Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 32

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 32

–**–**–

ایک مہینہ ہوگیا تھا حانم کو پیرس آٸے۔ اس نے کبھی اپنے کمرے سے باہر دروازے تک کا فاصلہ طے نہيں کیا تھا۔
وہ گھر میں ہی گھوم لیتی تھی کبھی باہر جانے کی خواہش نہيں کی تھی۔
اسکا موبائل جو اسے حمدان انکل نے دیا تھا وہ بند پڑا تھا۔ اسے آن کرنے کی حانم میں ہمت نہيں تھی۔
لوسی ماں اسکا بہت خیال رکھتی تھی۔ گھر سے فون آتا تو وہ ماہی کے فون سے ہی بات کرتی تھی۔ اور اسی کے لیپ ٹاپ سے وہ اپنے پیاروں کی شکل دیکھ پاتی تھی۔
دن گزرتے جا رہے تھے لیکن حانم نے منہ نہيں کھولا تھا۔ اس نے کبھی بھولے سے بھی اس واقعہ کا ذکر نہیں کیا تھا جو اسکی زندگی کا ناسور بن گیا تھا۔

وہ درد اوڑھ کر سوجاتی تھی، ڈر اور خوف کے ساٸے اسے جاگنے پر مجبور کر دیتے تھے__
اسے ماٸگرین نے آلیا تھا۔
ذرا سی تیز روشنی، شور اسے پاگل کردیتا تھا۔ دل ہر وقت خراب رہنے لگا تھا، متلی ہوتی تھی، سر چکراتا تھا۔
غرض کہ وہ اندھیروں کی دنیا میں چلی گٸی تھی۔
ہر وقت اسکے کمرے میں اندھیرا رہنا شروع ہوگیا تھا۔ اسے نارمل ہونے کیلیۓ پیرس بھیجا گیا تھا لیکن وہ یہاں آکر مزید دنیا سے کٹ گٸی تھی۔
آرجے نام کے آسیب نے اسے مکمل طور پر اپنے بس میں کرلیا تھا۔

”ہانی تم ٹھیک ہو___؟؟“
وہ اپنے بازو کو آنکهوں پر رکھے لیٹی تھی، اسکا مقصد روشنی سے خود کو بچانا تھا۔ کمرے میں پہلے ہی اندھیرا تھا لیکن وہ جسمانی درد سے بچنا چاہتی تھی۔
دروازہ پر دستک ہوٸی تھی۔ حانم چونک کر اٹھی تھی۔ اسے ماہی نے Space دی ہوٸی تھی۔ وہ کبھی کبھی ہی اسکے پاس آتی تھی۔ ماہی چاہتی کہ وہ جلد از جلد نارمل ہو لیکن کوٸی آثار نظر نہيں آرہے تھے۔
”جی ٹھیک ہوں__!!
حانم نے اٹھتے ہوٸے جواب دیا تھا۔

”کیا میں اندر آجاٶں۔۔؟؟“
ماہی پوچھ رہی تھی۔

”جی۔۔ پوچھنے کی ضرورت نہيں ہے آپ اندر آٸیں__!!
وہ زبردستی مسکراٸی تھی۔
حانم نے ہاتھ بڑھا کر بیڈ کے ساتھ میز پر رکھا لیمپ آن کیا تھا۔ روشنی جیسے ہی کمرے میں پھیلی حانم نے آنکهيں بند کرکے خود کو روشنی کی اذیت سے بچانا چاہا تھا۔
ماہی اندر آٸی تھی۔ اس نے حانم کی اس حرکت کو غور سے دیکھا تھا۔
اور پھر کھڑکیوں کی طرف بڑھ کر اس نے پردے پیچھے کیۓ اور انہيں کھول دیا۔
حانم نے بےاختیار اپنے آنکهوں پر دایاں بازو رکھا تھا۔
”انہيں بند رہنے دو پلیز، تیز روشنی مجھے چبھتی ہے__!!
حانم کے لہجے میں التجا تھی۔

”روشنی کب سے چبھنے لگی حانم۔۔ یہ تو اندھیرے کو ختم کرتی ہے!!“
ماہی سنجيدہ لہجے میں کہہ رہی تھی۔

”سر میں درد ہو جاتا ہے!!“
حانم نے جواب بتایا۔

”وہ اس لیۓ کہ تمہيں ایسا لگتا ہے، تم نے خودکو اندھیروں کی عادت ڈال لی ہے، تمہيں یہ عادت ختم کرنی چاہیۓ__!!“

”اندھیرا مجھے سکون پہنچاتا ہے“

”میرے بابا کہتے ہیں کہ اندھیرا انسان کو نگل جاتا ہے، انسان میں ساری ساری منفی سوچیں ادھیرے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔۔ تمہیں اس اندھیرے کی دنیا سے باہر نکل کر روشنی کا سامنا کرنا ہوگا__!!
آج ماہی اسے قاٸل کرنے آٸی تھی۔ ناجانے کیوں حانم اس اپنی اپنی سی لگنے لگی تھی۔
وہ معصوم تھی، خاموشی کا ایک گہرہ پہرہ تھا اس پر!

”میں نہيں کرنا چاہتی کسی بھی چیز کا سامنا___!!
حانم نے بیزاری سے کہا تھا۔

”تم ام حانم ہی ہو نا۔۔؟؟“
ماہی کے سوال پر حانم نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔

”میں نے سنا تھا کہ ام حانم ایک باہمت لڑکی ہے، وہ کبھی کسی چیز سے نہيں ہاری، وہ ہمیشہ حالات کا مقابلہ کرکے انہيں ہرانے کی ہمت رکھتی ایک بہادر لڑکی ہے__!!!

ماہی کی بات پر حانم کا دل کٹ سا گیا تھا۔ وہ بہادر لڑکی ایک ابن آدم سے بری طرح ہار کر آٸی تھی صرف اس وجہ سے کہ وہ بنت ہوا تھا۔

”غلط سنا ہے آپ نے، ام حانم ایک کمزور لڑکی ہے__!!
حانم نے جواب دیا تھا۔

”ہمم۔۔ ہوگی لازمی ہوگی، لیکن اب اسے بہادر بننا ہوگا۔۔ اگر ام حانم کو پیرس میں بزدلی اور مردہ دلی کے ساتھ زندگی گزارنی ہے تو اسے واپس پاکستان چلے جانا چاہیۓ۔۔
پیرس ایسے لوگوں کو خوشآمدید نہيں کہتا__!!

پاکستان واپس جانے کے نام پر حانم نے لرز کر ماہی کو دیکھا تھا، اسکی آنکهوں میں بے یقینی تھی۔

”بالکل۔۔ تمہیں واپس جانا ہوگا، یہ اندھیروں کی زندگی تم وہاں بھی گزار سکتی ہو، فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے ہانی۔۔۔ تمہيں یہاں رہنا ہے یا واپس جانا ہے۔۔؟؟
اگر یہاں رہنا ہے تو دس منٹ میں تیار ہوجاٶ تمہارے موبائل اور سم رجسٹریشن کیلیۓ جانا ہے اور اگر اس کام کیلیۓ نہيں جانا چاہتی تو اپنا سامان پیک کرلو، تمہیں واپسی کا ٹکٹ مل جاٸے گا___!!
وہ دو ٹوک لہجے میں کہتی واپس جاچکی تھی۔
جبکہ حانم پریشان سی اسے جاتا دیکھ رہی تھی۔
ماہی جانتی تھی کہ وہ واپس نہيں جانا چاہتی، اور وہ یہ بھی جانتی تھی کہ اسکی یہ دھمکی کارآمد ثابت ہوگی،
وہ اب مزید اسے یوں ابنارمل لوگوں کی طرح زندگی گزارتے نہيں دیکھ سکتی تھی۔
______________________

تجھے ھو نصیب گدا گری،
تیرا دست ء ناز دراز ھو__
یہی بد دعا ہے کے فتنہ گر
تیرا حسن صحرا لباس ھو
رہے مرض غم میں تو مبتلا
نا دوا ملے نا دعا ملے
تجھے ھو قضا کی جو آرزو
تیری عمر اور دراز ھو___

آرجے نے ہر اس جگہ پر جانا چھوڑ دیا تھا جہاں کبھی حانم گٸی تھی۔
وہ اسے نہيں دیکھنا چاہتا تھا۔ اسکی زندگی سے سکون نام کی چیز کہیں غاٸب ہوگٸی تھی وہ رات کو سو نہيں پاتا تھا۔ سسکیوں کا سلسلہ ختم ہونے کا نام نہيں لے رہا تھا۔
اسے دن میں نیند نہيں آتی تھی، اس نے نیند کی گولیاں کھا کر دن میں سونا شروع کردیا تھا۔
وہ رات کو جیسے ہی آنکهيں بند کرتا تھا وہ آواز اسکی سماعت میں ہتھوڑوں کی طرح لگنا شروع ہوجاتی تھی۔ وہ ساری رات لاٶنج میں بیٹھا رہتا تھا۔

وہ سمجھ نہيں پارہا تھا کہ اسکے ساتھ کیا ہو رہا تھا اور کیوں ہو رہا تھا،
وہ ملتان چلا گیا تھا اور پھر واپس بھی آگیا تھا وہ سسکیاں اسکا پیچھا نہيں چھوڑنے والی تھیں۔
مکی کے بنا دوستوں کی محفلوں میں اسکا دل نہيں لگتا تھا،
رفتہ رفتہ وہ اپنی سوشل زندگی سے کٹنے لگا تھا
یہ وقت کا بہت بڑا انتقام تھا__!!

_______________________

وہ ماہی اور ایلا کے ساتھ گاڑی میں بیٹھی تھی، جب سے وہ پیرس آٸی تھی آج پہلی بار گھر سے باہر نکلی تھی،
ماہی کی دھمکی کام کر گٸی تھی اب اسے لبوں پر ایک خوبصورت سی مسکراہٹ رینگ رہی تھی۔
حانم کے چہرے پر سنجيدہ چھاٸی تھی۔ ایلا کچھ کہنے کیلیۓ پیچھے کی طرف مڑی تھی اور پھر ایک دم چونک گٸی تھی۔
حانم کے گاڑی کے شیشے کے پاس بیٹھی تھی۔ آدھے کھلے شیشے سے سورج کی روشنی اندر آرہی تھی
جو حانم کے چہرے کو چھو رہی تھی۔

”ہے یہ کیا تھا___؟؟“
ایلا نے پھٹی پھٹی آنکهوں سے حانم کی طرف دیکھتے ہوٸے پوچھا تھا۔ سورج کی شعاٶں میں حانم کے چہرے پر کچھ چمکا تھا۔

”کیا۔۔؟؟“
حانم نے کے چہرے پر الجھن پھیلی تھی۔

”تمہاری Chin پر کچھ شاٸن کیا تھا۔۔!!

”وہ پیداٸشی نشان ہے یعنی برتھ مارک۔۔ جب میں پیدا ہوٸی تھی یہ تب سے ایسے ہی ہے__!!
حانم نے بتایا تھا۔
یہ ایک موتی کے ساٸز کا سفید رنگ کا دھبہ تھا جیسے سیاہ رنگ کا تل ہوتا ہے، لیکن یہ سفید تھا اور جب کبھی سورج کی روشنی اس پر براہ راست پڑتی تھی تو یہاں سے ایک چمک پیدا ہوتی تھی۔

“Woww… it just amazing__!!”
ایلا اب دلچسپی سے اسے دیکھ رہی تھی۔ اس نے زندگی میں پہلی بار کوٸی ایسا برتھ مارک دیکھا تھا۔
اسے ام حانم سب سے الگ لگی تھی، اداسیوں کی شہزادی،
جو شاید راستہ بھٹک کر پیرس آگٸی تھی!!

______________________

وہ تینوں شام کو واپس لوٹی تھیں۔
ماہی نے انہيں کھانا باہر کی کھلایا تھا۔ وہ حانم کو روشنی سے متعارف کرانا چاہتی جنہيں وہ بھول گٸی تھی،
ہر طرف رونق تھی جو شاید اسے متاثر کرنا چاہتی تھی، لیکن خاموشی اسکی روح میں اتر گٸی تھی۔

”جب اداسیاں روح میں اتر جاٸیں
تو رونقیں متاثر نہيں کرتیں___!!“

البتہ باہر کی تازہ ہوا نے اسے ذہنی طور پر سکون پہنچایا تھا۔ وہ سیدھا اپنے کمرے میں آٸی تھی۔
کپڑے بدلنے کے بعد وہ آٸینے کے سامنے کھڑی ہوٸی تھی،
یہ وہ حانم تو نہيں تھی جو کچھ ماہ پہلے حسین ترین ہوتی جارہی تھی،
یہ تو گھن زدہ، دیمک کا کھایا ہوا مجسمہ لگتی تھی۔
وہ پلٹنے والی تھی جب وہ آٸینے میں ابھرا تھا۔ اس پر قہقہے لگاتا اسکا مذاق اڑاتا،
اسکے لمبے بالوں اور اسکی نیک نامی پر جملے کستا۔۔
حانم کے چہرے کا رنگ اڑا تھا۔۔
آنسو اسکی آنکهوں میں پھیلنے لگے تھے۔ اور پھر وہ پاگلوں کی طرح کمرے میں کچھ ڈھونڈ رہی تھی،
آرجے کے قہقہے اسکا پیچھ نہيں چھوڑ رہے تھے۔
بالآخر اسے ایک دراز سے اپنی مطلوبہ چیز مل ہی گٸی تھی۔
وہ کینچی کو ہاتھ میں پکڑے آٸینے کے سامنے کھڑی تھی،
اسے اپنے اندر سے ہر وہ چیز ختم کرنی تھی جو اسکے مذاق کا سبب بنی تھی۔

کینچی والا ہاتھ بڑھا کر اس نے اپنے لمبے بالوں کو بےدردی سے کاٹ ڈالا تھا۔
اس نے اپنے نیک ہونے کا ایک نشان مٹا ڈالا تھا۔۔ اب اسے رفتہ رفتہ ام حانم کو ختم کرنا تھا__!
_____________________

”کیا ہوگیا ہے آرجے تم اتنے چڑچڑے کیوں ہوگٸے ہو۔۔۔؟؟“
حشام نے آرجے کو فون کیا تھا جو کب سے بج رہا تھا لیکن وہ اٹھانے کی زحمت نہيں کر رہا تھا اور جب اٹھایا تو آواز میں واضح ناگواری تھی۔

”نہيں تو ایسی بات نہيں ہے۔“
حشام کی بات سے آرجے کو اپنی ناگواری کا احساس ہوا تھا۔
وہ تھک چکا تھا صرف کچھ ہی مہینوں میں ابھی تو اسے بہت لمبا سفر طے کرنا تھا۔
آرجے نے کو ڈھیلا چھوڑتے ہوٸے گاڑی کی سیٹ سے پشت ٹکا دی۔ اسکی آنکهيں بند تھیں۔

”کیا بات ہے آرجے کافی دنوں سے دیکھ رہا ہوں تم کچھ عجیب سا رویہ رکھے ہوٸے ہو کوٸی پریشانی ہے کیا___؟؟“
حشام کے لہجے میں فکر اور پریشانی واضح تھی۔

”سب ٹھیک ہے۔۔“
آرجے نے جانے خود کو تسلی دی تھی یا حشام کو یہ وہ خود بھی نہيں جانتا تھا۔

”میں کچھ دنوں تک پاکستان آرہا ہوں__!!“

”سچ۔۔ جلدی آٶ پھر۔۔“
آرجے کو اسکے آنے کی دلی خوشی ہوٸی تھی۔ایک وہ شخص تھا جو اسے بنا مطلب کے بےلوث محبت کرتا تھا اور آرجے کو محبت کی ہی ضرورت تھی۔

________________________

رمضان گزر چکا تھا، دونوں عیدین بھی گزر چکی تھیں۔
وقت گزرتا جا ریا تھا، وہ بھی بدل گٸی تھی لیکن نہيں بدلا تھا تو صرف اسکا اندر نہيں بدلا تھا جس میں دکھ کے گہرے ساٸے اپنے پنجے گاڑھے بیٹھے تھے۔
ستمبر کا مہینہ شروع ہوگیا تھا۔ پیرس میں ٹھنڈ بڑھنا شروع ہوٸی تھی۔
وہ لاٶنج میں ٹی وی کے سامنے بیٹھی تھی، ہاتھ میں مگیزین تھا۔ ٹی وی چل رہا تھا البتہ اسکا دماغ نہ تو میگزین پڑھنے میں تھا اور نہ ٹی وی پر چلتے پروگرام دیکھنے میں۔۔
کھلے بال کمر پر بکھرے تھے جنہيں وہ وقفے وقفے سے کٹوا لیتی تھی۔
کہاں بالوں کی آبشار تھی اور اب کہاں بال مشکل سے آدھی کمر تک آتے تھے۔
سیاہ رنگ کی جینز پر گھٹنوں تک آتی شرٹ پہن رکھی تھی۔ ڈوپٹہ گلے میں لٹکا ہوا تھا۔

وہ ام حانم تو کہیں سے بھی نہيں لگ رہی تھی۔
وہ تو کوٸی اور تھی جو بدل گٸی تھی۔
اسکی نمازوں میں کمی نہيں آٸی تھی البتہ دعا کیلیۓ کبھی ہاتھ نہيں اٹھتے تھے۔
وہ خود نہيں جانتی تھی کہ وہ کس سے ناراض تھی، وقت سے ، خود سے، سب سے یا پھر اللہ سے___
اسکی آنکهوں میں پھیلی نمی کبھی کم نہيں ہوتی تھی۔
وہ ایلا کی باتوں پر ہنستی تھی، لیکن اسکی مسکان جھوٹی تھی،
کبھی کبھی قہقہہ لگاتے اسکے لب اچانک ساکت ہوجاتے تھے،
ہنستے ہنستے رونے لگتی تھی۔لیکن نہ تو وہ آرجے کے آسیب سے پیچھے چھڑا پاٸی تھی اور نہ اسکی باتوں سے۔۔
راتوں کو اسکی سسکیاں کمرے میں گونجتی رہتی تھیں___

______________________

حشام اسکے سامنے بیٹھا پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اسے یقین نہيں آرہا تھا یہ وہی آرجے اسکا اپنا بھاٸی__

”مجھے یقین نہيں ہوتا آرجے تم اتنا بھی گر سکتے ہو__؟؟ تمہاری تربيت ایسی تو نہيں کی گٸی تھی__!!
حشام کے لہجے میں افسوس تھا اور اس سے بھی زیادہ حانم کیلیۓ دکھ تھا۔
وہ پاکستان آیا ہوا تھا۔ اسکے مکی اور حانم کے بارے میں پوچھنے پر آرجے نے غصے میں سب بتا دیا تھا۔

”تمہیں اب بھی لگتا ہے کہ میری غلطی ہے۔۔؟؟“
آرجے کو اس سے اس جواب کی امید نہيں تھی۔ اسے لگا تھا کہ وہ بھی حانم کو برا بھلا کہے گا۔

”تم نے غلطی نہيں گناہ کیا ہے آرجے گناہ۔۔“
حشام دبی دبی آواز میں چلایا تھا۔

”اور اس گناہ کا ثبوت یہ ہے جو تم سو نہيں پاتے ہو۔۔ جو بےسکونی تمہارے اندر پھیل گٸی ہے نا یہ سب اس گناہ کی وجہ سے ہوا ہے__!!

”منہ بند رکھو شامو میں نے کوٸی گناہ نہيں کیا بلکہ گناہ تو اس حانم نے کیا تھا، پارسا بنتی تھی جبکہ تھی وہ__

”خاموش ہوجاٶ آرجے، پلیز خاموش__!!
حشام کے اندر مزید ام حانم کے بارے میں غلط سننے کی ہمت نہيں تھی۔
اسکا دماغ جم چکا تھا۔ اسے سمجھ نہيں آرہا تھا کیا بولے؟
کیا کردیا تھا آرجے اور کہاں چلی گٸی تھی وہ۔۔؟؟
سوال اسکے دماغ پر ہتھوڑوں کی طرح لگ رہے تھے۔

”تم ایک نہایت کمزور مرد ہو آرجے۔۔ تم ایک لڑکی سے ڈر گٸے تھے۔۔“
حشام کی بات پر آرجے نے چونک کر اسے دیکھا تھا اسکی تیوری چڑھی ہوٸی تھی۔

”تم ڈر گٸے تھے نا کوٸی انسان وہ بھی لڑکی پہلی بار تمہارے مقابلے پر آیا تھا، پہلی بار کسی نے آرجے کے علاوہ کسی کو سراہا تھا، تم سے برداشت نہيں ہوا تو تم نے اسے اس طرح سے یونيورسٹی چھوڑ جانے پر مجبور کردیا۔۔!!“

حشام کی بات سن کر آرجے کا دماغ بھک سے اڑگیا تھا۔ ایسا تو کچھ بھی نہيں ہوا تھا یہ تو سراسر الزام لگایا تھا حشام نے اس پر۔۔

”ایسی کوٸی بات نہيں ہے، میں ایک لڑکی کیوں جیلس ہونگا۔۔؟؟“
وہ چلایا تھا۔

”اگر ایسی بات نہيں ہے تو پوچھو اپنے دل سے پھر کس گناہ کی سزا دی تم نے اسے۔۔
اسکی کم عمری کی غلطی کو تم نے اسکے لیۓ عذاب بنا دیا۔۔!!
اور آرجے مزید نہيں سن سکتا تھا وہ غصے سے اٹھا تھا اور گھر سے باہر نکل گیا تھا جبکہ پیچھے حشام کا دل کرلا رہا تھا۔

______________________

گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد یونيورسٹی دوبارہ کھلی تھی۔ ڈیپارٹمنٹ میں نٸے سٹوڈنٹس آرہے تھے کیونکہ نٸے داخلے ہوٸے تھے۔
آرجے خود کبھی کبھی ڈیپارٹمنٹ جاتا تھا۔
کلاس ختم ہونے کے بعد جیسے ہی وہ واپسی کیلیۓ بڑھا تھا اسے کسی نے پکارہ تھا۔

”ہیلو آرجے___!!
آواز پر اس نے پلٹ کر دیکھا تھا۔ سامنے اسکا کلاس فیلو مرتضی کھڑا تھا۔ اسکے ہاتھ میں ایک گفٹ پیک تھا۔

”کیا تمہيں پتا ہے مہرو کی ماٸیگریشن کہاں ہوٸی ہے۔۔؟؟”
وہ موٹے شیشوں کی عینک ناک پر جماٸے پوچھ رہا تھا۔

”نہيں۔۔۔“
آرجے نے سرد سے لہجے میں جواب دیا تھا۔

”اووہ تمہيں بھی نہيں پتا۔۔
مرتضی کا منہ بن گیا تھا۔

”مجھے لگا شاید تمہيں پتا ہوگا۔۔ مجھے امید تھی کہ جہاں مہرو گٸی ہے وہیں حانم نے بھی ماٸگریشن کرواٸی ہوگی۔
آج ام حانم کا برتھ ڈے ہے نو ستمبر۔۔
یہ اسکے لیۓ گفٹ تھا۔ مجھے وہ بہت اچھی لگتی تھی__!!
مرتضی اپنی دھن میں بول رہا تھا۔

”ام حانم کا برتھ ڈے۔۔۔“
آرجے زیر لب بڑبڑایا تھا۔

”مجھے یاد آیا مہرو کا کزن تمہارا دوست ہے نا تو یہ گفٹ تم اسے دےدینا وہ مہرو کو دے دیگا اور مہرو حانم کو۔۔ مجھے دلی خوشی ہوگی!!“
اس نے وہ گفٹ آرجے کی طرف بڑھایا تھا جسے اس نے بنا کچھ سوچے سمجھے تھام لیا تھا۔

وہ وہیں رک کر اسے کھولنے لگا تھا۔

”ہاں تم کھول سکتے ہو یہ تمہارے متعلق ہے۔۔“
مرتضی کی بات پر آرجے کو حیرت ہوٸی تھی۔

اس نے گفٹ کے اوپر سے خوبصورت پیکنگ کو اتارا تھا۔
پیکنگ کے اندر ایک خوبصورت فوٹو فریم تھا۔
آرجے نے جیسے ہی فریم کو پلٹ کر دیکھا تھا اسکی سانس جیسے اٹک سی گٸی تھی۔
وہ اسکی اور ام حانم کی تصویر تھی۔ وہ جس میں وہ دونوں گراؤنڈ میں رکھے لکڑی کے بینچ پر بیٹھے تھے۔
خوبصورت اور طوفانی موسم تھا۔ وہ جس دن ڈونٹ ٹچ ماٸی فون والا حادثہ پیش تھا۔ وہ جس دن آرجے دل سے مسکرایا تھا۔

”تم وہ واحد لڑکی ہو ام حانم جسکے ساتھ آرجے بیٹھا ہوا دل سے مسکرا رہا تھا___ میں نے ایسی چمک کبھی آرجے کی آنکهوں میں نہيں دیکھی تھی اور نہ ہی کسی لڑکی کے چہرے سے پھوٹتی روشنی___تم دونوں ایک دوسرے کے سنگ بہت مکمل لگ رہے تھے__ جب بھی میں اس تصویر کو دیکھتا ہوں مجھے ہمیشہ لگتا ہے کہ تم دونوں ایک دوسرے کیلیۓ بنے ہو___!!!“
مرتضی

تصویر کے نیچھے کیپشن دیا گیا تھا۔
یہ الفاظ پڑھتے ہوٸے آرجے کا دل بری طرح سے دھڑک رہا تھا۔

”میں نے لکھا ہے اچھا ہے نا۔۔؟؟“
وہ معصومیت پوچھ رہا تھا۔

”اور یہ فوٹو بھی میں نے کھینچی تھی اس روز، یہ بھی اچھی ہے نا۔۔؟؟ اور حانم کو یہ گفٹ پسند آٸے گا نا۔۔؟؟ تمہيں پتا ہے آرجے وہ ڈیپارٹمنٹ میں کسی کے ساتھ بیٹھی اتنی اچھی نہيں لگی تھی جتنی اس روز تمہارے ساتھ___ میں اسے بہت یاد کرتا ہوں__!!“
وہ اداسی سے کہتا چلا گیا تھا جبکہ آرجے آندھیوں کی زد میں تھا۔

مہرو اور حانم کی اقصی کے ساتھ مرتضی سے بھی اچھی خاصی بےتکلفی ہوگٸی تھی۔ وہ ان دونوں کو بہت یاد کرتا تھا۔
آرجے کو سمجھ نہيں آرہا تھا کہ وہ اس تصویر کا کیا کرے۔۔
دل کی دھڑکن کی تیز رفتاری اسکی سمجھ سے باہر تھی۔
”حانم کا برتھ ڈے ہے آج۔۔۔“
اسکا دل کہہ رہا تھا۔
اس نے تصویر میں مجسم حانم کو دوبارہ دیکھا تھا۔
اور پھر اسکی نظر سامنے گراؤنڈ میں رکھے بینچ پر پڑی تھی۔
اس وقت اسکے دل نے شدید خواہش کی تھی کہ کاش وہ اس وقت وہاں موجود ہوتی۔۔ خیال میں نہيں حقيقت میں__
خواہشیں کب پوری ہوتی ہیں۔
وہ اپنے دل کی اداسی نہيں سمجھ پایا تھا اور بےچین سا دل لیۓ ڈیپارٹمنٹ سے باہر نکل گیا تھا۔
____________________

رات کے ایک بجے کے قریب وہ گھر واپس آیا تھا۔ گیٹ پر گارڈ اسے دیکھ کر حیران ہوا تھا۔
”صاحب آپ گٸے نہيں___؟؟“
گارڈ نے خشک لبوں پر زبان پھیرتے ہوٸے پوچھا تھا۔
آج اس نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر شمالی علاقہ جات کی سیر کو جانا تھا۔
لیکن ڈیپارٹمنٹ میں اسکا دل اتنا خراب ہوا کہ پورے لاہور میں آوارہ گردی کر کے وہ اب گھر لوٹا تھا۔
”نہيں۔۔۔“
آرجے ایک لفظی جواب دیا تھا۔
گارڈ کے چہرے کے رنگ اڑے ہوٸے تھے۔ وہ اپنی الجھن میں دیکھ ہی نہيں پایا تھا۔

گیٹ بند کرنے کے بعد گارڈ اسکے پیچھے پیچھے آیا تھا۔

”کیا ہوا۔۔۔“
آرجے نے رک کر پوچھا تھا۔

”کک۔۔ کچھ نہيں۔۔“
گارڈ نے جواب دیا۔ اسکے چہرے کے رنگ اڑے ہوٸے تھے۔
آرجے سر جھٹک کر اندر چلا گیا تھا جبکہ گارڈ نے کانپتے ہاتھوں سے جیب سے موبائل نکال کر کسی کا نمبر ملایا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: