Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 44

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 44

–**–**–

(زندگی کے سات پہروں کی کہانی)

پارکنگ اسٹینڈ پر لگی ٹیوب سے مسافر جہاز سے ٹرمینل پر اتر رہے تھے۔
روحان بھی آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ٹرمینل سے لاٶنج کی طرف بڑھا۔۔۔
شام اپنے پر پھیلا چکی تھی، ہلکی ہلکی بوندا باندی نے لندن کو خوشگوار بنا دیا تھا۔

لاٶنج میں کاغذات کی کارواٸی کے بعد وہ لاٶنج سے باہر نکلا تھا___
پتھر سے بنے فرش گیلے ہوگٸے تھے۔ خوبصورت، مدہوش اور ٹھنڈی ہوا نے اسکا استقبال کیا تھا۔

سبیل اسے لینے آنے والا تھا مگر ابھی تک نہيں پہنچا تھا۔ وہ ویٹنگ ایریا میں رکھے پتھر کے بینچوں میں سے ایک پر بیٹھ گیا تھا___
کندھے پر لٹکے بیگ اور ایک سوٹ کیس کے علاوہ وہ کچھ نہيں لایا تھا۔۔

پتھر کے بینچ پر بیٹھنے کے بعد روحان نے ایک نظر آسمان کی طرف دیکھا__

وقت نے اس منظر کو قید کیا تھا، وقت یہ منظر پہلے بھی دہرا چکا تھا__
پنجاب یونيورسٹی میں لکڑی کے بینچ پر چہرہ آسمان کی طرف کیۓ وہ خلاٶں میں جانے کیا ڈھونڈ رہی تھی۔۔

بارش کی بوندوں نے روحان کے چہرے کو چھوا تو وہ اس لڑکی کے سحر سے باہر نکلا تھا۔
کچھ من چلے لڑکے لڑکيوں کو اس نے بارش میں بھیگتے دیکھا تھا۔۔
وہ خود بھی تو بھیگ رہا تھا۔۔ وہ اپنا باطن جل تھل کرنا چاہتا تھا جو صدیوں سے کسی آگ کی بھٹی میں جل رہا تھا____
لیکن اندر جلتی آگ کو بجھانا بارش کے بس میں بھی نہيں ہوتا۔۔
یہ بس ظاہر کو بھیگا سکتی ہے۔۔ بھڑکتے شعلوں کو کس نے دیکھا ہے۔
کتنا کچھ بدل گیا تھا۔۔ وہ کتنا کچھ بدل کر آیا تھا۔۔
روحان نے بینچ کے پچھلے حصے سے کمر ٹکاٸی اور آنکهيں موند لی تھیں۔۔
دور کہیں ہر چیز گڈمڈ ہونے لگی تھی۔

_____________________

روحان نے اپنے آپکو اس قبرستان میں پایا تھا جہاں وہ ام حانم کی قبر پر پاگلوں کی طرح رویا تھا۔۔ اسے ابھی قدرت کے فیصلوں کی اتنی سمجھ نہيں آٸی تھی۔
اسے ابھی سفر طے کرنا تھا۔۔۔ جداٸی کی آگ کو سینے میں لے کر جو سفر طے کیا جاتا ہے وہ مزید مشکل ہوجاتا ہے۔۔ پیروں میں آبلے پڑ جاتے ہیں۔
خاردار جھاڑیوں سے جو راستے پر اگی ہوتی ہیں پاٶں لہو لہان ہوجاتے ہیں۔۔۔
لیکن منزل کا نشہ انسان کو رکنے نہيں دیتا۔۔۔

کٸی دور اسکے دل میں بھی ایک موہوم سی امید باقی تھی۔۔۔ اس ساحرہ کے مل جانے کی امید۔۔ کہیں اچانک نظر آجانے کی خواہش___

اور خواہشات کو پورا ہونے میں وقت درکار ہوتا ہے۔۔
ایک لمبا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔۔ اور روحان نے اس سفر کا آغاز کردیا تھا۔

اس روز اسے قبرستان سے ملازم اٹھا کر لاٸے تھے۔ وہ اگلے دن تک بیہوش رہا تھا۔ تیز بخار سے اسکا جسم پھنک رہا تھا۔

”یا اللہ میرے بچے کو صحت و تندرستی عطا کر__!!“
بی جان اسے پانی کی ٹھنڈی پٹیاں کرتے ہوٸے دعائيں کر رہی تھیں۔
ڈاکٹر نے انجیکیشن لگایا تھا۔ دھیرے دھیرے رات کے کسی پہر میں اسکا بخار زور توڑ گیا تھا۔۔
لیکن جب اسکی آنکھ کھلی تو روحان کو اپنے دل کے بین کرنے کی آوازیں صاف سنائی دے رہی تھیں۔
آنکهوں میں نمی گھل گٸی تھی۔ وہ اسے کتنا چاہت تھا یہ آج پتا چلا تھا۔

”دنیا میں کسی مرد نے کسی عورت سے اتنی محبت نہيں کی ہوگی جتنی روحان بن حیدر جبیل نے ام حانم سے کی تھی__!!“

اسے تو خود اپنی محبت کی شدت کا اندازہ نہيں تھا۔

”حوصلہ رکھو میاں! قدرت کے فیصلوں میں چھپی مصلحت ہم نہيں جانتے۔۔ یہ بس خدا ہی بہتر جانتا ہے۔۔ تم خود کو مضبوط بناٶ تمہیں ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔۔۔
اور یاد رکھنا اس مشکل سفر میں تمہاری محبت ہی تمہاری طاقت بنے گی یہ میرا وعدہ ہے تم سے___!!!“

ڈاکٹر باسط کی بات سن کر وہ مسکرادیا تھا۔

_____________________

وقت بہت بڑا کھلاڑی ہے۔۔ وقت سے زیادہ شاطر کوٸی نہيں۔۔۔ یہ انسان کو توڑنے میں کوٸی کمی نہيں چھوڑتا۔۔
جب ایک انسان وقت و حالات کا مقابلہ کرنے کیلیۓ کھڑا ہوجاتا ہے۔۔ وقت اس پر حالات کی ایسی کاری ضربیں لگاتا ہے کہ انسان بلبلا کر رہ جاتا ہے۔۔

وقت نے روحان کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ کیا تھا۔ اسکی جان سے پیاری اکلوتی بہن کو اسکے شوہر نے بری طرح سے مارا تھا۔ اسکے جسم پر جگہ زخموں کے نشان تھے۔
روحان غصے سے پاگل ہورہا تھا۔ وہ اسے اٹھا کر ہاسپٹل لے کر آیا تھا۔
مدیحہ کے زخموں پر جگہ جگہ پٹیاں کی گٸی تھیں۔۔ اور پٹیوں میں جکڑے اسکے وجود کو دیکھ کر روحان کا دل کر رہا تھا کہ وہ سب کو آگ لگادے___
لیکن وہ مدیحہ کے ہوش میں آنے کا انتظار کر رہا تھا تاکہ اس سے تفصیل سے بات کر سکے۔

ایک گھنٹے بعد ڈاکٹر نے اسکے ہوش میں آنے کی اطلاع دی تھی۔

”مدیحہ۔۔“
وہ بےاختیار ہی کمرے کی طرف بھاگا تھا۔ مدیحہ اپنی آنکهيں کھولنے کی کوشش کر رہی تھی جو سوجن کا شکار تھیں۔
وہ پہلے سے بہت زیادہ کمزور ہوگٸی تھی۔ میڈیکل کی طالبہ ہونے کے باوجود مدیحہ اپنا بہت خیال رکھتی تھی۔ وہ جبیل خاندان سے تھی اور اس خاندان میں موجود تمام نفوس کی طرح وہ بھی بہت پیاری تھی۔
بیڈ پر پڑا وہ وجود کہیں سے بھی روحان کو مدیحہ جبیل کا نہيں لگا تھا۔

”بھاٸی۔۔“
مدیحہ نے اسے پہچاننے کے بعد پکارہ تھا۔

”کیا ہوا گڑیا رو کیوں رہی ہو۔۔ اور یہ سب کیا ہوا ہے۔۔“
روحان نے اسکا ہاتھ تھامتے ہوٸے پوچھا تھا۔

وہ بری طرح ہچکیوں سے رو رہی تھی۔ اسکا نازک وجود کانپ رہا تھا۔ روحان کو اپنا دل کٹتا محسوس ہو رہا تھا۔ اس نے تو آج تک گھر میں کسی کو مدیحہ کو ڈانٹنے تک نہيں دیا اور کہاں اب اسے جانوروں کی طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

”کیا ہوا ہے۔۔ مجھے بتاٶ تو اور رونا بند کرو۔۔“
روحان نے اسے اپنے قریب کیا تھا۔

”بھاٸی مجھے وہاں نہيں جانا۔۔ وہ فرقان۔۔وہ اچھے انسان نہيں ہیں۔ انہوں نے مجھ پر الزام لگایا اور مجھے روز مارتے ہیں۔۔
وہ مجھے بدکردار کہتے ہیں___!!“

مدیحہ کی باتيں سن کر روحان کو اپنا سانس رکتا محسوس ہوا تھا۔
اسکے چہرے کی رگیں تن گٸی تھیں۔ غصے کی شدید لہر اسکے پورے جسم میں پھیل گٸی تھی۔

ہوا کچھ یوں تھا کہ مدیحہ جس ادارے میں پڑھتی تھی وہاں اسکا ایک کلاس فیلو تھا ارحم نام کا جو اسے بہت پسند کرتا تھا اور کتنی بار اپنی پسندیدگی کا اظہار کرچکا تھا۔
پسند تو مدیحہ بھی اسے کرتی تھی لیکن اس نے کبھی اقرار نہيں کیا تھا۔۔ وہ اپنے خاندان کو جانتی تھی۔۔ وہ جانتی اسکی شادی اسکے بڑے بابا اور چھوٹے بابا ساٸیں کی مرضی سے ہوگی۔۔

اس سے پہلے اس پسند کو اظہار موقع ملتا آناً فاناً اسکا رشتہ پکا ہوا اور نکاح ہوگیا۔
وہ کتنے دل یونيورسٹی نہيں گٸی۔

”کیا ہوا مدیحہ تم ٹھیک ہو۔۔ اتنے دنوں سے یونيورسٹی نہيں آٸی۔۔؟؟“
ارحم کا میسج پڑھ کر اسے بہت دکھ ہوا تھا۔ انکی کبھی فون پر بات نہيں ہوٸی تھی۔ ارحم کا پہلی دفعہ میسج آیا تھا۔

”میرا نکاح ہوچکا ہے۔۔۔ مجھے اب تنگ مت کرنا۔۔“
وہ اسے جواب دے چکی تھی۔

”ایسا نہيں ہو سکتا۔۔ میں تمہیں بہت پسند کرتا ہوں۔۔ تم کسی اور سے کیسے شادی کر سکتی ہو۔۔؟؟“

اسکے سوالوں سے تنگ آکر وہ فون بند کر چکی تھی۔
اور پھر وہ ہوا جسکا کبھی کسی نے سوچا بھی نہيں تھا۔ آرجے کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا اسکے مرنے کی خبر ملی تھی۔

دکھ اتنا بڑا تھا کہ مدیحہ اپنا دکھ بھول گٸی تھی۔ اور پھر ایک دن لڑکے والوں کی طرف سے زور دینے پر اسکی رخصتی کر دی گٸی۔۔

اسی رات جب فرقان کمرے میں آیا تو مدیحہ بیڈ پر نہيں تھی۔ یقیناً وہ واشروم میں تھی۔۔
البتہ اسکا موبائل بیڈ پر پڑا ہوا تھا جو کب سے رنگ کر رہا تھا۔

فرقان نے آگے بڑھ کر فون اٹھایا تھا۔

”کہاں مصروف ہو تم مدیحہ۔۔ بات کیوں نہیں کرتی ہو۔۔ میں جانتا ہوں تم بھی مجھ سے محبت کرتی ہو۔۔ پھر تم نے کسی اور سے شادی کیوں کی۔۔ میں اپنے گھر والوں کو تمہارے گھر بھیجنے ہی والا تھا___!!“
ارحم نان سٹاپ بول رہا تھا۔ کسی لڑکے کے منہ سے اس طرح کی باتیں سن کر فرقان کا پارہ ہاٸی ہوا تھا۔ اس نے موبائل کو غصے سے دیوار میں مارا تھا۔

کچھ ٹوٹنے کی آواز سن کر مدیحہ باہر نکلی تھی۔ وہ اپنے کپڑے بدل چکی تھی۔ مسلسل بھاری کپڑوں میں بیٹھنے کی وجہ سے اسکی کمر اکڑ گٸی تھی۔
رات کے ساڑهے تین کا وقت تھا۔ وہ اب آیا تھا۔

مدیحہ نے حیرت سے پہلے فرقان اور پھر موبائل کو دیکھا جو کٸی ٹکڑوں میں بٹ چکا تھا۔
مدیحہ کو اپنی ٹانگوں کی جان نکلتی محسوس ہوٸی تھی۔
سید فرقان اور کچھ نہيں بلکہ ایک پڑھا لکھا جاہل تھا۔

وہ غصے پھنکارتا مدیحہ کی طرف بڑھا تھا اس سے پہلے وہ کچھ کہتی فرقان نے اسکے منہ پر تھپڑ مارا تھا۔
وہ نیچے گری تھی۔ مدیحہ کے تو ہوش اڑ گٸے تھے۔

”بدذات عورت۔۔ تمہيں میں نہيں چھوڑوں گا۔۔“
وہ اب منہ سے غلاظت بک رہا تھا۔

اور پھر یہ سلسلہ رکا نہيں تھا۔ سال ہونے والا تھا وہ ایسے ہی فرقان کے تشدد کا نشانہ بنی تھی۔
اسے خاندان کو وہ گھٹیا کہتا تھا۔۔ اسے بدکردار کہتا تھا۔۔
وہ کہتی تو کس سے کہتی۔۔
بی جان نے رخصتی کے وقت کہا تھا کہ اب اسکا سب کچھ فرقان ہی ہے۔۔وہ تمہارا محافظ ہے۔
لیکن یہاں تو وہ اسکے لئے موت کا فرشتہ بن کر آیا تھا۔۔

اسکی خوش قسمتی تھی کہ آج روحان نے فون پر سب سن لیا۔۔ ورنہ مزید کچھ دنوں میں وہ مر ہی جاتی___

اپنی بہن کے منہ سے دل دہلا دینے والی باتيں سن کر روحان کے پورے جسم میں اذیت کی لہر پھیل گٸی تھی۔

”بھاٸی مجھے فرقان کے ساتھ نہيں رہنا۔۔ وہ بہت برا ہے۔۔۔ میں نے کچھ نہيں کیا۔۔“
وہ رو رو کر بتا رہی تھی۔

”تم فکر نہ کرو میں کرتا ہوں اسکا علاج۔۔“
وہ ایک جھٹکے سے کھڑا ہوا تھا۔

”بھاٸی وہ بہت خطرناک ہے۔۔ وہ آپکو بھی نقصان پہنچاٸے گا۔۔“
وہ ڈر گٸی تھی۔

”تم فکر نہ کرو اور پرسکون ہوجاٶ۔۔ اب سب ٹھیک ہوگا۔۔“
وہ اسکا گال تھپتھپا کر دروازے کی طرف بڑھا۔۔
اس سے پہلے وہ دروازے تک پہنچتا فرقان اندر داخل ہوا تھا۔
اسکے چہرے پر گھبراہٹ تھی۔ لیکن وہ خود پر قابو پاچکا تھا۔

”یہاں کیوں لاٸے ہو اسے۔۔ لیڈی ڈاکٹر گھر آجاتی۔۔“
فرقان غصے سے بولا تھا۔
اسکی بات سن کر روحان کا دماغ گھوما۔

”یہ کیا کیا ہے تم نے میری بہن کے ساتھ۔۔؟؟“
روحان غصے سے سرخ آنکهيں لیۓ دھاڑا تھا۔ اس نے خود پر ضبط رکھنے کیلیۓ مٹھیاں بھینچ رکھی تھیں۔

”کچھ نہيں کیا میں نے۔۔ یہ تمہاری بہن۔۔ دیکھ رہے ہو اسے۔۔ چکر چلاتی ہے دوسرے لڑکوں سے۔۔ بدکردار ہے یہ۔۔!!“
فرقان کے لہجے میں حقارت تھی۔ ایک ل کیلیۓ روحان سن ہوا تھا۔

”بدکراد ہو تم مس ام حانم۔۔ بدکرادر ہو تم۔۔۔“
اسکے اپنے الفاظ اسکی سماعت سے ٹکراٸے تھے۔
آج پتا چلا تھا اسے یہ الفاظ سننا کتنا مشکل ہوتا ہے۔۔ اسکے الفاظ وقت نے آج اسے لوٹاٸے تھے۔

یہ بس ایک پل تھا۔ اگلے ہی پل وہ فرقان کی طرف بڑھا تھا اور ایک زور دار گھونسا اسکے منہ پر رسید کیا تھا۔

”تمہاری ہمت کیسے ہوٸی یہ باتيں کہنے کی۔۔ تم جانتے بھی ہو وہ تمہاری بیوی ہے۔۔ اور تم اس پر ہی کیچڑ اچھال رہے ہو۔۔!!“

روحان کا گھونسا کھا کر فرقان لڑکھڑایا تھا۔

”میں جانتا ہوں وہ میری بیوی ہے لیکن تم شاید بھول گٸے ہو۔۔ وہ میری ہے میں جو چاہے کروں اور یہ ہمارا آپس کا مسٸلہ ہے۔۔“
حواس بحال ہونے پر فرقان چیخا تھا۔ مدیحہ تو پھٹی پھٹی نگاہوں سے دونوں کو دیکھ رہی تھی۔

”وہ تمہاری بیوی ہے تمہاری غلام نہيں جو تم جو چاہے سلوک کرو۔۔“
روحان کو غصہ آرہا تھا۔

”ایسی گھٹیا اور بدکردار بیوی اسی قابل ہے۔۔!!“

اس سے پہلے فرقان مزید کچھ کہتا روحان نے اسے پکڑ لیا تھا اور اب وہ اسے بری طرح پیٹ رہا تھا۔
نقاہت کی وجہ سے مدیحہ کی چیخ بھی نہيں نکل رہی تھی۔ وہ بیڈ سے اترنا چاہتی تھی لیکن ہاتھ میں لگی ڈرپ اسے اس بات کی اجازت نہيں دے رہی تھی۔

”میرا ایمان اور عقیدہ بدلہ ہے۔۔ میری فطرت بدلی ہے۔۔ میرا رخ اللہ کی طرف مڑا ہے۔۔ لیکن یہ مت سمجھنا کہ میں لڑنا بھول گیا ہوں۔۔ میں تم جیسے گھٹیا لوگوں کیلیۓ آج بھی آرجے ہوں۔۔ اگر تم نے دوبارہ کسی لڑکی کو چھوا یا اسکے ساتھ ایسا سلوک کیا تو
تمہيں جان سے مار ڈالوں گا___!!“

وہ دبی دبی آواز میں چیخا تھا۔ کمرے میں رکھی چیزوں سے انکے ٹکرانے کے باعث نیچے گر کر آوازیں ابھری تھی۔ جسے سن کر نرسیں اور ڈاکٹر کمرے میں آٸے تھے۔
دونوں کو مشکل سے چھڑوایا گیا تھا۔

دونوں بری طرح سے ہانپ رہے تھے۔ فرقان جو اپنے آپکو شیر سمجھتا تھا روحان سے اچھی خاصی دلاٸی کروانے کے بعد اب صدمے میں تھا۔ وہ گھو گھور کر مدیحہ کو دیکھ رہا تھا۔۔

”آپ لوگوں کو پتا نہيں کہ یہ ہسپتال ہے۔۔ جاٸیں یہاں سے۔۔“
ڈاکٹر نے فرقان کی طرف دیکھ کر کہا تھا۔
وہ غصے سے سب کو دیکھتا چلا گیا تھا۔

_______________________

”تم نے اس پر ہاتھ کیوں اٹھایا روحان تم جانتے ہو وہ تمہارا بہنوٸی ہے۔۔!!“
سید جبیل نے اسکی کلاس لگائی ہوٸی تھی۔

”ڈیڈ وہ جاہل آدمی انسان کہلانے کے لاٸق نہيں۔۔“
روحان نے دوبدو جواب دیا تھا۔

”جو بھی ہے۔۔ مسٸلہ جو بھی تھا بیٹھ کر سلجھایا جا سکتا تھا۔۔۔!!
ضیا ٕ جبیل کہا تھا۔

”بڑے ڈیڈ اس مسٸلے کا صرف ایک ہی حل ہے۔۔ مدیحہ اس جانور کے ساتھ نہيں رہنا چاہتی۔۔ بہتر یہی ہوگا کہ فرقان اسے طلاق دے۔۔!!
وہ آرام سے اپنی بات کہہ چکا تھا۔۔ لیکن اسکی اس بات نے سید حویلی کی بنیادوں کو ہلا دیا تھا۔
بی جان نے دہل کر اپنے سینے پر ہاتھ رکھا تھا۔

”یہ تم کیا کہہ رہے ہو شاہ بیٹا۔۔ ایسا نہيں ہو سکتا۔۔“
بی جان نے کہا تھا۔

”یہ میرا نہيں مدیحہ کا فیصلہ ہے اور میں اسکا ہر قیمت پر ساتھ دونگا۔۔ میں اسے مرنے کیلیۓ اس جانور کے حوالے نہيں کر سکتا۔۔!!“

”لیکن اس خاندان میں کبھی کسی نے طلاق کا لفظ استعمال نہيں کیا۔۔ اور تم کتنی آسانی سے یہ سب کہہ رہے ہو۔۔؟؟“
سید جبیل گرجے تھے۔

”ضروری نہيں جو پہلے نہ ہوا ہو وہ اب بھی نہ ہو۔۔
آپ لوگوں کو اپنی اکلوتی بیٹی پیاری ہے یہ پھر اس حویلی کی روایات__؟؟“
روحان نے کاری ضرب لگائی تھی۔

وہ بنا انکا جواب سنے باہر نکل گیا تھا۔
جو بات سالوں پہلے اسے سمجھ نہيں آٸی تھی آج آگٸی تھی۔
حانم نے تو طلاق کی بات سمجھانے کیلیۓ اتفاقاً اسکی بہن کا نام لیا تھا۔۔
لیکن جب آج اس پر گزری تو۔۔ وہ جان گیا تھا کہ اللہ نے طلاق کو کیوں رکھا ہے۔۔!!

”تم ٹھیک تھی حانم۔۔ تم ہر بات میں ٹھیک تھی۔۔ جس پر گزرتی ہے وہی جانتا ہے۔۔ مجھ سے پر گزری تو میں نے اللہ کو جانا۔۔۔ آج جب اتنا کچھ دیکھا تو دل پھٹ سا گیا۔۔
جو باتيں مجھے آج سمجھ آٸی وہ تم سالوں پہلے جان گٸی تھی۔۔
تم اللہ کے احکام کو مجھ سے پہلے سمجھ گٸی تھی__!!“
وہ اپنے کمرے میں نم آنکهيں لیۓ اسکی تصویر سے مخاطب تھا۔

________________________

وہ روحان بن حیدر جبیل ہی کیا جو اپنی بات سے پیچھے ہٹ جاٸے یا پھر ظلم کے خلاف نہ بولے۔۔

حشام کو جب پتا چلا تھا تو اس نے بھی روحان کی حمایت کی تھی۔
اور روحان نے کردکھایا تھا۔۔ فرقان نے مدیحہ کو طلاق دے دی تھی۔

”آپ نے مجھ پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔۔ میں زندگی بھر نہيں بھولوں گی۔۔“
مدیحہ اسکے سامنے رو پڑی تھی۔

”پگلی گڑیا یہ میرا احسان نہيں بلکہ میرا فرض تھا۔۔ اور میں نے اپنا فرض نبھایا ہے۔۔“
وہ مسکرایا تھا تو مدیحہ بھی مسکرادی تھی۔ اسکے زخم آہستہ آہستہ مندمل ہو رہے تھے۔

”ہاتھ ہولا رکھنا تھا روحان غلام دین بتا رہا تھا تم نے فرقان کے جبڑے ہلا دیے۔۔!!“
حشام کی بات سن کر روحان بےساختہ ہنس دیا تھا۔

”شکر کرو شامو کاکا کہ وہ بچ گیا۔۔ اسکا میں وہ علاج کرتا کہ ساری عمر کسی لڑکی کو ہاتھ لگانا تو درکنار دیکھتا بھی نہيں۔۔!!“
روحان کو واقعی بہت غصہ تھا اس پر۔۔

”لندن کب جارہے ہو۔۔؟؟“
حشام نے پوچھا تھا۔ اسے پتا تھا روحان کا یونيورسٹی آف لندن میں ایڈمیشن ہوگیا تھا۔

”ابھی ایک اور کام باقی ہے۔۔ پھر کچھ دنوں تک جاٶں گا۔۔“
روحان نے رازدانہ لہجے میں کہا تھا۔
_____________________

”مجھے ارحم پسند آگیا ہے۔۔میں بہت جلد ڈیڈ سے بات کرونگا۔۔“
وہ پرسکون سا کہہ رہا تھا۔ مدیحہ تو اسکی بات سن کر ہونک بنی اسے تک رہی تھی۔

”کیا ہوا ایسے کیوں دیکھ رہی ہو۔۔ آج ہی مل کر آیا ہوں اسے۔۔ تم سے محبت کرتا ہے۔۔ خوش رکھے گا۔۔!!

روحان کی بات سن کر مدیحہ سٹپٹاٸی تھی۔

”نہيں بھاٸی۔۔ مرد ذات سے یقین اٹھ گیا ہے۔۔ میں اب اکیلے جینا چاہتی ہوں اور اپنی پڑھاٸی دوبارہ شروع کرنا چاہتی ہوں۔۔ میری ڈاکٹری کا آخری سال ہے۔۔ میں ڈاکٹر بن کر انسانيت کی خدمت کرنا چاہتی ہوں۔۔!!“
مدیحہ اداس لہجے میں کہہ رہی تھی۔
روحان کو حانم یاد آٸی تھی۔ اس نے جو حانم کے ساتھ کیا تھا۔۔ کیا وہ کسی پر یقین کر سکتی تھی۔۔ نہيں اور شاید کسی لڑکے کو انکار کرنے کی وجہ سے اس نے حانم کا چہرہ جلا دیا ہوگا۔

یہ خیال اتنا تکلیف دہ تھا کہ وہ آنکهیں بند کر گیا تھا۔۔ اسے اپنا دل کرلاتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔
اسے اپنے اندر سے دل کے رونے اور چیخنے کی آوازیں صاف سناٸی دیتی تھیں۔

”چلو ٹھیک ہے۔۔ جتنا وقت چاہے لے لو۔۔ لیکن تمہارا فیصلہ ارحم کے حق میں ہونا چاہیۓ۔۔ وہ تمہارے انتظار میں ہے۔۔!!“
روحان نے اسکا گال تھپتھپایا اور کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔
وہ نہيں چاہتا تھا کہ مدیحہ اسکی آنکهوں میں نمی دیکھے۔۔

”وه جو بچھڑا تو یہ رمز بھی اس نے سمجھائی
روح ایسے نکلتی ہے لوگ یوں مرا کرتے ہیں__!!“

_____________________

”مدیحہ کی عدت پوری ہونے کے بعد وہ لوگ منگنی کیلیۓ آٸیں گے۔۔ مجھے امید ہے آپ ڈیڈ اور بڑے ڈیڈ دونوں کو سمجھا لیں گی۔۔!!“

روحان بی جان کا ہاتھ پکڑے انہيں بتا رہا تھا۔ روحان کے لہجے میں نرمی تھی۔ بی جان حیرت سے اسے دیکھ رہی تھیں۔۔
یہ لڑکا پل پل میں رنگ بدلتا تھا۔۔ کبھی اتنا غصہ کہ سب کچھ تہس نہس کردے۔۔ اور کبھی بےحد شفیق__

”تم اتنے بڑے کب سے ہوگٸے ہو۔۔؟؟“
بی جان نے اسکے چہرے کو چھوتے ہوٸے پوچھا۔
ابھی تین سال پہلے کی تو بات تھی وہ دوستوں کے ساتھ آوارہ گردی کیا کرتا تھا۔
گٹار کندھے پر لٹکاٸے، سیٹی بجاتا وہ آس پاس کے لوگوں کو رک کر دیکھنے پر مجبور کر دیتا تھا۔

وہ تب بھی لوگوں کو شاک کردیتا تھا اور آج بھی ٹھٹکنے پر مجبور___
وہ کیا تھا بی جان بھی سمجھ نہيں پاٸی تھیں۔

”وقت اور حالات انسان کو بہت جلد سب سمجھا دیتا ہے بی جان۔۔ اور مجھے افسوس ہے میرے معاملے میں وقت نے تھوڑی دیر کردی۔۔“
وہ شرارت سے کہہ رہا تھا۔

”خوش رہو سلامت رہو۔۔ آمین۔۔“
بی جان نے اسکی پیشانی چومتے ہوٸے صدق دل سے دعا دی تھی۔
______________________

”ماموں جلدی واپس آنا۔۔ آپکے لئے پر ممانی بھی ڈھونڈنی ہے___!!“
مقدس آپی کے بیٹے ریان نے اسکا ہاتھ کھینچتے ہوٸے کہا تھا۔

وہ سب لوگ ایٸر پورٹ پر موجود تھے۔ روحان لندن جارہا تھا۔ سید جبیل نے اسے زور سے گلے لگایا تھا۔ روحان کو بہت سکون ملا تھا۔
سب بہت خوش تھے اور ساتھ ہی اداس بھی۔

”ممانی آپکے ماموں نے ڈھنوڈ لی ہے دعا کرو بس وہ ماموں کو مل جاٸے۔۔!!“
مقدس آپی نے ریان کو سمجھایا تھا۔

”رٸیلی ماموں۔۔پہلے نہيں بتایا آپ نے؟؟؟“
ریان شرارت سے پوچھ رہا تھا۔۔
روحان بس مسکرا دیا۔ وہ عجیب کشمکش کا شکار تھا۔۔ کبھی کبھی وہ مان لیتا تھا کہ حانم مرچکی ہے۔۔
اور کبھی کبھی دل بغاوت کر جاتا تھا۔۔

”وہ مجھے ملے نا ملے۔۔ وہ یہاں بستی ہے۔۔ اور یہیں رہے گی___!!“
روحان نے اپنے دل کی طرف اشارہ کرکے مقدس آپی کی بات کا جواب دیا تھا۔
وہ اثبات میں سر ہلا گٸی تھیں۔

”ایک بہت بڑی دنیا۔۔ جس میں روشنی کم اور اندھیرا زیادہ ہے تمہارے انتظار میں ہے۔۔ یہ ایک نیا سفر ہے۔۔
النور انٹرنيشنل مسلم سکول کو تم نے سنبهالنا ہے۔ اور پہلے اس قابل بننا ہے کہ تم النور کی رہنمائی کر سکو___!!

ڈاکٹر باسط نے اسے کندھوں سے پکڑتے ہوٸے کہا تھا۔ انکا لندن میں ایک انٹرنيشنل اسلامک سکول تھا جس کا نام النور تھا۔ جہاں نٸے مسلمان ہونے والے لوگوں کیلیۓ رہنے کی جگہ تھی جنہيں انکے خاندان قبول نہيں کرتے تھے۔
مسلمان بچوں کی تعلیم و تربیت کی جاتی تھی اور ہر ویک اینڈ پر النور میں بہت بڑا اجلاس ہوتا تھا جس میں نان مسلم اور ملحد لوگوں کے اسلام پر اعتراض اور مختلف سوالات کے جواب دیے جاتے تھے۔ اس اجلاس میں دنیا کے بہترین مسلم سکالرز اپنا لیکچر دیتے تھے۔

” ان شاء اللہ،“ روحان نے گہرے یقین سے کہا تھا۔

”خیر سے جاٶ اور کامیاب لوٹو۔۔“
مقدس آپی نے اسے دعا دی تھی۔

پاکستان میں بھی موسم ابر آلود تھا۔ اسکی فلاٸیٹ میں بس پندرہ منٹ باقی تھے۔

”اپنے غصے پر قابو کرنا سیکھو۔۔ غصے انسان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحيت کو ختم کر دیتا ہے۔۔ جانتا ہوں ابھی تم سیکھنے کے مراحل میں ہو۔۔ لیکن تم سب سے الگ سب سے خاص ہو۔۔

”جاٶ برخودار۔۔ جاٶ اور فتح کرلو۔۔ تمہارا سب سے بڑا ہتھیار محبت ہے___!!“

ڈاکٹر باسط نے اسے گلے لگایا اور وہ نم آنکهوں سے مسکرا دیا تھا۔

”اس سے پہلے کہ بارش تیز ہو ہمیں نکلنا چاہیۓ۔۔!!
ضیا ٕ جبیل نے کہا تھا۔

وہ سب اپنی گاڑیوں کی طرف جبکہ روحان اندر کی طرف بڑھ گیا تھا۔

_____________________

”سوری آرجے۔۔ میں تھوڑا لیٹ ہوگیا۔۔ کورٹ میں کچھ کام تھا__!!
سبیل نے اسے پہچان لیا تھا۔ وہ بارش میں بیٹھا بھیگ رہا تھا۔ روحان نے اسکے اوپر چھاتہ کیا تھا جو گہری سوچ میں غرق تھا۔۔ اسکی آنکهيں بند تھیں۔

”آرجے۔۔۔“
سبیل نے اسے کندھے سے پکڑ کر ہلایا۔
وہ چونک کر ماضی سے حال میں واپس آیا تھا۔ ہاں وہ لندن پہنچ چکا تھا۔

”سوری۔۔ آنکھ لگ گٸی تھی شاید۔۔“
روحان اٹھ کر سبیل کے گلے لگا تھا جسے وہ سالوں بعد مل رہا تھا۔

”کمال ہے بھٸی۔۔ اتنی تیز بارش میں جو انسان کو چہرے کو چھو رہی ہو۔۔ اور برف جما دینے والی ٹھنڈ میں تمہيں نیند کیسے آگٸی۔۔؟؟“
سبیل نے پوچھا تھا۔

“میرا تعلق محبت کے قبیلے سے ہے۔۔ اور محبت کرنے والوں کو آس پاس کی دنیا کی کوٸی خبر نہيں ہوتی___!!
روحان پھیکی سی ہنسی ہنس دیا تھا۔

”گریٹ۔۔ تو مسٹر محبت کے دیوتا۔۔ گھر چلیں۔۔ کیونکہ یہاں پر بہت سی محبت کی دیویاں تمہيں کسی اور دنیا میں پہنچے ہوٸے دیکھ کر کافی دیر سے حیرت سے تمہیں تک رہی ہیں ایسا نا ہو کہ محبت کا دیوتا انہيں پسند آجاٸے اور پھر مشکل ہوجاٸے۔۔!!“
سبیل کی بات سن کر روحان نے حیرت سے ارد گرد دیکھا تھا۔ پتھر کے بینچوں پر چھاتہ لیۓ اسے کچھ لڑکياں نظر آٸی تھیں جو اسے ہی گھور رہی تھیں۔

”لا حولہ ولا قوت“
روحان بڑبڑایا تھا۔۔ اس بات پر دونوں کا قہقہہ ابھرا تھا اور پر وہ دونوں ہنستے ہوٸے گاڑی کی طرف بڑھ گٸے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: