Noor Rajput Urdu Novels

Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 34

Sulphite Novel by Noor Rajput
Written by Peerzada M Mohin

سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 34

سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 34

–**–**–

آگیا تو____ بڑی دیر کردی__!!“
آواز پر وہ ایک دم اچھلا تھا۔

دروازے سے کچھ فاصلے پر دیوار کے ساتھ ٹیک لگاٸے کوٸی بیٹھا تھا۔
آرجے نے اپنا موبائل نکال کر ٹارچ آن کی تھی۔
وہ ایک فقیر تھا جو پھٹی سی چادر کو اپنے گرد لپیٹے بیٹھا تھا۔

”کون ہو تم۔۔؟؟“
آرجے نے حیرت سے پوچھا تھا اور فقیر کے پھٹے ہوٸے سیاہ ہونٹوں پر پراسرار سی مسکراہٹ پھیل گٸی تھی۔

”مجھے اندازہ تھا تم آٶ گے۔۔“
اسکی بات سن کر آرجے کے چہرے پر الجھن پھیلی تھی۔

”کہا تھا میں نے کہ تیرا بیٹا کسی کی زندگی برباد کرے گا۔۔ کسی نے مانی نہيں تھی میری۔۔“
فقیر کی باتيں آرجے کی سمجھ سے باہر تھیں۔

”کون ہو تم۔۔ اور یہ کیا بول رہے ہو۔۔۔؟؟“
آرجے دبی دبی آواز میں چلایا تھا۔

”بدنصیب۔۔۔“
فقیر گہرے پراسرار لہجے میں کہتے ہوٸے ایک دم اسکی طرف لپکا تھا۔ آرجے اچھل کر پیچھے ہوا تھا۔

”تیرے پاس آٸی وہ۔۔ تیرے ساتھ رہی۔۔ پا نہيں سکا اسے تو___“
فقیر مسکرایا تھا۔

”اسکا نام تیرے نام سے جڑا ہوا ہے۔۔ پھر بھی چھو نہيں سکا اسے تو___؟؟
فقیر نے قہقہہ لگایا تھا۔
آرجے کا دل ڈوب کر ابھرا تھا۔ یقيناً وہ شخص حانم کی بات کر رہا تھا۔

”کیا تجھے پتا تیرا عورت ذات سے دل کیوں بھر گیا ہے۔۔۔؟؟“
فقیر نے رازدانہ انداز میں پوچھا تھا۔ آرجے کے خاموش رہنے پر اسکے لبوں مسکراہٹ گہری ہوٸی تھی۔

”ادھر آ تجھے کچھ دکھاتا ہوں۔۔۔“
وہ آرجے کا ہاتھ پکڑ کر حانم کے گھر سے کچھ فاصلے پر لے گیا تھا۔

”وہ دیکھ ادھر۔۔ دیکھ۔۔“
فقیر نے سخت لہجے میں آرجے کو انگلی کے اشارے سے اوپر دیکھنے کو کہا تھا۔

حانم کے گھر سامنے مسجد تھی۔۔ اور ایک مسجد گھر سے کچھ فاصلے پر پیچھے کی جانب تھی۔
مسجد کے میناروں پر بڑی بڑی روشنیاں یعنی راڈ لگے ہوٸے تھے۔۔ جن کا منہ اتفاقاً حانم کے گھر کی طرف تھا۔۔ اور دونوں میناروں سے تیز روشنی نکل کر حانم کے گھر پر پڑ رہی تھی۔

”دیکھ رہا ہے یہ روشنی۔۔ وہ لوگ یہاں سے جاچکے ہیں پھر بھی خدا نے انکے گھر کو منور کیا ہوا ہے، ثبوت مانگتا ہے پارساٸی کا جا چلا جا___!!
فقیر نے غصے سے کہتے ہوٸے آرجے کو دھکا دیا تھا جو لڑکھڑا کر پیچھے ہوا تھا۔ اور حیرت سے اس چھوٹے سے روشن گھر کو دیکھ رہا تھا۔۔
اسکے جسم کے رونگٹے کھڑے ہوگٸے تھے۔

”چلا جا تیرے نصیب میں نہيں ہے۔۔ اور نہ تجھے ملے گی۔۔ چلی گٸی ہے اب جا تو بھی__!!
فقیر واپس اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ گیا تھا۔
اور آرجے فقیر کی اس بات پر تڑپ اٹھا تھا۔

آسیہ بیگم نے اپنی زندگی کے باٸیس سال غربت میں گزار دیٸے لیکن کبھی کچھ غلط نہیں کیا تھا۔۔ اور نہ اپنی بیٹیوں کو کرنے دیا تھا۔۔ آسیہ بیگم کو اسکے صبر اور نیک ہونے کے پھل حمدان کی صورت میں ملا تھا۔۔ جبکہ حانم کے ساتھ آرجے نے کیا کیا تھا۔۔
اسے تو نوازا جانا چاہیۓ تھا اور آرجے نے اندھیرا کردیا تھا اسکی زندگی میں__
آرجے کے لب کپکپاٸے تھے لیکن وہ کچھ بول نہيں پایا تھا۔ اسے اپنے دل کے دھڑکنے کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔
اسے احساس ہوا تھا کہ وہ کتنی بڑی غلطی کرچکا تھا۔

”مم۔۔ مجھے وہ چاہیۓ___!!“
وہ مشکل سے بول پایا تھا۔

”ناممکن۔۔۔“
فقیر نے قہقہہ لگایا تھا۔

”تیری قسمت میں نہيں وہ۔۔۔ اور قسمت کو تو بدل نہيں سکتا۔۔ جا چلا جا اب___“

”ایسا نہيں ہوسکتا۔۔۔ میں قسمت ہی بدل دونگا۔۔!!“
آرجے خود نہيں جانتا تھا کہ اس نے یہ الفاظ کس احساس کے تحت کہے تھے۔
فقیر نے چونک کراسے دیکھا تھا،

”تو چاہے تو بہت کچھ کر سکتا ہے__ اب چلا جا وقت ضاٸع مت کر!!“

”معافی مانگنی ہے اس سے۔۔ وہ سامنے ہوتی تھی تو سب اچھا لگتا تھا۔۔۔“
وہ گھٹوں کے بل زمین پر بیٹھ گیا تھا کسی ہارے ہوٸے جواری کی طرح۔
اسکا لہجہ نم تھا۔ فقیر اسے غور سے دیکھ رہا تھا۔
______________________

رات بارہ بجے کے قریب وہ گھر واپس آیا تھا۔۔ اسکی حالت ایسی ہی تھی جیسے سب کچھ ہار کے آیا ہو۔۔
کمرے میں آنے کے بعد سب سے پہلے اس نے میز سے وہ تصویر اٹھاٸی تھی جو اس نے اس روز فوٹو فریم سمیت دیوار پر دے ماری تھی۔
ملازم نے صفائی کی تو وہ اٹھاکر میز پر رکھ دی تھی۔

“Don’t Touch My phone You Muggles”
کچھ یاد آنے پر وہ مسکرادیا تھا۔
اسکی آنکهوں میں پھیلی نمی اسکے اندر کی تبدیلی پر گواہی دے رہی تھی۔

اس نے شہادت کی انگلی سےتصویر میں موجود حانم کے چہرے کو چھوا تھا۔

”میں مکی سے کہتا تھا کہ تم بہت خود سر اور گھمنڈی لڑکی ہو۔۔ اور میں بالکل ٹھیک کہتا تھا۔۔ تم نے نظر نا آنے کی قسم اٹھاٸی تھی اور اپنی اس قسم پر پورا اتر رہی ہو۔۔“
وہ اب میز کے پاس رکھی کرسی پر بیٹھ کر اس سے باتيں کر رہا تھا۔

”لیکن یاد رکھنا میں بھی آرجے ہوں، جس دن مل گٸی نا بخشوں گا نہيں۔۔“
اس نے مصنوعی غصہ کیا تھا۔

اگر کوٸی اسے دیکھ لیتا تو یقین نہيں کرتا کہ وہ آرجے تھا جسکی آنکھ میں کبھی آنسو نہيں آیا تھا اور اب وہ نم آنکهيں لیۓ بیٹھا تھا۔

”معافی مانگنی تھی مجھے اکثر غصے میں بہت غلط بول جاتا ہوں۔۔۔!!“
اتنا نرم لہجہ۔۔ خود حانم دیکھ لیتی تو بےہوش ہوجاتی۔

”تم ٹھیک کہتی تھی کہ میں صرف چالاک ہوں۔۔ ذہین نہيں ہوں۔۔ اگر ذہین ہوتا تو یہ سب کرنے سے پہلے سوچ لیتا__“
آرجے نے ایک گہری سانس لی تھی۔

”دیکھو اگر تم نے معاف نہيں کرنا تو ٹھیک ہے پھر میرا پیچھا چھوڑ دو۔۔ کیوں ہر جگہ نظر آتی ہو__!!“
اسکے لہجے میں التجا تھی۔

”صرف ایک بار۔۔ ایک بار مل لو۔۔ ایک بار نظر آجاٶ میں سب ٹھیک کردونگا__“
اسکے دل نے دہاٸی دی تھی۔
لیکن جانے والے واپس کب آتے ہیں۔

______________________

”آرجے میں چاہتا ہوں کہ تم ملتان جاٶ۔۔ مدیحہ کی منگنی پر تمہارا ہونا لازمی ہے اگر ایمرجنسی میں یہ رشتہ نا طے کیا جاتا تو میں ضرور آتا۔۔“

”مدیحہ کی منگنی۔۔۔؟؟“
حشام کی بات نے اسے حیرت میں ڈال دیا تھا۔

”ہاں۔۔ بابا ساٸیں نے اپنے کسی دوست کے بیٹے کے ساتھ اسکا رشتہ طے کیا ہے۔۔ تمہيں سب فون کرتے ہیں لیکن تم کسی سے بات کرو تب تمہيں کچھ پتا چلے نا۔۔
اب تمہيں جانا چاہیۓ۔۔!!“
حشام ٹھیک کہہ رہا تھا اس نے کتنے دنوں سے گھر بات نہيں کی تھی اور نہ ہی کسی کی کال اٹھاٸی تھی۔
وہ پتا نہيں بےمقصد سارا سارا دن لاہور کی خاک چھانتا تھا۔۔ جسے ڈھونڈ رہا تھا وہ اسے نہيں ملنے والی تھی۔

”ایسے کیسے ابھی سے رشتہ طے کردیا ابھی وہ بچی ہے۔۔ پڑھ رہی ہے اسکی تعليم تو مکمل ہونے دیتے۔۔“
آرجے کو غصہ آیا تھا۔
وہ اور مدیحہ رضاٸی بہن بھاٸی تھے۔ آرجے کے پیدا ہونے پر کچھ پیچیدگیوں کے باعث عاٸشہ جبیل اسے دودھ نہيں پلا پاٸی تھیں اور یہ کام بی جان نے کیا تھا۔ وہ اور مدیحہ عم عمر بھی تھے۔۔ وہ اس سے کچھ دن چھوٹی تھی۔

”یہ باتيں تم بابا ساٸیں سے جا کر پوچھو۔۔ وہ ہی تمہيں جواب دینگے۔۔“
حشام اس سے بحث نہيں کرنا چاہتا تھا۔

”دیکھ لونگا میں سب کو۔۔“
آرجے غصے سے کہتا فون بند کرچکا تھا۔ جبکہ حشام کے لبوں پر مسکراہٹ دوڑ گٸی تھی۔ وہ حشام سے زیادہ مدیحہ کو اپنی بہن مانتا تھا۔ اور اسکی باتيں سنتا تھا۔

”بچی نہيں رہی اب وہ باٸیس سال کی ہوگٸی ہے اتنا بھی نہيں سمجھتا۔۔“
حشام نے فون کو دیکھتے ہوٸے کہا تھا۔ اور پھر سر جھٹک کر یونيورسٹی جانے کیلیۓ تیار ہوگیا تھا۔

____________________

سیدوں کی حویلی کو دلہنوں کی طرح سجایا گیا تھا۔ وجہ اس حویلی کی وہ اکلوتی بیٹی تھی جسکی کی آج منگنی تھی۔

بی جان کے کہنے پر وہ ڈھنگ کے کپڑے پہنے ہوٸے تھا۔ مدیحہ تیار ہوٸی بہت پیاری لگ رہی تھی۔

”تم خوش تو ہو نا۔۔؟؟“
آرجے نے مدیحہ سے پوچھا تھا۔

”جج۔۔ جی۔۔ خوش ہوں۔۔“
وہ نظریں چرا گٸی تھی۔ آرجے نے اسکی یہ حرکت اچھے سے نوٹ کی تھی۔

اس سے پہلے وہ کچھ کہتا ملازمہ اسےبلانے آگٸی تھی۔

”چھوٹے صاحب آپکو بڑے صاحب نے بلایا ہے۔۔“
وہ ادب سے سر جھکاٸے کہہ رہی تھی۔

”آتا ہوں۔۔“
آرجے نے جواب دیا تھا۔

”دیکھو کوٸی بھی مسٸلہ ہو تو مجھے بتادینا۔۔ لڑکا نہ پسند آٸے تب بھی۔۔۔ سمجھ رہی ہو نا میری بات۔۔“

”ہممم۔۔“
مدیحہ نے جھکے سر کو اثبات میں ہلادیا تھا۔

”اوکے میں آتا ہوں۔۔“
وہ کہہ کر اٹھ گیا تھا۔ اور اسکے جانے کے بعد مدیحہ کی سہیلیوں اور محلے کی لڑکيوں نے مدیحہ کے گرد گھیرا ڈال لیا تھا۔

_______________________

”ڈیڈ آپ نے بلایا۔۔؟؟“
وہ سید جبیل کے پاس جا کر پوچھ رہا تھا۔

”تم اندر کیا کر رہے ہو تمہيں پتا نہيں کہ مہمان آنے والے ہیں انکا استقبال بھی کرنا ہے حشام نہيں ہے یہاں پر اسکے کام تم نے کرنے ہیں۔۔۔ جاٶ بھاٸی صاحب کے پاس اور مہمانوں کا استقبال کرو۔۔“
وہ سخت سے لہجے میں کہہ رہے تھے۔
جبکہ آرجے سر جھٹک کر ضیا ٕ جبیل کی طرف بڑھ گیا تھا جو مہمانوں میں گھرا ہوا تھا۔

کچھ دیر بعد لڑکے والے آگٸے تھے۔ لڑکے کو دیکھ کر آرجے کو حوصلہ ہوا تھا۔
سید فرقان ایک پڑھا لکھا اور باشعور انسان لگ رہا تھا۔
وہ اچھے سا جانتا تھا کہ سید جبیل یعنی اسکے ڈیڈ رشتوں کے معاملے میں اسکی بات نہيں سننے والے تھے۔
اگر مدیحہ خوش تھی تووہ کچھ غلط نہيں کرنا چاہتا تھا۔
انکے خاندان کی روایات کے مطابق لڑکے اور لڑکی کی شادی سید خاندان سے باہر نہيں کی جاتی تھی۔ یہ وہ سب اچھے سے جانتے تھے۔

جب انگوٹھی پہنانے کی رسم ہورہی تھی تو لڑکے والوں کے ساتھ آٸی لڑکيوں کو اس نے خود پر گھورتے پایا تھا۔
وہ سب اسے ستاٸشی نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔۔
”حد ہے یار۔۔۔“
آرجے کو پہلی بار کوفت ہوٸی تھی۔۔ ورنہ لڑکيوں کے اس طرح گھورنے پر وہ اپنی بتیسی لازمی دکھاتا تھا۔

پھر اچانک اسکی نظر سامنے ایک بیش قیمتی صوفے پر بیٹھے فرقان اور مدیحہ پر پڑی تھی جنکا منگنی کا کہہ کر ابھی تھوڑی دیر پہلے نکاح ہوا تھا۔۔
یہ بس اتنا اچانک ہوا تھا کہ وہ خود حیران رہ گیا تھا۔۔
بڑے لوگوں کی سرگوشیاں اسے کچھ بھی بتا نہيں پاٸی تھیں۔

دیکھتے ہی دیکھتے بیش قیمتی صوفہ لکڑی کے بینچ میں بدل گیا تھا۔۔ روشنیوں کی جھلملاہٹ کم ہو کر بجلی کی چمک میں بدل گٸی تھی۔۔
وہاں موجود لڑکيوں کے قہقہے۔۔ بادلوں کی گرجنے کی آواز میں بدل گٸے تھے۔۔
اس نے دیکھا تھا۔۔ صاف دیکھا تھا۔۔
سامنے بینچ پر حانم اور آرجے بیٹھے تھے۔۔
وہ گھور رہی تھی۔۔ جبکہ آرجے مسکارہا تھا۔۔
اسکی دل کی دھڑکن رکی تھی۔۔۔ وقت جیسے ٹھہر سا گیا تھا۔۔
دل ڈوب کر ابھرا تھا۔۔۔
وہ ایک پل تھا۔۔ بس ایک پل۔۔ پھر سب نارمل ہوگیا تھا۔۔
سسکیوں کی آواز اسکے کانوں سے ٹکراٸی تھی اور آرجے کا سارا سکون برباد کرگٸی تھی۔
وہ الٹے قدموں چلتا حویلی سے باہر نکلا تھا۔۔
اسکی آنکهوں میں پھیلی نمی نے ہر منظر کو دھندلا کر رکھ دیا تھا۔

______________________

”کیا تم اب حشام جبیل کو پسند نہيں کرتی۔۔؟؟“
ایلا پوچھ رہی تھی۔ ماہی نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔

”اسے کیسے بھول سکتی ہوں۔۔“
وہ پھیکی سی ہنسی ہنس دی تھی۔

”پھر اب اسکا ذکر نہيں کرتی۔۔ نا اسکے پیچھے جاتی ہو۔۔ کیا محبت ختم ہوگٸی۔۔؟؟“
ایلا کی بات سن کر ماہی تڑپ اٹھی تھی۔

”محبت کبھی ختم نہيں ہوتی ایلا۔۔۔ کبھی بھی نہيں۔۔
میں نے اسے چاہا ہے اور ہمیشہ چاہوں گی۔۔ اب اسکے پیچھے اس لیۓ نہيں جاتی کہ وہ مجھے پسند نہيں کرتا اور میں ایک لڑکی ہوں۔۔ میرے بابا نے مجھے محبت کرنا سکھاٸی ہے لیکن عزت نفس کا سودا کرنا کبھی نہيں سکھایا۔۔
میں پاگل تھی جو اسکے پیچھے گٸی۔۔ ایک لڑکی کو یہ سب زیب نہيں دیتا___!!“

”اچھا تو یہ بات ہے۔۔ محبت میں انا آگٸی۔۔“

”نہيں ایلا۔۔ انا نہيں۔۔ یہ انا نہيں ہے۔۔ میں تو پہلے ہی خاک ہوچکی ہوں بچا کچھ بھی نہيں۔۔ لیکن میں اپنے بابا کا مان نہيں توڑ سکتی۔۔“
وہ مسکراٸی تھی پھر جوس کا گلاس اٹھا کر لبوں سے لگایا تھا۔۔ وہ دنوں یونيورسٹی کے کیفے میں موجود تھیں۔ اور ایلا صرف سر ہلا کر رہ گٸی تھی۔

ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻤﺴﻔﺮ ﺗﯿﺮﯼ ﺑﮯ ﺭُﺧﯽ —– ﺩﻝِ ﻣُﺒﺘﻼﺀ ﮐﯽ ﺷﮑﺴﺖ ﮨﮯ،
ﺍِﺳﮯ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﻮﮞ ﻓﺘﺢ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻧﺎﺀ ﮐﯽ ﺷﮑﺴﺖ ﮨﮯ،

ﺗﻮ ﭼﻼﮔﯿﺎ ﻣُﺠﮭﮯ ﭼﮭﻮﮌﮐﺮ میں نے ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ تجھکو صدﺍﺋﯿﮟ ﺩﯾﮟ
ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻤﺴﻔﺮ ﺗﻮ ﺭُﮐﺎ ﻧﮩﯿﮟ– یہ ﻣﯿﺮﯼ صدا ﮐﯽ ﺷﮑﺴﺖ ﮨﮯ،

ﺗﺠﮭﮯ ﻻ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺩﯾﺎ ﺗُﺠﮭﮯ ﺭﺍﺯ ﮨﺮ ﺍﮎ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺎ،
ﺗﻮﻧﮯ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﻓﺎ ﻧﮧ ﮐﯽ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﻭﻓﺎ ﮐﯽ ﺷﮑﺴﺖ ﮨﮯ،

ﻣﯿﮟ ﭼﺮﺍﻍِ ﮐﻮﻧﮧ ﻣﺰﺍﺝ ﺗﮭﺎ —– ﺗﺠﮭﮯ ﺑﺠﻠﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﻠﺐ ﺭﮨﯽ،
ﻣﺠﮭﮯ ﺁﻧﺪﮬﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﺑُﺠﮭﺎ ﺩﯾﺎ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺿﯿﺎﺀ ﮐﯽ ﺷﮑﺴﺖ ﮨﮯ،

ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﮔﻼ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﻣﻼ ﺗﮭﺎ ﮐﺐ ﮐﺎ ﺑﭽﮭﮍ ﮔﯿﺎ،
ﻣﯿﺮﮮ ﺟﺮﻡ ﮐﯽ ﮨﮯ ﯾﮩﯽ ﺳﺰﺍ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﺰﺍ ﮐﯽ ﺷﮑﺴﺖ ﮨﮯ،

ﻣﯿﺮﯼ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﮐﮯ ﺑﯿﺎﻥﮐﻮ ﺗﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺳﻤﺠﮫ ﺳﮑﺎ،
ﻣﯿﺮﮮ ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﮐﺎ ﭘﯿﺎﻡ ﮨﯽ ——– ﺩﻝ ﺑﮯﻧﻮﺍﺀ ﮐﯽ ﺷﮑﺴﺖ ﮨﮯ،

ﻏﻢِ ﺩﺍﺳﺘﺎﻥِ ﺣﯿﺎﺕ ﮐﮯ —— ﺳﺒﮭﯽ تذﮐﺮﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺭﺍﺋﯿﮕﺎﮞ،
ﻣﯿﺮﮮ ﭼﺎﺭﮦ ﮔﺮ ﺗﯿﺮﺍ ﯾﮧ ﮨُﻨﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﮨﺮ ﺩﻋﺎ ﮐﯽ ﺷﮑﺴﺖ ﮨﮯ،

ﻣﺠﮭﮯ ﺧﺎﻣوﺷﯽﺀِ ﺣﯿﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﯾﻮﮞ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﺮﺍ ﺳﮑﺎ،
ﺗﯿﺮﯼ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﮐﯽ ﭘُﮑﺎﺭ ﮨﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﺑﺘﺪﺍﺀ ﮐﯽ ﺷﮑﺴﺖ ﮨﮯ….!!!
____________________

”آرجے آیا تھا حشام بھاٸی۔۔ اسے اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے۔۔ وہ حانم سے ملنا چاہتا تھا اسکا پتہ مانگ رہا تھا۔۔ مجھے خود نہيں پتا تھا۔۔ جو مہرو نے اسے پتہ دیا وہ اسے وہاں نہيں ملی___!!
مکی حشام کو بتا رہا تھا۔

”کیا تم جانتے ہو کہ حانم کہاں ہے۔۔؟؟“
حشام نے انتہائی سنجيدہ لہجے میں پوچھا تھا۔

”نہيں بھاٸی میں نہيں جانتا۔۔“
مکی سچ بول رہا تھا۔

”اسکے کوٸی رشتہدار کوٸی تو ہونگے جنکا مہرو کو پتا ہو۔۔؟؟“
حشام امید سے پوچھ رہا تھا۔

”نہيں بھاٸی۔۔ مہرو بھی نہيں جانتی۔۔“

”ھمم۔۔ پھر کہاں چلی گٸی وہ۔۔ آسمان کھا گیا اسے یا زمین نگل گٸی۔۔“
حشام سوچ رہا تھا۔

”بہت برا کیا ہے ہم نے اسکے ساتھ۔۔ میں جب سوچتا ہوں کہ اسکا مکافات عمل ہوا تو کیا ہوگا۔۔؟؟“
مکی کو سزا سے ڈر لگتا تھا۔

”جو ہونا تھا وہ ہوگیا اور جو ہونا ہے اسے ٹالنا ممکن نہيں۔۔ کوشش کرو کہ اسے ڈھونڈ سکو۔۔ اس سے پہلے کہ کچھ غلط ہو اس سے معافی مانگنی چاہیۓ تم لوگوں کو۔۔ ورنہ مکافات عمل کی لپیٹ میں بہت سے لوگ آٸیں گے۔۔!!“
حشام کہہ کر فون بند کرچکا تھا جبکہ مکی کا دل ایک بار پھر لرز اٹھا تھا۔
_____________________

آج اسکا بہت بڑا شو ہونے جا رہا تھا وہ ساری رات نہيں سویا تھا۔۔ اسے وہ آوازیں سونے نہيں دیتی تھیں۔
نیند اور درد کی شدت سے سرخ آنکهيں لیۓ وہ شو میں جانے کیلیۓ تیار تھا۔
یہ ردھم بینڈ کا اب تک کا سب سے بڑا شو تھا۔ آرجے کی ڈیمانڈ بہت تھی بہت سی میوزک کمپنیاں اس سے جڑنے کو تیار تھیں۔ لیکن وہ مانتا ہی نہيں تھا۔

وہ ساری رات اس نے لاٶنج میں صوفے پر بیٹھ کر گزاری تھی۔۔ اسے اپنی آنکهوں کے سامنے حانم یونيورسٹی میں گھومتی نظر آرہی تھی۔۔
اسکا خاص ہونا اسکے لیۓ کتنا تکليف دہ تھا یہ صرف وہی جانتا تھا۔۔
وہ اپنا درد کسی سے کہہ نہيں سکتا تھا۔۔ کسی کو بتا نہيں سکتا تھا۔۔۔ وہ اپنے احساسات کو کوٸی نام نہيں دے پا رہا تھا۔
وہ دن میں بھی نہيں سویا تھا۔۔ اسکی ٹیم اسے پریکٹس کیلیۓ بلاتی رہی تھی لیکن وہ نہيں گیا تھا۔
سیاہ پینٹ پر مہرون شرٹ اور سیاہ ہی جیکٹ پہنے وہ اچھا لگ رہا تھا۔۔
اسکی بازو پر موجود ٹیٹو آرجے اسے ایک سنگر بنا رہا تھا۔۔ جیسے پروفشنل سنگر ہوتے ہیں۔

کچھ دیر بعد اس نے اپنی گٹار اٹھاٸی اور گاڑی میں بیٹھ کر سفر پر نکل پڑا تھا۔ پچھلے دو دنوں سے اسکا دل بہت اداس تھا۔۔
ایک عجیب سی بےچینی اسے اداس کیۓ ہوٸے تھی۔
لیکن جانے سے پہلے وہ حانم کی تصویر دیکھنا نہيں بھولا تھا۔
وہ نہيں جانتا تھا کہ وہ کس سفر پر نکلا تھا۔۔ ایسا سفر جہاں موت گھات لگاٸے بیٹھی تھی__
وہ شاید کبھی واپس نہيں لوٹنے والا تھا۔

_____________________

رات کے اس وقت اسٹیڈیم لوگوں سے کھچا کھچ بھرا پڑا تھا۔
آرجے کا نام ہر شخص کے لبوں پر گونج رہا تھا۔
روشنیوں میں نہایا اسٹیج اسے اپنی طرف دعوت رہا تھا۔
وہ اسٹیج پر چڑھا تھا۔ لوگوں کے جوش اور نعرے پہلے سے زیادہ بڑھ گٸے تھے۔

آج وہ گانے نہيں جا رہا تھا بلکہ اپنے دل کا حال کو لفظوں کی شکل دینے جا رہا تھا۔

آرجے نے اسٹیج پر کھڑے ہو کر ایک نظر عوام پر ڈالی تھی۔۔
اسکی نظروں میں تلاش تھی۔۔ کسی اور کی جستجو۔۔ لیکن وہ اسے کہیں نظر نہيں آٸی تھی__
اس نے ایک گہرہ سانس لیا تھا۔۔ اور پھر گانا شروع کیا تھا۔

”تو سفر میرا
تو ہی میری منزل
تیرے بنا گزارا
اے دل ہے مشکل__“

اسکے گاٸے الفاظ نے ہجوم کو پاگل کر دیا تھا۔
لوگ کسی ٹرانس کی کیفیت میں اسے سن رہے تھے۔
آرجے نے آنکهيں بند کی تھیں اور تصور میں خود کو حانم کے سامنے بیٹھے پایا تھا۔۔
وہ اسے خفگی سے گھور رہی تھی،
اب وہ مہرو کے ساتھ ہنس رہی تھی،

”یہ روح بھی میری
یہ جسم بھی میرا
اتنا میرا نہيں
جتنا ہوا تیرا__

اس نے آنکهيں کھولی تھیں جن میں نمی پھیلی تھی اور جو سرخ ہوچکی تھیں۔

”جس دن ہر ذی روح کو زندہ کیا جاٸے گا اور مردوں کو قبروں سے اٹھایا جاٸے گا میری دعا کہ ہمارا اس دن بھی سامنا نہ ہوا___“
حانم کے جملے اسکے کانوں میں گونجے تھے۔۔ کتنا درد دیتے اسکے یہ الفاظ یہ صرف وہی جانتا تھا۔

”تونے دیا ہے جو
وہ درد ہی سہی
تجھ سے ملا ہے تو
انعام ہے میرا__
میرا آسمان ڈھونڈے
تیری زمین۔۔۔
میری ہر کمی کو ہے
تو لازمی______

آرجے نے آسمان کی طرف دیکھا تھا۔

”زمین پر نہ سہی
تو آسمان میں آ مل___
تیرے بنا گزارہ
اے دل ہے مشکل__“

یہ الفاظ نہيں تھے اسکی شدت تھی اسکی خواہش تھی۔۔
اسکے اندر کی تڑپ رہی جو لفظوں کا روپ دھار کر باہر نکل رہی تھی۔

لوگ آج اسکے درد پر عش عش کر اٹھے تھے۔ عوام اس سے بات کرنے کیلیۓ پاگل ہو رہی تھی۔۔ وہ اسکا آٹوگراف لینا چاہتے تھے۔ اور وہ کسی اور دنیا میں پہنچا ہوا تھا۔

”ادھورا ہو کے بھی
ہے عشق میرا کامل__
تیرے بنا گزارہ
اے دل ہے مشکل__“

آرجے نے آنکھیں کھولی تھیں۔۔ وہ اسے پھر کہیں نظر نہيں آٸی تھی۔
وہ اسٹیج سے نیچے اترا تھا اور پھر سب کے آواز دیتے دیتے بھی وہ اس جگہ سے باہر نکل آیا تھا۔

_______________________

” واہ کمال کردیا آج اس لڑکے نے۔۔۔ اتنا درد اتنی شدت۔۔ یہی چیز تو چاہتا تھا میں۔۔ گاڑی نکالو مجھے یہ لڑکا چاہیۓ___!!
مسٹر رحمن اپنے اسٹوڈیو کے کیبن میں بیٹھا آرجے کی پرفارمنس دیکھ کر عش عش کر اٹھا تھا۔

”جی ٹھیک ہے باس۔۔۔“
اسکا سیکرٹری اثبات میں سرہلاتا باہر نکل گیا تھا۔

_____________________

”کسی بھی قیمت پر وہ بچنا نہيں چاہیۓ۔۔
پیسے ڈبل ملیں گے۔۔ وہ میرا نہيں ہوسکتا تو کسی کا بھی نہيں ہوگا___!!

اس نے روپیوں سے بھرا بیگ دو جرائم پیشہ افراد کے سامنے رکھتے ہوٸے کہا تھا جو شکل سے خوفناک نظر آتے تھے۔

”کام ہوجاٸے گا میڈم___!!“
وہ اسے یقین دلاتے بیگ اٹھا کر باہر نکل گٸے تھے۔

”ایم سوری آرجے لیکن میں اپنی پسند کسی اور نہيں دیتی___!!“
وہ افسردہ لہجے میں کہہ رہی تھی۔
______________________

رات کے اس پہر وہ تیز رفتار سے گاڑی چلا رہا تھا۔ اسکی آنکهوں کی نمی کم ہونے کا نام نہيں لے رہی تھی۔
راستہ سنسان تھا سڑک پر ایک دو گاڑیاں ہی نظر آرہی تھیں۔
اسکا موباٸل اور والٹ ساتھ والی سیٹ پر رکھا تھا۔
آج وہ اسے پوری شدت سے یاد آٸی تھی اور اسکے نظر نہ آنے پر وہ پاگل سا ہو رہا تھا۔

کچھ دیر کیلیۓ اسکی نظر سامنے سے ہٹی تھی اور پھر ایک زور دار دھماکہ ہوا تھا۔ سامنے سے آتے ایک تیز رفتار ٹرک نے اسے پوری وقت سے ٹکر مارنے کے بعد اڑا دیا تھا۔
اسے سنبهلنے کا موقع ہی نہيں ملا تھا۔

گاڑی اچھل کر دور جاگری تھی۔ آرجے کو ہر چیز گھومتی محسوس ہو رہی تھی۔
تکليف کی ایک لہر اسکے پورے جسم میں پھیل گٸی تھی۔
آرجے نے مشکل سے آنکهيں کھولی تھیں۔۔ اسکے سر سے خون نکل رہا تھا___
جیسے ہی اس نے آنکهيں کھولی تھیں اسکی آنکهيں چندھیا گٸی تھیں۔

ایک دھماکہ کی آواز کے ساتھ خاموشی چھا گٸی تھی۔۔
اتنی گہری خاموشی جو اس نے کبھی محسوس نہيں کی تھی۔
اسے اوندھے پڑے کو ایک لمبی سے سرنگ نظر آرہی تھی__
جہاں بہت تیز روشنی تھی۔۔ اس تیز روشنی اور سرنگ کے اندر اسے وہ نظر آیا تھا۔۔ دس سال کا روحان جبیل___
جو سرنگ میں چل رہا تھا۔۔

”ماما۔۔“
وہ کسی کو پکار رہا تھا۔
اور پھر کچھ دیر چلنے کے بعد وہ سرنگ کے آخری سرے پر پہنچا تھا۔۔ جہاں وہ مسکرا رہی تھی۔۔
ہاں۔۔ وہ عاٸشہ جبیل اسکی ماں___
خوبصورت سی مسکراہٹ۔۔

”روحان۔۔ آگٸے تم__!!
وہ محبت پاش نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔

”ماما__“
دس سالہ روحان اپنی ماں کی طرف بھاگا تھا۔

”کام تمام کرتے ہیں۔۔“
ٹرک میں موجود ایک آدمی نے دوسرے سے کہا تھا۔
اور پھر انہوں نے ٹرک کو گاڑی کے اوپر چڑھا کر گاڑی کو بری طرح سے کچل ڈالا تھا۔
آرجے کے جسم نے اتنی تکلیف کبھی محسوس نہيں کی تھی۔۔ وہ چیخ بھی نہيں پایا تھا۔۔ اور پھر اسکی آنکهيں بند ہوگٸی تھیں۔

😊😊

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: