Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 38

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 38

–**–**–

( زندگی کے ساتھ پہروں کی کہانی )

”بیٹا حمدان کے احسانات کا بدلہ چکانے کا وقت آگیا ہے۔۔ تمہيں قربانی دینی ہوگی کیا تم اسکے لئے تیار ہو___؟؟“
آسیہ بیگم پوچھ رہی تھیں۔

”امی صاف صاف بات کریں۔۔ میرا دل گھبرا رہا ہے۔۔ کس قربانی کی بات کر رہی ہیں آپ۔۔؟؟“
حانم کو اپنے اندر ہول اٹھتے محسوس ہو رہے تھے۔۔ جانے آسیہ بیگم اس سے کیا مانگنے والی تھیں___؟

”حمدان کے بزنس میں کوٸی مسٸلہ ہوگیا ہے پوری بات تو میں بھی نہيں جانتی لیکن اگر ہم ان لوگوں سے رشتہ بنا لیں تو تعلقات مزید استوار ہونگے اور حمدان کی سالوں کی محنت ڈوبنے سے بچ جاٸے گی۔۔!!“
آسیہ بیگم نے اپنے علم کے مطابق حانم کو سب بتا دیا تھا۔

”لیکن امی کون لوگ ہیں یہ۔۔؟؟“
وہ حیرانی سے پوچھ رہی تھی۔

”یہ تو میں بھی نہيں جانتی۔۔ لیکن لڑکا اچھا ہے، ماہی نے تو انکار کردیا ہے وہ کسی صورت بھی یہ شادی نہیں کرے گی۔۔ اب ہماری امید تم ہو__!!“

آسیہ بیگم کی باتوں نے حانم کے سر میں درد کر دیا تھا۔

”شام تک اچھے سے سوچ لو پھر بتانا۔۔ لیکن مجھے امید ہے کہ تمہارا جواب ہاں میں ہوگا__!! “
وہ اپنی سنا کر فون بند کرچکی تھیں جبکہ وہ حیران سی بیٹھی رہ گٸی تھی۔

قربانی بہت بڑی مانگی تھی اسکی ماں نے۔۔ نا قربانی دینے کی ہمت تھی اور ناانکار کرنے کا حوصلہ۔۔
وہ اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گٸی تھی۔
شام ہونے ہی والی تھی۔۔
حانم کو سمجھ نہيں آرہا تھا کہ کیا جواب دے۔۔ وہ ماہی سے اس وقت تفصیل بھی نہيں پوچھ سکتی تھی کیونکہ وہ پہلے ہی بہت غصے میں تھی___

اس نے ایک پل کو سوچا تھا کہ ماہم کا نکاح کروادے گھر والوں سے کہہ کر۔۔
لیکن دوسرے ہی پل اس نے اپنے دماغ سے یہ سوچ نکال دی تھی۔
جو کام وہ خود نہيں کر سکتی تھی۔۔ کیسے مطلب پرستوں کی طرح اس چیز کی قربانی ماہم سے مانگ سکتی تھی۔۔؟؟

_____________________

رات کو ماہی اسکے کمرے میں آٸی تھی۔

”تم نے شادی کیلیۓ ہاں کردی۔۔؟؟“
وہ حیرانی اور خوشی کے ملے جلے تاثرات سے حانم کو دیکھ رہی تھی۔

”شادی نہيں صرف نکاح کیلیۓ۔۔“
حانم نے جواب دیا تھا۔

”ہاں وہی میری جان۔۔ مجھےیقین نہيں ہوتا کہ تم اتنی جلدی کیسے مان گٸی ہو__؟؟“
ماہین نے آگے بڑھ کر اسکے گال پر پیار کیا تھا، حانم سے حیرت سے دنگ اسے دیکھ رہی تھی۔ یہ صبح والی ماہی تو کہیں سے بھی نہيں لگ رہی تھی،
یہ تو بہت خوش نظر آرہی تھی۔۔ انتہائی خوش۔۔

حانم نے کچھ دیر پہلے ہی فون کر کے آسیہ بیگم کو اس نکاح کیلیۓ ہاں کردی تھی اور اب ماہی اسکے کمرے میں موجود تھی۔

”تم دیکھنا تمہیں وہ لڑکا ان شاء اللہ بہت پسند آٸے گا۔۔ بہت خوش رکھے گا تمہيں___!!
ماہی اسکا ہاتھ تھامتے ہوٸے بولی تھی۔
جبکہ حانم ابھی تک صدمے کی حالت میں تھی۔

”اب تم آرام کرو۔۔ پرسوں یعنی جمعتہ المبارک کے دن عصر کے بعد تمہارا نکاح ہے۔۔ مجھے ایلا کے ساتھ مل کر بہت سی تیاریاں کرنی ہیں__!!
وہ اسے تلقين کرتی جا چکی تھی جبکہ حانم ناسمجھی سے سوچ رہی تھی کہ آخر یہ ہو کیا رہا تھا__؟؟

__________________

اگلے دن حمدن صاحب، آسیہ بیگم، ماہم اور جواد وہ سب لوگ پیرس آگٸے تھے۔
حانم تو انہيں دیکھ کر سکتے میں چلی گٸی تھی۔ اسے اتنا بڑا سرپراٸز دیا گیا تھا کہ وہ حیرت سے گنگ انہيں دیکھ رہی تھی۔
جب ہوش آیا تو سب سے لپٹ لپٹ کر روٸی تھی۔
جواد اب لڑکپن کی عمر سے نکل کر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چکا تھا۔
وہ خواب کی حالت میں سب کو دیکھ رہی تھی۔ اسے یقین نہيں آرہا تھا وہ اتنے سالوں بعد اپنے گھر والوں سے مل رہی تھی۔
ان لوگوں کے آتے ہی گھر میں رونق بڑھ گٸی تھی۔
ماہم، ماہی اور ایلا کے ساتھ مل کر بازار حانم کے نکاح کا جوڑا لینے گٸی تھی۔
حانم نے خود جانے سے انکار کردیا تھا۔ وہ آسیہ بیگم کے ساتھ اپنا وقت بیتانا چاہتی تھی۔

سب بہت خوش نظر آرہے تھے۔۔ حانم کو کہیں سے بھی یہ نکاح قربانی کیلیۓ ناخوشی کے انداز میں کیا گیا نہيں لگ رہا تھا۔
یہ نکاح اسکے لئے مبارک ثابت ہوا تھا کیونکہ اس نکاح میں وہ اپنوں سے مل پاٸی تھی۔

____________________

وہ سرخ و سفید رنگ کے جوڑی دار پجامے اور قمیض میں نک سک سی تیار ہوٸی بہت پیاری لگ رہی تھی۔
گھر کو بھی روشنیوں سے سجایا گیا تھا۔
ہر کوٸی تیار تھا صرف دولہے صاحب کا انتظار کیا جارہا تھا۔
حانم کو یقين نہيں ہورہا تھا کہ واقعی یہ اسی کے نکاح کی تقریب تھی۔۔؟؟
سب بہت خوش لگ رہے تھے۔

”بہت پیاری لگ رہی ہو ہانو آپی___!!“
جواد اسکے پاس آکر بیٹھا تو حانم کو مضبوط پناہوں کا احساس ہوا تھا۔
وہ واقعی بہت بڑا ہوگیا تھا ماشاءاللہ۔
حانم نے دل ہی دل میں سب کی نظر اتاری تھی۔

کچھ دیر بعد لڑکے والے آگٸے تھے۔ انہيں ڈراٸنگ رو میں بٹھایا گیا تھا۔
حانم سے کسی نے اپنے کمرے سے باہر آنے کو نہيں کہا تھا اور نا وہ خود گٸی تھی۔
اسکا دل تیز تیز دھڑک رہا تھا۔ جذبات و احساسات بالکل نٸے تھے۔
کچھ دیر بعد قاضی نکاح کیلیۓ آیا تھا۔
وہ حانم سے اسکو روحان حیدر کے نکاح میں دیٸے جانے کا پوچھ رہا تھا
جبکہ حانم کو روحان کے نام پر کرنٹ لگا تھا۔ اسے اپنی آنکهوں کے سامنے اندھیرا چھاتا محسوس ہو رہا تھا۔

وہ اس شخص کے کسی ہم نام سے بھی نہيں ملتی کہاں اسکے ہم نام سے شادی۔۔؟؟

”ہانی بیٹا بولو۔۔“
آسیہ بیگم نے اسے خاموش دیکھ کر کہا تھا۔

”جی۔۔“
وہ اثبات میں سر ہلاگٸی تھی۔
پانچ منٹ بعد قاضی جاچکا تھا۔۔۔ جبکہ حانم اپنے دل کو سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی۔

___________________

نکاح ہوچکا تھا۔۔ ماہی نے اسے باہر آنے کا کہا تھا تاکہ اسے روحان حیدر کے ساتھ بٹھایا جاسکے۔۔

”نہيں میری طبیعت ٹھیک نہيں ہے__!!“
حانم نے صاف انکار کردیا تھا۔ ماہی اسے غور سے دیکھ رہی تھی۔
خوبصورت چہرے پر سوچ کی لکیریں واضح تھیں۔

”ٹھیک ہے تم آرام کرو___!!“
وہ کہہ کر کمرے سے باہر نکل گٸی تھی۔
حانم کو کسی انسان کی بھی سمجھ نہيں آرہی تھی۔ وہ الجھی پڑی تھی، اسے پہلے ماہی کا فون پر اس طرح حمدان انکل سے بات کرنا اور پھر حانم کی ہاں کرنے پر اتنا خوش ہونا۔۔
اسے سمجھ نہيں آرہا تھا کیا حقيقت تھی اور کیا دھوکہ تھا___؟؟

__________________

ڈراٸنگ روم میں کافی چہل پہل تھی۔ روحان حیدر خاموش لیکن پرسکون سا بیٹھا تھا۔
جواد اسکے ساتھ چپکا بیٹھا تھا جبکہ حمدان صاحب روحان کے بڑے بھاٸی کے ساتھ بیٹھے باتوں میں مصروف تھے۔
کھانا خوشگوار ماحول میں کھایا گیا تھا۔

”حانم کو بھی کھانا دے آٶ__“
حلیمہ بی کی آواز پر ماہی فٹ سے اٹھی تھی۔ اور کھانے کی ڈش لے کر اسکے کمرے کی طرف بڑھ گٸی تھی۔

”تم بہت خوش نصیب ہو ہانی کہ تمہيں روحان حیدر جیسا لڑکا ملا ہے__
سچی مجھے لگتا تھا کہ دنیا میں حشام جبیل سے زیادہ خوبصورت مرد کوٸی نہيں، لیکن روحان کو دیکھا تو مجھے اپنا بیان بدلنا پڑا__“
وہ مسکرادی تھی جبکہ حانم حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔ وہ جان گٸی تھی کہ ماہی حشام کو بہت پسند کرتی تھی۔
شاید اسی وجہ سے اس نے روحان سے شادی کرنے سے انکار کردیا تھا۔

حانم نے جو ہلکہ پھلکا زیور پہنا تھا وہ اتار دیا تھا۔ اب بس چھوڑیاں پہنی تھیں اور نکاح کا جوڑا۔۔
وہ تھکی ہوٸی نظر آرہی تھی۔
اس نے مشکل سے تھوڑا سا کھانا کھایا تھا۔
جنوری کا مہینہ تھا۔۔ آج 18 جنوری تھی،
یہ کیسا دن تھا۔۔ اور اس دن کیا ہوا تھا حانم کو یاد بھی نہيں تھا،

”میں سوجاٶں۔۔؟؟“
اس نے ماہی کو لگاتار بولتے دیکھا تو پوچھا۔

”ہاں ٹھیک ہے۔۔“
ماہی کو ایک دم بریک لگی تھی۔ کمرے میں ہیٹر کی گرماٸش حانم کو سکون پہنچا رہی تھی۔
ماہی چلی گٸی تھی اور وہ اپنے دکھتے سر کے ساتھ سونے کیلیۓ لیٹ گٸی تھی۔

_____________________

نکاح سے پہلے وہ اتنی پریشان نہيں تھی جتنی نکاح کے بعد ہوگٸی تھی۔
سب کچھ اچانک، ایک دم،اتنی جلدی بدل جاتا ہے کہ انسان سوچ بھی نہيں سکتا___
صبح وہ اٹھی تو ام حانم تھی اور اب اسے روحان حیدر کا بنایا جاچکا تھا__

حانم کو سمجھ نہيں آرہی تھی کہ اسکے ساتھ کیا ہوا تھا۔ آرجے مرچکا تھا یہ وہ جانتی تھی اور اسکا نام روحان جبیل تھا، لیکن اسکا ہم نام۔۔۔
اسے شدید کوفت ہورہی تھی،
نکاح سے پہلے اور نکاح کے بعد اسے سب نے کہا تھا کہ اگر وہ روحان سے ملنا چاہے تو مل لے۔۔
لیکن وہ ابھی ذہنی طور پر خود کو تیار نہيں کر پاٸی تھی کہ وہ اس شخص سے ملے جو اسکی زندگی کا اہم حصہ بن گیا تھا___

شاید آج بھی ماضی کا خوف اسکے دل میں کنڈلی مارے بیٹھا تھا۔۔

کتنی ہی دیر وہ جاگتی رہی تھی۔۔
وہ پوچھنا چاہتی کہ یہ روحان حیدر کون تھا۔۔؟؟ لیکن اسکی ہمت ہی نہيں ہوٸی۔۔
شاید اس سوال کے جواب میں اس سے بہت سے سوال کیۓ جاتے۔۔ اور وہ ایسا کبھی چاہتی تھی۔

نکاح سے پہلے اس نے کوٸی سوال نہيں کیا تھا تو نکاح کے بعد کیوں___؟؟

سوچتے سوچتے وہ نیند کی وادی میں اتر گٸی تھی۔ رات کو اچانک زور دار آواز پر اسکی آنکھ کھلی تھی۔
کمرے میں اندھیرا تھا۔ حانم نے کھڑکی کے پاس کسی مرد کا ہیولہ دیکھا تھا۔۔
وہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی تھی۔ ہاتھ بڑھا کر بیڈ کے ساتھ میز پر رکھا لیمپ آن کیا اور دوبارہ کھڑکی کی جانب دیکھا۔۔
لیکن کھڑکی کے پاس کوٸی بھی نہيں تھا۔ ایک بھاری سٹیل کا گلدان جو کہ کھڑکی کے ساتھ میز پر رکھا تھا وہ نیچے گرا ہوا تھا۔۔ اسی کے گرنے سے حانم کی آنکھ کھلی تھی_
کمرے میں ایک عجیب سی خوشبو پھیلی تھی۔ اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے کوٸی انسان اسکے کمرے میں کافی دیر موجود رہا تھا___
ڈر سے حانم کا حلق خشک ہوگیا تھا۔۔ اسے اپنے دل دھڑکنے کی آواز صاف سناٸی دے رہی تھی___!!!

اسے اچھی طرح یاد تھا جب وہ سوٸی تو کھڑکی بند تھی، اتنی ٹھنڈ میں وہ اسے کھولنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔۔ لیکن اب وہ کھلی ہوٸی تھی۔
یقيناً وہ کسی نے کھولی تھی۔
اور نیچے پڑا گلدان۔۔۔ وہ اپنے آپ کیسے گرگیا۔۔؟؟
حانم کو خوف محسوس ہو رہا تھا۔
وہ دھیرے دھیرے بیڈ سے نیچے اتری تھی۔
اور پھر ڈرتے ڈرتے کھڑکی بند کی تھی۔
اسے بھاری کپڑے پہن کر سونے کی عادت نہيں تھی۔ اور وہ دو دنوں سے ہونے والے واقعات میں اتنی الجھی ہوٸی تھی کہ ایسے ہی سوگٸی تھی۔

الماری سے ایک سادہ سا سوٹ نکالنے کے بعد وہ ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گٸی تھی۔
ابھی جو کچھ بھی کمرے میں ہوا حانم کو وہ اپنا وہم لگ رہا تھا__!

__________________________

وہ لوگ ایک ہفتے بعد واپس چلے گٸے تھے۔۔ حانم کیلیۓ یہ اسکی زندگی کے جیسے سب سے خوبصورت دن تھے۔۔
اس ایک ہفتے میں اسے نا تو آرجے یاد آیا تھا اور نا روحان حیدر۔۔
سب واپس چلے گٸے تھے اور اب سے رونا آرہا تھا۔۔
گھر کی رونق ایک دم ختم ہوگٸی تھی۔
حانم کو سمجھ نہيں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔۔

”ہانی تمہاری روحان سے مطلب روحان بھاٸی سے بات ہوٸی۔۔“
حانم لاٶنج میں بیٹھی غاٸب دماغی سے ٹی وی دیکھ رہی جب اسے ایلا نے چھیڑا۔۔

”نن۔۔ نہيں تو__!!
حانم گڑبڑا گٸی تھی۔

”کمال ہے۔۔نکاح ہوگیا ہے اب تو تم دونوں کو بات کرنی چاہیۓ ایک دوسرے سے تاکہ اچھے سے ایک دوسرے کو سمجھ سکو۔۔“

”روحان کہہ رہا تھا کہ جب تک حانم اس سے خود بات نہيں کرے گی وہ بھی نہيں کرے گا۔۔ کیونکہ وہ زبردستی سر پر سوار ہونے والوں میں سے نہيں__!!“
ماہی نے ایلا کی بات کا جواب دیا تھا جبکہ حانم خاموشی سے انکی باتیں سن رہی تھی۔

”ہونہہ۔۔ آیا بڑا شہنشاہ۔۔ حانم نے تو کبھی خود کو میسج نہيں کیا۔۔!!“
حانم دل ہی دل میں بڑبڑاٸی تھی۔
جبکہ وہ دونوں ابھی تک روحان کے گن گانے میں مگن تھیں۔
حانم یہ روحان نامہ سن سن کر تھک گٸی تھی اسے چڑ ہونے لگی تھی اس شخص سے۔۔
وہ ایک جھٹکے سے اٹھی اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گٸی تھی۔
جبکہ پیچھے ماہی اور ایلا کا قہقہہ ابھرا تھا۔

______________________

عشا ٕ کی نماز پڑھنے کے بعد وہ سونے کی تیاری کر رہی تھی جب ماہی نے اسکے فون پر ایک ویڈیو سینڈ کی تھی۔

وہ ویڈیو ڈاٶنلوڈ کرنے کے بعد بےمقصد ہی اسے دیکھنے لگی تھی۔
ویڈیو میں ایک بہت بڑا ہال دکھایا گیا تھا۔ شاید وہ کوٸی سیمینار ہال تھا۔
ہال کے اندر بہت سے سٹوڈنٹس نظر آرہے تھے۔ داٸیں باٸیں لمبی قطاریں تھیں جن پر سٹوڈنٹس اوپر کی جانب بنی کرسیوں پر بیٹھے تھے۔
قطاروں میں کافی فاصلہ تھا۔ درمیان میں ایک اونچی لکڑی کی کرسی پر ایک ادھیڑ عمر آدمی موٹا سا چشمہ لگاٸے بیٹھا تھا۔
حانم کے چہرے پر الجھن ابھری تھی۔ اسے سمجھ نہيں آرہی تھی کہ یہ کس چیز کی ویڈیو تھی۔

اچانک باٸیں جانب والے سٹوڈنٹس کی قطار میں ایک لڑکا کھڑا ہوا تھا۔

”مسٹر روحان میرا آپ سے ایک سوال ہے۔۔“
روحان کے نام پر حانم کے کان کھڑے ہوٸے تھے۔

”اسلام کی بنیاد ہی واحدانیت ہے ، اگر اللہ ایک ہے تو اس کے لئے جمع کا صیغہ کیوں؟

” قرآن مجید میں جہاں اللہ کلام کرتا ہے وہاں لفظ ” نَحنُ ” ہم ” استعمال کیا گیا ہے ،
”جیسے ہم نے یہ ذکر اتارا اور ہم ہی اسکی حفاظت کرنے والے ہیں___“
یہاں پر ہم سے مراد کون ہے۔۔ صرف اللہ یا پھر کوٸی بھی اور اسکے ساتھ ہے۔۔؟؟
جیسے میں نے پڑھا کہ قرآن کی آیات کو ایک فرشتہ جبراٸیل لے کر آتا تھا۔۔ تو کیا ہم سے مراد اللہ اور وہ جبرٸیل ہے۔۔
اگر ایسا ہے،
تو کیا اسلام متعدد دیوتاؤں پر ایمان رکھتا ہے ؟”

وہ لڑکا یہودی تھا جس نے اپنا نام ایرک بتایا تھا۔

ہال میں اسکے سوال پر تالیوں کی آواز گونج گٸی تھی۔ لڑکے کا سینہ فخر سے چوڑا ہوگیا تھا۔
اس نے اسلام کی بنیاد پر ہی سوال اٹھایا تھا۔
اب کیمرے کا رخ گھوما تھا۔
داٸیں طرف سے ایک سٹوڈنٹ کھڑا ہوا تھا۔ یقيناً وہ روحان تھا۔۔
لیکن یہ کیا اسکا چہرہ دھندلا تھا۔۔ صاف نظر نہيں آرہا تھا۔
حانم کو بہت الجھن ہوٸی تھی۔ وہ اسے جواب دیتے دیکھنا چاہتی تھی۔

”آپ نے بہت اچھا سوال کیا ہے۔۔ لیکن ان شاء اللہ میں جواب دونگا۔۔“
اسکی آواز بہت ٹھہری ہوٸی اور پرسوز تھی۔

”اسلام سختی کے ساتھ توحید کا مذہب ہے، یہ توحید پر ایمان رکھتا ہے اور اس بارے میں کوئی مصالحت گوارا نہیں کرتا۔ اسلامی عقیدے کے مطابق اللہ ایک ہے اور اپنی صفات میں بے مثل ہے، قرآن مجید میں اللہ تعالی اکثر اپنے بارے میں لفظ ” نَحنُ ” ( ہم ) استعمال کرتا ہے ۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مسلمان ایک سے زیادہ معبودوں پر ایمان رکھتے ہیں۔۔۔“

وہ اتنا کہنے کے بعد خاموش ہوا تھا۔

”شاید آپ لوگوں کو پتا ہو کہ متعدد زبانوں میں جمع کے صیغے کی دو قسمیں ہیں۔ ایک عددی جمع کا صیغہ ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ زیرِ بحث چیز تعداد میں ایک سے زیادہ ہے، جمع کا دوسرا صیغہ احترام کے لیئے بولا جاتا ہے۔ جیسا کہ انگریزی زبان میں ملکہ انگلستان اپنا ذکر ” آئی ” (I) کی جگہ ” وی ” (We) کے لفظ سے کرتی ہے۔ یہ اندازِ تخاطب رائل پلورل (Royal Plural) یعنی ” شاہی صیغہء جمع ” کے الفاظ کے سے معروف ہے۔

بھارت کے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی ہندی میں کہا کرتے تھے:

” ہم دیکھنا چاہتے ہیں ” گویا ہندی اور اردو میں “ہم ” رائل پلورل ہے۔

اسی طرح عربی میں جب اللہ قرآن میں اپنا ذکر کرتا ہے تو وہ اکثر عربی لفظ ” نحن ” استعمال فرماتا ہے۔ یہ لفظ عدد کی جمع کو نہیں بلکہ احترامی جمع کو ظاہر کرتا ہے۔ توحید اسلام کے ستونوں میں سے ایک ستون ہے، ایک اور صرف ایک معبود حقیقی کا وجود اور اس کا بے مثل ہونا وہ مضامین ہیں جن کا قرآن مجید میں متعدد بار ذکر کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر سورہء اخلاص میں ارشاد ہوا:

قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ (١)

” کہہ دیجیے: وہ اللہ ایک ہے “

اگر آپ گراٸمر کو پڑھیں تو آپکو اندازہ ہوگا کہ ہر لفظ کے ایک سے زیادہ معنی نکلتے ہیں خاص طور پر عربی زبان میں___
مجھے امید ہے کہ آپکو سمجھ آگٸی ہوگی۔۔۔“

وہ کہہ کر خاموش ہوچکا تھا۔ ہال میں سناٹا چھا گیا تھا۔
لیکن اسکا چہرہ ابھی تک بلر تھا۔
ویڈیو ختم ہوگٸی تھی جبکہ حانم ابھی تک اس شخص کی باتوں کے حصار میں میں تھی۔

”یہ کون ہے۔۔؟؟“
حانم نے ماہی کو میسج کیا تھا۔

”تمہارا شوہر۔۔“
سماٸل کے ساتھ جواب حاضر تھا۔

”لیکن یہ ہے کون۔۔؟؟“
دوبارہ پوچھا گیا تھا۔

”مجھے تو اسلامک سکالر لگ رہا ہے۔۔اگر نہيں ہے تو بن جاٸے گا۔۔ تمہيں کیا لگتا کہ وہ کون ہے۔۔؟؟“
ماہی اسے چڑا رہی تھی۔

”لیکن اسکا چہرہ نظر کیوں نہيں آرہا۔۔؟؟“
حانم کو اسے دیکھنے کا اشتیاق ہوا تھا۔

”یہ تم خود پوچھ لو نا۔۔ تمہارا نکاح ہوا ہے اس سے میرا تو نہيں___!!
ماہی مسکراہٹ ضبط کرتی اسے جواب دے چکی تھی۔ جبکہ حانم اسکی بات سن کر دنگ رہ گٸی تھی۔

”تمہيں اسکی سوشل میڈیا اکاٶنٹ کی آٸی ڈی بھیج رہی ہوں فالو کر سکتی ہو تم اسے۔۔!!
کچھ دیر بعد ماہی کا میسج آیا تھا اور ساتھ ہی لنک بھی تھا۔

جبکہ حانم ابھی تک شاکڈ بیٹھی تھی۔ اسے یقین نہيں ہو رہا تھا کہ جو اس نے ابھی کچھ دیر پہلے دیکھا کیا وہ سچ تھا___؟؟

____________________

دو دن کی ذہنی کشمکش اور سوچ و بچار کے بعد حانم نے اپنا موبائل اٹھایا تھا۔
آج وہ اتنے سالوں بعد پھر سے سوشل میڈیا کو استعمال کرنے والی تھی۔
اس نے فیس بک کر اینجل کے نام سے آٸی ڈی بناٸی تھی۔ ماہی کا بھیجا گیا لنک اوپن کیا تھا۔
حانم کو اپنے دل کے دھڑکنے کی آواز صاف سناٸی دے رہی تھی۔
وہ اس شخص کو دیکھنے جارہی تھی جسکا اسے بنادیا گیا تھا۔
اسکا نام لکھا گیا تھا لیکن ناجانے کس زبان میں۔۔ حانم وہ زبان سمجھنے سے قاصر تھی۔شاید وہ جرمن زبان تھی۔ البتہ جرمن زبان میں لکھے گٸے نام کے نیچے روحان لکھا تھا جو اسکی نشاندہی کر رہا تھا۔

”کیا دنیا میں کوئی ایسا ذی روح بھی ہے جس کو کوئی تکلیف نا پہنچی ہو؟ مجھے اتنی تکلیف دی گئی ہے کہ اب میں اس کا خیال ہی نہیں کرتا۔ جب لوگ ہی اس قسم کے ہیں تو پھر کوئی کر ہی کیا سکتا ہے۔ اگر اس کا خیال کرو تو کام میں خلل پڑتا ہے۔ اور پھر تکلیف پر دل کڑھانے سے وقت ضائع کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ یہی ہے زندگی کا عالم۔ زندگی ایسے ہی گذرتی ہے میری ماں۔“

حانم کی پسندیدہ کتاب ”ماں“ سے اقتباس لیا گیا جو اسکے About میں لکھا تھا۔
وہ سحر زدہ سی پڑھ رہی تھی۔
حانم کو یاد تھا اسکی وہ کتاب آج بھی ادھوری تھی۔ وہ مکمل نہيں ہوٸی تھی لیکن وہ شخص شاید مکمل کرچکا تھا۔
وہ اب اسکی فوٹوز دیکھ رہی تھی لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ اسکی کسی تصویر میں روحان کا چہرہ واضح نہيں تھا۔
کچھ بہت دور سے لی گٸی تھیں کچھ پیچھے سے اور کچھ ساٸیڈ۔۔
کہیں بھی چہرہ نظر نہيں آرہا تھا۔

اب وہ فوٹوز کو چھوڑ کر ویڈیوز دیکھ رہی تھی۔ اسکے لاکهوں فالورز تھے۔ جن میں زیادہ تعداد یہودیوں،عیساٸیوں اور ملحدوں کی تھی وہ حیران تھی۔
”جس انسان کے اتنے چاہنے والے ہوں اسے میں کہاں یاد رہ سکتی ہوں۔۔۔“
حانم نے دل میں سوچا تھا۔اسے اپنا آپ اضافی سا محسوس ہوا تھا۔

وہ اسکی شروع سے لے کر اب تک کافی ویڈیوز دیکھ چکی تھی جو ساٸنس اور جنیٹکس کے متعلق تھیں، جتنے اس سے کمینٹس میں سوال پوچھے گٸے تھے وہ سب کے جواب پڑھ چکی تھی۔
اور اسکا دل صدمے کا شکار تھا۔ وہ شخص علم اور معلومات کا چلتا پھرتا انساٸیکلوپیڈیا تھا۔

”بہت خوب۔۔۔ یقین نہيں آتا کہ کسی شخص کے پاس اتنا علم کیسے ہوسکتا ہے۔۔ کوٸی اللہ سے اتنی محبت کیسے کر سکتا ہے___؟؟“
حانم نے کمنٹ کیا تھا۔

”کیسی ہو حانم۔۔۔؟؟“
اسکا میسج آیا تھا حانم تو دھک سے رہ گٸی تھی اس نے کبھی خواب میں بھی نہيں سوچا تھا کہ وہ اسے پہچان لے گا۔

”آپ۔۔آپ نے مجھے پہچانا کیسے۔۔؟؟“
حانم نے کانپتے ہاتھوں سے میسج ٹاٸپ کیا تھا۔

”کمال ہے بھٸی۔۔ اپنی واٸف کو نہيں پہچانوں گا تو کسے پہچانوں گا___؟؟“
اسکے الٹے سوال پر حانم کی سٹی گم ہوٸی تھی۔
اور پھر لفظ ”اپنی واٸف“ پر غور کرنے پر حانم کے چہرے کا رنگ سرخ ہوا تھا۔

وہ زندگی میں پہلی بار خود کو کسی کے سامنے بےچینی محسوس کر رہی تھی۔

”آپ کی تصویروں میں چہرہ واضح نہيں ہے۔۔ اسکی کیا وجہ ہے۔۔؟؟“
وہ ہڑبڑاہٹ میں غلط سوال پوچھ گٸی تھی۔
شاید وہ ہنسا ہوگا۔

”دیکھنا چاہتی ہو مجھے___؟؟“

”نن۔۔۔ نہيں۔۔ ویسے پوچھا۔۔“
حانم نے اپنا سر پیٹ لیا تھا۔

”اچھا مجھے نیند آٸی ہے میں سونے لگی ہوں۔۔“
روحان کے کچھ کہنے سے پہلے حانم نے میسج کیا تھا۔
رات کے دو بج رہے تھے۔ وہ تین گھنٹے لگاتار اسکی ویڈیوز دیکھتی رہی تھی۔ وقت کا پتا ہی نہيں چلا تھا۔

”ٹھیک ہے سوجاٶ اپنا خیال رکھنا___!!“
نرم سے لہجے میں کہا گیا تھا۔
حانم اسکی نرمی پر دنگ سی رہ گٸی تھی۔
یہ ان دونوں کی نکاح کے بعد پہلی بات تھی۔
اس نے ایک اسلام کے متعلق ویڈیو کو ڈاٶن لوڈ کیا تھا اب وہ اسے دیکھنے والی تھی۔
جانے کیوں اس سے جڑے رہنے کو دل کر رہا تھا___

ویڈیو میں اسکا چہرہ پھر واضح نہيں تھا۔ یہ ویڈیو اس ہال کی نہيں تھی جو ماہی نے اسے سینڈ کی تھی یہ کہیں اور تھی۔

”میں ایک ہندو ہوں اور میں ایک خدا پر نہيں مانتا۔۔ ہمارے مذہب میں تقریباً 33 کروڑ خداٶں پر یقین رکھا جاتا ہے۔۔
آپ مجھے یہ ثابت نہيں کر سکتے کہ اللہ ایک ہی ہے۔۔ اور نہ دوسروں کی طرح مجھے مندر سے نکال کر مسجد میں بٹھا سکتے ہیں__
آپکے پاس کوٸی ثبوت ہے کہ خدا ایک ہے__؟؟“
ایک ہندو لڑکے کا سوال تھا۔

”آپ نے ایک اچھا سوال کیا ہے۔۔ میں اسکا جواب دونگا۔۔
پہلے بات تو یہ کہ ہندو کسے کہتے ہیں۔۔؟؟
ہندو کوٸی مذہب نہيں ہے بلکہ انڈس کی زمين پر رہنے والوں کو ہندو کہا جاتا ہے۔۔
جب عربی لوگ اس خطے میں آٸے تو انہوں نے جغرافيائی لحاظ سے یہاں کے رہنے والوں کو ہندو پکارا۔
روحان نے بولنا شروع کیا تھا۔

”پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنی کتاب Discovery of India میں لکھا ہے کہ ہندو لفظ کسی مذہبی کتاب میں استعمال نہيں ہوا۔۔۔
اب جو لوگ انڈیا کی سرزمين پر رہتے ہیں انہيں ہندو کہا جاتا ہے۔۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ لفظ ایک مذہب کے نام سے جڑ گیا۔ اس لئے بتوں کی عبادت کرنے والوں کو ہندو کہا جانے لگا۔

دوسری بات یہ کہ آپ نہيں مانتے کہ خدا ایک ہے۔۔
بلکہ آپ 33 کروڑ خداٶں پر یقین رکھتے ہیں۔۔ ایسا ہی ہے نا۔۔؟؟

”جی ایسا ہی ہے۔۔“
لڑکے نے جواب دیا تھا۔

”آپ سے کس نے کہا کہ خداٶں کی تعداد 33 کروڑ ہے۔۔۔؟؟“
روحان نے سوال پوچھا تھا۔

”سب ہی کہتے ہیں۔۔۔ میں نے پڑھا اور اپنے باپ سے سنا۔۔“

”تو آپ نے اپنے باپ سے سنا کہ خداٶں یعنی بھگوانوں کی تعداد 33 کروڑ ہے۔۔
میں کہہ رہا ہوں کہ خدا ایک ہے۔۔ آپ میری بات پر یقین کیوں نہيں کرتے۔۔۔؟؟
کیا میں آپکا دشمن ہوں۔۔۔
وہ مسکرا رہا تھا۔

”نہيں ایسی بات نہيں۔۔“ لڑکا کھسیا گیا تھا۔

”آپ جانتے ہیں کہ آپکے مذہب میں بہت سی کتابيں ہیں جیسے شروتی، مہابھارت اور راماٸن۔۔
کیا آپ نے شروتی کو پڑھا جو کہ ہندوؤں کے لحاظ سے سب سے اونچی کتاب ہے۔۔
جس کا عہدہ سب سے بڑا ہے۔۔۔ کیا آپ نے اسے غور سے پڑھا۔۔؟؟

لڑکا خاموش تھا۔

اگر آپ سب سے اونچی کتاب شروتی ( چندوگیا اوپنشت Chnadogya Upnishad) کو پڑھیں جسکے باب نمبر ایک، سیکشن نمبر دو کی پہلی آیت یعنی verse میں لکھا ہے کہ
”خدا ایک ہے بنا کسی دوسرے کے___“
یہ میں نہيں کہہ رہا یہ آپکی کتاب میں لکھا ہے۔

اسی طرح Shvetashvatra Upnishad کے باب نمبر چھ کی نویں verse میں لکھا ہے کہ،
”اس خدا سے بڑا کوٸی نہيں اسکے کوٸی والدین نہيں۔۔
اسی طرح اسی کتاب کے باب نمبر چار کی انیسویں ورس میں لکھا ہے کہ،
”اس خدا کی کوٸی تصویر کوٸی پریتما نہيں۔۔۔“

اسی طرح Yajurvedha کے باب بتیس اور verse نمبر تین میں بھی یہی لکھا ہے کہ،
اس خدا کی کوٸی تصویر نہيں، کوٸی پینٹنگ نہيں___!!

لڑکے کو گویا سانپ سونگ گیا تھا۔۔ وہ حیرت سے اس شخص کو دیکھ رہا تھا جو اسکے مذہب کی کتابوں سے حوالے دے رہا تھا۔

اسی طرح Yajurvedha کے باب چالیس میں لکھا ہے کہ،
” وہ لوگ اندھیر کال میں جا رہے ہیں جو لوگ سبوتی کی عبادت کرتے ہیں۔۔۔“
یہاں سبوتی سے مراد غیر فطری چیزیں جیسے آگ، پانی اور ہوا وغیرہ۔۔

اور اسی طرح دوسری جگہ پر لکھا ہے کہ،
” وہ لوگ اندھیر کال میں جارہے ہیں جو لوگ سنبوطی کی عبادت کرتے ہیں۔۔“
یہاں سنبوطی سے مراد ہاتھ سے بنائی ہوٸی چیزیں ہیں۔۔ جیسا کہ بت وغیرہ۔

”تو میرے بھاٸی میں آپکو مندر سے مسجد کی طرف لے کر نہیں گیا بلکہ آپکی کتابوں کی طرف لے کر گیا ہوں۔۔ اور ان سے ثابت کیا ہے خدا ایک ہی ہے۔
آپ نے کہا کہ آپ نے اپنے باپ سے اور باقی لوگوں سے سنا کہ خدا 33 کروڑ ہیں۔۔

اگر آپ سے کوٸی کہے کہ دو جمع دو پانچ ہوتے ہیں تو آپ مان لینگے۔۔؟؟

”نہيں۔۔۔“
لڑکے نے جواب دیا تھا۔

”کیوں نہيں مانیں گے۔۔؟؟ کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ دو جمع دو پانچ نہيں بلکہ چار ہوتے ہیں۔
اسی طرح آپکو خدا کا علم نہيں۔۔ لوگوں نے جیسا کہا آپ نے مان لیا۔۔
جب آپکے باپ نے کہا کہ خدا 33 کروڑ ہیں تو کیا آپ نے حوالہ مانگا کہ ایسا کہاں لکھا ہے۔۔۔؟؟

خاموشی۔۔۔

”یقيناً نہيں تو میں نے جتنے بھی حوالے اوپر بیان کیۓ ہیں آپ انہيں لکھ لیں اور جا کر پڑھیں۔۔
یقيناً ایسا ہی لکھا ہوا ہے۔۔
خدا ایک ہی ہے۔۔ اور وہ اللہ ہے___!!
روحان کا لہجہ آخری بات کہتے وقت محبت سے چور ہوچکا تھا_____

ویڈیو ختم ہوچکی تھی۔
حانم کا سکتہ ٹوٹا تھا۔۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے موبائل کو بیڈ پر پھینک دیا تھا۔ اسکا دل کیا تھا کہ وہ چیخے چلاٸے اور زور زور سے روٸے۔۔ دھاڑیں مارے____

اسے کس انسان سے نواز دیا گیا تھا یہ وہ بھی نہيں جانتی تھی۔
آنسو اسکی آنکهوں سے جاری تھی۔
عرصے بعد آج اس نے تہجد کی نماز ادا کی تھی۔
اس نے شکرانے کے نوافل ادا کیۓ تھے۔ وہ کبھی سوچ بھی نہيں سکتی تھی کہ اسکی بن مانگی دعا کو یوں قبول کرلیا جاٸے گا۔۔
بیشک اس نے ایک سکالر کی خواہش کی تھی۔۔
اور وہ پوری ہوچکی تھی۔

اتنے سالوں میں اسکا خدا سے جو فاصلہ بڑھ گیا تھا وہ یک لخت سمٹا تھا۔۔
حانم کی ہچکیاں بند گٸی تھیں۔۔
کیسے وہ اپنے اللہ کو بھول گٸی تھی۔۔ کیسے وہ اس سے دور ہوگٸی تھی۔۔
یہ شخص کسی مسیحا کی طرح آیا تھا جس نے حانم کا ہاتھ پکڑ کر اللہ سے ملا دیا تھا جس سے وہ ناراض تھی۔

”اور کہہ دیجیۓ کہ اللہ ایک ہے___!!“
وہ بار بار ایک ہی آیت پڑھ رہی تھی۔۔ اسکا دل رو رہا تھا___
اور نیک لوگ تو قسمت والوں کو ملتے ہیں۔ اسے آج محسوس ہوا تھا وہ کتنی قسمت والی تھی!!


#جاری
جن لوگوں کو جواب پہلے سے معلوم ہیں وہ دوسروں کو پڑھنے دیں۔ ناول کے آخر پر میں اپنی ریسرچ اور تحقيق بتاٶں گی۔
اور زندگی کے سات پہر کہانی کے سات ادوار سے جڑے ہیں غور کرنے پر آپ لوگوں کو محسوس ہوگا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: