Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 46

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 46

–**–**–

( زندگی کے ساتھ پہروں کی کہانی )

”لگتا ہے کوٸی بہت اہم راز پایا ہے۔۔ تبھی چہرہ اتنا چمک رہا ہے۔۔!!
اس آدمی نے کہا تھا۔۔ روحان نے چونک کر اسے دیکھا۔
کچھ دیر پہلے وہ آدمی اس فوارے کے قریب کھڑا وہاں آس پاس اڑتے پرندوں کو دانہ ڈال رہا تھا۔

”جی۔۔ راز پایا ہے کہ عشق کے تقاضے بہت کڑے ہیں۔۔“
روحان نے جواب دیا تھا۔

”تو کیا عشق کرنا انسان کے بس کی بات نہيں۔۔؟؟“
اس نے دوبارہ پوچھا۔

”جنہوں نے عشق کیا وہ نارمل نہيں پاگل کہلاٸے ہیں۔۔!!“

”یعنی عشق فنا کرتا ہے۔۔؟؟“
ایک اور سوال حاضر تھا۔

”عشق تو بقا عطا کرتا ہے، ایک انسان جب فنا ہوتا ہے تب ہی بقا پاتا ہے۔۔۔۔!!“
روحان کے پاس جواب موجود تھا۔

”کیا خدا سے عشق ہو سکتا ہے۔۔ کیا کبھی کسی نے اس ذات سے عشق کیا ہے۔۔؟؟“

”یہی تو راز پایا ہے کہ عشق کے تقاضے کڑے ہیں۔۔۔ خدا سے عشق کرنا جتنا مشکل ہے اتنا ہی آسان ہے۔۔!!“

”میں نے سنا ہے خدا اپنے بندے سے بہت زیادہ پیار کرتا ہے۔۔ تو خدا کو عاشق کہنا درست ہوگا۔۔؟؟“
روحان چونکا تھا۔
”آج کل ہم نے عشق اور محبت کو اتنا غلط رنگ دے دیا ہے جب ہم عاشق کی بات کرتے ہیں تو بہت ہی غلط تصور ذہن میں ابھرتا ہے۔۔ حالانکہ خدا نے ہر جذبے کو پیدا فرمایا ہے لیکن انسان نے کسی چیز کو نہيں بخشا۔۔!!“

”تو ایسی صورتحال میں کیا کرنا چاہیۓ۔۔؟؟ لفظ عاشق خدا کیلیۓ استعمال کرنا کچھ عجیب سا لگتا ہے۔۔!!“

”وہی تو کہہ رہا ہوں۔۔ کہ ہم نے جذبات کو تو غلط رنگ دیا ہی تھا اسکے ساتھ الفاظ کی شناخت کو بھی مسخ کردیا ہے۔۔ انسان بہت ظالم واقع ہوا ہے۔۔ اس نے عشق کو ایسا رنگ دے دیا ہے کہ جب لفظ عاشق زبان پر آتا ہے تو دماغ اس لفظ کا تمسخر اڑاتا ہے۔۔،
میرے خیال سے خدا کو عاشق کہنے سے بہتر ہے اپنے آپکو خدا کا محبوب بندہ بنایا جاٸے۔۔!!“
روحان نے پہلی بار کسی سوال کا جواب دیا تھا۔

”بہت خوب۔۔۔ خدا کا محبوب بندہ___سن کر اچھا لگا۔۔!!
لیکن اب میں یہ نہيں پوچھوں گا کہ خدا کا محبوب بندہ کیسے بنا جا سکتا ہے۔۔ کیونکہ اسکے لیۓ مجھے اپنا عقیدہ بدلنا ہوگا۔۔!!“

”جیسے آپکو بہتر لگے۔۔“
روحان مسکرایا۔

”ہیلو۔۔ میرا نام تھامس ہے۔۔ مجھے تمہارا جواب بہت پسند آیا ہے۔۔ بہت عرصے بعد کوٸی ایسا شخص ملا ہے جو الفاظ کا ہیر پھیر جانتا ہے۔۔ تم سے مل کر اچھا لگا مسٹر۔۔؟؟“
اس آدمی نے روحان کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا یقيناً وہ اسکا نام نہيں جانتا تھا۔

”روحان جبیل۔۔“
روحان کے اسکے سوالیے چہرے کی طرف دیکھتے ہوٸے اسکا ہاتھ تھامہ اور اپنا نام بتایا۔

”ناٸس نیم۔۔ میں سامنے والے فلاسفی ڈیپارٹمنٹ میں پروفيسر ہوں۔۔ پچھلے تیس سالوں سے یہاں پڑھا رہا ہوں۔۔ لیکن آج پہلی بار کسی سے سوال و جواب کرکے مزہ آیا ہے۔۔!!
پروفيسر تھامس نے سرشار سے لہجے میں بتایا۔

”اووہ آپ پروفیسر ہیں۔۔۔ معاف کیجیۓ گا میں یہاں نیا ہوں مجھے معلوم نہيں تھا کہ آپ ایک استاد ہیں۔۔!!“
روحان ادب سے ایک دم کھڑا ہوا۔

”بیٹھ جاٶ برخودار، مجھے استاد سے زیادہ دوست بننا اچھا لگتا ہے۔۔“
پروفيسر تھامس مسکراٸے تو روحان بیٹھ گیا۔

”جینیٹکس پڑھنے آٸے ہو۔۔؟؟“
پروفيسر تھامس پوچھ رہے تھے۔

”جی۔۔“
روحان بس اتنا ہی کہہ پایا۔

”بہت خوب۔۔، اچھی بات ہے۔۔ انسان کو اپنے بارے میں جاننا چاہیۓ۔۔!!

”معذرت۔۔ لیکن میں آپکی بات سمجھا نہيں۔۔“
روحان کے چہرے پر الجھن ابھری۔

”کیا اب ایک Sulphite کو بھی سمجھانے کی ضرورت ہے۔۔؟؟“
پروفيسر تھامس نے رازدانہ انداز میں کہا تھا۔
روحان تو انکی بات سن کر حیران رہ گیا تھا۔

”ٹھیک ہے برخودار میں اب چلتا ہوں میرے لیکچر کا وقت ہو رہا ہے۔۔ بہت جلد ملاقات ہوگی چاٸے پر۔۔!!“
اس سے پہلے روحان کچھ کہتا پروفيسر تھامس اپنی جگہ سے اٹھے اور مسکرا کر کہتے آگے بڑھ گٸے۔۔
روحان حیرانی سے انہیں جاتے ہوٸے دیکھ رہا تھا۔

____________________

”کیسے رہا تمہارا یونيورسٹی کا پہلا دن۔۔۔؟؟“
رات کے کھانے پر سبیل اس سے پوچھ رہا تھا۔

”اچھا رہا ہے۔“

”کوٸی مشکل تو نہيں پیش آٸی محبت کے دیوتا کو۔۔؟؟“
سبیل کا لہجہ شرارتی تھا۔

”نہيں۔۔“
روحان کے لبوں پر مسکراہٹ ابھری۔

”کوٸی محبت کی دیوی ملی۔۔؟؟“
سبیل شاید اسکا مزاج خوشگوار بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔

”کوٸی ایک ہو تو بتاٶں، یہاں تو دیویوں کی بھرمار ہے۔۔“

”ھاھا۔۔ درست فرمایا۔۔ ایسی ایسی دیویاں ہیں انسان بس دیکھتا رہ جاٸے۔۔“
روحان کا جواب سن کر سبیل کا قہقہہ ابھرا تھا۔

”اسی لئے میں نہيں دیکھتا اب۔۔“

”وہ اس لئے کہ تمہارے دل پر کسی اور کا سایہ ہے۔۔ تم اسکے سحر سے باہر نکلو تو دیکھو نا۔۔“
سبیل نے کھانے کی میز سے اٹھتے ہوٸے کہا۔ جبکہ روحان خاموش رہا تھا۔ وہ اپنی محبت پر بات نہيں کرنا چاہتا تھا۔

”چاٸے پیو گے۔۔؟؟“
سبیل پوچھ رہا تھا۔

”اگر مل جاٸے تو نوازش ہوگی۔۔“
روحان زبردستی مسکرایا۔

”تمہاری اردو کافی اچھی ہوگٸی ہے۔۔ ایڈیٹ، سٹوپڈ کہنے والا شخص معذرت اور نوازش پر اتر آیا ہے۔۔ کمال ہے۔“

”تو تم کیا چاہتے ہو۔۔ میں تمہيں ایڈیٹ کہوں۔۔؟؟“
مدمقابل بھی روحان تھا۔

”نہیں۔۔ نہيں۔۔ میں تو بس ایسے ہی ایک بات کر رہا تھا۔۔!!“
سبیل سٹپٹایا تھا۔ وہ اچھے سے جانتا تھا کہ روحان کا کوٸی بھروسہ نہيں وہ اسے سب کے سامنے You idiot کہہ دیتا۔
سبیل کے سٹپٹانے پر روحان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ابھری تھی جسے وہ کمال مہارت سے چھپا گیا تھا۔ جبکہ سبیل کچن کی طرف بڑھ گیا۔

________________________

روحان نے النور جانا شروع کردیا تھا۔ اب وہ باقاعدہ وہاں کا ایک طالب علم تھا۔ اسکی قرأت اچھی تھی۔
وہاں بہت اچھے معلم موجود تھے جو بچوں کو اور نٸے آنے والے مسلم کو پڑھاتے تھے۔
روحان حیران ہوتا تھا۔۔ وہ جب کچھ پڑھنا شروع کرتا تھا تو لفظ بہترین انداز میں اسکے منہ سے ادا ہوتے تھے۔ اسے یاد آیا تھا وہ قرآن پاک مکمل کرچکا تھا اور حفظ کر رہا تھا جب مولوی نے اس پر شیطان کا ڈھپہ لگا کر اسے مسجد سے نکال دیا تھا اور پھر اسکی ماں نے اسے پڑھانا شروع کیا تھا۔۔
اس سے پہلے وہ اپنا حفظ مکمل کرتا۔۔ وہ ہمیشہ کیلیۓ دنیا چھوڑ کر چلی گٸی تھیں____

روحان کو اب سمجھ آیا تھا وہ سب آیات۔۔ وہ سب الفاظ وہ اسکے لاشعور میں کہیں محفوظ ہوگٸے تھے۔۔ اور اب اسے یہ جان کر خوشی ہوتی تھی کہ وہ کبھی اس پاک کلام سے جڑا رہا تھا۔

__________________________

اس دن روحان کلاس میں داخل ہوا تو وہاں ایک عجیب سی ہلچل مچی تھی۔ کلاس میں کوٸی بھی پروفيسر موجود نہيں تھا بلکہ پروفيسر کی جگہ پر ڈاٸز کے قریب ایک لڑکی کھڑی تھی۔ وہ اسکی کلاس فیلو تھی۔
روحان نے اسے پہلے بھی دیکھا تھا۔

”کیا کوٸی خاص اعلان ہے آج ایمی۔۔؟؟“
ایک لڑکے نے پوچھا تھا۔

ّ”ہاں بہت خاص اعلان ہے۔۔“
ایمی نے مسکرا کر جواب دیا۔
تو اسکا نام ایمی تھا۔ روحان کو ابھی کسی سٹوڈنٹ کا زیادہ نہيں پتا تھا۔ وہ وقت پر کلاس میں آتا اور پھر چلا جاتا تھا۔
وہ مسلمان تھا۔۔ اسکے کلاس فیلو جو کہ زیادہ تر عیساٸی اور یہودی تھے اسکے مسلم ہونے سے خار کھاتے تھے۔۔ اور شاید اسی وجہ سے کوٸی اس سے زیادہ بات نہيں کرتا تھا۔۔ اور نا ہی روحان نے کسی سے دوستی کرنے کی کوشش کی تھی۔
وہ کلاس میں زیادہ تر خاموش رہتا تھا۔

”جیسے کہ سب کو معلوم ہے آج ہماری یونيورسٹی کی شان۔۔ ہماری کلاس کی جان #ایلف لوٹ آٸی ہے جو کہ ایک ٹور پر گٸی تھی۔۔۔
ایک تو یہ بہت بڑی خوشخبری ہے۔۔!!“
ایمی کی بات سن کر ایلف کے نام پر کلاس میں ہوٹنگ ہوٸی تھی۔
سارے سٹوڈنٹس پہلی سیٹ پر بیٹھی اس لڑکی کو دیکھ رہے تھے جسکی روحان کی طرف پشت تھی۔

”اور ایلف ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ہماری کلاس کے لئے ایک Honour لے کر آٸی ہے۔۔
چیمبر آف ڈسکشن کا آنر۔۔ جو وہ خود بتاٸے گی۔۔!!“
ایمی کی بات پر زور شور سے ہوٹنگ ہوٸی تھی۔ وہ ڈاٸز سے نیچے اتر آٸی تھی۔
اور پھر ایلف اپنی جگہ سے اٹھی تھی۔
ایلف کے کھلے بال کندھوں پر بکھرے ہوٸے تھے۔ بلاشبہ وہ ایک خوبصورت لڑکی تھی۔
روحان نے ایک نظر اسے دیکھا تھا اور پھر اپنے چہرے کا رخ کھڑکی کی موڑ لیا۔۔
اب وہ باہر کچھ تلاش کر رہا تھا۔۔ آسمان کی وسعتوں میں۔۔

”ہیلو گاٸز۔۔ مجھے امید سب نے مجھے مس کیا ہوگا۔۔ ہے نا؟؟“
وہ مسکرا کر پوچھ رہی تھی۔ اسکی آواز روحان کے کانوں سے ٹکرا رہی تھی۔
اسکے بولنے کا انداز اچھا تھا۔

”تو جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ چیمبر آف ڈسکشن میں ڈسکشن کا حصہ بننا بہت ہی مشکل ہے اور بہت کم لوگ اس ڈسکشن میں حصہ لے سکتے ہیں۔۔۔ اور یقیناً وہ لوگ خوش قسمت ہیں جنہيں یہ اعزاز حاصل ہوتا ہے۔۔
پروفيسر جسٹن نے ہمیں ایک اساٸمنٹ دی ہے۔۔ ہر سٹوڈنٹ کا ٹاپک الگ ہے۔۔
اور پروفيسر جسٹن چاہتے ہیں کہ ہم سب اپنی اس اساٸمنٹ کو چیمبر آف ڈسکشن میں پریزنٹ کریں۔۔“

روحان چیمبر آف ڈسکشن کے بارے میں کچھ نہيں جانتا تھا۔۔ وہ بس خاموشی سے ایلف کو سن رہا تھا۔

”اور یہ بھی سب کو معلوم ہے کہ جو انسان ایک بار اس چیمبر کا حصہ بن جاٸے وہ مشہور ہوجاتا ہے۔۔“

”ہاں بالکل۔۔ جیسے کہ تم ایلف۔۔ تم ہر بات اپنی ریسرچ اور اپنی پریزنٹیشنز کو چیمبر میں پیش کرتی ہو۔۔ اور شاید اسی لئے تمہيں پوری یونيورسٹی جانتی ہے۔۔!!“
پیچھے سے ایک لڑکے کی آواز ابھری تھی۔۔ ایلف نے ابرو اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔

”میں اس چیمبر کا حصہ اس لئے ہوں کہ مجھ میں یہ قابليت ہے۔۔ اگر تم لوگ اس قابل ہو تو جاٶ کچھ کر کے دکھاٶ۔۔“
ایلف کے لہجے میں طنز کی آمیزش تھی۔

”ویل۔۔ یہ کچھ سٹوڈنٹس کے نام اور انکے ٹاپکس ہیں جو پروفیسر جسٹن نے دیٸے ہیں۔۔ اپنا نام اور اپنا ٹاپک دیکھ لیں اور جو سٹوڈنٹ اپنی پریزنٹیشن کو چیمبر میں پیش کرنا چاہے وہ مجھے کلاس کے بعد مل لے۔۔ اور خیال رکھیۓ گا۔۔ صرف وہی لوگ آٸیں جو اس قابل ہوں۔۔ ورنہ چیمبر میں مذاق بھی بن سکتا ہے۔۔!!“
وہ اپنی بات مکمل کر کے واپس اپنی جگہ پر بیٹھ چکی تھی۔۔
سٹوڈنٹس کا ایک ہجوم بورڈ کی طرف لپکا تھا۔

کچھ سٹوڈنٹس خوشی سے اچھل رہے تھے۔۔ جبکہ کچھ مایوس تھے۔ روحان پرسکون سا اپنی جگہ پر بیٹھا تھا۔

”رو۔۔رو۔حان جابیل۔۔“
کسی نے اسکا نام پکارہ تھا۔ روحان نے چونک کر
آواز کی سمت میں دیکھا تھا۔

”تمہارا نام ہے اس لسٹ میں۔۔ اپنا ٹاپک دیکھ لو۔۔“
وہ ایمی تھی۔ جسکے بال بہت چھوٹے تھے بالکل لڑکوں جیسے۔۔ بامشکل کانوں کو چھو رہے تھے۔
روحان کو حیرت ہوٸی تھی۔۔ اتنی جلدی اسکا نام آگیا تھا لسٹ میں۔۔
وہ اپنی جگہ سے اٹھا تھا۔۔ بورڈ پر اپنا نام اور ٹاپک دیکھ کر وہ کلاس سے باہر نکل گیا تھا۔۔ یقيناً آج کلاس نہيں ہونے والی تھی___

__________________________

روحان کلاس روم سے سیدھا لاٸبریری گیا تھا۔ سینٹ ہاٶس لاٸبریری۔۔ جس نے روحان کی توجہ اپنی جانب مبزول کرواٸی تھی۔ وہ لاٸبریری کا کارڈ پہلے ہی بنوا چکا تھا۔

لاٸبریری میں اپنے ٹاپک سے متعلقہ کتابیں ڈھونڈنے کے بعد وہ وہاں سے باہر نکل آیا تھا۔ اب اسے ایلف سے ملنا تھا۔ وہ اپنی پریزنٹیشن کو چیمبر آف ڈسکشن میں پیش کرنے والا تھا۔
اسکا ٹاپک بہت ہی دلچسپ تھا جسے دیکھ کر اسکی آنکهوں میں چمک ابھری تھی۔

لاٸبریری سے باہر اسے اپنا ایک کلاس فیلو نظر آیا تھا۔

”ہیلو کیا تم نے ایلف کو دیکھا ہے؟؟“
روحان نے پہلی بار کسی کو مخاطب کیا تھا۔

”ہاں وہ کیفے میں ہے اس وقت اپنے دوستوں کے ساتھ۔۔“

”اوکے تھینک یو۔۔“
روحان جلدی سے کہتا کیفے کی طرف بڑھا تھا۔
کیفے پہنچنے کے بعد وہ پہلی نظر میں ہی اسے پہچان گیا تھا۔
وہ باوقار چال کے ساتھ اسکی طرف بڑھا تھا۔

”ایکسکیوز می مس ایلف۔۔“
اس نے ایلف کے پاس جا کر اسے مخاطب کیا تھا۔ ایلف نے چونک کر اسے دیکھا۔

”میرا نام روحان جبیل ہے اور مجھے پروفيسر جسٹن نے پریزنٹیشن دی ہے۔۔ آپ میرا رولنمبر اور ٹاپک لکھ لیں میں چیمبر آف ڈسکشن میں اپنی پریزنٹیشن دونگا۔۔!!“
وہ اسکی طرف دیکھے بنا اپنی بات کہہ کر واپس مڑا تھا۔

”رکو۔۔“
ایلف نے اسے یوں جاتے دیکھا تو پکارا۔
روحان رک گیا تھا۔ وہ اپنی کرسی سے اٹھ کر اسکی طرف بڑھی۔ چہرے پر سخت سے تاثرات تھے۔

”کیا نام بتایا تم نے اپنا۔۔۔؟؟“
وہ اسکے پیچھے کھڑی پوچھ رہی تھی۔

”روحان بن حیدر جبیل۔۔“
روحان نے رخ اسکی طرف موڑتے ہوٸے کہا۔

”مسلم ہو۔۔؟؟“
وہ تیکھے چتونوں سے پوچھ رہی تھی۔

”جی الحَمْدُ ِلله“
روحان کا جواب سن کر ہواٸیں مسکراٸی تھیں۔

”تم ایک مسلم۔۔ تم چیمبر آف ڈسکشن میں حصہ لے لو گے۔۔ تم؟؟“
وہ کاٹ دار لہجے میں پوچھ رہی تھی۔ اسکے لہجے میں چھپے طنز کو محسوس کرکے روحان چونکا تھا۔

”کیوں نہيں لے سکتا؟؟“
سپاٹ سے لہجے میں پوچھا گیا۔

”تم جانتے بھی ہو چیمبر آف ڈسکشن ہے کیا؟؟“
وہ استہزاہیہ ہنسی کے ساتھ پوچھ رہی تھی۔

”نہيں لیکن نام سے ظاہر ہے کہ اس چیمبر میں مختلف موضوعات پر بحث ہوتی ہوگی۔۔ سوال و جواب سیشن ہوگا۔۔
اور روحان جبیل سے اچھی بحث کون کر سکتا ہے۔۔؟؟“
روحان نے اپنے دونوں ہاتھوں کو پینٹ کی جیب میں ڈال کر ایک قدم آگے بڑھ کر ایلف کی آنکهوں میں دیکھتے ہوٸے کہا تھا۔
اسکے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی تھی۔ اسکا اعتماد دیکھ کر ایلف ایک پل کیلیۓ حیران ہوٸی تھی۔
آس پاس بیٹھے سٹوڈنٹس حیرت سے دونوں کو دیکھ رہے تھے۔

”پراعتماد ہونا اچھا ہے ۔۔ لیکن میں لکھ کر دے سکتی ہوں کہ تمہاری پریزنٹیشن پہلے مرحلے میں ہی رد کر دی جاٸے گی۔۔ سب سے پہلے یہ پریزنٹیشن پروفيسر جسٹن کے پاس جاٸے گی اور وہ خود ہی تمہيں ریجیکٹ کردینگے۔۔!!

”دیکھتے ہیں۔۔ پروفيسر جسٹن نے کچھ سوچ کر پہلی بار میں ہی پریزینٹشن کیلیۓ مجھے منتخب کیا ہوگا۔۔۔ خیر آپ لکھ لیں مس ایلف۔۔ کیا پتا آپکو اپنا لکھا ہوا مٹانا پڑھ جاٸے۔۔!!“
روحان نے مسکرا کر کہا تھا۔
ایلف اسکی بات سن کر آگ بگولہ ہوگٸی تھی۔
اس سے پہلے وہ کچھ کہتی کوٸی ان دونوں کی طرف بڑھا تھا۔

”ہے ایلف۔۔ لیٹس گو۔۔ آج میری پرفارمنس ہے۔۔ چلو چلتے ہیں۔۔تمہيں پسند آٸے گی۔۔“
یہ ایک لڑکا تھا جسکا حلیہ دیکھ کر روحان ایک پل کیلیۓ ساکت رہ گیا تھا۔
سیاہ جینز، سیاہ شرٹ اور اس پر سیاہ جیکٹ۔۔ کندھے پر لٹکتی سیاہ رنگ کی گٹار۔۔
لمبے بال لڑکے کے کندھوں پر بکھرے پڑے تھے۔ ماتھے پر بندھا ایک بینڈ۔۔
روحان اسے حیرت سے تک رہا۔۔

”آرجے۔۔ آرجے۔۔۔ “
اسکے چاروں طرف سے شور ابھرا تھا وہ ایک پل کیلیۓ ماضی میں پہنچ گیا تھا۔
ایلف اسے ایک گھوری سے نوازتی اس لڑکے کے ساتھ چلی گٸی تھی اور ان دونوں کے پیچھے انکے گروپ کے باقی سٹوڈنٹس بھی لپکے تھے۔
اس لڑکے کی جیکٹ کے پیچھے بڑا سا آرجے لکھا تھا اور اسکے اوپر تصویر بنی تھی۔۔ یعنی ایک پرنٹ۔۔ جسے روحان پہلی نظر میں پہچان گیا تھا۔۔ وہ اسی کی تصویر تھی جب وہ آرجے تھا۔۔
اسکی ایک طرف سے لی گٸی تصویر جس میں اس نے ایک ہاتھ میں گٹار پکڑا تھا اور اسکی کلاٸی پر RJ کا ٹیٹو واضح تھا۔

روحان نے اپنے داٸیں ہاتھ سے باٸیں ہاتھ کی کلاٸی پر سے جیکٹ کے کف کو فولڈ کیا تھا۔۔ اور اسکی کلاٸی پر آرجے کا ٹیٹو چمک رہا تھا۔۔

وہ ایک گہری سانس لے کر کیفے سے باہر نکل آیا تھا۔
اسے ایسا کرتے کسی نے گہری نظروں سے دیکھا تھا۔
”مسٹر جابیل۔۔“
وہ کچھ قدم ہی چلا تھا جب اسے اپنے عقب سے آواز سناٸی تھی۔
روحان رکا اور پھر پلٹ کر دیکھا۔ اسکے پیچھے ایمی کھڑی تھی۔۔ چھوٹے بالوں اور لڑکوں جیسے حلیے والی وہ لڑکی۔۔ جسکا چہرہ معصوم تھا۔

”یس۔۔“
روحان نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔

”آ۔۔ وہ۔۔ تمہارا نام اتنا مشکل کیوں ہے۔۔۔؟؟“
ایمی سے جب کوٸی بات نا بنی تو اس نے بےتکہ سا سوال کیا۔
روحان کے چہرے پر ایک نرم سی مسکراہٹ پھیل گٸی تھی۔

”نہيں تو۔۔ لیکن شاید آپکو مشکل لگتا ہو۔۔“
وہ جواب دینے کے بعد پلٹا اور چلنا شروع کیا۔ ایمی نے بھی اسکا ساتھ دیا۔

”ہو سکتا ہے۔۔ لیکن تمہیں کیا لگتا ہے پروفيسر جسٹن ایک مسلم لڑکے کو چیمبر آف ڈسکشن کا حصہ بننے دینگے۔۔؟؟“
ایمی نے سوال کیا۔

”کیوں۔۔ کیوں نہيں بننے دینگے۔۔ انہيں مسلمانوں سے ڈر لگتا ہے کیا۔۔؟؟“
روحان کے الٹے سوال پر ایمی گڑبڑا گٸی تھی۔

”نہيں میرا یہ مطلب نہيں تھا۔۔“
ایمی نے وضاحت دینی چاہی۔
تبھی ایلف کے گروپ سے شور ابھرا تھا۔ وہ لوگ اب ڈیپارٹمنٹ کے گروپ کی طرف بڑھ رہے تھے۔ روحان گہری نظروں سے اس گٹار والے لڑکے کو دیکھ رہا تھا۔

”وہ رونلڈ جیکب عرف آرجے ہے۔۔ آرجے جو ایک سنگر تھا اسکا بہت بڑا فین۔۔“
ایمی نے اسکے نظروں کے تعاقب میں دیکھتے ہوٸے بتایا۔
روحان حیران ہوا تھا۔۔ وہ نہيں جانتا تھا کہ آرجے لاکهوں نہيں بلکہ کروڑوں دلوں پر راج کرتا تھا۔

”یاد آیا۔۔ تم بھی تو پاکستان سے ہو نا۔۔ کیا تم نے آرجے کو دیکھا ہے۔۔۔ کیا تم کبھی اس سے ملے ہو۔۔ وہ بھی پاکستان سے تھا۔۔۔ بہت اچھا گاتا تھا۔۔ کبھی کبھی سوچتی ہوں تو حیران ہوتی ہوں کہ پاکستان جیسے ملک میں بھی کوٸی آرجے جیسا انسان پیدا ہو سکتا ہے۔۔کیسے؟؟ خیر۔۔میں بھی اسکی بہت بڑی فین ہوں۔۔ لیکن اسکی موت کا سن کر بہت افسوس ہوا۔۔ اور سچ مانو تو مجھے یقين ہی نہيں ہوتا کہ وہ مرچکا ہے۔۔“
ایمی بنا بریک بولے جا رہی تھی۔ شاید اس نے چپ رہنا یا دوسرے شخص کی بات سننا نہيں سیکھا تھا۔

”میں نہيں جانتا کسی آرجے کو۔۔“
روحان نے عجیب سے لہجے میں جواب دیا تھا۔ایمی نے غور سے روحان کو دیکھا تھا۔

”آج پھر یہ اپنی بےسری آواز سے لوگوں کے کانوں کو پکانے والا ہے۔۔ بےوقوف ہے۔۔ خود کو آرجے کہلواتا ہے۔۔لوگ اسے اس لئے پسند کرتے ہیں کہ یہ خود کو آرجے جیسا بنا کر رکھتا ہے۔۔لیکن شاید اسے پتا نہيں کہ رونلڈ سے R اور جیکب سے J لینے پر کوٸی آرجے تھوڑی بن جاتا ہے۔۔!!“

ایمی کے لہجے میں رونلڈ کیلیۓ طنز جبکہ آرجے کیلیۓ ستاٸش تھی۔ روحان ایمی کو بس دیکھ کر رہ گیا تھا۔۔
وہ اسے کیسے بتاتا کہ آرجے سے روحان تک کا سفر اس نے کتنی مشکلوں سے طے کیا تھا۔۔ اور یہاں سب آرجے پر مرتے تھے۔

”ٹھیک کہا آپ نے۔۔ آرجے نام رکھنے سے کوٸی آرجے تھوڑی بن جاتا ہے۔۔!!
وہ پھیکی سی ہنسی ہنس دیا تھا۔
ایمی اس بار چونکی تھی۔ موسم کافی خراب ہو رہا تھا۔
ٹھنڈی ہواٸیں ان دونوں کی ہڈیوں سے میں گھسی جا رہی تھیں۔۔
روحان نے اپنی جیکٹ کے کالر کو کھڑا کیا تھا۔ اسے یقین تھا کچھ دیر تک بارش شروع ہونے والی تھی۔
اس سے پہلے ایمی کچھ کہتی بارش کے ننھے ننھے قطروں نے زمین کو چھوا تھا۔

”مجھے ایسا کیوں لگتا ہے کہ میں نے تمہيں پہلے کہیں دیکھا ہے۔۔ تمہارا چہرہ کسی سے ملتا ہے۔۔“
ایمی نے اسکے چہرے کو نظروں کے حصار میں قید کرتے ہوٸے کہا تھا۔۔ لیکن کوشش کے باوجود بھی وہ اس سے یہ نہيں کہہ پاٸی تھی کہ اسکا چہرہ آرجے سے ملتا تھا۔۔
اسکی سحر انگیز مسکراہٹ__اسکا اٹیٹیوڈ__

”کس سے__؟؟“
روحان نے دھڑکتے دل سے پوچھا۔

”آرجے سے۔۔ شاید کچھ کچھ۔۔ لیکن نہيں وہ کافی الگ تھا۔۔ اسکا انداز ہی الگ تھا۔۔ لیکن۔۔ لیکن۔۔ بےساختہ جب میری پہلی بار تم پر نظر پڑی تھی تو مجھے لگا تھا کہ میں آرجے کو دیکھ رہی ہوں۔۔ لیکن پھر تمہارے حلیے پر غور کرنے سے پتا چلا کہ شاید وہ میرے دماغ کچھ زیادہ ہی حاوی ہوچکا ہے۔۔ اس لئے نظر آتا ہے۔۔!!“

ایمی کی باتيں سن کر روحان کا قہقہہ لگانے کو دل کیا تھا۔__لیکن وہ خود پر ضبط کرگیا تھا۔

”آپکو غلط فہمی ہوٸی ہے مس ایما رچرڈ۔۔ میں روحان بن حیدر جبیل ہوں۔۔ آرجے نہيں۔۔ دنیا میں بہت سے لوگوں کی شکل دوسروں سے ملتی ہے۔۔ شاید آرجے کی بھی مجھ سے ملتی ہو۔۔ لیکن ایک بات تو طے ہے۔۔ آرجے بھی ایک ہی تھا۔۔۔ اس جیسا کوٸی نہيں تھا__
اور روحان جبیل بھی ایک ہی ہے۔۔ آرجے روحان جبیل جیسا نہيں ہو سکتا__!!
وہ پراسرار سے لہجے میں کہتا مسکرایا تھا۔۔ اور پھر ایمی کو گڈ باٸے کہتا مضبوط قدم اٹھاتا۔۔ اس سے دور ہوتا چلا گیا تھا__

ایمی رم جھم برستی بارش میں کھڑی اسے جاتے دیکھ رہی تھی۔۔ بلاشبہ وہ بہت سحر انگیز باتيں کرتا تھا۔۔ ایمی کو وہ پہلے دن سے سب سے الگ لگا تھا۔۔ وہ اس سے باتيں کرنا چاہتی تھی۔۔ لیکن اسکا سنجيدہ انداز ایمی کو بات کرنے ہی نہيں دیتا تھا۔ لیکن آج۔۔ آج ایمی کو اسکا اعتماد پسند آیا تھا۔۔ اور خاص طور پر ایمی کو اسکا ایما کہنا اچھا لگا تھا___
وہ اسے دور تک جاتے دیکھتی رہی تھی جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہيں ہوگیا تھا۔۔اور پھر مسکرا کر آگے بڑھ گٸی تھی۔

_________________________

اس رات روحان نے گھر آکر سب سے پہلے اپنے پرانے آرجے والے اکاؤنٹ کو اوپن کیا تھا۔۔ سالوں بعد۔۔
اور پھر اس نے اس اکاؤنٹ کو ہمیشہ کیلیۓ ڈیلیٹ کردیا تھا۔۔ وہ چاہتا تھا کہ لوگ آرجے کو بھول جاٸیں ہمیشہ کیلیۓ۔۔
لیکن اسکے چاہنے سے کیا ہونا تھا۔۔
لوگ خاص لوگوں کو جلد نہيں بھول پاتے۔۔ اور آرجے بھی خاص لوگوں کی فہرست میں سب سے اوپر تھا___

_________________________

وہ اپنے کمرے میں آرام دہ کرسی پر ٹیک لگاٸے آنکهيں موندے لیٹا تھا۔۔
اسکی سوچ بس ایک انسان کے گرد گھوم رہی تھی۔۔ اس نے اپنے دل کو تڑپتے پایا تھا__
ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی جب اسے کمرے میں ایک مانوس سی خوشبو کا احساس ہوا تھا۔۔
وہ آگٸی تھی۔۔ ہاں وہ اسکے تصور پر حاوی ہوگٸی تھی___

”آگٸی ہو تم۔۔ آج کافی دیر نہيں کردی۔۔؟؟“
روحان آنکهيں بند کیۓ پوچھ رہا تھا۔۔ اسے ڈر لگتا تھا آنکهيں کھولنے سے۔۔ اسے ڈر تھا کہ اگر وہ آنکهيں کھولے گا تو وہ چلی جاٸے گی۔۔
وہ اندھیروں میں جب وہ بیناٸی سے محروم ہوفیا تھا تب بھی اسکی ساتھی رہی تھی__

”آج تم نے بہت اچھا کام کیا۔۔“
وہ مسکرا کر کہہ رہی تھی۔

”جانتا ہوں۔۔ آرجے کا اکاؤنٹ ڈیلیٹ کردیا میں نے۔۔ اس پر جتنی بھی گانے کی ویڈیوز تھیں سب ختم ہوگٸیں۔۔ لیکن بہت سے لوگوں کے پاس یقيناً ابھی بھی محفوظ ہونگی۔۔ اور انہيں ختم کرنے کیلیۓ مجھے ہیکر بننا پڑے گا۔۔!!“
وہ مسکرا کر بتا رہا تھا۔ وہ اسکی بات سن کر مسکرا دی تھی۔

”ہاں مجھے یہ کام پسند آیا۔۔ دنیا کو چاہیۓ کہ وہ آرجے کو بھول جاٸے۔۔ اور روحان جبیل کو یاد رکھے۔۔“
وہ اسکے بہت آس پاس تھی۔۔ آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔

”مجھے پتا تھا تمہيں پسند آٸے گا۔۔ تمہيں آرجے نہيں پسند تھا دیکھو میں نے آرجے کو ختم کردیا۔۔!!
کمرے کے باہر ملازم اس سے چاٸے کا پوچھنے آیا تھا اور پھر اسکے کمرے سے باتوں کی آوازیں سن کر ٹھٹک کر رک گیا تھا۔ ڈرتے ڈرتے اس نے کمرے کا دروازہ تھوڑا سا کھول کر دیکھا تھا۔۔
سامنے کرسی پر ٹیک لگاٸے روحان بول رہا تھا۔۔ وہ باتيں کر رہا تھا کسی سے۔۔ لیکن کمرے میں کوٸی نہيں تھا۔۔
ملازم کا یہ منظر دیکھ کر سانس خشک ہوا تھا۔۔ اسے تو پہلے ہی دن سے روحان پر شک تھا۔ روحان کو یوں کسی سے باتيں کرتے دیکھ کر ملازم اتنا ڈر گیا کہ دروازہ بند کیۓ بنا ہی نیچے کی جانب دوڑ لگادی تھی۔۔ یقيناً اب وہ دوبارہ اسکے کمرے کا رخ نہيں کرنے والا تھا۔۔

”بہت بدل گٸے ہو تم۔۔“
وہ زیرلب بڑبڑاٸی تھی۔ لیکن روحان اسکی سرگوشی سن چکا تھا۔

”تمہيں جب کبھی ملیں
فرصتیں___
میرے دل سے بوجھ اتار دو،

میں کٸی دنوں سے اداس ہوں
مجھے کوٸی شام ادھار دو،

کسی کو میرے حال سے
نہ غرض ہے نہ کوٸی واسطہ

میں بکھر گیا ہوں
سمیٹ لو
میں بگڑ گیا ہوں
سنوار دو_____!!

کمرے میں روحان کی پرسوز آواز سرگوشیوں کی صورت میں بکھری تھی۔۔ وہ جاچکی تھی۔۔ کمرے میں کوٸی نہيں تھا۔۔ صرف وہ تھا اسکی تنہائی تھی۔۔
ایک آنسو اسکی بند آنکھ کے کونے سے نکلا تھا۔۔ اور پھر کنپٹی سے ہوتا ہوا پیچھے کرسی کی نرم و گداز گدی میں جذب ہوگیا تھا__

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: