Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 41

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 41

–**–**–

(زندگی کے سات پہروں کی کہانی)

”گڈ مارننگ مسز حانم روحان___!!“
وہی سحر انگیز آواز اسکے کانوں سے ٹکراٸی تھی۔
حانم کو اپنا سانس اٹکتا محسوس ہوا تھا۔ وہ ایک جھٹکے سے اٹھی تھی اور پلٹ کر دیکھا تھا۔۔
یقيناً وہ اسکے پیچھے کھڑا تھا۔

لیکن جیسے ہی حانم کی نظر روحان کے چہرے پر پڑی تھی۔۔ اس اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا تھا۔۔
اس نے خود کو پیرس کی برف میں دفن ہوتا محسوس کیا تھا۔

”میری دعا ہے کہ جس دن ہر ذی روح کو زندہ کیا جاٸے گا اور مُردوں کو قبروں سے اٹھا جاٸے گا ہمارا اس دن بھی سامنا نہ ہو___!!
اس نے کتنی شدت سے دعا کی تھی اور آج چھ سال بعد وہ شخص اسکے سامنے کھڑا تھا۔
زندہ، سہی سلامت۔۔ جسے اس نے پانچ سال پہلے مرا ہوا تصور کرلیا تھا۔

حانم کو اپنا دماغ گھومتا ہوا محسوس ہوا تھا۔

”میں روحان حیدر__!!“
وہ مسکرا کر کہتا حانم کی طرف بڑھا تھا۔

”نہيں۔۔“
حانم کے چہرے پر بےیقینی سی پھیلی تھی۔

”حانم میری بات سنو۔۔“
وہ شاید اسکی کیفیت سمجھ رہا تھا۔۔ وہ ایک قدم اور اسکی بڑھا تھا۔

”اتنا بڑا دھوکہ۔۔“
حانم چلانا چاہتی تھی لیکن آواز جیسے دم توڑ گٸی تھی۔
وہ الٹے قدموں برف پر چل رہی تھی۔

”یہ نہيں ہوسکتا۔۔۔۔ نہيں ہو سکتا۔۔“
وہ بڑبڑا رہی تھی۔ اور پھر وہ پلٹی۔۔ اس نے وہاں سے بھاگ جانے میں عافیت جانی تھی۔ وہ اس شخص سے دور چلی جانا چاہتی تھی۔
وہ بھاگ رہی تھی، فاصلہ بڑھ رہا تھا۔۔ سفید برف پر اسکے جوتوں کے نشان واضح تھے۔

کچھ دیر بعد روحان کا سکتہ ٹوٹا تھا۔ وہ جانتا تھا حانم کا ری ایکشن کچھ ایسا ہی ہوگا۔۔

جیسے ہی وہ ہوش کی دنیا میں لوٹا حانم کے پیچھے بھاگا تھا۔

”حانم رک جاٶ میری بات سنو۔۔ پلیز رک جاٶ۔۔“
اسے خود کو چلاتے پایا تھا۔

حانم اب شہر میں داخل ہوگٸی تھی۔ وہ اندھوں کی طرح بھاگ رہی تھی۔ اس نے اپنے دماغ کو سن پایا تھا۔
اور اسی پاگلوں والی حالت میں وہ داٸیں طرف سے آتی ایک تیز رفتار ساٸیکل سے ٹکرا گٸی تھی اور جسے ایک سترہ سال کا لڑکا چلا رہا تھا۔
وہ نیچے گری تھی۔۔
حانم نے اپنے دماغ کو گھومتا پایا تھا اور پھر اسکی آنکهوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا تھا۔

اور ایسا ہی اندھیرا روحان کو اپنی زندگی میں چھاتا محسوس ہوا تھا جب اس نے حانم کو سڑک پر گرے پایا تھا اور اسکی پیشانی سے خون نکل رہا تھا۔

”حانم__“
وہ پوری قوت سے چلایا تھا اور پھر تڑپ کر اسکی طرف بڑھا تھا۔
_____________________

کبھی کبھی انجانے کی گٸی غلطیاں انسان کی زندگی کا ناسور بن جاتی ہیں جنہيں نہ کبھی بھلایا جاتا ہے اور نہ انکی معافی دی جاتی ہے___

کچھ ایسا ہی اسکے ساتھ بھی ہونے جا رہا تھا۔ وہ ہاسپٹل کے بیڈ پر نیم دراز اپنی اس کاٸنات کو دیکھ رہا تھا جسکے لیۓ وہ سالوں تڑپا تھا___
کوٸی اسکی تڑپ سے واقف نہيں تھا۔۔۔ اس نے بھی اندھیروں کی زندگی گزاری تھی۔۔

حانم کی پیشانی پر چوٹ لگنے کے باعث گہرا زخم ہوگیا تھا جس سے خون نکلا تھا۔ اور کسی گہرے صدمے کی وجہ سے وہ اپنے حواس کھو بیٹھی تھی۔
وہ ہاسپٹل میں کمرے کے باہر رکھے انتظار گاہ میں رکھے صوفے پر بیٹھ چکا تھا۔سب اسکی غلطی تھی۔۔ اسے محسوس ہو رہا تھا۔۔

وہ سید روحان بن حیدر جبیل جس نے دنیا میں سب سے زیادہ تکلیف اٹھاٸی تھی، وہ آرجے تھا۔
آرجے سے روحان جبیل کا سفر اس رات شروع ہوا تھا جس رات اسکا ایکسڈینٹ ہوا تھا۔۔ اور سب نے اسے مرا ہوا سمجھ لیا تھا۔

______________________

”ماما۔۔۔ کہاں ہیں آپ۔۔“
وہ تیز روشنی میں سرنگ کے اندر بھاگ رہا تھا۔
سرنگ کے دوسرے کنارے پر اسے اپنی ماں نظر آٸی تھی۔ سیدہ عاٸشہ جبیل۔۔
وہ تڑپ کر اپنی ماں کی طرف بڑھا تھا۔

”روحان بیٹا۔۔ آگٸے تم۔۔۔“
عاٸشہ جبیل اسے دیکھ کر مسکراٸی تھیں۔

اسکی ماں اور اسکے درمیان تھوڑا سا فاصلہ رہ گیا تھا کہ روحان ایک ان دیکھی دیوار سے ٹکرایا تھا جو ان راستے میں ان دونوں کے درمیان حاٸل تھی۔

”ماما۔۔ مجھے آپکے پاس آنا ہے۔۔“
وہ رو رہا تھا۔۔ وہ شیشے کی دیوار تھی۔ اس دیوار کے اس پار اسے اپنی ماں مسکراتی نظر آرہی تھی۔

”واپس چلے جاٶ روحان تمہارا وقت نہيں ہوا مجھ سے ملنے کا۔۔“
وہ مسکرا کر کہہ رہی تھیں۔

”نہيں ماما۔۔ مجھے آپکے پاس آنا پے مجھ سے کوٸی پیار نہيں کرتا۔۔“
وہ دس سال کا بچہ رو رہا تھا۔

”جاٶ روحان واپس جاٶ۔۔ یہ جگہ تمہارے لیۓ نہيں بنی۔۔ جاٶ تمہیں ابھی بہت کچھ کرنا ہے، تم تو میرے پیارے روحان ہو۔۔ میرے پیارے بیٹے۔۔ جاٶ اب۔۔“
اچانک سرنگ میں اندھیرہ پھیلنا شروع ہوا تھا۔۔ روشنی دھیرے دھیرے ختم ہو رہی تھی۔۔
اسکی ماں کی شبیہہ دھندلی ہوتی جارہی تھی۔

”ماما۔۔ مت جاٸیں۔۔“
وہ زور زور سے چلا رہا تھا۔
اسے مدھم سی روشنی میں آخری بار اپنی ماں مسکراتی نظر آٸی تھی اور پھر ہر طرف اندھیرہ چھا گیا تھا۔

______________________

جسم میں اٹھتی تکليف کے باعث آرجے کی آنکھ کھلی تھی۔ اس نے اپنے آپ کو زمین پر گرے پایا تھا۔ اس سے اٹھا نہيں جا رہا تھا۔
یہ معجزہ تھا یا کچھ اور۔۔ جس وقت ٹرک نے اسکی گاڑی کو اڑایا تھا۔ وہ اس سے نکل گیا تھا۔۔
ٹرک کی اپنی لاٸٹس بند تھی۔ اندر بیٹھے لوگ اسے دیکھ نہيں پاٸے تھے۔ اور سڑک کے باٸیں طرف بنے اس جنگل میں گرا تھا جو نیچے(گہرائی ) پر تھا۔

وہ مشکل سے کراہتا ہوا زمین سے اٹھا تھا۔ رات ہونے کی وجہ سے اسے ہر چیز دھندلی نظر آرہی تھی۔
آرجے نے اپنی آنکهوں کو مسل کر دیکھا تھا۔ اسے کچھ فاصلے پر اونچاٸی پر سڑک نظر آٸی تھی۔
وہ لنگڑاتا ہوا چل رہا تھا۔۔ شاید اسکے پاٶ کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی۔
وہ جتنی زور سے سڑک پر اور پھر نیچے گرا تھا یقیناً جسم کی بہت سی ہڈیاں ٹوٹ چکی ہونگی۔

اسے اپنی گردن پر گہرہ سیال ماٸع بہتا محسوس ہو رہا تھا۔ وہ خون تھا جو اسکے سر سے نکل رہا تھا۔
وہ مشکل سے سڑک تک آیا تھا اور اپنی جلتی ہوٸی گاڑی کو دیکھ رہا تھا۔ آرجے کو اپنی ٹانگوں کی جان نکلتی محسوس ہو رہی تھی۔
اسے اپنی آنکهوں کے سامنے اندھیرہ چھاتا محسوس ہو رہا تھا اور پھر وہ سڑک پر ڈھے گیا تھا۔

____________________

گاڑی میں چھوٹے چھوٹے بچوں کی ہنسی گونج رہی تھی۔ گاڑی اپنی رفتار سے آگے بڑھ رہی تھی۔

”لگتا ہے بچوں کو نیند نہيں آٸی آج۔۔“
ڈاکٹر باسط احمد نے اپنے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی اپنی بیوی سے کہا تھا۔

”ڈاکٹر صاحب آگے دیکھیں۔۔“
اچانک مقدس یعنی ڈاکٹر باسط کی بیوی چلاٸی تھی۔
ڈاکٹر باسط نے گاڑی کو بریک لگایا تھا انہيں سڑک کے درميان کوٸی انسان پڑا ہوا نظر آرہا تھا۔
وہ ایک جھٹکے سے گاڑی سے باہر نکلے تھے۔ اور پھر آرجے کی طرف بڑھے تھے۔
موبائل کی روشنی میں انہوں نے آرجے کو دیکھا تھا جو بہت ہی زخمی حالت میں تھا۔ جیسے ہی روشنی آرجے کے چہرے پر پڑی تھی۔ ڈاکٹر باسط کی بیوی مقدس اچھلی تھی۔ اسے کرنٹ لگا تھا۔

وہ شخص اسکا محسن تھا جو موت و حیات کی کشمکش میں پڑا تھا۔

”یہ زندہ ہے۔۔ ہمیں کچھ کرنا چاہیۓ۔۔“
ڈاکٹر باسط بولے تھے۔

”یہ میرے محسن ہیں باسط صاحب۔۔۔ ہمیں ہر حال میں انہيں بچانا چاہیۓ۔۔“
اور پھر وہ دونوں میاں بیوی اسے اپنی گاڑی میں ڈال کر لے گٸے تھے۔۔ بنا یہ جانے کہ وہ کون تھا۔۔؟؟ کہاں سے تھا۔۔۔؟؟

___________________

ڈاکٹر باسط احمد شہر کی ایک معزز شخصیت تھے وہ نا صرف پاکستان کی بلکہ باہر کی دنیا میں بھی جانے جاتے تھے۔ وہ ایمبریولوجی کے میدان میں ماہر ہونے کے ساتھ ایک انٹرنيشنل اسلامک سکالر تھے۔ دنیا بھر کے مسلمان ان سے واقف تھے۔
عمر پچپن سے ساٹھ سال تھی۔ کسی زمانے میں لندن ڈاکٹریٹ کی ڈگری لینے گٸے تھے دل ایسا پلٹا کہ اسلامی دنیا میں ایک بڑا نام کما لیا۔

انکی بیوی مقدس ایک بتیس سالہ عورت تھی جن سے انہوں نے دوسری شادی کی تھی۔

اس رات وہ آرجے کو اٹھا کر اپنے ہاسپٹل لاٸے تھے جس کا نام النور تھا۔
آرجے کی حالت بہت خراب تھی۔ اسکے بچنے کی امید بہت کم تھی۔ پھر بھی ڈاکٹرز نے اپنی کوشش جاری تھی۔
اسکے سر پر گہری چوٹ لگی تھی۔ تین دن بعد آرجے کو ہوش آیا تھا۔ اس نے تھوڑی سی آنکهيں کھولی تھیں۔

اسے محسوس ہوا تھا کمرے میں اندھیرا تھا۔
اسے ہوش میں آتا دیکھ کر نرس ڈاکٹر کو بلانے بھاگی تھی۔
وہ شاید موبائل پر کوٸی خبر سن رہی تھی جسے وہ ہڑبڑاہٹ میں اس کمرے میں چھوڑ گٸی تھی۔

موبائل پر اینکر کسی کے مرنے کی خبر دے رہا تھا۔
ملک کا مشہور اور سب کے دلوں میں دھڑکنے والا سنگر آرجے ایک حادثے میں جاں بحق ہو چکا تھا۔

آرجے کو اپنا سانس اٹکتا محسوس ہو رہا تھا۔ وہ زندہ تھا۔ کیا کسی کو نظر نہيں آرہا تھا۔

”میں زندہ ہوں۔۔۔“
وہ چلایا تھا۔

”یہاں اتنا اندھیرا کیوں ہے۔۔؟؟“
وہ چیخ رہا تھا۔ اسے اپنے جسم کے ہر جوڑ سے درد کی ایک لہر اٹھتی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ کہاں تھا وہ خود نہيں جانتا تھا۔

”یہاں اندھیرہ کیوں ہے۔۔ کوٸی ہے یہاں۔۔؟؟“
وہ پوچھ رہا تھا اور ساتھ ساتھ اپنے ارد گرد چیزوں کو ہاتھ سے ٹٹول رہا تھا۔ ہاتھ پر لگی ڈرپ سے وہ جان چکا تھا کہ وہ ہاسپٹل میں تھا۔ لیکن اسکے کمرے میں اتنا اندھیرا کیوں تھا۔

ڈاکٹر باسط اسکے کمرے میں دروازے میں ابھرے تھے۔ وہ حیرت سے پٹیوں میں جکڑے آرجے کو دیکھ رہے تھے۔ جسکے سر اور منہ پر بھی پٹیاں لگی تھیں۔
کمرے میں بہت تیز نہ سہی لیکن اچھی خاصی روشنی تھی۔ پھر اسے کیوں اندھیرا محسوس ہو رہا تھا۔

”مجھے لگتا ہے ڈاکٹر مریض کے سر پر پیچھے کی جانب چوٹ کے لگنے کے باعث شاید وہ اپنی بیناٸی کھو چکے ہیں۔۔!!
ایک دوسرے ڈاکٹر نے ڈاکٹر باسط سے کہا تھا۔ جو افسوس سے سر ہلا کر رہ گٸے تھے۔

______________________

جب آرجے کو ڈاکٹروں نے بتایا تھا کہ وہ اپنی بیناٸی کھو چکا ہے تو اسے یقین نہيں آیا تھا۔ وہ پاگلوں کی طرح ہزیانی انداز میں چلایا تھا۔
وہ تو سکیننگ آٸیز رکھتا تھا۔ ایسے کیسے وہ اندھا ہو سکتا تھا۔
جب وہ اپنی اس محرومی پر چلاتا تھا تو اسے دماغ سے درد کی ٹیسیں اٹھتی محسوس ہوتی تھیں۔۔
تھوڑا سا اٹھ کر ہلنے جلنے کی کوشش کرتا تھا تو جسم لرز جاتا تھا۔
”میرے ساتھ ایسا نہيں ہو سکتا۔۔ میں اندھا نہيں ہو سکتا۔۔۔“
وہ چلاتے چلاتے رونے لگ جاتا تھا۔
وہ آرجے جو لاکهوں دلوں کی دھڑکن تھا۔ وہ ہاسپٹل میں گم نام پڑا تھا کسی کو اسکی خبر تک نہيں تھی۔

آرجے کو اپنا دل پھٹتا محسوس ہوتا تھا۔ جانے کتنے دن ہوگٸے تھے وہ اپنے چاروں طرف اندھیرا دیکھ رہا تھا۔
اور اندھیروں میں جینا بہت تکليف دہ ہوتا ہے۔۔ بہت زیادہ____
_____________________

سیدوں کی حویلی میں قیامت ٹوٹ پڑی تھی۔ حشام پاکستان آگیا تھا۔
آرجے کی گاڑی سے کچھ فاصلے پر پولیس والوں کو اسکا موبائل اور والٹ ملا تھا جس سے اسکی گاڑی کی شناخت ہوٸی تھی۔
پوليس والوں کو اسکی باڈی نہيں ملی تھی۔ انکے مطابق اسے جلادیا گیا تھا گاڑی کے ساتھ ہی۔۔

حشام تو پاگل ہونے کو ہوگیا تھا۔

”آرجے نہيں مر سکتا۔۔ ضرور اسے کسی نے کڈنیپ کیا ہے۔۔ وہ جان بوجھ کر گاڑی جلا گٸے ہیں۔۔۔ وہ نہيں مر سکتا۔۔ مجھے میرا بھاٸی چاہیۓ۔۔ میں نہيں چھوڑوں گا کسی کو۔۔“
اس نے زندگی میں پہلی بار اپنا ٹیمپر لوز کیا تھا۔ پوليس چھان بین میں لگی ہوٸی تھی لیکن کہیں سے بھی اسکی خبر نہيں آٸی تھی۔
سنسان علاقہ تھا وہ۔۔ آس پاس جو علاقے تھے وہاں پتا گیا تھا لیکن کہیں سے بھی اسکی خبر نہيں ملی تھی۔

جب مکی کو پتا چلا تھا وہ بھی بہت رویا تھا۔۔ ہر آنکھ اشکبار تھی۔ لیکن حشام کو یقین تھا آرجے مر نہيں سکتا تھا۔۔

___________________

ڈاکٹر باسط احمد کی بیوی مقدس آرجے کو ملنے ہاسپٹل آٸی تھی لیکن اسکی پاگلوں جیسی حالت دیکھ کر وہ پریشان ہوگٸی تھی۔
کمرے کے باہر کھڑے ہو کر وہ اسے کھڑکی سے دیکھ رہی تھی۔ جو بےسود بستر پر پڑا تھا۔
اسکے جسم کی کافی ہڈیاں ٹوٹی تھیں جو رفتہ رفتہ ٹھیک ہو رہی تھیں۔
اسےایک مہینہ ہوگیا تھا اس ہاسپٹل میں آٸے ہوٸے وہ ایک بس ایک ہی بات بار بار دہراتا تھا۔

”میرے ساتھ ایسا نہيں ہوسکتا۔۔ میں اندھا نہيں ہوسکتا۔۔ تم لوگ مذاق کر رہے ہو میرے ساتھ۔۔“
وہ پاگلوں کی طرح چلاتا تھا۔ آہستہ آہستہ اسکے جسمانی زخم مندمل ہو رہے تھے لیکن اس اندھیرے نے اسکی روح میں زخم کیۓ تھے۔ اندھیرا اسکی روح میں پنجے گاڑ کر بیٹھ چکا تھا۔

مسز مقدس باسط نم آنکهيں لیۓ اسے دیکھ رہی تھی۔
اسے آج بھی وہ رات یاد تھی جب وہ پیٹ بھرنے کیلیۓ جسم فروشی کرتی تھی اور ایک ایسی ہی رات میں وہ مکی اور آرجے سے ملی تھی۔
مکی نے اسے گاڑی کے اندر بٹھایا تھا لیکن آرجے نے اسے پیسے دے کر باہر نکال دیا تھا۔

وہ حیران رہ گٸی تھی۔ اور اس روز وہ بہت روٸی تھی اس نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ بھوکی مر جاٸے گی لیکن یہ گناہ دوبارہ نہيں کرے گی۔

پھر اس نے کام کرنے کی بہت کوشش کی۔۔ لوگوں کے گھروں میں جاتی تو وہاں کے مرد اسے حوس بھری نظروں سے تکتے تھے۔
کتنے ہی گھروں سے وہ بنا پیسے لیۓ کام چھوڑ آٸی تھی کیونکہ وہ گناہوں کی دلدل میں مزید دھنسنا نہيں چاہتی تھی۔

اور ایک ایسے ہی دن وہ ڈاکٹر باسط احمد جو پاکستان میں مولانا کی حثیت سے جانا چاہتا تھا اسکے جلسے میں پہنچ گٸی تھی۔ اس نے ڈاکٹر سے سوال کیا تھا کہ اس پر اور اسکے بچوں پر خودکشی حلال ہوسکتی ہے۔۔؟؟
ڈاکٹر باسط اسکی بات سن کر کانپ اٹھے تھے اور پھر اسکے زندگی کے حالات جان کر انہوں نے مقدس سے ناصرف شادی کی تھی بلکہ اسکے بچوں کو بھی اپنایا تھا____

اور مقدس اسے اپنی خوش بختی سمجھ رہی تھی زخمی حالت میں آرجے انہيں ملا تھا۔۔ لیکن اسکی حالت دیکھ کر دل بہت دکھتا تھا____

______________________

دو مہینے گزر چکے تھے۔ آرجے کے جسم کے گھاٶ کافی حد تک بھر چکے تھے۔ اب اسکے چلانے میں بھی کمی آگٸی تھی۔
ڈاکٹر باسط نے اسے سمجھایا تھا کہ وہ جیسے ہی جسمانی طور پر مکمل ٹھیک ہوگا اسکی آنکهوں کو آپریشن کیا جاٸے گا۔۔ وہ مکمل ٹھیک ہوجاٸے گا۔
لیکن وہ خاموش رہا تھا۔۔۔
اب خاموشی نے اس پر غلبہ پالیا تھا۔ اسے پہلی بار محسوس ہوا تھا کہ کاٸنات کسی ایسی ذات کے ہاتھ میں ہے جب تک وہ نہ چاہے کوٸی کچھ نہيں کر سکتا۔۔
اسکا دل روتا تھا۔۔ آنکهوں سے آنسوں نکلتے تھے لیکن وہ کس کو سناتا۔۔

جب اس سے اسکی فیملی کے متعلق پوچھا گیا تو وہ خاموش رہا تھا۔ اور اس نے کہہ دیا تھا کہ اسکا کوٸی نہيں تھا۔۔
اسے حیرت ہوتی تھی کوٸی اسکی تلاش میں نہيں نکلا تھا۔۔۔
سب اسے بھول گٸے تھے۔۔ وہ جن سے بات کرنے کا وقت بھی نہيں ہوتا تھا آرجے کے پاس آج ان سے دوری پر وہ تڑپ رہا تھا۔۔۔

لیکن شاید وہ نہيں جانتا تھا۔۔ یہ مکافات عمل تھا۔ اس نے حانم کو اندھیروں کی زندگی میں دھکیل دیا تھا۔۔ اور پھر اس سے اسکی بیناٸی چھین لی گٸی تھی،
اس نے حانم کو سب سے دور کردیا تھا اور آج وہ خود سب سے دور تھا___

_______________________

ڈاکٹر باسط اور مقدس اسے اپنے گھر لے آٸے تھے۔ آرجے کے ہونٹوں پر خاموشی کی مہر لگ چکی تھی۔
اسے اس اندھیری زندگی میں ہر طرف خدا کی ذات محسوس ہوتی تھی۔
وہ آرجے کتنا بھاگا تھا لیکن وہ ایک عام سی لڑکی کو نہيں ڈھونڈ پایا تھا۔۔
وہ آرجے جسے اپنے وجود پر گھمنڈ تھا آج وہ تاریکیوں کی نظر تھا۔۔
وہ کچھ نہيں کر سکتا تھا۔۔
مقدس نے اسے سب بتادیا تھا کہ وہ کون تھی۔ وہ آرجے کو اپنا منہ بولا بھاٸی مانتی تھی۔۔
سب جاننے کے بعد بھی اسکے ہونٹوں سے ایک لفظ نہيں نکلا تھا۔

اس اندھیرے کی زندگی سے تو موت اچھی تھی وہ محسوس کرتا تھا۔
ڈاکٹر باسط نے خاص اسکی دیکھ بھال کیلیۓ ملازم رکھے تھے جو اسے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے کر جاتے تھے۔
وہ اتنا بےبس اور لاچار ہو چکا تھا کہ اپنے ہاتھ سے پانی تک بھی نہيں لے کر پی سکتا تھا۔

ڈاکٹر باسط کے گھر میں زیادہ تر قرآن پاک کی تلاوت لگی ہوتی تھی یا پھر انکے جلسوں کی ریکارڈ ویڈیو جو مقدس بہت اشتیاق سے سنتی تھی۔

”انسان چاہے جتنے مرضی گناہ کرلے۔۔ اسے اللہ نے آزاد چھوڑا ہوا ہے۔۔۔ لیکن جب اللہ رسی کھینچتا ہے تو انسان تڑپ بھی نہيں پاتا۔۔ خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جو کلمہ گو مرتے ہیں۔۔۔ جنہيں اللہ معافی کا موقع دیتا ہے۔۔
آج بھی وقت ہے توبہ کرلو۔۔ توبہ کرلو۔۔ کہ جب میرا رب پکڑنے پر آتا ہے تو کچھ کام نہيں آتا۔۔ بیشک میرے رب کی پکڑ بڑی زبردست ہے__!!“

جب جب آرجے انکی باتيں انکے بیانات سنتا تھا اسے خدا کی ذات کا احساس ہوتا تھا۔۔ اسے محسوس ہوتا تھا کہ وہ کچھ نہيں تھا۔۔ اللہ ہی سب کچھ تھا ہے اور رہے گا۔۔
ڈاکٹر باسط کی آواز میں تاثیر تھی۔ وہ لوگوں کے دلوں کو پھیر دینے کی صلاحيت رکھتے تھے۔شاید اسی لیۓ اللہ نے آرجے کی ذمہداری انہيں سونپی تھی۔

____________________

”میاں اب تو تم کافی حد تک ٹھیک ہوچکے ہو۔۔ چاہو تو بیٹھ کر اشاروں سے نماز پڑھ سکتے ہو۔۔“
اس رات ڈاکٹر باسط اسکے پاس تشریف لاٸے تھے۔
انکی بات سن کر آرجے چونکا تھا۔ اس نے ڈاکٹر باسط کو نہيں دیکھا تھا۔۔ لیکن وہ کہہ سکتا تھا کہ وہ شخص دیکھنے میں بھی بہت بارعب ہوگا۔

نماز کا لفظ سن کر اسے وہ وقت یاد آیا تھا جب نماز پر سوال اٹھانے پر اسے مولوی نے مارا تھا اور شیطان کہا تھا۔۔۔
اس روز وہ بچہ اپنی معصومیت کھو کر شیطان بن چکا تھا۔ جو اللہ کے وجود کا انکاری تھا۔
آج عرصے بعد اس سے کسی نے یہ سوال کیا تھا۔

”کیا ہوا خاموش کیوں ہو۔۔؟؟“
وہ پوچھ رہے تھے۔

”میں اللہ کی ذات کو نہيں مانتا۔۔“
آرجے کے لہجے میں شکستگی تھی۔

”ملحد ہو۔۔۔؟؟“
وہ محبت سے پوچھ رہے تھے۔ آرجے انکے لہجے پر حیران ہوا تھا۔ اسے لگا تھا جب ڈاکٹر باسط کو یہ پتا چلے گا کہ وہ ایک ملحد تھا تو وہ اسے گھر سے نکال کر باہر پھینک دے گا۔۔

”چلو اچھی بات ہے۔۔۔“
وہ سن کر مسکراٸے تھے۔
انکی بات سن کر آرجے کو جھٹکا لگا تھا۔

”یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔۔؟؟“
وہ حیرانی سے پوچھ رہا تھا۔

”ٹھیک ہی تو کہہ رہا ہوں۔۔ بلکہ مبارک ہو میاں تمہارے کہ تم ایک ملحد ہو۔۔ تم کافر یا مشرک نہيں ہو۔۔!!“
آرجے اب بھی انکی بات نہيں سمجھا تھا۔ ایک مولانا ایک ملحد کو اسکے ملحد پر مبارکباد دے رہا تھا۔ وہ حیران نا ہوتا تو کیا کرتا۔

”کافر اور مشرک لوگ کلمے سے انکاری ہوتے ہیں۔۔ وہ ایک اللہ پر یقین نہيں رکھتے۔۔ جبکہ مسلمان کلمہ گو ہوتے ہیں جبکہ ملحد انجانے میں کلمہ کے پہلے حصے پر خود ہی پورا اترتے۔۔ وہ خود ہی اعتراف کرتے ہیں۔۔۔
ڈاکٹر باسط کہہ رہے تھے جبکہ آرجے کو سمجھ نہيں آرہی تھی۔

”ملحد کہتا ہے” There is No GOd” کہ کوٸی خدا نہيں،
اور کلمے کا پہلا حصہ بھی یہی ہے کہ ”لا الہ“ یعنی نہيں کوٸی معبود۔۔
میاں پہلے حصے کی گواہی تم خود دے رہے ہو۔۔ بس ”الا اللہ“ تک پہنچنا ہے ”یعنی اللہ کے سوا۔۔“

وہ خوبصورتی سے بیان کر رہے تھے جبکہ آرجے تو انکی بات سن کر دنگ رہ گیا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: