Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 37

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 37

–**–**–

( زندگی کے سات پہروں کی کہانی )

”آج اس خوبصورت دن کے اختمام پر۔۔ جس میں آپ میرے ساتھ ہیں۔۔ مجھے آپ سے حانم چاہیۓ۔۔ آپ میرے لیۓ سب سے بڑا تحفہ ہیں،
مجھ سے شادی کرینگی مس ام حانم___؟؟“
حشام نے گویا دھماکہ کیا تھا۔۔
حانم اپنے پیلے پڑتے چہرے کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی۔۔
اسے حشام سے اس بات کی امید نہيں تھی۔

”یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ۔۔؟؟“
حانم جیسے خواب سے جاگی تھی۔ وہ ایک جھٹکے سے کھڑی ہوٸی۔

”میں چاہتا ہوں آپکو۔۔ اور شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔“
حشام نے بھی اٹھتے ہوٸے اپنی بات دہراٸی تھی۔

”بس۔۔۔ بس کریں آپ۔۔“
حانم نے ہاتھ اٹھا کر منع کرتے ہوٸے کہا۔

”آپ نے سوچا بھی کیسے ایسا۔۔؟؟“
حانم کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا تھا۔

” آپ اچھے انسان ہیں لیکن مجھے آپ میں دلچسپی نہيں ہے اور نا کبھی تھی۔۔!!

”لیکن مجھے لگا کہ۔۔
حشام کا دل ڈوبا تھا۔

”کہ میں اگر مسکرا کر بات سن لی آپکی تو میں آپ میں دلچسپی لینے لگی ہوں۔۔؟؟ یہ لگا تھا آپکو۔۔؟؟“
حانم کا لہجہ کاٹ دار تھا حشام حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔ اتنی تلخی آرجے کے لہجے میں ہوا کرتی تھی۔

”اگر لڑکی مسکرا کر بات کرلے تو مردوں کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ وہ لاٸن پر آگٸی ہے___؟؟“
شدت جذبات سے حانم کی آواز کانپ رہی تھی۔
اب کی بار حشام کا چہرہ سرخ ہوا تھا۔۔ اسے امید نہيں تھی کہ حانم اس طرح ری ایکٹ کرے گی۔ حا

”پلیز حانم۔۔ اس طرح کے الفاظ مت استعمال کرو۔۔!!“
حشام نے التجا کی تھی۔
حانم نے آنکهيں میچ کر ایک گہری سانس لے کر خود کو نارمل کرنے کی کوشش کی تھی۔

”دیکھیں آپ۔۔۔ آپ بہت اچھے ہیں۔۔ لیکن جو آپ چاہ رہے ہیں ویسا کبھی نہيں ہو سکتا۔۔۔!!“
اب کی بار حانم نے مرم لہجے میں کہا تھا۔

”لیکن کیوں۔۔۔ کیا کمی ہے مجھ میں۔۔ یا پھر کسی کو اور کو پسند کرتی ہیں آپ۔۔؟؟“
حشام کا دل کرلا رہا تھا۔ اس نے کبھی سوچا نہيں تھا کہ اس جیسی شخصیت کا مالک جب کسی کو پرپوز کرے گا تو اسے آگے سے اس طرح کی باتيں سننے کو ملیں گی۔

”کوٸی کمی نہيں ہے آپ میں۔۔۔ اور نا میں کسی اور کو چاہتی ہوں۔۔ لیکن میں کسی انسان سے رشتہ نہيں بنا سکتی جو مجھے ایک ایسے شخص کی یاد دلاٸے جس سے میں نفرت کرتی ہوں۔۔!!
حانم نے صاف لہجے میں کہا تھا۔
حشام ایک گہری سانس بھر کر رہ گیا تھا۔

اس سے پہلے حشام کچھ کہتا سڑک کنارے ماہی کی گاڑی آکر رکی تھی اسے حانم نے ہی کال کرکے پک کرنے کو کہا تھا۔۔ اور پھر حشام آگیا تھا۔

ّ”مجھے امید ہے آٸندہ یہ بات دہراٸی نہيں جاٸے گی۔۔!!“
وہ کہہ کر گاڑی کی طرف بڑھ گٸی تھی۔
ماہی نے حانم کو حشام کے ساتھ دیکھ لیا تھا۔۔
وہ پھٹی پھٹی آنکهوں سے دونوں کو دیکھ رہی تھی۔ اس نے کبھی خواب میں بھی نہيں سوچا تھا کہ وہ دونوں ایک ساتھ ہونگے_____

حشام خاموشی سے اسے جاتے دیکھ رہا تھا۔۔
گاڑی کا شیشہ نیچے کیۓ ماہی حیرت اور خوف کے تاثرات سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔

”کیا حانم ماہین کی کزن ہے۔۔؟؟“
وہ حیرت سے سوچ رہا تھا۔ اسے کچھ دیر پہلے حانم نے بتایا تھا کہ اسے اسکی کزن لینے آرہی تھی۔
حانم گاڑی میں بیٹھ چکی تھی اور پھر ماہی گاڑی بڑھا کر لے گٸی تھی۔

وہ تھک ہار کر وہیں بیٹھ گیا تھا۔۔ کتنا خوش تھا آج وہ اور کیا ہوا تھا اسکے ساتھ۔۔
وہ مضبوط اعصاب کا مالک تھا۔۔۔ لیکن اس نے اپنے اندر دل کو روتے محسوس کیا تھا۔۔
شاید وہ جان نہيں پایا تھا کہ اسکا رویہ ماہی کو کتنی تکلیف دیتا تھا____
سب ختم ہوگیا تھا۔۔ وہ اچھے سے جانتا تھا حانم کی ناں کبھی ہاں میں نہيں بدلنے والی___

آپ دُکھا تو رہے ہیں دل مگر!
خیال کیجیے گا ” خُدا ” کو پتا نہ چلے__
____________________

”تم حشام کو کب سے جانتی ہو حانم۔۔؟؟“
ماہی کی آواز پر حانم نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔

”کافی سالوں پہلے پاکستان میں ملاقات ہوٸی تھی لیکن جان پہچان ابھی کچھ دن پہلے یونيورسٹی میں ہوٸی ہے۔۔!!“
حانم نے صاف صاف بتادیا تھا۔

”ھممم۔۔۔“
ماہی کا دل دھڑک رہا تھا۔

”آج انکا برتھ ڈے تھا۔۔؟؟“
ماہی کا سوال تھا۔

”ہاں۔۔“
حانم بس اتنا ہی کہہ پاٸی تھی۔ وہ حشام والے موضوع پر بات نہيں کرنا چاہتی تھی۔ اسے سر درد اٹھتا محسوس ہو رہا تھا۔

ماہی کا دل کٹ کر رہ گیا تھا۔ یہ وہ بھی جانتی تھی کہ آج حشام کا برتھ ڈے تھا اور وہ اسے صبح سب سے پہلے وش کرچکی تھی۔۔ لیکن حشام نے اسکے میسج کا جواب دینا بھی ضروری نہيں سمجھا تھا۔
اور خود حانم کے ساتھ کیک کاٹ رہا تھا۔
ماہی نے آنکهوں میں آٸی نمی کو مشکل سے اندر کی طرف کھینچا تھا۔

”لیکن تم اسے کیسے جانتی ہو۔۔؟؟“
اچانک حانم کو احساس ہوا تو اس نے پوچھا تھا۔

”بابا کے بزنس پارٹنر کا بیٹا ہے۔۔ کچھ دن پہلے میں اسی کے ساتھ میٹنگ کیلیۓ گٸی تھی۔۔!!
ماہی کے لہجے میں نمی سی گھل گٸی تھی جسے حانم نے صاف محسوس کیا تھا لیکن وہ کچھ نا بولی۔۔
اس نے فیصلہ کرلیا تھا آج کے بعد وہ حشام جبیل کی بات نہيں سننے والی تھی۔
___________________

وہ رات حشام کیلیۓ بہت بری گزری تھی۔۔ بیشک وہ ایسی باتوں کو لے کر زیادہ جذباتی نہيں ہوتا تھا۔۔
بیشک وہ اسے کافی سالوں سے چاہتا آرہا تھا۔۔ لیکن اسکے لیۓ سب سے زیادہ اہم اسکی بی جان تھیں۔۔
جو بہت اچھی تھیں اور اس سے بہت پیار کرتی تھیں۔۔
محبت کے معاملے میں زبردستی نہيں چلتی۔۔ یہ بات حشام جان چکا تھا۔۔
وہ جیسے ماہی کو اپنا نہيں سکا ویسے ہی حانم نے اسے اپنانے سے انکار کردیا تھا___
دل تو ٹوٹا تھا اسکا۔۔ جیسے وہ ماہی کا توڑتا لیکن اس سے رویا نہيں جا رہا تھا__

”میں نے تمہارے لیۓ سارہ کو پسند کرلیا ہے حشام__ وہ بہت اچھی لڑکی ہے اور سب سے بڑھ کر میری اپنی بھانجی ہے__!!
بی جان نے گویا بم پھوڑا تھا۔

”لیکن بی جان۔۔“
وہ کچھ کہنا چاہتا تھا۔

”لیکن کیا حشام۔۔ کوٸی اور پسند ہے تمہيں تو بتاٶ۔۔ لیکن یاد رکھنا جو بھی پسند ہو مجھے قبول ہوگی بس وہ سید خاندان سے ہو۔۔ تم اپنے خاندان کی روایات کو اچھے سے جانتے ہو___!!
بی جان کی بات سن کر وہ اذیت سے آنکهيں میچ گیا تھا۔
وہ ہر طرف سے پھنسا ہوا تھا۔ سب سے پہلے تو حانم انکار کرچکی تھی۔۔
اگر وہ مان بھی جاتی تو چھوٹے بابا ساٸیں یعنی سید جبیل کبھی نا مانتے۔۔
اسے سمجھ نہيں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔

”میں کچھ پوچھ رہی ہوں حشام۔۔۔“
بی جان کی آواز ابھری تھی۔

”مجھے سوچنے کیلیۓ کچھ وقت چاہیۓ بی جان۔۔“

”کتنا وقت۔۔؟؟ اور بات سالوں پر نا جاٸے میں اب تمہارے سر ہر سہرا دیکھنا چاہتی ہوں۔۔ تمہاری عمر کے سبھی لڑکوں کی شادی ہوچکی ہے بس ایک تم ہی رہتے ہو___!!
بی جان کا انداز حکمیہ تھا۔
وہ رشتوں میں بندھا لڑکا۔۔۔
جسکے لیۓ رشتے اسکی محبت سے زیادہ معنی رکھتے تھے، وہ کبھی بغاوت نہیں کر سکتا تھا__
یہ بات بی جان اچھے سے جانتی تھیں۔

____________________

حانم کو امید تھی کہ حشام اسے کبھی تنگ نہيں کرے گا اور وہ اسکی امید پر پورا اترا تھا۔
دو مہینے گزر چکے تھے اسکا حشام سے دوبارہ سامنا نہيں ہوا تھا۔
اسکے آخری سمیسٹر کے پیپر بھی ختم ہوگٸے تھے۔
وہ اس دن کچھ کتابيں اشو کروانے کیلیۓ سٹی لاٸبریری آٸی تھی۔
کافی دیر ڈھونڈنے کے بعد بھی اسے اپنی مطلوبہ کتاب نہيں ملی تھی۔
حانم جھنجھلاتے ہوٸے کاٶنٹر پر موجود لاٸبریرین کے پاس گٸی تھی۔ لیکن جیسے ہی وہ کاٶنٹر پر پہنچی اسے وہاں اپنی مطلوبہ کتاب رکھی نظر آگٸی تھی۔

”مجھے یہ کتاب چاہیۓ۔۔!!“
اس نے وہاں بیٹھے لڑکے سے کہا۔

”یہ کتاب تو آپ سے پہلے کوٸی اور اشو کروا چکا ہے۔۔“
لڑکے نے بتایا تھا۔

”کس نے اشو کرواٸی ہے۔۔۔؟؟“
حانم پوچھ رہی تھی۔

”حشام بن جبیل۔۔۔ وہ فون سننے باہر گٸے ہیں۔۔!!
لڑکے نے کہتے ہوٸے گلاس ڈور سے باہر اشارہ کیا تھا۔

”اوکے میں ان سے بات کر لیتی ہوں۔۔“
حانم باہر نکل آٸی تھی۔
اسے حشام فون کان سے لگاٸے بات کرتے ہوٸے نظر آگیا تھا۔

”مسٹر حشام جبیل جو کتاب آپ اشو کرواچکے ہیں وہ ام حانم کو یعنی مجھے چاہیۓ۔۔ آپکو کوٸی مسٸلہ تو نہيں۔۔۔؟؟“
وہ اسکے پیچھے کھڑی اونچی آواز میں بول رہی تھی۔
حشام کرنٹ کھا کر پلٹا تھا۔ اس نے حیرت سے حانم کو اور پھر گھبرا کر فون کو دیکھا تھا۔

”میں وہ کتاب لے لوں۔۔؟؟“
حانم نے دوبارہ پوچھا تھا۔

حشام نے فوراً فون بند کیا تھا۔ اسکی اس حرکت کو حانم نے محسوس کیا تھا۔
وہ آج اسے دوماہ بعد دیکھ رہا تھا۔
لہجہ وہی حکمیہ تھا۔۔۔۔

”آپ کچھ بھی مانگ لیں۔۔ حشام جبیل انکار نہيں کر سکتا___!!
وہ چمکتی آنکهوں سے کہہ رہا تھا۔

”اور کچھ نہيں چاہیۓ صرف کتاب۔۔ آپ آ کر لاٸبریرین سے بات کرلیں__!!“
وہ گویا حکم دیتی اندر کی طرف بڑھ گٸی تھی۔
حشام مسکرا کر رہ گیا تھا وہ لڑکی حکم دینے کیلیۓ بنی تھی____

______________________

وقت کیسے گزرتا ہے کچھ پتا ہی نہيں چلتا۔۔ ایسا لگتا تھا جیسے ابھی کل کی ہی بات تھی جب یونيورسٹی میں انکی کلاس کا پہلا دن تھا۔۔ اور اب وہ لوگ اپنے کورس کے دو سال بھی پورے کر چکے تھے۔۔
انسان جن لوگوں کے ساتھ رہتا ہے وقت گزرنے پر ان سے انسیت ہوہی جاتی ہے۔ کچھ ایسا ہی حانم کے ساتھ ہوا تھا۔

میڈی پوری کلاس کو لے کر کافی شاپ پر آیا تھا۔ یہ وہ کافی شاپ تھی جہاں وہ جاب کرتا تھا۔
اسے پہلی تنخواہ ملی تھی اور اسی خوشی میں وہ اپنی کلاس کو اسی شاپ میں کافی پلانے لایا تھا۔
اس شاپ میں اسکی البرڈ سے بہت اچھی دوستی ہوگٸی تھی۔
حانم اس کافی شاپ کو پہلے جانتی تھی۔ وہ پچھلے چھ ماہ سے اس شاپ پر آرہی تھی۔
اسے یہاں کی چاٸے جو البرڈ خاص طور پر اسکے لیۓ بناتا تھا بہت پسند تھی۔
کلاس نے پوری شاپ میں شوروغل مچا رکھا تھا۔
کلاس کے لڑکے لڑکیاں کھلے دل سے کافی کی تعریف کر رہے تھے جو میڈی نے اپنے ہاتھ سے سب کیلیۓ بناٸی تھی۔
وہ سٹوڈنٹس کے درمیان گھرا سینے پر ہاتھ رکھ کر سر جھکا جھکا کر شکریہ ادا کر رہا تھا۔

حانم کی نظریں آج بھی شاپ سے باہر تھیں۔
باہر سڑک پر چلتی گاڑیاں اسے اچھی لگ رہی تھی۔
اس نے سیاہ رنگ کی جینز پر گھٹنوں تک آتی لمبی قمیض پہنی ہوٸی تھی جس پر ٹخنوں سے تھوڑا اوپر تک آتا اونی کوٹ پہن رکھا تھا۔
سر پر اونی ٹوپی تھی جس نے اسکے بالوں کو چھپا رکھا تھا۔
اسکے سامنے رکھے کپ سے دھواں اٹھ رہا تھا۔
اچانک ہی اسے عجیب سی بےچینی شروع ہوگٸی تھی۔
اسے خود پر کسی کی نظروں کی تپش محسوس ہوٸی تھی۔
حانم نے چونک کر شاپ میں موجود لوگوں پر نظر دوڑاٸی تھی۔ اچانک اسکی نظر ایک کونے میں رکھی میز پر بیٹھے شخص پر پڑی تھی۔ اسکا چہرہ ہڈی سے چھپا ہوا تھا۔
حانم کے دیکھنے پر وہ چہرہ کا رخ موڑ چکا تھا۔
جس طرح وہ بیٹھا تھا حانم کو سالوں پہلے کلاس کے آخری بینچ پر بیٹھا شخص یاد آیا تھا۔۔
”آرجے۔۔۔
اففف میں بھی کیا سوچ رہی ہوں۔۔“
حانم نے اپنی ہی سوچ پر خود کو ڈپٹا تھا۔

کتنی ہی دیر کافی اور ماحول سے لطف اندوز ہونے کے بعد اسکی پوری کلاس کے سٹوڈنٹس جا چکے تھے۔
کچھ سوچ کر حانم بھی شاپ سے باہر نکل آٸی تھی۔

”اینجل۔۔۔“
میڈی اسکے پیچھے لپکا تھا۔ ان دو اڑھاٸی سالوں میں اسکی میڈی سے کافی بےتکلفی ہوگٸی تھی۔ میڈی تو اسے اپنی سب سے اچھی دوست مانتا تھا۔

”تم اکیلی جاٶ گی گھر میں تمہيں چھوڑ دیتا ہوں۔۔“
حانم کے رکنے پر میڈی نے کہا تھا۔

”میں کوٸی بچی نہيں ہوں میڈی پچھلے اڑھاٸی سال سے میں پیرس میں آوارہ گردی کر رہی ہوں۔۔
اور تم مجھے گھر چھوڑنے کی بات کر رہے ہو!!
وہ ہنس دی تھی۔
یہ بات واقعی سچ تھی۔ جیسے اس نے پہلے دوسال گھر میں بند رہ کر گزارے ویسے ہی اب اس نے یہ اڑھاٸی سال پیرس کی سڑکوں پر گھومتے گزارا تھا۔

”لیکن پھر بھی۔۔۔“

”تم اپنی شاپ سنبهالو۔۔ میں چلی جاٶں گی__!!
وہ مسکرا کر کہتی آگے بڑھ گٸی تھی۔
وہ دونوں سڑک کے درمیان کھڑے تھے۔
ٹریفک زیادہ نہيں تھی اور اس سڑک پر بہت زیادہ گاڑیاں نہيں ہوتی تھیں۔
جیسے ہی میڈی اڑا سامنے سے آتی ڈبل ڈیکر بس کو دیکھ کر اسکے ہوش اڑ گٸے تھے۔۔ بس کافی اسپیڈ سے آرہی تھی۔
وہ اچھل کر ساٸیڈ پر ہوا تھا۔۔ لیکن یہ کیا۔۔ بس کا رخ بھی اسکی طرف ہوگیا تھا۔۔
میڈی نے چلاتے ہوٸے جس طرف کو بھی ہوتا تھا بس کا رخ بھی اسی جانب ہوجاتا تھا۔۔
لوگ تماشہ دیکھ رہے تھے۔۔
بس اور اسکے درميان تھوڑا سا فاصلہ رہ گیا تھا۔۔ اس سے پہلے کہ بس اسے اڑاتی کسی نے اسے بازو سے پکڑ کر کھینچا اور بس جس جگہ پر وہ ایک پل پہلے کھڑا تھا وہاں سے گزر کر تھوڑا آگے جا کر رکی تھی۔

میڈی نے ڈرتے ڈرتے آنکهيں کھولی تھیں۔۔
اور پھر اپنے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر ڈر کر پیچھے ہوا۔
وہ ایک لڑکا جس نے ہڈی پہنی ہوٸی اور اسکے گال پر جلے ہوٸے کا نشان تھا۔
لڑکے نے دونوں ہاتھ اٹھا کر اسے ریلیکس رہنے کا اشارہ کیا تھا۔

”سوری برو۔۔ گاڑی میں کچھ مسٸلہ ہوگیا تھا بریک نہيں لگ رہی تھی۔۔ تمہيں اس شخص کا شکریہ ادا کرنا چاہیۓ جسے مجھے جیل جانے اور تمہيں heaven میں جانے سے بچا لیا۔۔!!
بس سے ایک آدمی نے اتر کر کہا تھا۔

”بہت بہت شکریہ۔۔!!
میڈی نے اس جلے ہوٸے چہرے والے لڑکے کا ہاتھ تھام کر کہا تھا۔
میڈی ایک جذباتی لڑکا تھا اور اسکے ساتھ ساتھ وہ بہت پیار کرنے والا ایک اچھا انسان تھا۔ ویسے تو وہ بہت چالاک اور شرارتی مشہور تھا۔۔
لیکن وہ نہيں جانتا تھا کہ وہ اتنا بڑا ہی بےوقوف بھی تھا۔

”تمہارا نام کیا ہے۔۔؟؟“
میڈی نے پوچھا تھا۔

”میرا نام مون ہے اور میں بول نہيں سکتا۔۔“
لڑکے فٹافٹ اپنا موبائل نکال کر اس پر ٹاٸپ کرکے بتایا تھا۔ اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ میڈی کو اشاروں کی زبان سمجھ نہيں آنے والی تھی۔

”اووہ۔۔ آٶ اندر آٶ۔۔!!
میڈی اسے لے کر شاپ کے اندر آگیا تھا۔ وہ اسکا احسان مند تھا۔

”کہاں رہتے ہو تم۔۔ اس شہر میں نٸے ہو کیا؟؟“
میڈی کی بات پر مون نے اثبات میں سر ہلادیا تھا۔

”ضرور روزگار کیلیۓ آٸے ہوگے۔۔“
مون نے پھر اثبات میں سر ہلایا تھا۔

”خیر کوٸی نہيں آج سے تم میرے ساتھ رہو گے۔۔“
میڈی کی بات سن کر مون کی آنکهيں چمکی تھیں اور پھر اس نے میڈی کا شکریہ ادا کیا تھا۔
جبکہ میڈی اسکے جلے ہوٸے چہرے اور قوت گویاٸی سے محروم دیکھ کر افسوس کر کے رہ گیا تھا۔
____________________

اگلے دن حانم شاپ پر آٸی تو میڈی نے اسے سارا واقعہ سنایا تھا۔ وہ ہنس ہنس کر پاگل ہوگٸی تھی۔

”اینجل تم ہنس رہی ہو؟ میں مرجاتا تو۔۔“
میڈی نے خفگی سے کہا تھا۔

”مجھے تو سوچ سوچ کر ہنسی آرہی ہے کیا سین ہوگا اس وقت۔۔؟؟“
وہ پھر ہنس دی تھی۔ اس سے پہلے میڈی کچھ کہتا مون شاپ میں داخل ہوا۔

”مون۔۔۔“
میڈی نے اسے آواز لگاٸی تھی۔ وہ آواز سن کر انکی طرف بڑھا تھا۔

”اس سے ملو یہ اینجل ہے۔۔ اور یہ واقعی اینجل ہے۔۔!!“
میڈی نے تعارف کروایا تھا۔
مون چمکتی آنکهوں سے حانم کو دیکھ رہا تھا اسے مون کی آنکهوں میں عجیب سا تاثر نظر آیا تھا۔

”ہیلو۔۔۔“
حانم بس اتنا ہی کہہ پاٸی تھی۔
جبکہ مون نے سر ہلادیا تھا۔

”اوکے مجھے کچھ کام ہے میں چلتی ہوں۔۔“
حانم اٹھ کھڑی ہوٸی تھی۔
وہ دونوں اسے جاتے دیکھ رہے تھے۔

”تمہارا نام مون کیوں ہے؟؟“
حانم کے جانے کے بعد میڈی نے پوچھا تھا۔

”کیونکہ میرے چہرے پر داغ ہے۔۔ اور داغ تو مون پر ہی ہوتا ہے__!!
مون نے ٹاٸپ کرکے اسے بتایا تھا جبکہ میڈی نا سمجھی سے گردن ہلا کر رہ گیا تھا۔

_____________________

اور پھر ایک نیا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ جب حانم شاپ میں آتی تبھی مون آجاتا تھا اور اسکے جانے کے بعد چلا جاتا تھا۔
وہ جہاں بھی جاتی تھی وہ اسکا پیچھا کرتا تھا۔
وہ سارا دن غاٸب رہ کر رات کو میڈی کے گھر پہنچتا تھا۔
حانم کا پیچھا کرنے والی بات سب سے پہلے البرڈ نے نوٹ کی تھی۔

”مجھے لگتا ہے وہ اینجل میں دلچسپی لے رہا ہے۔۔ اس سے پہلے وہ کوٸی قدم اٹھاٸے تمہيں کچھ کرنا چاہیۓ۔۔!!
البرڈ کی بات نے میڈی کو سوچ میں ڈال دیا تھا۔
وہ خود ڈزنی لینڈ پر حانم کے پیچھے مون کو دیکھ چکا تھا۔
اسے احساس ہو رہا تھا جیسے اس نے مون کو اپنے پاس رکھ کر بہت بڑی غلطی کردی تھی۔

اس سے پہلے مون کچھ کرتا میڈی نے حانم کو پرپوز کردیا تھا۔۔ اسکی بات سن کر حانم کتنی دیر ہنستی رہی تھی۔

”شاید تم عمر میں بھی مجھ سے چھوٹے ہو میڈی۔۔ تم نے ایسا کیوں سوچا۔۔؟؟“
وہ پاگلوں کی طرح ہنس رہی تھی۔

”جی نہيں میں چھوٹا نہيں ہوں۔۔۔“

”تم ہو میڈی کیونکہ میں نے اپنے دوسال ضائع کیۓ ہیں۔۔“

”کچھ بھی ہو۔۔ مجھے تم اچھی لگتی ہو اینجل۔۔“
وہ منہ پھلاٸے کہہ رہا تھا۔

”اور جو لوگ اچھے لگتے ہیں انکی خوشی کا خیال رکھنا چاہیۓ۔۔اور میری خوشی یہ ہے کہ آٸندہ تم ایسی بات نا کرو۔۔ سمجھ آٸی نا۔۔؟؟“
وہ بات کے آخر میں سنجيدہ ہوگٸی تھی۔ میڈی دل مسوس کر رہ گیا تھا۔

اس رات وہ بہت دکھی تھا۔۔ اور پھر گھر جاتے ہوٸے اسے کسی نے بری طرح سے پیٹا تھا۔۔ کوٸی کہہ رہا تھا کہ اسکی اینجل کو پرپوز کیوں کیا۔۔؟؟
میڈی تو بری طرح سے ڈرگیا تھا۔۔ جب وہ گھر پہنچا تو مون صوفے ہر لیٹا ٹی وی دیکھ رہا تھا۔۔
اسے ایک پل کیلیۓ مون پر شک ہوا تھا لیکن وہ تو بول ہی نہيں سکتا تھا۔۔
میڈی کا خون کھول کر رہ گیا تھا لیکن وہ کچھ نہيں کر سکتا تھا۔

___________________

حانم نے بھی اپنے ارد گرد مون کی موجودگی کو محسوس کیا تھا۔۔ ناجانے کیوں اسے مون کے چہرے سے خوف آتا تھا۔۔
وہ اسے اچھا نہيں لگتا تھا۔۔ اور سرد آنکهوں سے دیکھنا۔۔ حانم کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ سی ہوتی محسوس ہوتی تھی۔

وہ کچھ کہہ بھی نہيں سکتی تھی۔
اس روز تو حانم ضبط ہی جواب دے گیا تھا۔

بھانپ اڑاتے کافی کے کپ کو اس نے اٹھا کر جیسے ہی لبوں سے لگایا اسکی نظر ایک کونے میں بیٹھے شخص پر پڑی تھی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا نظریں ملنے پر وہ گڑبڑا کر چہرے کا رخ موڑ گیا تھا۔
حانم کی تیوری چڑھی تھی۔ اس نے کپ کو میز پر پٹخا اور اپنی جگہ سے اٹھنے کے بعد قدم اس شخص کی طرف بڑھا دیے تھے جسکا آدھا چہرہ چھپا ہوا تھا۔
یہ شخص ناجانے کیوں اسکا پیچھا کرتا تھا۔
حانم کو اس سے حددرجے کی کوفت ہوتی تھی۔آج تو اس نے صاف صاف بات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
حانم کو اپنی طرف آتا دیکھ کر وہ سنبهل کر بیٹھا تھا اور اس طرح ظاہر کرنے لگا جیسے وہ اسے جانتا ہی نا ہو۔

”ایکسکیوز می۔۔“
پاس جانے پر حانم نے سخت سے لہجے میں اسے پکارہ۔
وہ چاۓ پینے میں ایسے مگن تھا جیسے سنا ہی نا ہو۔

”مسٹر مون آپ گونگے ہونے کے ساتھ ساتھ بہرے بھی ہیں کیا؟؟“
اسکی اس بات پر مون نے چونک کر اپنے سامنے کھڑی اینجل کو دیکھا تھا جو اس وقت اینجل کم اور ڈاٸن زیادہ لگ رہی تھی۔
مون نے اسکے بہرہ کہنے پر برا سا منہ بنایا تھا۔

”یس۔۔“
آنکهوں سے اشارہ کیا گیا تھا کہ بولیے۔

”آپ میرا پیچھا کیوں کرتے ہیں۔۔۔؟؟ میں جہاں جاٶں آپ وہاں کیوں موجود ہوتے ہیں؟؟“
وہ غصے سے پوچھ رہی تھی۔

”نو۔۔۔“
مون نے نفی میں سرہلایا۔جیسے کہہ رہا ہو کہ میں نے ایسا کچھ نہيں کیا۔

”اووہ تو آپ جھوٹ بھی بولتے ہیں۔۔؟؟“
اینجل نے دونوں ہاتھوں کو ذرا سا اوپر اٹھا کر خالص برٹش لہجے میں کہا تھا۔

”نو۔۔“
مون نے پھر سر نفی میں ہلایا تھا اور ہونٹوں پر آٸی مسکراہٹ کو مشکل سے ضبط کیا تھا۔

”لسن مسٹر مون۔۔ اگر آپ آٸندہ مجھے اپنے آس پاس نظر آئے نا تو یہ گرم گرم چائے کا کپ منہ پر گرا کر جو آدھا چہرہ بچا ہوا ہے نا وہ بھی جلا دونگی۔۔یا پھر۔۔
وہ جو سامنے گلدان نظر آرہا نا وہ اٹھا کر سر میں مارونگی۔۔ سمجھ آٸی۔۔!!“
اسکی دھمکی سن کر مون کی آنکهيں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گٸی تھیں۔

وہ اتنی خطرناک کب سے ہوگٸی تھی۔۔ مون کو حیرت ہوٸی۔

”سمجھ آگٸی نا۔۔؟؟“
اس کے خاموش رہنے پر اینجل نے دوبارہ پوچھا۔

”نو۔۔۔“
وہ ایک بار پھر سر نفی میں ہلا چکا تھا جبکہ اینجل غصے سے مٹھیاں بھینچتی وہاں سے چلی گٸ تھی۔
اسکے لمبے اوورکوٹ کے پیچھے انگلش میں بروکن اینجل لکھا تھا۔

I am so lonely broken angel..
One and only broken angel..
جینی کے ساتھ گاٸے گٸے گانے کے الفاظ اسکے ذہن میں گونج گٸے تھے۔ اور پھر اسکی دھمکی کو یاد کر کے وہ کھل کر مسکرادیا تھا۔
_________________

وہ آخری دن شاید حانم کی دھمکی کام کر گٸی تھی۔۔ اس دن کے بعد اسے مون کہیں بھی نظر نہیں آیا تھا۔
وہ لاٶنج میں صوفے ایلا کی طرح پر ٹانگ پر ٹانگ جماٸے بیٹھی نوڈلز کھانے میں مگن تھی جب ماہی کی آواز نے اسے چونکنے پر مجبور کیا تھا۔

”یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں بابا میں انسان ہوں کوٸی چیز نہيں جسے آپ اپنے بزنس کی نظر کردینگے۔۔“
وہ لاٶنج میں ٹہلتے ہوٸے غصے سے کہہ رہی تھی۔

”میں یہ شادی ہرگز نہيں کر سکتی۔۔ میں اپنی پسند سے شادی کرنا چاہتی ہوں یہ آپ اچھے سے جانتے ہیں۔۔!!

”یہ ماہی کس لہجے میں بات کر رہی ہے۔۔ اس نے تو ایسے وہ بھی انکل سے کبھی بات نہيں کی۔۔“
حانم کو حیرت ہو رہی تھی۔

”آپکا بزنس ڈوبتا ہے تو ڈوبے۔۔ میں کسی ایسے انسان سے شادی نہيں کر سکتی جسے میں جانتی تک نہيں۔۔۔!!
وہ اونچی اونچی آواز میں بول رہی تھی۔
لوسی ماں، حلیمہ بی اور حانم تینوں حیرت سے اسے تک رہی تھیں۔

”آپ ٹھیک سمجھ رہے ہیں بابا میں بہت بدل گٸی ہوں۔۔

تو میں کیا کروں اگر آپکی طبیعت خراب ہے۔۔ میں قربانی نہيں دے سکتی۔۔!!
ماہی کی یکطرفہ بات سن کر حانم کو تو گویا اچھو ہی لگ گیا تھا۔۔
اسے یقین نہيں ہو رہا تھا کہ وہ ماہی ہی تھی جو اس طرح سے بول رہی تھی۔

”اگر آپکو یاد ہو تو آپکی دو بیٹیاں اور بھی ہیں آپکو قربانی کیلیۓ میں ہی کیوں نظر آٸی ہوں۔۔؟؟
آپ اپنی دوسری بیٹیوں سے قربانی مانگ لیں مجھے امید ہیں وہ انکار نہيں کرینگی__!!
ماہی ایک ایک لفظ چبا کر کہتی حانم پر ایک سرد سی نظر ڈال کر اندر جاچکی تھی۔۔ جبکہ حانم کو تو جیسے سکتہ ہوگیا تھا۔۔

”یہ کیا ہوگیا ہے ماہی کو۔۔؟؟“
وہ سوچ رہی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ کسی نتیجے پر پہنچتی اسکے سامنے میز پر رکھا فون بجا تھا۔
حانم ایک دم چونکی تھی۔
آسیہ بیگم کی کال تھی۔ حانم نے فون اٹھانے کے بعد سلام کیا تھا۔

”میں تم سے کچھ مانگنے جارہی ہوں ہانی۔۔ مجھے امید ہے تم انکار نہيں کروگی۔۔“
آسیہ بیگم کی آواز میں پریشانی جھلک رہی تھی۔
حانم کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا اسے کسی انہونی کا احساس ہو رہا تھا۔

”بیٹا حمدان کے احسانات کا بدلہ چکانے کا وقت آگیا ہے۔۔ تمہيں قربانی دینی ہوگی کیا تم اسکے لیۓ تیار ہو___؟؟“
آسیہ بیگم پوچھ رہی تھیں۔

”امی صاف صاف بات کریں۔۔ میرا دل گبھرا رہا ہے۔۔ کس قربانی کی بات کر رہی ہیں آپ۔۔؟؟“
حانم کو اپنے اندر ہول اٹھتے محسوس ہو رہے تھے۔۔ جانے آسیہ بیگم اس سے کیا مانگنے والی تھیں___؟

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: