Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 43

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 43

–**–**–

(زندگی کے سات پہروں کی کہانی)

حشام جیسے ہی فون کال ریسیو کرکے لان میں داخل ہوا تھا۔۔ سامنے پتھر کے بینچ پر بیٹھے وجود کو دیکھ کر دنگ رہ گیا تھا۔ وہ آرجے تھا۔۔
اسکا سب کچھ۔۔
وہ کتنی ہی دیر بےیقینی سے اسے دیکھتا رہا تھا۔
پھر جیسے سکتہ ٹوٹا تھا۔

”آرجے___“
وہ خوشی سے چلاتا اسکی طرف بڑھا تھا۔

”آرجے یہ تم ہی ہو نا۔۔؟؟“
حشام اسے چھو کر دیکھ رہا تھا۔ حشام کی آواز سن کر روحان کی روح فنا ہوٸی تھی۔ وہ بھی اپنے گھر والوں سے ملنا چاہتا تھا لیکن اس حالت میں نہيں___

”شامو کاکا۔۔“
اسکے لب پھڑپھڑاٸے تھے۔ وہ بےدھیانی میں ہاتھ مار رہا تھا۔

”آرجے تم زندہ ہو۔۔ میں جانتا تھا تم زندہ ہو۔۔“
حشام نے اسے گلے لگایا۔
وہ جسکے مرنے کی خبر سن کر سید حویلی کے لوگ پچھلے کٸی مہینوں سے رو رہے تھے اسے سامنے اور زندہ دیکھ کر حشام کی حالت غیر ہوچکی تھی۔
وہ اتنا خوش تھا کہ اپنی اس خوشی میں روحان کا عجیب طرح کا انداز نوٹ ہی نہيں کر پایا تھا۔

”روحان بیٹا چلیں___“
اچانک ڈاکٹر باسط کی آواز ابھری تھی۔

”ڈاکٹر یہ حشام ہے۔۔ میرا بھاٸی۔۔“
روحان کی آواز کانپ رہی تھی۔ حشام نے چونک کر ڈاکٹر باسط کو دیکھا تھا۔

”اور شامو کاکا یہ ڈاکٹر باسط ہی۔۔ میرے رہنما میرے محسن۔۔ انکی وجہ سے آج میں زندہ ہوں__!!“
روحان کی بات سن کر حشام ڈاکٹر باسط کی طرف بڑھا تھا۔

”بہت بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب۔۔ آپ نے سید حویلی جان بچاٸی ہے۔۔“
حشام ڈاکٹر باسط کے گلے لگے انکا شکریہ ادا کر رہا تھا۔

”ایسی کوٸی بات نہيں ہے۔۔ جسے اللہ بچاٸے اسے کوٸی مار نہيں سکتا۔۔“
ڈاکٹر باسط نے نرمی سے کہا تھا اور پھر روحان کی طرف دیکھا جسکے چہرے پر الگ ہی چمک تھی۔

روحان بینچ کے ساتھ رکھی Stick اٹھا کر کھڑا ہوا تھا۔ یہ منظر دیکھ کر حشام کو اپنی روح فنا ہوتے محسوس ہوٸی تھی۔ اسکے چہرے کا رنگ زرد پڑ چکا تھا۔

”فکر نا کرو۔۔ بہت جلد روحان اپنی آنکهوں سے اس دنیا کو تسخیر کرے گا___!!“
حشام کی حالت سمجھتے ہوٸے ڈاکٹر باسط کے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے دلاسہ دیا تھا۔ حشام بس سر ہلا کر رہ گیا تھا۔ اس نے آنکهوں میں آٸی نمی کو صاف کیا تھا۔ اور پھر روحان کی طرف بڑھ گیا۔

____________________

تین ماہ بعد___

وقت گزر رہا تھا۔ ان تین مہینوں میں وہ شخص سر تا پیر بدل گیا تھا۔
کتنے خوش ہوٸے تھے سید حویلی کے نفوس جب وہ زندہ سلامت اپنے پیروں پر چل کر حویلی میں داخل ہوا تھا۔
بی جان تو باقاعدہ گلے لگ کر روٸی تھیں۔ مقدس آپی کی دعائيں قبول ہوٸی تھیں۔
روحان کا یقین رنگ لے آیا تھا۔ اللہ نے اسے اسکی آنکهوں کی بیناٸی لوٹا دی تھی۔

سید حویلی میں سب اسے زندہ سلامت دیکھنے سے زیادہ اسے بدلا ہوا دیکھ کر حیران ہوٸے تھے۔
سید جبیل کو اپنی آنکهوں پر یقین نہيں آیا تھا جب انہوں نے ماضی کے آرجے اور حال کے روحان کو نماز پڑھتے دیکھا تھا۔
وہ بہترین طریقے سے نماز ادا کرتا تھا۔ سید جبیل بہت روٸے تھے جب انہيں آرجے کی موت کی خبر ملی تھی۔

”میں منتوں مرادوں سے مانگی گٸی تمہاری اس نعمت کی حفاظت نہيں کر سکا۔۔ مجھے معاف کردینا عاٸشہ مجھے معاف کردینا__!!
وہ دنیا کے سامنے مضبوط نظر آنے والا شخص اکیلے کمرے میں اپنی محبوبہ بیوی کی تصویر کے سامنے خوب رویا تھا۔

”تم دیکھنا حیدر۔۔۔ مجھے پورا یقين ہے میرا روحان ایک دن دنیا میں وہ روشن ستارہ بن کر چمکے گا جسکی روشنی لوگوں کے وجدان کو منور کردے گی۔۔۔ وہ دنیا کو وہ راہ دکھاٸے گا جس پر چلنے سے لوگ خدا کو پا لیں گے__!!“
آج عاٸشہ جبیل کی بات اسے سچ ہوتے محسوس ہو رہی تھی۔

”بہت بہت مبارک ہو سید صاحب۔۔ اللہ نے آپکو بہت بڑا تحفہ دیا ہے۔۔“
اسے نماز پڑھتے دیکھ کر محلے کے لوگوں نے سید جبیل کو مبارکباد دی تھی۔
مسرت جذبات سے سید جبیل کی آنکهيں نم ہوٸی تھیں۔
____________________

حالات و واقعات نے مکی یعنی مستقیم کو بدل ڈالا تھا۔
وہ روحان سے ملنے آیا تو حیران رہ گیا تھا۔

”تو آرجے واقعی مر چکا ہے۔۔“
وہ پھیکا سا مسکرایا تھا۔

”ہاں۔۔ آرجے مرچکا ہے۔۔۔ لیکن روحان جبیل زندہ ہے۔۔!!
اس نے مسکرا کر جواب دیا تھا۔

مہرو کی امی کی وفات ہوچکی تھی۔ مہرو اور مکی کی شادی ہوچکی تھی۔
مکی کو حانم کے الفاظ نے بدلنے میں بہت مدد کی تھی۔
”اللہ نے ہمیشہ مستقیم کو صراط کے رکھا ہے۔۔ تم تو مستقیم تھے تم کیسے بھٹک گٸے__!!“
آج بھی حانم کے الفاظ اسکے کانوں میں کسی ہتھوڑے کی مانند لگتے تھے۔

مکی کی دو بہنیں تھیں ایک بڑی جو شادی شدہ تھی اور ایک چھوٹی جسکی شادی طے تھی۔
اسے خوف تھا کہ انہوں نے جو حانم کے ساتھ کیا تھا اسکا بدلہ لیا جاٸے گا۔۔ وہ جانتا تھا مکافات عمل طے ہے۔۔
اس نے بہت دعائيں کی تھیں کہ اسکے گناہوں کی سزا کی لپیٹ میں اسکی بہنیں نہ آجاٸیں۔۔
لیکن خدا کا کرنا ایسا ہوا تھا کہ بڑی بہن بیوہ ہوگٸی تھی اور چھوٹی بہن کا رشتہ ٹوٹ گیا تھا۔
شادی سے کچھ دن پہلے لڑکے والوں نے بنا وجہ بتاٸے رشتہ توڑ دیا تھا۔
وہ اپنے رب کے حضور بہت رویا تھا۔
جانے کیوں انسان گناہ کرنے سے پہلے نہيں سوچتا۔۔
اس پر جو مشکل وقت آیا تھا اس نے مکی کو بدل دیا تھا۔۔
اسے مستقیم بنا دیا گیا تھا۔۔ اور وہ اب اپنے آپکو پرسکون محسوس کرتا تھا۔۔ بس حانم سے معافی مانگنی باقی تھی۔

”وقت سب کچھ بدل دیتا ہے۔۔ مجھے خوشی ہے اللہ نے ہمارا رخ گمراہی کے رستے سے موڑ دیا__!!
مستقیم کہہ رہا تھا۔

”شادی شادی بہت بہت مبارک ہو۔۔“
روحان مسکرایا تھا۔

”میں نے تمہيں بہت یاد کیا۔۔ بہت۔۔ میری ہر پریشانی کو منٹوں میں ختم کرنے والا میرا دوست میرے ساتھ نہيں تھا۔۔“
مستقیم کی آنکهيں نم ہوٸیں۔

”میں نے بھی تمہيں اپنی ہر آوارہ گردی میں بہت یاد کیا جس میں، میں نے اکیلے ہی حانم کو بہت ڈھونڈا۔۔ تم چلے گٸے تھے مکی۔۔ تم بھی چھوڑ گٸے تھے حانم کی طرح___!!
شاید اسے بھی سب یاد تھا۔

”معاف کردو مجھے۔۔ میں ڈر گیا تھا مجھے لگا کہ جو ہم نے۔۔ خاص طور پر تم نے کیا اسکی سزا ہر اگر میں تمہارے ساتھ رہونگا تو مجھے بھی ملے گی۔۔ لیکن میں بھول گیا تھا جو میں نے کیا اسکی سزا تو مجھے ہی ملنی تھی۔۔“
وہ روحان کے گلے لگا تھا۔۔ اور روحان کو ایک بار پھر سب یاد آگیا تھا۔

وقت ظالم تھا تو مہربان بھی ہوا تھا۔۔ تین سال پہلے بچھڑے دو دوست ایک بار پھر سے مل گٸے تھے__!!

____________________

رات کا ناجانے کونسا پہر تھا۔
ہوا میں خنکی بہت زیادہ بڑھ چکی تھی۔ آرام دہ بستر پر پرسکون نیند کے زیراثر نظر آنے والا وہ شخص ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا تھا۔ وہ روحان جبیل۔۔ وہ آج بھی درد کی لپیٹ میں تھا__

“کچھ ایسے حادثے بھی زندگی میں ہوتے ہیں”
“کہ انسان بچ تو جاتا ہے مگر زندہ نہیں رہتا”

لیمپ کی مدھم روشنی میں چہرے پر پسینے کی ننھی ننھی بوندیں واضح تھیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے اذیت کی ایک لہر اس شخص کے چہرے پر پھیل گئی۔
حواس بحال ہونے پر اس نے غصے سے ساٸیڈ ٹیبل پر رکھا لیمپ ہاتھ بڑھا کر نیچے پھینک دیا۔
سسکیوں کی آواز واضح سنائی دے رہی تھی۔اور یہ آواز اسکی روح کو کسی تلوار کی طرح زخمی کر رہی تھی۔ بالآخر اسکی برداشت جواب دے گٸی۔

“Shut up.. just shut up”
وہ چیخا۔
وہ دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ کر اس آواز سے بچنا جا رہا تھا۔۔ لیکن شاید کسی نے رونے کی قسم اٹھاٸی ہوٸی تھی۔
ایسا پہلی بار نہيں ہوا تھا۔۔ پچھلے تین سالوں میں ایک بھی دن ایسا نہيں گزرا تھا جب اس آواز نے اُسکا پیچھا نا کیا ہو۔ ایک بھی رات وہ سکون سے نہيں سو پایا تھا۔
اور پھر ایک جھٹکے سے وہ اٹھا۔۔ اب اسکا رخ اس شفیق ہستی کے کمرے کی طرف تھا جسکی آغوش اسے سکون پہنچاتی تھی۔

اپنے مطلوبہ کمرے کے باہر پہنچنے کے بعد اس نے دروازے پر دستک دی۔ وہ جانتا تھا اندر وہ شفیق ہستی جاگ رہی ہونگی۔

”آجاٶ“
دستک پر اندر سے آواز ابھری تھی۔

وہ جھٹکے سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔
سامنے وہ ہستی اپنے بستر پر بیٹھی سورہ یسین کی تلاوت کر رہی تھیں۔

”بی جان“
وہ تڑپ کر انکی طرف بڑھا۔

بی جان نے یسین کو عقیدت سے چوم کر ساٸیڈ ٹیبل پر رکھے اونچے طاق پر رکھا۔

”شاہ بیٹا تم۔۔ سب خیریت تو ہے نا۔۔؟“
بی جان کے چہرے پر پریشانی ابھری۔ روحان کی شخصیت میں ان دنوں اتنا وقار پیدا ہوا تھا کہ بی جان انہيں شاہ کے نام سے پکارنے لگی تھیں۔

”وہ بی جان ۔۔ وہ میں۔۔“
وہ کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن آنسوٶں کا ایک گولا سا اسکے گلے میں اٹک گیا تھا۔ وہ آگے بڑھ کر بی جان کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا تھا۔

”آج پھر کوٸی برا خواب دیکھا کیا۔۔؟“
بی جان پیار بھرے لہجے میں پوچھ رہی تھیں اور ساتھ ساتھ اسکے بالوں میں انگلیاں بھی پھیر رہی تھیں۔

جانے دو آنسو کیسے اسکی آنکهوں سے پھسل کر بی جان کی گود میں جذب ہوگئے تھے۔

”کوٸی اتنا کیسے رو سکتا ہے بی جان۔۔۔ کیسے۔۔؟“
وہ اذیت سے دوچار لہجے میں پوچھ رہا تھا۔
بی جان نے اسکی بات پر ایک گہرہ سانس لیا۔

”کوٸی تین سالوں سے لگاتار رو رہا ہے بی جان۔۔ وہ ایک رات وہ چپ نہيں ہوا___
کوٸی اتنا کیسے رو سکتا ہے__؟؟؟“
وہ بےچینی سے پوچھ رہا تھا۔

“چشمِ یعقوب کی__مانند ہیں برستی آنکھیں__!!

میرے یوسف میری نظروں کو بینائی دے جا__!!

بی جان کا کلیجہ جیسے اپنے بیٹے کی بات پر چھلنی سا ہوگیا تھا۔

”کیا وہ شخص تھکتا نہيں بی جان۔۔۔ کہاں سے آتے ہیں اسکے پاس اتنے آنسو۔۔؟ وہ چپ کیوں نہيں ہوتا بی جان__“
کوٸی اتنا کیسے رو سکتا ہے۔۔؟“
روحان بار بار ایک ہی بات دہرا رہا تھا۔

”زخم گہرا دیا ہے تم نے بیٹا۔۔ اتنا گہرا زخم کہ تم سوچ بھی نہيں سکتے“
بی جان نے کہنے کے بعد اسکے سر پر پھونک ماری جیسے ساری بلاٸیں ٹالنا چاہتی ہوں۔

”اُسے کہہ دیں کہ وہ چپ کر جاۓ بی جان۔۔ چپ کر جائے خدا کا واسطہ ہے۔۔“
وہ کہہ رہا تھا۔۔ اور بی جان سن رہی تھیں۔۔
کتنی ہی دیر وہ یہی الفاظ دہراتا رہا اور پھر تھک ہار کر یا شاید اس سکون کے باعث جو اسے بی بی جان کی گود میں ملا تھا وہ ایک بار نیند کی آغوش میں جاچکا تھا۔
روحان نے بی جان کو بتایا تھا کہ اس نے ایک لڑکی کے کردار پر انگلی اٹھاٸی تھی اور اب اسے ڈھونڈ رہا تھا تاکہ اس سے معافی مانگ سے۔۔

بی جان پوری بات تو نہيں جانتی تھیں لیکن اتنا ضرور جانتی تھیں کہ ایک لڑکی کے کردار پر انگلی اٹھانا۔۔ اسے زندہ درگور کرنے کے مترادف ہوتا ہے__

”میں دعا کرونگی میرے بچے کہ وہ لڑکی رونا بند کردے۔۔ وہ جہاں بھی ہے اللہ اسے سب کچھ بھلا کر بہت ساری خوشیاں دے تاکہ تم بھی سکون سے جی سکو۔۔!!“
بی جان نے جھک کر اسکی پیشانی پر پیار کیا تھا۔
اور صدق دل سے اسکے لیۓ دعا کی تھی۔

____________________

کمرے میں ہلکی ہلکی روشنی تھی۔ روحان لیپ ٹاپ کھولے سکرین پر نظر آتے ڈاکٹر باسط سے بات کرنے میں مگن تھا۔

ایک مہینہ ہوگیا تھا اسے سید حویلی آٸے ہوٸے۔ وہ قرآن پاک کو سمجھ کر پڑھ رہا تھا۔ اس نے ڈاکٹر باسط کے ہر بیان ہر لیکچر کو سنا تھا۔
اسے جو بھی الجھن ہوتی تھی وہ سب سے پہلے انہیں کال کرتا تھا۔
اور ایک ایسی ہی الجھن لیۓ وہ آج بھی حاضر تھا۔

قرآن پاک وہ کتاب ہے جسے سمجھنے کیلیۓ ایک معلم کی ضرورت ہوتی ہے۔۔ وہ معلم جو صحیح علم رکھتا ہو__
جسکا دل صاف ہو اور اللہ کی محبت سے لبریز ہو۔۔ اور روحان جبیل کو ڈاکٹر باسط سے بہتر معلم نہيں مل سکتا تھا۔

” تخلیق انسان کس سے ہوٸی ہے ڈاکٹر صاحب__؟

” ایک مقام پر قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے کہ انسان کو نطفے ( مادہ منویہ ) سے پیدا کیا گیا جبکہ ایک دوسرے مقام پر کہا گیا ہے کہ آدمی کو مٹی سے پیدا کیا گیا۔ کیا یہ دونوں آیات باہم متصادم نہیں؟؟؟ آپ ساٸنسی طور پر کیسے ثابت کریں گے کہ انسان کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔۔؟؟
مجھے یہ چیز الجھا رہی ہے آپ میری الجھن کو دور کریں۔

روحان کی بات سن کر ڈاکٹر باسط مسکرا دیٸے تھے۔ اور پھر انہوں نے بولنا شروع کیا تھا

” تم بالکل ٹھیک کہہ رہے ہو قرآن کریم میں بنی نوع انسان کی حقیر ابتدا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسے مادہ منویہ کے ایک قطرے سے پیدا کیا گیا۔ یہ بات متعدد آیات میں کہی گئی جن میں سورۃ قیامہ کی حسب ذیل آیت بھی شامل ہے:

أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِنْ مَنِيٍّ يُمْنَى (٣٧)

” کیا وہ ( ایک حقیر ) پانی کا نطفہ نہ تھا جو ( رحم مادر میں ) ٹپکایا جاتا ہے۔”

( سورۃ قیامہ 75 آیت 37)

قرآن کریم متعدد مقامات پر اس بات کا ذکر بھی کرتا ہے کہ بنی نوع انسان کو مٹی سے پیدا کیا گیا۔ حسب ذیل آیت میں بنی نوع انسان کی تخلیق اور ابتداء کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:

يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِنَ الْبَعْثِ فَإِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ تُرَابٍ (٥)

“لوگو! اگر تمہیں زندگی بعدِ موت کے بارے میں کچھ شک ہے تو ( تمہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ ) بے شک ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ “

(سورۃ الحج 22 آیت 5)

اگر تم غور کرو تو دوسرے سوال کا جواب کہ انسان مٹی سے بنا ہے آسانی سے جان سکتے ہو۔

موجودہ دور میں ہمیں معلوم ہے کہ جسمِ انسانی کے عناصر یعنی کے Elements، جن سے مل کر انسانی جسم وجود میں آیا ہے، سب کے سب کم یا زیادہ مقدار میں مٹی میں شامل ہیں، سو یہ اس آیتِ قرآن کی سائنسی توجیہ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انسان کو مٹی سے پیدا کیا گیا ۔

اور یہ تو تم بھی جانتے ہو کہ انسانی جسم ایک Matter ہے۔۔ اور matter یعنی مادے میں مٹی بھی شامل ہے۔

قرآن کی بعض آیات میں اگر یہ فرمایا گیا ہے کہ آدمی نطفے سے پیدا کیا گیا جبکہ بعض اور آیات میں کہا گیا ہے کہ اسے مٹی سے پیدا کیا گیا، تو ان دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں۔ تضاد سے مراد تو ایسے بیانات ہیں، جو باہم مختلف ہوں یا متصادم ہوں اور بیک وقت صحیح نہ ہوں۔

ڈاکٹر باسط خاموش ہوٸے تھے۔

”بعض مقامات پر قرآن کریم یہ بھی کہتا ہے کہ انسان کو پانی سے پیدا کیا گیا۔ مثال کے طور پر سورۃ الفرقان میں کہا گیا :

وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا ف (٥٤)

” اور وہی ( اللہ ) ہے جس نے آدمی کو پانی سے پیدا کیا۔
( سورۃ الفرقان 25 آیت 54)
اس سے کیا مطلب ہوا۔۔۔۔؟؟“
روحان پوچھ رہا تھا۔

”اچھا یہ بتاٶ کہ تمہيں کھانے میں کیا پسند ہے؟؟
ڈاکٹر باسط نے نہایت Unrelated سوال کیا تھا۔

روحان سوچ میں پڑ گیا تھا۔

”اس وقت تو مجھے چاٸے پسند ہے۔۔“
روحان نے اپنے سامنے رکھی چاٸے کے کپ کو دیکھتے ہوٸے کہا تھا۔

”اچھا۔۔ فرض کیجئے میں یہ کہتا ہوں کہ چائے کا کپ تیار کرنے کے لیے پانی درکار ہے لیکن اس کے لیے چائے کی پتی اور دودھ یا ملک پاؤڈر بھی درکار ہوتا ہے۔تو کیا یہ دونوں بیانات متضاد ہیں۔۔؟؟؟“
ڈاکٹر باسط پوچھ رہے تھے۔

”نہيں۔۔۔ کیونکہ چاٸے ان ساری چیزوں سے مل کر بنتی ہے۔۔۔!!“
آرجے نے جواب دیا تھا۔

”تو میاں تم اپنے سوال کا جواب خود دے چکے ہو۔۔ کیونکہ پانی اور چائے کی پتی دونوں ہی چائے کی پیالی تیار کرنے کے لیئے ضروری ہیں، مزید برآں اگر میں میٹھی چائے بنانا چاہوں تو اس میں چینی بھی ڈال سکتا ہوں، لہذا قرآن جب یہ کہتا ہے کہ انسان کو نطفے ، مٹی اور پانی سے تخلیق کیا گیا تو اس میں کوئی تضاد نہیں بلکہ تینوں میں امتیاز قائم کیا گیا ہے۔ چیزوں میں امتیاز (Contradistinction) کا مطلب ایک ہی موضوع کے ایسے دو تصورات کے بارے میں بات کرنا جو باہم متصادم نہ ہوں، مثال کے طور پر اگر میں یہ کہوں کہ انسان ہمیشہ سچ بولتا ہے اور عادتاً جھوٹا ہے تو یہ ایک متضاد بات ہوگی لیکن اگر میں یہ کہوں کہ یہ آدمی دیانت دار ، مہربان اور محبت کرنے والا ہے تو یہ اس کی مختلف صفات میں امتیاز ظاہر کرنے والا ایک بیان ہوگا۔

اس لیۓ کوٸی بھی قرآنی آیت دوسری آیت کے متضاد نہيں ہے۔۔ بلکہ ساری آیتیں ایک دوسرے کے متصادم ہیں جو مختلف جگہ پر انسانی جسم کی تخليق کے مختلف عناصر کو بیان کرتی ہیں۔۔
سمجھ گٸے میاں۔۔؟؟“
وہ اب خوشدلی سے پوچھ رہے تھے۔

”جی۔۔۔ جی۔۔ بہت بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب۔۔!!
روحان سرشار سا کہہ رہا تھا۔ اسکی ایک اور الجھن دور ہوگٸی تھی۔
اسکے دل نے اس پل شدت سے خواہش کی تھی کہ وہ ڈاکٹر باسط کی طرح علم والا بن جاٸے۔

___________________

وہ ایسا ہی ایک عام سا دن تھا۔ روحان لاٶنج میں ٹی وی لگاٸے خبریں سن رہا تھا اور ساتھ ساتھ اپنے لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا۔
اسے تمام گھر والوں نے اب اپنی پڑھاٸی جاری کرنے کا کہا تھا۔
روحان کو اپنے باپ کی طرح نہ تو سیاسیات پڑھنے میں دلچسپی تھی اور نہ ہی ضیا ٕ جبیل کی طرح معاشیات میں۔۔
حشام نے بھی دونوں سے الگ انگریزی ادب کو چنا تھا اور روحان بھی Genetics میں ایم فل کرنا چاہتا تھا۔
وہ اس وقت مختلف یونيورسٹيوں میں داخلے کیلیۓ اپلاٸے کر رہا تھا جب ٹی وی پر چلنے والی خبر نے دھماکہ کیا تھا۔
لیپ ٹاپ پر پھسلتی انگلیاں کانپ کر رکی تھیں۔
ٹی وی پر اینکر کسی لڑکی کی خودکشی کی خبر دے رہی تھی۔

”محترمہ ام حانم اس دارلامان میں کچھ دن پہلے آٸی تھیں۔ انکا چہرہ جھلسا ہوا تھا۔۔ کہتے ہیں کسی لڑکے نے انکے چہرے پر تیزاب پھینک کر مارنے کی کوشش کی تھی۔
لیکن خوش قسمتی سے وہ بچ گٸیں لیکن بد قسمتی کے انکا چہرہ جھلس گیا۔۔ کل رات دارلامان کے ایک کمرے میں پنکھے سے لٹک کر ام حانم نے خود کشی کرلی۔۔
جیسے کہ آپ دیکھ سکتے ہیں ناظرین پولیس تفسیش و تحقيق کیلیۓ یہاں پہنچ چکی ہے۔۔!!

اینکر کچھ اور بھی کہہ رہی تھی لیکن روحان کو حویلی کی عمارت اپنے سر پر گرتی محسوس ہو رہی تھی۔

”ام حانم۔۔۔“
اسکے لب پھڑپھڑاٸے رہے تھے۔

”ایسا نہيں ہو سکتا۔۔“
وہ ایک جھٹکے سے اٹھا تھا اور سامنے رکھے میز سے گاڑی کی چابی اٹھاٸی تھی۔

روحان کو اپنی روح فنا ہوتی محسوس ہو رہی تھی۔
وہ ماٶف ہوتے دماغ کے ساتھ گھر سے باہر نکلا تھا۔

”شاہ بیٹا کہاں جا رہے ہو۔۔۔؟؟“
بی جان لان میں مالی کے سر پر کھڑیں اچھے سے پودوں کی کانٹ چھانٹ کروارہی تھیں۔ روحان کو جاتے دیکھا تو آواز دی لیکن وہ سن کہاں رہا تھا۔
وہ لڑکھڑاتا گاڑی لے کر حویلی سے باہر نکل گیا تھا۔تھا۔
____________________

”کیا آپ لوگ بتائيں گے یہاں کیا ہوا تھا۔۔؟؟“
وہ کانپے وجود کے ساتھ پوچھ رہا تھا۔اسکے ہونٹ خشک ہوچکے تھے۔
روحان اس دارلامان میں پہنچ چکا تھا۔پوليس انسپکٹر جانتا تھا کہ وہ سید جبیل کا بیٹا تھا۔اسے اندر جانے دیا گیا تھا۔
ام حانم کو دفنا دیا گیا تھا۔ روحان کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔
وہاں پر کوٸی بھی شخص ام حانم کے بارے میں زیادہ نہيں جانتا تھا۔
وہ کچھ دن پہلے وہاں آٸی تھی۔

”کیا وہ لڑکی یہی تھی؟؟“
روحان نے موبائل سے تصویر نکال کر اس لڑکی کے سامنے کی تھی جسکے ساتھ ام حانم ٹھہری تھی۔

”پتا نہيں جی۔۔۔ جب وہ یہاں آٸی تو اسکا چہرہ جلا ہوا تھا۔شاید وہ پہلے ایسی ہی ہو___!!
لڑکی نے عام سے لہجے میں جواب دیا تھا۔

کسی کو بھی مرنے والی لڑکی کے نام کے سوا کچھ معلوم نہيں تھا۔
روحان کو اپنے سامنے ہر منظر دھندلاتا محسوس ہوا تھا۔ اسکی آنکهوں میں نمی پھیل گٸی تھی۔ اس نے اپنے دل کو دھاڑیں مارتے پایا تھا۔
وہ وہاں کے ایک ملازم کے ساتھ قبرستان آیا تھا۔
تازہ قبر۔۔۔ نم مٹی۔۔ تازہ پھول۔۔۔

”حانم۔۔۔“
وہ پوری قوت سے چلایا تھا۔

”تم ایسے نہيں مر سکتی۔۔ میرے ساتھ ایک بار پھر اتنا بڑا ظلم نہيں ہوسکتا۔۔“
وہ رودیا تھا۔ ان تین سالوں میں ایک دن بھی ایسا نہيں تھا جب اس نے حانم کو نہ سوچا ہو۔
وہ اسکی سوچوں میں رچ بس گٸی تھی۔
جانے وہ اس قبرستان میں بیٹھا کتنی دیر تک روتا رہا تھا۔۔۔۔
آہستہ آہستہ وہ اپنے حواس کھو رہا تھا، اور پھر اس نے سب ختم ہوتے محسوس کیا تھا اپنا آپ بھی۔___
______________________

ایک مہینہ گزر گیا تھا۔ روحان پتھر کا ہوچکا تھا۔ مسکراہٹ اسکے لبوں سے چھن گٸی تھی۔ سید حویلی کے لوگ اسکی حالت پر کڑھنے لگے تھے۔

کمرے میں گہری خاموشی چھاٸی تھی۔ اور اس خاموشی میں ارتعاش اسکے فون پر ہونے والی بیل سے پیدا ہوا تھا۔

مدیحہ کا فون تھا۔ وہ رخصت ہو کر اپنے گھر جاچکی تھی۔ اس نے پتا نہيں کیا سوچ کر فون اٹھا لیا تھا۔

”کیسے ہیں بھاٸی آپ۔۔؟؟“
وہ پوچھ رہی تھی۔

”تم کیسی ہو گڑیا۔۔۔؟؟“
روحان نے اپنے لہجے کو ہشاش بنانے کی کوشش کی تھی جو کہ ناکام رہی تھی۔
ام حانم کی موت کا یقین کرنا دنیا میں سب سے مشکل کام تھا۔

”جی بھاٸی میں ٹھیک ہوں۔۔“
مدیحہ جیسے زبردستی مسکراٸی تھی۔

”تم انتہائی ذلیل اور گھٹیا عورت۔۔ تمہيں میں آج نہيں چھوڑوں گا۔۔
فون سے آواز ابھری تھی۔ یہ مدیحہ کے شوہر فرقان کی آواز تھی روحان اچھے سے پہچانتا تھا اس آواز کو۔۔۔

اچانک مدیحہ کی چیخنے کی آواز ابھری تھی اور پھر فون بند ہوگیا تھا۔

”ہیلو۔۔ہیلو۔۔ مدیحہ کیا تم ٹھیک ہو___؟؟“
روحان ایک دم کھڑا ہوا تھا۔اسے محسوس ہوا تھا جیسے فرقان نے مدیحہ کو مارا تھا۔

وہ کچھ دیر پریشانی سے کمرے میں ٹہلتا رہا۔ وہ بار بار مدیحہ کا نمبر ملا رہا تھا جو بند جا رہا تھا۔
کچھ سوچنے کے بعد پھر وہ کمرے سے باہر نکل گیا۔

____________________

مدیحہ کا سسرال ملتان میں ہی تھا۔ وہ اسکے سسرال پہنچ گیا تھا۔

”مدیحہ کہاں ہے۔۔۔؟؟“
اس نے ملازمہ سے پوچھا تھا۔ جو روحان کو دیکھ کر گبھرا گٸی تھی۔

”وہ جی۔۔ وہ۔۔“
ملازمہ بری طرح سے ہکلا رہی تھی۔

”مدیحہ۔۔۔“ وہ اب آوازیں دے رہا تھا۔

”وہ جج۔۔جی۔۔ اپنے کمرے میں ہے۔۔“
ملازمہ نے اوپر کمرے کی جانب اشارہ کیا تھا۔
وہ سیڑھیاں پھلانگتا اسکے کمرے کی طرف بڑھا تھا۔
کمرے میں اندھیرا تھا۔ لاٸٹ جلانے پر مدیحہ کی حالت دیکھ کر وہ دنگ رہ گیا تھا۔
وہ نیچے قالین پر بےسود پڑی تھی۔ پیشانی اور ہونٹ سے خون نکل رہا تھا۔

”مدیحہ گڑیا کیا ہوا تمہيں اٹھو۔۔“
روحان اسکی جانب بڑھا تھا۔

___________________

ہاٸی وے پر جہاز کے پہیوں سے رگڑ کھانے کی آواز ابھری تھی۔
وہ غنودگی کی حالت سے ایک دم بیدار ہوا تھا۔
چہرے کا رخ موڑ کر جہاز کے شیشے سے باہر دیکھا تھا۔
جہاز لینڈ کر چکا تھا۔وہ لندن پہنچ چکا تھا۔ جہاز کے شیشے پر ہلکی ہلکی بارش کی بوندوں نے باہر کے منظر کو دھندلا کیا تھا۔

روحان کا یہاں کی یونيورسٹی میں ایڈمیشن ہوا تھا۔
وہ اپنی آگے کی پڑھاٸی کیلیۓ یہاں آیا تھا۔
وقت کیسے سرکتا ہے کچھ پتا ہی نہيں چلتا۔۔ وہ سب کی یادیں لیۓ لندن آگیا تھا۔۔۔ اور اپنے ساتھ بہت سی اداسیاں لایا تھا۔
جہاز اب پارکنگ اسٹینڈ ٹیوب سے جا لگا تھا۔ روحان نے آنکهيں بند کرکے ایک گہری سانس لی تھی۔
اس نے حانم کی خوشبو کو اپنے آس پاس محسوس کیا تھا__

محبّت زاد ہے’ مُجھ میں
کوئی فرحاد ھے’ مُجھ میں
نہیں وِیران’ اندر سے
خُدا کی یاد ہے’ مُجھ میں
جو ھر دَم ‘ ساتھ رہتا ہے
مِرا ہم زاد ہے’ مُجھ میں
مَیں خُود سے’ کٹ نہیں سکتا
مِری بُنیاد ھے’ مُجھ میں
اگرچہ مَیں’ قفَس میں ھُوں
کوئی آزاد ے’ مُجھ میں
جو مُجھ کو’ صَید رکھتا ھے
عجب صَیّاد ھے’ مُجھ میں
ضمِیر ِ زِندہ’ کی صُورت
مِرا اُستاد ھے’ مُجھ میں
نہیں اب مَیں’ نہیں ساحِر
کِہ وہ آباد ہے’ مُجھ میں___!!

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: