Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 47

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 47

–**–**–

( زندگی کے سات پہروں کی کہانی )

روحان پورے دھیان سے اپنی اساٸمنٹ کی طرف متوجہ ہوگیا تھا۔ ایمی اسے اکثر لاٸبریری میں کتابوں کے درمیان سر جوڑے بیٹھے پاتی تھی۔ زندگی میں ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ روحان جبیل اپنی پڑھاٸی کو لے کر اتنا سنجيدہ ہوا تھا۔

”یہ چاہے جتنی مرضی کوشش کرلے۔۔ یہ چیمبر تک نہيں پہنچ سکتا___!!“
ایلف نے اسے پڑھتے دیکھا تو تنفر سے کہا تھا۔

”مجھے وہ کافی ذہین لگتا ہے۔۔“
ایمی نے سرگوشی کی تھی۔

”جتنا بھی ذہین ہو۔۔۔ ایلف کا مقابلہ نہيں کر سکتا۔۔!!“
ایلف کو خود پر پورا بھروسہ تھا۔

”یہ تو تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔۔ ایلف کا مقابلہ کرنا واقعی آسان نہيں۔۔“
اسکی بات سن کر ایمی مسکرا دی تھی۔

_________________________

روحان النور اسکول آیا تھا۔ آج وہاں پر ایک بہت بڑا جلسہ تھا جسے مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد جمع تھی۔
مولانا قاسم جو کہ ادارے کے ایک بہت بڑے معلم اور سکالر تھے عوام سے خطاب کرنے جا رہے تھے۔
روحان جلسے کی تیاری میں بری طرح سے مصروف تھا۔ لوگوں کو اتفاق اور سلوک کے ساتھ بٹھانے کے ساتھ ساتھ انکی حفاظت کا بھی باخوبی انتظام کیا گیا تھا۔

مولانا قاسم پہنچنے والے تھے جب ایک بری خبر نے سب کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ مولانا دوسرے شہر سے تشریف لا رہے تھے جب اچانک انکی طبیعت بگڑ گٸی۔۔ ہسپتال جانے پر معلوم ہوا کہ انہيں ہارٹ اٹیک ہوا تھا__
نازک وقت تھا۔ عیساٸیوں،یہودیوں،ملحدوں اور ساٸنس کے پیروکاروں سے ہال بھرا پڑا تھا۔
ڈاکٹر باسط احمد بھی پاکستان میں تھے۔ ان دو ہستیوں کے علاوہ بھی بہت سے معلم ادارے میں موجود تھے لیکن یہ صرف مسلمانوں کا جلسہ نہيں تھا جس میں مسلمانوں سے بیان کرنا تھا۔۔ بلکہ یہ ایک بڑا جلسہ تھا جہاں دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے سوالوں کے جواب دیے جانے تھے۔

_______________________

”مجھے یقین ہے میاں تم یہ کام کر سکتے ہو__“
فون سے ڈاکٹر باسط کی آواز ابھر رہی تھی۔

”مم۔۔ میں کیسے۔۔ آپ جانتے ہیں ڈاکٹر صاحب میں ابھی اس قابل نہيں ہوا۔۔“
روحان انکی بات سن کر گڑبڑا گیا تھا۔

”تم بہت قابل ہو روحان بیٹا۔۔ مجھے پورا بھروسہ ہے تم اس امتحان میں کامياب ٹھہرو گے۔۔ شروعات تو کرنی ہی ہے تم نے۔۔ کیوں نا آج سے۔۔؟؟“

”ٹھیک ہے ڈاکٹر صاحب۔۔ جیسے آپکو بہتر لگے۔۔“
روحان نے ایک گہری سانس لی تھی اور پھر آنے والے وقت کیلیۓ خود کو تیار کیا تھا۔

___________________________

لندن اور النور ادارے کی عوام ڈاکٹر باسط اور مولانا قاسم کو اچھے سے جانتی تھی لیکن آج انکے سامنے ایک جوان لڑکا تھا۔۔ جنہيں وہ نہيں جانتے تھے۔

النور ادارے کی انتظامیہ کے دل تیزی سے دھڑک رہے تھے۔۔
لیکن جب روحان بن حیدر جبیل نے اللہ کے بارے میں بولنا شروع کیا تو لوگ حیران رہ گٸے تھے۔۔ سب سے پہلے اللہ اور اسکی نعمتوں کا ذکر کیا گیا تھا وہ اس انداز میں کہ لوگ حیران رہ گٸے تھے۔ اسکے بعد سوال جواب کا سیشن شروع ہوا تھا__

سب سے پہلا سوال جو تھا ایک ملحد کی طرف سے کیا گیا تھا۔

”میں یہاں پر ڈاکٹر باسط کیلیۓ آیا تھا کیونکہ میرے اکثر سوالات کو بہت اچھے سے سمجھتے ہیں اور انکا جواب بھی دیتے ہیں۔۔۔ لیکن وہ یہاں نہيں ہیں تو میں سوال چھوڑ نہيں سکتا۔۔ بلکہ اب اور مزہ آٸے گا۔۔ پتا چلے گا کہ ڈاکٹر باسط نے اپنے سٹوڈنٹس کو کتنا سکھایا ہے__“
اس ملحد کی بات سن کر روحان مسکرادیا تھا۔ وہ ہزاروں کے مجمع کے سامنے کھڑا تھا۔۔ اسکا دل جذبہ ایمان سے بھرپور تھا۔۔۔وہ خوش تھا کہ اللہ نے اپنے پسندیدہ کام کیلیۓ اسے چنا تھا۔

”میرا سوال یہ کہ کفار کے دلوں پر مہر لگنے کے بعد وہ قصور وار کیوں؟
اگر اللہ نے کافروں، یعنی غیر مسلموں کے دلوں پر مہر لگا دی ہے تو پھر انہیں اسلام قبول نہ کرنے کا قصور وار کیسے ٹھہرایا جاسکتا ہے؟؟“

روحان نے غور سے اسکا سوال سنا تھا اور پھر مسکرادیا تھا۔

آپ نے ٹھیک کہا اللہ تعالی سورہ بقرہ کی آیت نمبر 6 اور 7 میں فرمایا ہے کہ،

إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ ءَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لا يُؤْمِنُونَ (٦)خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ (٧)

” بے شک جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لیے یکساں ہے، خواہ آپ انہیں خبردار کریں یا نہ کریں، بہرحال وہ ایمان لانے والے نہیں، اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑ گیا ہے۔ اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔ “

(سورۃ البقرہ 2 آیات 6 ا تا 7)​

یہ آیات عام کفار کی طرف اشارہ نہیں کرتیں جو ایمان نہیں لائے۔ قرآن کریم میں ان کے لیئے (إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا ) کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، یعنی وہ لوگ جو حق کو رد کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ نبئ کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا۔ کہ

” تم خبردار کرو یا نہ کرو، یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ اور یہ اس وجہ سے نہیں کہ اللہ تعالی نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے، اس لیے وہ سمجھتے ہیں نہ ایمان لاتے ہیں، بلکہ معاملہ برعکس ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ یہ کفار بہرصورت حق کو مسترد کرنے پر تلے بیٹھے ہیں اور آپ انہیں تنبیہ کریں یا نہ کریں، وہ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے۔ لہذا اس کا ذمہ دار اللہ نہیں بلکہ کفار خود ہیں۔

اللہ تعالٰی کی طرف گمراہ کرنے یا دلوں پر مہر لگانے کی نسبت اس لیے درست نہیں کہ اللہ تعالی نے انبیاء و رسل بھیج کر اور آسمانوں سے کتابیں نازل فرما کر انسانوں کے لیے راہِ حق واضح کردی۔ اب جنہوں نے حق قبول کیا وہ ہدایت یافتہ اور کامیاب ٹھہرے اور جنہوں نے حق سے منہ موڑا اور انبیاء و رسول کو ستایا، اللہ نے انہیں گمراہی میں پڑا رہنے دیا اور حق کی توفیق نہ دی۔

ایک مثال سے وضاحت کرتا ہوں،

فرض کیجیئے ایک تجربہ کار استاد آخری ( فائنل ) امتحانات سے قبل یہ پیش گوئی کرتا ہے کہ فلاں طالب علم امتحان میں فیل ہوجائے گا، اس لیے کہ وہ بہت شریر ہے، سبق پر توجہ نہیں دیتا اور اپنے ہوم ورک بھی کرکے نہیں لاتا۔ اب اگر وہ امتحان میں ناکام رہتا ہے تو اس کا قصور وار کسے ٹھہرایا جائےگا۔ استاد کو یا طالب علم کو؟ استاد کو صرف اس وجہ سے کہ استاد نے پیش گوئی کردی تھی۔ اس لیے اسے طالب علم کی ناکامی کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اسی طرح اللہ تعالی کو یہ بھی پیشگی علم ہے کہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے حق کو ٹھکرانے کا تہیہ کر رکھا ہے اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔

لہذا وہ غیر مسلم خود ایمان اور اللہ سے منہ موڑنے کے ذمہ دار ہیں۔ اللہ نے تو علم الغیب کا علم رکھتے ہوٸے انہيں صدا کیلیۓ اس بھنور میں چھوڑ دیا ہے کیونکہ دلوں کے راز بخوبی جانتا ہے۔۔ اور اسے پتا ہے کہ کچھ بھی کرلو یہ لوگ ایمان لانے والے نہيں__

”ایک اور سوال ڈاکٹر روحان حیدر__“
اس لڑکے نے دوبارہ کہا تھا۔

”جی آپ سوال پوچھ سکتے ہیں لیکن میں ڈاکٹر نہيں ہوں۔۔“
وہ مسکرایا تھا۔

”اوکے۔۔۔ ڈیٹس گریٹ۔۔ لیکن میرا یہ سوال میرے پہلے سوال سے ہی جڑا ہے،

”فہم و ادراک کا مرکز دل یا دماغ ؟؟
قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ اللہ نے کافروں کے دلوں پر مہر لگا دی ہے اور وہ کبھی ایمان نہیں لائیں گے ۔ دوسری طرف سائنس ہمیں یہ بتاتی ہے کہ فہم و ادراک اور ایمان لانا دماغ کا کام ہے۔ دل کا نہیں، تو کیا قرآن کا دعوٰی سائنس کے متضاد ہے؟؟؟“

سوال سن کر روحان مسکرا دیا تھا۔۔ کبھی وہ خود ساٸنس اور مذہب کی جنگ میں سوال کرکے لوگوں کو دھنگ کردیتا تھا۔۔ اور آج پھر وہ اس جنگ کا حصہ تھا۔۔ یقيناً اس بات بھی وہ لوگوں کو لاجواب کرنے والا تھا۔

قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ:-

إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ ءَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لا يُؤْمِنُونَ (٦)خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ (٧)

” بے شک جن لوگوں نے کفر کیا، ان کے لیے یکساں ہے خواہ آپ نہیں خبردار کریں یا نہ کریں، بہرحال وہ ایمان لانے والے نہیں، اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے۔ اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑ گیا ہے۔ اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔“

سب سے پہلی بات تو یہ کہ قلب کا مفہوم سمجھا جاٸے۔۔
وہ اسٹیج پر ماٸیک کے سامنے کھڑا دلسوز آواز میں بول رہا تھا۔

عربی زبان میں لفظ ” قلب ” کے معنی دل کے بھی ہیں اور ذہانت کے بھی، ان آیات میں جو لفظ قلب استعمال ہوا ہے۔ اس سے مراد دل بھی ہے اور ذہانت بھی، لہذا مذکورہ بالا آیات کا مطلب یہ بھی ہے کہ اللہ تعالی نے کفار کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پر مہر لگا دی ہے۔ اور وہ نہ تو بات کو سمجھ پائیں گے اور نہ ایمان لائیں گے۔

عربی زبان میں ” قلب ” سے فہم و ادراک کا مرکز بھی مراد لیا جاسکتا ہے۔ اور یہ فہم و ادراک کے مفہوم میں استعمال کیئے جاتے ہیں۔ ان کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں۔

٭ “Lunatic” : قمر یا چاند کا مارا ہوا:

لفظ Lunatic کا لغوی مطلب ہے چاند کا مارا ہوا یا چاند کی زد میں آیا ہوا۔ موجود دور میں لوگ خوب جانتے ہیں کہ کوئی پاگل یا ذہنی خلل میں مبتلا آدمی چاند کا ڈسا ہوا نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود میڈیکل ڈاکٹر بھی یہی لفظ استعمال کرتا ہے۔ یہ زبان کے عمومی ارتقاء کی ایک مثال ہے۔ ویسے ” لینیٹک ” بمعنی ” دیوانہ ” کی اصطلاح اس باطل تصور کے تحت گھڑی گئی چاند میں ہونے والی تبدیلیوں کا شدید اثر پڑتا ہے۔ چنانچہ شعراء چاندنی سے عشق و دیوانگی کی کیفیت پیدا ہونے کا اکثر ذکر کرتے ہیں۔

٭ Disaster: ایک منحوس ستارہ:

لفظDisaster کا معنی و مطلب منحوس ستارہ ہے لیکن آج کل یہ لفظ اچانک نازل ہونے والی بدقسمی یا آفت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ حالانکہ ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ بدقسمتی کا کسی منحوس ستارے سے کوئی تعلق نہیں۔ علامہ اقبال کہتے ہیں۔

ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا!
جو خود فراخی افلاک میں ہے خواروزبوں​

٭ Trivial: تین سڑکوں کا سنگم:

لفظ Trivial کا لغوی مطلب وہ مقام ہے جہاں تین سڑکیں ملتی ہوں۔ آج کل یہ لفظ کسی معمولی نوعیت کی یا بہت معمولی اہمیت کی حامل چیز کے لیئے بولا جاتا ہے۔ ہمیں خوب معلوم ہے کہ اگر کوئی چیز معمولی قدر و قیمت رکھتی ہو تو اسے تین سڑکوں کے سنگم سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔

طلوع آفتاب (Surise) اور غروب آفتاب (Sunset):

سن رائز (Sunrise) کا لٖغوی مطلب ہے سورج کا چڑھنا، آج جب لفظ Sunrise یا طلوع آفتاب کہا جاتا ہے تو لوگ اس حقیقت سے بے خبر نہیں ہوتے کہ زمین سورج کے گرد گردش کرتی ہے پڑھے لکھے لوگ جانتے ہیں کہ سورج کہیں چڑھ نہیں رہا ہوتا۔ اس کے باوجود ماہرین فلکیات بھی لفظ Sunrise ہی استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم اس بات سے بھی واقف ہیں کہ ” غروب آفتاب یا Sunset کے وقت سورج کہیں غروب نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود اصطلاح یہی استعمال ہوتی ہے۔

محبت اور جذبات کا مرکز :

انگریزی زبان میں محبت اور جذبات کا مرکز دل ہی کو کہا جاتا ہے اور دل سے مراد وہ عضوِ بدن ہے جو خون کو پمپ کرتا ہے۔ یہی لفظ دل کے خیالات ، محبت اور جذبات کے منبع اور مرکز کے معنی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ آج ہمیں معلوم ہے کہ خیالات، محبت اور جذبات کا مرکز دماغ ہے، اس کے باوجود جب کوئی شخص جذبات کا اظہار کرتا ہے تو اکثر یہی کہتا ہے : ” میں تم سے دل کی گہرائیوں سے محبت کرتا ہوں۔۔“
تصور کیجیئے! ایک سائنسدان جب اپنی اہلیہ سے ان الفاظ میں اظہار محبت کرتا ہے تو کیا وہ یہ کہے گی کہ تمہیں سائنس کی اس بنیادی حقیقت کا علم بھی نہیں کہ جذبات کا مرکز دماغ ہے، دل نہیں؟؟
کیا وہ اسے یہ مشورہ دے گی کہ تمہیں کہنا چاہیئے کہ میں تم سے اپنے دماغ کی گہرائیوں سے محبت کرتا ہوں؟؟
روحان کے عام سے انداز میں کیۓ گٸے سوال نے ہال میں موجود لوگوں کو ہنسنے پر مجبور کردیا تھا۔

”لیکن نہيں ۔۔وہ ایسا نہیں کہتی بلکہ خاوند کے دل کی گہرائیوں سے محبت کے دعوے کو تسلیم کرتی ہے۔ لفظ قلب ، مرکز خیالات اور ادراک کے معنی میں بھی بولا جاتا ہے۔

کوئی عرب کبھی یہ سوال نہیں پوچھے گا کہ اللہ نے کافروں کے دلوں پر کیوں مہر لگائی ہے کیونکہ اسے بخوبی علم ہے کہ اس سیاق و سباق میں اس سے مراد انسان کا مرکز خیالات و جذبات ہے۔

قرآن پاک عربی کی سب سے بڑی گرامر کی کتاب ہے۔۔ اس میں ایک لفظ کے بہت سے معنی نکل آتے ہیں۔۔ مجھے امید ہے آپ سمجھ گٸے ہونگے___!!

وہ مسکرا کر کہہ رہا تھا۔

”دیکھا میں نے کہا تھا نا کہ یہ لڑکا بہت آگے جاٸے گا__کمال کردیا ہے اس نے تو__“
ڈاکٹر باسط اپنے ٹی وی پر اجلاس کو براہ راست دیکھ رہے تھے۔

”ہاں مجھے یقین تھا وہ کچھ کر دکھاٸے گا۔۔ وہ سب سے الگ ہے۔۔“
مقدس آپی بھی مسکرا دی تھی۔ اور آج کے اس اجلاس میں لوگوں کو لاجواب کرنے والا روحان جبیل پورے ادارے میں چھا گیا تھا۔

__________________________

کلاس کے نوٹس بورڈ پر ایک جگمٹا تھا۔۔ سٹوڈنٹس یہ جاننے کیلیۓ بیتاب تھے کہ کن خوش نصیب سٹوڈنٹس کی اساٸممنٹ چیمبر میں پیش ہونے کی سند پاچکی ہے۔
سارے سٹوڈنٹس پروفيسر جسٹن کو اپنی اساٸمنٹ Mail کر چکے تھے۔ اور ایلف کی حیرانی کی انتہا نہيں رہی تھی جب اس نے اپنے نام کے بد روحان جبیل کا نام نوٹس بورڈ پر دیکھا تھا۔
صرف دس سٹوڈنٹس کو اساٸمنٹ ملی تھی جن میں سے صرف دو کی پاس ہوٸی تھی۔۔
اور وہ دو لوگ ایلف آسکر اور روحان جبیل تھے۔

___________________________

یہ چیمبر آف ڈسکشن کا اندرونی منظر تھا۔ چیمبر آف ڈسکشن کی ظاہری صورت اور ترتیب کمرہ عدالت سے ملتی تھی۔ اس چیمبر کا ایک صدر تھا۔۔ پروفيسر ایلبس۔۔
جو کہ بڑے سے میز کے پیچھے ایک اونچی کرسی پر براجمان تھا۔
اسکے سامنے دونوں طرف سٹوڈنٹس کی دوقطاریں تھیں۔

چیمبر آف ڈسکشن میں ہر طرح کے موضوعات پر بحث کی جاتی تھی۔
چاہے وہ ساٸنس سے متعلق ہوں یا پھر مذہب سے۔۔
پڑھاٸی مکمل ہونے کے بعد سٹوڈنٹس یہاں اپنی ریسرچ پیش کرتے تھے۔

یونيورسٹی کی انتظامیہ کے علاوہ بڑے بڑے موقعوں پر شہر کی معزز ہستیوں کو بلایا جاتا تھا۔

پہلے پریزنٹیشن ایلف نے دی تھی جو مکمل طور پرتیار تھی۔ اور بہترین انداز میں اپنی ارتقا ٕ پر کی گٸی تحقيق کو پیش کیا تھا۔
چیمبر میں موجود سٹوڈنٹس اور پروفيسرز اسکی قابليت سے واقف تھے۔

اور جب روحان جبیل اسٹیج پر آیا تو پروفيسر جسٹن چوکنا ہوگٸے تھے۔۔ وہ جانتے تھے یہ لڑکا کچھ نیا کرنے والا تھا۔
اور میوٹیشنز پر لکھی گٸی اساٸنمنٹ کو جب اس نے چیمبر میں پیش کیا سب دنگ رہ گٸے تھے۔ اس نے اس طرح سے ہر چیز کو بیان کیا تھا کہ کسی بھی شخص کے ذہن میں کوٸی سوال نہيں ابھرا تھا۔۔
اور جب میوٹنٹس پر اٹھنے والے ایک سوال کے جواب میں ٹراٸسومی پر اس نے اپنی مثال پیش کی تو پورا چیمبر ہل گیا تھا___

”کیا واقعی وہ ایک میوٹنٹ ہے۔۔ پوری یونی میں رپورٹ ہونے والے ان تین کیسز میں سے ایک۔۔ جو غیر معمولی صلاحيتيں رکھتا ہے___!!
ایلف دنگ رہ گٸی تھی۔۔ وہ اسے کیا سمجھ رہی تھی اور وہ کیا نکلا تھا۔۔

ایلف آسکر کا نام کہیں چھپ سا گیا تھا۔۔ پورے چیمبر اور ڈیپارٹمنٹ میں بس روحان جبیل کا نام گونج رہا تھا۔

_________________________

”میں جانتا تھا۔۔ مجھے یقین تھا۔۔ مجھے یقین تھا کہ تم کچھ الگ کروگے۔۔ تم نے کردکھایا مسٹر روحان جبیل۔۔ آج سے تم میرے ساتھ کام کرو گے۔۔ میری لیب میں۔۔لندن کی سب سے بڑی لیب میں۔۔ ایک ساٸنسدان کے طور پر__!!“
پروفيسر جسٹن کی بات سن کر روحان حیران ہوا تھا۔ اسے یقین نہيں آرہا تھا کہ پروفيسر جسٹن جو ایک ساٸنسدان بھی تھا وہ اسے اپنے ساتھ کام کرنے کی آفر رہا تھا۔۔

یہ اسکے ساتھ کیا ہو رہا تھا وہ خود نہيں جانتا تھا۔۔ اسکا نام بنتا جا رہا تھا۔۔ لوگ اسکے گرویدہ ہوتے جارہے تھے۔۔
وہ یہاں یہ سب کرنے نہيں آیا تھا۔۔ وہ تو علم حاصل کرنے آیا تھا۔۔ النور سے دینی اور یونيورسٹی سے دنیاوی۔۔
لیکن ڈاکٹر باسط نے ٹھیک کہا تھا۔۔ وہ تو یہاں لوگوں کو فتح کر رہا تھا۔۔
کیسے۔۔ کیوں۔۔ کیا چیز اسکی مدد کر رہی تھی وہ خود نہيں جانتا تھا___

____________________________

ان چار سالوں میں ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ ایلف نے اپنے نام سے زیادہ کسی اور کے نام کی گونج سنی تھی۔
وہ چار سالوں سے جینیٹکس پڑھ رہی تھی لیکن اسکے پاس اتنا علم اتنی معلومات نہيں تھیں جتنی روحان جبیل کے پاس___

”یقین نہيں ہوتا کہ کوٸی اتنا علم کیسے رکھ سکتا ہے۔۔؟؟“
وہ روحان کے سامنے کھڑی استفسار کر رہی تھی۔

”اور میں بھی حیران ہوں کہ ایک لڑکی اتنی اچھی ریسرچ کیسے کر سکتی ہے۔۔؟؟“
وہ شرارت سے کہہ کر مسکرایا تھا۔ ایلف نے غور کیا تھا وہ وجیہہ تھا۔
اسکے بات کرنے کا انداز اسکی شخصیت میں وقار لاتا تھا۔

”زیادہ خوش فہم ہونے کی ضرورت نہيں ہے۔۔ ابھی فاٸنل اگزامز باقی ہیں۔۔ اور یقيناً پچھلے چار سالوں کی طرح اس بار بھی ایلف ٹاپ کرنے والی ہے__!!“
وہ خود کو نارمل کرتے ہوٸے بولی تھی۔

”یقيناً ایلف آسکر ٹاپ کرنے والی ہے۔۔ میں نے کب انکار کیا۔۔ وش یو گڈ لک۔۔“
وہ مسکرا کر کہتا آگے بڑھ گیا تھا۔۔ اسے ٹاپ کرنے سے کوٸی سروکار نہيں تھا۔۔ وہ یہ کام بچپن سے کرتا آیا تھا۔۔
اسکے نزدیک اب اس چیز کی کوٸی اہمیت نہيں تھی۔۔
ہاں البتہ اور بہت سے کام تھے جو اسے سرانجام دینے تھے۔

___________________________

”تو تم نے اپنے سلفاٸیٹ (خاص) ہونے کا ثبوت دے ہی دیا۔۔جان کر اچھا لگا__“
اگلے دن وہ اپنی پسندیدہ جگہ پر اس فوارے پر بیٹھا تھا جسکے اردگرد پرندے اڑ رہے تھے اور کبھی نیچے بیٹھ کر دانہ چگتے تھے۔

”میں نے کچھ بھی نہيں کیا پروفيسر تھامس۔۔ مجھے جو کام ملا تھا وہی پورا کیا ہے۔۔“

”تم نے چیمبر کو پہلی باری میں ہی ہلا دیا ہے مسٹر جبیل۔۔ حیران ہوتا ہوں کہ تم آگے کیا کروگے۔۔؟؟“
پروفيسر تھامس بھی اسکے متاثرین میں نظر آرہے تھے۔

”دیکھتے ہیں پروفيسر۔۔ لیکن میرا چیمبر ہلانے کا ارادہ نہيں ہے۔۔“
وہ اداسی سے مسکرایا تھا۔

”چاٸے ہوجاٸے ایک ساتھ۔۔۔ شام کو میرے اپارٹمنٹ آجانا۔۔ مجھے تمہارے ساتھ چاٸے پی کر اچھا لگے گا__!!“
پروفيسر تھامس اسے چاٸے کی دعوت دے کر جاچکے تھے جبکہ روحان انہيں جاتا دیکھ رہا تھا۔۔اسکا جانے کو دل نہيں چاہ رہا تھا لیکن وہ پروفیسر کو انکار بھی نہيں کر سکتا۔۔
________________________

”اس لڑکے کی شکل کسی سے تو ملتی ہے۔۔ لیکن کس سے۔۔۔؟؟؟“
ایلف اپنے کمرے میں بری طرح سے چکر کاٹ رہی تھی۔ آج اس نے روحان کو بہت قریب سے دیکھا تھا۔۔ اسے اسکے چہرے میں کسی کی شباہت نظر آٸی تھی۔

”اوووہ گاڈ مجھے یاد کیوں نہيں آرہا۔۔؟؟“
وہ پریشان ہوگٸی تھی۔ کوٸی پہلی بار اسکے مقابلے پر آیا تھا۔۔ ایلف کو حیرانی ہو رہی تھی۔
وہ لندن کے میٸر کی بیٹی۔۔ اپنی ذات میں بےمثال تھی۔۔ پھر ناجانے کیوں وہ اس چہرے کو بھول نہيں پا رہی تھی۔

اچانک اسکے ذہن میں ایک جھماکہ ہوا تھا اور وہ میز پر رکھے اپنے لیپ ٹاپ کی طرف لپکی__

____________________________

رات کے اس پہر کافی ٹھنڈ تھی۔ وہ پروفيسر تھامس کے اپارٹمنٹ کے باہر کھڑا تھا۔
کوٹ کے کالر کو کھڑا کرکے اس نے خود کو ٹھنڈ سے بچایا ہوا تھا۔
کچھ دیر بعد دروازہ کھلا تھا۔

”مسٹر روحان جبیل۔۔ ویلکم۔۔“
پروفيسر تھامس جیسے اسی کا انتظار کر رہے تھے۔ وہ اسے دیکھ کر خوش ہوٸے تھے۔
روحان نے جیسے ہی اندر قدم رکھا اسے ایک گرم سا احساس ہوا تھا۔ پورا گھر ہیٹر کی گرماٸش سے گرم تھا۔
روحان کی ہڈیوں کو جیسے سکون ملا تھا۔

”معاف کرنا میں نے دروازہ دیر میں کھولا۔۔ ملازم جاچکا ہے میں خود چاٸے کا سامان میز پر لگا رہا تھا__!!

”کوٸی بات نہيں پروفيسر۔۔ آپکو معذرت کرنے کی ضرورت نہيں ہے۔۔“
روحان شرمندہ ہوا تھا۔

”آجاٶ چاٸے ٹھنڈی ہوجاٸے گی۔۔“
پروفيسر نے ڈاٸننگ روم کی طرف بڑھتے ہوٸے کہا تھا۔۔ روحان نے اثبات میں سر ہلا کر انکی پیروی کی۔

”تم النور جاتے ہو۔۔ کیا سیکھنے۔۔؟؟“
پروفيسر کے سوال پر وہ چونکا تھا۔ یعنی پروفيسر تھامس اس پر نظر رکھتے تھے۔

”ہاں میں وہاں سے دینی تعلیم حاصل کر رہا ہوں۔۔“
روحان نے پروفيسر کے ہاتھ سے چاٸے کا کپ پکڑتے ہوٸے جواب دیا تھا۔

”تعلیم حاصل کر رہے ہو یا تعلیم دے رہے ہو؟؟ کافی اچھا بول لیتے ہو تم بھی۔۔ میں نے وہ ویڈیوز دیکھی ہیں جن میں تم ایک سکالر کا کام کر رہے ہو۔۔“
روحان اس بار سہی معنوں میں چونکا تھا۔

”نہيں۔۔ میں سکالر نہيں ہوں۔۔ میں بس اپنے مذہب کے بارے میں جو لوگوں کی الجھنیں ہیں انہيں دور کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔۔“
روحان نے چاٸے کا گھونٹ بھرتے ہوٸے جواب دیا تھا۔

”ہمم۔۔ اچھی بات ہے۔۔“
پروفيسر تھامس نے سوچتے ہوٸے کہا تھا۔

”کتنی زبانوں پر عبور رکھتے ہو برخوردار۔۔؟؟؟“
وہ پوچھ رہے تھے۔

”کچھ زیادہ نہيں۔۔ انگریزی،اردو، فرانسیسی جانتا ہوں جبکہ اور عربی سیکھ رہا ہوں۔۔“
روحان نے سچ بتایا تھا۔

”اگر میں ہسپانوی زبان میں تم سے کچھ سوال کروں تو کیا تم جواب دے سکو گے۔۔۔؟؟“

”نہيں۔۔“
روحان نے الجھتے ہوٸے جواب دیا تھا۔۔ اسے سمجھ نہيں آرہا تھا کہ پروفيسر یہ سب کیوں پوچھ رہے تھے۔

”ھمم۔۔۔“
پروفيسر اپنی کرسی سے اٹھ کھڑے ہوٸے تھے اور بند کھڑکی میں جا کر کھڑے ہوگٸے تھے جس کے دھند جمے شیشوں سے لندن دھندلا سا نظر آرہا تھا۔

”عہد الست کے بارے میں جانتے ہو۔۔؟؟“ خدا نے کس زبان میں وعدہ لیا تھا ہر انسان سے۔۔۔؟؟“
پروفيسر کے سوال پر روحان چونکا تھا۔۔ اسے اب سمجھ آیا تھا کہ وہ مختلف زبانوں کا ذکر کیوں کر رہے تھے۔

”یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے لیکن میرے ناقص علم کے مطابق وہ گفتگو عربی میں ہوٸی تھی۔۔“
روحان نے جواب دیا۔

”کیوں۔۔؟؟“
سوال حاضر تھا۔

”کیونکہ یہ اللہ کے محبوب نبیﷺ کی زبان ہے۔۔۔ اسی زبان میں آخری کتاب کو نازل کیا گیا تھا۔۔ اور بہت سی روایات میں آیا ہے کہ عربی ہی جنت کی زبان ہوگی۔۔!!“

”میں نے پڑھا ہے کہ مرنے کے بعد انسان سے عربی زبان میں کچھ سوال کیۓ جاٸیں گے۔۔ اور عہدالست کی پوچھ گوچھ ہوگی___ جن لوگوں کو عربی زبان نہيں آتی وہ کیا کرینگے۔۔؟؟“
پروفيسر کی بات سن کر روحان مسکرایا تھا۔ وہ انکا سوال سمجھ چکا تھا۔
وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور پروفيسر کے برابر میں جا کر کھڑا ہوگیا تھا۔

”مسلمانوں کا ایمان ہے اور بعض روایات میں ہے کہ روزِ قیامت یا قبر میں حساب عربی میں ہو گا، ہمارے اُستاد کا خیال تھا کہ ہماری ہی زبان میں ہو گا___
سوال و جواب کسی زبان میں بھی ہوں ہمیں بس اس وقت کیلیۓ تیار رہنا ہوگا۔۔۔“
روحان نے کہنا شروع کیا۔

النور میں میرا ایک دوست ہے جو کہتا یہ حساب کسی زبان میں ہو گا ہی نہیں یہ سارا معاملہ ایسے مفاہم کے دوطرفہ ابلاغ اور منتقلی سے وقوع پزیر ہو گا جسے سمجھنے سے ہم ابھی اس جسم میں رہتے ہوئے قاصر ہیں۔
لیکن مفاہیم کی یہ زبان قرآن کے مطابق ہم پہلے بھی استعمال کر چکے ہیں۔ آپ نے قرآن میں عہدِ الست کی آیات پڑھی ہونگی، یہ وہ عہد ہے جو میں نے اور آپ نے اپنی پیدائیش سے پہلے کیا تھا، تب نہ مجھے اردو آتی تھی نہ انگریزی نہ عربی نہ ہی آپکو پنجابی سرائیکی سندھی وغیرہ آتی تھی لیکن پھر بھی ہم نے ایک ایسا اہم ترین عہد کر لیا جسکا تعلق ایک نئی دنیا میں جانے جیسے بہت بڑے فیصلے سے تھا۔۔۔۔“
پروفيسر نے چونک کر روحان کو دیکھا تھا جو اپنے دوست کی سوچ کو ہو بہو اسکے الفاظ میں بیان کر رہا تھا۔
”مرتے ہی ہم جو صورت اختیار کر لیں گے یہ وہی صورت ہو گی جو پیدائیش سے پہلے وہ عہد کرتے وقت ہماری شخصیت کا حصہ تھی۔
یعنی ہم جسم سے واپس اُس کیفیت میں منتقل ہو جائیں گے جو ہماری حقیقی شخصیت تھی۔ یہ ہاتھ یہ پیر یہ ٹانگیں یہ کان ناک تو میرے ہیں میں یہ نہیں ہوں، میں تو وہ ہوں جو جسم سے نکل جاوں تو یہ جسم لاش کہلاتا ہے۔ میں یہ جسم پہنے ہوئے تو ہوں یہ میں نہیں ہوں۔ اس جسم سے نکلتے ہی میں پہلے کی طرح انرجی کی زبان اور مفاہیم سمجھنے سمجھانے لگوں گا۔
یعنی مجھے اپنی وہ زبان دوبارہ استعمال کرنا آ جائے گی جو الفاظ کی محتاج نہیں۔ حساب اُسی زبان میں ہو گا۔ میرا گمان ہے کہ وہ محسُوسات کی زبان ہو گی۔۔۔!!!“

یہ میرے دوست کا گمان ہے۔۔ اور میں مانتا ہوں کہ کبھی کبھی کوٸی گمان انجانے میں گناہ بھی بن جاتا ہے۔۔ اس لئے میں اسکی بات سے پوری طرح متفق نہيں۔

اسکے کہنے کا مطلب بس یہ ہے کہ اگر آپ کو عربی نہیں آتی تو گھبرانے کی ضرورت نہیں بشرطیہ کہ آپ متوازن زندگی گزار کر اپنی حقیقی شخصیت میں منتقل ہوئے ہیں۔ وہاں آپ الفاظ کے محتاج نہیں ہونگے۔ آپکے احساسات آپکے حق میں یا آپکے خلاف گواہ ہونگے۔۔۔

میں نے اپنے دوست کے گمان کو آپ سے اس لئے بیان کیا اگر آپ دین اسلام پر یقین نہيں رکھتے اور عربی کو نہيں جانتے۔۔ اور یہ بہانہ بنانے کی کوشش کر رہے کہ آپکو عربی نہيں آتی اور آپ حساب کتاب سے بچ جاٸیں گے تو ایسا سوچنا سراسر بےوقوفی ہے۔۔

جس زبان میں ہم نے وعدہ کیا تھا اسی زبان ہم جوابدہ ہونگے۔۔ چاہے وہ زبان عربی ہو یا کچھ اور۔۔
ہمیں بس خود کو اس قابل بنانا ہے کہ جب خدا ہمارا نام لے کر ہمیں مخاطب کرے گا تو ہماری زبان نا لڑکھڑاٸے۔۔ ہمارا دل نا کانپے۔۔ بلکہ خدا کی پکار پر ہم سرشار سے اسکی طرف چلتے جاٸیں___

”اور جو خدا انسان کو پیدا کرکے دنيا میں بھیج سکتا ہے۔۔ جو خدا موت کے بعد انسان کو زندہ کر سکتا ہے۔۔۔ کیا لگتا ہے آپکو کہ وہ ایک انسان سے عربی میں حساب نہيں لے سکتا۔۔
وہ صرف کن کہے گا۔۔ فیکون ہوجاٸے گا۔۔اگر عربی نہيں آتی تو انسان مشین کی طرح بولنا شروع کردے گا اور بیشک اس خدا کیلیۓ کچھ مشکل نہيں___“
روحان مسکرا کر کہتا کھڑکی سے ہٹا تھا۔

”چاٸے اچھی بنی ہے پروفيسر۔۔“
وہ اب کپ کو میز پر رکھ چکا تھا۔۔ جبکہ پروفيسر حیرت و بےبسی سے اسے دیکھ کر رہ گٸے تھے۔۔
انہوں نے تسليم کیا تھا کہ روحان جبیل سے اسکے دین کے متعلق سوال کر کے نیچا دکھانا انکے بس کی بات نہيں____

___________________________

ایلف آنکهيں پھاڑے اپنے سامنے لیپ ٹاپ کی سکرین پر ابھرنے والی تصویر کو تک رہی تھی۔ اسکے سامنے روحان جبیل کی تصویر تھی جسے اس نے مختلف زاویوں سے ایڈٹ کیا تھا۔۔
کبھی لمبے بال توکبھی ساٸڈ کٹ۔۔ آٸی برو پر لگا ہوا کٹ۔۔
کافی دیر ایڈٹنگ کرنے کے بعد وہ کامياب ٹھہری تھی اور اب اپنے سامنے موجود تصویر کو دیکھ کر وہ حیران رہ گٸی تھی۔
”آرجے۔۔۔“
وہ زیر لب بڑبڑاٸی تھی۔

________________________

انکے پہلے سمیسٹر کے فاٸنل پیپر شروع ہوگٸے تھے۔ ایلف گہری نظروں سے روحان کا مشاہدہ کر رہی تھی۔

”ایلف یہ دیکھو۔۔ یقین نہيں ہوتا۔۔ What a Man۔۔“
پیپر کے بعد ایمی اچھلتی کودتی اسکی طرف بڑھی تھی۔ ایلف تو اچانک افتاد پر گڑبڑا ہی گٸی تھی۔
ایمی کے ہاتھ میں موبائل تھا جس میں ایک ویڈیو چل رہی تھی۔۔ روحان کی ویڈیو جس میں وہ لاجک سے کچھ سوالات کے جواب دے رہا تھا۔

“Unbelievable”
ایمی حیران تھی۔

”اووہ تو وہ مسلم اپنے دین کی تبليغ کرنے آیا ہے۔۔ کیا پتا وہ ایک دہشت گرد ہو جس نے روپ بدل رکھا ہو۔۔!!“
ایلف نے دل میں سوچا تھا۔

”کہاں گم ہوگٸی۔۔ میں نے کہا تھا نا کہ وہ سب سے الگ ہے۔۔ دیکھا تم نے۔۔ اس نے ساٸنس کی بھی چھٹی کردی۔۔“
ایمی سرشار سی کہہ رہی تھی۔ اور ایلف کو کہیں اور متوجہ پاکر آگے بڑھ گٸی تھی۔۔ جبکہ ایلف ایک بار پھر شدید الجھن کا شکار ہوچکی تھی۔

_________________________

”تو تم انجانے میں ہی سہی لیکن اس رستے پر نکل پڑے ہو جسکی حانم نے کبھی خواہش کی تھی۔۔“
فون سے حشام کی آواز ابھر رہی تھی۔ وہ پاکستان گیا ہوا تھا۔ مدیحہ اور ارحم کا سادگی سے نکاح کیا جا رہا تھا۔
روحان اپنے اگزامز کی وجہ سے نہيں جا پایا تھا۔

”یہ رستہ میں نے خود نہيں چنا۔۔ ایسا لگتا ہے جیسے کوٸی ہاتھ پکڑ کر مجھے اس رستے پر لے جا رہا ہو۔۔ جب کبھی کوٸی مشکل آتی ہے تو سامنے حانم مسکراتی نظر آتی ہے۔۔
وہ میری ہمت بڑھاتی اور میں چلتا جاتا ہوں۔۔“
روحان کسی ٹرانس کی کیفیت میں کہہ رہا تھا۔

جب بھی حانم کا ذکر ہوتا تھا وہ یوں ہی پاگل سےلگنے لگتا تھا۔

”مجھے کچھ کام ہے میں بعد میں بات کرتا ہوں۔۔“
حشام فون بند کرچکا تھا۔۔ جبکہ روحان کی سوچیں حانم کے گرد بھٹک رہی تھیں۔

__________________________

انکا آخری پیپر تھا۔۔ Viva چل رہا تھا۔۔ ان دنوں ایلف بری طرح سے پریشان رہی تھی۔۔ وہ جتنا روحان سے چھٹکارہ چاہتی تھی اسکی کوٸی نا کوٸی بات ایلف کو متوجہ کر لیتی تھی۔۔ اسکی ذات کے بہت سے پہلو تھے۔۔ جنہيں وہ سمجھ نہيں پا رہی تھی۔

ابھی واٸیوا کے دوران وہ پانچ میں سے ایک سوال کا بےدھیانی میں غلط جواب دے چکی تھی۔۔
ایسا پہلی بار ہوا تھا۔
روحان اسے غور سے دیکھ رہا تھا۔۔ اسے وہ الجھی الجھی نظر آٸی تھی۔۔ وہ ایک زندہ دل لڑکی تھی۔۔ جو سچ بولتی تھی اور ہر مشکل کا مقابلہ کرنے کیلیۓ تیار رہتی تھی۔

اب روحان کی باری تھی۔۔ پہلے تین سوالوں کے وہ درست جواب دے چکا تھا۔ ایلف کا رنگ فق ہوا تھا۔۔ اسے پہلی بات ہارنے کا خود ہوا تھا۔۔ وہ ڈر گٸی تھی۔۔
روحان نے اسکے چہرے پر خوف محسوس کیا تھا۔
وہ لندن کے میٸر کی بیٹی تھی۔۔ اسکا باپ ایک بڑی شخصیت کا مالک تھا۔۔ اور یہ جو بڑی شخصيات کے بچے ہوتے ہیں انہيں عام بچوں کے مقابلے میں اپنے ماں باپ کی نظروں میں کچھ بننے کیلیۓ بہت محنت کرنا پڑتی ہے___
چونکہ ماں باپ خود کامياب ہوتے ہیں انکے نزدیک بچوں کی چھوٹی چھوٹی کاميابياں کچھ خاص اہمیت نہيں رکھتیں۔
ایسے بچے بہت سی محرومیوں کا شکار رہ جاتے ہیں۔۔ وہ اگر ٹاپ کرتے ہیں تو انکے ماں باپ، عام ماں باپ کی طرح جو کہ اپنے بچوں کی ایسی کاميابی پر پھولے نہيں سماتے، جھٹ سے انہيں گلے نہيں لگا لیتے۔۔ بلکہ ایسے بچوں کو اپنا آپ منوانے کیلیۓ۔۔ اپنی شخصیت بنانے کیلیۓ بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔۔
اور ایسی ہی ایک زندگی ایلف جی رہی تھی۔۔ وہ سالوں سے ٹاپ کر رہی تھی۔۔ اور اپنا ایک نام بنانے میں کامياب بھی ہوگٸی تھی۔۔ لیکن اب۔۔ اب روحان جبیل کے آنے سے وہ مٹتا محسوس ہو رہا تھا۔۔ اور اسی دکھ میں روحان نے ایلف کو گھلتے پایا تھا___

سر جسٹن نے اس سے چوتها سوال پوچھا تھا۔۔ اور روحان ایلف سے نظریں ہٹا کر کچھ سوچ رہا تھا۔۔ اور پھر جب اس نے جواب دیا تو پروفيسر حیران رہ گیا تھا۔۔ جواب غلط تھا۔۔
ایلف کے تنے ہوٸے کندھے ایک دم ڈھیلے پڑے تھے۔۔
اسکے چہرے پر سکون پھیل گیا تھا۔

لیکن اگلے سوال کا جواب بھی غلط دینے پر ایلف چونکی تھی۔۔ وہ حیرت سے روحان کو دیکھ رہی تھی جسکے چہرے پر گہرا سکون چھایا تھا۔
پروفيسر بےیقینی سے کبھی روحان تو کبھی ایلف کو دیکھ رہے تھے۔۔

کلاس ختم ہوچکی تھی۔۔ وہ باہر نکل چکا تھا۔۔
ایلف نے کچھ دیر اسے جاتے دیکھا تھا۔۔ اور پھر کرنٹ کھا کر اسکے پیچھے لپکی تھی۔۔
وہ جان گٸی تھی سوال اتنے مشکل نہيں تھا جنکا روحان جبیل کو جواب نہيں آتا۔۔ پھر اس نے غلط جواب کیوں دیا تھا___؟؟
وہ چونکی تھی۔۔ اور اسے کچھ سمجھ آرہا تھا۔

”رکو مسٹر۔۔“
وہ ہانپتی اس تک پہنچی تھی۔ روحان کے قدم رک گٸے تھے۔

”روحان جبیل نام ہے میرا۔۔“
وہ کہہ کر آگے بڑھا تھا۔

”روحان جبیل یا پھر آرجے۔۔؟؟“
ایلف نے گویا دھماکہ کیا تھا۔ روحان کے قدم ساکت ہوٸے تھے اور پھر وہ کرنٹ کھا کر پلٹا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: