Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 36

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 36

–**–**–

( زندگی کے سات پہروں کی کہانی )

حانم نے یونيورسٹی جانا تو شروع کردیا تھا لیکن اسے لیکچر کی کچھ سمجھ نہيں آتی تھی۔ دو سال وہ کتابوں سے دور رہی تھی،دو سال وہ اپنے آپ سے دور رہی تھی،
پروفيسر کچھ پڑھا تھا لیکن وہ غائب دماغی سے بس سنے جارہی تھی__
پروفيسر اگر اس سے لیکچر کے دوران کچھ پوچھ لیتا تو یقيناً پوری کلاس کے سامنے اسکی بےعزتی لازمی تھی، لیکن صد شکر کہ پروفيسر بس اپنی سنانے والوں میں سے تھا،

کلاس میں کوٸی اور بھی تھا جو اس پر نظر رکھے ہوٸے تھا اور وہ تھا میڈی___
اسے شروع دن سے حانم تھوڑی عجیب لگی تھی وہ جب سے آٸی تھی اس نے کوٸی دوست نہيں بنایا تھا، میڈی نے اسے ہمیشہ اکیلے پایا تھا___

لیکچر کب ختم ہوا کلاس کب باہر گٸی وہ محسوس ہی نہيں کر پاٸی تھی۔ وہ اس چونکی جب میڈی نے ڈیسک بجا کر اسے ہوش میں لانا چاہا تھا۔
میڈی کا ڈیسک بجانا کام آگیا تھا، حانم ایک دم چونکی تھی۔
کلاس خالی تھی بس ایک دو سٹوڈنٹس موجود تھے۔
”مجھے لگتا ہے کہ تمہیں اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیۓ کہ کلاس کب ختم ہوتی ہے___“
وہ عام سے لہجے میں بول رہا تھا۔

”شکریہ___!!“
ایک لفظی جواب دینے کے بعد وہ اپنی جگہ سے اٹھی تھی اور پھر کلاس سے باہر نکل گٸی تھی۔
پیرس میں چمکیلی دھوپ پھیلی تھی۔ حانم اپنے ڈیپارٹمنٹ سے نکل کر مین گیٹ کی طرف بڑھ گٸی تھی اسکا پڑھنے کی طرف بالکل بھی دھیان نہیں تھا۔
جیسے ہی وہ یونيورسٹی سے باہر نکلی تھی باہر سڑک کے پار ایک نہر تھی اور پھر دوسری طرف سڑک تھی۔۔
یعنی ڈبل وے کے درمیان سے نہر گزر رہی تھی۔
وہ نہر کنارے جا کر بیٹھ گٸی تھی۔
کتنی ہی دیر بیٹھے رہنے کے بعد اسے اپنے پاس کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تھا۔
حانم نے چونک کر اپنے داٸیں جانب دیکھا تھا۔

”میں نے سنا ہے کہ خاموش بہتے پانی کے اندر بہت سا شور ہوتا ہے___اگر وہ اپنا یہ شور باہر نکال دے تو دنیا ڈوب جاٸے____!!“
وہ پانی پر گہری نظریں جماٸے بول رہا تھا۔ حانم نے اسے اپنی کلاس میں نہيں دیکھا تھا یقيناً وہ کسی اور ڈیپارٹمنٹ سے تھا۔
وہ اسے حیرانی سے دیکھ رہی تھی۔

”اسی لیۓ خدا پاک نے پانی کو اسکی اوقات میں یعنی پابند رہنا سکھایا ہے!!!
وہ بولی تو لہجے میں مان تھا۔
اب کی بار چوکنے کی باری لڑکے کی تھی۔
وہ پینٹ پر بنا بازٶں کی شرٹ پہنے ہوا تھا۔ یقيناً وہ جم جاتا تھا۔۔ اسکے کسرتی مسلز نمایاں تھے۔
بالوں میں پونی پہنے ہوٸے تھی۔
حانم بس گہری سانس لے کر رہ گٸی تھی، یہاں ہر انسان اپنے آپ میں ایک عجوبہ تھا۔

”میں ہوں جورڈن اور تمہارا نام کیا ہے___!!“
جورڈن نے اپنا تعارف کروایا تھا۔

”تم مجھے میری کلاس کے نہيں لگتے۔۔۔“
حانم نے گویا تصدیق چاہی تھی۔

”ٹھیک کہا۔۔۔ میں کسی بھی کلاس کا نہيں ہوں“
وہ مسکرایا تھا۔

”تو پھر تعارف کی ضرورت کیا ہے؟؟“
وہ اٹھ کھڑی ہوٸی تھی۔

”یہ بھی خوب کہا__!!
وہ پھر مسکرادیا تھا۔
حانم کو اسکی آنکهوں میں ایک سردمہری نظر آٸی تھی۔
اسے جورڑن سے خوف محسوس ہوا تھا، اس نے وہاں سے جانے میں عافیت جانی تھی۔

”ایک تم ہو جو مجھے اس لڑکی تک پہنچاٶ گی جو میرے لیۓ جبیل خاندان تک راہ ہموار کرے گی__!!
وہ حانم کو جاتے ہوٸے دیکھ رہا تھا، یقيناً اس نے حانم کو ماہی کے ساتھ دیکھا تھا اور اب وہ حانم سے اس لیۓ مل رہا تھا کہ جو کچھ ماہی کے بارے میں نہيں جانتا وہ جان سکے۔۔
اسے پوری امید تھی ماہی جبیل خاندان کو ضرور جانتی تھی___
مسٹر جوزف کی پارٹی سے پر اب تک۔۔ اس نے ماہی کا بہت پیچھا کیا تھا۔۔
لیکن وہ کسی ایسے شخص سے نہيں ملی تھی جس کا نام جبیل تھا،
وہ اس پر نظر رکھے ہوٸے تھا۔۔ لیکن انتظار مشکل تھا___!!
______________________

”کبھی کبھی
جاڑے کی کہر بھری شام میں
جانے کیوں اداس ہونے کو جی چاہتا ہے
کسی بچھڑے ہوٸے کی یاد میں
رونے کو جی چاہتا ہے___
درد کے دھاگوں میں لفظوں کے
موتی پرونے کو جی چاہتا ہے
جھٹ پٹے کے اس موسم میں
صرف پرت پرت کھولتے ہیں
میرے اندر دکھ ہی دکھ بولتے ہیں
کبھی کبھی ___
جاڑے کی کہر بھری شام میں۔۔۔!!“

لاٶنج میں ٹی وی کی ہلکی ہلکی آواز ابھر رہی تھی۔ ایلا نوڈلز کی پلیٹ پکڑے کھانے میں مگن تھی۔
باہر موسم ابرآلود ہو رہا تھا۔
تیز ہواٸیں روٸی کے گالوں کی آمد کا پتا دے رہی تھیں۔
جیسے ہی شام ہوتی تھی چمکیلی دھوپ ایک دم سے غاٸب ہوجاتی تھی۔
وہ لاٶنج میں بیٹھی گلاس ونڈو سے باہر نرم نرم گرتے روٸی کے گالوں کو دیکھ رہی تھی۔
اسے یاد تھا جب بھی موسم زیادہ ٹھنڈا ہوتا تھا ماہم کچن میں گھس جاتی تھی۔۔ اسے کھانے کا بہت شوق تھا۔
وہ کچھ نا کچھ نیا بناتی رہتی تھی۔
اس وقت حانم کا دل شدت سے اپنے گھر والوں سے ملنے کو چاہا تھا۔
وہ گہری سانس لیتے ہوٸے رخ موڑ گٸی تھی۔ کچھ دیر بعد ماہی بھی انکے پاس آکر بیٹھ گٸی۔۔
باہر گرتی برف نے ماہی کو وہ دن یاد دلا دیا تھا جب اسے پہلی بار حشام ملا تھا۔۔
وہ مسکرا دی تھی۔

”ایک بات پوچھوں ہانی۔۔؟؟“
ماہی نے اسے مخاطب کیا تھا۔

”ہاں ضرور۔۔۔“

”تمہيں اتنا عرصہ ہوگیا ہے پیرس آٸے ہوٸے، اور ایک سال ہوگیا ہے یونيورسٹی جاتے ہوٸے تمہيں ابھی تک پیرس میں کسی سے محبت نہيں ہوٸی۔۔۔
ایسا کیوں۔۔۔ پیرس میں آکر بھی تمہيں کوٸی پسند نہيں آیا۔۔ کیوں___؟؟“
حانم ماہی کا سوال سن کر سٹپٹا گٸی تھی اسے اس سوال کی امید نہيں تھی۔

”نہيں میں نے کبھی اس پر توجہ نہيں دی۔۔“
حانم نے سادہ سے لہجے میں جواب دیا تھا۔ ماہی بےاختیار ہی مسکرادی تھی۔

”محبت کا توجہ سے کیا تعلق۔۔۔؟؟“

”ہر چیز کا تعلق توجہ سے ہوتا ہے۔۔ جب انسان کسی چیز میں دلچسپی لیتا اور اس چیز کے متعلق سوچتا ہے تو اکثر وہ ہونا شروع ہوجاتا ہے!!

”کچھ سمجھ نہيں آیا کہ تم نے کیا بات کی ہے۔۔!!“
حانم کی بات ماہی کے اوپر سے گزری تھی۔

ٰ”بتاتی ہوں۔۔“
حانم اپنی جگہ سے اٹھ کر لاٶنج میں رکھے ایکیوریم کی طرف بڑھ گٸی تھی۔

ماہی اور ایلا غور سے اسے دیکھ رہی تھیں۔

”یہ ایکیوریم دیکھ رہی ہو نا۔۔ اسکے اندر بہت خوبصورت دنیا ہے۔۔
روزانہ کتنی بار اسے غور سے دیکھتی ہو۔۔۔؟؟“
حانم نے پوچھا تھا۔

”یاد نہيں کب اس پر غور کیا تھا۔۔“
ماہی نے نا سمجھی سے جواب دیا تھا۔

”اب اس پر غور کرو۔۔ اور دیکھو اس میں سب سے خوبصورت مچھلی کونسی ہے۔۔؟؟“
حانم پوچھ رہی تھی۔
ایلا نے ٹی وی بند کردیا تھا۔
اب وہ دونوں غور سے شیشے کے جار یعنی ایکیوریم کے اندر تیرتی مچھلیوں کو دیکھ رہی تھیں۔

”وہ نیلے رنگ والی۔۔۔“
ماہی نے کافی غور کرنے پر سب سے الگ اور خوبصورت مچھلی کی طرف اشارہ کیا تھا۔

”کمال ہے اتنی خوبصورت مخلوق پر میں نے پہلے توجہ کیوں نہيں دی۔۔“
ماہی بڑبڑاٸی تھی۔۔ اسے وہ مچھلی واقعی ہی بہت پیاری لگی تھی۔
اسکی بات سن کر حانم کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گٸی تھی۔

”کیسے پتا چلا کہ یہ مچھلی پیاری ہے۔۔؟؟“

”غور کرنے پر۔۔۔“
ماہی نے جواب دیا تھا۔

”اب تم کیا کروگی۔۔۔۔؟؟؟“
حانم نے پوچھا تھا۔

”میری کوشش ہوگی کہ میں روزانہ اس مچھلی کو دیکھ سکوں۔۔۔“
ماہی نے جواب دیا تھا۔

”اور پھر۔۔۔؟؟“

”ابھی اسے دیکھنے کے بعد میرا دل کر رہا ہے اسے چھو کر دیکھوں۔۔!!
ایلا نے اپنا خیال ظاہر کیا تھا۔

”اگر تم دونوں ان مچھلیوں پر غور نا کرتیں تو تم دونوں کو کبھی اس بات کا احساس نہيں ہونا تھا کہ انہيں دیکھنا چاہیۓ یا چھونا چاہیۓ۔۔ یہ بات ثابت کرتی ہے کہ کام کوٸی بھی ہو اسے ہماری توجہ خاص بناتی ہے۔۔۔

محبت بھی کچھ ایسی ہی منطق رکھتی ہے۔۔ جب تک کسی انسان پر غور نہيں کروگے وہ عام سا ہوگا۔۔
لیکن جیسے ہی ہم اس شخص کے متعلق سوچنا شروع کرتے ہیں اس پر توجہ دیتے ہیں تو ہمیں اسکی اچھاٸیاں نظر آتی ہیں۔۔
آہستہ آہستہ وہ ہمیں پسند آتا ہے۔۔ اور ایک وقت ایسا آتا ہے جب ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہمیں اس سے محبت ہوگٸی ہے۔۔!!
وہ اپنی لاجک پیش کر چکی تھی۔۔
وہ دونوں اسے حیرت سے دیکھ رہی تھیں۔

کچھ ایسا ہی ہوا تھا ماہی کے ساتھ جب اسے پہلی دفعہ حشام نظر آیا تھا۔۔
سینکڑوں لوگوں میں اس نے حشام پر غور کیا تھا۔۔ پھر اسے محسوس ہوا تھا وہ کافی وجیہہ تھا۔۔
وہ اس دن جب وہ پہلی بار ایفل ٹاور کے پاس ملا تھا کتنی ہی دیر اسے غور سے دیکھتی رہی تھی۔۔
وہ اسے بعد میں سوچتی رہی تھی۔۔
وہ اسکے حواسوں پر چھانے لگا تھا۔۔ وہ اسے جاننے کا اشتیاق رکھتی تھی۔۔ وہ کتنی جگہ ماری ماری پھری تھی۔
اور بالآخر اسے محسوس ہوا تھا کہ اسے حشام سے محبت ہوگٸی تھی۔۔!!

”میں نے کبھی کسی انسان پر اتنی توجہ نہيں دی کہ میں اس سے محبت کرسکوں۔۔۔
میرا دل اور دماغ ہمیشہ کسی اور رخ میں چلتا رہا ہے۔۔ میری سوچ کا دھارا محبت سے کہیں آگے ان دیکھی چیزوں کی طرف بہتا رہا ہے۔۔!!
حانم بتا رہی تھی۔

”لیکن محبت اپنے اختیار میں کب ہوتی ہے۔۔ یہ تو بےاختیار ہوتی ہے!!
ماہی نے جانے کس احساس کے تحت کہا تھا۔

”ٹھیک کہا۔۔ دنیا میں سب سے منہ زور جذبہ محبت کا رہا ہے۔۔
لیکن میں یہاں یہ کہوں گی کہ محبت کے ہونے میں ہمارا بھی ہاتھ ہوتا ہے۔۔
انسان جس چیز کی جستجو کرتا ہے قدرت اس انسان کا رخ اسکی جستجو کی طرف موڑ دیتی۔۔
اگر انسان چاہے جانے کی طلب رکھے گا تو یقيناً وہ محبت سے ٹکراٸے گا۔۔

جو چاہے جانے کی طلب رکھتا ہے اسکی آزمائش ہوتی کہ اسے پہلے محبت ہوتی ہے۔۔ اسے کسی کی طلب میں مبتلا کردیا جاتا ہے۔۔ اور اسکی یہ خواہش کہ کوٸی اسے چاہے وہ اسکی آزمائش کے بعد پوری ہوتی ہے۔۔

میں نے کبھی اس چیز کی خواہش نہيں کی کہ مجھے کوٸی چاہے۔۔
اور اللہ پاک نے بھی کبھی مجھے محبت جیسے جذبے سے روشناس نہيں کروایا،
میرے اندر بڑی بےچین روح ہے۔۔ اسے کچھ اور چاہیۓ۔۔
یہ اور چیزوں کی جستجو کرتی ہے___!!
جو لوگ کاٸنات کو تسخیر کرنے نکلتے ہیں وہ اس چیز کی طلب رکھتے ہیں۔۔
جن لوگوں نے ماضی میں دنیا فتح کی ہے۔۔ یقیناً انکی جستجو نے انہيں یہ کام کرنے پر اکسایا ہوگا،

جن لوگوں نے قدرت کا عرفان پایا ہے یقيناً وہ بہت تڑپے ہونگے۔۔
انکی طلب انکی جستجو نے انہيں ان دیکھی چیز کی تلاش میں نکلنے پر مجبور کیا ہوگا۔۔
اور مجھے لگتا ہے کہ ساری کاٸنات سمٹ کر اس ایک لفظ طلب یا جستجو میں مقید ہے___
جو جس چیز کی کھوج کرے گا وہ اسے پاٸے گا__
جو چاہے جانے کی طلب رکھے گا اسے پہلے محبت میں مبتلا کیا جاۓ گا___!!

وہ خاموش ہوچکی تھی۔۔
ماہی اور ایلا کو اسکی منطق نے ورطہ حیرت میں مبتلا کردیا تھا۔۔

”لیکن ایک بات۔۔۔
ایک بات تو طے ہے۔۔ انسان کو چاہے جانے کی طلب رکھنی چاہیۓ۔۔
جو یہ طلب رکھے گا وہ محبت سے ٹکراٸے گا۔۔
جب وہ محبت سے ٹکراٸے گا تو اسے ناپانے کی صورت میں پاش پاش ہوجاٸے گا۔۔
جب اسکی ذات ٹکروں میں بٹے گی تب اسے ہر ٹکڑے پر ایک نٸی چیز کا احساس ہوگا۔۔
جنکی ذات ٹکڑوں میں بٹی ہوتی ہے وہ بہت حساس ہوجاتے ہیں اور وہ ان نٸی چیزوں محسوس کرتے ہیں۔۔ اور وہ چیزوں کو دیکھتے ہیں جو عام انسان نہيں دیکھ سکتا۔۔
اسی لیۓ خالق کاٸنات نے اس کاٸنات کی بنیاد محبت پر رکھی ہے۔۔
یہ اپنے آپ میں ایک بہت بڑی کھوج ایک بہت بڑی ہے۔۔
شاید یہی وجہ ہے کہ میں بہت سی چیزوں کی کھوج نہيں کر پاٸی__!!

لیکن ایک اہم بات۔۔ جو ایلا نے کہی کہ خوبصورت مچھلی کو دیکھ کر چھونے کو دل کرتا ہے،

جس طرح اللہ پاک نے انسان کو تسخیر کی اجازت دینے کے بعد اپنی اور انسان کی ذات میں ایک پردہ رکھا ہے وہ چاہے جتنی کوشش کرلے جب تک اللہ ناچاہے وہ اس پردے کو اس حد کو پار نہيں کرسکتا۔۔
بالکل اسی طرح محبت میں بھی کچھ حدود و قیود ہوتی ہیں۔۔
جب ایسے انسان سے محبت ہوتی ہے جس سے ہمارا کوٸی جاٸز رشتہ نہيں ہوتا۔۔ اس محب میں ان حدود کو پار نہيں کیا جاسکتا۔۔
جس طرح انسان اپنی ہٹ دھرمی میں اللہ اور اپنے درمیان حاٸل پردے کو پار کرنے کی کوشش کرتا ہے تو فنا ہوجاتا ہے۔۔کوہ طور کا واقعہ تو یاد ہی ہوگا۔۔
بالکل اسی طرح اگر انسان نامحرم کی محبت میں ان حدود کو پار کرتا ہے جو اسے نہيں کرنی چاہیٸے تھیں تو وہ انسان نہيں رہتا۔۔
اپنی خواہشات کا غلام ہوجاتا ہے__
جانوروں سے بدتر ہو جاتا ہے!!

ماہی کو سمجھ نہيں آیا کہ وہ کس چیز کو زیادہ اہمیت دے کر گٸی تھی۔۔۔
جستجو کو، طلب کو، تلاش کو یا پھر محبت کو۔۔۔؟؟
وہ انسان کی طلب سے شروع ہو کر کاٸنات کا ذکر کر کے واپس محبت پر آگٸی تھی۔
یقیناً کاٸنات میں ہر چیز اپنی ایک جگہ رکھتی ہے، خالق کاٸنات نے کسی ایک وجود کسی ایک جذبے کو، خواہ وہ نظر آتا ہو یا نہيں بلاوجہ پیدا نہيں کیا___

”اور تم اپنے رب کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاٶ گے__!!
____________________

”تم نے میرے نوٹس نہيں لیۓ۔۔؟؟“
حانم حیرت سے میڈی کو تک رہی تھی۔

”پروفيسر میکال بہت ضدی ہیں کل تم غیر حاضر تھی انہوں نے کہا جو سٹوڈنٹس کلاس میں موجود ہیں صرف انہيں ہی نوٹس ملیں گے باقی کل انکے آفس میں جا کر لے لیں۔۔!!
انکا یہ آخری سمیسٹر چل رہا تھا اور اسی وجہ سے ان پر کافی سختی کی جا رہی تھی۔

”اوکے میں لے کر آتی ہوں۔۔“
حانم غصے سے پروفيسر میکال کے آفس کی طرف بڑھ گٸی تھی۔
کمرے کے باہر پہنچنے کے بعد حانم نے دروازہ پر دستک دی تھی۔

”یس۔۔۔“
اندر سے آواز آٸی تھی۔

”سر مجھے نوٹس چاہیے۔۔۔!!
اندر آفس میں ایک شخص میز کی جانب رخ کر کے کھڑا ہوا تھا۔ حانم کی طرف اس شخص کی پشت تھی۔
آواز پر اس شخص نے جھٹکے سے پلٹ کر حانم کو دیکھا تھا۔۔
اپنے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر حانم کا رنگ پیلا پڑا تھا۔۔
وہ حیرت سے گنگ اس شخص کو دیکھ رہی تھی اور ایسا ہی کچھ حال سامنے والے شخص کا تھا۔

”ام حانم۔۔۔“
وہ زیر لب بڑبڑایا تھا۔
حانم کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا تھا۔ وہ اس شخص سے صرف ایک دفعہ ملی تھی۔
کچھ سال پہلے کالج کے میٹنگ والے کمرے میں جہاں اس شخص نے اپنا تعارف حشام بن جبیل کے نام سے کروایا تھا۔

حشام حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات سے اسے دیکھ رہا تھا۔
وہ ایک جھٹکے سے مڑی تھی اور آفس سے باہر نکل گٸی تھی۔ حانم کا دل دھک دھک کر رہا تھا وہ جانتی تھی کہ آرجے مرچکا تھا لیکن اس نے کبھی سوچا نہيں تھا کہ اسکا سامنے آرجے کی فیملی کے کسی شخص سے ہوجاٸے گا۔

ایسی ہی کچھ حالت حشام کی بھی تھی۔ پروفيسر میکال سے اسکی اچھی خاصی دوستی تھی آج وہ اسے ملنا آیا تھا۔۔ لیکن اسے یقین نہيں آرہا تھا کہ قسمت اس پر یوں بھی مہربان ہو سکتی تھی۔
پروفيسر میکال جب آفس میں داخل ہوا تو حشام کو کرسی پر براجمان کسی گہری سوچ میں غرق پایا تھا۔

”کیا ہوا۔۔۔؟؟“

”ام حانم۔۔۔ تمہاری سٹوڈنٹ ہے۔۔؟؟“
حشام نے پوچھا۔

”ہاں۔۔“
پروفیسر میکال نے کچھ دیر سوچنے کے بعد جواب دیا تھا۔

”مجھے پہلے کیوں نہيں پتا چلا۔۔“
حشام اپنا سر تھام کر رہ گیا تھا۔

_________________________

”حانم اپنی مخصوص جگہ پر یعنی نہر کے کنارے بیٹھی تھی۔۔
ہوا کی سرسراہٹ سے ڈوپٹے کے نیچے سے اسکے بال نکل کر چہرہ چھو رہے۔۔
پانی سست روی سے بہہ رہا تھا۔ قریب ہی دانا چگتے پرندوں کی آواز اسکے کانوں کو بھلی محسوس ہو رہی تھی۔
وہ وہاں اکیلی بیٹھی تھی جب حشام اسکے پاس آکر بیٹھا تھا۔۔
حانم نے زیادہ نوٹ نہیں کیا تھا۔۔ اس جگہ پر روز نٸے نٸے لوگ اسکے پاس آکر بیٹھتے تھے۔

”کیسی ہیں آپ ام حانم۔۔؟؟“

آواز پر چونک کر حانم نے دیکھا تھا۔ ایک بار پھر اسکے چہرے کا رنگ اڑا تھا لیکن وہ خود پر کنٹرول کر گٸی تھی۔

”جی ٹھیک ہوں۔۔۔“
وہ زبردستی مسکراٸی تھی۔

”جب میں اپنے بھاٸی کے سلسلے میں آپ سے ملنے کالج گیا اور جب میں وہاں سے واپس آیا تھا تو میں نے کبھی سوچا نہيں تھا کہ میں آپ سے یہاں اس شہر میں یوں اچانک ملوں گا۔۔!!
وہ کتنا خوش تھا یہ صرف وہ جانتا تھا وہ اسے بتا نہيں سکتا تھا۔
اس نے آرجے کا نام نہيں لیا تھا۔

”سوچا تو میں نے بھی نہيں تھا کہ جس شخص سے میں اتنی نفرت کرتی ہوں اسکے بھاٸی سے یہاں یوں اچانک ملوں گی۔۔!!“
حانم کے لہجہ کاٹ دار تھا۔ حشام کے چہرے کا رنگ پھیکا پڑا تھا۔

”لیکن مجھے امید ہے کہ آپکو مجھ سے نفرت نہيں ہوگی۔۔“
وہ مسکرایا تھا۔
حشام اچھے سے جانتا تھا کہ حانم آرجے کیوں نفرت کرتی تھی اس لیۓ اس نے اس بات کا ذکر نہيں کیا تھا۔
حانم نے کوٸی جواب نہيں دیا تھا۔

”میں پچھلے دس سالوں سے پیرس میں رہ رہا ہوں لیکن مجھے پیرس کبھی اتنا اچھا نہيں لگا تھا“
اسکی بات پر حانم نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔

”اچھے لوگوں سے مل کر سب اچھا لگنے لگتا ہے اور پھر آپ تو بہت خاص ہیں اس نشان کی وجہ سے۔۔!!“
اس نے حانم کے برتھ مارک کی طرف اشارہ کیا تھا۔
”کافی اچھی باتيں کرلیتے ہیں آپ۔۔“
حانم مسکرادی تھی۔

”میں خود بھی بہت اچھا ہوں یہ آپ کچھ دنوں تک جان جاٸیں گی۔۔“
وہ پر اعتماد لہجے میں کہہ رہا تھا۔

”دیکھتے ہیں۔۔۔“
حانم نے چیلنج کرنے والے انداز میں کہا تھا اور پھر اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوٸی تھی۔
وہ کالج میں ہونے والی ملاقات میں ہی جان گٸی تھی کہ آرجے اور حشام ایک دوسرے سے بہت مختلف تھے۔
اور اب اسے یہ محسوس بھی ہو رہا تھا۔

”اللہ حافظ۔۔۔“
حشام کے چپ رہنے پر وہ کہتی یونيورسٹی کی طرف بڑھ گٸی تھی جبکہ حشام اسے جاتے دیکھ رہا تھا۔
_______________________

”ماہی تم حشام جبیل کو بتا کیوں نہیں دیتی کہ تم اسکے ڈیڈ کے بزنس پارٹنر کی بیٹی ہو۔۔؟؟“
ایلا کو ماہی کی اپنی محبت کے معاملے میں یوں خاموشی کوفت میں مبتلا کر دیتی تھی۔

”اس سے کیا ہوگا۔۔؟؟“
ماہی نے لیپ ٹاپ پر نظریں پوچھا تھا۔

”اس سے اسے یہ احساس تو ہوگا نا کہ تم کوٸی عام لڑکی نہيں ہوں۔۔ شاید اسے تمہاری قدر ہو۔۔“

”ایلا تم پاگل ہو۔۔“
ماہی اسکی بات سن کر مسکرا دی تھی۔
اسکا ایم بی اے مکمل ہوگیا تھا۔ وہ یہاں ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں جاب کر رہی تھی، وہ اس وجہ سے کہ اسے کچھ تجربہ ہوجاٸے۔۔ تاکہ وہ اپنے باپ حمدان کا بزنس سنبهال سکے۔
وہ اکثر بزنس کو لے کر حمدان صاحب سے بحث کرتی رہتی تھی۔۔

”میں سچ کہہ رہی ہوں۔۔“
ایلا نے منہ بنایا تھا۔
اس سے پہلے ماہی کچھ کہتی اسکا فون بجا تھا۔

”بابا کی کال ہے۔۔“
ماہی نے کہتے ہوٸے کال اٹھاٸی تھی۔

”بیٹا پیرس میں ضیا ٕ کا بیٹا رہتا ہے شاید میں نے تمہيں بتایا ہو۔۔
آج شام ہماری پیرس میں میٹنگ تھی جس میں میرا اور ضیا ٕ کا ہونا لازمی تھا۔
کل کچھ مصروفيات کی وجہ سے میں نہيں آسکا اور ضیا ٕ بھی بیمار ہے۔۔ تم بزنس کو اچھے سے جان گٸی ہو میں چاہتا ہوں میری طرف وہ میٹنگ تک اٹینڈ کرو۔۔ اور اپنے ساتھ حشام جبیل کو بھی لے کر جاٶ۔۔
میں ابھی تمہيں ساری ڈیٹیل بھیج دیتا ہوں۔۔ اور حشام کا نمبر اور اڈریس بھی۔۔“
سلام دعا کے بعد حمدان صاحب نے کام کی بات کی تھی۔

”جی بابا۔۔“
وہ بس اتنا ہی کہہ پاٸی تھی۔

”لو ہوگٸی تمہاری خواہش پوری۔ اب پتا چل جاٸے گ مسٹر جبیل صاحب کو۔۔“
ماہی مسکرادی تھی۔ وہ خوش تھی اور یہ خوشی حشام جبیل سے ملنے کی تھی۔

______________________

حشام ماہین حمدان کو دیکھ کر حیران رہ گیا تھا۔۔ اس نے کبھی سوچا نہيں تھا کہ ماہین حمدان سیٹھ حمدان کی بیٹی تھی۔۔
وہ دونوں میٹنگ کیلیۓ نکلے تھے۔۔ اسے دیکھ کر ماہی کی آنکهوں میں جگنو سے جل اٹھے تھے یہ ہ محسوس کرچکا تھا۔۔
لیکن اسے دلچسپی نہيں تھی۔۔ اور اب تو ہوبھی نہيں سکتی تھی کیونکہ اب اسے حانم مل گٸی تھی۔
انکی میٹنگ اچھی رہی تھی۔

اب حشام اسے گھر چھوڑنے جا رہا تھا۔
گاڑی میں خاموشی چھاٸی تھی۔ ماہی کو یہ خاموشی کاٹ رہی تھی۔

”آپکو کیسا لگا یہ جان کر کہ میں سیٹھ حمدان کی بیٹی ہوں۔۔؟؟“
بالآخر ماہی نے پوچھا تھا۔

”کیسا بھی نہيں۔۔۔“
سرد سے لہجے میں جواب موجود تھا۔

”لیکن مجھے آپ سے مل کر بہت اچھا لگ رہا ہے۔۔ میں نے کبھی سوچا نہيں تھا کہ ہم دونوں کبھی ایک ساتھ کسی سفر پر نکلیں گے۔۔!!“
ماہی کے لہجے سے خوشی جھلک رہی تھی۔
حشام نے کوٸی جواب نہيں دیا تھا۔ گاڑی ایک جھٹکے سے رکی تھی۔

”آپکا گھر آگیا مس ماہین حمدان۔۔۔!!
وہ بنا اسکی طرف دیکھے کہہ رہا تھا۔ ماہی کا دل اسکے جواب نہ دینے پر کٹ کر رہ گیا تھا۔۔ لیکن وہ کچھ کر بھی نہيں سکتی تھی۔
وہ خاموشی سے گاڑی سے نیچے اتری تھی۔
وہ جھک کر کچھ کہنے والی تھی کہ حشام فراٸے بھرتا گاڑی بھگا کر لے گیا تھا۔۔
وہ برف کی شہزادی اسے افسوس سے جاتا دیکھ رہی تھی۔

سارے رشتے بھلائے جائیں گے
اب تو غم بھی گنوائے جائیں گے

جانیے کس قدر بچے گا وہ
اس سے جب ہم گھٹائے جائیں گے

اس کو ہوگی بڑی پشیمانی
اب جو ہم آزمائے جائیں گے

کیا غرضؔ دَورِ جام سے ہم کو
ہم تو شیشے چبائیں جائیں گے

میری اُمید کو بجا کہہ کر
سب مرا دکھ بڑھائے جائیں گے

کم سے کم تجھ گلی میں جاناں
دُھوم تو ہم مچائے جائیں گے

زخم پہلے کے اب مفید نہیں
اب نئے زخم کھائے جائیں گے

شاخسارو! تمہارے سارے پرند
اک نَفَس میں اُڑائے جائیں گے

ہم جو اب تک کبھی نہ پائے گئے
کن زمانوں میں پائے جائیں گے

آگ سے کھیلنا ہے شوق اپنا
اب تیرے خط جلائے جائیں گے

جمع کیا ہے ہم نے غم دل میں
اس کا اب سود کھائے جائیں گے

شہر کی محفلوں میں ہم اور وہ
ساتھ اب کیوں بلائے جائیں گے

ہے ہماری رسائی اپنے میں
ہم خود اپنے میں آئے جائیں گے

ہم نہ ہو کر بھی شہرِ بودِش میں
آئے جائیں گے، جائے جائیں گے

مجھ سے کہتا تھا کل یہ شاہِ بلوط
سارے ساٸے جلائے جائیں گے

ہو گا جس دن فنا سے اپنا وصال
ہم نہایت سجائے جائیں گے

جونؔ یوں ہے کہ آج کے موسیٰ
آگ بس آگ لائے جائیں گے

جون ایلیا

________________________

حشام بہانوں بہانوں سے حانم سے ملنے لگا تھا۔ وہ جہاں جاتی وہ بھی اتفاقاً پہنچ جاتا تھا۔ حانم نے کبھی اس بات کو نوٹ نہیں کیا تھا____

آج بھی وہ اسے ہی تلاش کر رہا تھا۔۔ بی جان اسے شادی کا کہہ رہی تھیں۔۔ وہ اس پر دباؤ ڈال رہی تھیں۔
اور آج وہ اسی سلسلے میں حانم سے ملنے والا تھا وہ اسے اپنے دل کی بات بتانے والا تھا تاکہ بعد میں بی جان کو اپنی پسند بتاسکے۔۔
لیکن وہ پہلے حانم کی پسند جاننا چاہتا تھا۔
وہ اسے نہر کے کنارے پرندوں کو دانہ ڈالتی نظر آگٸی تھی۔
حشام ہاتھ میں پکڑا کیک لیۓ اسکی طرف بڑھا تھا۔۔
آج حشام کی برتھ ڈے تھی۔۔
وہ جانتا تھا کہ حانم نہيں جانتی تھی۔۔ اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ وہ اسے وش نہيں کرے گی۔۔
لیکن وہ اس دن کو خاص بنانا چاہتا تھا۔

”اسلام علیکم! کیسی ہیں آپ؟؟“
حانم کے قریب پنچنے پر اس نے پوچھا تھا۔

”جی میں بالکل ٹھیک ہوں آپ سنائیں۔۔
اور یہ کیک کس لیۓ۔۔؟؟“

”آج میرا برتھ ڈے ہے۔۔ اور جب سے میں پیرس آیا ہوں یہ پہلا موقع ہے کہ میں کیک کاٹنے جا رہا ہوں وہ بھی بہت ہی خاص شخصیت کے ساتھ۔۔!!

”ہیپی برتھ ڈے مسٹر حشام جبیل!!“
اسکی بات سن کر حانم مسکرا دی تھی۔

”شکریہ۔۔۔“
وہ بھی مسکرایا تھا۔

”دیر نہيں کرنی چاہیۓ پھر ویسے بھی مجھے کیک بہت پسند ہے کھانے میں۔۔“
وہ دونوں وہیں کنارے پر بیٹھ گٸے تھے۔

”میں آج آپ سے کچھ مانگنے آیا ہوں!!“
کیک کاٹنے کے بعد حشام سنجيدہ لہجے میں کہا تھا۔
اسکے لہجے میں کچھ تھا۔۔ حانم نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔

”آج میرا جنم دن ہے۔۔ اس دن لوگوں کو بہت سے تحائف ملتے ہیں۔۔
مجھے بھی ایک تحفہ چاہیۓ۔۔ وہ بھی آپ سے___!!

اسکی بات سن کر حانم کو ایک غیر معمولی سا احساس ہوا تھا۔۔
آج وہ کسی اور لہجے میں بول رہا تھا۔

”جی مانگیں۔۔!!“
حانم نے دھڑکتے دل سے کہا تھا۔

” آج اس خوبصورت دن کے اختمام پر۔۔ جس میں آپ میرے ساتھ ہیں۔۔ مجھے آپ سے حانم چاہیۓ۔۔ آپ میرے لیۓ سب سے بڑا تحفہ ہیں،
مجھ سے شادی کرینگی مس ام حانم___؟؟“
حشام نے گویا دھماکہ کیا تھا۔۔
حانم اپنے پیلے پڑتے چہرے کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی۔۔
اسے حشام سے اس بات کی امید نہيں تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: