Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 4

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 4

–**–**–

“ان کی آمد سے ملتا ہے بہاروں کا پتا”
“وہ تو موسم کو بدلنے کا ہنر رکھتے ہیں”

وہ آج شام ہی ملتان پہنچا تھا۔ سیّدوں کی حویلی میں جیسے خوشی کی لہر دوڑ گٸی تھی۔ البتہ حویلی کے سارے ملازمين دعاٸیں مانگ رہے تھے کہ انکا سامنا سید حویلی کے عجیب و غریب سپوت سے نا ہو۔
بی جان نے آتے ہی اسکا صدقہ دیا تھا۔ اور وہ بیزار بیزار سا سب برداشت کر رہا تھا۔
اسے سید حویلی میں بس ایک ہی شخص تھوڑا بہت پسند تھا اور وہ تھا ہشام بن جبیل۔۔
جسکی محبت اس بیزار شخص کیلیے ہمیشہ سے خالص تھی۔
اس وقت بھی وہ ہشام کے سامنے بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا۔

”تم نے سموکنگ کب شروع کی۔۔؟“
ہشام نے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔

”پانچ سال پہلے ہی کردی تھی۔۔“
نپے تلے انداز میں جواب دیا گیا۔

”تم جانتے ہو نا بی جان کو پتا چلا تو وہ ناراض ہونگی۔۔“

”ہمیشہ ہی ناراض ہوتی ہیں وہ۔۔ لیکن تمہيں پتا ہے شامو مجھے فرق نہيں پڑتا۔۔“
ہشام کا نام بگاڑ کر وہ ڈھٹاٸی سے ہنسا تھا۔

“تھوڑی سی تو شرم کرو تم سے چھ سال بڑا ہوں۔۔“
ہشام کی بات پر اسکا چھت پھاڑ قہقہ گونجا تھا۔

”سن کر اچھا لگا شامو۔۔“
وہ بہت ڈھیٹ تھا۔

”واپس کب جانا ہے۔۔؟؟“
ہشام نے دوبارہ پوچھا۔

”ایک دو دن میں چلا جاٶں گا ویسے بھی جب سے آیا ہوں بور ہی ہو رہا ہوں۔۔
تمہیں پتا ہے آج ایک عورت آٸی ساتھ میں ایک ماہ بچہ لاٸی تھی اپنا۔۔ بی جان کو کہتی اسے پیار دیں سیّدانی جی یہ بڑا ہو کر آپکے بیٹوں جیسا بنے۔۔
طنزیہ ہنسی کے ساتھ
بات کے آخر پر وہ خود ہی ہنسا تھا۔

”تم خود بتاٶ اگر وہ میرے جیسا بن گیا تو۔۔۔؟؟“
اسکے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی تھی۔

”میں نے فوراً کہا تھا کہ لاٸیں میں پیار دیتا ہوں لیکن بی جان نے مجھے منع کردیا ورنہ۔۔

”کیونکہ وہ تمہارے کرتوت اچھے سے جانتی ہیں مسٹر آر جے۔۔ اسی لیے منع کیا “
ہشام نے اسکی بات کاٹی۔ اسکی بات پر آر جے نے ایک اور قہقہ لگایا تھا۔ عجیب بات تھی وہ تب ہی ہنستا تھا جب ہشام کے ساتھ ہوتا تھا۔

”اچھا تم بتاٶ تمہاری پی ایچ ڈی کہاں تک پہنچی شامو بابا۔۔۔؟“

” ابھی تو ایک سال ہی ہوا ہے۔۔“

”کب جارہے ہو واپس پیرس۔۔؟“

”اگلے ہفتے تک۔۔“
جواب دینے کے بعد ہشام اٹھا۔۔ پورا کمرہ سگریٹ کے دھوٸیں سے بھر گیا تھا اور اسکے لیے وہاں مزید بیٹھنا مشکل ہوگیا تھا۔

”کہاں جا رہے ہو۔۔؟؟“
اس نے ہشام کو اٹھتے دیکھا تو پوچھا۔

”عشاءکی نماز ادا کرنے۔۔“

”کیوں۔۔نماز مجھ سے زیادہ ضروری ہے کیا۔۔؟؟“

”ہاں۔۔“

”لیکن کیوں۔۔ اگر نہيں پڑھو گے تو کیا ہوگا۔۔؟؟“

”گناہ ملے گا۔۔۔ حساب دینا پڑے گا۔۔!!!

”اچھا تو تم اس لیے پڑھتے ہو کہ حساب دینا پڑے گا۔۔؟؟“

”نہيں اللہ بھی ناراض ہوگا نا اس لیۓ۔۔!!!

اور پھر ہشام کے جواب پر اسکا ایک اور قہقہ ابھرا تھا۔

”کتنا جبر ہے نا تمہارے دین میں۔۔۔ ایسا بھی ہوتا ہے کیا۔۔؟؟“
“دین میں جبر نہیں یہ جبر تو ان کو نظر آتی ہے جن کی آنکھوں پر رب کریم و عظیم نے پردے ڈال رکھے ہیں”
”دیکھو مجھے تم سے بحث نہيں کرنی میں جا رہا ہوں۔۔“
ہشام نے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے جواب دیا۔

”اچھا سنو ہشام بن جیبل۔۔ بس ایک سوال کا جواب دے جاٶ۔۔“
اس نے ہشام کو پکارہ۔ ہشام پلٹا۔۔ اس نے دیکھا تھا کہ آرجے کی آنکهوں میں ایک انوکھی چمک تھی۔ ہشام اچھی طرح جانتا تھا کہ اسکے سوالات کے جواب دینا اسکے بس میں نہيں تھا لیکن وہ سننا چاہتا تھا کہ اس وقت آر جے کے دماغ میں کیا چل رہا تھا۔

”تم کہتے ہو کہ اللہ بہت بڑا ہے۔ وہ بےنیاز ہے۔ اسے کسی چیز سے فرق نہيں پڑتا۔ اسکے پاس انسانوں جیسے جذبات اور احساسات نہيں۔۔
پھر تمہارے نماز نا پڑھنے پر وہ غصہ کیوں ہوگا۔۔؟؟
سزا کیوں دے گا۔۔؟ اسکی بات نا ماننے پر وہ انسانوں کی طرح ری ایکٹ کیوں کرتا ہے۔۔؟؟
اس نے تمہيں پیدا کیا ہے۔ وہ Creator ہے۔۔ بہت بڑا ہے۔۔ اسے تو انسانوں کی خوشی میں خوش ہونا چاہیۓ نا۔۔ پھر اگر تم نماز نا پڑھ کر خوش ہو تو اسے غصہ کیوں آتا ہے؟ وہ تو بےنیاز ہے نا۔۔ پھر بات نا ماننے پر ماں باپ کی طرح کیوں غصہ کرتا ہے؟؟ انسانوں جیسے جذبات کیوں؟؟“

وہ بولا تو بولتا ہی چلا گیا۔ اسکے چہرے پر سنجیدگی چھاٸی تھی البتہ آنکهوں کی چمک برقرار تھی۔ ایک ایسی چمک جو دیکھنے والے کو فنا کرنے کی صلاحيت رکھتی تھی۔

ہشام لاجواب ہوچکا تھا۔ کیا کہتا وہ؟
اسکا سوال ہی ایسا تھا۔ وہ عالم نہيں تھا۔

”تمہاری فضول باتوں کیلیۓ میرے پاس وقت نہيں۔۔ نماز سے دیر ہو رہی ہے ورنہ اچھے سے بتاتا تمہيں۔۔“

ہشام کہہ کر رکا نہيں تھا وہ دروازہ کھول کر باہر نکل گیا تھا۔ جبکہ پیچھے وہ پاگلوں کی طرح ہنس رہا تھا۔
بلڈی مسلمز۔۔ (bloody Muslims)
طنزیہ ہنسی…
وہ پاگل تھا۔ کیا وہ سچ میں پاگل تھا؟؟
کیا ایسے سوالات کرنے والا شخص پاگل ہوتا ہے؟؟
“نہیں ہر گز نہیں ایسے لوگ قابل رحم ہوتے ہیں ہم ایسے لوگوں کو خود اسلام سے دور کر دیتے ہیں اسلام میں سوال جواب کرنا گناہ نہیں جب کہ ہم کسی بھی ایسے سوال کو بنا سنے بنا سوچے منطقی عالم و مفتی بن کر کسی کو بھی دائرہ اسلام سے نکال دینے کا فتوی صادر کرتے ہیں جو کہ آر جے جیسے بھٹکےہوئے شخص کو راہ راست پہ لانے کے بجائے مزید باغی بنا دیتا ہے انہیں اسلام سے دلی بغض ہو جاتا ہے اور وہ عجیب و غریب کیفیت کا شکار ہو جاتےہیں جو کہ ہمارا ذاتی قصور ہوتا ہے۔۔۔”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ڈزنی لینڈ عمارت کے سامنے بیٹھی تھی۔ وہ تقریباً ہر ہفتے یہاں آتی تھی لیکن اندر جو سلیپنگ بیوٹی ( sleeping beauty) شہزادی تھی اسے دیکھنے کی ہمت نہيں تھی۔

عمارت کے باہر بیٹھی رہتی اور پھر واپس پلٹ جاتی تھی۔ سینکڑوں لوگوں کے ہجوم میں وہ گم ہوجانا چاہتی تھی لیکن ہوتی نہيں تھی۔
کچھ یادیں تھیں کچھ باتیں تھیں جو اسکا پیچھا نہيں چھوڑتی تھیں۔
سردی کی شدت نے جیسے اس پر اثر کرنا چھوڑ دیا تھا۔
ٹھنڈی ہواٸیں ہڈیوں میں چب رہیں تھیں۔ لیکن وہ ساکن بیٹھی تھی۔ کندھوں پر بکھرے بال ہوا چلنے کے باعث چہرے کو چھو رہے تھے۔
سر پر اوڑھا سکارف بھی اڑنے لگتا تھا۔ لیکن شاید اسے کچھ محسوس ہی نہيں ہوتا تھا۔

”ہیلو اینجل۔۔“
اچانک اسے عقب سے آواز سنائی دی۔
اس نے پلٹ کر دیکھا تو میڈی اپنی پوری بتیسی نکالے اسکے سامنے کھڑا تھا۔

”میڈی تم یہاں۔۔؟؟“
وہ حیران ہوٸی۔

”ہاں۔۔ وہ۔۔ میں ادھر سے گزر رہا تھا تو سوچا تم سے مل لوں۔۔۔“
وہ گھبراہٹ میں الٹا ہی بول گیا تھا۔

”کیا وقعی۔۔؟؟ لیکن تم یہاں سے گزر کر کہاں جا رہے تھے؟ اور کیا میرا گھر یہاں پر ہے جو تم ملنے آۓ ہو۔۔؟؟“

”نہيں۔۔ وہ۔۔ میں۔۔“
میڈی برا پھنسا تھا۔

”بولو اب۔؟؟“
اینجل نے اپنی مسکراہٹ چھپاٸی۔
میڈی اسکا کلاس فیلو تھا۔ لیکن تھوڑا پاگل تھا اکثر اس اینجل کے چہرے پر مسکراہٹ کا باعث بنتا تھا۔

”اچھا۔۔ سنو۔۔ یہ سب چھوڑو بتاٶ چائے پیو گی؟“
میڈی نے بات بدلی۔

”پی چکی ہوں۔۔“

”اچھا چلو میں آٸس کریم لے کر آتا ہوں یہاں سے ہلنا مت۔۔“
میڈی نے اسے ہدایت کی اور خود آٸس کریم بار کی طرف بڑھ گیا تھا۔

جبکہ اینجل ایک گہری سانس لے کر رہ گٸی تھی۔ اس نے رخ پلٹا تو ڈوبتے سورج کی کرنیں اسکے چہرے پر پڑیں۔
چہرے کے خاص حصے پر کوٸی چیز چمکی تھی۔ جیسے کوٸی موتی۔۔
لیکن اسے احساس نہيں تھا کہ کسی شخص کی نگاہیں اس پر جمی تھیں۔۔ جو اس روشنی کو دیکھ کر جم سا گیا تھا۔
کیا اس نے اپنی چن (تھوڑی) پر کوٸی موتی لگا رکھا تھا۔۔؟؟

اچانک عجیب سی بےچینی اس کے اندر پھیل گٸی تھی۔ نظروں کی تپش اسے محسوس ہونےلگی تھی۔
تب اسکی نظر میڈی کے پاس کھڑے اس شخص پر پڑی تھی جسکا آدھا چہرہ چھپا ہی رہتا تھا۔ اور وہ بول بھی نہيں سکتا تھا۔

”یہ یہاں بھی۔۔۔؟؟“
وہ کوفت میں مبتلا ہوگٸی تھی۔
وہ جہاں بھی جاتی تھی وہ شخص اس سے پہلے وہاں موجود ہوتا تھا۔
اسکی آنکهوں میں ایک عجب سا تاثر ہوتا تھا جو اسے اندر تک جھنجھوڑ دیتا تھا۔

وہ تو کبھی کبھی میڈی کی حرکتوں سے اکتا جاتی تھی اور اوپر سے یہ شخص۔۔
اسکا موڈ ایک دم خراب ہوا۔ وہ اٹھی اور قدم اسٹیشن کی طرف بڑھا دیے۔

میڈی کی نظر ابھی اس پر نہيں پڑی تھی لیکن وہ شخص اسےجاتا دیکھ رہا تھا۔
آٸس کریم لینے کے بعد جب میڈی پلٹا اور اینجل کو وہاں سے غاٸب دیکھا تو وہ اسٹیشن کی طرف بھاگا۔
جبکہ پیچھے اس شخص کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گٸی تھی۔ وہ اسے میڈی کے ساتھ آٸس کریم ہرگز نہيں کھانے دے سکتا تھا۔
جیتنا اسکی فطرت تھا وہ ہمیشہ سےجیتتا آیا تھا۔ بنا کچھ کہے۔۔۔ بنا کچھ کرے۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رکشے والے نے اسے گلی کے سامنے اتارا تھا۔ وہ کرایا دینے کے بعد چادر سے خود کو اچھی طرح ڈھانپتی گلی میں داخل ہوٸی۔
یہ ایک تنگ سی گلی تھی جو آگے جاکر ایک چوراہے میں بدل جاتی تھی۔
یہاں چاروں طرف گھر تھے۔ ایک مسجد تھی۔
بچے گلیوں میں کھیل رہے تھے۔
اسکا رخ اپنے گھر کی طرف تھا۔ سبزی کی دکان پرلوگوں کا ہجوم تھا۔
گلی کے دونوں اطراف اونچے اونچے گھر تھے۔ البتہ گلیاں پکی تھیں۔
وہ گھر سے ابھی کچھ فاصلے پر تھی جب اسکی نظر سامنے سے آتے فقير پر پڑی۔
وہ ہر جمعرات کو انکے محلے میں مانگنے آتا تھا۔
پھٹے پرانے سے کپڑے پہنے۔۔ منکوں سے لدا وہ شخص بہت ہی عجیب لگتا تھا۔

”اللہ سے عشق نہيں کر سکتا تو۔۔ ہرگز نہيں کرسکتا۔۔ بس اسے عاشق بنا لے۔۔ ہاں اللہ کو عاشق بنا لے۔۔“
وہ اونچی آواز میں ہمیشہ یہی بڑبڑاتا تھا۔

سبزی کی دکان پر کھڑے لوگوں نے اسکی بات سنی تھی۔ اور پھر سبزی والے نے آلو کی تھیلی سے ایک آلو نکال کر اس فقیر کو دے مارا تھا۔

”بکواس کرتا ہے پاگل جاہل۔۔۔ اللہ کو عاشق بناتا ہے نکل یہاں سے۔۔ !!“
“یہ تو اک عام شخص نے اسے دھتکارا تھا اگر ہم منصور حلاج کا واقع دہرائیں اس وقت کے سوئے ہوئے علماء نے اسے گمراہ ہونے فتوے صادر کر دیے تھے اس واقع کو یوں بیان کیا جاتا ہے ۔۔۔۔

“عشق حاضر ہے سولی پہ لٹک جانے کو…
موت سے بڑھ کر کیا سزا دو گے دیوانے کو”

حسین بن منصور حلاج نے اپنی ذات کی نفی کی اور اللہ کے عشق میں معرفت کے بلند ترین مقام پر پہنچ کر “انالحق” کا نعرہ لگا کر خودی کے راز کو فاش کر دیا…
علماء ظاہر کا دل بیدار نہ تھا اس لیے وہ علم و عرفان کے فرق کو پر کھنے سے معذور رہے اور حلاج کو گمراہ کہہ کر سولی پر لٹکا دیا…
حلاج نے سولی قبول کر لی کیونکہ وہ خدا سے ملاقات کا ذریعہ تھی…
ڈاکٹر نکلس لکھتے ہیں کہ ” جب منصور کو پھانسی دینے کے لیے لایا گیا تو وہ تختۂ دار کو دیکھ کر اس زور سے ہنسا کہ آنکھوں سے پانی بہنے لگا اس کے بعد لوگوں کی طرف دیکھ کر اپنے دوست ابوبکر شبلی کو کہا آپ کے پاس مصلی ہے انہوں نے کہا ہاں پھر منصور نے مصلی بچھا کر دو رکعت نماز ادا کی پھر اسے مصلوب کر دیا گیا..
“عشق حاظر ہے سولی پہ لٹک جانے کو…
موت سے بڑھ کر کیا سزا دو گے دیوانے کو”
بقول علامہ اقبال

منصور کو ہوا لب گویا پیام موت…
اب کیا کسی کے عشق کا دعوہ کرے کوئی…

حسین بن منصور حلاجؒ قید و بند میں تھے تو ابن عطاءؒ آئے اور کہا کہ “آپ نے جو کچھ کہا ہے اس سے معذرت کر لیں”۔ حسین بن منصور حلاجؒ نے کہا کہ “جس نے یہ بات (انا الحق) کہی ہو اُس سے کہو کہ معذرت کر لے۔ اس پر ابن عطاءؒ رونے لگے۔
مولانا رومیؒ “مثنوی معنوی” میں لکھتے ہیں کہ:
جس طرح حضور اقدس ﷺ کا مشت خاک پھینکنا جنگ بدر میں خدا تعالیٰ کا پھینکنا تھا، اسی طرح منصور حلاجؒ کا انا الحق کہنا دراصل منصورؒ کی آواز نہ تھی بلکہ وہ خدائے حقیقی کی ذات کی آواز تھی، جس میں منصورؒ فنا ہو چکے تھے۔
صوفیاء کا بیان ہے کہ حضرت حلاج کو اس لئے شہید نہیں کیا گیا تھا کہ وہ حلولی تھے بلکہ اس لئے کہ انہوں نے حق تعالی کا راز فاش کر دیا “

حانم کی آنکھون میں یہ سنا ہوا واقع ایک خواب کی مانند گھومنے لگا سب اسے پھر سے ہوتا ہوا محسوس ہونے لگا تھا۔۔۔
حانم نے اپنی چیخ روکنے کیلیے منہ پر ہاتھ رکھا تھا۔ اسے برا لگا تھا کہ ایک سبزی فروش نے فقیر کو مارا۔

فقیر نے ایک نظر رک کر اسے دیکھا تھا۔

”گھورتا کیا ہے نکل یہاں سے اور دوبارہ یہاں مت آنا۔۔“
دکان پر کھڑے لڑکے نے کہا۔

فقیر پھر رکا نہيں۔۔
اللہ کو عاشق بنا لو کی صدا لگاتا وہ آگے بڑھنے لگا تھا۔ جب اسکی نظر گلی میں کھڑی حانم پر پڑی۔

فقیر نے غور سے اسے دیکھا تھا۔ اسکے چہرے پر چمکتی خاص چیز فقیر کو ٹھٹھکا گٸی تھی۔

”اس چمک کو چھپا لے۔۔ یہ بہت سوں کو برباد کرے گی اور بہت سوں کو آباد۔۔“
وہ اسکے سامنے کھڑا ہوتا چلایا تھا۔
حانم ڈر کر پیچھے ہوٸی۔ اور پھر وہ فقیر آگے بڑھ گیا۔
جبکہ وہ ڈھڑکتے دل کے ساتھ کچھ بھی سمجھے بنا گھر کی طرف بھاگی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میوزک کی بےہنگم آواز نے بی جان کو کوفت میں مبتلا کیا تھا۔ تھک ہار کر انہوں نے آرجے کے کمرے کا رخ کیا۔
دروازے پر بار بار دستک دینے پر بھی جب کوٸی جواب نا آیا تو وہ اندر داخل ہوٸیں۔۔
بےاختیار ہی انہوں نے دونوں ہاتھ کانوں پر رکھے۔
اونچی آواز میں میوزک لگاۓ سامنے لگی سکرین پر کوٸی مووی دیکھنے میں مگن تھا۔
بی جان کو حیرت ہوٸی کہ اسے میوزک کی کان پھاڑ دینے والی آواز میں مووی کی کیا سمجھ آرہی تھی۔

”ارے بی جان آپ۔۔۔؟“
اچانک اس نے ریموٹ اٹھا کر میوزک بند کیا نظریں ابھی بھی سکرین پر جمی تھیں۔
بی جان کو حیرت ہوٸی تھی کہ اسے کیسے آنے کی خبر ہوٸی۔
وہ ہمیشہ ہی ایسے حیران کرتا تھا۔

”یہ کیا تماشہ لگایا ہوا ہے تم نے۔۔؟؟“
سیدوں کے گھر میں اتنی بےحیاٸی۔۔ شرم نہيں آتی تمہیں۔۔؟؟“
بی جان نے اسے ڈانٹا۔

”اوہو۔۔ بی جان کونسی بےحیاٸی۔۔؟؟“
وہ پرسکون سا پوچھ رہا تھا۔
جبکہ بی جان کی نظر بےساختہ ہی اسکے کمرے کی دیواروں کی طرف اٹھی۔ جن پر لگی قابل اعتراض تصاویر بےحیاٸی کا منہ بولتا ثبوت تھیں۔

لاحول ولا قوت۔۔۔
بی جان بڑبڑاٸیں۔۔
ایک دو بار بی جان نے اسکے جانے کے بعد یہ تصویریں ہٹانے کی کوشش کی تھی لیکن پھر ملازموں کی ایسی شامت آٸی کہ اب سب اسکے کمرے کے آس پاس بھی نہيں پھٹکتے تھے۔

”ملازم کیا سوچیں گے کہ جس خاندان کے افراد نے کبھی ٹی وی تک نہيں دیکھا اس خاندان کا وارث ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟؟“
بی جان کو اس پر افسوس ہوتا ہے۔

”میں تو ایسا ہی ہوں بی جان۔۔ اورمجھے کسی کی پرواہ نہيں۔۔“
اس نے ایک بار بھی پلٹ کر نہيں دیکھا تھا اور نا بی جان کو بیٹھنے کا کہا تھا۔

”اللہ تمہيں ہدایت دے۔۔۔ آمین“
بی جان کی بات پر اس نے چھت پھاڑ قہقہ لگایا تھا۔

جبکہ بی جان اپنا خون جلاتی واپس چلی گٸیں تھیں۔
جبکہ پورا کمرہ ایک بار پھر میوزک سے گونج اٹھا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح کے تین بج رہے تھے اور اتنی ٹھنڈ میں وہ سوٸمنگ کر رہا تھا۔
ہشام نے اپنی کھڑکی سے اسے دیکھا تھا اور پھر سرجھٹک کر کھڑکی بند کردی تھی۔
وہ ایسا ہی تھا۔ اسے ساری رات نیند نہيں آتی تھی۔
البتہ جہاں ہی صبح کے پانچ بجتے تھے اسکی آنکهيں بند ہونا شروع ہو جاتیں تھیں۔ وہ چوبیس گھنٹوں میں سے صرف تین گھنٹے سوتا تھا۔

وہ مچھلی کی طرح ٹھنڈے پانی میں تیر رہا تھا۔ اس عام انسانوں کی نسبت ٹھنڈ کم لگتی تھی۔

چار بجے وہ اپنے کمرے میں لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھا تھا۔
شالنی کے بہت سے میسجز آئے ہوئےتھے۔ اور وہ کونسا لڑکيوں سے دور بھاگتا تھا۔ فوراً اسے جواب دیا تھا۔

”تمہاری آواز اتنی اچھی ہے تم پروفیشنل سنگر کیوں نہيں بن جاتے۔۔؟؟“
شالنی نے پوچھا تھا۔

“Call Me Aap”
اسکے تم کہنے پر آرجے نے ایک طرح حکم دیا تھا کہ مجھے آپ بلاٶ۔
شالنی کی مسکراہٹ پھیکی پڑی۔

”اوکے۔۔ اوکے مسٹرآرجے۔۔ “
وہ زبردستی مسکراٸی۔
پھر وہ کافی دیر تک اس سے مختلف سوال و جواب کرتی رہی تھی۔
اور وہ ہر بار پہلے سے زیادہ اسے الجھا دیتا تھا۔

”ویسا اچھا ہوا آپ مسلم نہيں ہیں۔۔ مجھے مسلمان نہيں پسند۔۔۔ لیکن آپ ہر طرح سے پسند ہیں اب۔۔“
شالنی نے خوبصورت سی مسکراہٹ اچھالی تھی۔

”لیکن مجھے تم ذرا نہيں پسند۔۔“
وہ صاف گوٸی سے جواب دے چکا تھا۔

”کیوں۔۔۔؟؟“
وہ حیران ہوٸی۔

” تمہارے چہرے پر معصومیت نہيں ہے۔تمہارے ہونٹ پرکشش نہيں ہیں۔۔۔ ناک تھوڑی پھیلی ہوٸی ہے۔۔۔ آنکهوں کو تم نے لاٸنر لگا کر بڑا کیا ہوا ہے۔۔ اور رنگ کو فلٹر سے گورا کیا ہے۔۔!
تمہارے جسم میں فٹنس نہيں ہے۔۔!!!“
وہ کمال مہارت سے جواب دے کر اسے سر سے پاٶں تک آگ لگا چکا تھا۔
کتنی ہی دیر شالنی کو یقین نہيں آیا کہ کسی لڑکے نے اسکے متعلق ایسی بات کی تھی وہ جو اپنی خوبصورتی اور ذہانت دونوں میں مشہور تھی۔اب گنگ بیٹھی تھی۔

“How dare you…!!”
ہوش میں آنے کے بعد وہ چلاٸی تھی۔ جبکہ آرجے نیند کی وادی میں اتر چکا تھا۔ کیونکہ گھڑی نے پانچ کا گھنٹا بجا دیا تھا۔

۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: