Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 48

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 48

–**–**–

( زندگی کے سات پہروں کی کہانی )

”رکو مسٹر۔۔“
وہ ہانپتی اس تک پہنچی تھی۔ روحان کے قدم رک گٸے تھے۔

”روحان جبیل نام ہے میرا۔۔“
وہ کہہ کر آگے بڑھا تھا۔

”روحان جبیل یا پھر آرجے۔۔؟؟“
ایلف نے گویا دھماکہ کیا تھا۔ روحان کے قدم ساکت ہوٸے تھے اور پھر وہ کرنٹ کھا کر پلٹا تھا۔
ایلف اپنے دونوں گھٹنوں پر ہاتھ رکھے جھکی ہوٸی تھی وہ اپنا تنفس بحال کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
روحان نے ایک پل میں اپنے چہرے کے تاثرات کو نارمل کیا تھا۔

”کون آرجے۔۔۔؟؟“
وہ اب حیرانی سے پوچھ رہا تھا۔
ایلف سیدھی ہوٸی۔ وہ سیاہ اور پیلے رنگ کے مغربی کپڑوں میں ملبوس تھی۔ بالوں کی اونچی پونی ٹیل کیۓ وہ ایم فل کی نہيں بلکہ کالج کی سٹوڈنٹ لگ رہی تھی۔

”وہی۔۔ روحان جبیل عرف آرجے۔۔ ایک پاکستانی سنگر جسکے پاکستان سے زیادہ یورپ میں فین ہیں__!!“
ایلف نے روحان کے چہرے کے تاثرات کو جانچتے ہوٸے کہا تھا۔

”وہ میں نے سنا ہے مرچکا ہے۔۔“

”مرچکا ہے یا روپ بدل لیا ہے۔۔؟؟“
وہ کاٹ دار لہجے میں پوچھ رہی تھی۔
روحان نے اسکی بات کا کوٸی جواب نہيں دیا تھا۔ اس نے ایک نظر ایلف کو دیکھا، کندھے اچکاٸے اور پھر واپسی کیلیۓ قدم بڑھاٸے۔۔

”کیوں کیا تم نے ایسا___؟؟“
وہ کچھ دور تک چلا تھا جب اسے ایلف کی چلانے کی آواز آٸی تھی۔

”کیا کردیا ہے اب میں نے__؟؟“
وہ بالکل اس انداز میں پوچھ رہا تھا جس میں کبھی سید حویلی کے افراد اسکا نام سن کر کہتے تھے کہ ”اب کیا کردیا آرجے نے۔۔؟؟“

”تم نے دو سوالوں کے غلط جواب کیوں دیٸے۔۔؟؟“
ایلف اپنی جگہ پر کھڑی پوچھ رہی تھی۔
وہ جان گٸی تھی کہ روحان نے جان بوجھ کر دوسوالوں کے غلط جواب دے کر اپنی پرسنٹیج کو نیچے گرایا تھا۔۔ لیکن وہ حیران تھی اس نے ایسا کیوں کیا تھا۔۔

”مجھے نہيں آتے تھے اس لئے۔!!“
وہ اب عام سے لہجے میں جواب دے رہا تھا۔

”جھوٹ۔۔۔ سراسر جھوٹ۔۔ مسٹر روحان جبیل کو کسی سوال کا جواب نا آتا ہو ایسا ہو نہيں سکتا۔۔“
وہ انجانے میں ہی سہی لیکن اسکی تعریف کر گٸی تھی۔ روحان کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھوا تھا۔

”روحان جبیل کی اتنی مجال کہ وہ چیمبر پر راج کرنے والی لڑکی کا مقابلہ کرے یا اسے ہراٸے۔۔“
وہ اسکے سامنے کھڑے ہوتے ہوٸے کہہ رہا تھا۔

”مجھے پر ترس کھا کر اچھا بننا چاہتے ہو۔؟؟“
وہ تیکھے لہجے میں پوچھ رہی نہيں۔

”نہيں بالکل نہيں۔۔۔ جو باتيں اور چیزیں تمہارے لئے اہميت کی حامل ہیں مجھے ان میں دلچسپی نہيں۔۔ میں یہاں مقابلہ کرنے نہيں آیا۔۔“
اسکا لہجہ سنجيدہ تھا لیکن لبوں پر مسکراہٹ تھی۔ وہ کہہ کر رکا نہيں تھا۔
ایلف حیرانی سے اسے جاتے ہوٸے دیکھ رہی تھی۔۔ وہ جانے کون تھا۔۔ کیا تھا۔۔کیوں تھا؟؟ وہ نہيں جانتی تھی۔

_______________________

وہ پروفيسر جسٹن کی لیب میں تھا۔۔ یہ ایک جدید طرز کی بہت بڑی لیباٹری تھی۔
انکے پہلے سمیسٹر کا رزلٹ آچکا تھا اور ہمیشہ کی طرح ایلف ٹاپ پر تھی۔

”تم نے جان بوجھ کر خود کو ہرایا۔۔ ایسا کیوں؟؟“
پروفيسر جسٹن پوچھ رہے تھے۔

”جیتنے کا شوق نہيں رہا اب مجھے۔۔“ وہ لیب پر نظریں دوڑاتے ہوٸے بتا رہا تھا۔

”لیکن تمہيں جیتنا چاہیۓ تھا۔۔“
پروفيسر جسٹن کہہ رہے تھے۔

”آپکی لیب بہت کمال کی ہے۔۔ مجھے لگتا ہے آپکے ساتھ کام کر کے میں بہت کچھ سیکھ پاٶں گا۔۔“
وہ بات بدل گیا تھا۔

”ہاں۔۔ میں تمہيں اسی لئے یہاں لایا ہوں۔۔ وراثتی بیماریاں جو کہ ناقابل علاج ہیں انکا علاج دریافت کرنے میں تم میری مدد کرو گے۔۔“
پروفيسر جسٹن کو جیسے یاد آیا تھا۔

”مجھے اچھا لگے گا اگر میں ابنارمل بچوں کیلیۓ کچھ ایسا کرسکوں کہ وہ نارمل زندگی گزار سکیں۔۔“
روحان کے ارادے اچھے تھے۔

”ویری گڈ۔۔“
پروفيسر جسٹن اسکا کندھا تھپتھپاتے ہوٸے بولے تھے اور لیب کے دوسرے حصے کی طرف بڑھ گٸے تھے۔

_________________________

”تھینک یو مسٹر آرجے۔۔ لیکن مجھے پہلی بار جیت کر اچھا نہيں لگ رہا۔۔ کیونکہ میں جانتی ہوں یہ ایلف کی نہيں آرجے کی جیت ہے۔۔“
ایلف اسے ڈیپارٹمنٹ میں ملی تھی۔

”کیا مجھے لکھ کر دینا پڑے گا کہ میں آرجے نہيں ہوں۔۔“
وہ خفگی سے بولا تھا۔
ایلف کو اسکا خفا ہونے اچھا لگا تھا۔

”تم چاہے لکھ کر دے دو لیکن ایلف جانتی ہے کہ تم آرجے ہو۔۔“
وہ پورے یقين سے کہہ رہی تھی۔
روحان نے گہری نظروں ایلف کو دیکھا تھا۔

”لیکن تم فکر مت کرو مجھے آرجے پسند تھا اور میں لوگوں کو نہيں بتاٶں گی کہ تم آرجے ہو۔۔وہ اس لئے کہ لوگ پہلے ہی روحان جبیل سے بہت متاثر ہیں اگر میں نے یہ راز کھول دیا کہ روحان جبیل کی آرجے ہے تو ہر طرف روحان جبیل ہوگا۔۔ ایلف کو گم ہونا پڑے گا۔۔اور میں ایسا نہيں چاہتی“
بات کے آخر پر ایلف کے منہ کے زاویے بگڑے تھے۔ ایلف کی بات سن کر روحان بےساختہ ہنس دیا تھا۔

”تم Crazy ہو ایلف۔۔“
وہ ہنستے ہوٸے کہہ رہا تھا۔ ایلف نے محسوس کیا تھا ہونٹوں پر مسکراہٹ کے باوجود اسکی آنکهوں میں نمی تھی۔

”مجھے کچھ کام ہے۔۔ پھر ملتے ہیں۔۔“
وہ مسکرا کر کہتا جا چکا تھا۔

”جادوگر۔۔“
ایلف کے لبوں سے پھسلا تھا۔

________________________

سارے سٹوڈنٹس ایک بار پھر چیمبر میں موجود تھے۔ آج کا موضوع ساٸنس اور ٹیکنالوجی تھا۔۔ صدر ایلبس اپنی اونچی صدارتی کرسی پر براجمان ساٸنس کے پیروکار جو سٹوڈنٹس تھے انکی تحقيقات کو سراہ رہے تھے۔

”مجھے لگتا ہے کہ جو لوگ مذہب کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں انہيں یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیۓ کہ مذہب کچھ بھی نہيں۔۔ جو کچھ ہے بس ساٸنس ہے۔۔“
ساٸنس کے کرشمات پر تقریر کرنے والے لڑکے نے اپنے راٸے کا اظہار کیا تھا۔ یقيناً وہ ایک ملحد تھا۔

”مداخلت کرنے پر معذرت لیکن میں اس بات سے متفق نہيں ہوں۔۔“
دوسری جانب سے روحان اٹھا تھا۔ وہ ان سٹوڈنٹس کی قطار میں بیٹھا تھا جو مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔

”آپ اس بارے میں کیا کہنا چاہیں گے مسٹر جبیل۔۔“
صدر ایلبس نے روحان کو پہچان لیا تھا۔ وہ انکی یونيورسٹی میں سب سے خاص سٹوڈنٹ تھا۔

”میرے دوست نے جو مذہب کے بارے میں کہا کہ مذہب کچھ نہيں۔۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ مذہب بہت کچھ ہے۔۔“
روحان نے اس لڑکے کی جانب اشارہ کرتے ہوٸے کہا تھا۔

”میں ٹھیک کہہ رہا ہوں ساٸنس کے مقابلے میں مذہب کچھ بھی نہيں ہے۔۔ آپ دیکھ سکتے ہیں ماٸے لورڈ کے ساٸنس روز بروز ترقی کر رہی ہے۔۔ جبکہ مذہب رکا ہوا ہے۔۔ اپنی پرانی اور بوسیدہ تعلیمات کو رکھے ہوٸے ہے۔۔ مذہب میں کوٸی ترقی نہيں ہو رہی۔۔“
لڑکے نے اپنا بیان دیا تھا۔
صدر ایلبس نے اسکی بات سے اتفاق کرتے ہوٸے سر اثبات میں ہلایا تھا۔

”آپ کیا کہتے ہیں اس بارے میں۔۔؟؟“
اب وہ روحان سے پوچھ رہے تھے۔ لڑکے کی بات سن کر روحان کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری تھی۔ اسے مسکراتا دیکھ کر اس لڑکے کی تیوری چڑھی۔

”کیا مذہب ہے تمہارا اور کونسے ملک سے ہو تم۔۔؟؟“ وہ اب روحان سے پوچھ رہا تھا۔ لہجہ کاٹ دار تھا۔

”میں پاکستانی مسلمان ہوں۔۔“
روحان نے فخر سے بتایا۔

“Bloody Terrorist”
روحان اس لڑکے کی سرگوشی کو اسکے لبوں کی حرکت سے سن چکا تھا۔

”میرے دوست کا کہنا ہے کہ مذہب رکا ہے جبکہ ساٸنس متحرک ہے۔۔ روز نٸی نٸی ایجادات کر رہی ہے۔۔ لیکن مذہب کے پاس پرانی تعلیمات ہیں۔۔،
آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں میرے دوست۔۔ تمام مذاہب ساکن ہیں سواٸے اسلام کے۔۔
لیکن اسلام کی تعلیمات میں کوٸی تبدیلی نہيں آٸی بلکہ چودہ سو سال سے وہ اپنی تعلیمات کو لئے ہوٸے ہے۔۔“
روحان بول رہا تھا۔۔ جبکہ رونلڈ، ایمی، ایلف اور باقی صدر سمیت تمام سٹوڈنٹس اور پروفيسر اسے دم سادھے سن رہے تھے۔

”میرا آپ سے ایک سوال ہے۔۔ آپ لندن میں رہتے ہیں انگلینڈ میں ایک ترقی یافتہ ملک ہے۔۔ درست کہا نے میں نے۔۔؟؟ جبکہ میں پاکستان سے ہوں جو کہ ایک ترقی پذیز ملک ہے۔۔؟؟ وہ سوالیہ انداز لیۓ پوچھ رہا تھا۔

”کیا آپ بتائیں گے کہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر میں کیا فرق ہے۔۔۔؟؟

یقینا آپ کہیں گہ ترقی یافتہ ممالک وہ ہیں جو ترقی کر چکے ہیں۔۔ جو معاشی لحاظ سے مضبوط ہیں جو تعلیم کے لحاظ سے آگے ہیں یعنی جو ہر طرح سے ممکل ہیں۔۔؟؟“

”ہاں ایسا ہی ہے۔۔“
لڑکے نے الجھے ہوٸے لہجے میں کہا تھا۔۔ اسے روحان کی باتوں کی سمجھ نہيں آرہی تھی۔

”میرا ملک ایک ترقی پذیر ملک ہے۔۔ وہ آہستہ آہستہ ترقی ہے۔۔ اس میں بہت سی چیزوں کی کمی ہے۔۔ جبکہ انگلینڈ میں ایسا نہيں ہے۔۔“

”اب آپ نے کہا کہ ساٸنس ترقی کر رہی ہے تو اسکا مطلب ہوا وہ مکمل نہيں ہوٸی۔۔ اس میں کمی ہے اس لئے وہ ترقی کر رہی ہے۔۔ جبکہ مذہب مکمل ہوچکا ہے۔۔ یعنی وہ ترقی یافتہ ہے۔۔ اس لئے آپکو ساکن لگتا ہے۔۔“
روحان کی بات سن کر ایک پل کیلیۓ چیمبر کے سارے لوگ جیسے سکتے میں چلے گٸے تھے۔

”اگر آپ دنیا میں سب سے اونچے مقام پر جانا چاہیں تو کہاں جاٸیں گے۔۔۔ ؟؟ زمین کی بات کر رہا ہوں خلا کی نہيں۔۔“
روحان کا ایک اور سوال موجود تھا۔

”ماٶنٹ ایورسٹ۔۔ کیونکہ وہ زمین پر سب سے اونچا مقام ہے۔۔“
لڑکے نے جواب دیا تھا۔

”بالکل۔۔ ماٶنٹ ایورسٹ۔۔ جو چیز چوٹی پر پہنچ جاٸے وہ اس سے اوپر کہاں جاٸے گی۔۔ وہ اور کیا ترقی کرے گی۔۔؟؟
آپ ماٶنٹ ایورسٹ پر جانے کے بعد کہاں جاٸیں گے۔۔؟؟ کیونکہ زمین پر اس سے اونچا مقام کوٸی نہيں ہے۔۔ یقيناً آپ رک جاٸیں گے۔۔
تو میرے عزیز ہمارا مذہب چوٹی پر پہنچ چکا ہے۔ جب وہ مکمل ہوچکا ہے تو کیا ترقی کرے گا۔۔؟؟
ترقی وہ کرتا ہے جس میں کچھ کمی ہو۔۔
ساٸنس مکمل نہيں ہوٸی اس لیۓ ترقی کر رہی ہے۔۔ جبکہ مذہب مکمل ہوچکا ہے اس لیۓ آپکو ساکن لگتا ہے۔۔!!

روحان خاموش ہوچکا تھا۔
چیمبر میں کچھ دیر خاموش چھاٸی رہی تھی۔ اور پھر سب سے پہلی تالی ایمی نے بجاٸی تھی اسکے بعد چیمبر تالیوں کی آواز سے گونج اٹھا تھا۔

”لیکن تعلیمات تو پرانی ہیں نا۔۔ خاص طور پر تمہارے مذہب کی۔۔ جس میں عورت کو باندی بنا کر رکھا جاتا ہے۔۔“
وہ لڑکا اب تنفر سے کہہ رہا تھا۔

”یقيناً اسلام کے متعلق آپکا علم بہت کم ہے۔۔۔ جو حقوق مغرب نے عورت کو پچھلی صدی میں دیے وہ اسلام چودہ سو سال پہلے عورت کو دے چکا ہے۔۔۔“
روحان نے پرسکون سے لہجے میں جواب دیا تھا۔

”تم کچھ بھی کہو۔۔ مذہب ساٸنس کا مقابلہ نہيں کر سکتا۔۔ساٸنس اور مذہب دو الگ اور الٹ چیزیں ہیں۔۔“

”کیا آپ اپنی بات کو تفصیل سے بیان کریں گے کہ مذہب ساٸنس کا مقابلہ کیوں نہيں کرسکتا۔۔؟؟“
روحان پوچھ رہا تھا۔

”مذہب کہتا ہے کہ دنیا خدا نے بناٸی۔۔ جبکہ ساٸنس بگ بینگ کی تھیوری پیش کر چکی ہے۔۔ یہ دنیا ایک دھماکے سے وجود میں آٸی تھی۔۔!!“

”یہ جو آپ نے گھڑی پہنی ہے کیا یہ خودبخود بن گٸی ہے۔؟؟

”نہيں۔۔“

”تو کیا آپکی عقل اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ ایک گھڑی تو خود بن نہیں سکتی۔۔ پوری دنیا کا نظام کیسے خود بخود چل رہا ہے۔؟؟

اور رہی بات بگ بینگ کی۔۔ کیا آپ بتائيں گے بگ بینگ کی تھیوری کب پیش ہوٸی اور ساٸنسدان کو نوبل پراٸز کب ملا۔۔؟؟
وہ ایک ساتھ دو سوال کر رہا تھا۔

“I think in 1973”
لڑکے نے کچھ سوچتے ہوٸے بتایا۔

”درست فرمایا۔۔ یہی کوٸی تقریبا چالیس پچاس سال پہلے۔۔
لیکن ہماری مذہبی کتاب قرآن پاک میں یہ بات چودہ سول سال پہلے بتادی گٸی تھی۔۔

قرآن پاک میں سورہ انبیا ٕ آیت میں نمبر تیس میں لکھا ہے کہ،

اَوَلَمْ يَرَ الَّـذِيْنَ كَفَرُوٓا اَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا ۖ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَىْءٍ حَيٍّ ۖ اَفَلَا يُؤْمِنُـوْنَ (30)

کیا منکروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین جڑے ہوئے تھے پھر ہم نے انھیں جدا جدا کر دیا، اور ہم نے ہر جاندار چیز کو پانی سے بنایا، کیا پھر بھی یقین نہیں کرتے۔

اس سے رؤیت عینی نہیں، رؤیت قلبی مراد ہے۔ یعنی کیا انہوں نے غور فکر نہیں کیا؟ یا انہوں نے جانا نہیں؟۔
رَتْقٌ کے معنی، بند کے اور فَتْقٌ کے معنی پھاڑنے، کھولنے اور الگ الگ کرنے کے ہیں۔ یعنی آسمان و زمین، ابتدائے امر ہیں، باہم ملے ہوئے اور ایک دوسرے کے ساتھ پیوست تھے۔ ہم نے ان کو ایک دوسرے سے الگ کیا، آسمانوں کو اوپر کر دیا جس سے بارش برستی ہے اور زمین کو اپنی جگہ پر رہنے دیا، تاہم وہ پیداوار کے قابل ہوگئی۔
***- اس سے مراد اگر بارش اور چشموں کا پانی ہے، تب بھی واضح ہے کہ اس کی روئیدگی ہوتی ہے اور ہر ذی روح کو حیات نو ملتی ہے اور اگر مراد نطفہ ہے، تو اس میں بھی کوئی اشکال نہیں کہ ہر زندہ چیز کے وجود کے باعث وہ قطرہ آب ہے جو نر کی پیٹھ کی ہڈیوں سے نکلتا اور مادہ کے رحم میں جاکر قرار پکڑتا ہے۔

اگر آپ غور کریں تو آپ جانیں گے یہ آیت بگ بینگ کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔۔ زمین و آسمان کو پھاڑ کر الگ الگ کیا گیا۔۔
یقيناً ایک دھماکہ ہوا ہوگا۔۔ جو نا آپ نے دیکھا اور نا میں نے۔۔
ساٸنس جو باتیں آج کہہ رہی ہے۔ وہ ہماری مذہبی کتاب چودہ سول پہلے بتا چکی ہے۔۔
تو میرے عزیز دوست آپکو مان لینا چاہیۓ کہ مذہب صدیوں پہلے مکمل ہوچکا ہے۔۔ وہ پوری ترقی کرچکا ہے۔۔ جبکہ ساٸنس نامکمل ہے۔۔ اسی لیۓ آج وہ انکشافات کر رہی ہے۔ جو ہمارے مذہب نے صدیوں پہلے کر دیے تھے۔۔!!

روحان جبیل ایک ملحد کو اسکے الفاظ سے مات دے چکا تھا۔
ڈیسک پر تالی بجانے کی آواز ایک بار پھر سے گونج گٸی تھی۔

________________________

”تم نے کمال کردیا ہے مسٹر روحان جبیل۔۔۔ میں حیران ہوں تم نے یہ سب کہاں سے سیکھا ہے۔۔؟؟
چیمبر کے باہر ہمیشہ کی طرح سب سے پہلے اسے ایمی ملی تھی۔

”میں جانتی تھی تم آج بھی کوٸی دھماکہ کرنےوالے ہو۔۔۔ اور تم نے کردیا Proud of You Man.. “
وہ دل سے خوش تھی۔

”میرا ایسا کوٸی ارادہ نہيں تھا۔ لیکن جب اس نے مذہب کا ساٸنس سے مقابلہ کیا تو مجھے بولنا پڑا۔۔“
وہ عام سے لہجے میں کہہ رہا تھا۔

”خیر یہ سب چھوڑو تم آرہے ہو نا۔۔۔ ایلف نے ٹاپ کرنے کی خوشی میں پوری کلاس کو ٹریٹ دی ہے۔۔۔ تم آٶ گے نا۔۔؟؟“
وہ روحان سے ایسے بات کرتی تھی جیسےوہ جیسے وہ اسکا بچپن کا دوست تھا۔
روحان کی نظر تب اچانک اپنے گروپ کے ساتھ کھڑی ایلف پر پڑی تھی جو انہيں ہی دیکھ رہی تھی اوراسکی آنکهوں میں عجیب سا تاثر تھا۔

”نہیں۔۔۔ مجھے ابھی تک دعوت نہيں دی گٸی۔۔۔“
روحان نے ایلف کی طرف سے رخ پھیرتے ہوٸے کہا۔

”کیا واقعی۔۔۔ مجھے لگا تھا ایلف سب سے پہلے تمہيں انواٸٹ کرے گی۔۔“
ایمی الجھن زدہ سی کہہ رہی تھی۔

”خیر وہ تمہيں ضرور بلاٸے گی میرا باسکٹ بال کا میچ ہے میں ذرا پریکٹس کرلوں پھر ملتےہیں۔۔۔“
یاد آنے پر ایمی اسے کہتی گراؤنڈ کی طرف لپکی تھی۔ وہ بہت اچھی کھلاڑی تھی۔

جبکہ روحان وہاں سے کیفے کی طرف بڑھ گیا تھا اسے بھوک لگی تھی وہ کچھ کھانا چاہتا تھا۔

__________________________

”کیا میں یہاں بیٹھ سکتی ہوں۔۔؟؟“
وہ ایک میز پر اکیلا بیٹھا چاٸے پی رہا تھا جب ایلف وہاں آٸی۔

”ضرور۔۔یونيورسٹی ایلف کی ہے وہ جہاں چاہے بیٹھ سکتی“

”طنز کر رہے ہو۔۔۔؟؟“

”نہيں میری اتنی مجال۔۔۔“
وہ ڈرنے کی ایکٹنگ کرتے ہوٸے بولا تھا۔
جبکہ ایلف اسکی بات سن کر مسکرادی تھی۔

”باتيں اچھی کرتے ہو تم۔۔۔ آج چیمبر کے ساتھ ساتھ تم نے بہت سے لوگوں کے عقیدے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔۔۔ سچ سچ بتاٶ تم لندن کس مقصد سے آٸے ہو۔۔؟؟
کہیں تم دہشت گرد تو نہيں ہو۔۔۔؟؟“

”تمہيں ایسا لگتا ہے؟؟“

”ہاں۔۔۔ کیونکہ جس قدر تم مذہبی ہو اور اپنے مذہب کا پرچار کر رہے ہو۔۔ اس سے تو تم ایک دہشت گرد لگتے ہو۔۔۔“
ایلف کا اشارہ یقیناً النور کی طرف تھا۔ جسے روحان سمجھ گیا تھا۔
وہ اسکی بات سن کر ہنس دیا تھا۔۔۔ اذیت سے بھرپور ہنسی۔۔۔
کمال تھا۔۔جب وہ پاکستان میں تھا تو ایک ملحد تھا۔۔۔ اسکا کوٸی مذہب نہيں تھا۔لوگ لادین کہتے تھے اب جب وہ لندن آیا تھا اور دین کو اپنایا تھا لوگ اسے دہشت گرد سمجھ رہے تھے۔۔۔

وہ کبھی نارمل رہا نہيں تھا اور نا لوگوں نے سمجھا تھا__
شاید اسے نارمل بنایا ہی نہيں گیا تھا___

”کیا واقعی تمہاری مذہبی کتاب اتنی دلچسپ ہے۔۔؟؟“
اسے خاموش دیکھ کر ایلف نے پوچھا تھا۔

”ہمارا تو پورا مذہب ہی بہت دلچسپ ہے۔۔۔۔ یقین نہيں آتا تو مطالعہ کرکے دیکھ لو۔۔“

”میں ضرور کرونگی۔۔۔ مجھے پہلی بار جینیٹکس سے زیادہ کوٸی اور چیز دلچسپ لگی ہے۔۔میں ضرور کرونگی مطالعہ۔۔۔“
ایلف نے سر ہلاتے ہوٸے کہا تھا۔

”خیر میں تمہیں انواٸیٹ کرنے آٸی ہوں۔۔ میں ایک چھوٹی سی ٹریٹ دے رہی ہوں پوری کلاس میرے گھر مدعو ہوگی۔۔ مجھے امید ہے تم ضرور آٶ گے۔۔“
ایلف اسے اپنے گھر کا پتہ بتا چکی تھی۔۔ جس پر روحان مسکرا دیا تھا۔۔
یہ تو اسکا ٹاٶن تھا۔۔ اور اسی لاٸن میں ایلف کا گھر تھا جہاں وہ سبیل کے ساتھ رہتا تھا____

________________________

النور میں ایک عیساٸی لڑکا آیا تھا جو اسلام قبول کرنا چاہتا تھا۔لیکن اس سے پہلے اسکے کچھ سوال تھے جنکے جواب وہ روحان جبیل سے جاننا چاہتا تھا۔۔
اور روحان جبیل دل و جان سے حاضر تھا۔

” کیا اسلام تشدد اور خونریزی کی دعوت دیتا ہے؟

کیا اسلام تشدد، اور خونریزی کی اور ہزیمت کو فروغ دیتا ہے۔ اس لیے قرآن کہتا ہے مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ جہاں کہیں کفار کو پائیں انہیں قتل کردیں؟“
لڑکے نے بہت اہم سوال اٹھایا تھا۔

”قرآن کریم سے بعض مخصوص آیات کا غلط طور پر اس لیے حوالہ دیا جاتا ہے کہ اس غلط تصور کو قائم رکھا جاسکے کہ اسلام تشدد کی حمایت کرتا ہے اور اپنے پیروکاروں پر زور دیتا ہے کہ وہ دائرہ اسلام سے باہر رہنے والوں کو قتل کردیں۔

آیت جس کا غلط حوالہ دیا جاتا ہے :

سورۃ توبہ کی مندرجہ ذیل آیت کا اسلام کے ناقدین اکثر حوالہ دیتے ہیں تاکہ یہ ظاہر کیا جاسکے کہ اسلام تشدد، خون ریزی اور وحشت کو فروغ دیتا ہے۔

فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ (٥)​

” تم مشرکوں کو جہاں کہیں پاؤ، انہیں قتل کردو۔” ​

( سورۃ التوبہ 9 آیت 5)

آیت کا سیاق و سباق :

در حقیقت ناقدینِ اسلام اس ایت کا حوالہ سیاق و سباق سے ہٹ کردیتے ہیں۔ آیت کے سیاق و سباق کو سمجھنے کے لیئے ضروری ہے کہ اس سورت کا مطالعہ آیت نمبر 1 سے شروع کیا جائے۔ اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان جو معاہداتِ امن ہوئے تھے، ان سے براءت کا اعلان کیا جاتا ہے۔ اس براءت ( معاہدات کی منسوخی ) سے عرب میں شرک اور مشرکین کا وجود عملاً خلاف قانون ہوگیا کیونکہ ملک کا غالب حصہ اسلام کے زیر حکم آچکا تھا۔ ان کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ کار باقی نہ رہا کہ یا تو لڑنے پر تیار ہوجائیں یا ملک چھوڑ کر نکل جائیں یا پھر اپنے آپ کو اسلامی حکومت کے نظم و ضبط میں دے دیں۔ مشرکین کو
اپنا رویہ بدلنے کے لیے چار ماہ کا وقت دیا گیا۔
ارشاد الٰہی ہوا:

فَإِذَا انْسَلَخَ الأشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ وَخُذُوهُمْ وَاحْصُرُوهُمْ وَاقْعُدُوا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (٥)

” پس جب حرمت ( دی گئی مہلت ) والے مہینے گزر جائیں تو تم مشرکین کو جہاں کہیں پاؤ قتل کردو اور ان کر پکڑ لو اور گھیرو اور ہر گھات میں ان کی تاک میں بیٹھو، پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ دینے لگیں تو ان کا راستہ چھوڑ دو، بے شک اللہ بڑا بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

( سورۃ التوبہ 9 آیت 5)​

میں آپکو ایک مثال سے سمجھاتا ہوں۔۔،
روحان نرم لہجے میں بول رہا تھا۔

ہم سب جانتے ہیں کہ ایک وقت تھا امریکہ ویت (ریاست) نام پر برسر پیکار تھا۔ فرض کیجیئے کہ صدر امریکہ یا امریکی جرنیل نے جنگ کے دوران میں امریکی سپاہیوں سے کہا: جہاں کہیں ویت نامیوں کو پاؤ انہں ہلاک کردو۔ اس کا حوالہ دیتے ہوئے اگر آج میں سیاق و سباق سے ہٹ کر یہ کہوں کہ امریکی صدر یا جرنیل نے کہا تھا کہ جہاں کہیں ویت نامیوں کو پاؤ انہیں قتل کردو، تو یوں معلوم ہوگا کہ میں کسی قصائی کا ذکر کرر رہا ہوں۔ لیکن اگر میں اس کی یہی بات صحیح سیاق و سباق میں بیان کروں تو یہ بالکل منطقی معلوم ہوگی کیونکہ وہ دراصل جنگ کے حالات میں اپنی سپاہ کا حوصلہ بڑھانے کے لیئے ایک ہنگامی حکم دے رہا تھا کہ دشمن کو جہاں کہیں پاؤ ختم کردو، حالت جنگ ہونے کے بعد یہ حکم ساقط ہوگیا۔

حالتِ جنگ کا حکم :

اسی طرح سورۃ توبہ کی آیت نمبر 5 میں ارشاد ہوا کہ ” تم مشرکوں کو جہاں کہیں پاؤ انہیں قتل کردو۔ ” یہ حکم جنگ کے حالات میں نازل ہوا اور اس کا مقصد مسلم سپاہ کا حوصلہ بڑھانا تھا، قرآن کریم درحقیقت مسلمان سپاہیوں کو تلقین کررہا ہے کہ وہ خوفزدہ نہ ہوں اور جہاں کہیں دشمنوں سے سامنا ہو انہیں قتل کردیں۔

ارون شوری کی فریب کاری :

ارون شوری، بھارت میں اسلام کے شدید ناقدوں میں سے ہے۔ اس نے بھی اپنی کتاب ” فتاوٰی کی دنیا ” کے صفحہ 572 پر سورۃ توبہ کی آیت نمبر 5 کا حوالہ دیا ہے۔ آیت نمبر 5 کا حوالہ دینے کے بعد وہ دفعتاً ساتویں آیت پر آجاتا ہے، یہاں ہر معقول آدمی یہ محسوس کرتا ہے کہ اس نے جان بوجھ کر آیت نمبر 6 سے گریز کیا ہے۔

قرآن سے جواب :

سورۃ توبہ کی آیت نمبر 6 اس الزام کا شافی جواب دیتی ہے کہ اسلام ( نعوذ باللہ ) تشدد، بہیمت اور خونریزی کو فروغ دیتا ہے۔ ارشادِ باری تعالٰی ہے:

وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلامَ اللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لا يَعْلَمُونَ (٦)

” ( اے نبی! ) اگر کوئی مشرک آپ سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دیجیئے تاکہ وہ اللہ کا کلام سن سکے ، پھر اسے اس کی امن کی جگہ پہنچا دیجیئے، یہ ( رعایت ) اس لیئے ہے کہ بے شک وہ لوگ علم نہیں رکھتے۔ ”
( سورۃ التوبہ 9 آیت 6)​

قرآن کریم نہ صرف یہ کہتا ہے کہ اگر کوئی مشرک حالات جنگ میں پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دی جائے بلکہ یہ حکم دیتا ہے کہ اسے محفوظ مقام پر پہنچا دیا جائے، ہوسکتا ہے کہ موجود بین الاقوامی منظر نامے میں ایک رحم دل اور امن پسند جرنیل جنگ کے دوران میں دشمن کے سپاہیوں کو امن طلب کرنے پر آزادانہ جانے دے لیکن کون ایسا فوجی جرنیل ہوگا جو اپنے سپاہیوں سے یہ کہ سکے کہ اگر دوران جنگ دشمن کے سپاہی امن کے طلب گار ہوں تو انہیں نہ صرف یہ کہ رہا کردو بلکہ محفوظ مقام پر پہنچا بھی دو؟؟

اس لیۓ جب کوٸی شخص قرآن کی کسی آیت کا حوالہ دے تو اسکے آیت کے سیاق و سباق کو دیکھ لینا چاہیۓ___

وہ پہلا دن تھا جب کسی مشرک نے روحان جبیل کے سامنے کلمہ پڑھا تھا۔۔ روحان کا رواں رواں خدا کا مشکور تھا___اسے آج سے پہلے اتنا سکون کبھی محسوس نہيں ہوا تھا جتنا آج ہوا تھا۔۔

اسے کیسی کیسی نعمتوں سے نواز دیا گیا تھا وہ حیران تھا___
____________________

ایلف کے گھر پوری کلاس جمع تھی۔وہ یہ جان کر حیران رہ گٸی تھی کہ روحان اور وہ دونوں ایک ہی لاٸن میں رہتے تھے۔
پوری پارٹی کے دوران ایلف کی نظریں روحان پر جمی رہی تھیں۔۔ وہ اسےجتنا باہر سے پرسکون نظر آتا تھا اندر سے اتنا ہی بےچین اور اداس لگتاتھا۔۔
وہ اسکی اداسی کی وجہ نہيں جانتی تھی لیکن جاننا چاہتی تھی۔
وہ روحان کے پاس جانا چاہتی تھی جو الگ تھلگ بیٹھا تھا۔ لیکن اس سے پہلے ہی ایمی اسکے پاس چلی گٸی۔۔
ایمی کو روحان کے ساتھ دیکھ کر ایلف کے چہرے پر ناگواری ابھری۔۔

”اکیلے بیٹھے ہو؟؟“

”جی۔۔۔ اچھا لگتا ہے اکیلے بیٹھنا“

”مجھے لگتا تھا کہ صرف میں ہی تم سے متاثر ہوں لیکن اب لگ رہا ہے کہ یونيورسٹی کی ملکہ روحان جبیل کی ذات کا شکار ہوچکی ہے۔۔“
ایمی نے ایلف کو دیکھتے ہوٸے کہا تھا۔
روحان چونکا تھا۔

”ایسی بات نہيں وہ سیدھا ہو کر بیٹھا“

”ایمی کی چھٹی حس بہت تیز مسٹر جبیل۔۔ میں جو کہتی ہوں وہ سچ ہوتا ہے۔۔ اور دیکھ لینا ایک دن تم بھی ایلف کے آگے سرنگوں ہوجاٶ گے۔۔“
ایمی نے ہوا میں تیز چلایا تھا۔۔ روحان اسکی بےوقوفی کی باتیں سن کر بس مسکرادیا تھا۔

___________________________

پوری پارٹی میں روحان سے بات کرنے کا موقع نہيں ملا تھا۔۔ اب وہ اسے باہر تک چھوڑنے آٸی تھی۔
لاٸن کے آخر پر روحان کا گھر تھا۔

”بہت بہت شکریہ مسٹر آرجے کہ تم میرے بلانے پر آٸے ہو۔۔“

”شکریہ کی بات نہيں۔۔ جب پارٹی کلاس کیلیۓ تھی تو مجھے آنا چاہیۓ تھا۔۔“

”تم نے شراب کو نہيں چھوا۔۔ یقيناً تمہارے مذہب میں حرام ہوگی۔۔ لیکن یہ بتاٶ تم اپنی جینز کو ٹخنوں سے اوپر کیوں رکھتے ہو۔۔؟؟“
ایلف نے عجیب سا سوال کیا تھا۔ اس نے ہمیشہ روحان کو پینٹ ٹخنوں سے اوپر فولڈ کیۓ ہوٸے پہنے دیکھا تھا۔

”اووہ یہ۔۔ اسلام میں مردوں کو چاہے شلوار ہو یا پینٹ ٹخنوں سے اوپر رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔۔!!“
روحان نے اپنے پاٶں کی جانب دیکھتے ہوٸے جواب دیا تھا۔

”لیکن اب تو سردی بڑھ رہی ہے۔۔ ٹھنڈ نہيں لگے گی؟؟“

”تو موزے پہن لونگا۔۔“
وہ مسکرادیا تھا۔

”تمہيں اپنا مذہب اتنا عزیز ہے۔۔؟“

”اس سے بھی زیادہ۔۔“
وہ مسکرادیا تھا۔ اور ایلف نے اسکی مسکراہٹ کے سامنے خود کو بےبس پایا تھا۔

”ایک شہزادہ ہے سرد مزاج سا کہانی میں
ایک شہزادی ہے جو دل سے اس پر مرتی ہے“
___________________________

”سائنس“ اور ”فلاسفی آف سائنس“ میں فرق__

”ملحدوں اور دہریوں کے مکر وفریب میں یہ سب سے بڑا مکر ہے جو یہ لوگ سادہ لوح انسانوں کا ایمان بگاڑنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ لوگ “فلاسفی آف سائنس” کو “سائنس” بنا کر پیش کرتے ہیں۔ یہ “لوہے” کو “سونے” میں ملا کر سونے کا تاثر دے کر بیچتے ہیں۔

“سائنس” اور چیز ہے اور “فلاسفی آف سائنس” اور چیز ہے۔ پیور سائنس نہ تو خدا کا انکار کرتی ہے اور نہ ہی اثبات۔ البتہ خدا کے اثبات کی ایک علامت ضرور ہو سکتی ہے۔ اس لیے “پیور سائنٹسٹ” کبھی بھی دہریہ نہیں ہو گا بلکہ یا تو خدا کا اثبات کرے گا جیسا کہ اکثر کا معاملہ ہے، یا پھر عاجزی کا اظہار کرے گا کہ مجھے نہیں معلوم، یا یہ سائنس کی ڈومین نہیں ہے۔

اس کے برعکس “فلاسفی آف سائنس” نرا الحاد ہے، جو سائنس کے نام سے پڑھا پڑھایا جا رہا ہے۔ “فزکس” کہ جس کا لیبارٹری میں اثبات کیا جاتا ہے، وہ پیور سائنس کا ڈومین ہے اور “نظریاتی فزکس” کے اکثر مباحث “ظن وتخمین” سے زیادہ کچھ نہیں ہیں۔

“نظریاتی سائنس” میں جو کچھ پیش کیا جا رہا ہے، وہ سائنس کا مذہبی ورژن ہے، وہ سائنس فکشن ہے، جسے ماننے کے لیے سائنسدانوں پر اس سے زیادہ ایمان لانا پڑتا ہے کہ جتنا کسی نبی اور رسول پر ایمان لانے کا مطالبہ ہے۔۔۔

اس لیۓ ملحدوں سے گزارش ہے کہ اپنی فلاسفی آف ساٸنس کو اپنے پاس سنبھال کر رکھیں۔۔ اسے ساٸنس بنا کر پیش کرنے کی ضرورت نہيں ہے__“

اسکی جلسے میں کی گٸی تقریر نے آگ لگادی تھی۔ یونيورسٹی کے سٹوڈنٹس دھڑا دھڑ النور جواٸن کر رہے تھے۔۔
لوگ سچ کی تلاش میں نکل پڑے تھے___
کچھ ملحد اپنے سوالوں الجھ کر رہ گٸے تھے__وہ لوگوں کو انکے طریقے سے ڈیل کر رہا تھا___

اسکے پاس ساٸنس سے متعلق جواب ہوتا تھا۔۔
سٹوڈنٹس نے اپنے مذہب کا مطالعہ کرنے کے بعد اسلام کا مطالعہ شروع کردیا تھا۔۔
اور وہ حیران رہ گٸے تھے جب انہوں نے اسے ہر چیز سے آگے پایا تھا___

______________________

”تم کہتے ہو کہ خدا سے زیادہ علم کسی کے پاس نہيں۔۔ تو آج میں تمہيں بتاتا ہوں کہ ساٸنس کس طرح خدا کو پیچھے چھوڑ رہی ہے___“

جیسے ہی وہ ڈیپارٹمنٹ میں داخل ہوا اسے چیمبر والا لڑکا مل گیا تھا جو ملحد تھا جس سے بحث ہوٸی تھی۔

” قرآن کریم کہتا ہے کہ کسی ماں کے رحم میں موجود بچے کی جنس صرف اللہ ہی کو معلوم ہوتی ہے۔ لیکن اب سائنس ترقی کرچکی ہے اور ہم بآسانی الٹرا سونو گرافی کے ذریعے سے جنین کی جنس کا تعین کرسکتے ہیں۔ کیا یہ آیت قرآنی میڈیکل سائنس سے متصادم نہیں؟؟“

روحان نے سنجيدگی سے اسکا سوال سنا تھا۔
اور پھر بولنا شروع کیا۔

”بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ قرآن کریم کا یہ دعوٰی ہے کہ صرف اللہ ہی رحم مادر میں جنین کی جنس کو جانتا ہے، اس سلسلے میں قرآن مجید کہتا ہے:

إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأرْحَامِ و (٣٤)

“بے شک قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے اور وہی بارش نازل کرتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ جو کچھ ماؤں کے پیٹوں میں ہے۔ “

( سورۃ لقمان 31 آیات 34)

اس طرح کا ایک پیغام مندرجہ ذیل آیت میں دیا گیا ہے:

اللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنْثَى وَمَا تَغِيضُ الأرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِمِقْدَارٍ (٨)

” اللہ ہی جانتا ہے جو کچھ ہر مادہ پیٹ میں اٹھائے پھرتی ہے۔ اور ارحام کی کمی بیشی بھی، اور اس کے ہاں ہر چیز کی مقدار ( مقرر ) ہے۔

( سورۃ الرعد 13 آیت 8)

الٹرا سونو گرافی سے جنس کا تعین :

موجودہ سائنس ترقی کرچکی ہے اور ہم الٹرا سونو گرافی (Ultrasonography) کی مدد سے حاملہ خاتون کے رحم میں بچے کی جنس کا تعین بآسانی کرسکتے ہیں۔

قرآن اور جنین کی جنس :

یہ درست ہے کہ قرآن مجید کی اس آیت کے متعدد تراجم اور تشریحات میں یہ کہا گیا ہے کہ صرف اللہ ہی یہ جانتا ہے کہ رحم مادر میں موجود بچے کی جنس کیا ہے۔ لیکن اگر آپ اس آیت کا عربی متن پڑھیں تو آپ دیکھیں گے کہ انگریزی کے لفظ جنس (Sex) کا کوئی متبادل عربی لفظ استعمال نہیں ہوا۔ درحقیقت قرآن کریم جو کچھ کہتا ہے ، وہ یہ ہے کہ ارحام میں کیا ہے، اس کا علم صرف اللہ کو ہے۔ بہت سے مفسرین کو غلط فہمی ہوئی اور انہوں نے اس سے یہ مطلب لیا کہ اللہ ہی رحم مادر میں بچے کی جنس سے واقف ہے۔ یہ درست نہیں،

یہ آیت جنین کی جنس کی طرف اشارہ نہیں کرتی بلکہ اس کا اشارہ اس طرف ہے کہ رحم مادر میں موجود بچے کی فطرت کیسی ہوگی۔ کیا وہ اپنے ماں باپ کیلئے بابرکت اور با سعادت ہوگا یا باعث زحمت ہوگا؟
کیا وہ معاشرے کے لیے باعث رحمت ہوگا یا باعث عذاب؟ کیا وہ نیک ہوگا یا بد؟
کیا وہ جنت میں جائے گا یا جہنم میں ؟
ان تمام باتوں کا مکمل علم صرف اللہ ہی کے پاس ہے، دنیا کا کائی سائنس دان، خواہ اس کے پاس کیسے ہی ترقی کے آلات کیوں نہ ہوں، رحم مادر میں موجود بچے کے بارے میں کبھی ان باتوں کا صحیح جواب نہیں دے سکے گا۔۔“

روحان کو بولتے دیکھ کر بہت سے سٹوڈنٹس انکے گرد جمع ہوگٸے تھے۔۔ انہيں روحان کو سننا اچھا لگتا تھا___

”ابتدائی مراحل میں جب نطفہ اور علقہ رحم مادر میں ہوتا ہے تو کوئی سائنسدان بھی اس کا تعین نہیں کرسکتا کہ اس کی جنس کیا ہے۔ پھر آلات کے ذریعے سے معلوم کرنا تو ایسے ہی ہے جیسے کوئی آپریشن کرکے کہے کہ مجھے اس کی جنس معلوم ہوگئی ہے، حالانکہ یہ اسباب کے بغیر معلوم کرنے کی نفی ہے۔ اور ایسے واقعات بھی سننے میں آئے ہیں کہ ڈاکٹر کی رپورٹ کے خلاف نتیجہ نکلا ہے، یعنی ڈاکٹری رپورٹ حتمی اور یقینی نہیں۔۔

امید ہے آپ سمجھ گٸے ہونگے۔۔ راستہ دیجیۓ میری کلاس کا وقت ہو رہا ہے۔۔“

وہ ایکسکیوز کرتا سٹوڈنٹس کے ہجوم سے نکلتا چلا گیا تھا۔

”تم اسکا مقابلہ نہيں کر سکتے ایڈیٹ۔۔“
ایمی جانے کہاں سے وارد ہوٸی تھی اور اس لڑکے کو کندھے زور دار ٹکر مارنے کے بعد روحان کے پیچھے بھاگی تھی۔
سٹوڈنٹس میں ایک بار پھر ہلچل سی مچ گٸی تھی۔
_________________________

تجھ سے جودھیان کا تعلق ہے
‏پکے ایمان کا تعلق ہے
‏میری چپ کا تیری خاموشی سے
‏روح اور جان کا تعلق ہے
‏تُو سمجھتا ھے میرے لہجے کو
‏اور یہ مان کا تعلق ہے
‏تجھ سے میرے خیال کا رشتہ
‏یعنی وجدان کا تعلق ہے
‏تُو رہتا ھے دل میں یوں جیسے
‏گھر سے سامان کاتعلق ہے__

روحان نے اپنے آپکو بہت مصروف کرلیا تھا۔۔ صبح ڈیپارٹمنٹ پھر النور اور پھر لیب۔۔ وہ سارا دن مصروف رہتا تھا۔۔ لیکن ایک بھی پل ایسا نہيں تھا جب اسے حانم کا خیال نہيں آتا تھا۔۔۔

وہ تھک ہار کر رات کو جب سونے لیٹتا تھا تو آنکهوں کے پردے پر چھم سے اتر آتی تھی۔۔۔ کبھی کبھی وہ بہت اداس ہوجاتا تھا۔۔ اور کبھی کبھی اسکو سوچنا اچھا لگتا تھا___

ابھی وہ بھی اسی کے خیالوں میں گم تھا جب دروازے پر ہونے والی دستک نے اسکی تنہائی میں خلل ڈالا۔

روحان نے آنکهيں کھولیں تو سبیل کھڑا تھا۔

”پورے لندن کو ہلانے کے بعد محبت کا دیوتا ادھر آرام فرما رہا ہے__کمال ہے۔۔“
سبیل نے اسے چھیڑا تھا۔

”آجاٶ اندر۔۔“
روحان کے بلانے پر وہ اندر آیا تھا۔

”سارا دن کہاں غاٸب ہوتے ہو نظر ہی نہيں آتے۔۔؟؟“
سبیل پوچھ رہا تھا۔

”ادھر ہی ہوتا ہوں۔۔“
روحان نے مسکرا کر جواب دیا تھا۔

”میں تمہيں سمجھانے آیا ہوں تم بہت تیز جا رہے ہو شہزادے___اپنی رفتار تھوڑی آہستہ کرو__ یہ لندن ہے__!!“
سبیل نے سنجیدہ لہجے میں کہا تھا۔ جبکہ روحان اسکی بات سن کر چونکا تھا۔


#جاری

جن لوگوں کو لگ رہا ہے یہ پہر تھوڑا لمبا ہوگیا ہے وہ تھوڑا اور انتظار کرلیں ایک اور قسط تک یہ پہر ختم ہوجاٸے گا۔۔ اور پھر آپ لوگ حانم،ماہی حشام۔۔ سب سے ملیں گے۔۔ اور جن لوگوں کو یہ لگ رہا ہے ناول ہی بہت لمبا ہوگیا ہے۔۔ وہ بھی تھوڑا صبر رکھیں۔۔ یہ چھٹا پہر چل رہا ہے۔۔ کہانی کا بس ایک پہر رہ گیا ہے۔۔ پھر ناول ختم ہوجاٸے گا ان شاء اللہ۔۔ شاید پھر آپ لوگ سلفاٸیٹ کو Miss کرینگے😊

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: