Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 40

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 40

–**–**–

( زندگی کے سات پہروں کی کہانی )

یہ ان دنوں کی بات ہے جب ضیا ٕ جبیل پیرس میں معاشیات پڑھنے آیا تھا۔ خوبرو وجیہہ شخص جو جلد ہی کلاس میں موجود لڑکيوں کی دل کی دھڑکن بن گیا تھا۔
مشرقی مرد ویسے بھی مغربی عورتوں کی شروع سے کمزوری رہے ہیں ایسے میں مارتھا جو کہ ایک عیساٸی لڑکی تھی وہ ضیا ٕ جبیل پر بری طرح سے دل ہار بیٹھی تھی____
وہ اسے لیکچر کے دوران، کلاس سے باہر غرض کہ ہر جگہ پر جہاں وہ پایا جاتا تھا فرصت سے دیکھتی تھی۔
وہ خوبصورت تھی،ذہین تھی اور کلاس کی ٹاپر لڑکی تھی۔۔
اسکی ضیا ٕ جبیل سے دیوانگی بڑھتی جا رہی تھی اور اسی وجہ سے پڑھاٸی متاثر ہونے لگی تھی۔
مارتھا کی بڑھتی ہوٸی الفت ضیا ٕ سے چھپی نہيں رہی تھی۔
وہ بھی اسکی ان کہی محبت میں گرفتار ہونے لگا تھا۔۔
مارتھا کی اپنے لیۓ دیوانگی دیکھ کر وہ کبھی کبھی حیران ہوتا تھا۔۔ اور بہت جلد دونوں کی یک طرفہ محبت اقرار کے بعد ایک رشتے میں بندھ گٸی تھی___

وقت گزرتا گیا اور ایک سال بعد دونوں نے شادی کرلی تھی۔
انہی دنوں ضیا ٕ سے پوچھے بغیر گھر والوں نے اسکا رشتہ سیدہ خدیجہ سے کردیا تھا۔
جب ضیا ٕ نے گھر اپنی پسند اور شادی کا بتایا تو سید حویلی میں ایک بھونچال آگیا تھا۔۔
اسے مارتھا کو طلاق دینے کا کہا گیا۔۔
اسے کہا گیا کہ ایک عیساٸی لڑکی کو کبھی بھی قبول نہيں کیا جاٸے گا۔۔
وہ پریشان رہنے لگا تھا۔۔ اسے جاٸداد سے عاق کرنے کی دھمکی دی گٸی تھی۔
وہ بزنس کی دنیا میں بہت آگے جانا چاہتا تھا۔
اور بالآخر اسکا خاندان جیت گیا اور محبت ہار گٸی۔۔
ضیا ٕ جبیل نے مارتھا کو چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔
جب مارتھا نے یہ سنا تو وہ پاگل ہوگٸی تھی۔
اس نے ضیا ٕ کی بہت منتیں کی تھیں کہ وہ اسے طلاق نا دے بھلے چھوڑ کر چلا جاٸے لیکن کبھی اسے طلاق نا دے۔۔

ضیا ٕ جبیل کی سیدہ خدیجہ سے شادی ہوگٸی تھی۔۔ لیکن وہ اسے وہ محبت نہيں دے پایا تھا جو وہ مارتھا سے کرتا تھا۔۔ یہی وجہ تھی وہ آج بھی سیدہ خدیجہ یعنی بی جان سے غافل تھا۔۔

اس نے مارتھا کو طلاق نہيں دی تھی لیکن پھر اس سے کوٸی رشتہ نہيں رکھا تھا۔۔ اس نے مارتھا کے اکاٶنٹ میں ایک بڑی رقم جمع کروادی تھی جو انکے بیٹے یعنی جورڈن کی پرورش میں کام آتی۔۔

وہ وقت کے ساتھ مارتھا کو بھولا تھا یا نہيں لیکن مارتھا اسے ایک پل کیلیۓ بھی نہيں بھول پاٸی تھی۔۔
اس نے اپنی پوری زندگی جب تک زندہ رہی ضیا ٕ جبیل سے وفا کرتے گزاری تھی۔
وہ اسکے دکھ میں گھل گھل کر دنیا سے چلی گٸی تھی لیکن ضیا ٕ کو نہيں بھول پاٸی تھی۔

جورڈن نے اپنی ماں کو پل پل مرتے دیکھا تھا۔۔ اور اس چیز نے اسے سید جبیل خاندان سے نفرت کرنے پر مجبور کردیا تھا۔

_____________________

حشام اس فون کال کے بعد بری طرح سے پریشان ہوگیا تھا۔۔
اسے اسکا نام لے کر خاص طور پر بلایا گیا تھا۔
وہ سوچ رہا تھا کہ اسکی پیرس میں تو کیا کہیں بھی کسی سے بھی دشمنی نہيں تھی پھر کون تھا وہ جس نے ماہی کو اغوا کرکے اسے ٹراپ کیا تھا۔۔

اسے اپنے سر میں درد کی لہر اٹھتی محسوس ہوٸی تھی۔
کافی دیر سوچ بچار کے بعد وہ اٹھا اور اش شخص کے دیے گٸے پتے کی طرف گاڑی بڑھا دی تھی۔۔
وہ اپنی وجہ سے ماہی کو نقصان نہيں پہنچنے دے سکتا تھا۔

______________________

”تم مجھے یہاں کیوں لاٸے ہو جنگلی انسان میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے۔۔؟؟“
ماہی چلا چلا کر پوچھ رہی تھی۔ وہ شخص کو پہچان گٸی تھی جس نے پہلے ماسک پہنا تھا چہرے پر اور اب وہ اسے اتارے پرسکون سا ماہی کے سامنے بیٹھا تھا۔۔ وہ جورڈن تھا۔۔
ایک باکسر۔۔ جو عام روٹین میں بھی کسی سے لڑتا تھا تو ہڈی پسلی توڑ کر ہی سکون لیتا تھا۔۔
ایلا نے اسے جنگلی نام کا خطاب دیا تھا جو کہ کافی حد تک درست بھی تھا۔

”چلاٶ مت۔۔۔ تم سے کوٸی دشمنی نہيں ہے۔۔ تمہارے بواٸے فرینڈ سے ہے۔۔!!
جورڈن نے غصے سے جواب دیا تھا۔

”میرا کوٸی بواٸے فرینڈ نہيں ہے۔۔“
ماہی نے اسے یقین دلانے کی کوشش کی تھی۔

”اچھا تو پھر حشام جبیل بھاٸی ہے کیا تمہارا۔۔؟؟“
جورڈن نے چھت پھاڑ قہقہہ لگایا تھا۔۔
اسکی بات سن کر ماہی کا چہرہ فق ہوا تھا۔ وہ حیرت سے گنگ اسے دیکھ رہی تھی۔

”حشام۔۔ حشام سے کیا دشمنی ہے تمہاری۔۔۔؟؟“
ماہی کو اس جنگلی انسان سے خوف محسوس ہو رہا تھا۔ اس سے کچھ بعید نہيں تھا وہ کچھ بھی کر سکتا تھا۔
اسکا نازک سا دل کانپ رہا تھا۔

”پتا چل جاٸے گا تمہيں۔۔!!“
جورڈن اٹھ کر چلا گیا تھا۔ وہ کچن میں آیا تھا فریج سے جوس کی دو بوتلیں نکالی تھیں۔
اور انہيں لے کر واپس لاٶنج میں آیا تھا۔

”زیادہ سوچنے کی ضرورت نہيں ہے وہ کچھ دیر میں پہنچ جاٸے گا یہاں۔۔“
وہ پرسکون سا بتا رہا تھا۔ ٹھنڈ میں بھی ماہی کے چہرے پر پسینے کے قطرے نمایاں تھے۔
جورڈن غور سے اسے دیکھ رہا تھا۔ ماہی کے ہونٹ خشک ہوچکے تھے۔ وہ خشک ہوتے لبوں پر زبان پھیر رہی تھی۔ وہ اٹھ کر ماہی کی طرف بڑھا تھا۔

”مجھے یقین ہے تم بھاگنے کی کوشش نہيں کروگی کیونکہ تمہارا محبوب ادھر ہی آرہا ہے۔۔!!“

”میری طرف مت آٶ دور رہو۔۔“
ماہی چلاٸی تھی۔
جورڈن پر کچھ اثر نہيں ہوا تھا۔ اس نے ماہی کے ہاتھ کھولے تھے۔
اور اسے رسیوں کی قید سے آزاد کیا تھا۔
ماہی نے آزاد ہوتے ہی ایک زوردار تھپڑ اسے رسیدکیا تھا۔

”جانور ہو تم۔۔“
وہ چلاٸی تھی۔
جورڈن کی آنکهيں غصے سے سرخ ہوچکی تھیں۔ وہ جب سے ماہی کو یہاں لایا تھا اس نے ماہی سے کوٸی بدتمیزی اور غیر اخلاقی حرکت نہيں کی تھی اور نہ اسے مارا تھا۔
جورڈن نے مٹھیاں بھینچ کر خود پر ضبط کیا تھا۔ ماہی ایک مضبوط اعصاب کی مالک لڑکی تھی وہ جلدی سے واقعات و حادثات سے خوفزدہ نہيں ہوتی تھی۔
جیسے جیسے اسکے دماغ سے غنودگی کا اثر ختم ہو رہا تھا ویسے ویسے اسکا دماغ تیزی سے کام کر رہا تھا۔

”یہ پی لو۔۔“
وہ جوس کی بوتل کرسی کے ساتھ والے میز پر رکھ کر واپس اپنی جگہ پر جا چکا تھا۔
ماہی حیرت سے اس شخص کو دیکھ رہی تھی جسکے رویے کو وہ سمجھ نہيں پارہی تھی۔
وہ اچھے سے جانتی تھی کہ وہ اس جگہ سے بھاگ نہيں سکتی تھی۔۔ اور ایسی کوشش کرکے وہ اپنے ساتھ کچھ غلط نہيں کرنا چاہتی تھی۔

وہ غور سے جوس پیتے جورڈن کو دیکھ رہی تھی جس کے انداز میں ایک اطمينان البتہ آنکهوں میں گہری نفرت اور غصہ تھا۔
وہ اسے شخص کو سمجھ نہيں پا رہی تھی۔

_____________________

”ہانی بچے کیا تمہاری ماہی بچے سے بات ہوٸی وہ اب تک گھر نہيں آیا۔۔ فون بند جا رہا ہے اسکا۔۔“
لوسی ماں پریشان سی حانم کے کمرے میں داخل ہوٸی تھیں۔

”نہيں لوسی ماں۔۔ میری کوٸی بات نہيں ہوٸی۔۔“
حانم نے جواب دیا تھا۔
لوسی ماں کی بات سن کر وہ بھی پریشان ہوگٸی تھی۔

”پتا نہيں کہاں رہ گیا ہے میرا بچہ۔۔ کبھی بنا بتاٸے گھر سے اتنی دیر باہر نہيں رہتا۔۔“

”آپ پریشان نا ہوں لوسی میں اسکا نمبر ملاتی ہوں۔۔ میٹنگ میں ہوگی آجاٸے گی۔۔“
حانم نے انہيں تسلی دی تھی۔

”میرا دل بہت گھبرا رہا ہے بچے۔۔ خدا سب ٹھیک کرے۔۔“

” ان شاء اللہ سب ٹھیک ہوگا آپ پریشان نہ ہوں آپ آرام کریں جا کر میں کرتی ہوں کچھ۔۔“
حانم کی بات سن کر لوسی ماں چلی گٸی تھیں لیکن حانم پریشانی سے ماہی کا نمبر ملا رہی تھی۔

____________________

حشام جب جورڈن کے دیے گٸے پتے پر پہنچا تو کافی رات ہوچکی تھی۔ یہ ایک سنسان سا علاقہ تھا۔ ساحل سمندر کے قریب۔۔ جہاں گھر ایک دوسرے سے کافی فاصلے پر بنے ہوٸے تھے۔
وہ گاڑی گھر کے باہر کھڑا کر کے اندر گیا تھا۔ گیٹ کھلا تھا اسے کوٸی مسٸلہ نہيں ہوا تھا۔ اسے اپنی نہيں ماہی کی فکر ہو رہی تھی۔

وہ جیسے ہی لاٶنج کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تھا ساکت رہ گیا تھا۔
سامنے کرسی پر ماہی بیٹھی تھی اور صوفے پر جورڈن جس کے ہاتھ میں پسٹل تھا اور اسکا رخ حشام کی طرف تھا۔

”ویلکم ماٸے برادر۔۔ ویلکم۔۔۔“
جورڈن ڈھٹاٸی سے ہنسا تھا۔
حشام اسے حیرت سے دیکھ رہا تھا۔ وہ آج سے پہلے کبھی جورڈن سے نہيں ملا تھا وہ تو اسکا نام تک نہيں جانتا تھا۔

”حشام آپکو یہاں نہيں آنا چاہیۓ تھا۔۔ آپ جاٸیں یہاں سے۔۔“
ماہی اپنا ضبط کھو بیٹھی تھی وہ بری طرح سے رو دی تھی۔

”یقیناً تم مجھے نہيں جانتے ہوگے لیکن میں اچھے سے جانتا ہوں تمہیں حشام جبیل۔۔
لیکن کوٸی بات نہيں آج تم مرنے سے پہلے سب جان جاٶ گے۔۔“
جورڈن کی آنکهوں میں گہری سفاکی تھی۔

”آٶ بیٹھو۔۔“
جورڈن کے اشارے پر حشام صوفے کی طرف بڑھ گیا تھا۔
وہ جاننا چاہتا تھا کہ جورڈن اس سے نفرت کیوں کرتا تھا۔۔ اسکی وجہ کیا تھی۔

”میں ہوں جورڈن جبیل۔۔ ضیا ٕ جبیل کا بیٹا۔۔ بدقسمتی سے تمہارا سوتیلہ بھاٸی۔۔“

حشام کو لگا تھا جیسے گھر کی عمارت اسکے اوپر گر گٸی ہو۔۔ وہ حیرت سے گنگ جورڈن کو دیکھ رہا تھا۔

”یقین نہيں تو اپنے باپ سے پوچھ لو۔۔ سب پتا چل جاٸے گا۔۔“
وہ مسکرایا تھا۔۔۔ زخمی مسکراہٹ___

جورڈن نے اپنے پاس صوفے پر رکھے بڑے سے ڈبے سے کچھ نکالا تھا اور پھر اسے حشام کی طرف پھینکا۔۔

”یہ دیکھو۔۔ دیکھو سب۔۔“

وہ مارتھا اور ضیا ٕ کی تصویریں تھی کچھ شادی سے پہلے کی کچھ بعد کی اور کچھ شادی کی۔۔
حشام پھٹی پھٹی نگاہوں سے انہيں دیکھ رہا تھا۔
اسکے سر میں شدید درد تھا جسے وہ مشکل سے کنٹرول کیۓ ہوٸے تھا۔

”یہ دیکھو یہ نکاح نامہ۔۔ کورٹ میرج کا۔۔“

”جانتے ہو میری ماں مارتھا ساری عمر تمہارے باپ کی بےوفاٸی کی وجہ سے روتی رہی۔۔ وہ گھٹ گھٹ کر مر گٸی۔۔
میں نے باپ کے ہوتے ہوٸے یتیمی کی زندگی گزاری ہے۔۔
مجھے انتہا کی نفرت ہے تم سب سے۔۔ تمہارے خاندان سے۔۔
جب وہ محبت نبھا نہيں سکتا تھا تو کیوں میری ماں کو برباد کیا۔۔ آخر کیوں۔۔؟؟“
وہ چلایا تھا۔۔ جورڈن کی آنکهوں میں نمی جبکہ لہجے میں اذیت تھی۔ اسکے چلانے سے ماہی ڈر گٸی تھی۔

جبکہ حشام تو زلزلوں کی زد میں تھا۔۔ اسے آج پتا چلا تھا اسکا باپ اسکی بی جان کو کیوں نظر انداز کرتا تھا۔
جتنی اذیت اس وقت جورڈن کے اندر پھیلی تھی اتنی ہی حشام کی رگوں میں بھی اتری تھی۔
اس نے اپنے بابا ساٸیں کی زندگی کا یہ رخ تو کبھی دیکھا نہيں تھا۔۔

”تمہارے باپ نے مجھ سے میری سب سے قیمتی چیز چھینی ہے۔۔ میرا واحد سہارا میری ماں۔۔
اور آج میں تمہیں مار کر اپنا بدلہ لونگا ضیا ٕ جبیل سے۔۔۔
بہت پیار کرتا ہے نا وہ تم سے۔۔ آج میں اس سے اسکی قیمتی چیز چھینوں گا۔“
وہ بےرحم ہوا تھا۔

”نن۔۔ نہيں۔۔ تم ایسا نہيں کرو گے جورڈن۔۔“
ماہی چلاٸی تھی۔

”بہت پیار کرتے ہو تم دونوں ایک دوسرے سے ہے نا۔۔؟؟“
جورڈن نے ماہی کی طرف اشارہ کرکے پوچھا تھا۔
حشام نے ماہی کو دیکھا تھا اور پھر نظریں چرا گیا تھا۔

”موت جس انسان کا انتظار کر رہی ہو تم اسے کیا مارو گے جورڈن۔۔“
حشام بولا تو اسکے لہجے میں صدیوں کی تھکن تھی۔ جورڈن نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔

”اور میں ماہی سے محبت نہيں کرتا۔۔ تمہیں غلط فہمی ہوٸی ہے۔۔ اسے جانے دو اسکا کوٸی قصور نہيں۔۔ میرا خاندان تمہارا گنگہار ہے ماہی کا نہيں۔۔“

”تمہیں کیا لگتا ہے تم کہو گے اور میں مان لونگا۔۔“
جورڈن نے قہقہہ لگایا تھا۔

”بہت بار تم دونوں کو ایک ساتھ دیکھا ہے۔۔ تم ماہی کے گھر بھی آتے جاتے رہے ہو۔۔ مجھے بےقوف سمجھا ہے۔۔“

”غصہ انسان سے اسکی سوچنے سمجھنے کی صلاحيت چھین لیتا ہے۔۔ اگر تم غور کرتے تو جان لیتے۔۔“

”میں یہاں تم دونوں کی بکواس ہرگز نہيں سننے والا۔۔ تم تو مرو گے حشام جبیل۔۔ تم مرو گے تب ہی مجھے سکون ملے گا۔۔“
اس نے پسٹل کا رخ حشام کی طرف کیا تھا۔

”نہيں تم ایسا نہيں کرسکتے۔۔“
ماہی حشام کی طرف لپکی تھی۔
جورڈن نے ٹریگر پر انگلی رکھی تھی۔

”نہيں جورڈن تم ایسا نہيں کروگے۔۔“
ماہی رو دی تھی۔ وہ حشام کے آگے کھڑی تھی۔
ماہی کو حشام کیلیۓ تڑپتا دیکھ کر ایک بار پھر جورڈن کے اندر اذیت پھیلی تھی۔

”موت تو برحق ہے ماہی۔۔ اگر اسی طرح لکھی ہے تو اسی طرح سہی۔۔“
حشام نے ماہی کا بازو پکڑ کر اسے ساٸیڈ پر کیا تھا اور خود چلتا جورڈن کے سامنے آیا تھا۔

”اگر میری موت سے میرے باپ کا گناہ۔۔ جو کہ انہوں نے مجبوری میں کیا مٹ جاٸے گا۔۔۔ اور تمہاری تکلیف کم ہوجاٸے گی۔۔ مارتھا ماں کی روح کو سکول مل جاٸے گا تو ماردو مجھے۔۔!!
حشام کا لہجہ حتمیہ تھا۔
جورڈن نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔۔ حشام نے اسکی ماں کو ماں کہا تھا۔۔
وہ رشتوں کو خود سے بڑھ کر عزت دینے والا شخص تھا۔
ایک پل کیلیۓ جورڈن کا دل بدلا تھا دوسرے ہی پل اس نے پسٹل کو حشام کی پیشانی پر رکھا تھا۔

”نہيں جورڈن۔۔ پلیز معاف کردو۔۔ حشام کو کچھ مت کہنا۔۔ میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں۔۔۔“
ماہی اسکے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑی تھی۔

”تمہيں اللہ کا واسطہ ہے ہمیں جانے دو۔۔ حشام کو کچھ مت کہو۔۔
حشام میری زندگی ہے۔۔ تم کہو تو میں تمہارے پاٶں پکڑ لیتی ہوں___!!
وہ روٸے ہوٸے اسکے پاٶں کی طرف جھکی تھی۔

اور کوٸی اپنی محبت کیلیۓ یوں نہ رویا ہوگا___

جورڈن اسے اپنے پاٶں کی طرف جھکتا دیکھ کر تڑپ کر پیچھے ہوا تھا۔
اسے روتی ہوٸی ماہی میں مارتھا نظر آرہی تھی۔
وہ جب بھی اپنے باپ کو مارنے کی بات کرتا تھا مارتھا ایسے ہی روتی تھی۔
وہ اسے کہتی تھی کہ نفرت سے کچھ حاصل نہيں ہوتا۔۔
محبت کرنا سیکھو۔۔ لیکن سارے رشتوں کے ہوتے ہوٸے بھی اسے محبت نہيں ملی تھی۔

جتنی محبت ماہی حشام سے کرتی تھی اتنی ہی مارتھا ضیا ٕ سے کرتی تھی۔

”ماہی تم روٶ مت۔۔ یہاں سے تمہیں محفوظ تمہارے گھر پہنچانا میری ذمہداری ہے۔۔“
حشام نے پہلی بار اسے تم کہہ کر بلایا تھا۔

”مجھے امید ہے کہ مجھے مارنے کے بعد تم ماہی کو سہی سلامت اسکے گھر پہنچاٶ گے۔۔!!“
حشام کے الفاظ پر ماہی تڑپ اٹھی تھی۔

”نہيں جورڈن پلیز جانے دو ہمیں۔۔ تمہيں تمہاری ماں کا واسطہ ہے۔۔!!“

اور جورڈن کے ہاتھ سے پسٹل چھوٹ کر نیچے جا گرا تھا۔۔
وہ حشام کو مار کر ایک اور مارتھا کو تڑپتا ہوا نہيں دیکھ سکتا تھا۔
وہ کبھی اپنی زندگی میں کمزور نہيں پڑا۔
مارتھا کے سامنے کمزور پڑتا تھا اپنی ماں کے سامنے۔۔۔
اور آج پہلی بار وہ کسی اور عورت کے سامنے کمزور پڑا تھا۔۔ ماہی کے سامنے۔۔ اسکے آنسو ماہی کو تکلیف دے رہے تھے۔۔ اس نے تو ماہی کو ہاتھ تک نہيں لگایا تھا۔
اس نے اپنے دل کو کرلاتے ہوٸے پایا تھا۔

”جاٶ یہاں سے۔۔“
وہ صوفے پر سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا۔

”تمہيں یہاں اکیلے نہيں رہنا چاہیۓ جورڈن۔۔ تمہيں بابا ساٸیں سے ملنا چاہیۓ۔۔“
حشام نے کہا تھا۔

”میں نے کہا جاٶ یہاں سے۔۔“
وہ چلایا تھا۔

”چلیں حشام۔۔“
ماہی نے اسکا ہاتھ پکڑ کر کھینچا تھا۔ کچھ دیر بعد وہ اس گھر سے نکل آٸے تھے۔
_____________________

سارے راستے وہ گاڑی میں روتی آٸی تھی۔ حشام اسے روتے ہوٸے دیکھ رہا تھا اسے سمجھ نہيں آرہی تھی کہ وہ کیسے ماہی کو چپ کرواٸے۔۔
بیشک آج اسے بھی بہت بڑا جھٹکا لگا تھا اسکا اپنا دماغ سن ہو کر رہ گیا تھا لیکن ماہی۔۔

“ماہیں پلیز چپ ہوجاٸیں مت روٸیں۔۔ میں آپ سے معافی مانگتا ہوں میری وجہ سے سب ہوا۔۔“۔
وہ معذرت کر رہا تھا۔
ماہی کو اسکا ماہین کہنا بہت اچھا لگتا تھا۔۔ کوٸی اور موقع ہوتا تو یقيناً وہ بہت خوش ہوتی لیکن اس وقت وہ لوگ موت کے منہ سے آٸے تھے۔

”اگر آپکو کچھ ہوجاتا تو میں مرجاتی حشام۔۔ میں تھک گٸی ہوں خود سے لڑتے لڑتے۔۔ مجھ میں مزید ہمت نہيں ہے__!!
وہ رودی تھی۔
حشام کو بہت افسوس ہوا تھا۔ وہ نازک سی ماہی کیلیۓ کچھ نہيں کر سکتا تھا۔۔ اسکے گھر والے ماہی کیلیۓ کبھی نا مانتے اور اگر مان بھی جاتے تو اسکا حال مارتھا جیسا ہوتا۔۔
اور وہ ماہی کو دکھ نہيں دینا چاہتا تھا۔۔ خاص کر اب جب بی جان نے اسکا رشتہ سارہ سے پکا کردیا تھا۔
وہ بہت بری طرح سے پھنسا ہوا تھا۔
حشام نے داٸیں ہاتھ کی انگليوں اور انگوٹھے کی مدد سے اپنے سر کو سہلایا تھا۔

”ایسا کچھ ہوا تو نہيں نا۔۔ پلیز آپ رونا بند کریں مجھے تکلیف ہو رہی ہے۔۔!!“
حشام نے مشکل سے کہا تھا۔
ماہی نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔ اور پھر رونا بند کردیا تھا۔گاڑی میں اب خاموشی چھا گٸی تھی۔

”مجھے اچھا لگا جان کر کہ میرا ایک بھاٸی بھی ہے۔۔ کاش وہ بھی مجھے قبول کرلے۔۔“
حشام نے پہلی بار ماہی کے سامنے اپنے دل کی کوٸی بات کی تھی۔

”آپ اتنے اچھے کیوں ہیں حشام۔۔ کیوں۔۔؟؟“
ماہی کو ایک بار پھر سے رونا آیا تھا۔

”دنیا کا ہر انسان اچھا ہوتا ہے ماہین۔۔ بس فرق یہ کہ جس سے ہم محبت کرتے ہیں ہمیں اسکے علاوہ کسی اور کی اچھاٸی نہيں نظر آتی۔۔“
وہ بالکل ٹھیک کہہ رہا تھا۔۔ ماہی بس خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی۔

____________________

”کہاں تھی تم ہم کب سے پریشان ہو رہے ہیں۔۔؟؟“
جیسے ہی ماہی گھر میں داخل ہوٸی تھی ایلا اس پر بگڑی تھی۔
لاٶنج میں حلیمہ بی، لوسی ماں، ایلا اور حانم پریشانی سے اسکے انتظار کر رہی تھیں۔

”میں حشام کے ساتھ تھی۔۔“
ماہی نے نظریں چراتے ہوٸے کہا تھا۔ رونے کے باعث اسکی آنکهيں سوجن کا شکار ہوگٸی تھیں وہ نہيں چاہتی تھی کہ کسی کو پتا چلا۔

”وہ تو ٹھیک ہے لیکن بتا دینا چاہیۓ تھا نا۔۔ہم سب اتنا پریشان ہوگٸے تھے۔۔۔“
حانم نے فکر مندی سے کہا تھا۔

”موبائل کی بیٹری ختم ہوگٸی تھی اس لیۓ موبائل بند تھا۔مجھے نیند آٸی ہے میں سونے جا رہی ہوں۔۔“
ماہی سپاٹ لہجے میں کہتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گٸی تھی جبکہ وہ سب اسے حیرت سے جاتا دیکھ رہی تھیں۔

”شکر ہے ماہی بچہ ٹھیک ہے۔۔ سب اپنے اپنے کمرے میں جا کر سوجاٶ۔۔ رات بہت ہوگیا ہے۔۔“
لوسی ماں کے کہنے پر ایلا اور حانم اپنے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گٸی تھیں۔

_____________________

#18___January

آج کی صبح پیرس کی سب سے حسین ترین صبح تھی۔۔ خاص طور پر حانم کیلیۓ آج وہ اپنے روحان سے ملنے والی تھی۔ آج انکی شادی کی پہلی اینیورسری تھی__
وہ صبح چھ ساتھ بجے کی فلاٸیٹ سے پیرس پہنچنے والا تھا۔ اور حانم اسکا استقبال کرنے والی تھی۔
اس نے ایک خوبصورت سی جگہ پر جہاں لوگوں کا ہجوم کم ہوتا تھا روحان کا ویلکم کرنا تھا۔۔
سفید برف سے بچھی قالین پر۔۔ گول میز کے گرد دو خوبصورت کرسیاں رکھے۔۔
برف کے قالین پر سرخ گلاب بچھاٸے اس نے اس جگہ کو طلسماتی بنا دیا تھا۔
وہ خود بھی سرخ و سفید رنگ کی میکسی پہنے ہوٸے تھی۔
سفید رنگ کا اونی کوٹ جس سے اسکا نازک وجود چھپا ہوا تھا۔ وہ ایک گڑیا لگ رہی تھی۔
سر پر خوبصورتی سے حجاب کیا گیا تھا۔
اسے حسین اسکی خوبصورتی اور مسکراہٹ بنا رہی تھی۔
وہ آج خوش تھی۔۔ انتہا کی خوش۔۔
اسے ہر چیز مسکراتی ہوٸی محسوس ہو رہی تھی___
اسکے سامنے میز پر چاٸے اور ناشتے کا سامان رکھا تھا۔۔ روحان نے سیدھا ایٸر پورٹ یہاں آنا تھا۔۔ وہ دونوں ناشتہ ایک ساتھ کرنے والے تھے۔

احساس محبت کا میری #ذات پہ رکھ دو
تم ایسا کرو ہاتھ میرے ہاتھ پہ رکھ دو

معلوم ہے ، دھڑکن کا تقاضا بهی ہے لیکن
یہ بات کسی خاص #ملاقات پہ رکھ دو

یوں پیار سے ملنا بهی مناسب نہیں لگتا
یہ خواب کا قصہ ہے اسے #رات پہ رکھ دو

اظہار ضروری ہے تو پھر کہہ دو زباں سے
یہ دل کی کہانی ہے روایات پہ رکھ دو__

یہ پیار کی خوشبو میں نیا رنگ بھرے گا
اک پھول اٹھا کر میرے #جذبات پہ رکھ دو

ہر وقت تمہارے ہی تصور میں رہوں میں
#جادو سا کوئی میرے خیالات پہ رکھ دو

اک میں کہ میرے شہر میں #بارش نہیں ہوتی
اک تم کہ ملاقات کو #برسات پہ رکھ دو___

مانوں گی سحر تب ہی کہ جب بات بنے گی
اس بار میری جیت میری مات میں رکھ دو__!!

اس نے خوبصورت الفاظ کو میز پر رکھی خوبصورت سی نوٹ پیڈ پر لکھا تھا جس پر اس نے آج کا دن تاریخ اور وقت لکھا تھا۔۔

یہاں کہیں کہیں پر اسے لوگ نظر آرہے تھے جو یقيناً کپل تھے اور ناشتے کی غرض سے آٸے تھے۔
یہ ایک اوپن ریسٹورینٹ تھا۔۔ جسے آٸس ریسٹورینٹ کا نام دیا گیا تھا۔۔ وجہ یہاں کی سفیدی تھی۔۔
ایک تو طرف پر بنا تھا۔۔ اور دوسرا یہاں ہر چیز کرسٹل کے برتنوں میں پیش کی جاتی تھی۔

حانم نے اپنا میز سب الگ اور دور بک کروایا تھا۔
حانم نے موبائل میں وقت دیکھا تھا۔۔ آٹھ بج چکے تھے۔۔ وہ پہنچنے والا تھا۔۔ حانم نے اپنے دل کو بہت تیزی سے دھڑکتے پایا تھا۔۔

”گڈ مارننگ مسز حانم روحان___!!“
وہی سحر انگیز آواز اسکے کانوں سے ٹکراٸی تھی۔
حانم کو اپنا سانس اٹکتا محسوس ہوا تھا۔ وہ ایک جھٹکے سے اٹھی تھی اور پلٹ کر دیکھا تھا۔۔
یقيناً وہ اسکے پیچھے کھڑا تھا۔

لیکن جیسے ہی حانم کی نظر روحان کے چہرے پر پڑی تھی۔۔ اس اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا تھا۔۔
اس نے خود کو پیرس کی برف میں دفن ہوتا محسوس کیا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: