Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 42

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 42

–**–**–

( زندگی کے سات پہروں کی کہانی )

ملحد کہتا ہے” There is No GOd” کہ کوٸی خدا نہيں،
اور کلمے کا پہلا حصہ بھی یہی ہے کہ ”لا الہ“ یعنی نہيں کوٸی معبود۔۔
میاں پہلے حصے کی گواہی تم خود دے رہے ہو۔۔ بس ”الا اللہ“ تک پہنچنا ہے ”یعنی اللہ کے سوا۔۔“

وہ خوبصورتی سے بیان کر رہے تھے جبکہ آرجے تو انکی بات سن کر دنگ رہ گیا تھا۔

اسکے ملحد ہونے پر اسے دھتکارا گیا تھا۔۔ نفرت کی گٸی تھی۔ یہ کون تھا جو اس سے محبت کر رہا تھا۔۔
آج تک کسی نے اس سے اسکے ملحد ہونے کی وجہ نہيں پوچھی تھی۔ بس دھتکارا گیا تھا۔
آج کسی نے اسکے ملحد ہونے پر اسے مبارک کہا گیا تھا۔۔

”آپ کون ہیں___؟؟“
آرجے پوچھنے پر مجبور ہوگیا تھا۔

”اللہ کا بندہ ہوں، جیسے تم اللہ کے بندے ہو۔۔“
انہوں نے نرمی سے جواب دیا تھا۔

”لیکن اللہ آپ سے محبت کرتا ہے۔۔ مجھ سے نہيں۔۔“
آرجے کے لہجے میں دکھ کی آمیزش تھی۔

”کس نے کہا وہ محبت نہيں کرتا تم سے۔۔۔؟؟“۔
وہ اب پوچھ رہا تھا۔

”اگر وہ مجھ سے محبت کرتا تو مجھے اندھیروں میں نہيں دھکیلتا۔۔“

”وہ اگر تم محبت نا کرتا ہوتا تو تمہيں بنا کلمہ پڑھے، بنا توبہ کیۓ موت کے حوالے کر دیتا۔۔ اس نے تمہیں دوسری زندگی دی، تمہيں اپنا آپ بدلنے کا موقع دیا۔۔ اس سے زیادہ محبت کون کرتا ہے کسی سے۔۔؟؟ تم اسکے انکاری ہوں میاں!! لیکن وہ رب ہے، وہ اپنے بندوں کو اچھے سے جانتا ہے۔۔ اس نے تمہيں آزمائش میں ڈالا ہے۔۔ اور یقيناً انعام بہت بڑا رکھا ہوگا___!!

کہتے ہیں نیک لوگ پھولوں کی طرح ہوتے ہیں جو بھی انکے قریب ہوتا ہے وہ اسے خوشبوٶں سے معطر کر دیتے ہیں۔۔۔
انسان کی صحبت سے اسکی پہچان ہوتی ہے۔۔اس لیۓ نیک لوگوں میں بیٹھنے کا کہا گیا ہے، اور نیک لوگوں کا اثر کبھی نا کبھی ہو ہی جاتا ہے۔

آرجے دل بدل رہا تھا۔۔ ڈاکٹر صاحب کی اللہ سے محبت دیکھ کر اسے ابھی اس ذات سے محبت ہو رہی تھی۔۔
واقعی وہ رحیم تھا۔۔ اس نے آرجے کے جسم کا کوٸی حصہ مفلوج نہيں کیا تھا۔۔
وہ جسمانی طور پر مکمل تھا۔۔ بس اس سے بیناٸی چھین کر آزمایا گیا تھا۔۔۔۔

”اور کہتے ہیں جب کچھ نہيں نظر آتا تب اللہ نظر آتا ہے___
اور آرجے کو ہرجگہ اللہ نظر آنے لگا تھا___!!!

_________________________

کہتے ہیں جب انسان کی خواہشات، اسکے ارادے اور اسکا بھرم ٹوٹتا ہے تو انسان اللہ کی پہچان کرتا ہے___
چار مہینے گزر گٸے تھے۔
آرجے کی آنکهوں کا آپریشن ہوا تھا۔ آج اسکی آنکهوں سے پٹی اتری تھی۔ اور اسکا دل کٹ کر رہ گیا تھا جب وہ کچھ دیکھ نہيں پایا تھا__
اس نے اندھیرے کی زندگی میں روشنی کی شدید خواہش کی تھی، جانے کیا کیا سوچا تھا،
لیکن روشنی نہيں بلکہ ایک بار پھر اندھیرا ہی اسکا منتظر ٹھہرا تھا۔
غم اتنا بڑا تھا کہ ایک آنسو اسکی آنکھ سے ٹپکا اور گال پر پھسلتا چلا گیا تھا___

”اللہ کی ذات سے مایوس نہيں ہوتے، یقيناً اس میں بھی اللہ کی ہی کوٸی بہتری ہوگی اس پر بھروسہ رکھو وہ سب ٹھیک کرے گا___“
ڈاکٹر باسط نے اسکا آنسو پونچھا تھا۔

”شاید میری تقدیر میں ہی اندھیرا لکھ دیا گیا ہے۔۔!!“
آرجے بولا تو اسکی لہجے میں تڑپ و اذیت تھی۔
وہ قسمت پر یقین نہ رکھنے والا شخص آج تقدیر کی بات کر رہا تھا___

”جانتے ہوں میاں قسمت اور تقدیر کیا ہے۔۔۔؟؟“
ڈاکٹر باسط پوچھ رہے تھے۔

”یہی کہ میں اپنی باقی زندگی اندھیروں میں گزاروں گا اور کبھی اپنے من پسند لوگوں کو نہيں دیکھ پاٶں گا۔۔!!!“
اس وقت حانم اسے شدت سے یاد آٸی تھی۔
اس نے خواہش کی تھی کہ جب اسکی پٹی اترے گی اور وہ دیکھ پاٸے گا تو کاش اس وقت حانم اسکے سامنے ہو اور وہ اسے دیکھے۔۔
لیکن ایسا نہيں ہوا تھا۔

”بالکل نہيں۔۔ چلو آج میں تمہيں قسمت کا کھیل سناتا ہوں۔۔
ڈاکٹر باسط نے نرم لہجے میں کہا تھا۔

”جب اللہ کسی انسان کو دنیا میں بھیجنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ سب جانتا ہے کہ یہ انسان نیک ہوگا یا بد ہوگا۔۔
کچھ چیزیں انسان کی زندگی میں Fix ہوتی ہیں جیسے انسان کا پیدا ہونا اور اسکا مرنا وغیرہ جنہیں اللہ فکس لکھتا ہے اور جنہيں کوٸی نہيں بدل سکتا۔۔
اور رہی بات باقی چیزوں کی تو سنو۔۔
اللہ تعالیٰ کے پاس ”علم الغیب“ ہے۔۔ جانتے ہو علم الغیب کسے کہتے ہیں_____؟؟

اس چیز کا علم رکھنا کہ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے۔۔۔؟؟

قسمت یہ نہيں ہے کہ اللہ نے لکھا تھا اس لیۓ تمہارا ایکسیڈینٹ ہوا۔۔
قسمت یہ نہيں کہ اللہ نے لکھا تھا کہ تم ایک ملحد بنو گے اس لیۓ تم ملحد ہو___

اللہ تعالیٰ غیب کا علم رکھتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ جس انسان کو وہ دنیا میں بھیج رہا ہے وہ دنیا میں جا کر کیا کرے گا۔۔ چونکہ اللہ کو پہلے سے علم ہوتا کہ یہ انسان نیک بنے گا۔ اس لیۓ اسے نیک لکھا جاتا ہے۔۔
ناکہ قسمت یہ کہ اللہ نے اس انسان کو نیک لکھا اس لیۓ وہ نیک بنا۔۔ ہرگز نہيں___

اللہ پاک نے انسان کو Free Will دیا ہے، اسے سوچنے سمجھنے کی صلاحيت دی ہے، اور گناہ اور نیک اعمال کرنے کی صلاحيت دی ہے۔
چونکہ اللہ پہلے سے جانتا ہے کہ ایک انسان دو راستوں میں سے غلط راستہ چنے گا۔۔۔
وہ ایک طرح سے سکرین پر فلم کی طرح انسان کو دنیا میں بھیجنے سے پہلے جو وہ کرے گا سب دیکھ رہا ہوتا ہے۔۔
اور جو جو انسان کرتا ہے اللہ وہی لکھتا ہے___

اگر ایک میجر دو پاٸلٹس جنہوں نے نیا نیا جہاز اڑانا سیکھا ہو، ان میں سے ایک پاٸلٹ کو کہے کہ یہ بہت اچھا جہاز اڑاٸے گا جبکہ دوسرے کو کہے کہ اسکا جہاز گر جاٸے گا۔۔
اور جب واقعی وہ دونوں جہاز اڑاٸیں اور پہلے والا اچھی اڑان بھرے جبکہ دوسرے والے کا جہاز کریش ہوجاٸے وہ مر جاٸے تو کوٸی بھی اسکے جہاز کے کریش ہونے کا الزام میجر پر نہيں لگا سکتا۔۔
میجر نے صرف پیشین گوٸی کی تھی کیونکہ اس نے دوسرے پاٸلٹ کو دورانِ ٹریننگ جہاز پر کم توجہ دیتے دیکھا تھا۔
کوٸی یہ نہيں کہہ سکتا کہ میجر نے کہا تھا اس لیۓ اسکا جہاز کریش ہوا۔۔ بالکل نہيں___

ڈاکٹر باسط نے ایک گہرہ سانس لیا تھا۔ آرجے غور سے انہيں سن رہا تھا۔

” تو میاں اللہ کو پتا ہوتا کہ اس انسان نے دنیا میں جانے کے بعد توحید سے انکار کرنا ہے، تو اللہ اسے کافر لکھتا ہے۔۔
لیکن وہ اس انسان کو سوچنے سمجھنے کی صلاحيت دیتا ہے۔
جو لوگ کافر سے مسلمان ہوتے ہیں یہ بھی اللہ کو پہلے سے علم ہوتا ہے اس لیۓ اللہ لکھتا ہے کہ یہ ایک وقت پر مسلمان ہوگا۔۔۔ کیونکہ اللہ کو پتا ہوتا ہے کہ یہ انسان ایک وقت میں میری کھوج کرے گا اور پھر ایمان لے آٸے گا۔۔ اس لیۓ اللہ اسکی تقدیر میں مسلمان ہونا لکھتا ہے،
نہ یہ کہ اللہ نے اسکی تقدیر میں مسلمان ہونا لکھا اس لیۓ وہ ہوگیا__

اللہ یہ بھی جانتا ہے کہ کس انسان پر کونسی مشکل آٸے گی۔۔۔ اور پھر وہ انسان دعا مانگے گا۔۔ چونکہ اللہ کو پہلے سے پتا ہوتا ہے کہ یہ انسان دعا مانگے گا تو اللہ لکھ دیتا ہے کہ یہ ایک وقت پر مصيبت کے ٹل جانے کی دعا مانگے گا لحاظہ اس انسان پر سے اس مصيبت کو ٹال دیا جاٸے گا۔۔
اسکو کہتے ہیں دعا سے تقدیر بدلنا۔۔
دراصل تقدیر بدلی نہيں جاتی بلکہ پہلے سے لکھا ہوتا ہے کہ ایک وقت پر انسان دعا کرے گا۔۔ جسکا اللہ کو پہلے سے علم ہوتا ہے
اس لیۓ اللہ وہ مصيبت ٹال دیتا ہے،

سب کچھ پہلے سے لکھا جاچکا ہے۔۔۔ لیکن اللہ نے سب کچھ پہلے سے دیکھنے کے بعد لکھا ہے، کیونکہ اللہ علم الغیب رکھتا ہے____
وہ ہر انسان کی فطرت کو اچھے سے جانتا ہے، وہ سیاہ رات میں سیاہ پتھر پر چلنے والی سیاہ کیڑی کی حرکت کو بھی پہچان لیتا ہے، تو کیا وہ دلوں کے راز سے واقف نہيں ہوگا___؟؟
کیا وہ اپنے پیدا کردہ انسان کی فطرت سے لاعلم رہ سکتا ہے۔۔؟؟
نہیں ہرگز نہيں_____

یہ اب تمہارے ہاتھ میں میاں کہ تم اللہ کے وجود کا اقرار کرو گے یا انکار۔۔؟؟ کیونکہ اس نے تمہيں ہر طرح کی چھوٹ دے رکھی ہے، سوچنے سمجھنے کی صلاحيت۔۔
غور کرنے والی عقل___
ان سب کے باوجود تم کیا اپناتے ہو یہ تمہارے ہاتھ میں اللہ نے تمہيں مجبور نہيں کیا__

یہ بات میں نہيں جانتا لیکن اللہ جانتا ہے کہ تم اللہ کے وجود کا اب انکار کروگے یا اقرار۔۔ اور اسی لحاظ نے اس نے تمہاری تقدیر میں تمہارے مسلمان یا ملحد ہونے کا لکھا رکھا ہے____

اگر تم توبہ کرو گے تو یہ مت سمجھنا کہ اللہ نے لکھا کہ میں توبہ کرونگا تو اس لیۓ بنا کچھ سوچے سمجھے توبہ کر رہا ہوں____
بلکہ اللہ پہلے سے جانتا ہے کہ تم توبہ کرو گے یا نہيں۔۔ اگر کرو گے تو اس نے لکھا ہے کہ یہ شخص توبہ کرے گا،
اور اگر نہيں کروگے تو یہ بھی لکھا اللہ نے کہ یہ انسان سوچنے سمجھنے کی صلاحيت کے باوجود توبہ نہيں کرے گا___

لوگ اپنی ناسمجھی کا بوجھ تقدیر پر ڈال کر بری الذمہ ہوجاتے ہیں۔۔
جبکہ وہ جانتے ہی نہيں کہ انہوں نے ایسا ہی کرنا تھا یہ اللہ پہلے سے جانتا تھا اس لیۓ اللہ پاک نے ایسا لکھا___

”تم پر اللہ کا خاص کرم ہے۔۔ مجھے پتا ہے کہ تم ضرور اسکی ذات کے متعلق سوچو گے۔۔ تم حالات و واقعات کو سمجھو گے۔۔ اور پھر اگر تمہارے ہدایت کی طلب ہوگی۔۔ اور تم ہدایت چاہتے ہو تو اپنے دل سے پوچھو۔۔ اگر ایسا ہے
تو یقيناً اللہ لکھ چکا ہے کہ اس شخص کو ہدایت کی طلب ہوگی۔۔ اور اسے ہدایت دی جاٸے گیا___!!

ڈاکٹر باسط تو جاچکے تھے لیکن آرجے کو ایک نیا رخ دکھا گٸے تھے۔
گہرے اندھیرے میں اسے روشنی کی ایک کرن نظر آٸی تھی۔
___________________

”کاش۔۔ کاش آرجے نہ مرتا۔۔۔ کتنا اچھا ہوتا کہ وہ زندہ رہتا۔۔ اور مرجان کیلیۓ کام کرتا___!!
یہ رحمن اسٹوڈیو تھا جہاں مسٹر رحمن پچھلے چار مہینوں سے روزانہ ایک ہی بات دہراتے تھے۔ انہيں آرجے کی موت کا گہرا صدمہ پہنچا تھا۔ ابھی تو انہيں نے آرجے کی آواز میں وہ جادو محسوس کیا تھا جسکی انہيں تلاش تھی، اور اس سے پہلے کہ وہ اس جادو کو قید کر سکتے
وہ شخص ہی مرگیا تھا___

کتنے ہی لوگ تھے جو مسٹر رحمن کی طرح آرجے کی موت کا غم منا رہے تھے۔۔
جبکہ کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو کہہ رہے تھے کہ

”ایسے لوگوں کو ایسی ہی بھیانک موت ملتی ہے، اور پھر ایسے گنہگار، کافر لوگ ساری عمر جہنم میں سڑتے ہیں___“

بنا اپنے اعمال کا جاٸزہ لیۓ ہر شخص اسکی ذات پر تبصرہ کر رہا تھا۔۔

اور ایک آرجے تھا جو اندھیروں میں روشنی کو تلاش کر رہا تھا___
بنا یہ جانے کہ لوگ اسکے متعلق کیسی کیسی باتيں بنا رہے تھے۔
جانے لوگ اپنا تجزیہ کیوں نہيں کرتے___

_______________________

ﺟﺐ ﺩﻝ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﻮ
ﭘﺮ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﺎﺭﯼ ﺍﺳﮑﯽ ﮨﻮﮞ
ﺟﺐ ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﻮﮞ
ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺁﺗﯽ ﺍﺳﮑﯽ ﮨﻮ
ﺟﺐ ﺣﺪ ﺩﺭﺟﮧ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﮨﻮ ﺗﻢ
ﻭﮦ ﯾﺎﺩ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ____
ﺟﺐ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻧﯿﻨﺪ ﺳﮯ ﺑﻮﺟﮭﻞ ﮨﻮﮞ
ﺗﻢ ﭘﺎﺱ ﺍﺳﮯ ﮨﯽ ﭘﺎﺅ ﺗﻮ ___
ﭘﮭﺮ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺩﮬﻮﮐﮧ ﻣﺖ ﺩﯾﻨﺎ
ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺟﺎ ﮐﮯ کہہ ﺩﯾﻨﺎ
ﺍﺱ ﺩﻝ ﮐﻮ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ
ﺗﻢ ﺳﮯ__
اس دل کو محبت ہے
تم سے ____!!

وہ آنکهيں بند کیۓ صوفے سے ٹیک لگاٸے بیٹھا تھا۔
چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ پھیلی تھی۔۔ یقيناً تصور میں وہ کسی کو اپنے بہت قریب محسوس کر رہا تھا__

”کیا سوچ رہے ہو روحان، کس کے خیالوں میں گم ہو۔۔۔۔؟؟“
اچانک مقدس نے اسے پکارہ تھا۔ وہ کب سے اسکے سامنے بیٹھی اسے خیالوں میں مگن دیکھ رہی تھی۔
وہ ایک دم سیدھا ہوا تھا۔

”ارے مقدس آپی آپ کب آٸیں۔۔؟؟“
آرجے کی کوٸی بڑی بہن نہيں تھی۔ جب مقدس نے اسے اپنا منہ بولا بھاٸی کہا تھا۔ تب سے آرجے کے دل میں اسکے لیۓ جگہ بڑھ گٸی تھی۔ وہ اسے آپی کہتا تھا اور اسے یہ اب محسوس ہوا تھا کہ رشتے کتنے خوبصورت ہوتے ہیں۔۔
مدیحہ اسے بھاٸی بھاٸی کہتی تھی وہ اکثر اسکا دماغ خراب کرکے رکھتی تھی لیکن اب تو مہینے گزر گٸے تھے کسی اپنے کی آواز سنے۔۔
اسے اب احساس ہوا تھا کہ اپنے اپنے ہی ہوتے ہیں___
اب کوٸی فون کر کے اسے ڈانٹنے والا نہيں تھا، کوٸی اسے گدھا کہنے والا نہيں تھا۔
ہمارا المیہ ہے جب تک ہم سے نعمتیں چھن نہيں جاتی ہمیں انکی قدر نہيں ہوتی۔۔

”تب آٸی جب تم کسی کو محسوس کرکے مسکرا رہے تھے__!!
مقدس نے شرارت سے کہا تھا۔
آرجے پھیکی سی ہنسی ہنس دیا تھا۔

”دعا کریں میری بیناٸی لوٹ آٸے۔۔ بہت کچھ دیکھنے کی شدت سے خواہش پیدا ہو چکی ہے۔۔!!
وہ جانے کس جذبے کے تحت کہہ رہا تھا۔

” ان شاء اللہ سب ٹھیک ہوگا۔۔!!“
مقدس نے پورے یقین سے کہا تھا۔
آرجے حیران ہوتا تھا وہ دونوں میاں بیوی نہ تو اس پر غصہ کرتے تھے اور نہ نفرت کرتے تھے۔۔
بےلوس محبت کرتے تھے۔۔ اسے احساس ہو رہا تھا۔۔ خدا کی بناٸی گٸی کاٸنات میں اچھاٸی اپنے پورے وجود کے ساتھ موجود تھی۔

___________________

آج صبح سے ہی موسم کافی خشگوار تھا۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہواٸیں روح کو معطر کر رہی تھیں۔ گرمی کا موسم رخصت ہونے کو تھا۔

نو ستمبر کا دن تھا۔۔ آرجے کو اچھی طرح یاد تھا یہ حانم کا جنم دن تھا۔۔۔
اسے سمجھ نہيں آرہا تھا کہ وہ خوش ہوٸے یا روٸے۔۔
آج ڈاکٹر باسط بھی گھر پر ہی تھے۔ وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر کمرے سے باہر نکال لاٸے تھے۔ اب انکا رخ لان کی طرف تھا۔

وہ آرجے کو کمرے میں بند رہنے سے منع کرتے تھے۔

”یہاں نیچے بیٹھو نرم گھاس پر۔۔ دیکھنا نیچے بیٹھنا کتنا سکون دیتا ہے۔۔
انسان کو اپنی عاجز ہونے کا احساس ہوتا ہے__!!

وہ لان میں رکھی کرسیوں کو چھوڑ کر صاف، ستھری نرم و ملاٸم گھاس پر بیٹھ چکے تھے۔

”بہت بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب___ آپ سے رشتہ کیا ہے میں نہيں جانتا۔۔ لیکن آپکو سننا اچھا لگتا ہے___!!
شاید موسم کا اثر تھا یا خوبصورت دن کا۔۔۔ آرجے خوشدلی سے کہہ رہا تھا۔

”چلو میاں آج اس خوبصورت موسم میں تمہيں سب سے خوبصورت کلمات سناتا ہوں۔۔۔ اپنی سب سے من پسند سورت۔۔ کیا سننا چاہو گے ترجمہ کے ساتھ میری پسندیدہ ترین آیات کو__؟؟“
وہ پوچھ رہے تھے۔

”جی ضرور۔۔“
آرجے نے اثبات میں سر ہلایا تھا
ڈاکٹر باسط حافظ قرآن تھے اور اس وقت باوضو تھے۔
انہوں نے خوبصورتی سے پڑھنا شروع کیا تھا۔

”﷽ ،شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے___!!

آرجے کے ذہن میں ایک جھماکہ ہوا تھا۔۔ اسے وہ محلے کی مسجد یاد آگٸی تھی جس میں بچے زور زور سے سر ہلا کر پڑھتے نظر آرہے تھے۔
وہ خود بھی انہيں بچوں میں شامل تھا۔

”جن لوگوں نے کفر کیا اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکا اللہ نے انکے اعمال باطل کردیٸے۔۔“
سورہ محمد ، آیت نمبر ١
یہ سورہ محمد تھی۔۔ ڈاکٹر باسط کی پسندیدہ ترین سورت تھی۔

”جو لوگ ایمان لاٸے نیک عمل کرتے رہے اور جو کتاب مُحَمَّد ﷺ پر نازل ہوٸی اسے مانتے رہے جو کہ انکے رب کی طرف سے برحق ہے۔ انکے گناہ دور کردیٸے گٸے اور انکی حالت سنوار دی گٸی۔۔“
آیت ٢

آرجے کو اپنے جسم پر رونگھٹے کھڑے ہوتے محسوس ہو رہے تھے۔ اسے ایک عجیب سا۔۔ جانا پہچانا احساس ہو رہا تھا___

”اور جو لوگ کافر ہیں انکے لیۓ آخرکار ہلاکت ہے اور وہ انکے اعمال کو برباد کردے گا“
آیت ٨
آرجے کو اپنے جسم میں خوف کی ایک لہر دوڑتی محسوس ہوٸی تھی۔

”یہ اس لیۓ کہ اللہ نے جو کتاب نازل فرمائی انہوں نے اسکو ناپسند کیا تو اللہ نے انکے اعمال اکارت کر دیٸے۔۔“ آیت ٩
آرجے کو یاد تھا وہ قرآن پاک میں اکثر ساٸنٹیفک غلطیاں نکالا کرتا تھا۔ کسی نے اسکو سمجھایا نہيں تھا۔ بیشک اس نے وہ سب جان بوجھ کر نہيں کیا تھا لیکن اسے اپنا دل پھٹتا محسوس ہوا تھا۔
ڈاکٹر باسط کی آواز بہت خوبصورت تھی اور وہ ایک لہہ میں پڑھ رہے تھے۔

”(اے منافقو) تم سے عجب نہيں اگر تمہيں اختيار مل جاٸے تو معاشرے میں فساد پیدا کردو اور اپنے قریبی رشتہ داروں کوہی توڑ ڈالو۔۔“ آیت ٢٢

اسے یاد آیا تھا جب وہ امریکہ گیا تھا۔۔ وہاں پر غصہ ہونے کی صورت میں جھگڑا کیا تھا، لڑکوں کو مارا پیٹا تھا اور پھر اپنے ننھیال کو چھوڑ کر ان سے تعلق توڑ کر واپس آگیا تھا۔

”اور یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور انکو بہرا اور انکی آنکهوں کو اندھا کر رکھا ہے۔۔“
آیت ٢٣
آرجے کی آنکهوں سے آنسو جاری ہوگٸے تھے۔ اسے اپنے دل پر اپنی روح پر آری کے کاٹنے سے پیدا ہونے والی تکليف کا احساس ہو رہا تھا۔

”اور جو لوگ کافر ہوٸے اور اللہ کے راستے سے روکتے رہے اور پھر کافر ہی مر گٸے اللہ انکو ہرگز نہيں بخشے گا۔۔“ آیت ٣٤

اب آرجے کی باقاعدہ ہچکی بند گٸی تھی۔

”اللہ___“
بےساختہ اسکے منہ سے نکلا تھا۔
وہ زمین پر بیٹھا تھا اور یہ آیت سننے کے بعد وہ سجدے میں گرگیا تھا۔
اس نے اپنے کافر نہ ہونے پر سجدہ شکر ادا کیا تھا۔ اس نے کبھی دوسروں کو اللہ کے راستے سے نہيں روکا تھا۔
اس نے شکر کیا تھا کہ اللہ نے اسے ملحد مرنے سے بچایا تھا اسے ایک اور موقع دیا تھا۔

(کافر وہ لوگ ہوتے ہیں جو اللہ کا انکار کرتے ہیں باقی بتوں اور دوسری چیزوں کو خدا مانتے ہیں
مشرک لوگ اللہ کی ذات میں شرک کرتے ہیں وہ ایک خدا پر یقین نہيں رکھتے جیسے عیساٸی جو حضرت عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا مانتے ہیں اور اسے بھی خدا کہتے ہیں۔
جبکہ ملحد وہ لوگ ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کاٸنات اپنے آپ ہی بنی ہے دنیا میں کوٸی خدا نہيں
جبکہ کچھ ملحد اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ کاٸنات کو کوٸی سپر نیچرل پاور کنٹرول کر رہی ہے۔۔ لیکن نا تو وہ اس پاور کو اللہ کا نام دیتے ہیں اور نا بگھوان کا۔ وہ اپنے طریقے سے جیتے ہیں )

”اور تم ہمت مت ہارو اور اسلام کی دعوت دیتے رہو۔ آخرکار تم غالب رہو گے اور اللہ تمہارے ساتھ ہے وہ ہرگز تمہارے ان اعمال کو بلا نتیجہ نہيں چھوڑے گا“ آیت ٣٥

ڈاکٹر باسط خاموش ہوگٸے تھے۔ وہ خود بھی رو رہے تھے۔ انہوں نے آرجے کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔

”مبارک ہو میاں تم لا الہ (نہيں کوٸی معبود) سے الا اللہ( سواٸے اللہ کے) تک کا سفر کرنے میں کامياب رہے ہو___“
وہ سرشار سے کہہ رہے تھے۔ آرجے سجدے سے اٹھ کر انکے گلے لگ گیا تھا۔
آج اس خوبصورت موسم میں جب ہوائیں بھی سلام کرتے ہوٸے گزر رہی تھیں۔
اس نے کلمہ توحید پڑھا تھا۔۔ اس نے اللہ اور اسکے رسولﷺ کو دل و جان سے قبول کیا تھا۔
وہ اسلام کی طرف Revert ہو گیا تھا۔

”آرجے مرگیا۔۔ ختم ہوگیا وہ شخص جو خدا کے وجود سے انکاری تھا۔۔ روحان جبیل زندہ ہوگیا ہے۔۔ اور تمہيں پتا ہے روحان جب ایک انسان داٸرہ اسلام میں داخل ہوتا ہے تو اسکے پچھلے تمام گناہوں کو مٹا دیا جاتا ہے، اسکی برائیوں کو نیک اعمال میں بدل دیا جاتا ہے۔ اور وہ اس طرح گناہوں سے پاک ہوجاتا ہے۔۔ جیسے ابھی جنم لیا ہو۔۔ اور اسی لیۓ تم آج سے روحان ہو۔۔ روحان جبیل۔۔ روحوں جیسا پاک صاف___!!“
ڈاکٹر باسط اسکی پچھلی زندگی سے اچھی طرح واقف تھے۔
اور انکے ان الفاظ نے روحان کو روح تک سرشار کردیا تھا۔ وہ مسکرا دیا تھا۔۔ اس نے اپنی روح کو بہت ہی ہلکا پھلکا محسوس کیا تھا۔۔۔
اور عاٸشہ جبیل نے اپنے منتوں مرادوں سے مانگے گٸے بیٹے کا نام روحان کیوں رکھا تھا۔۔

یہ راز آج کھلا تھا__ اسے ہدایت دی گٸی تھی
اور بیشک ہدایت اسے ملتی ہے جسے طلب ہو۔۔ اور اللہ ہر انسان کی طلب سے خوب واقف ہے__!!

___________________

سات مہینے گزر چکے تھے۔ اکتوبر کا مہینہ تھا۔ رات کے وقت ہوا میں خنکی بڑھنے لگی تھی۔
اسے حشام یاد آیا تھا۔۔ اور اسکے ساتھ ہی حانم بھی۔۔
اسے یاد تھا جب وہ حانم کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر پاگل ہوگیا تھا اور اس روز بخار کی حالت میں تپ رہا تھا تو حشام نے اس سے کچھ کہا تھا۔۔
جسے وہ سمجھا نہيں تھا لیکن آج اسے سمجھ آگٸی تھی۔

”تمہيں پتا ہے آرجے تم نے کتنا بڑا گناہ کیا ہے۔۔ مجھے ڈر ہے اس گناہ اور ظلم کی زد میں کہیں ہمارا پورا خاندان نہ آجاٸے۔۔

”ایسا کیا کردیا میں نے۔۔؟؟؟“
وہ نقاہت کی وجہ سے مشکل سے بول پایا تھا۔

”تمہيں پتا ہے اس معصوم لڑکی کا نام ام حانم تھا۔۔ پتا ہے حانم کا مطلب کیا ہے۔۔ حانم کا مطلب عورت ہے۔۔ یعنی مقدس چیز۔۔ جسے اللہ نے آدم کی پسلی سے بنایا ہے تاکہ فرشتوں کو بھی اسکا علم نہ ہو۔۔ اور تم نے ایک عورت کے تقدس کو پامال کرنے کی کوشش کی___
تمہيں ایک راز دیا گیا۔۔ جو تمہيں انجانے میں معلوم ہوا۔۔ تم نے اس راز کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جسے اللہ نے خود چھپایا ہوا تھا۔۔ تم اسے دنیا کو بتانا چاہتے تھے۔۔
بیشک عزت و ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اللہ نے اسکا پردہ بھی رکھ لیا لیکن تم۔۔
تم نہيں سمجھ سکے۔۔
معافی مانگو اس دن سے جب اسکا بدلہ ہم سے لیا جاٸے گا۔۔ معافی مانگو آرجے___!!

حشام کی بات سن کر اسے غصہ آیا تھا۔ وہ بار بار اسے اسکی غلطی یاد کروا دیتا تھا۔ اسے کوفت ہوٸی تھی۔۔ وہ فون بند کرچکا تھا۔
لیکن آج اسے شدت سے یہ الفاظ یاد آٸے تھے۔ آج وہ واقعی ڈر گیا تھا۔۔
حانم کو دیکھنے اور ڈھونڈ کر اس سے معافی مانگنے کی طلب بڑھ گٸی تھی۔۔ اسے یاد آیا تھا اسکی ایک رضاٸی بہن تھی۔۔
مدیحہ۔۔ جو شادی شدہ تھی۔۔ لیکن پھر بھی اسے خوف محسوس ہوا تھا۔۔
اور اس نے صدق دل سے حانم کے مل جانے کی دعا کی تھی۔ تاکہ اس سے معافی مانگ سکے۔

______________________

روحان اور ڈاکٹر باسط لندن آٸے تھے۔ روحان کا دوبارہ آپریشن ہونا تھا آنکهوں کا۔۔
ڈاکٹر باسط نے اسے کہا تھا کہ وہ چاہے تو اپنے گھر والوں کو خبر کردے۔۔ ان سے مل لے۔۔
لیکن آرجے اس حالت میں ان سے ملنا نہيں چاہتا تھا۔۔
اس نے ابھی ملنے سے انکار کردیا تھا۔۔
اور یوں ڈاکٹر باسط اسے اکیلے کو ہی لندن لے آٸے تھے۔

”مجھے کچھ دیر لان میں بٹھا دیں میں ٹھنڈی ہوا میں سانس لینا چاہتا ہوں تب تک آپ ڈاکٹر سے رپورٹس کے متعلق بات کرلیں__!!“
آرجے کی بات سن کر ڈاکٹر باسط اسے لان میں رکھے پتھر کے بینچ پر بٹھا کر خود ہاسپٹل کے اندر چلے گٸے تھے۔

وہ لوگوں کی آوازیں سن سکتا تھا۔۔ محسوس کر سکتا تھا لیکن دیکھ نہيں سکتا۔۔
وہ اندر سے ہی نہيں باہر سے بھی بدل چکا تھا۔۔

”تم احسن کو لے کر اندر جاٶ میں ذرا فون سن کر آتا ہوں۔۔“
اس نے اپنے ایک دوست کو کہا تھا جو دوسرے دوست یعنی احسن کو لے کر اندر کی جانب چلا گیا تھا۔ یہ حشام تھا جو لندن اپنے دوستوں کے ساتھ ٹور پر آیا تھا۔
احسن کی طبیعت خراب تھی۔۔ اسکی آنکهيں کچھ دنوں سے سوجھن کا شکار تھیں۔ وہ اسی کے چیک اپ کیلیۓ آٸے تھے۔
حشام جیسے ہی فون کال ریسیو کرکے لان میں داخل ہوا تھا۔۔ سامنے پتھر کے بینچ پر بیٹھے وجود کو دیکھ کر دنگ رہ گیا تھا۔ وہ آرجے تھا۔۔
اسکا سب کچھ۔۔
وہ کتنی ہی دیر بےیقینی سے اسے دیکھتا رہا تھا۔
پھر جیسے سکتہ ٹوٹا تھا۔

”آرجے___“
وہ خوشی سے چلاتا اسکی طرف بڑھا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: