Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 39

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 39

–**–**–

( زندگی کے ساتھ پہروں کی کہانی )

کبھی کبھی زندگی ایسے موڑ لے لیتی ہے کہ انسان سوچ بھی نہيں سکتا__
ان پانچ سالوں میں حانم کی زندگی بھی اتنے موڑلے چکی تھی اسے سمجھ نہيں آرہا تھا اسکی زندگی میں کونسا موڑ ابدی ہے کونسا نہيں___

جب سے روحان حیدر اسکی زندگی میں آیا تھا اس نے ہر چیز کو خوبصورت پایا تھا۔۔
پیرس کی برف اور بارش۔۔ دونوں میں اسے محبت کی جھلک نظر آٸی تھی۔

وہ اسکے لیۓ ضروری ہوتا جا رہا تھا۔۔ اور حانم اسے اپنی ضرورت بننے دے رہی تھی، ان پانچ سالوں میں وہ خود سے، وقت سے، لوگوں سے اور حالات سے اتنا بھاگی تھی کہ اب تھک چکی تھی___
اسے یاد تھا آج وہ بھی دن جب اس نے روحان حیدر سے پہلی بار فون کال پر بات کی تھی۔۔ اسکی آواز دل سوز تھی۔۔
اسکے بات کرنے میں ایک ٹھہراٶ تھا، کبھی کبھی حانم کو محسوس ہوتا تھا اسکی ٹھہری ہوٸی پرسکون آواز کے پیچھے ایک گہری شدت چھپی تھی۔۔۔ جو اسے محسوس ہوتی تھی۔

وہ لان میں بیٹھی تھی ٹھنڈی ہوا میں اڑتے اسکے سنہری بال۔۔
جو اب پہلے کی نسبت لمبے ہوچکے تھے۔ موسم ابر آلود تھا۔۔
بارش آہستہ آہستہ شروع ہوٸی اور پھر جل تھل پیدا کرنے لگی تھی۔۔
وہ اب لان کی جانب کھلنے والے دروازے میں کھڑی بارش کو تک رہی تھی۔۔ لیکن اسکا دھیان موبائل میں لگا ہوا تھا۔ وہ خود اسے فون نہيں کرتی تھی بلکہ شاید وہ پر لمحہ اسکے فون کا انتظار کرتی تھی۔۔
اسکی امید بھر آٸی تھی، موبائل پر رنگ ہوٸی تھی۔ حانم نے دھڑکتے دل کے ساتھ فون اٹھایا تھا۔

”بارش انجواٸے کر رہی ہو۔۔؟؟“
روحان کے سوال پر وہ دھنگ رہ گٸی تھی۔

”آپکو کیسے پتا۔۔؟؟“
حانم نے حیرانی سے پوچھا۔

”پیرس میں بارش ہورہی ہے جو لگاتار تین دن تک جاری رہنے والی ہے۔۔ اب بارش ہورہی ہے تو یقيناً تم اسے ہی دیکھ رہی ہوگی__!!“

”جی۔۔“
وہ بس اتنا ہی کہہ پاٸی تھی۔

”اچھا یہ بتاٶ دنیا کی سب سے خوبصورت بارش کہاں ہوتی ہے۔۔؟؟“

”پنجاب یونيورسٹی میں___“
بےساختہ ہی حانم کے منہ سے نکلا تھا۔۔ اگلے پل وہ زبان دانتوں تلے دبا چکی تھی۔
دوسری طرف خاموشی چھاگٸی تھی۔

”پی یو کی بارش حسین لگتی تھی۔۔ لیکن اب نہيں۔۔“
حانم نے اپنی بات کی توصیح کی۔

”ایسا کیوں۔۔؟؟“
وہ پوچھ رہا تھا۔

”وہاں کی بارش سے بہت سی خوفناک یادیں جڑی ہیں۔۔ جو روح کو گھاٸل کرتی ہیں۔۔!!“
حانم نے آنکهيں میچتے ہوٸے کہا تھا۔ روحان ایک گہری سانس لے کر رہ گیا تھا۔

”جو برا ہو اسے بھول جانا چاہیۓ۔۔ ہمیشہ اپنی زندگی میں اچھی چیزوں کا تصور کرو۔۔ خوش رہو۔۔!!
وہ مسکرایا تھا۔
حانم بھی مسکرادی تھی۔۔
اسے ہر چیز خوبصورت لگنے لگی تھی یہ وہ اسے کیسے بتاتی۔۔
وہ اس شخص کو ہر لمحہ اپنے آس پاس محسوس کرتی تھی۔۔
اور محبت تو ایسی ہی ہوتی ہے جو انسان کے کردار سے ہوتی ہے۔۔
اور جب محبت ہوتی ہے تو ہر چہرہ خوبصورت ہوجاتا ہے۔

”ماسٹر مکمل ہوگیا تمہارا۔۔؟؟“

”جی ایک سال ہونے والا ہے۔۔“
حانم نے بتایا۔

”کس فیلڈ میں مکمل کیا ہے۔۔؟؟“

”جیولوجی۔۔ زمین کی اسٹڈی۔۔“

”اچھا۔۔ تو یہ بتاٶ زمین کی شکل کیا ہے۔۔؟؟“
حانم اسکے اس سوال پر چونک گٸی تھی۔

“Geo_spherical..??”
حانم کا انداز سوالیہ تھا۔

”ہمم۔۔ گڈ۔۔“

”لیکن یہ تو ساٸنس کہتی ہے۔۔ اللہ نے تو زمین کو بچھا دیا ہے۔۔ مجھے قرآن سے زمین کی چپٹی ہونے کی نشانیاں ملی ہیں۔۔!!
وہ شاید الجھی ہوٸی تھی اس لیۓ پوچھ رہی تھی۔

”آیت بتاٶ کس میں زمین کے چپٹی ہونے کا لکھا ہے۔۔؟؟“
وہ پوچھ رہا تھا۔

”سورہ نازعات کی آیت نمبر تیس میں لکھا ہے کہ،
وَٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ ذَٰلِكَ دَحَىٰهَآ
اور اس کے بعد زمین کو (ہموار) بچھا دیا.*

اس آیت سے تو یہی معلوم ہوتا ہے نا کہ زمین چپٹی ہے۔۔۔“

”نہيں ایسا نہيں ہے۔۔“
وہ پھر مسکرادیا تھا۔

”اس آیت کے آخر میں جو لفظ دَحَیٰھَآ استعمال ہوا ہے یہ عربی کے لفظ دُحیِآ “Duhyea” سے نکلا ہے جسکا مطلب ”انڈے جیسی شکل“
اور یہ انڈہ عام انڈہ نہيں ہے بلکہ یہ شتر مرغ کا انڈہ ہے جو اوپر اور نیچے سے فلیٹ ہوتا ہے۔۔۔“

حانم سانس روکے اسے سن رہی تھی۔

” زمین کی تخلیق آسمان سے پہلی ہوئی لیکن اس کو ہموار آسمان کی پیدائش کے بعد کیا گیا ہےاور یہاں اسی حقیقت کا بیان ہے۔ اور ہموار کرنے یا پھیلانے کا مطلب ہے کہ زمین کو رہائش کےقابل بنانے کے لئے جن جن چیزوں کی ضرورت ہے اللہ نے ان کا اہتمام فرمایا، مثلاً زمین سے پانی نکالا، اس میں چارہ اور خوراک پیدا کی، پہاڑوں کو میخوں کی طرح مضبوط گاڑ دیا تاکہ زمین نہ ہلے۔
لیکن اسکا ہرگز مطلب نہيں ہے کہ زمین چپٹی ہے۔

تقریباً 1579 میں ڈاکٹر فرانسک نے پہلی زمین کی شکل کے متعلق بتایا تھا۔ انہوں نے اسے spherical بتایا تھا جبکہ قرآن پاک میں چودہ سو سال پہلے زمین کی شکل کے متعلق بتادیا گیا تھا۔
اب سمجھ آٸی۔؟؟“
وہ نرم لہجے میں پوچھ رہا تھا۔
حانم نے اثبات میں سر ہلادیا تھا جیسے وہ اسے دیکھ رہا ہو۔

اس نے سر اٹھا کر آسمان کو دیکھا تھا۔۔ اسکا دل اللہ کی محبت سے لبریز جارہا تھا۔
عرصہ ہوا تھا اس نے قرآن کی آیات پر تدبر کرنا چھوڑ دیا تھا۔۔ اب وہ شخص اسے واپس اسی حانم کے پاس لے جا رہا تھا جو ہر چیز میں لاجک ڈھونڈنے والی تھی۔

______________________

وہ تیز تیز قدموں سے پتھر سے بنی سڑک پر آگے کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ٹھنڈی ہوائیں اسکی ہڈیوں سے ہوتی ہوٸی گزر رہی تھیں۔
اسکا بھاری وزنی اونی کوٹ تیز ہوا چلنے کے باعث پیچھے کی جانب اڑ رہا تھا۔ بھاری چنکی ہیلز (جوتوں) کی آواز وقفے وقفے سے ابھر رہی تھی۔
تیز تیز چلنے کے باعث وہ ہانپ رہی تھی۔

”حانم باہر گھوم رہی ہو کیا___؟؟“
وہ شاید اسکی کانپتی آواز سے اندازہ لگا چکا تھا۔

”جی کافی عرصہ پہلے لاٸبریری سے کچھ کتابيں لی تھی انہيں واپس کرنے جا رہی ہوں__!!“
حانم نے بایاں ہاتھ کوٹ کی جیب میں اڑستے ہوٸے بتایا۔
اس سڑک پر چلتا ہر شخص جو بول رہا تھا اور سانس لے رہا تھا ان کے منہ سے دھواں بھانپ کی صورت نکل رہا تھا۔

”آج کتابيں واپس کرنی لازمی تھیں کیا__ اور ماہی سے کہہ دیتی وہ لاٸبریری چھوڑ دیتی تمہيں!!“
وہ فکر مند ہو رہا تھا۔ حانم کا اسے اپنی فکر اچھا لگا تھا۔
”ماہی کو کچھ کام تھا وہ صبح ہی چلی گٸی تھی۔ میں ویسے تو ٹرین میں آٸی ہوں بس یہ تھوڑا سا فاصلہ تھا جو اب پیدل طے کر رہی ہوں___!!
وہ ہانپتے ہوٸے بتا رہی تھی۔
ٹھنڈی ہوا اسکے نتھنوں سے ٹکرا کر ناک کے ذریعے اندر چلی گٸی تھی۔
حانم کو لگا تار دو چھینکیں آٸی تھیں۔

”الحَمْدُ ِلله۔۔“
وہ زیرلب بڑبڑاٸی تھی۔

”یا رحمک اللہ۔۔“
اسے روحان کی آواز صاف سنائی دی تھی۔
وہ اٹالین ریسٹورینٹ کے سامنے سے گزر رہی تھی جو کہ باہر سے بہت ہی شاندار تھا۔ حانم نے چلتے چلتے بھی پیچھے مڑ کر اس ریسٹورینٹ کو دیکھا تھا۔ وہ اسے ہمیشہ کی طرح بہت بھایا تھا۔

”تمہيں پتا ہے حانم جب ہمیں چھینک آتی ہے تو ہم الحَمْدُ ِلله اور اسکے جواب میں یا رحمک اللہ کیوں کہتے ہیں۔۔؟؟“
وہ پوچھ رہا تھا۔
حانم ایک دم چونک کر سیدھی ہوٸی تھی۔
اسے نے روحان کے سوال پر غور کیا تھا لیکن اسے یہ کلمات کہنے کی وجہ معلوم نہيں تھی۔

”جب انسان چھینکتا ہے تو ملی سیکنڈز یعنی پل کے ہزارویں حصے کیلیۓ انسان کا دل بند ہوجاتا ہے۔۔
اس لیۓ ہم مسلمان چھینک آنے کے بعد الحَمْدُ ِلله یعنی اللہ تیرا شکر ہے کہتے ہیں اور دوسرا اسکے جواب میں یا رحمک اللہ کہتا ہے یعنی اللہ تم پر رحم کرے۔۔ اور یہی باقی نان مسلم God Bless You کہتے ہیں۔۔
الحَمْدُ ِلله اسی لیۓ کہا جاتا ہے چھینک آنے کے بعد انسان کا دل دوبارہ دھڑکنا شروع کردیتا ہے۔۔ اسی لیۓ شکر ادا کیا جاتا ہے۔۔
اور دوسرا ”انسان اللہ تم پر رحم کرے“ اسی لیۓ کہتا ہے کبھی کبھی چھینکنے کے بعد انسان کافی دیر نارمل نہیں ہو پاتا تو اسے یہ دعا دی جاتی ہے__!!
وہ کہہ کر خاموش ہو چکا تھا۔۔
جبکہ حانم کے تیز قدموں کو بریک لگی تھی۔ ہر چیز جیسے پس منظر میں چلی گٸی تھی۔۔
وہاں سے گزرتے لوگ ساکت ہوٸے تھے، وہ سڑک کے درميان کھڑی اپنے دل کے دھڑکنے کی آواز صاف سن رہی تھی۔۔ اس نے اپنے دل کو رکتے اور پھر مسرت سے دھڑکتے پایا تھا۔
سکارف کے نیچے سے اسکے سنہری بال ایک لٹ کی صورت نکل کر بار بار چہرے کو چھو رہے تھے۔
اس نے ہواٶں کے شور کو سنا تھا۔۔۔ محسوس کیا تھا،
سرسراتی ہواٸیں اسکے اندر سے گزرتی کسی کے نام کی مالا جپ رہی تھیں۔۔
حانم نے پہلی بار خود کو بےبس محسوس کیا تھا۔

”اگر ہم چھینک ہی روک لیں تو۔۔ پھر تو دل نہيں بند ہوگا نا۔۔؟؟“
حانم نے خود کو نارمل کرنے کیلیۓ پوچھا تھا۔

”تو مسز جو انسان ایسا کرتا ہے اکسے دماغ کی رگ پھٹ سکتی ہے۔۔ چھینک بہت زور آور ہوتی ہے اسے نہيں روکنا چاہیۓ۔۔۔“

”اففف ڈراٸیں تو مت۔۔“
حانم اسکی بات سن کر جھرجھری سی لے کر رہ گٸی تھی۔
روحان اسکی بات سن کر دل کھول کر ہنسا تھا۔
حانم نے محسوس کیا تھا اسکی ہنسی بہت خوبصورت تھی۔۔ وہ کبھی چھت پھاڑ قہقہہ نہیں لگاتا تھا۔۔
جانے اسکے مزاج میں اتنی نفاست کہاں سے آٸی تھی۔۔

”پیرس کب آرہے ہیں آپ۔۔؟؟“
حانم نے بات کا رخ بدلا تھا۔ اسے اب سامنے لاٸبریری نظر آگٸی تھی۔

”جب تم بلاٶ گی آجاٶں گا۔۔“
اسکے جانثار لہجے پر حانم مسکرا کر رہ گٸی تھی۔

”ٹھیک ہے پھر جلدی سے تیاری کرلیں میں آپ سے ملنا چاہتی ہوں وہ بھی بہت جلد۔۔“
وہ جیسے حکم دے رہی تھی۔

وقت براق کی رفتار سے بھاگ رہا تھا۔۔
اسے نہ دن کی خبر ہوتی اور نہ رات کی۔۔
اسے یاد تھا تو اتنا کہ روحان کی قرآن پاک کی آیات پر کیا گیا تدبر سننا ہوتا تھا۔۔

وقت بدل رہا تھا۔۔ جیسے موسم بدل رہا تھا۔۔
اور وہ بھی تو بدل رہی تھی___

______________________

جیسے ہی وہ لاٸبریری میں داخل ہوٸی تھی اسے سامنے والے میز پر حشام بیٹھا نظر آیا تھا۔ کتنے مہینوں بعد وہ اسکی شکل دیکھ رہی تھی۔

وہ سیدھا اسکی طرف بڑھ گٸی تھی۔

”یہ آپکی کتابيں۔۔“
حانم نے کتابوں کو میز پر رکھتے ہوٸے کہا تھا۔
حشام نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔
اسکی آنکهوں میں اذیت ابھری تھی۔ جسے حانم محسوس نہيں کر پاٸی تھی۔

”کیسی ہیں آپ۔۔؟؟“
وہ پوچھ رہا تھا۔

”جی اللہ کا شکر ہے میں ٹھیک ہوں۔۔ آپ گم ہوگٸے ہیں شاید۔۔
مجھے بتایا تھا ماہی نے اس دن آپ گھر آٸے تھے تب میں سوٸی ہوٸی تھی۔۔!!

”جانتا ہوں۔۔“
پھیکی سی مسکراہٹ اسکے لبوں پر پھیل گٸی تھی۔
حانم نے محسوس کیا تھا وہ پہلے سے کافی کمزور ہوگیا تھا۔ اسکی آنکهيں اندر کو دھنسی نظر آرہی تھیں۔

”آپکی طبیعت تو ٹھیک ہے۔۔؟؟“
وہ بےاختیاری میں پوچھ بیٹھی تھی۔
حشام نے ایک شکوہ بھری نظر اس پر ڈالی تھی۔
حانم کو اب محسوس ہو رہا تھا کہ اسے حشام کے سامنے نہیں آنا چاہیۓ تھا۔

”ابھی تک تو ٹھیک ہوں زندہ ہوں۔۔۔“
وہ زخمی مسکراہٹ لیۓ کہہ رہا تھا۔

”میرا نکاح ہوچکا ہے۔۔“
حانم نے سنجيدہ سے لہجے میں بتایا تھا۔

”جانتا ہوں۔۔۔“
اسکے جواب پر حانم چونکی تھی۔ وہ اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔

”ماہی نے بتایا تھا۔۔“
حشام ایک دم سیدھا ہوا تھا۔

”بہت بہت مبارک ہو۔۔“
وہ مشکل سے مسکرا پایا تھا۔

”شکریہ۔۔“

”رخصتی کب ہے۔۔ اور تم روحان سے ملی ہو کیا۔۔؟؟“

”نہيں ابھی نہيں ملی۔۔ شاید اگلے مہینے ملیں۔۔ ہم سوچ رہے تھے کہ اینیورسری پر ملیں۔۔“
حانم مسکراٸی تھی۔
حشام پہلو بدل کر رہ گیا تھا۔

”آپ اتنی کتابيں کیوں پڑھتے ہیں وہ بھی عشق کی داستانیں۔۔؟؟“
حانم نے اسکت ہاتھ میں ”عشق کے چالیس چراغ“ٰ دیکھتے ہوٸے پوچھا۔

”اچھا لگتا ہے۔۔ مجھے داستانیں پڑھنے کا شوق ہے اور کچھ میرا تعلق انگلش ادب سے ہے تو شاید اسی لیۓ۔۔“
حشام نے جس یونيورسٹی سے خود پڑھا وہ اب وہاں انگلش کا پروفيسر تھا۔
سٹوڈنٹس خاص طور پر لڑکیاں اسکی شخصيت کی گرویدہ تھیں۔

”چلیں ٹھیک ہے آپ پڑھیں میں چلتی ہوں مجھے کچھ کام ہے۔۔“
وہ اٹھی تھی۔

”اللہ حافظ۔۔“
حشام کے الفاظ نے حانم نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔۔ وہ اسے ٹھیک نہيں لگ رہا تھا۔
وہ اثبات میں سر ہلا کر آگے بڑھ گٸی تھی۔
حشام اسے جاتے ہوٸے دیکھ رہا تھا۔

”تم میرے ذہن سے اتر جاؤ
میں تمہیں عمر بھر دعا دوں گا“
______________________

وہ آٸینے کے سامنے کھڑی اپنے سراپے کا جاٸزہ لے رہی تھی۔
سادی سی شلوار قیمض پہنے ہوٸے تھی۔ سنہری بالوں کی آبشار ایک بار پھر سے کمر پر پھیل گٸی تھی۔
اس نے اب بال کٹوانے بند کر دیٸے تھے۔ روحان کو لمبے بال پسند تھے۔
اسکی ذات میں بہت سی تبدیلياں آٸی تھیں۔ وہ پہلے والی ام حانم بنتی جا رہی تھی۔
وہ پھر سے نکھر گٸی تھی۔۔ جو ذردیاں اسکی رنگت میں گھل گٸی تھیں وہ پھر سے ختم ہوگٸی تھیں۔

”عورت کی خوبصورتی،د لکشی اور نزاکت مرد کے ہاتھ میں ہوتی ہے، وہ جتنا اسے خوبصورت کہتا ہے وہ ہوتی جاتی ہے۔۔
وہ جتنی اس پر توجہ دیتا وہ اتنی ہی نکھرتی جاتی ہے، دلکش ہوجاتی ہے،
اور جب مرد عورت کو نظر اندازی اور بیگانگی کی موت مارتا ہے عورت کے حسن کو زنگ لگنا شروع ہوجاتا ہے___
اسکی خوبصورتی جیسے بدصورتی میں بدل جاتی ہے۔۔
اسکا حسن ماند پڑ جاتا ہے۔۔ جیسے دھیمک لکڑی کو کھاجاتی ہے ویسے ہی مرد کی لاتعلقی اسکی لاپراوہی عورت کو کھاجاتی ہے۔۔
وہ گلنے سڑنے لگتی ہے۔۔ اور پھر ختم ہو جاتی ہے___!!“
حانم کے ساتھ ایسا ہی ہوا تھا۔۔ وہ نکھرتی جارہی تھی۔
اسے محسوس ہوتا تھا کہ اسے محبت ہوگٸی تھی اب اسے اقرار کرنا تھا۔۔ جو بہت ہی مشکل مرحلہ تھا۔

____________________

شام پانچ بجے کے قریب ماہی آفس سے نکلی تھی۔
اسکا آفس آٹھویں منزل پر تھا وہ لفٹ میں داخل ہوٸی تھی۔
اسے گھر جلدی پہنچنا تھا۔
لفٹ میں اسکے علاوہ ایک اور انسان بھی تھا جو دوسری جانب چہرہ کرکے کھڑا ہوا تھا۔
سردیوں میں دن چھوٹے ہونے کے باعث رات کا اندھیرا پھیل چکا تھا۔
کچھ سیکنڈز ہی گزرے تھے اسے لفٹ میں داخل ہوٸے اچانک وہ لڑکا جو دوسری جانب رخ کر کے کھڑا تھا وہ پلٹا اور ہاتھ میں پکڑی بوتل سے ماہی کے چہرے اسپرے کیا تھا۔۔
ماہی نہ تو اس شخص کو دیکھ پاٸی تھی اور نہ کچھ سمجھ پاٸی تھی۔۔
وہ کچھ ہی پلوں میں بےہوشی کی دنیا میں جاچکی تھی۔

_____________________

حشام کے سر میں شدید درد ہو رہا تھا۔ اس نے میز کے دراز سے میڈیسن نکال کر کھاٸی تھی۔ اس سے پہلے وہ سونے کیلیۓ لیٹتا اسکے موبائل پر بیل ہوٸی تھی۔
کوٸی انجانا نمبر تھا۔
حشام نے کچھ سوچتے ہوٸے فون اٹھایا تھا۔

”اگر اپنی محبوبہ کی زندگی چاہتے ہو تو بنا کوٸی چالاکی کیۓ میرے بتاٸے ہوٸے پتے پر پہنچ جاٶ۔۔“
ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہا گیا تھا۔

”ہیلو۔۔ کون۔۔۔؟؟“
حشام حیرانگ سے بولا تھا لیکن دوسری طرف سے فون بند ہوچکا تھا۔
حشام کے چہرے پر پریشانی کی لکیریں ابھری تھیں۔
اسکے ذہن میں پہلا خیال حانم کا آیا تھا۔
اس سے پہلے وہ کچھ اور سوچتا بپ کی آواز سے اسکے موبائل پر MMS آیا تھا۔

وہ ایک ویڈیو تھی۔۔ ماہی کی ویڈیو اسے کرسی سے باندھا گیا تھا۔۔

”مجھے چھوڑ دو۔۔ کون ہو تم۔۔؟؟“
وہ چلا رہی تھی۔
حشام کا سانس جیسے اٹک سا گیا تھا۔ اسکا دماغ چکرا گیا تھا۔
ایڈریس نیچے لکھا ہوا تھا۔۔ ماہی کو اغوا کرنے والے نے پیسوں کا مطالبہ نہيں کیا تھا۔۔ بلکہ اسے اکیلے کو اس جگہ پر بلایا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: