Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 35

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 35

–**–**–

ماما__“
دس سالہ روحان اپنی ماں کی طرف بھاگا تھا۔

”کام تمام کرتے ہیں۔۔“
ٹرک میں موجود ایک آدمی نے دوسرے سے کہا تھا۔
اور پھر انہوں نے ٹرک کو گاڑی کے اوپر چڑھا کر گاڑی کو بری طرح کچلا سے تھا۔
آرجے کے جسم نے اتنی تکلیف کبھی محسوس نہيں کی تھی۔۔ وہ چیخ بھی نہيں پایا تھا۔۔ اور پھر اسکی آنکهيں بند ہوگٸی تھیں۔

وہ دونوں آدمی ٹرک سے نیچے اترے تھے۔ راستہ سنسان پڑا تھا۔ سڑک کے ایک جانب جنگل تھا جبکہ دوسری طرف بیابان۔۔۔
وہاں اس وقت کوٸی نہيں تھا۔ دونوں آدمیوں کے چہروں پر تھوڑی سی پریشانی تھی۔
انہوں نے رات کے اندھیرے میں جلدی جلدی ٹرک سے پٹرول کی ایک بہت بڑی بوتل نکالی تھی اور پھر الٹی پڑی ٹوٹی پھوٹی گاڑی پر اسے چھڑک کر آگ لگادی تھی۔
ان ظالموں کے ہاتھ نہيں کانپے تھے ایسا کرتے ہوٸے۔۔ شاید وہ جرم اور ظلم کرنے کے عادی ہوچکے تھے___
گاڑی میں آگ کسی سوکھی لکڑی کی طرح لگی تھی۔
آس پاس نظریں دوڑانے کے بعد کہ کسی نے غلطی سے دیکھا تو نہيں وہ لوگ ٹرک میں بیٹھ کر واپس چلے گٸے تھے۔

ڈیڑھ سال سڑکوں پر آوارہ گردی کرنے کے بعد، ڈیڑھ سال کسی کو دیکھنے کیلیۓ تڑپنے کے بعد اور پھر اسی تڑپ کو دل میں لیۓ،
وہ شخص ابدی نیند سو چکا تھا___!!

____________________

بی جان کا دل شام سے ہی بہت گھبرا رہا تھا وہ بار بار آرجے تو کبھی حشام کا نمبر ملا رہی تھیں۔
حشام سے انکی بات ہوچکی تھی جبکہ روحان فون نہيں اٹھا رہا تھا اور اب اسکا نمبر بند جا رہا تھا۔
”میرا دل بہت گھبرا رہا ہے حشام بیٹا تم روحان کو فون کرو نا__!!!“
بی جان پریشانی سے کہہ رہی تھیں۔

”میں نے کوشش کی ہے بی جان اسکا نمبر واقعی بند جا رہا ہے“
آج دل تو حشام کا بھی اداس تھا۔ اسے سمجھ نہيں آرہا تھا کہ بےسبب اداسی کیوں تھی؟

”رات اسکا شو تھا میں پوچھتا ہوں اسکے کسی دوست سے آپ پریشان نا ہوں__!!
وہ بی جان کو تسلی دینے کے بعد فون بند کرچکا تھا۔
وہ بار بار کبھی آرجے کا تو کبھی اسکے دوستوں کا نمبر ملا رہا تھا لیکن کسی سے رابطہ ممکن نہيں ہو رہا تھا۔
رات اس نے آرجے کو لے کر ایک برا سا خواب دیکھا تھا، اس نے آرجے کو بہت تکلیف میں دیکھا تھا، وہ اسے شیطان کا بہکاوہ سمجھ کر خود کو تسلی دے چکا تھا لیکن اب اسکا دل ہول رہا تھا،
اسے سمجھ نہيں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے؟
_____________________

حشام اداس دل کے ساتھ یونيورسٹی آگیا تھا۔ لیکن اسکا ذہن آرجے میں اٹکا تھا۔
آخری کلاس لینے کے بعد جیسے ہی وہ یونيورسٹی سے باہر نکلا تھا اسے مدیحہ کی کال آٸی تھی۔
وہ بار بار فون کر رہی تھی۔ حشام گاڑی چلاتے ہوٸے فون نہيں سنتا تھا۔
اسے بار بار فون کرنے کے باعث حشام نے کال اٹھاٸی تھی۔

”حشام بھاٸی۔۔“
مدیحہ کی دل چیر دینے والی آواز ابھری تھی۔

”کیا ہوا گڑیا۔۔؟؟“
حشام نے پیار سے پوچھا تھا۔

”حشام بھاٸی___“
اس نے پھر دہلا دینے والی چیخ ماری تھی۔ وہ بری طرح سے رو رہی تھی۔

”کیا ہوا رو کیوں رہی ہو سب ٹھیک تو ہے نا__؟؟“
حشام کا دل کانپا تھا اور پھر اسکے بعد مدیحہ نے جو اسے خبر دی تھی اسے سن کر حشام کی گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہوتے ہوتے بچا تھا۔
اسے مدیحہ کے الفاظ کسی بم دھماکے سے کم محسوس نہيں ہو رہے تھے۔
اسکا دماغ ساٸیں ساٸیں کر رہا تھا۔
بیچ سڑک میں وہ گاڑی روکے بےیقنی اور حیرت و خوف سے پھٹے چہرے کے ساتھ موبائل کو دیکھ رہا تھا جس سے مدیحہ کے رونے کی آواز ابھر رہی تھی۔
___________________

”ہانی بچے تمہیں کوٸی بار بار فون کر رہا ہے پہلے فون سن لو___!!“
لوسی ماں کی آواز ابھری تھی۔
حانم کچن میں حلیمہ بی کے ساتھ مل کر کوکنگ کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ وہ بچپن سے لے کر اب تک اپنی پڑھاٸی میں اتنی مشغول رہی تھی کہ اسے گھر کے کام سیکھنے کا موقع ہی نہيں ملا تھا۔
اور اب وہ اپنا وقت گزارنے کیلیۓ حلیمہ بی کے ساتھ کوکنگ کرنے کی کوشش کرتی تھی۔

”آرہی ہوں لوسی ماں____“
حانم نے کچن سے ہی جواب دیا تھا۔
وہ خود کو نارمل دکھاتی تھی، دن میں وہ سب کے ساتھ ہوتی تھی، اس نے اپنا درد چھپانا شروع کردیا تھا۔
البتہ رات کو ماضی کی یادیں اسے کسی زہریلے سانپ کی طرح ڈستی تھیں۔
وہ سنک پر ہاتھ دھونے کے بعد کچن سے نکل کر لاٶنج میں آٸی تھی۔ جہاں میز پر رکھا اسکا فون بار بار رنگ کر رہا تھا۔
لوسی ماں ایکیوریم میں گھومتی رنگی برنگی مچھلیوں کو انکی خوراک ڈال رہی تھیں۔

ماہم کی کال تھی۔ حانم کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گٸی تھی۔

”ہیلو اسلام علیکم!!“
حانم نے خوشدلی سے کہتے ہوٸے فون کان سے لگایا تھا۔
”ہانو آپی۔۔“
جواد کی آواز ابھری تھی۔ حانم ایک دم چونکی تھی۔
”کیا ہوا جواد۔۔؟؟“

”ہانو آپی وہ۔۔۔“
جواد ہچکیاں لے رہا تھا، وہ رو رہا تھا۔

”یا اللہ خیر___“
حانم کا دل دہل گیا تھا اس نے بےساختہ دعا مانگی تھی۔

”آپی وہ مرگیا۔۔۔!!“
جواد بری طرح سے رو رہا تھا۔

”کک۔۔ کون مرگیا جواد۔۔؟؟“
حانم کو اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا تھا۔

”ہانو آپی آرجے مرگیا___!! “
جواد کے الفاظ اس پر کسی بجلی کی طرح گرے تھے۔ وہ وہیں صوفے پر ڈھے گٸی تھی۔

”آپی آرجے کا ایکسڈینٹ ہوا کل رات وہ مر گیا__!!“
حانم کو سمجھ نہيں آرہی تھی کہ وہ جواد کو کیا جواب دے۔
وہ جانتی تھی کہ ماہم اور خاص طور پر جواد آرجے کا کتنا بڑا مداح تھا۔ اسکے تو کمرے میں بھی آرجے کی فوٹوز لگی تھیں۔

”ایسا نہيں ہو سکتا نا آپی۔۔ وہ نہيں مر سکتا نا۔۔ وہ ابھی تو__“
جواد سے بولا نہيں جا رہا تھا۔
وہ ماشاءاللہ پندرہ سال کا ہوچکا تھا۔ حانم اور ماہم سے قد میں زیادہ لمبا ہوچکا تھا۔ اور ایک سنگر کیلیۓ جسے وہ کبھی ملا بھی نہيں تھا اسکے مرنے پر پاگلوں کی طرح رو رہا تھا۔

”تت۔۔ تمہیں کس نے کہا جواد۔۔ میرا مطلب۔۔“
حانم نے کپکپاتے لبوں سے پوچھا تھا۔

”ٹی وی پر دیکھا ہر جگہ نیوز چل رہی ہے، پتا ہے رات اسکا شو تھا، اتنا اچھا لگ رہا تھا وہ۔۔ مجھے لگا کہ کہیں اسے نظر نہ لگ جاٸے اور۔۔ اور۔۔ اسے تو موت نے۔۔ہی۔۔“
جواد سے بولا نہيں جارہا تھا وہ فون بند کرچکا تھا۔
لاشعوری طور پر حانم کی آنکھ سے آنسو نکلا تھا، اسکے گال سے پھسلنے کے بعد اسکی گود میں رکھے ہاتھ پر جا گرا تھا۔ وہ ایک دم چونکی تھی۔

”کیا اس شخص کے مر جانے سے حانم کی اذیت میں کمی آجانی تھی۔۔؟؟ کیا وہ سب کچھ بھول سکتی تھی__؟؟

حانم کو سمجھ نہيں آرہا تھا کہ اسے اس انسان کی موت پر افسوس کرنا چاہیۓ یا خوش ہونا چاہیۓ۔۔؟؟
اسے اپنے دماغ میں درد کی ایک لہر اٹھتی ہوٸی محسوس ہوٸی تھی۔
وہ مرے مرے قدموں سے اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گٸی تھی۔
___________________

”کُلُّ نَفْسٍ ذَائقة الْمَوْتِ –
ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے“

خالق کائنات اللہ رب العزت نے ہر جاندار کے لیئے موت کا وقت اور جگہ متعین کردی ہے اور موت ایسی شہ ہے کہ دنیا کا کوئی بھی شخص خواہ وہ کافر یا فاجر حتی کہ دہریہ ہی کیوں نہ ہو، موت کو یقینی مانتا ہے۔ اور اگر کوئی موت پر شک وشبہ بھی کرے تو اسے بے وقوفوں کی فہرست میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ بڑی بڑی مادی طاقتیں اور مشرق سے مغرب تک قائم ساری حکومتیں موت کے سامنے عاجز وبے بس ہوجاتی ہیں۔
موت بندوں کو ہلاک کرنے والی، بچوں کو یتیم کرنے والی، عورتوں کو بیوہ بنانے والی، دنیاوی ظاہری سہاروں کو ختم کرنے والی، دلوں کو تھرانے والی، آنکھوں کو رلانے والی،بستیوں کو اجاڑنے والی، جماعتوں کو منتشر کرنے والی، لذتوں کو ختم کرنے والی، امیدوں پر پانی پھیرنے والی، ظالموں کو جہنم کی وادیوں میں جھلسانے والی اور متقیوں کو جنت کے بالاخانوں تک پہنچانے والی شی ہے۔
موت نہ چھوٹوں پر شفقت کرتی ہے، نہ بڑوں کی تعظیم کرتی ہے، نہ دنیاوی چوہدریوں سے ڈرتی ہے، نہ بادشاہوں سے ان کے دربار میں حاضری کی اجازت لیتی ہے۔ جب بھی حکم خداوندی ہوتا ہے تو تمام دنیاوی رکاوٹوں کو چیرتی اورپھاڑتی ہوئی مطلوب کو حاصل کرلیتی ہے۔
موت نہ نیک صالح لوگوں پر رحم کھاتی ہے، نہ ظالموں کو بخشتی ہے۔ اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والوں کو بھی موت اپنے گلے لگا لیتی ہے اور گھر بیٹھنے والوں کو بھی موت نہیں چھوڑتی۔ اخروی ابدی زندگی کو دنیاوی فانی زندگی پر ترجیح دینے والے بھی موت کی آغوش میں سوجاتے ہیں، اور دنیا کے دیوانوں کو بھی موت اپنا لقمہ بنالیتی ہے۔
موت آنے کے بعد آنکھ دیکھ نہیں سکتی، زبان بول نہیں سکتی، کان سن نہیں سکتے، ہاتھ پیر کام نہیں کرسکتے۔ موت نام ہے روح کا بدن سے تعلق ختم ہونے کا اور انسان کا دار فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کرنے کا۔

ترقی یافتہ سائنس بھی روح کو سمجھنے سے قاصر ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں واضح طور پر اعلان فردیا ہے:

” (قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّی)”
روح صرف اللہ کا حکم ہے۔۔۔“

موت پر انسان کے اعمال کا رجسٹر بند کردیا جاتا ہے، اور موت پر توبہ کا دروازہ بند اور جزا وسزا کا وقت شروع ہوجاتا ہے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
”اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ قبول کرتا ہے یہاں تک کہ اُس کا آخری وقت آجائے۔“
ہم ہر روز، ہر گھنٹہ، بلکہ ہر لمحہ اپنی موت کے قریب ہوتے جارہے ہیں۔ سال، مہینے اور دن گزرنے پر ہم کہتے ہیں کہ ہماری عمر اتنی ہوگئی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ایام ہماری زندگی سے کم ہوگئے۔
موت ایک مصیبت بھی ہے جیسا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے:

” اور وہیں تمہیں موت کی مصیبت پیش آجائے۔(سورۂ المائدۃ ۱۰۶)

اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے پاک کلام کی متعدد آیات میں موت اور اس کی حقیقت کو بیان کیا ہے۔ جن میں سے چند آیات پیش خدمت ہیں:

”ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور تم سب کو (تمہارے اعمال کے) پورے پورے بدلے قیامت ہی کے دن ملیں گے۔ پھر جس کو دوزخ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا، وہ صحیح معنی میں کامیاب ہوگیا، اور یہ دنیاوی زندگی تو (جنت کے مقابلے میں) دھوکے کے سامان کے سوا کچھ بھی نہیں۔ “(سورۂ آل عمران۱۸۵)

اس آیت میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانوں کی کامیابی کا معیار ذکر کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس حال میں ہماری موت آئے کہ ہمارے لئے جہنم سے چھٹکارے اور دخولِ جنت کا فیصلہ ہوچکا ہو۔

”اس زمین میں جو کوئی ہے، فنا ہونے والا ہے۔ اور (صرف) تمہارے پروردگار کی جلال والی اور فضل وکرم والی ذات باقی رہے گی۔“ (سورۂ رحمن ۲۶۔۲۷)

”ہر چیز فنا ہونے والی ہے، سوائے اللہ کی ذات کے۔ حکومت اسی کی ہے، اور اُسی کی طرف تمہیں لوٹ کرجاناہے۔ “(سورۂ القصص ۸۸)

”( اے پیغمبر!) تم سے پہلے بھی ہمیشہ زندہ رہنا ہم نے کسی فرد بشر کے لئے طے نہیں کیا۔ چنانچہ اگر تمہارا انتقال ہوگیا تو کیا یہ لوگ ایسے ہیں جو ہمیشہ زندہ رہیں؟ ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ اور ہم تمہیں آزمانے کے لئے بری اور اچھی حالتوں میں مبتلا کرتے ہیں اور تم سب ہمارے ہی پاس لوٹ کر آؤگے۔۔۔“(سورۂ الانبیاء ۳۴ ۔ ۳۵)

”تم جہاں بھی ہوگے(ایک نہ ایک دن) موت تمہیں جا پکڑے گی۔ چاہے تم مضبوط قلعوں میں ہی کیوں نہ رہ رہے ہو۔“(سورۂ النساء۷۸)

انسان بڑے بڑے محل اور قلعے تعمیر کرکے سوچتا کہ اسے ہمیشہ یہاں رہنا ہے۔۔ اسے کبھی فنا ہونا ہی نہيں لیکن شاید وہ جانتے نہيں کہ موت قلعوں میں آجاتی ہے۔

”(اے نبی!) آپ کہہ دیجئے کہ جس موت سے تم بھاگتے ہو، وہ تم سے آملنے والی ہے۔ یعنی وقت آنے پر موت تمہیں ضرور اچک لے گی۔“ (سورہ الجمعہ ۸)

”چنانچہ جب اُن کی مقررہ میعاد آجاتی ہے تو وہ گھڑی بھر بھی اُس سے آگے پیچھے نہیں ہوسکتے۔“(سورۂ الاعراف ۳۴)
”اور نہ کسی متنفس کو یہ پتہ ہے کہ زمین کے کس حصہ میں اُسے موت آئے گی۔“(سورہ لقمان ۳۴)

ان مذکورہ آیات سے معلوم ہوا کہ ہر شخص کا مرنا یقینی ہے لیکن موت کا وقت اور جگہ سوائے اللہ کی ذات کے کسی بشر کو معلوم نہیں۔ چنانچہ بعض بچپن میں، توبعض عنفوان شباب میں اور بعض ادھیڑ عمر میں، جبکہ باقی بڑھاپے میں داعی اجل کو لبیک کہہ جاتے ہیں۔ بعض صحت مند تندرست نوجوان سواری پر سوار ہوتے ہیں لیکن انہیں نہیں معلوم کہ وہ موت کی سواری پر سوار ہوچکے ہیں۔

لیکن ایک بات تو طے ہے موت بہت برا فعل نہيں ہے۔۔ موت ایک عمل ہے ایک راستہ ہے۔۔
موت کا ایک وجود ہے۔۔
ہم کیوں کہتے ہیں کہ موت آگٸی۔۔؟؟ موت آٸے گی۔۔؟؟
یقیناً یک ایک وجود رکھتی ہے جو جب آتی ہے تو انسان کو ایک دنیا سے کاٹ کر دوسری دنیا سے جوڑ دیتی ہے___

____________________

وہ صوفے پر بیٹھی سامنے دیوار میں لگی بڑی سی سکرین پر اس شخص کی موت کی خبر سن رہی تھی جسے چاہنے کا وہ دعوی کرتی تھی۔
وہ شماٸل نیازی وزیرخارجہ کی بیٹی جسکے باپ کی دور دور تک پہنچ تھی وہ ایک شخص کو اپنا نہيں بنا سکی تو اسے ختم کردیا۔۔ وہ وہی تھی جو اس دن یونيورسٹی میں کیفے پر آرجے کو دھمکی دے کر گٸی تھی۔

اسکی آنکهوں میں نمی پھیلی تھی لیکن اسکے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ اسے یاد تھا کچھ دن پہلے کا واقعہ جب اس نے آرجے کو فون کیا تھا۔

”پلیز آرجے دیکھو مان جاٶ یا مجھے بتادو کہ مجھ میں کس چیز کی کمی ہے۔۔ میں تمہيں بہت چاہتی ہوں مجھے اگنور مت کرو__!!
اس نے آرجے کی منت کی تھی۔

”لیکن میں تمہيں نہيں چاہتا__“

”کیوں۔۔ آخر کیوں۔۔ کون ہے وہ جسکے عشق میں تم گرفتار ہو چکے ہو___؟؟“
وہ چلاٸی تھی۔

”یہ میں تمہيں نہيں بتا سکتا__!!“
وہ پھیکی سی ہنسی ہنس دیا تھا۔

”تم نے تو کہا تھا کہ تمہيں کبھی کسی سے محبت نہيں ہوگی۔۔ یقیناً وہ تمہاری نٸی گرل فرینڈ ہوگی جسکے لیۓ تم مجھے اگنور کر رہے ہو۔۔!!“

”محبت ہونا نا ہونے میرا ذاتی مسٸلہ ہے۔۔ اور وہ جو بھی ہے الگ ہے،
وہ میرے ساتھ نہيں ہے، مجھے اس سے عشق نہيں ہے۔۔ بس اسے دیکھنے کی چاہ ہے__!!
وہ اپنی دھن میں بول رہا تھا۔
شماٸل کو تو وہ گویا آگ لگا چکا تھا۔

”میری ایک بات یاد رکھنا میں اسے ختم کردوں گی۔۔“
اس نے دھمکی دی تھی۔

”اس تک تو میں نہيں پہنچ پایا۔۔ تم کیا خاک پہنچو گی__!!
وہ ہنس دیا تھا۔

”انہیں دیکھنے کی جو لو لگی
تو ،، نصیر،، دیکھ هی لیں گے ہم
وہ ہزار آنکھ سے دور ہوں
وہ ہزار پردہ نشیں سہی__!!

”تم نے کسی اور کا ہونے کا سوچا نا تو میں تمہيں مار ڈالوں گی___!!
وہ پاگل ہوگٸی تھی۔

”مار ڈالو۔۔ لیکن کسی اور کا ہونا اب میرے بس میں نہيں___!!

اسکی بات سن کر شماٸل گنگ رہ گٸی تھی اسے یقین نہيں آرہا تھا کہ یہ دوسال پہلے والا آرجے تھا جو اسکے ساتھ رہتا تھا۔

”میری زندگی تو فراق ہے
وہ ازل سے دل میں مکیں سہی
وہ نگاہ شوق سےدور ہے
رگ جاں سے لاکھ قریں سہی
ہمیں جان دینی هے ایک دن
وہ کسی طرح وہ کہیں سہی__!!

وہ خوبصورتی سے گنگناتا فون بند کرچکا تھا۔۔ یعنی وہ مرنے کو تیار تھا لیکن اسے اپنانے کو نہيں۔۔
کتنے ہی پل وہ اسکی آواز کے سحر مبتلہ رہی تھی اور پھر سمجھ آنے پر فون زور سے دیوار پر دے مارا تھا۔

”میں تمہيں نہيں بخشوں گی آرجے__!!
وہ چلاٸی تھی اور اب اس نے اپنا دعوی سچ کر دکھایا تھا۔
وہ واقعی اپنی جان دے گیا تھا۔۔ کسی طرح بھی۔۔ کہیں سہی___!!!

___________________

”میں چاہتا ہوں کہ اب آپ اپنی تعليم کو جاری کریں بہت سا وقت ہوگیا آپکو دنیا سے کٹ کر رہتے ہوٸے___!!“
حمدان انکل پیرس آٸے تھے اور اس وقت حانم کے سامنے بیٹھے انہيں سمجھا رہا تھا۔
انکی بات پر حانم نے چونک کر انہيں دیکھا تھا۔
اسے تعليمی اداروں کے نام سے بھی خوف ہونے لگتا تھا۔
وہ خاموشی سے انہيں یکھتی رہی۔

”زندگی کا ہر حادثہ ہمیں ایک نیا سبق دے کر جاتا ہے۔۔ دوسال ضائع کر دیٸے آپ نے اپنی زندگی کے۔۔۔ زندگی بہت چھوٹی سی نعمت ہے اسکو مزید ضاٸع مت کریں۔۔“
حانم کا سر جھک گیا تھا۔
دوسال۔۔ دوسال اس شخص کی وجہ سے حانم نے تنہا گزارے تھے۔۔
اب تک تو اسکا ماسٹر بھی کب کا مکمل ہوجاتا تھا۔ اسکے دل میں ہوق اٹھی تھی۔
لیکن وہ اب خود ہی نہيں تھا۔

”میں آپکے سارے کاغذات لے آیا ہوں۔۔ مجھے امید ہے ہانی بیٹا آپ ہم سب کو مایوس نہيں کرینگی__!!
یعنی وہ فیصلہ کرکے آٸے تھے۔
یعنی اسے بس فیصلہ سنایا گیا تھا، اسے بس کرنا تھا۔
اس نے ماہی کی طرف دیکھا تھا جو کندھے اچکا گٸی تھی کہ تم لوگوں کا آپس کا معاملہ ہے۔

”یا پھر واپس پاکستان چلو وہاں اپنی ماں۔۔ اپنی فیملی سب کے ساتھ رہو__!!
حمدان انکل کی اس بات پر وہ چونک گٸی تھی۔ یہ تو طے تھا کہ اسے واپس کبھی نہيں جانا تھا۔

”میں پڑھاٸی شروع کرلیتی ہوں“
حانم نے اپنے کاغذات والی فاٸل کو میز سے اٹھا لیا تھا۔
وہاں موجود ہر شخص کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گٸی تھی۔

آرجے اب اسے قہقہے لگاتا نظر نہيں آتا تھا، لیکن اسکے الفاظ آج بھی حانم کے کانوں میں گونجتے تھے۔۔
اسے وہ واقعہ آج بھی کسی ڈراٶنے خواب کی طرح یاد تھا۔
وہ پچھے پلٹ کر دیکھتی تو اسے اپنی بربادی صاف دکھاٸی دیتی تھی۔۔
وہ شاید اسکے مرنے کے بعد بھی اس سے نفرت کرتی تھی___

_____________________

وہ یونيورسٹی جانے کیلیۓ تیار ہو رہی تھی۔ اسکا ایڈمیشن ہوچکا تھا۔
اس نے ایک بار پھر ایم ایس سی میں دوبارہ داخلہ لیا تھا۔
زندگی دو اڑھاٸی سال ضائع کرنے کے بعد وہ پھر سے شروعات کر رہی تھی۔ شاید اسکا خوف اس لحاظ سے کم ہوگیا تھا کہ آرجے مرچکا تھا۔

لیکن جو اسکے اندر سب بدل چکا تھا وہ کبھی دوبارہ ٹھیک نہيں ہونے والا تھا۔
اس نے ڈینم کے پاٶں تک آتا سیاہ رنگ کا گاٶں پہن رکھا تھا۔
چمڑے کے جوتے پہنے سنہری بالوں کو پونی کی شکل دیٸے وہ اس حانم سے بہت مختلف لگ رہی تھی جو بڑی سی چادر لپیٹ کر یونيورسٹی جاتی تھی۔
ڈوپٹہ ایک چھوٹے سے سکارف کی صورت میں گردن کے گرد لپٹا تھا۔
حانم نے ایک آخری نظر خود پر ڈالی تھی اور پھر دروازے کی طرف قدم بڑھا دیے تھے۔
دروازے پر پہنچنے کے بعد وہ رکی تھی۔
جانے کیوں بنا سر ڈھانپے باہر جانے کو دل نہيں کر رہا تھا۔
وہ واپس آٸینے کے سامنے آٸی تھی۔ گلے میں لپٹے سکارف کو کھول کر اس نے سر پر اوڑھا تھا۔
الماری سے Shrug نکال کر اسے اوپر پہنا تھا۔ اب وہ مکمل طور پر cover تھی۔
اسکے shrug پر پیچھے کی جانب بڑا سا Angel لکھا تھا۔
سر کو ڈھانپ کر اسے تھوڑا سکون محسوس ہوا تھا۔

”ماں دیکھ کر ناراض نہ ہوجاٸے کہیں
سر پر آنچل نہ ہو تو ڈر لگتا ہے____!!“

آسیہ بیگم نے اسے باہر کھلے سر پھرنا نہيں سکھایا تھا۔ وہ گھر تھا جہاں وہ کچھ بھی پہن سکتی تھی کیونکہ اس گھر میں کوٸی مرد نہيں تھا۔
لیکن اب وہ باہر جارہی تھی۔اور آسیہ بیگم کی بہت سی باتیں اسکے ذہن میں گونج رہی تھی۔
ایک سرسری سی نظر خود پر ڈال کر وہ باہر نکل گٸی تھی۔

اور سچ تو یہ ہے کہ ہم کبھی بدلتے ہی نہيں ہیں۔۔ ہمارا اندر اگر اچھا ہو تو وہ کبھی نہيں مرتا۔۔ کیونکہ اچھاٸی کبھی مرتی نہيں ہے___ ہم وقتی طور پر کسی اور چہرے کے پیچھے چھپ جاتے ہیں جس سے ہماری تکلیف کم ہو۔۔ لیکن ہم مکمل طور پر بالکل بھی نہيں بدلتے___!!!

_____________________

یونيورسٹی کی دنیا بہت الگ تھی۔ وہ جیولوجی ڈیپارٹمنٹ کے کیفے پر بیٹھی تھی۔
اس نے جانے کیوں اس مضمون کا انتخاب کیا تھا۔ اسے پڑھنے میں اب کہاں دلچسپی تھی اسے بس اپنے وقت گزارنا تھا۔
حانم نے سامنے پڑے کافی کے کپ کو اٹھا کر لبوں سے لگایا تھا۔
لڑکے،لڑکيوں کے گروپس اسے دوستوں کی یاد دلا رہے تھے لیکن وہ سوچنا نہیں چاہتی تھی۔

”ہے میڈی وہ دیکھو ہماری نٸی کلاس فیلو آٸی ہے___!!
ایک لڑکے نے میڈی کے کان میں سرگوشی کی تھی۔ میڈی کلاس کا سب سے شرارتی لڑکا تھا جو نٸے آنے والے سٹوڈنٹس اور پہلے سے موجود سٹوڈنٹس کا جینا حرام کر کے رکھتا تھا۔

”کدھر ہے___؟؟“
میڈی نے چونک کر پوچھا تھا۔ وہ پہلے کلاس میں موجود نہيں تھا لیکن اب آیا تھا تو اسکے دوست نے اسے بتایا تھا۔

”وہ سامنے دیکھو۔۔ بلیک ڈریس والی۔۔“
جیکی نے اشارہ کیا تھا۔

”اوکے میں ذرا ہیلو ہاٸے کر کے آتا ہوں___!!“
میڈی شرارت سے کہتا اٹھا تھا۔
میڈی کی طرف حانم کی پشت تھی۔ وہ اسکے قریب پہنچ چکا تھا۔
اس نے حانم کے shrug پر بڑا سا اینجل لکھا دیکھا تھا۔ وہ اکیلی بیٹھی تھی۔

”انٹرسٹنگ۔۔۔“
وہ مسکراتے ہوٸے اسکے سامنے جا کر خالی کرسی پر براجمان ہوچکا تھا۔

حانم نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔۔ پھر وہ نارمل ہوگٸی تھی وہ جانتی تھی یہ پیرس کی یونيورسٹی تھی اسکی پی یو نہيں جہاں لڑکے کم از کم لڑکی کی اجازت کے بنا اسکے پاس نہيں بیٹھ سکتے تھے۔

”ہیلو اینجل۔۔ میں ہوں میڈی۔۔!!
میڈی نے مسکرا کر ہاتھ آگے بڑھایا تھا۔
اس سے پہلے حانم کچھ کہتی، اس نے اپنے داٸیں جانب دیکھا تھا اور سورج کی مدھم سی روشنی حانم چہرے پر پڑھی تھی۔
اسکا پیداٸشی نشان چمکا تھا۔ میڈی حیران رہ گیا تھا۔

”یہ کیا تھا۔۔۔؟؟“

اس نے کبھی پہلے ایسی کوٸی چیز نہيں دیکھی تھی۔

”ہاٸے۔۔۔“
حانم نے بنا ہاتھ ملاٸے واپس اسکی جانب دیکھتے ہوٸے جواب دیا تھا۔
جبکہ میڈی بس ہونکوں کی طرح اسے گھور رہا تھا۔
اسے سامنے بیٹھی لڑکی واقعی اینجل لگی تھی۔

“What Is This___??”
اس نے انگلی سے حانم کے چہرے کی طرف اشارہ کیا تھا۔

”برتھ مارک۔۔۔“
وہ کتنے سکون سے جواب دے رہی تھی۔

”یقین نہيں ہوتا۔۔۔“
میڈی کا منہ ابھی بھی حیرت سے کھلا ہوا تھا۔
وہ پتا نہيں کیوں اس جگہ سے اٹھا تھا اور پھر واپس اپنے دوست کی طرف بڑھ گیا تھا۔ اس میں حانم کے سامنے بیٹھنے کی ہمت نہيں ہو رہی تھی۔ جبکہ حانم اسے حیرت سے جاتا دیکھ رہی تھی۔

”میں نے تو کچھ نہيں کہا___!!
حانم نے کندھے اچکاٸے تھے اور پھر کافی کا آخری گھونٹ پینے کے بعد وہ اٹھ کر اپنی کلاس کی جانب بڑھ گٸی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: