی۔ ایلا بار بار اس سے سوال کر رہی تھی۔ وہ بس جواب دے رہی تھی۔

”ہانی تم فریش ہو جاٶ تھک گٸی ہوگی نا تب تک میں کھانا لگواتی ہوں۔“
ماہی نے اسے مشورہ دیا تھا۔
اسے لگا تھا کہ حانم کافی چالاک ہوگی، لیکن وہ جتنی تصویروں میں معصوم نظر آتی تھی حقيقت میں بھی اتنی ہی تھی۔

”ٹھیک ہے“
وہ اثبات میں سرہلاتی اٹھ گٸی تھی۔
ملازمہ اسکا سامان اٹھا کر کمرے کی طرف بڑھ گٸی تھی اور پیچھے پیچھے وہ بھی۔

”ماہی تمہاری کزن تھوڑی عجیب ہے نا۔۔“ایلا نے اسکے جانے کے بعد پوچھا تھا۔
ماہی نے اسے گھور کر دیکھا تھا۔
”تمہارے ڈیڈ کی کزن کی بیٹی تمہاری بھی سیکنڈ کزن ہوٸی نا__!!
اسکے گھورنے پر ایلا نے کندھے اچکا کر کہا۔

”خیر اب یہ میرے پاس آگٸی ہے تو ٹھیک ہوجاٸے گی۔۔!!
ایلا نے دانت نکالے تھے۔
ماہی کچھ سوچتے ہوٸے کچن کی طرف بڑھ گٸی تھی۔

__________________________

کھانا خاموشی سے کھایا گیا تھا۔ کھانے کے بعد حانم اپنے کمرے میں آگٸی تھی۔ رات ہوگٸی تھی اور وہ کافی تھک گٸی تھی۔
بالوں کو باندھنے کی غرض سے وہ اٹھی تھی۔
کمرے میں موجود فرنیچر کافی قیمتی تھی۔
کسی چیز نے بھی اسے اپنی طرف متوجہ نہيں کیا تھا۔
وہ جہاز ساٸز آٸینے کے سامنے کھڑی تھی۔ سنہری بالوں کی آبشار کمر پر بکھری پڑی تھی۔
بالوں کو دیکھتے ہوٸے اسکا ذہن بٹھکا تھا۔ ایک فلم سی اسکے سامنے چلنے لگی تھی۔

”اماں میں سوچ رہی ہوں کہ بال کٹوا لوں___“
حانم نے اپنے بالوں کا نیچے سے معاٸنہ کرتے ہوٸے آسیہ بیگم کو اپنی سوچ سے آگاہ کیا تھا۔

”ہرگز نہيں۔۔“
آسیہ بیگم نے غصے سے منع کیا۔

”لیکن کیوں۔۔؟؟ دیکھیں نا خراب ہو رہے ہیں__!!“
حانم روہانسی ہوٸی۔

”تمہيں نانی اماں کہا کرتی تھیں کہ لمبے بال نیک لڑکيوں کی نشانی ہوتے ہیں___“

”ہاٸیں____“
آسیہ بیگم کی بات پر حانم نے گھوم کر انہوں دیکھا تھا۔ اسکی آنکهيں اپنی ماں کی عجیب منطق پر حیرانی سی پھیلی تھیں۔

”لمبے باولوں کا نیک ہونے سے کیا تعلق اماں__!!“
وہ حیران پریشان سی پوچھ رہی تھی۔

”قیامت کے دن لمبے بال عورت کا پردہ بنیں گے، اور میری بات کان کھول کر سن لو ہانی۔۔اگر تم نے دوبارہ بال کٹوانے کا نام لیا تو مجھ سے برا کوٸی نہيں ہوگا___!!“
وہ اسے دھمکی اور حکم دونوں سناتیں کچن میں جاچکی تھیں جبکہ حانم حیرت سے انہيں جاتا دیکھ رہی تھی۔
آٸینے میں دھواں سا اٹھنے لگا تھا، اسکا گھر،آسیہ بیگم اور وہ۔۔ دور کہیں فضا میں تحلیل ہونا شروع ہوٸے تھے۔
حانم کی آنکهيں نم ہوٸی تھیں۔

”نیک اور شریف تو دیکھو___!!!“
منظر بدلا تھا۔ آرجے سامنے آٸینے میں کھڑا جنّاتی قہقہے لگا رہا تھا۔
حانم کے چہرے کا رنگ بدلا تھا۔ تالی بجاتا ہنستا وہ اسکا مذاق اڑا رہا تھا۔
اسکے قہقہے حانم کو پاگل کر رہے تھے۔

”نیک نہيں بدکردار ہو تم___!!!“
وہ شعلے اگلتی آنکهوں کے ساتھ اسے گھور رہا تھا۔

”نہیں۔۔۔ کچھ نہيں کیا میں نے__“
وہ ہزیانی انداز میں چلاٸی تھی۔
وہ ہنسے جا رہا تھا۔ حانم کے ضبط کا پیمانہ لبریز ہوا تھا۔

”چپ کر جاٶ___“
وہ چیخی تھی اور سنگار کی میز سے پرفیوم کی ایک بوتل اٹھا کر پوری قوت سے آٸینے میں دے ماری تھی۔
اپنی طرف سے اس نے آرجے کو مارا تھا۔ اسے خاموش کروایا تھا۔
چھن کی آواز کے ساتھ کانچ بکھرا تھا۔ وہ کہیں غاٸب ہوگیا تھا۔
حانم کی ہمت جواب دے گٸی تھی۔وہ وہیں نیچے بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رودی تھی۔

وہ آرجے کے آسیب سے بچنے کیلیۓ بہت دور آگٸی تھی لیکن شاید ہو بھول گٸی تھی کہ آسیب تو سات سمندر پار تک پیچھا کرتا تھا۔
کافی دیر رونے کے بعد وہ اٹھی تھی اور پھر کراہ کر بیٹھ گٸی تھی۔
ٹوٹے ہوٸے کانچ کا ٹکڑا اسکے پاٶں میں چبھ گیا تھا۔
درد کی ایک لہر اسکے پورے جسم میں پھیل گٸی تھی۔

”امی۔۔“
حانم نے بےاختیار کی آسیہ بیگم کو آواز دی تھی لیکن پھر یاد آنے پر کہ وہ کوسوں دور تھیں اسکا دل مزید تڑپا تھا۔
مشکل سے کانچ کا ٹکرا پاٶں سے نکالنے کے بعد وہ بیڈ پر بیٹھی تھی۔ اسکے پاٶں سے خون نکل رہا تھا لیکن اسے سمجھ نہيں آرہا تھا کہ کیا کرے۔۔
اس نے کمرے میں نظریں دوڑاٸی تھیں اور پھر اسے میز پر ٹشو کا ڈبا رکھا نظر آگیا تھا۔ وہ لنگڑا کر چلتی میز تک پہنچی تھی اور پھر کافی سارے ٹشو نکال کر زخم پر رکھے تھے۔
آہستہ آہستہ خون رسنا بند ہوا تھا۔
وہ لیٹ گٸی تھی۔ لیکن اسکی سسکیاں بند نہيں ہوٸی تھیں۔
اسے سب یاد آرہے تھے۔ اور خاص طور پر آرجے کی باتيں جو کبھی اسکے ذہن سے نہيں نکلتی تھیں۔

میں چاہتی ہوں
میں تمہیں بتاؤں
کہ مجھے درد ہوتا ہے
اتنا درد کہ دل کرتا ہے
اپنی کن پٹیوں پہ انگلیاں رکھ کر
اتنی زور سے دباؤں کہ وہاں سے خون کا اخراج ہو
شاید اس خون میں وہ تمام باتیں
وہ تمام سوچیں بھی بہہ جائیں
جو میرے ذہن کو اذیت کے نشتر چبھو رہی ہیں..!

میں چاہتى ہوں
میں تمہیں بتاؤں
کہ مجھے درد ہوتا ہے
اتنا درد کہ جیسے کوئی میرا دل کسی پتھر پہ رکھ کر
کسى ہتھوڑی سے اس میں کیل گھاڑتا ہے
اور بس ایک کیل سے بس نہیں کرتا
بلکہ بار بار وہ اس عمل کو دہراتا ہے
گھاڑتا ہے ، نکالتا ہے
گھاڑتا ہے ، نکالتا ہے پر موت نہیں آنے دیتا..!

میں چاہتى ہوں
میں تمہیں بتاؤں
کہ مجھے تکلیف ہوتی ہے
ایسی تکلیف جیسے کسی زندہ انسان کو
کسی پیڑ کے ساتھ باندھ کر
کسی پرانی چھری سے اس کو جگہ جگہ سے کاٹا جائے
اس پہ کوڑے برسائے جائیں
اتنے کوڑے کہ اس کے وجود کا گوشت
اس کی ہڈیوں سے الگ ہو جائے
پر موت کے فرشتے کو ادھر آنے کی اجازت نہ ہو..!

میں چاہتی ہوں
میں تمہیں بتاؤں
کہ کاش کوئی لفظ
میری اذیت کے معیار پہ پورا اترے
تو میں تمہیں بتاؤں
کہ درد اور تکلیف اس اذیت سے
بہت چھوٹے لفظ ہیں
جو میں محسوس کرتی ہوں..!

درد میں ڈوبی رات آہستہ آہستہ بیت رہی تھی اور سسکیوں کی آواز بڑھتی جارہی تھی۔

_______________________

صبح چار بجے کا وقت تھا۔ آرجے نیند سے بوجھل آنکهيں لیۓ سونے کیلیۓ لیٹا تھا۔ اسے چار سے پانچ بجے کے درميان نیند آتی تھی۔ ابھی اسے سوٸے کچھ ہی دیر گزری تھی جب وہ عجیب سے احساسات کے تحت ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا تھا۔
اسے کسی لڑکی کے رونے کی آواز آرہی تھی۔
ساٸیڈ لیمپ آن کرکے اسنے پورے کمرے میں نظر دوڑاٸی تھی لیکن اسے کہیں کچھ نظر نہيں آیا تھا۔
وہ اسے وپنا وہم سمجھ کر سر جھٹک کر پورا سونے کیلیۓ لیٹ گیا تھا۔ لیکن جیسے ہی اس نے آنکهيں بند کی سسکنے کی آواز سنائی صاف سنائی دی تھی۔
وہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا تھا۔

”کون ہے۔۔؟؟“
آرجے نے پوچھا تھا لیکن کوٸی جواب نہيں آیا تھا۔ آواز ہنوز آرہی تھی۔
وہ بستر سے نیچے اتر آیا تھا۔ کمرے کی کھڑکیوں کو کھولنے کے بعد اس نے ہر طرف نظر دوڑاٸی تھی۔
کہیں کس لڑکی کا نام و نشان نہيں تھا۔ لیکن آواز آرہی تھی۔

”یہ میرا وہم نہيں ہو سکتا۔۔!!!“
وہ بڑبڑایا تھا۔
اب وہ کمرے کا دروازہ کھول کر نیچے لاٶنج میں آیا تھا۔ غلام دین،ملازم، صوفے پر سکون سے سویا پڑا تھا۔
سسکیوں کی آواز وقفے وقفے ابھر رہی تھی۔ آرجے کا دماغ گھوما تھا۔ اسے شک ہورہا تھا جیسے گھر می کوٸی لڑکی موجود تھی۔
وہ پاگلوں کی طرح ایک ایک کمرہ دیکھ رہا تھا لیکن لڑکی ہوتی تو ملتی نا۔۔
اب تو مکی بھی یہاں نہيں تھا۔
تھک ہار کر وہ اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا۔ نیند اسے سونے کا کہہ رہی تھی۔ اور سسکیاں اسکی نیند کی دشمن بنی ہوٸی تھیں۔
دن چڑھے تک وہ لاٶنج کے صوفے پر بیٹھا رہا تھا۔ جیسے ہی سونے کیلیۓ آنکهيں بند کرتا تھا سسکیوں کی آواز ابھرنے لگتی تھی۔
سورج کی سنہری روشنی نے رات کی سیاہی کو کاٹا تو سورج کی شعاٸیں لاٶنج میں موجود کھڑکیوں سے چھن چھن کر اندر آرہی تھیں۔
آرجے کو سر میں شدید درد محسوس ہو رہا تھا۔
غلام دین کب کا نماز کیلیۓ اٹھ کر جاچکا تھا لیکن اس نے آرجے سے وہاں بیٹھنے کی وجہ نہيں پوچھی تھی۔
چڑیوں کے چہچہانے کی آوازیں ہر طرف پھیل گٸی تھیں۔
تھک ہار کر وہ صوفے پر لیٹ گیا تھا، وقت کو اس پر ترس آیا تھا اور پھر ناجانے کب اسکی آنکھ لگ گٸی تھی۔
_____________________

”اووہ میرے خدا یہ کیا ہوا___؟؟“
ملازمہ ناشتے کیلیۓ حانم کو اٹھانے آٸی تھی اور پھر اسکے زخمی پاٶں کو دیکھ کر گھبرا گٸی تھی۔
یہ پچاس سالہ لوسی تھی۔ جو ہر وقت سیاہ رنگ کے گاٶن میں ملبوس رہتی تھی۔
ماہی اور ایلا اسے لوسی ماں بلاتی تھیں۔ لوسی ماں نے ایلا کو پالا تھا۔ اور اسے بھی وہ دونوں بہت عزیز تھیں۔
گھر کی صفائی ستھراٸی کا خیال لوسی ماں ہی رکھتی تھی۔
البتہ کھانا بنانے کیلیۓ حلیمہ تھی۔

”یہ کیا ہوا بچے___؟؟“
وہ حانم کی طرف بڑھی تھی۔
حانم کی رات ناجانے کب آنکھ لگی تھی۔ نا ازان کی آواز، نا الارم کی آواز آٸی تھی۔ اور نا کسی نے اسے اٹھایا تھا۔
وہ سوٸی رہی تھی۔
لوسی ماں نے آگے بڑھ کر اسکے زخمی پاٶں سے ٹشو کو اتارا تھا کو چپکا ہوا تھا۔ بیڈ کی چادر جہاں اسکا پاٶں رکھا ہوا تھا وہاں سے سرخ ہوچکی تھی۔
سوتے وقت شاید اسکا خون بہتا رہا تھا۔
”سی۔۔“
درد کے باعث حانم کی آنکھ کھلی تھی۔

”یہ کانچ کیسے ٹوٹا۔۔۔؟ ہم کو بلایا لیا ہوتا ہم خود ہی اسکو صاف کردیتا__!!“
وہ حانم کو جاگتے ہوٸے دیکھ کر کہہ رہی تھی۔
ٹشو اتارنے کے بعد لوسی ماں کی نظریں اب کچھ ڈھونڈ رہی تھیں۔
کچھ یاد آنے پر وہ کمرے میں رکھے بڑے سے میز کی نیچے والے درواز کی طرف بڑھی۔
فرسٹ ایڈ باکس نکال کر وہ دوبارہ حانم کے پاس آٸی تھی۔
حانم چکراتے سر کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی جو کافی پریشان نظر آرہی تھی۔
رونے کے باعث حانم کی آنکهيں سوجھن کا شکار تھیں۔
سپرٹ سے زخم صاف کرنے کے بعد لوسی ماں نے اسکے پاٶں پر پٹی باندھی تھی۔

”طبیعت ٹھیک ہے تمہارا___!!!“
پٹی کرنے کے بعد اب وہ حانم کی سرخ آنکهوں کی طرف دیکھ کر پوچھ رہی تھی۔
حانم کو بےاختیار ہی آسیہ بیگم یاد آٸی تھی۔ اسکی آنکهيں نم ہونا شروع ہوٸیں۔

”روتا کیوں ہے بچے۔۔ کوٸی مسٸلہ ہے تو ہم کو بتاٶ۔۔؟؟“
وہ پیار سے پوچھ رہی تھی۔

”میرا سر بہت درد کر رہا ہے__!!“
حانم بس اتنا ہی کہہ پاٸی تھی۔

”ہم میڈیسن اور چاٸے لے کر آتا ہے۔ رونا نہيں، تم ٹھیک ہوجاٸے گا__!!“
لوسی ماں خوشدلی سے کہتی باہر چلی گٸی تھی۔
جبکہ حانم اپنے سر کو تھامتے ہوٸے دوبارہ لیٹ گٸی تھی۔
_____________________

ڈیپارٹمنٹ میں کوٸی فنکشن تھا۔ اسے روشنیوں سے سجایا گیا تھا۔
آرجے کے ڈیپارٹمنٹ کی طرف اٹھتے قدم رکے تھے۔
اسے روشنیاں دیکھ کر کیفے کے پاس درختوں کے نیچے، خفگی سے گھورتی ہوٸی، حانم کھڑی نظر آٸی تھی۔
یہی جگہ تھی جہاں اس نے حانم کو چڑانے کیلیۓ اسکے لیۓ گانا گایا تھا۔

”میں جو جی رہا ہوں
وجہ تم ہو___!!
اسے اپنے الفاظ یاد آگٸے تھے۔
وہ تو جی رہا تھا۔۔ اور جو وجہ بنی تھی اسے ختم کردیا تھا آرجے نے۔۔
وہ سر جھٹک کر ڈیپارٹمنٹ کی طرف بڑھا تھا۔ جیسے ہی وہ ڈیپارٹمنٹ کے اندر داخل ہوا تھا سامنے گراؤنڈ میں لکڑی کے بینچ پر اسے وہ بیٹھی نظر آٸی تھی۔
وہ شام جب اس نے حانم سے مسکرا کر بات کی تھی۔
وہ آسمان کو تکتی ہوٸی، جانے کس دنیا میں کھوٸی ہوٸی تھی، جب بجلی کی چمک میں اسکے چہرے پر کچھ چمکا تھا۔۔
ماضی اسے اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔۔
اور یہی وہ جگہ تھی جہاں اس نے حانم کو ختم کیا تھا۔

”نفرت ہے مجھے تم سے__!!“
وہ تصور میں اس سے مخاطب ہوا تھا۔ اور پھر واپسی کیلیۓ قدم بڑھا دیٸے تھے۔
ڈیپارٹمنٹ میں اب اسے کچھ بھی اچھا نہيں لگتا تھا۔
مکی جاچکا تھا، مہرو بھی، دونوں کی ماٸگریشن ہوگٸی تھی۔ وہ بھی جاچکی تھی جسکے بارے میں وہ سوچنا نہيں چاہتا تھا۔

وہ جنت روڈ پر تیز تیز قدم بڑھا رہا تھا۔۔
انگلش ڈیپارٹمنٹ کے سامنے اسے وہ درختوں کے نیچے بنے فٹ پاتھ پر مہرو کے ساتھ کسی بات پر ہنستی نظر آٸی تھی۔
وہ ٹھٹک کر رکا تھا۔
وہ اسے کیوں نظر آرہی تھی آرجے کو سمجھ نہيں آرہا تھا،
وہ جھٹکے سے مڑا تھا،
سامنے ذولوجیکل میوزیم تھا، اب وہ مہرو کے ساتھ میوزم کے باہر سیلفیاں لیتی نظر آرہی تھی۔

آرجے کا سر چکرا گیا تھا۔ اس نے دونوں ہاتهوں سے اپنے سر کو تھاما تھا۔

”نفرت ہے مجھے تم سے شدید نفرت، سنا تم نے ام حانم۔۔۔ شدید نفرت کرتا ہوں تم سے___!!!“
وہ چلایا تھا۔ سٹوڈنٹس نے رک کر اور پلٹ کر اسے دیکھا تھا۔
کچھ دیر بعد وہ اپنے حواسوں میں واپس لوٹا تھا۔
گہری سانس لیتا وہ حانم کو پیچھے چھوڑتا آگے بڑھ گیا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: