Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 33

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 33

–**–**–

گیٹ بند کرنے کے بعد گارڈ اسکے پیچھے پیچھے آیا تھا۔

”کیا ہوا۔۔۔“
آرجے نے رک کر پوچھا تھا۔

”کک۔۔ کچھ نہيں۔۔“
گارڈ نے جواب دیا۔ اسکے چہرے کے رنگ اڑے ہوٸے تھے۔
آرجے سر جھٹک کر اندر چلا گیا تھا جبکہ گارڈ نے کانپتے ہاتھوں سے جیب سے موبائل نکال کر کسی کا نمبر ملایا تھا۔

آرجے جیسے ہی لاٶنج میں آیا تھا اسے گھر میں ایک غیر معمولی سا احساس ہوا تھا۔
لاٶنج میں صوفے پر کچھ کپڑے بکھرے پڑے تھے۔
اچانک اسکے دماغ میں خطرے کی گھنٹی بجی تھی۔ گارڈ اسکے پیچھے پیچھے لاٶنج میں داخل ہوا تھا۔

”یہ کپڑے کس کے پڑے ہیں اور غلام دین کہاں ہے۔۔؟؟“
آرجے نے سخت سے لہجے میں پوچھا تھا۔

”وو۔۔۔ وہ صاحب۔۔ جی۔۔“
گارڈ کی آواز کانپ رہی تھی۔
اچانک سیڑھیوں کے ساتھ والے گیسٹ روم سے آوازیں آنا شروع ہوٸی تھیں۔ آرجے فوراً کمرے کی طرف بڑھا تھا۔ اس نے ایک جھٹکے سے کمرے کا دروازہ کھولا تھا۔
اندر کا منظر دیکھ کر آرجے کے ہوش اڑ گٸے تھے۔
اسکا ایک سکول کا دوست احمد جو اب ایک مدرسے میں قاری کا فریضہ دے رہا تھا، ایک لڑکی کے ساتھ ناقابل بیان حالت میں موجود تھا۔
آرجے نے جھٹکے سے دروازہ بند کیا تھا۔
اسے اندازہ نہيں تھا کہ ایسا بھی کچھ اسکی غیر موجودگی میں اسکے گھر میں ہوتا تھا۔
اس نے کھا جانے والی نظروں سے گارڈ کو گھورا تھا۔

”معاف کردیں صاحب غلطی ہوگٸی__!!“
گارڈ کے چہرے پر پسینہ واضح چمک رہا تھا اسکا پورا وجود کانپ رہا تھا۔
اندر موجود لوگوں کی حالت بھی گارڈ سے کم نہيں تھی۔
آرجے ناگواری سے ایک نظر گارڈ اور کمرے پر ڈالتا اوپر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا۔

______________________

وہ دس سال کا تھا جب عاٸشہ جبیل یعنی اسکی ماں دنیا چھوڑ گٸی تھیں۔
ظالم سماج کی کڑی دھوپ میں وہ اسکے لیۓ ایک محفوظ پناہ تھیں۔ وہ رویا نہيں تھا ایک بھی آنسو اسکی آنکھ سے نہيں ٹپکا تھا۔
سید جبیل اپنی محبوبہ بیوی کی وفات پر ٹوٹ گٸے تھے۔
حشام بہت رویا تھا، بی جان کو یقین نہيں آیا تھا کہ انکی جان سے پیاری دیوارنی دنیا چھوڑ گٸی تھیں۔

رات کو پوری حویلی میں شور پھیل گیا تھا۔ آرجے غاٸب تھا۔
سید خاندان کے افراد اور ملازمين نے اسے ہر جگہ ڈھونڈا تھا اور پر وہ اپنی ماں کی قبر پر بیٹھا ملا تھا۔
یہ سلسلہ رکا تھا ہر رات یہی ہونے لگا تھا۔ تھک ہار کر جبیل خاندان نے اسے امریکہ اسکے ننھیال بھیج دیا تھا۔

دوسال وہ وہاں سے واپس آیا تھا اور اسے ایک رات عاٸشہ جبیل کی قبر کھودتے پکڑا گیا تھا۔
سید جبیل نے پہلی بار اپنے لاڈلے بیٹے کے منہ پر تھپڑ ماڑا تھا۔ کچھ دن رہنے کے بعد اسے دوبارہ واپس امریکہ بھیج دیا گیا تھا۔
وہاں سکول میں اسے احمد ملا تھا جو اس سے ایک سال سینیٸر تھا۔
دونوں میں کافی حد تک دوستی ہوگٸی تھی۔
اچانک احمد کی توجہ دین کی طرف مبزول ہوگٸی تھی وہ امریکہ سے واپس آگیا تھا اور ایک مدرسے میں پڑھنا شروع کردیا تھا۔

دو سال مزید امریکہ رہنے کے بعد اسے سکول سے نکال دیا گیا تھا۔ وجہ اسکی حرکتیں تھی۔
سکول میں اس نے ایک لڑکے کا سر پھاڑ دیا تھا جسکی وجہ سے اسے سکول سے نکال دیا گیا تھا۔
وہ ایک بار پھر پاکستان آگیا تھا۔ اور اس بار سید جبیل نے اسے لاہور بھیج دیا گیا تھا۔
یہ انکی اچھی قسمت تھی یا خود آرجے کی۔۔
اسے لاہور راس آگیا تھا___
___________________________

وہ کمرے میں آنے کے بعد دھپ سے بیڈ پر بیٹھ گیا تھا۔ اسکا دماغ گھوما ہوا تھا۔
اسے یقین نہيں آرہا تھا کہ ابھی جو نیچے کمرے میں اس نے دیکھا وہ ایک حقيقت تھی۔۔
ایک بری حقيقت__
اسے حیرت ہورہی تھی کہ چہرے پر داڑھی سجا کر، مدرسے میں قرآن پاک کی تعليم دینے والا شخص اسکے ہی گھر میں زنا کا ارتکاب کر رہا تھا۔
احمد سے اسکی کچھ دن پہلے ملاقات ہوٸی تھی پھر وہ اس سے ملنے آنے لگا تھا۔

اسے اس وقت مسلمانوں سے انتہا کی نفرت محسوس ہو رہی تھی۔
آرجے نے بیڈ پر رکھے اس چھوٹے سے شاپنگ بیگ سے وہ فوٹو فریم نکالا جو اسے مرتضی نے دیا تھا۔

”یہ سارے مسلمان ایسے ہی ہوتے ہیں، منافق، پارساٸی کے لباس میں انتہائی غلیظ۔۔
اور حانم بھی ایسی ہی تھی__“
اسے تصویر میں موجود حانم کا وجود زہر لگ رہا تھا۔
غصے سے اس نے اس فوٹو فریم کو دیوار میں دے مارا تھا۔
چھن کی آواز سے فریم ٹوٹا تھا اور اس سے تصویر نکل کر دور جا گری تھی۔

وہ سمجھ ہی نہيں پایا تھا کہ اسکے ارد گرد کتنی غلاظت تھی۔ اسکے جانے کے بعد گارڈ لوگوں سے پیسے لےکر انہيں گھر میں رات گزارنے کی اجازت دیتا تھا۔
غلام دین بھی اکثر اسکے ملتان یا کہیں اور پر جانے پر اپنے گاٶں چلا جاتا تھا۔
وہ انکا خاندانی ملازم تھا اور اس وقت سے اس گھر میں موجود تھا جب حشام اپنے ماسٹر کی پڑھاٸی کیلیۓ یہاں رہتا تھا__
وہ ایک وفادار ملازم تھا۔ اور گارڈ کا تو اسے آج پتا چلا تھا۔
اگر وہ آج گھر نہ آتا تو کبھی جان ہی نہيں پاتا کہ اسکی غیر موجودگی میں گھر میں کیا کیا ہوتا تھا۔

”اور مجھے دنیا میں تمہاری روح سے زیادہ غلاظت میں لپٹی روح کسی اور کی نظر نہيں آٸی۔۔!!
ام حانم کے الفاظ اسکی سماعت میں گونجے تھے۔ آرجے نے بےساختہ اپنے سر کو دونوں ہاتھوں سے تھاما تھا۔ آج صبح سے اسکی طبعیت ٹھیک نہيں تھی۔

اسکے گھر میں اور ارد گرد کتنی غلاظت تھی یہ اسے آج پتا چلی تھی۔۔
اور حانم نے ٹھیک ہی تو کہا تھا وہ یہ غلاظت دیکھ چکی تھی، کیونکہ وہ خود بھی ایسی غلاظت کا حصہ رہ چکا تھا۔

______________________

رات گیارہ بجے کا وقت تھا جب ایلا اسے کمرے سے نکال کر لاٸی تھی۔

”کیا بات ہے ایلا سب ٹھیک ہے نا__؟؟“
حانم پریشان سی اسکے پیچھے چل رہی تھی۔
ڈرائينگ روم اندھیرا تھا۔

”یہ اندھیرا کیوں ہے__؟؟“
حانم نے الجھن زدہ لہجے میں پوچھا تھا۔

”بتاتے ہیں پیاری تھوڑا انتظار کرو__!!“
ایلا نے پیار سے جواب دیا تھا۔
کچھ پل کے بعد اچانک سے پورا گھر روشنیوں میں نہا گیا تھا۔

“Happy Birthday To You Dear Hanam__!!”
ماہی کی آواز نے اسے چونکا دیا تھا۔
اتنا خوبصورت کیک، کینڈل لاٸٹس، حانم حیرت سے سب دیکھ رہی تھی۔ اسے یاد بھی نہيں تھا کہ آج اسکی سالگرہ تھی۔
جب بھی ان تینوں بہن بھاٸیوں میں سے کسی کی سالگرہ ہوتی تھی وہ سب مل کر گھر میں ہی کیک بنانے کی کوشش کرتے تھے۔
ماضی کو یاد کرکے حانم کی آنکهيں نم ہوٸی تھیں۔ وہ آج اکیس برس کی ہوگٸی تھی۔

”خوبصورت موقعوں پر رونا نہيں چاہیۓ۔۔ آٶ کیک کاٹو__!!
ماہی اسے بازو سے پکڑ کر میز کے پاس لاٸی تھی جس کے ایک جانب لیپ ٹاپ کھلا رکھا تھا اور اس میں آسیہ بیگم،حمدان انکل، جواد اور ماہم نظر آرہے تھے۔

”ہیپی برتھ ڈے ہانو آپی۔۔“
جواد نے وش کیا تھا۔
حانم کو سمجھ نہيں آرہا تھا کہ وہ کیا جواب دے۔
فرط جذبات سے وہ ماہی کے گلے لگ گٸی تھی__!!
سب نے اسے بہت سی دعائيں دی تھیں۔ اسکی آنے والی نٸی زندگی کے حوالے سے، لیکن شاید وہ زندگی جینا ہی نہيں چاہتی تھی۔

_______________________

پچھے دو دنوں سے آرجے تیز بخار میں پھنک رہا تھا۔ اسکے سارے دوست دس دن کیلیۓ ٹور ہر گٸے تھے۔
غلام دین بھی گاٶں گیا ہوا تھا۔
گارڈ ڈرتا اسکے سامنے نہيں آتا تھا۔ رات کو اسے سسکیوں کی آواز نہيں سونے دیتی تھی اور دن میں جسم کی تکلیف۔۔
اسکی طبیعت کافی زیادہ خراب تھی۔ دو دن سے اس نے کھانا نہيں کھایا تھا بلکہ کچن میں رکھے بریڈ ہی نگل رہا تھا اور وہ بھی قے کے ذریعے باہر نکل رہے تھے۔
آرجے نے کبھی خود کو اتنا بےبس محسوس نہيں کیا تھا۔
گارڈ معافی مانگنے کیلیۓ ڈرتے ڈرتے اندر آیا تھا اور پھر لاٶنج میں اسے بےسود پڑے دیکھ کر اسکی ٹانگوں تک کی جان نکل گٸی تھی۔

______________________

19_ستمبر
ٹھیک دس بعد آج آرجے کا جنم دن تھا۔ منتوں مرادوں سے مانگا گیا شخص__

یہ دس دن اس نے بیڈ پر لیٹ کر گزارے تھے۔ اسے فوڈ پواٸزنگ ہوگیا تھا۔
آج اسکے گھر میں خوب رونق لگی تھی۔ اسکی سالگرہ کی پارٹی جاری تھی۔
حشام نے سب سے پہلے اسے وش کیا تھا۔ یہ دس دن وہ اپنی جسمانی تکليف میں اتنا گم رہا تھا کہ حانم کا خیال کہیں اڑن چھو سا ہوگیا تھا۔

”پتا ہے شامو کاکا مجھے نا تم سے بہت محبت ہے__!!
آرجے نے فون کی سکرین پر نظر آتے حشام سے کہا تھا۔ اسکی بات سن کر حشام کا قہقہہ ابھرا تھا۔

”اب تک کتنی لڑکيوں سے یہ جملہ بول چکے ہو۔۔؟؟“
حشام شرارت سے پوچھ رہا تھا۔

”قسم لے لو محبت کسی سے بھی نہيں ہوٸی۔۔“
وہ کافی کمزور نظر آرہا تھا۔

”پتا ہے تم باٸیس سال کے ہوگٸے ہو آرجے اور میں نے سوچا تھا کہ اس عمر میں تمہاری شادی کردونگا۔۔!!“
اب کی بار قہقہہ لگانے کی باری آرجے کی تھی۔

”خود کی تو کروالو اٹھاٸیس کے ہوگٸے ہو میری فکر کھاٸے جارہی ہے تمہيں__!!

”میری بھی ہوجاٸے گی پہلے تمہاری کرنی ہے“
حشام بضد تھا۔

”میں اٹھاٸیس سال کا ہونے سے پہلے کرلوں گا شادی تم فکر نا کرو__!!“
آرجے نے پورے یقین سے کہا تھا۔

”تمہيں اب دوستوں کے پاس جانا چاہیۓ سب تمہارا انتظار کر رہے ہونگے__“

”ہاں جاتا ہوں لیکن اس وقت تو سب مگن ہیں،
ویسے تمہیں پتا ہے مجھے تم سے اتنا پیار کیوں ہے۔۔؟؟“
آرجے بچوں کی طرح پوچھ رہا تھا۔

”کیوں___؟؟“
حشام نے دلچسپی سے پوچھا تھا۔

”کیونکہ شامو کاکا تمہارا نام ح سے شروع ہوکر م پر ختم ہوتا ہے، حشام___ اور مجھے ایسے ناموں سے عشق ہے“
آرجے سرشار سا بتا رہا تھا۔

”ح سے شروع ہو کر م پر ختم ہونے والا نام حانم___“
حشام زیرلب بڑبڑایا تھا۔
حشام کے لبوں کی حرکت سے آرجے جان چکا تھا کہ اس نے کس کا نام لیا تھا۔

”حانم____“
آرجے کے چہرے کا رنگ فق ہوا تھا۔ اسکا سانس جیسے اٹک سا گیا تھا،وہ اسے کب بھولا تھا۔۔ وہ تو اسے یاد تھی، ہمیشہ کی طرح___

_____________________

وقت کا سب سے اچھا کام گزرنا ہوتا ہے یہ جیسا بھی ہو گزر جاتا ہے،
وقت تھوڑا سا اور آگے سرکا اور لاہور میں ایک بار پھر ٹھنڈ نے اپنے پر پھیلاٸے تھے۔ آرجے کا اپنے دوستوں سے دل اٹھنے لگا تھا، کیوں۔۔۔؟ یہ وہ خود بھی نہيں جانتا تھا۔
وہ حانم کا خیال اپنے ذہن سے نکال دیتا تھا لیکن پھر کچھ نا اکچھ ایسا ضرور ہوتا تھا جو اسے واپس اسی موڑ پر لا کر کھڑا کر دیتا تھا جیسے سال پہلے ڈیپارٹمنٹ کے لان میں جو ہوا تھا_____
کبھی کبھی وہ سے گہری نفرت محسوس کرتا تھا اور کبھی کبھی اسکی نم آنکهيں، جن سے اس نے آخری بار آرجے کو دیکھا اور جن میں جانے کیا تھا، وہ اسے بےچین کیۓ رکھتی تھیں۔
ہر چیز کو اپنے دماغ سے نکالنے کیلیۓ اس نے پہلی بار کسی میوزک بینڈ کو جواٸن کیا تھا۔
ردھم بینڈ۔۔
اسکی فان فالونگ بڑھتی جا رہی تھی۔ لوگ آرجے کے دیوانے تھے۔
اسکا سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایک بار پھر سے مداحوں کے سوالات سے بھرنے لگا تھا،

”ہیلو آرجے، میں آپکا بہت بڑا فین ہوں۔۔ لیکن میں اپنی زندگی سے بیزار ہوں،میں مرنا چاہتا ہوں مگر آپکا میوزک اور آپکی آواز دونوں مجھ میں جینے کی ایک آس بھر دیتے ہیں۔۔
میں جاننا چاہتا ہوں کہ جب ہم مایوس ہوتے ہیں تو مرنا کیوں چاہتے ہیں____؟؟“
اس لڑکے نے سوال ایک پل کیلیۓ آرجے کو ساکت کیا تھا۔

”اچھا سنو ایک سوال کا جواب تو دو۔۔ ہم مرتے کیوں ہیں____؟؟“
وقت نے تقدیر کے پنے تیزی سے پلٹے تھے اور وہ سال پہلے گاڑی میں بیتی اس شام میں پہنچ گیا تھا جب وہ حانم کو ہاسٹل چھوڑنے گیا تھا۔

اسکے سوال کرنے پر وہ خاموش رہی تھی۔

”بتاٶ نا۔۔؟؟“

”تم جی کیوں رہے ہو__؟؟“
حانم نے چہرہ اسکی جانب موڑتے ہوٸے نہایت سپاٹ لہجے میں پوچھا تھا۔

”وہ اس لیۓ کہ___
آرجے ایک پل کو رکا تھا۔

”کہ___؟؟“
حانم نے پوچھا تھا۔ لیکن آرجے کوٸی جواب نہيں بن پایا تھا۔

”پہلے یہ تو جان لو کہ تم جی کیوں رہے ہو؟؟ تمہارے زندہ ہونے کی وجہ کیا ہے؟؟ موت پر بعد میں جانا آرجے__!!“
وہ سخت سے لہجے میں کہتی چہرہ دوبارہ اپنی جانب والے شیشے کی طرف موڑ چکی تھی۔
آرجے ایک پل کیلیۓ اسکی حاضر دماغی پر دنگ رہ گیا تھا۔

“چلو یہ تو بتادو ہم مرنے کے بعد کہاں جاٸیں گے؟ تمہارا اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے۔۔؟؟ خاص طور پر میں۔۔ میں کہاں جاٶں گا__؟؟
وہ اسے زچ کر رہا تھا۔

”مجھے نہيں پتا“
حانم نے دوٹوک جواب دیا تھا۔

”کمال ہے تمہيں نہيں پتا۔۔ تمہيں۔۔؟؟
یہ تو غضب ہوگیا___؟؟“
آرجے نے حیرت سے ایسے آنکهيں پھیلاٸی تھیں جیسے پتا نہيں حانم نے کتنا بڑا گناہ کردیا ہو۔

”تم پیدا ہونے سے پہلے کہاں تھے__؟؟“
وہ ایک بار پھر ناگواری سے پوچھ رہی تھی۔
آرجے کے ہنسی کو ایک دم بریک سی لگی تھی۔
وہ خاموش ہوگیا تھا۔ وہ لڑکی اسے اسکے سوالوں میں الجھاتی تھی۔

”میں نہيں جانتا___!!“
وہ صاف گوٸی سے بولا تھا۔

”جب تم یہی نہيں جانتے کہ پیدا ہونے سے پہلے کہاں تھے تو میں کیسے بتاٶں کہ تم مرنے کے بعد کہاں جاٶ گے__؟؟“
حانم کا لہجہ کاٹ دار تھا۔

”ہمم۔۔ ٹھیک کہا تم نے یہ تو میں نے سوچا ہی نہيں تھا___!!
وہ جیسے اسکی بات سے قاٸل نظر آرہا تھا۔

”اچھا اپنا بتاٶ تم کہاں جاٶ گی مرنے کے بعد___؟؟“
یہ تو طے تھا وہ اسے ہاسٹل تک چھوڑنے کے بدلے میں اسے کافی بھاری سزاٸیں دے رہا تھا۔

” ان شاء اللہ جنت میں___!!!“
حانم نے پراعتمادی سے جواب دیا تھا۔ اس بار چونکنے کی باری آرجے کی تھی۔
اسکا حانم کے جواب پر قہقہہ ابھرا تھا۔

”واہ بھٸی اتنا یقین، خود جنت میں جاٶ گی اور مجھے کیا جہنم میں بھیجنے کا ارادہ ہے۔۔؟؟“

”ہاں__!!“
حانم کے برجستہ جواب پر وہ کافی دیر تک ہنستا رہا تھا۔

”افف افف اتنی پکی دشمنی۔۔ ویسے ایک بات یاد رکھنا تم جنت میں جاٶ گی تو میں بھی جنت میں تمہارے پیچھے ہی آٶں گا آخر ایک تم ہی میرے سوالات کو سمجھتے ہوٸے لاجک سے مجھے قاٸل کرنے کی کوشش کرتی ہو، اب جہنم میں تو مجھے تمہارے جیسا ملے گا نہيں، تو جنت میں جانا پڑے گا نا مجھے__؟؟“
وہ معصومیت سے کہہ رہا تھا۔
حانم خاموش رہی تھی۔

”ویسے پانچ فٹ چار انچ ماننا پڑے گا تمہارا دماغ کافی تیز چلتا ہے!!“
اپنے قد پر کیۓ گٸے کمنٹ پر حانم نے کھاجانے والی نظروں سے اسے گھورا تھا اور اسکا یوں گھورنا آرجے کو قہقہے لگانے پر مجبور کرتا تھا۔

ایک جاندار سی مسکراہٹ اسکے لبوں پر پھیل گٸی تھی وہ ماضی سے ایک دم حال میں واپس آیا تھا۔
حانم نہيں تھی وہ جاچکی تھی اسکی دنیا سے بہت دور،
ایک پل کیلیۓ آرجے کا دل اسے دیکھنے کو تڑپا تھا، مسکراہٹ کہیں غاٸب ہوٸی تھی اور اسکی جگہ چہرے پر ناجانے اذیت سی کیوں پھیل گٸی تھی۔

اس نے کچھ سوچتے ہوٸے اپنے سامنے رکھے لیپ ٹاپ پر سوشل میڈیا اکاؤنٹ کھولنے کے بعد اسکا نام لکھ کر سرچ کیا تھا، وہ خود نہيں جانتا تھا وہ یہ کیوں کر رہا تھا،
ام حانم۔۔۔ اسکی پروفاٸل آرجے کے سامنے تھی۔
تقریباً دس ماہ پہلے کی اپڈیٹ تھی۔
پچھلے دس ماہ سے اسکا اکاؤنٹ بند پڑا تھا۔
آجے کے اندر کچھ ہو رہا تھا۔۔ ایک بےچینی سی اسکے اندر پھیل گٸی تھی۔

”جس دن ہر ذی روح کو زندہ کیا جاٸے گا اور مردوں کو قبروں سے اٹھایا جاٸے گا نا میری دعا ہے کہ ہمارا اس بھی سامنا نہ ہو___!!
وہ اپنی بات میں سچی ثابت ہوٸی تھی۔ تقریباً ایک سال سے آرجے نے اسے نہيں دیکھا تھا وہ سمجھ نہيں پارہا تھا کہ وہ دعا کرکے گٸی تھی یا آرجے کو بددعا دے کر گٸی تھی۔
___________________

“تم جس طرح چاہو زندگی بسر کرو، میں تمھارے راستے میں روکاوٹ نہیں ڈالوں گی۔ مگر میں صرف ایک بات چاہتی ہوں۔ ذرا اچھی طرح خیال رکھنا کہ کن لوگوں سے بات کرنی ہے کن سے نہیں۔ ہمیشہ لوگوں سے ڈرتے رہنا، وہ ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں۔ ان کی زندگی لالچ اور حسد میں گزرتی ہے۔ وہ ایک دوسرے کو تکلیف پہنچا کر خوش ہوتے ہیں۔ ایک بار تم انہیں ان کی اصلی شکل دکھا دو، ان پر الزام لگا دو پھر دیکھو وہ تم سے کتنی نفرت کرنے لگیں گے اور تمہیں ختم کرنے پر تل جائیں گے۔”

وہ جب ہاسٹل چھوڑ کر گٸی تھی تو میکسم گورکی کی کتاب ماں پڑھ رہی تھی اور اس نے اپنی پسندیدہ جملوں کو پوسٹ کیا تھا۔
آرجے کو محسوس ہوا تھا جیسے یہ اسے ہی سنایا گیا تھا،
حانم نے اسکی ذات پر بات کرنے کی ہمت کی تھی اور بدلے میں آرجے نے اسکا منہ بند کردیا تھا ہمیشہ کیلیۓ۔۔
یہ چند جملے سطر سطر سچائی لیۓ ہوٸے تھے۔ اسکی بےچینی میں مزید اضافہ ہوا تھا۔
وہ کچھ سوچ کر اپنی نرم و ملاٸم بیڈ سے نیچے اترا تھا۔ اب اسکا ارادہ مکی سے بات کرنے کا تھا۔

____________________

”ہیلو مکی میں تم سے ملنا چاہتا ہوں کہاں ہو تم__ اپنا ایڈریس مجھے دو“
آرجے نے مکی کو فون کیا تھا۔

”لیکن میں تم سے نہيں ملنا چاہتا اور میں لاہور یا ملتان میں نہيں ہوں“
مکی نے سختی سے جواب دیا تھا۔

”لیکن مجھے تم سے ملنا ہے لازمی میں جانتا ہوں تم اسلام آباد میں ہو میں اسی طرف آرہا ہوں اپنا اڈریس دو“

”لیکن مجھے تم سے نہيں ملنا__“

”کہا نا مجھے تم سے ملنا ہے، یو ایڈیٹ تمہيں سمجھ کیوں نہيں آرہا__
وہ گاڑی چلاتے ہوٸے اتنی زور سے چلایا تھا کہ دوسری طرف موجود مکی ڈر گیا تھا۔ آج کافی دنوں بعد اسے ہلاکو خان کی اولاد آرجے کی جھلک نظر آٸی تھی۔

”مجھے حانم کے متعلق بات کرنی ہے“
آرجے نے خود پر قابو پاتے ہوٸے کہا تھا۔ مکی اسکی بات سن کر چونکا تھا اور پھر کچھ دیر بعد اس نے آرجے کو ایڈریس بتادیا تھا۔

____________________

وہ اپارٹمنٹ کے پیچھے کی جانب بناٸے گٸے لان میں بیٹھی تھی۔ یہاں ماہی اور ایلا نے کافی پودے لگاٸے ہوٸے تھے۔
لان زیادہ بڑا نہيں تھا تھا لیکن حانم کو یہاں پر پودوں اور پرندوں کی چہچہاہٹ کے درميان بیٹھنا اچھا لگتا تھا، ٹھنڈی ہواٸیں سرن سرن کرتی جب اسکے سنہری بالوں سے ٹکرا کر انہيں پیچھے کی جانب اڑاتی تھیں تو اسے خوشگواریت کا احساس ہوتا تھا۔
اسکی گرے آنکهوں میں پھیلی نمی ہر چیز کو دھندلا جانے پر مجبور کر دیتی تھی۔

”کیا تمہيں ہمیشہ سے اکیلے بیٹھنا پسند ہے___؟؟“
یہ مسز سٹیفن تھیں جو ایک ساٸیکولوجسٹ تھیں لیکن حانم نہيں جانتی تھی۔
اسے لوسی ماں نے مسز سٹیفن کا تعارف اپنی دوست کی حثیت سے کروایا تھا۔

”نہيں۔۔ ہمیشہ سے نہيں لیکن اب لگتا ہے“
حانم نے کھلے آسمان کو تکتے ہوٸے جواب دیا تھا۔

”اور اسکی وجہ“
مسز سٹیفن نے گہری نظریں اسکے چہرے پر جماتے ہوٸے پوچھا تھا۔

”کچھ خاص نہيں بس انسان کی دلچسپی کبھی ایک چیز سے ختم ہو کر دوسری میں شروع ہوجاتی ہے اور یہ ایک قدرتی بات ہے!!“

”زندگی سے بیزار نظر آتی ہو“

”نہيں تو۔۔۔ زندگی سے بیزار لوگ تو مرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ میں تو جیۓ جارہی ہوں“

”باتوں میں الجھانا آتا ہے تمہيں“
مسز سٹیفن مسکرا دی تھیں۔

”کیا واقعی۔۔؟؟“
حانم نے حیرت سے پوچھا تھا۔

”ہاں اور مجھے ایسے لوگ بہت پسند ہیں جن کے پاس باتوں میں الجھانے کا ہنر ہو، تو آج سے ہم دوست ہوٸے“
مسز سٹیفن ایک پینتیس سالہ خوبصورت سی عورت تھیں۔ جو اس وقت اپنے پیشہ ورانہ انداز میں مسکراتی نظر آرہی تھیں۔

___________________

”مجھے لگتا ہے کہ میں اس روز کچھ زیادہ ہی ری ایکٹ کر گیا تھا، مجھے ام حانم سے وہ سب نہيں کہنا چاہیۓ تھا، مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ہر انسان کی اپنی پرسنل لاٸف ہوتی ہے جسے وہ جیسے چاہے گزار سکتا ہے“
آرجے نے نظریں چراتے ہوٸے کہا تھا مکی اسکا اشارہ سمجھ گیا تھا، لیکن وہ آرجے کے اندر جلتے الاٶ کو محسوس نہیں کر پایا تھا جو یہ بات کہتے ہوٸے اسکے اندر جل اٹھا تھا۔

وہ جب بھی حانم اور مکی کو ایک ساتھ سوچتا تھا اسکا اندر جل کر خاکستر ہوجاتا تھا اور ایسا کیوں ہوتا تھا یہ وہ بھی نہيں جانتاتھا۔

”جیسا تم نے اسے سمجھا وہ ویسی نہيں تھی، وہ الگ تھی آرجے“
مکی نے مری مری سے آواز میں کہا تھا وہ کافی بدل گیا تھا، پھٹی جینز کی جگہ اب ڈھنگ کے کپڑے پہنے ہوٸے تھے، چہرے پر وہ خباثت نہيں تھی بلکہ سنجيدگی چھاٸی تھی۔

”تم اتنا سب کچھ ہوجانے کے بعد میں بھی مجھے ہی غلط کہہ رہے ہو، تمہيں نہيں پتا میں نے اسے اس دن ہاسٹل چھوڑا تھا جانے وہ کس سے ملنے۔۔۔

”بتایا تھا مہرو نے مجھے،
مکی نے غصے سے آرجے کی بات کاٹی تھی۔

”مہرو اور حانم کی ایک کلاس فیلو تھی جس نے اپنی پسند سے گھر والوں سے چھپ کر شادی کرلی تھی، اسکے گھر والوں نے اس سے ہر رشتہ توڑ لیا تھا، اس لڑکی کی بدقسمتی کہ وہ لڑکا یعنی اسکا شوہر اسے دھوکا دے گیا تھا، یہ بات مہرو جانتی تھی کیونکہ مہرو کا اس سے رابطہ تھا،
اس نے مہرو سے کچھ مالی مدد مانگی تھی، اس دن حانم اور مہرو نے اسکے گھر جانا تھا، مہرو نے یہ بات حانم کو نہيں بتائی تھی کیونکہ اگر وہ بتادیتی تو حانم کبھی اسکے ساتھ نہيں جاتی،
مہرو کے پاس جتنے بھی پیسے تھے وہ اسے دینے جارہی تھی لیکن اس دن انکا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا اور مہرو وقت پر پہنچ نہيں پاٸی تھی“
مکی کی بات نے آرجے کو شرمندہ کردیا تھا وہ اسے کتنا غلط سمجھ رہا تھا،

”یعنی اس روز بھی حانم بےگناہ تھی“
اسکی اپنی سوچ اسے سانپ کی طرح ڈس رہی تھی۔

”میں حانم سے ایک بار ملنا چاہتا ہوں__میں اسے ایکسکیوز کرنا چاہتا ہوں“
آرجے نے اپنی شرمندگی مٹاتے ہوٸے کہا تھا۔

”مجھے اسکا ایڈریس نہيں معلوم۔۔“
مکی نے صاف جواب دیا تھا۔

”مہرو کو پتا ہوگا۔۔ مجھے اسکا نمبر چاہیۓ میرا اس سے ملنا لازمی ہے“

”مہرو بھی نہيں جانتی اسے ممانی کی خراب طبیعت کے باعث ایمرجنسی میں اسلام آباد آنا پڑا تھا، وہ خود بہت پریشان ہے کیونکہ تقریباً پچھلے ایک سال سے اسکا حانم سے رابطہ نہيں ہوا اسکا نمبر بند جا رہا ہے“

”کسی کا نمبر تو ہوگا نا گھر میں کسی کا“
آرجے کے لہجے میں امید تھی۔ مکی خود حانم سے معافی مانگنا چاہتا تھا لیکن اس میں ہمت نہيں تھی اب آرجے کو دیکھ کر کچھ ہمت بندھی تھی۔

”میں مہرو کو بلاتا ہوں خود بات کرلو“
مکی کہتے ہوٸے چلا گیا تھا جبکہ آرجے بےچینی سے پہلو بدل کر رہ گیا تھا۔

کچھ دیر بعد مہرو اسکے سامنے تھی۔

”مجھے حانم کا نمبر چاہیۓ“
آرجے نے کہا تھا۔

”میرے پاس جو نمبر ہے وہ بند جا رہا ہے پچھلے ایک سال سے، میں حیران ہوں کہ ہانی نے اگر نمبر بدلنا تھا تو مجھ سے رابطہ تو کرتی میرا نمبر تو تھا نا اسکے پاس۔۔“
مہرو کافی پریشان نظر آرہی تھی۔

”اسکے گھر کا ایڈریس چاہیۓ۔۔پلیز__“
پہلی بار آرجے نے کسی سے اس لہجے میں کچھ مانگا تھا۔
مہرو سوچ میں پڑ گٸی تھی۔

”تمہيں پتا ہے ہانی آرجے کا گھر بھی بحریہ ٹاٶن میں ہی ہے۔۔“

”جانتی ہوں،ہمارے گھر سے دو گھر چھوڑ کر اسکا گھر ہے“

”کیا واقعی۔۔؟؟“
مہرو کیلیۓ یہ دھماکہ تھا۔

”کبھی ملاقات نہيں ہوٸی۔۔؟؟“

”نہيں۔۔“
حانم نے جواب دیا تھا۔

”پلیز تمہيں میری قسم ہے تم مکی یا آرجے کو مت بتانا پلیز۔۔۔“
حانم نے اسکی منت کی تھی۔

”اچھا بابا نہيں بتاتی۔۔ وعدہ رہا“
حانم کے بار بار منع کرنے پر مہرو نے اس سے وعدہ لیا تھا۔

”پلیز مہرو۔۔ میرا اس سے ملنا بہت ضروری ہے تم سمجھ رہی ہو نا___!!“
آرجے کی آواز پر وہ چونک کر خیالوں سے باہر آٸی تھی۔
اسے آرجے کی آنکهوں میں ایک عجیب سی بےچینی نظر آٸی تھی۔
وہ نہيں جانتی تھی کہ آرجے حانم سے کیوں ملنا چاہتا تھا اور وہ یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ حانم یونيورسٹی چھوڑ کر کہاں چلی گٸی تھی۔

”پلیز___!!
آرجے کے لہجے میں التجا تھی۔

”ٹھیک ہے۔۔۔“
مہرو نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔

_____________________

”تمہيں پتا ہے آرجے حانم نے چاہے تمہيں جتنی بھی باتیں سناٸی ہوں اس نے کبھی تمہيں بدکراد نہيں کہا تھا اور نا تمہاری بات کی تھی ۔!!
وہ اس وقت ریسٹورینٹ میں موجود تھا، کھانا اسکے سامنے میز پر ترتیب سے رکھا ہوا تھا۔
مکی کے کہنے پر بھی وہ رکا نہيں تھا، اسے شدید بھوک لگی تھی وہ ریسٹورینٹ آگیا تھا۔
شدید بھوک لگنے کے باوجود بھی وہ کچھ کھا نہيں پارہا تھا۔
مکی کی باتیں اسکی سماعت میں گونج رہی تھیں۔

”اس نے تمہيں شیطان تمہاری سوچ اور گھٹیا تمہاری باتوں کی وجہ سے کہا تھا لیکن کبھی تمہارے ملحد ہونے کے باوجود تمہيں کمتر نہيں سمجھا تھا“
اس نے ایک چمچ چاول کھاٸے تھے جبکہ دوسرا چمچ وہ منہ تک بھی نہيں لے کر گیا تھا۔
اسکا دل اچاٹ ہوگیا تھا۔۔ وہ بس جلد از جلد ام حانم سے ملنا چاہتا تھا___
وہ ان سسکیوں جان چھڑانا چاہتا تھا جو اسے سونے نہيں دیتی تھیں۔
____________________

وہ رات کو گیارہ بجے کے قریب لاہور پہنچا تھا اور اگلے دن وہ ڈیپارٹمنٹ پہنچ گیا تھا وہ وہاں حانم کے ڈاکومینٹس سے یہ کنفرم کرنا چاہتا تھا کہ جو ایڈریس اسے مہرو نے بتایا تھا وہ ٹھیک بھی تھا یا نہيں۔۔
وہ چاہتا تو ڈیپارٹمنٹ سے ہی اسکے متلعق معلومات حاصل کر سکتا تھا لیکن اسکا مہرو سے ملنا ضروری تھا۔

ڈیپارٹمنٹ میں پروفيسر ابراہم سے بات کرنے کے بعد اس نے حانم کے ڈاکومینٹس چیک کیۓ تھے۔ وہی پتہ لکھا ہوا تھا۔

وہ پروفيسر کا شکریہ ادا کرتا ڈیپارٹمنٹ سے باہر نکل آیا تھا۔۔۔
وہاں جنت روڈ پر دھند میں چلتے اسے حانم کی ہنسی کی آواز سنائی دے رہی تھی__
لیکن وہ اسے دیکھ نہيں پارہا تھا۔۔۔
اسی جنت روڈ پر وہ کھلکھلاتی تھی اور اسی روڈ پر آرجے نے اسے جہنم جیسی آگ میں دھکیل دیا تھا___
وہ اسکا خیال لیۓ گیٹ کی طرف بڑھتا جا رہا تھا۔۔
وہ چاہتا تو اپنی گاڑی بھی اندر لاسکتا تھا___
لیکن اسے شدید دھند میں حانم کو سوچتے ہوٸے جنت روڈ پر پیدل چلنا اچھا لگنے لگا تھا__!!

”میں گھٹتا جا رہا ھوں دھیرے دھیرے
مجھے اس کی کمی کھانے لگی ہے___!!“

___________________

رات کے تقریباً نو بجے کا وقت تھا جب وہ گاڑی کو مین روڈپر چھوڑ کر پیدل ہی گلی میں داخل ہوا تھا۔۔
کچھ دیر گلی میں چلنے کے بعد وہ ایک کھلے سے چوک پر پہنچا تھا۔۔
یہ مہرو کا دیا گیا پتہ تھا__
یہ حانم کا پرانا گھر تھا۔ وہ دھڑکتے دل کے ساتھ قدم اٹھاتا اسکے گھر کی جانب بڑھ رہا تھا۔
محلے کی لاٸیٹ گٸی ہوٸی تھی۔ کچھ گھروں میں روشنی جبکہ باہر اندھیرا تھا۔
وہ جیسے جیسے گھر کے قریب پہنچ رہا تھا اسکی ٹانگوں کی جان نکلتی جا رہی تھی۔
بالآخر وہ اس دروازے پر پہنچ گیا تھا۔۔۔
لیکن دروازے پر لگے تالے کو دیکھ کر اسکا دل زور سے چلانے کو کیا تھا___

”آگیا تو____ بڑی دیر کردی__!!“
آواز پر وہ ایک دم اچھلا تھا۔

دروازے سے کچھ فاصلے پر دیوار کے ساتھ ٹیک لگاٸے کوٸی بیٹھا تھا۔
آرجے نے اپنا موبائل نکال کر ٹارچ آن کی تھی۔
وہ ایک فقیر تھا جو پھٹی سی چادر کو اپنے گرد لپیٹے بیٹھا تھا۔

”کون ہو تم۔۔؟؟“
آرجے نے حیرت سے پوچھا تھا اور فقیر کے پھٹے ہوٸے سیاہ ہونٹوں پر پراسرار سی مسکراہٹ پھیل گٸی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: