Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 45

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 45

–**–**–

(زندگی کے سات پہروں کی کہانی)

جب وہ دونوں گھر پہنچے تو بارش کافی تیز ہوچکی تھی۔
روحان غور سے اس ٹاٶن کو دیکھ رہا تھا جسکے پہلی لاٸن کو چھوڑ کر دوسری لاٸن میں سبیل کا گھر تھا۔
سبیل اسکے ماموں کا بیٹا تھا جو یہاں لندن میں
لا ٕ کی پڑھاٸی مکمل کرنے کے بعد اب شہر کی سٹی عدالت میں پریکٹس کر رہا تھا۔

روحان یہاں ایم بی اے کا ایک سال مکمل کرنے کے بعد آیا تھا۔ جب وہ زندگی سے بھرپور تھا اور جلد ہی اپنی گلی یعنی لاٸن میں اپنی خوبصورت آواز کی وجہ سے مشہور ہوگیا تھا۔

کچھ بھی تو نہيں بدلا تھا۔۔ لندن ویسا کا ویسا تھا۔۔
لیکن وہ بدل گیا تھا۔۔ سر تا پیر۔۔
اب ایک اداسی اسکے ارد گرد بکھرنے لگی تھی۔

سبیل نے گاڑی گھر کے اندر پورچ میں داخل کی۔
”محبت کے دیوتا۔۔ آپکا شاہی دربار آچکا اتر جاٸیں“
سبیل کی بات پر وہ مسکرادیا تھا۔ اور پھر اپنے بیگ کو اٹھا کر گاڑی سے باہر نکلا۔

جیسے ہی وہ گاڑی سے باہر نکلا اسے اپنا خون جمتا محسوس ہوا تھا۔ گاڑی میں ہیٹر لگا تھا اسے زیادہ ٹھنڈ محسوس نہيں ہوٸی تھی۔۔ اسکے کپڑے بھیگے ہوٸے تھے اور اب ٹھنڈ کا احساس ہوا تھا۔

”چلیں۔۔۔“ سبیل چابی کو انگلی پر گھماتے ہوٸے پوچھ رہا تھا۔ اور روحان اثبات میں سر ہلا کر اسکے پیچھے گھر میں داخل ہوا۔

_________________________

”کیا میں اندر آسکتا ہوں۔۔۔۔؟؟“
وہ اپنے کمرے میں آرام دہ کرسی پر آتش دان میں لگے ہیٹر کے سامنے بیٹھا تھا۔
جب سبیل کی آواز گونجی تھی۔ روحان نے بند آنکهيں کو کھولا اور مسکرا کر سبیل کی طرف دیکھا۔

”تمہارا گھر ہے جب چاہے جہاں چاہے آ جا سکتے ہو۔۔ اجازت کی ضرورت نہيں۔۔!!

”نہیں۔۔۔ میں آرجے کے کمرے میں بنا اجازت گھس نہيں سکتا۔۔۔!!
سبیل نے ڈرنے کی اداکاری کی۔
وہ اب روحان کے سامنے دیوار پر رکھے صوفے پر براجمان ہوچکا تھا۔

”اچھا کیا تم نے کپڑے بدل لیۓ۔۔“
اسے خاموش دیکھ کر سبیل نے کہا۔ اس نے محسوس کیا تھا روحان کے چہرے پر اب ہر وقت ایک مسکان ہوتی تھی۔ پہلے جیسی سختی نہيں تھی اب اسکے چہرے پر۔۔
البتہ آنکهوں سے اداسی جھلکتی تھی۔

”حشام نے بتایا مجھے اس لڑکی کا۔۔ سن کر بہت افسوس ہوا۔۔ لیکن خداٸی کاموں میں ہم انسان دخل نہيں دے سکتے۔۔
ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں اگر تم برا نا مانو۔۔ جب سے تمہاری کہانی سنی ہے یہ سوال ذہن میں گونج رہا ہے۔۔!!
سبیل نے کہا تھا۔ روحان نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔

”جب تم اس لڑکی سے اتنی محبت کرتے تھے تو اسے جانے کیوں دیا۔۔؟؟“

سبیل کے سوال نے روحان کی روح کو اندر تک چھلنی کردیا تھا۔ وہ بس تڑپ کر رہ گیا تھا۔
کچھ دیر خاموشی چھاٸی رہی__

”مجھے لگتا ہے میں نے غلط سوال پوچھ لیا ہے۔۔!!“
سبیل نے اسے خاموش دیکھ کر معذرت کی۔

”کوٸی بات نہيں شاید ابھی مجھ میں وہ حوصلہ نہيں ہے جس سے میں اپنی کہانی کو بیان کرسکوں۔۔!!

”کوٸی بات نہيں۔۔ چھوڑو ان باتوں کو چلو کھانا کھاتے ہیں۔۔ میں ملازم سے کہہ کر آیا تھا۔۔ اس نے لگا دیا ہوگا۔۔!!“
سبیل ایک دم کھڑا ہوا۔

روحان کا دل نہيں چاہ رہا تھا۔۔ لیکن وہ سبیل کا دل نہيں توڑنا چاہتا تھا اس لیۓ اسکے پیچھے پیچھے کمرے سے باہر نکل گیا۔

______________________

کھانا کھانے کے بعد وہ لاٶنج میں بنی کھڑکی میں آگیا تھا جو باہر لان میں کھلتی تھی۔ سبیل اپنے کمرے میں چلا گیا تھا۔۔ اسے آفس کا کام کرنا تھا۔
روحان نے جیسے ہی کھڑکی کھولی تو ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکہ اسکے چہرے سے ٹکرایا تھا جو اسے اندر تک سرشار کرگیا تھا۔

یہ تازہ ہوا بھی قدرت کی کتنی بڑی نعمت تھی۔۔ جو انسان کو ایک پل کیلیۓ مسکرانے پر مجبور کر دیتی تھی۔

جیسے ہی روحان کی نظر لان میں برستی بارش پر پڑی وہ حیران رہ گیا تھا۔
وہ وہاں تھی۔۔ بارش میں بھیگ رہی تھی۔
وہ بہت خوش تھی۔۔ کھلکھلا رہی تھی__ اسکی ہنسی سے فضا میں ایک عجیب سا جلترنگ پیدا ہورہا تھا___

وہ محبت یا عشق کے اس حصے میں داخل ہوگیا تھا جہاں محبوب کا نظروں کے سامنے ہونا یا نہ ہونا کوٸی اہمیت نہيں رکھتا۔۔
وہ ناجانے کہاں تھی۔۔ تھی بھی یا نہيں تھی۔۔
لیکن روحان کو وہ اپنی آنکهوں کے سامنے نظر آ ہو رہی تھی۔

”روحان آٶ نا۔۔“
اس نے روحان کو پکارہ تھا۔ وہ ایک ٹرانس کی کیفیت میں کھڑکی کے رستے ہی باہر لان میں کودا تھا۔
اب وہ حانم کی طرف بڑھ رہا تھا۔

اسے اپنی آنکهوں پر یقین نہيں ہو رہا تھا__

”کیا تمہيں پتا ہے محبت کسے کہتے ہیں۔۔؟؟“
وہ اس سے کچھ فاصلے پر کھڑی پوچھ رہی تھی۔

”نہيں۔۔۔“
روحان نے نفی میں گردن ہلاٸی تھی۔

”بہت اچھی بات ہے مجھے بھی نہيں پتا۔۔“
وہ شرارت سے مسکراٸی تھی۔۔۔ روحان کیلیۓ یہ سب ایک سیراب تھا۔۔ لیکن وہ نہيں جانتا تھا واقعی اس وقت تک حانم محبت کے جذبے سے انجان تھی۔۔
وہ نہيں جانتی تھی محبت کا لمس اور احساس کیسا ہوتا ہے۔

”محبت وہ جذبہ ہے۔۔ وہ آگ ہے جسے لفظوں میں بیان نہيں کیا جا سکتا۔۔
میں نے بہت دفعہ محبت کو الفاظ کی صورت میں پنّوں پر بکھیرنے کی کوشش کی ہے۔۔ اور ہر بار میں کاغذ کے پنّوں کو جلتے پایا ہے۔۔ میں جب بھی اپنی محبت کو کسی چیز کے حوالے کرنا چاہتا ہوں وہ چیز خون اگلتی ہے۔۔ جل جاتی ہے۔۔ ختم ہوجاتی ہے___!!“
بارش کے پانی میں روحان کی آنکهوں کی نمی گھل سی گٸی تھی۔

”افف۔۔ اتنی خطرناک اور خوفناک محبت____
کیسے کرلی تم نے روحان۔۔ کیسے۔۔؟؟“
وہ سراپاٸے سوال تھی۔

”نہيں جانتا۔۔۔ شاید زبردستی کرواٸی گٸی۔۔“
وہ ہنسا تھا۔ خاک کردینے والی درد بھری مسکراہٹ___

”سب ختم ہوجاتا ہے۔۔ محبت بھی۔۔ جیسے تمہاری محبت ختم ہوٸی تھی۔۔ ایک پل میں۔۔ ایک لمحے میں۔۔ بنا سچاٸی جانے___
محبت کا کوٸی وجود نہيں ہے۔۔!!“
وہ اب رفتہ رفتہ روحان سے دور ہو رہی تھی۔

”رکو۔۔ نہيں۔۔ محبت ختم نہيں ہوٸی تھی۔۔ محبت کی تو شروعات ہوٸی تھی۔۔!!
روحان نے دہاٸی دی تھی۔ اسکا دور جانا روحان کو برا لگ رہا تھا۔

”نہيں۔۔ مجھے سب یاد ہے۔۔ سب یاد ہے۔۔!!“
اس نے حانم کے لہجے میں اذیت محسوس کی تھی۔
اس سے پہلے وہ مزید دور جاتی۔۔ روحان نے آگے بڑھ کر اسے پکڑنا چاہا تھا۔۔ لیکن وہ دھواں بن کر فضا میں تحلیل ہوگٸی تھی___
اور یہ شاید اسکے لیۓ اذیت کی آخری حد تھی۔

بارش کی برستی بوندوں نے، جب دستک دی دروازے پہ
محسوس ہوا تم آئے ہو، انداز تمھارے جیسا تھا

ہوا کے ہلکے جھونکے کی، جب آہٹ پائی کھڑکی پر
محسوس ہوا تم گزرے ہو، احساس تمھارے جیسا تھا

میں نے گرتی بوندوں کو، روکنا چاہا ھاتھوں پر
ایک سرد سا پھر احساس ہوا، وہ لمس تمھارے جیسا تھا

تنہا میں ،چلا پھر بارش میں، تب ایک جھونکے نے ساتھ دیا
میں سمجھا تم ہو ساتھ میرے، وہ ساتھ تمھارے جیسا تھا

پھر رک گئی وہ بارش بھی، رہی نا باقی آہٹ بھی
میں سمجھا مجھے تم چھوڑ گئے، انداز تمھارے جیسا تھا

__________________________

ملازم سبیل کے کمرے میں چاٸے دینے گیا تھا۔ دستک دینے پر سبیل نے اسے اندر آنے کی اجازت دی تھی۔

”آرجے کو چاٸے پہنچا دی تم نے۔۔؟؟“
سبیل نے پوچھا۔

”نہيں وہ اپنے کمرے میں نہيں ہیں۔۔۔“

”ہاٸیں۔۔کمرے میں نہيں تو پھر کہاں گیا۔۔؟؟“
ملازم کی بات سن کر سبیل حیران ہوا۔

”وہ باہر لان میں بارش میں بھیگ رہے ہیں۔۔“
ملازم کی بات سن کر سبیل نے اثبات میں سر ہلایا۔

”لگتا ہے موصوف کا آج ہی سارے کپڑے گیلے کرنے کا ارادہ ہے۔۔!!
سبیل نے چاٸے کی چسکی لیتے ہوٸے سوچا۔

”کیا انہيں کوٸی نفسياتی مسٸلہ ہے۔۔۔؟؟“
ملازم نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔

”کیوں ایسا کیوں کہہ رہے تم۔۔؟؟“
سبیل نے ابرو اٹھا کر غصے سے اسے گھورا۔

”نہيں۔۔ وہ دراصل میں نے ابھی انہيں لان میں کسی سے باتيں کرتے دیکھا۔۔ لیکن وہاں کوٸی نہيں تھا۔۔!!“

ملازم کی بات سن کر سبیل چونکا۔

”جاٶ تم ایسی کوٸی بات نہیں ہے۔۔ اور اپنے کام سے کام رکھا کرو۔۔!!
سبیل نے سخت سے لہجے میں کہا تو ملازم شکر کرتا وہاں سے بھاگا۔
جبکہ پیچھے سبیل کو روحان کے متعلق جان کر افسوس ہوا تھا۔

________________________

اگلے دن اتوار تھا۔ سبیل کام کے سلسلے میں گھر سے باہر گیا تھا۔ روحان اکیلا لاٶنج میں بیٹھا تھا۔ پچھلی رات وہ کتنی دیر تک جاگتا رہا تھا۔۔ پر نہ جانے کب اسکی آنکه لگی تھی۔۔

لیکن وہ شاید سویا نہيں تھا۔۔ نیند تو وہ ہوتی ہے جسکے بعد ہم اٹھیں تو پرسکون ہوں۔۔ جبکہ روحان کے معاملے میں ایسا نہيں تھا۔۔

وہ سوتے میں جاگتا تھا۔۔ اور جاگتے میں سوتا۔۔
کچھ دیر وہ بیٹھا رہا۔۔ پھر اٹھا اور ظہر کی نماز ادا کی۔
نماز کے بعد وہ ترجمے والا قرآن کھول کر بیٹھ گیا تھا۔۔
کل رات اس نے اپنی الماری بھی سیٹ کی تھی۔۔
وہ پاکستان سے اپنے بیگ اور سوٹ کیس میں کپڑے کم کتابيں زیادہ لایا تھا۔۔ اسے جن کتابوں پر شک تھا کہ لندن سے نہيں ملیں گی وہ ان سب کو اٹھا لایا تھا۔۔ جن میں زیادہ تر اسلامی کتابيں تھیں۔
قرآن پاک کو پڑھنے کے بعد اسکے ذہن میں ایک سوال ابھرا تھا جو وہ ڈاکٹر باسط سے پوچھنا چاہتا تھا۔
اس نے ابھی کچھ دیر پہلے مومنین کی صفات پڑھی تھیں۔
روحان کو حیرت ہو رہی تھی وہ مومن تو کیا اچھا مسلمان بھی نہيں تھا، وہ ابھی دھوکے باز سمجھتا تھا خود اور جھوٹا بھی۔۔
ابھی تک وہ بڑوں کی ہر بات نہيں مانتا تھا بلکہ اپنی مرضی کرتا تھا۔
اس نے ڈاکٹر باسط کے اکاٶنٹ کو کھولا اور اور وہاں اپنا سوال لکھا تھا۔۔
اسے امید تھی سرچ کرنے پر جواب مل جاٸے گا۔۔ شاید اس سے پہلے بھی بہت سے لوگوں نے یہ سوال کیا ہو__
اور اسکے چہرے پر ایک دم رونق چھا گٸی تھی جب اسے اپنے سوال سے متعلق ویڈیو ملی۔

” اسلام اور مسلمانوں کے عمل میں واضح فرق کیوں؟

” اگر اسلام بہترین مذہب ہے تو بہت سے مسلمان بے ایمان کیوں ہیں اور دھوکے بازی، اور رشوت اور منشیات فروشی میں کیوں ملوث ہیں ؟ “

یہ سوال کسی ملحد نے کیا تھا۔۔ اور ڈاکٹر باسط کا جواب موجود تھا۔

” میں آپکی بات سے اتفاق کرتا ہوں برادر۔۔ آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں__

ڈاکٹر باسط نے تحمل سے سوال سننے کے بعد بولنا شروع کیا۔

”اسلام بلا شبہ بہترین مذہب ہے لیکن میڈیا مغرب کے ہاتھ میں ہے جو اسلام سے خوفزدہ ہے، میڈیا مسلسل اسلام کے خلاف خبریں نشر کرتا وہ اسلام کے بارے میں غلط معلومات پہنچاتا ہے وہ اسلام کے بارے میں غلط تاثر پیش کرتا ہے، غلط حوالے دیتا ہے اور واقعات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتا ہے، جب کسی جگہ کوئی بم پھٹتا ہے تو بغیر کسی ثبوت کے سب سے پہلے مسلمانوں پر الزام لگا دیا جاتا ہے۔ وہ الزام خبروں میں سب سے زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔ لیکن بعد میں جب یہ پتہ چلتا ہے کہ اس کے ذمہ دار غیر مسلم تھے تو یہ ایک غیر اہم اور غیر نمایاں خبر بن کر رہ جاتی ہے۔ اسی طرح اگر کوئی پچاس برس کا مسلمان کسی پندرہ سالہ لڑکی سے اس کی اجازت سے شادی کرتا ہے تو مغربی اخبارات میں وہ پہلے صفحے کی خبر بنتی ہے، لیکن جب کوئی 50 سالہ غیر مسلم 6 سالہ لڑکی کی عصمت دری کرتا ہے تو یہ سانحہ اندر کے صفحات میں ایک معمولی سی خبر کے طور پر شائع ہوتا ہے۔ امریکہ میں روزانہ عصمت دری کے 2713 واقعات پیش آتے ہیں لیکن خبروں میں جگہ نہیں پاتے کیونکہ یہ امریکیوں کی طرزِ زندگی کا ایک حصہ ہے۔۔!!

ہر معاشرے میں ناکارہ لوگ ہوتے ہیں ،میں اس بات سے باخبر ہوں کہ ایسے مسلمان یقیناً موجود ہیں جو دیانتدار نہیں اور دھوکے بازی اور دوسری مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ لیکن میڈیا یہ ثابت کرتا ہے کہ صرف مسلمان ہی ان کا ارتکاب کرتے ہیں، حالانکہ ایسے افراد اور جرائم دنیا کے ہر ملک اور ہر معاشرے میں ہوتے ہیں۔ اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ بہت سے مسلمان بلا نوش ہیں، اور غیر مسلموں کے ساتھ مل کر شراب نوشی کرتے ہیں۔

لیکن مسلم معاشرے کی مجموعی حالت بہتر ہے ،اگرچہ مسلمان معاشرے میں بھی کالی بھیڑیں موجود ہیں مگر مجموعی طور پر مسلمانوں کا معاشرہ دنیا کا بہترین معاشرہ ہے۔ ہمارا معاشرہ دنیا کا وہ سب سے بڑا معاشرہ ہے جو شراب نوشی کے خلاف ہے، یعنی ہمارے ہاں عام مسلمان شراب نہیں پیتے۔ مجموعی طور پر ہمارا ہی معاشرہ ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ خیرات کرتا ہے۔ اور جہاں تک حیا، متانت، انسانی اقدار اور اخلاقیات کا تعلق ہے دنیا کا کوئی معاشرہ ان کی مثال پیش نہیں کرسکتا۔ بوسنیا، عراق اور افغانستان میں مسلمان قیدیوں سے عیسائیوں کا سلوک اور برطانوی خاتون صحافی کے ساتھ طالبان کے برتاؤ میں واضح فرق صاف ظاہر ہے۔

اس بات کو میں ایک مثال سے سمجھاتا ہوں،

اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ مرسیڈیز کار کا نیا ماڈل کیسا ہے اور ایک ایسا شخص جو ڈرائیونگ نہیں جانتا سٹیرنگ پر بیٹھ جائے اور گاڑی کہیں دے مارے تو آپ کس کو الزام دیں گے؟ کار کو یا ڈرائیور کو ؟فطری بات ہے کہ آپ ڈرائیور کو الزام دیں گے۔ یہ دیکھنے کے لیے کہ کار کتنی اچھی ہے ، ڈرائیور کو نہیں بلکہ کار کی صلاحیت اور اسکے مختلف پہلوؤں کو دیکھنا چاہیئے کہ یہ کتنی تیز چلتی ہے، ایندھن کتنا استعمال کرتی ہے، کتنی محفوظ ہے وغیرہ وغیرہ۔

اسی طرح اگر یہ بات محض دلیل کے طور پر مان بھی لی جائے کہ مسلمان خراب ہیں تب بھی ہم اسلام کو اس کے پیروکاروں سے نہیں جانچ سکتے۔ اگر آپ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ اسلام کتنا اچھا ہے تو اُسے اس کے مستند ذرائع سے پرکھیں، یعنی قرآن مجید اور صحیح احادیث سے!

اسلام کو محمد ﷺ کی ذات ِ گرامی سے پرکھیں ،

اگر آپ عملی طور پر یہ دیکھنا چاہیں کہ کار کتنی اچھی ہے تواس کے سٹیرنگ وہیل پر کسی ماہر ڈرائیور کو بٹھائیں، اسی طرح یہ دیکھنے کے لیے کہ اسلام کتنا اچھا دین ہے تو اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم اللہ کے آخری پیغمبر ﷺ کو سامنے رکھ کر دیکھیں، مسلمانوں کے علاوہ بہت سے دیانتدار اور غیر متعصب غیر مسلم مؤرخون نے علانیہ کہا ہے کہ حضرت محمد ﷺ بہترین انسان تھے، مائیکل ایچ ہارٹ نے ” تاریخ پر اثر انداز ہونے والے سو انسان ” کے عنوان سے کتاب لکھی جس میں سر فہرست پیغمبر اسلام محمد ﷺ کا اسم گرامی ہے، غیر مسلموں کی اور بھی بہت سی مثالیں ہیں جن میں انھوں نے نبی ﷺ کی بہت تعریف کی ہے ، مثلاً تھامس کا لائل، لا مارٹن وغیرہ۔
تو یہ آپکا کہنا درست ہے۔۔۔ مسلمان اور اسلام میں کے عمل میں واضح فرق ہے۔۔ لیکن چونکہ مسلمان ایک انسان ہے جو آدم کی اولاد ہے اور غلطی اسکی فطرت میں شامل ہے۔۔ تو بہتر ہے آپ اسلام کے بہترین لوگوں کو دیکھیں۔ آپکو پتا چل جاٸے گا کہ اسلام کتنا مضبوط دین ہے۔“

ڈاکٹر باسط خاموش ہوچکے تھے۔۔ ہال تالیوں سے گونج اٹھا تھا۔۔
روحان سکتے کی حالت میں انہيں سن رہا تھا۔

”مسلمان پرفیکٹ نہيں ہیں جبکہ اسلام پرفیکٹ ہے مسٹر آرجے۔۔ تو آپ مسلمانوں کو نہيں اسلام کو دیکھیں۔۔۔“
ام حانم کے الفاظ اسکی سماعت سے ٹکراٸے تھے۔۔ اس سوال کا جواب تو دو جملوں میں بہت پہلے دے چکی تھی۔۔
وہ کیوں نہيں سمجھا تھا۔۔ شاید ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے۔۔ اور شاید سمجھنے کا بھی__

______________________

ویڈیو دیکھنے کے بعد روحان جلدی سے اٹھا اور کپڑے بدلے۔۔ اسے النور ادارے میں جانا تھا جو ڈاکٹر باسط کا تھا۔۔ وہ وہاں سے تعلیم حاصل کرنا چاہتا تھا۔
سبیل گھر نہيں تھا اور نا ہی گاڑی تھی۔ اور روحان نے ابھی گاڑی نہيں لی تھی۔ اس نے ٹرین سے جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ پتہ اسے معلوم تھا۔

تقریباً پندرہ منٹ بعد وہ ٹرین میں بیٹھا تھا۔ شیشے سے وہ پیچھے کی جانب بھاگتے نظاروں کو دیکھ رہا تھا۔
اسکے سامنے سیٹ پر ایک لڑکا اور ایک لڑکی بیٹھے تھے۔

”تو تمہارا اپنی گرل فرینڈ سے بریک اپ کیوں ہوا۔۔؟؟“
لڑکی نے لڑکے سے سوال کیا تھا۔ شاید وہ دونوں دوست تھے۔

”تم جانتی ہو میری گرل فرینڈ بہت مذہبی قسم کی تھی۔ ایک دن وہ کہنے لگی کہ اسے خدا سے عشق ہے۔۔
مجھے حیرت ہوٸی۔۔ میں نے کہا کہ تم خدا سے عشق نہيں کر سکتی۔۔ تمہاری اتنی اوقات نہيں۔۔ ہاں البتہ تم چاہو تو اسے عاشق بنا سکتی ہو۔۔!!
بس اتنی سی بات تھی وہ اٹھی اور چاٸے گا کپ میرے سر پر مار کر چلی گٸی۔“

لڑکے کی بات سن کر لڑکی خوب ہنسی تھی البتہ روحان ٹھٹکا تھا۔
اسے وہ رات یاد آگٸی تھی۔۔ اس رات جب وہ حانم کو ڈھونڈتے ہوٸے اسکے گھر پہنچ گیا تھا۔ جب وہاں پر اس نے فقیر نے اس پلٹ جانے کو کہا تھا۔۔
لیکن روحان میں اتنی ہمت نہيں تھی۔۔ وہ وہیں گھٹنے زمین پر ٹکا کر بیٹھ گیا تھا۔۔۔
اسکی حالت غیر ہو رہی تھی۔۔ وہ ہر حالت میں حانم سے ملنا چاہتا تھا۔

”ایک بات کہوں۔۔ اگر تم اس پر عمل کرو گے تو سب کچھ تمہاری منشا کے مطابق ہوگا۔۔“

فقیر کے پراسرار لہجے میں کہنے پر وہ چونکا تھا۔

”جاٶ۔۔ اور جا کر اللہ کو عاشق بنا لو۔۔ جب تو اسے اپنا بنا لے گا اور اسکا بن جاٸے گا تو سب مل جاٸے گا تجھے جو نامکمن ہے۔۔
سب ممکن ہوجاٸے گا۔۔“

فقیر کی بات سن کر آرجے کو حیرت ہوٸی تھی۔ اسے اتنا پتا تھا کہ اللہ کو عاشق کہنا غلط تھا۔ وہ جانتا تھا اسکے گھر میں اللہ سے عشق کرنے کی باتيں کی جاتی نا کہ اسے عاشق بنانے کی۔
اسے فقیر پر کس پاگل کا گمان ہوا تھا۔۔

”سوچ کیا رہا ہے۔۔اب جا یہاں سے۔۔“
فقیر چلایا تھا لیکن وہ الجھا الجھا سا اسے دیکھ رہا تھا۔

اس سے پہلے وہ کچھ کہتا فقیر اپنی جگہ سے اٹھا اور اسکے پاس سے گزر کر گلی میں کہیں غاٸب ہوگیا تھا۔۔۔
روحان کو وہ رات یاد آگٸی تھی۔ وہ فقیر کی بات کو نظرانداز کرچکا تھا لیکن آج پھر اسکے سامنے کسی نے وہی بات کی تھی۔
اسے حیرت ہورہی تھی۔ روحان کچھ کہنا چاہتا تھا۔۔ وہ اس لڑکے سے پوچھنا چاہتا تھا کہ اللہ سے عشق کیوں نہيں کیا جا سکتا۔۔؟؟
لیکن شاید انکا اسٹیشن آگیا تھا اور وہ دونوں اتر گٸے۔۔
روحان الجھ کر رہ گیا تھا۔

__________________________

وہ النور سکول پہنچ چکا تھا۔ گیٹ پر گارڈ نے اسکا شناختی کارڈ چیک کیا تھا اور پھر اسے اندر جانے کی اجازت دے دی تھی۔

یہ ادارہ بہت خوبصورت تھا۔۔ بہت بڑا تھا۔۔ اور بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔
وہ نفاست سے قدم اٹھاتا ریسیپشن کی طرف بڑھا تھا۔
ریسپیشن پر ایک لڑکا بیٹھا تھا جو شاید مغرب کا ہی رہنے والا تھا۔

”اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎،“
اس سے پہلے روحان کچھ کہتا اس لڑکے نے روحان کو سلام کیا تھا۔۔ جسکا جواب روحان نے حیران ہوتے ہوٸے دیا تھا۔

”جی آپکا نام۔۔۔؟؟“
لڑکے نے پوچھا تھا یقيناً وہ مسلمان تھا۔

”روحان جبیل۔۔“

”اوووہ۔۔ کیا واقعی۔۔ ماشاءاللہ ماشاءاللہ ڈاکٹر صاحب نے بتایا تھا کہ انکا بیٹا آٸے گا اس جگہ پر اسکا خاص خیال رکھنا ہے۔۔“
وہ لڑکا کہتا ہوا روحان کے گلے لگ گیا۔ جبکہ روحان تو حیرت سے گنگ کھڑا تھا۔ اسے یقین نہيں آرہا تھا کہ ڈاکٹر باسط اسے اپنا بیٹا مانتا تھا۔ شدت جذبات سے اسکی آنکهيں نم ہوٸیں۔

اس سے پہلے وہ کچھ کہتا وہ لڑکا اسے لے کر ایک کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا۔

________________________

اگلے دن کورٹ جاتے ہوٸے سبیل نے اسے یونيورسٹی چھوڑا تھا۔
”بیسٹ آف لک۔۔۔ محبت کے دیوتا اور یہاں محبت کی دیویوں سے بچ کر رہنا۔۔“
وہ شرارت سے کہتا گاڑی بھگا کر لے گیا تھا جبکہ روحان اسکی شرارت پر مسکرا کر رہ گیا تھا۔

وہ ایک گہری سانس لے کر یونيورسٹی میں داخل ہوا تھا۔
کچھ دیر آوارہ گردی کرنے کے بعد اسے اپنا ڈیپارٹمنٹ مل گیا تھا۔
یہاں کا ماحول بالکل ویسا ہی تھا جیسا ایک یونيورسٹی کا ہوتا ہے۔۔

ہر طرف قہقہے۔۔ زندگی سے بھرپور سٹوڈنٹس۔۔ شرارتیں کرتے کچھ ٹین ایج___

وہ سب دیکھ کر بس ہلکا سا مسکرادیا تھا۔۔ اسے مکی سے ساتھ گزارے اپنے دن یاد آگٸے تھے۔

پہلے لیکچر میں کیا پڑھایا گیا تھا اسے کچھ خاص سمجھ نہيں آٸی تھی۔ اسکا دماغ کل والے سوال میں اٹکا تھا۔ وہ جلد از جلد ڈاکٹر باسط سے بات کرنا چاہتا تھا۔

پہلا لیکچر کب ختم ہوا۔۔ پروفيسر کب کلاس سے گیا اسے کچھ خبر نہيں تھی۔
وہ تب چونکا جب دورسرا پروفيسر کلاس میں داخل ہوا___

روحان کلاسز شروع ہونے کے بعد ایک ہفتہ لیٹ آیا تھا۔
سب کا تعارف یقيناً ہوچکا تھا۔۔ اسے وہاں ابھی تک کوٸی نہيں جانتا تھا۔

”ہے یو۔۔ کہاں گم ہو۔۔؟؟“
پروفيسر نے اسے گہری سوش میں غرق دیکھ کر پوچھا۔ شاید پروفيسر کافی تیز نظر تھے۔

”یس پرفیسر۔۔“
وہ چونک کر سیدھا ہوا۔

”کیا نام ہے تمہارا۔۔؟؟“
وہ اب پوچھ رہے تھے۔

”روحان جبیل۔۔“
روحان نے کھڑے ہوتے ہوٸے بتایا۔
پروفيسر کے چہرے پر حیرت پھیل گٸی تھی۔

”کیا تم سچ میں وہی ہو۔۔ ہمیشہ سے گولڈ میڈل حاصل کرنے۔۔ غیر معمولی صلاحيتوں کے مالک۔۔؟؟“
وہ حیرت سے پوچھ رہے تھے۔

”جی۔۔۔“
روحان کو سمجھ نہيں آرہی تھی وہ اتنے حیران کیوں ہو رہے تھے۔

”میں نے تمہاری فاٸل دیکھی تھی اور تب ہی تمہيں اس یونيورسٹی میں ایڈمیشن کیلیۓ اوکے کیا تھا۔۔ لیکن شک تھا کہ شاید ایڈمن آفس والے تمہیں ری جیکٹ نا کردیں۔۔
ویل میں ہوں پروفيسر جسٹن۔۔ یہاں کا HOD اور مجھے تم سے مل کر اچھا لگا۔۔!!“
پروفيسر کے اسکی تعریف کرنے پر کلاس میں ہلچل سی مچ گٸی تھی۔ سٹوڈنٹس پیچھے مڑ مڑ کر اسے دیکھ رہے تھے۔

>Thank you so much professor”
روحان نے بس اتنا ہی کہا تھا۔
اور پروفيسر جسٹن اسے گہری نگاہ سے دیکھ کر رہ گیا تھا۔۔ البتہ چہرے پر مسکراہٹ پھیلی تھی۔

____________________

کلاس کے بعد وہ لان میں بنے بینچ پر آکر بیٹھ گیا تھا۔ موسم خوشگوار تھا۔ لان کے بیچوں بیچ ایک خوبصورت سا فوارہ تھا جس پر پرندوں کا ہجوم تھا جو وہاں سے پانی پی رہے تھے۔
انکی چہچاہٹ کانوں کو بھلی محسوس ہو رہی تھی۔

روحان نے کچھ سوچتے ہوٸے ڈاکٹر باسط کا نمبر ملایا تھا۔ دو تین بیل جانے کے بعد اسکی کال ریسیو کرلی گٸی تھی۔

سلام دعا کے بعد روحان اپنی بات پر آیا تھا۔

”مجھے کچھ پوچھنا ہے آپ سے ڈاکٹر۔۔“

”جی ضرور پوچھو۔۔ تم میرے سب سے زیادہ سوال کرنے والے شاگرد ہو۔۔!!“
وہ مسکراٸے تھے۔ روحان کے چہرے پر بھی مسکراہٹ پھیلی۔

”اللہ سے عشق کیوں نہيں کیا جا سکتا۔۔ میں نے ایک فقیر کے منہ سے سنا تھا اللہ کو عاشق بنا لو۔۔ اس سے عشق کرنا انسان کے بس کی بات نہيں۔۔ اسکی کیا وجہ ہے۔۔؟؟“
روحان کی بات سن کر ڈاکٹر باسط مسکراٸے تھے۔

”مجھے یہ بتاٶ کہ عاشق کون ہوتا ہے۔۔؟؟

”عاشق وہ جو محبوب کے کہنے پر چلے۔۔ اسکا خاص خیال رکھے۔۔ جو محبوب کرے وہ وہی کرے۔۔ محبوب بھوکا ہو اور کچھ نا کھاٸے تو وہ بھی بھوکا رہے۔۔!!
روحان نے اپنی طرف سے ایک عاشق کی خصوصيات بیان کردی تھیں۔

”بالکل۔۔ تو مجھے بتاٶ کہ اگر تم اللہ سے عشق کرنا چاہو تو ان سب خصوصيات پر پورا اتر سکتے ہو۔۔؟؟ اللہ کو اونگ نہيں آتی کیا تم اسکے لیۓ ساری زندگی جاگ سکتے ہو۔۔؟؟
اللہ تمہیں ہر وقت دھیان میں رکھتا ہے کیا تم اسے ہر وقت دھیان میں رکھ سکتے ہو۔۔۔؟؟
اللہ تمہارے دل کے راز جانتا ہے کیا تم اللہ کو اتنا جان سکتے ہو۔۔؟؟
اللہ تمہيں بہت سی نعمتیں عطا کرتا ہے تم اللہ کو کیا دے سکتے ہو۔۔۔؟؟“

ڈاکٹر باسط کے سوالوں نے روحان کو ٹھٹکنے پر مجبور کیا تھا۔

”عاشق کا درجہ بہت بڑا ہے جس پر صرف اللہ ہی پورا اتر سکتا ہے۔۔
وہ ان سب خصوصيات پر پورا اترتا ہے جو ایک انسان کے بس کی بات نہيں۔۔
اس لیۓ جو فقیر نے کہا وہ اس نے اپنی طرف سے ٹھیک کہا تھا۔۔
انسان تو بس اللہ کے احکام مان کر اسے اپنا بنا کر اسکا محبوب بندہ بن سکتا ہے۔۔ وہ کبھی بھی عشق کے تقاضوں پر پورا نہيں اتر سکتا۔۔!!
وہ کبھی عاشق نہيں بن سکتا۔۔!!“

ڈاکٹر باسط خاموش ہوچکے تھے۔۔ اور روحان ایک سکتے سے باہر آیا تھا۔
بات تو ٹھیک کہی تھی ڈاکٹر باسط نے۔۔ یقیناً وہ فقیر اور وہ لڑکا اس راز کو جان گیا تھا کہ انسان عشق کے تقاضوں پر پورا نہيں اتر سکتا۔۔
یہ ایک بہت مشکل کام ہے۔۔ شاید دنیا میں کچھ ایسے لوگ گزرے ہوں جنہوں نے اللہ سے عشق کیا ہو____
یہ ایک عام انسان کے بس کی بات نہيں تھی۔

وہ ابھی اسی سوچ میں غرق تھا جب ایک ادھیڑ عمر آدمی اسکے پاس آکر بیٹھ گیا تھا۔

”لگتا ہے کوٸی بہت اہم راز پایا ہے۔۔ تبھی چہرہ اتنا چمک رہا ہے۔۔!!
اس آدمی نے کہا تھا۔۔ روحان نے چونک کر اسے دیکھا۔


#جاری

👈یہ جو ناول کا پہر چل رہا ہے۔۔ یہ سب سے خوبصورت پہر ہے۔۔ اور یہ چھٹا پہر ہے۔۔ میرا پسندیدہ۔۔ اسی طرح پیچھے ناول میں پانچ پہر گزر چکے ہیں۔۔ اور ابھی ایک باقی ہے۔
کچھ ریڈرز نے پوچھا تھا کہ یہ پہر کیا ہیں۔۔؟؟
پہر کا مطلب ناول میں جو کرداروں کی زندگی میں واقعات ہوٸے وہ ہیں۔۔۔جیسے روحان کا ماضی جو اب چل رہا ہے۔۔ یہ چھٹا پہر ہے۔۔ اب آپ لوگ سوچیں اور بتائيں کہ پیچھے ناول میں روحان اور حانم کی زندگی میں کون کون سے موڑ آٸے ہیں۔ ہر موڑ پر ایک نیا پہر شروع ہوتا تھا۔ غور کرنے پر شاید آپ لوگ جان جاٸیں۔ 😊

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: