Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 49

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 49

–**–**–

(زندگی کے سات پہروں کی کہانی)

میں تمہيں سمجھانے آیا ہوں تم بہت تیز جا رہے ہو شہزادے___اپنی رفتار تھوڑی آہستہ کرو__ یہ لندن ہے__!!“
سبیل نے سنجیدہ لہجے میں کہا تھا۔ جبکہ روحان اسکی بات سن کر چونکا تھا۔

”کیا کہنا چاہتے ہو صاف صاف کہو“
روحان بھی سنجيدہ ہوچکا تھا۔

”مجھے لگتا تھا شاید تم جانتے ہو۔۔ خیر تمہیں ہر چیز پر نظر رکھنی چاہیۓ اور مذہبی کمیونٹیوں سے دور رہنا چاہیۓ___!!

”لیکن کیوں۔۔؟؟“
وہ پوچھ رہا تھا۔

”تمہاری مذہب کے متعلق کی گٸی تقریر نے لوگوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔۔ بہت سی یہودی اور عیساٸی مذہبی کمیونٹیاں ایکٹو ہوچکی ہیں___ تم انکی نظروں میں آگٸے ہو۔“

”لیکن میں نے کچھ غلط نہيں کیا۔۔ جو کیا ٹھیک کیا۔۔“

”دیکھو روحان میں تمہيں سمجھانا چاہتا ہوں۔۔یہ پاکستان نہيں ہے اور نا ہی ایک اسلامی ریاست ہے۔۔ تمہاری وجہ سے بہت سے سٹوڈنٹس اور بہت سے لوگ اپنے عقیدے سے ہٹ رہے ہیں لوگ اسلام کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔۔“

”تو اس میں غلط کیا ہے؟؟“
روحان کے لہجے میں الجھن تھی۔

”اگر تم ایک غیر اسلامی ریاست میں آکر وہاں کے لوگوں کو اسلام کی طرف راغب کرو گے۔۔ اور انکے مذہبی عقیدے کو کمزور ثابت کرو گے تو حکومت تمہيں غلط ہی سمجھے گی__!!
سبیل اسے سمجهانا چاہتا تھا۔

”میں اسلام کی طرف راغب نہيں کر رہا کسی کو۔۔ میں اس قابل نہيں ہوں کہ اسلام کی تبليغ کرسکوں۔۔ میں بس لوگوں کی الجھنیں دور کر رہا ہوں۔۔ لوگ خود سچاٸی کی تلاش میں نکل پڑے ہیں۔۔۔
اور ویسے بھی ڈاکٹر باسط عرصہ دراز سے یہ کام کر رہے ہیں انہيں تو کبھی کسی نے کچھ نہيں کہا۔۔ تو پھر میں کیوں؟؟“

”کیونکہ تمہارا تعلق یونيورسٹی سے ہے۔۔ تمہيں نوجوان طبقہ فالو کر رہا ہے۔۔ یہاں کی مذہبی کمیونٹیوں کو لگ رہا ہے کہ تم انکی نوجوان نسل کو گمراہ کر رہے ہو۔۔ جو نوجوان اسلام قبول کر رہے ہیں وہ اس ملک کا مستقبل ہیں۔۔ اگر ایسا چلتا رہا تو یقيناً دوسرے مذاہب کو بہت نقصان ہوگا۔۔!!“

”تو تمہيں لگتا ہے میں یہ سب غلط کر رہا ہوں۔۔؟؟“
روحان جانچتی نظروں سے اسے دیکھتے ہوٸے پوچھ رہا تھا۔

”ہاں۔۔۔ شاید۔۔ تم یہاں جس کام کیلیۓ آٸے وہ کرو اور واپس جاٶ“
کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد سبیل نے جواب دیا تھا۔
اسکا جواب سن کر روحان نے ایک سرد آہ بھری تھی۔ اسے سبیل کی سوچ پر افسوس ہو رہا تھا۔

”ٹھیک ہے میں چیمبر جانا چھوڑ دونگا۔۔“
روحان سمجھ گیا تھا۔۔ وہ یونيورسٹی کو اب صرف اپنی پڑھاٸی کیلیۓ رکھنا چاہتا تھا۔

”اور وہ ایلف آسکر۔۔ تم جانتے ہو وہ کون ہے۔۔ یہاں کہ میٸر کی بیٹی ہے۔۔ اگر اسکے باپ کو بھنک بھی پڑی نا کہ تم اس میں دلچسپی لیتے ہو یا وہ لیتی ہے تو یقيناً وہ تمہيں یونيورسٹی کے ساتھ ساتھ لندن سے بھی نکلوادے گا۔۔“
سبیل اسے تنبیہہ کر رہا تھا۔

”پہلی بات تو یہ کہ مجھے ایلف میں کوٸی دلچسپی نہيں ہے۔۔ اور دوسری بات یہ کہ میں کسی سے نہيں ڈرتا۔۔!!“
روحان نے دوٹوک جواب دیا تھا۔

”جانتا ہوں۔۔۔ تم ڈرتے نہيں ہو۔۔۔ یہی تو سارا مسٸلہ ہے۔۔ اور یہی میں تمہيں سمجھانے آیا ہوں کہ تھوڑا خوف رکھو۔۔ یہاں کا مذہبی مافیا بھی بہت مضبوط ہے۔۔۔ کب کیا کردیں کچھ پتا نہيں چلتا۔۔“
سبیل ٹھیک کہہ رہا تھا۔۔ روحان اسکی بات سمجھ رہا تھا لیکن کسی کے ڈر سے وہ اپنے مقصد سے پیچھے نہيں ہٹ سکتا تھا۔۔ اسے النور سنبهالنا تھا۔۔
اور ابھی تو وہ النور کا Head بھی نہيں بنا تھا۔۔ابھی تو وہ صرف ایک سٹوڈنٹ تھا۔ لوگ پہلے ہی ڈر گٸے تھے۔

”دیکھو روحان میں چاہتا ہوں کہ تم خوش رہو۔۔ تمہاری زندگی میں کبھی کوٸی مسٸلہ نہ ہو۔۔ اور ایسا تبھی ہوگا جب تم لوگوں کی نظر میں نہيں آٶ گے۔۔“
سبیل اسکا خیروخواہ تھا۔

”میں آٸندہ احتياط کرونگا۔۔“
روحان اسکی بات سمجھتے ہوٸے مسکرادیا تھا۔

”اچھی بات ہے۔۔ مجھے تم سے سمجھداری کی امید تھی__!!“
سبیل کے تنے ہوٸے اعصاب ڈھیلے پڑے تھے۔

______________________

اگلے دن روحان یونيورسٹی گیا تو عجیب ہی سماں تھا۔ سٹوڈنٹس کا ہجوم اسکی طرف لپکا تھا۔

”روحان تم فکر مت کرنا ہم سب تمہارے ساتھ ہیں۔۔“
ایمی پرعزم تھی۔

”کیا ہوا۔۔؟؟“
روحان نے حیرت سے پوچھا۔

”کیا تمہيں نہيں پتا۔۔؟؟“
ایمی چونکی۔

”ہم ایسا نہيں ہونے دینگے۔۔ یہ غلط ہے۔۔“
ایک اور لڑکا روحان کی طرف بڑھا تھا۔ لیکن وہ حیرت سے انہيں دیکھ رہا تھا۔

”یہ سب کیا ہو رہا تھا۔۔ اور سب لوگ یہاں کیوں جمع ہیں۔۔؟؟“
سٹوڈنٹس کا ہجوم ڈیپارٹمنٹ کے گیٹ پر موجود تھا۔

”شاید تمہارے علم نہيں ہے۔۔ ڈیپارٹمنٹ والوں نے تمہيں دس دن کیلیۓ یونيورسٹی سے معطل کردیا ہے۔۔“
ایمی نے گویا دھماکہ کیا تھا۔

”لیکن کیوں۔۔“
روحان کے چہرے پر الجھن تھی۔

”انکا کہنا ہے کہ تم نے چیمبر میں اپنے مذہب کی تبليغ کی ہو سراسر قوانين کے خلاف ہے۔۔“
ایمی نے بتایا۔

”لیکن میں نے ایسا کچھ نہيں کیا۔۔ میں نے تو بس کچھ سوالوں کے جواب دیے تھے۔۔ اور سر ایلبس جانتے ہیں وہ تبليغ میں نہيں آتا۔۔“
روحان کو حیرت ہو رہی تھی دو دن کے اندر کیا سے کیا ہوگیا تھا۔

”روحان تمہيں پروفيسر ایلبس نے بلایا ہے۔۔ لیکن تم پریشان مت ہونا۔۔ ہم سب تمہارے ساتھ ہیں۔۔!!“
ایلف سنجيدہ سی انکی طرف بڑھی تھی۔

”تم سب لوگ کلاس میں جاٶ۔۔ میں پروفيسر سے بات کرتا ہوں۔۔ اور یہ میرا مسٸلہ ہے۔۔ میں خود سنبهال لوں گا۔۔ تم لوگ یونيورسٹی کا ماحول مت خراب کرو۔۔“
روحان نے سٹوڈنٹس کو سمجھایا تھا۔ وہ انہیں وہاں چھوڑ کر پروفيسر ایلبس کے جو کہ چیمبر کے صدر تھے انکے آفس کی طرف بڑھا تھا۔

__________________________

”کیا میں وجہ جان سکتا ہوں کہ میرے ساتھ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے؟؟“

”تم نے قوانين کی خلاف ورزی کی ہے۔۔“
پروفيسر ایلبس سپاٹ لہجہ لیۓ کہہ رہے تھے۔

”لیکن پروفيسر آپ اچھے سے جانتے ہیں میں نے بس کچھ سوالوں کے ساٸنسی حوالے سے جواب دیے تھے۔۔ میں تبليغ کرنے نہيں آیا یہاں۔۔ اور اگر ایسا تھا تو آپ مجھے پہلے دن کہہ سکتے تھے نا کہ میں آٸندہ مذہب پر بات نا کروں۔۔“
روحان ٹھیک کہہ رہا تھا۔

”تمہيں پتا ہونا چاہیۓ تھا۔۔۔ لیکن اب کچھ نہيں ہو سکتا۔۔ تم نے قوانين توڑے ہیں۔۔ اور اب بھی تم دیکھ رہے ہو تمہاری وجہ سے یہاں کا ماحول کتنا خراب ہو چکا ہے۔۔ سٹوڈنٹس باغی ہو رہے ہیں__!!
یہ پروفیسر نہيں تھے جو چیمبر میں پاٸے جاتے تھے۔

”میں معذرت کرتا ہوں پروفیسر باہر جو ہو رہا ہے مجھے قطعاً اسکا علم نہيں تھا۔۔ مجھے ابھی پتا چلا اور شاید آپ لوگ ایک خود ایک قانون توڑ رہے ہیں۔۔
آپ جانتے ہیں کسی بھی سٹوڈنٹ کو معطل کرنے سے پہلے اسے وارن کیا جاتا ہے۔۔ لیکن مجھے خبردار نہيں کیا گیا۔۔ مجھے کسی نے کچھ نہيں بتایا۔۔“
روحان بری طرح سے سنجيدہ ہوچکا تھا۔

”مسٹر چارلس کا کہنا ہے کہ انہوں نے تمہيں وارن کیا تھا۔۔ لیکن تم نے انکی بات نہيں سنی۔۔“

”یہ سراسر جھوٹ ہے پروفيسر۔۔ ایسا کچھ نہيں ہوا۔۔“

”ویل۔۔ سچ جھوٹ کا فیصلہ میں نہيں کر سکتا۔۔ اب فیصلہ ہو چکا ہے۔۔ تمہيں اسکا احترام کرنا ہوگا۔۔“
انکی بات سن کر روحان کو انتہا کا غصہ آیا تھا۔ لیکن وہ خود پر ضبط کرگیا تھا۔
سبیل ٹھیک کہہ رہا تھا۔۔ یہاں جو ہو رہا تھا سمجھ سے باہر تھا۔۔
روحان کو حیرت ہو رہی تھی کسی نے اس سے کوٸی بات نہيں کی تھی۔۔
وہ خاموشی سے آفس سے باہر نکل آیا تھا۔ وہ کوٸی بدمزگی نہيں چاہتا تھا۔

کچھ نا کچھ تو ایسا ضرور چل رہا تھا جس سے وہ بےخبر تھا۔

___________________________

روحان بہت مشکل سے سٹوڈنٹس کو سمجھا بجھا کر یونيورسٹی سے واپس آگیا تھا۔
سٹوڈنٹس اس زیادتی کے خلاف تھے جو ڈیپارٹمنٹ والوں نے روحان کے ساتھ کی تھی۔۔ لیکن روحان نہيں چاہتا تھا کہ سٹوڈنٹس ڈیپارٹمنٹ کے خلاف کھڑے ہوں۔

ایمی چاہتی تھی کہ ڈیپارٹمنٹ والوں کے خلاف یونيورسٹی کی Justice CORT FOR STUDENts میں کیس درج کروایا جاٸے۔۔
لیکن وہ منع کر آیا تھا۔ اسکے ساتھ جو ہوا تھا اسے سمجھنے کیلیۓ روحان کو کچھ وقت چاہیۓ تھا۔۔
وہ سوچنا چاہتا تھا۔۔ اور ایسا تب ہوتا جب اسکا دماغ ٹھنڈا ہوتا۔۔ اسی لیۓ وہ یونيورسٹی سے نکل آیا تھا۔
اور اب اسکا رخ النور کی طرف تھا۔

_________________________

النور میں ماہانہ ہونے والا جلسہ منقعد تھا۔۔ اور روحان سب سے آگے تھا۔۔ وہ اسے نہيں چھوڑ سکتا تھا___

”میرا آپ سے سوال یہ ہے کہ میں قرآن کو انگریزی میں پڑھا ہے۔۔ قرآن میں کہیں بھی نہيں لکھا ہے کہ گانا بجانا اور موسيقی حرام ہے۔۔ پھر اسلام میں حرام کیوں ہے___؟؟“
سوال ایسا تھا جس نے روحان کو اندر تک چیر کر رکھ دیا تھا۔۔ وہ خود زندگی کے باٸیس سے چوبیس سال تک اس چیز سے منسلک رہا تھا۔ ایک ہی پل میں ماضی کی پوری فلم اسکے ذہن میں گھوم گٸی تھی۔

”آپ نے درست کہا۔۔ قرآن پاک میں موسيقی کے متلعق کوٸی آیت نہيں ہے البتہ اللہ ایک جگہ پر فرماتے ہیں کہ،

”وَمِنَ النّاسِ مَن يَشتَر‌ى لَهوَ الحَديثِ لِيُضِلَّ عَن سَبيلِ اللَّهِ بِغَيرِ‌ عِلمٍ وَيَتَّخِذَها هُزُوًا ۚ أُولـٰئِكَ لَهُم عَذابٌ مُهينٌ﴾…… سورة القمان“
ترجمہ،
”لوگوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو لغو باتوں کو مول لیتے ہیں تاکہ بے علمی کے ساتھ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکائیں اور اسے مذاق بنائیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے رسوا کن عذاب ہے“

جمہور صحابہ وتابعین اور عام مفسرین کے نزدیک لہو الحدیث عام ہے جس سے مراد گانا بجانا اور اس کا ساز وسامان ہے او ر سازو سامان، موسیقی کے آلات او رہر وہ چیزجو انسان کو خیر او ربھلائی سے غافل کر دے اور اللہ کی عبادت سے دور کردے۔ اس میں ان بدبختوں کا ذکر ہے جو کلام اللہ سننے سے اِعراض کرتے ہیں اور سازو موسیقی ، نغمہ وسرور اور گانے وغیرہ خوب شوق سے سنتے اور ان میں دلچسپی لیتے ہیں۔ خریدنے سے مراد بھی یہی ہے کہ آلات ِطرب وشوق سے اپنے گھروں میں لاتے ہیں اور پھر ان سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

اسی طرح اسلام میں قرآن کے ساتھ ساتھ حدیث کو بھی بڑا درجہ حاصل رہا ہے۔۔
رسول پاک ﷺ فرمایا ” ہر وہ چیز جو انسانی دماغ کے نارمل تسلسل میں خلل پیدا کرے وہ حرام ہے“

اب ان چیزوں میں شراب، موسيقی، گانا بجانا، ایسے قصہ و واقعات جو انسانی ذہن کو غلط سمت میں بھٹکاٸیں اور اسکے ساتھ ساتھ ایسا ادب یا ناول۔۔ جو فحاشی و بےحیاٸی سے بھر پور ہوں سب شامل ہیں۔۔

”لیکن ان سب چیزوں کو حرام کیوں قرار دیا گیا ہے۔۔ وجہ کیا ہے؟؟“
وہ دوسرا سوال پوچھ رہا تھا۔

”ابھی میری بات پوری نہيں ہوٸی۔۔ اگر آپکو معلوم ہو تو آپ نے سنا ہوگا کہ اسلام دف(موسيقی کا آلہ) بجانے کی اجازت دی گٸی ہے۔ اور اس پر آپ وہ الفاظ گا سکتے ہیں جو لغو نہ ہوں۔۔

اور رہا آپکا سوال کہ منع کیوں گیا ہے۔۔ تو اسلام میں سب سے بڑا گناہ شرک ہے۔۔
جسکی معافی نہيں ہے۔
جب انسان ہیجان خیز موسيقی سنتا ہے۔۔ اور گاتا ہے تو اسکا دماغ نارمل تسلسل سے نہيں چلتا۔۔ اور ایسا ہی کچھ شراب پی ہو کر ہوتا ہے__

آپ نے آج کل کے گانوں پر غور کیا ہوگا۔۔ جن میں ایسے الفاظ استعمال ہوٸے ہیں جو قابل مذمت ہیں۔۔
کہیں پر محبوب کو خدا کہا جاتا ہے۔۔ اور کہیں پر اسے سجدہ کرنے کی بات کی جاتی ہے۔۔ جو کہ شرک ہے___
اس گناہ سے بچنے کیلیۓ ان چیزوں سے منع کیا گیا ہے۔ اللہ اپنے بندوں سے بہت پیار کرتا ہے۔۔ وہ نہيں چاہتا کہ اسکے بندے جذبات میں بہہ کر کوٸی ایسا گناہ کرے جسکی معافی نہ ہو___ یہ وجہ ہے منع کرنے کی۔“

”میں مسلمان ہوں اور میں ایک شاعر ہوں۔ جب سے میں دین کی طرف متوجہ ہوا ہوں میں نے فحش شاعری لکھنا بند کردی ہے۔۔ میری بیوی چاہتی ہے کہ میں اسکے لیۓ کچھ لکھوں اور گنگناٶں۔۔۔ کیا ایسا کرنا گناہ ہوگا۔؟؟“
ایک شخص نے سوال کیا تھا۔
روحان نے غور سے اسکی بات سنی تھی۔

”پہلی بات تو یہ کہ دف بجانے کی اجازت دی گٸی ہے۔۔۔ لیکن ہیجان خیز موسيقی اور لغو باتوں سے منع کیا گیا ہے۔۔ بیوی کو خوش رکھنا آپکا فرض ہے۔۔۔ آپ انکے لیۓ کچھ لکھ سکتے ہیں لیکن خیال رہے وہ شرک کے زمرے میں نا آتا ہو۔۔۔۔
آپ انہيں گنگنا کر سنا سکتے ہیں لیکن خیال رہے آپکی آواز کوٸی اور عورت نا سنے جو نامحرم ہو اور پھر آپکی طرف ماٸل ہو___
اسلام نے کچھ حدود طے کی ہیں آپ ان سے باہر نا نکلیں۔۔۔باقی آپ اپنی بیوی کو خوش رکھنے کیلیۓ ہر جاٸز کام کر سکتے ہیں__“

وہ خود کتنے دنوں تک تڑپتا رہا تھا جب وہ اپنے گانوں کو مختلف چینلز پر چلتے دیکھتا تھا۔ اس نے سرچ کرکے ہر وہ چینل ہر وہ ساٸٹ نکالی تھی جہاں اسکے گانے موجود تھے۔
حشام کی مدد لے کر چینل والوں سے بات کرکے اس نے اپنے گانے بند کرواٸے تھے۔
بہت کچھ وہ خود ختم کرچکا تھا۔ لیکن پھر بھی یہ خیال اسے سکون نہيں لینے دیتا تھا کہ لوگ خاص طور پر لڑکياں اسکی آواز کی دیوانی تھیں____
عرصہ پہلے اس نے یہ گناہ چھوڑ دیا تھا۔ اگر وہ کچھ گنگناتا تھا تو بھی اکیلے میں اور اس لڑکی کیلیۓ جو موجود نہيں تھی لیکن کبھی اس نے کوٸی غلط خیال اپنے ذہن میں آنے نہيں دیا تھا جس سے وہ گناہ گار کہلاتا___

_________________________

شام نے شہر میں اپنے خوبصورت پر پھیلاٸے تھے۔ موسم اچانک ہی ابرآلود ہوا تھا__
بادلوں کی گرج و چمک کی آواز سے ایلف کا سکتہ ٹوٹا تھا۔
وہ اسلامی چینل پر چلنے والی روحان کی ویڈیو دیکھ رہی تھی جو کل کی تھی۔
یونيورسٹی میں اسکی کمی کو شدت سے محسوس کیا جا رہا تھا___ تمام سٹوڈنٹس اسکے ساتھ ہوٸی ناانصافی پر غصہ تھے۔ وہ خود اسے ہر جگہ محسوس کرتی تھی___

اچانک وہ چونکی تھی اور لپک کر اپنے کمرے کی کھڑکی کی طرف بڑھی جو باہر سڑک کی جانب کھلتی تھی__
انکی لاٸن میں دونوں طرف گھر تھے اور درميان میں گلی تھی جو صرف نام کی گلی تھی لیکن حقيقی طور پر وہ ایک بہت کشادہ سڑک تھی۔ ہر گھر کے سامنے لان تھا جو چاروں طرف سے باڑ میں قید تھا۔

ایلف نے کھڑکی سے گردن باہر نکال کر لاٸن کے آخر میں موجود روحان کے گھر کی طرف دیکھا تھا۔
بارش نے آہستہ آہستہ لندن کو بھیگانا شروع کیا تھا۔
تھوڑی دیر بعد توقع کے عین مطابق اسے روحان آتا دکھاٸی دیا تھا۔
اس نے برساتی کوٹ پہن رکھا تھا۔ ایلف کو امید تھی وہ ضرور باہر آٸے گا___

اسکے ہاتھ میں ایک کاغذ تھا جسے وہ غور سے دیکھ رہا تھا۔۔
ایلف نہيں جانتی تھی وہ صرف کاغذ نہيں تھا روحان کیلیۓ سب کچھ تھا۔۔
وہ غور سے نکاح نامے کو دیکھ رہا تھا___سب ایک ڈرامہ ہی سہی لیکن اس ڈرامے نے حانم کو اس سے جوڑا تھا۔۔ اور اسے یہ جوڑ پسند آیا تھا۔

بارش تیز ہوٸی تو اس نے نکاح نامے کو تہہ کر کے اپنی جیکٹ کی اندر والی جیب میں ڈالا تھا۔۔ وہ اسکے دل کے بہت قریب تھا اب__
ایلف غور سے اسکی ہر حرکت کو نوٹ کر رہی تھی۔

ّمہرو یہ دیکھو یہاں بارش کتنی پیاری لگ رہی ہے۔۔“
حانم کی آواز اسکی سماعت سے ٹکراٸی تھی۔ روحان کرنٹ کھا کر پلٹا تھا۔۔
وہ اب ہنس رہی تھی اور بچوں کی طرح مہرو کے ساتھ کاغذ کی کشتیاں جن پر انکا نام لکھا ہوا تھا بنا کر پانی میں چھوڑ رہی تھی___

”حانم۔۔“
وہ اس آواز کے پیچھے بھاگا تھا۔ وہ مسکرا رہی تھی۔ روحان نے ایک بار پر خود کو فنا ہوتے محسوس کیا تھا۔

تھک ہار کر اس نے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھے تھے۔آواز آنا بند ہوگٸی تھی۔۔ البتہ بارش جاری تھی۔۔ جسکا حانم سے گہرا تعلق تھا۔

اس نے چہرہ اٹھا کر آسمان کو دیکھا تھا۔۔۔ بارش کی بوندیں اسکے چہرے پر گری تھیں۔

”بارشیں جب اچانک ہوٸیں
تو لگا تم شہر میں ہو___

وہ دھیمی آواز میں گنگنایاتھا۔

”رات بھر پھر وہ جب نا رکیں
تو لگا تم شہر میں ہو___

ایلف اسے غور سے دیکھ رہی تھی۔ وہ جانتی تھی وہ آرجے تھا۔۔ وہ یہ بھی جانتی تھی اسکے لب کچھ گنگنا رہے تھے۔۔ لیکن وہ نہيں جانتی تھی وہ کس کو یاد کرکے گنگنا رہا تھا__

”کہیں اک ساز ہے گونجی
تیری آواز ہے گونجی
میری خاموشیوں کو کردے
اب بیاں___
تیرے بن بےوجہ سب ہے
تو اگر ہے تو مطلب ہے
نہيں تو ٹوٹا سا ادھورا
کارواں______

وہ روحان کو بہت شدت سے یاد آٸی تھی۔۔ وہ اسے بھولنا بھی چاہتا تو ایسا ممکن نہيں تھا۔

”شام پھر خوبصورت ہوٸی
تو لگا تم شہر میں ہو
دور ہو کر بھی نظروں سے تم
ہر لمحہ ہر پہر میں ہو____

وہ اکیلا بھیگی سڑک پر۔۔ دھیمی آواز میں گنگناتا اسکی نظروں سے اوجھل ہوگیا تھا___
ایلف نے اسے دور تک جاتے دیکھا تھا۔۔
وہ گہری سانس لے کر کھڑکی سے ہٹ گٸی تھی۔ اسکے جانے کے بعد ایلف کو محسوس ہوا تھا کہ وہ خود بھی بھیگ چکی تھی۔

کتنی عجیب بات تھی۔۔ کبھی کبھی انسان کسی دوسرے میں اتنا مگن ہوجاتا ہے کہ اسے کچھ محسوس نہيں ہوتا___
یہ پاگل پن انسان سے عجیب و غریب کام کرواتا ہے۔۔ جیسے کچھ دیر پہلے روحان حانم کو سوچتے ہوٸے بارش میں بھیگ رہا تھا۔۔ ویسے ہی وہ خود اسے دیکھنے میں مگن ہو کر خود بھیگ چکی تھی۔

روحان جبیل، ایلف آسکر کیلیۓ ایک معمہ تھا___
وہ سمجھ نہيں پارہی تھی کہ آخر اسکے ساتھ ایسا کیا ہوا تھا کہ وہ آرجے سے روحان جبیل بنا___یہ وہ جاننا چاہتی تھی اور اسے امید تھی وہ ضرور جان لے گی۔

_______________________

وہ دریاٸے ٹیمز کے کنارے پر بیٹھا تھا جب ایلف اسے ڈھونڈتے وہاں پہنچی تھی۔

”مجھے امید تھی تم یہاں ملو گے۔۔“
وہ اسکے پاس بیٹھ چکی تھی۔

”ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ڈیپارٹمنٹ والوں نے کسی کو معطل کیا ہو اور سٹوڈنٹس پانچ دنوں کے اندر ہی اسے پوری یونيورسٹی کو ہلا کر اسے واپس لے آٸیں۔۔“
اسکی بات سن کر روحان چونکا تھا۔

”ہاں۔۔۔ تمہيں واپس بلایا گیا ہے۔۔ ایمی نے سٹوڈنٹس کی عدالت میں تمہارا کیس درج کیا تھا۔ جانچ پڑتال کے بعد انہيں پتا چلا کہ تم بےقصور ہو___“
ایلف نے اسے دیکھتے ہوٸے بتایا۔

”پروفیسر ایلبس تم سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ عدالت میں جو پروفيسرز بطور جج فیصلہ سناتے ہیں انہوں نے پروفيسر ایلبس کو بلا کر اچھی خاصی باتيں سناٸی ہیں___
اور میں حیران ہوں۔۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔؟؟“

”انکا کہنا ہے پروفيسر ایلبس نے بنا تحقيق کیۓ اپنا فیصلہ سنایا۔۔ انہيں ایسا نہيں کرنا چاہیۓ تھا__ اور پروفيسر جسٹن نے تمہاری گواہی دی ہے کہ تم نے ایسا کچھ غلط کام نہيں کیا___!!

آج تو ایلف اسے حیران کر رہی تھی۔

”اس میں پروفيسر ایلبس کا کوٸی قصور نہيں تھا۔۔“
روحان بولا تو ایلف نے حیرت سے اسے دیکھا۔

”فیصلہ انہوں نے سنایا تھا۔۔ جو کہ غلط تھا۔۔“

”کیا پتا انہيں اس کام کیلیۓ مجبور کیا گیا ہو۔۔“
روحان نے پراسرار لہجے میں کہا تھا جسے ایلف سمجھ نہيں پاٸی تھی۔

”خیر قصور کسی کا بھی ہو۔۔ میں خوش ہوں کہ تم بےقصور ہو۔۔ اور اب واپس آچکے ہو۔۔“
وہ مسکراٸی تھی۔ جبکہ روحان کا دماغ تیزی سے کام کر رہا تھا۔۔ وہ سوچ رہا تھا کہ یہ سب کیا ہو رہا تھا۔

”تم یونيورسٹی ہلانے آٸے ہو یا لندن فتح کرنے۔۔؟؟“
ایلف نے عجیب سے لہجے میں پوچھا تھا۔ اس سے پہلے روحان کوٸی جواب دیتا اس نے پھر سے بولنا شروع کیا۔

”میں آج تک دنیا میں بس ایک انسان سے متاثر ہوٸی تھی۔۔ میں اسکی بہت بڑی مداح تھی۔۔ الیگزینڈر___ جانتے ہو اسے۔۔ جو بیس سال کی عمر میں بادشاہ بنا تھا___ اور 33 سال کی عمر میں مرگیا۔۔
اس نے سترہ لاکھ مربع میل رقبہ فتح کیا تھا۔۔ دنیا نے اسے بادشاہوں کے بادشاہ سکندراعظم کا خطاب دیا تھا___
اور مجھے لگتا ہے کہ تم بنا کسی ہتھیار اور فوج کے دنیا فتح کرنے نکلے ہو۔۔
تم نے پورے لندن کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔۔۔ تم نے لوگوں کو چوکنے پر مجبور کردیا ہے____ کمال ہے۔۔“
ایلف واقعی حیران تھی۔

”تم نے صرف الیگزینڈر یعنی سکندراعظم کے بارے میں سنا ہے۔۔ لیکن ایک اور شخص ایسا گزرا ہے جو حقيقت میں بادشاوں کے بادشاہ کے خطاب کا حقدار تھا___ لیکن وہ مسلمان تھا شاید اس لیۓ دنیا نے اس پر غور نہيں کیا۔۔ اور اسی وجہ سے آج کی نوجوان نسل کو خاص تو غیر مسلم کو الیگزینڈر دی گریٹ تو یاد ہے لیکن وہ عظیم ہستی کا نہيں پتا۔۔۔

”کیا واقعی۔۔ کون تھا وہ۔۔؟؟“
ایلف حیرانی سے پوچھ رہی تھی۔

”حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ“
ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﺳﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮔﮭﮍﺳﻮﺍﺭﯼ ﺳﮑﮭﺎﺋﯽ، ﺍﺳﮯ ﺍﺭﺳﻄﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﺻﺤﺒﺖ ﻣﻠﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺑﯿﺲ
ﺳﺎﻝ ﮐﺎ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﺗﺨﺖ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺝ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ 7 ﭘﺸﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﺰﺭﺍ ﺗﮭﺎ، ﺍٓﭖ ﺑﮭﯿﮍ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻧﭧ ﭼﺮﺍﺗﮯ ﭼﺮﺍﺗﮯ ﺑﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﺑﺎﺯﯼ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﺍﻧﺪﺍﺯﯼ ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﺍﮐﯿﮉﻣﯽ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﯿﮑﮭﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﺳﮑﻨﺪﺭ ﺍﻋﻈﻢ ﻧﮯ ﺍٓﺭﮔﻨﺎﺋﺰﮈ ﺍٓﺭﻣﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ 10 ﺑﺮﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ 17 ﻻﮐﮫ ﻣﺮﺑﻊ ﻣﯿﻞ ﮐﺎ ﻋﻼﻗﮧ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ 10 ﺑﺮﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍٓﺭﮔﻨﺎﺋﺰﮈ ﺍٓﺭﻣﯽ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ 22 ﻻﮐﮫ ﻣﺮﺑﻊ ﻣﯿﻞ ﮐﺎ ﻋﻼﻗﮧ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﻡ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﮐﯽ ﺩﻭ ﺳﭙﺮ ﭘﺎﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﻣﻞ ﺗﮭﯿﮟ۔
ﺍٓﺝ ﮐﮯ ﺳﯿﭩﻼﺋﭧ، ﻣﯿﺰﺍﺋﻞ ﺍﻭﺭ ﺍٓﺑﺪﻭﺯﻭﮞ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﮍﯼ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﮔﮭﻮﮌﻭﮞ ﮐﯽ ﭘﯿﭩﮫ ﭘﺮ ﻓﺘﺢ ﮐﺮﺍﺋﯽ ﺗﮭﯽ، ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﻭ ﺍﻧﺼﺮﺍﻡ ﺑﮭﯽ ﭼﻼﯾﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﻧﮯ ﻓﺘﻮﺣﺎﺕ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﺟﺮﻧﯿﻞ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﺍﺋﮯ، ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﺟﺮﻧﯿﻠﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺟﻮﺍﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﮭﻮﮌﺍ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺑﻐﺎﻭﺗﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻓﻮﺝ ﻧﮯ ﺍٓﮔﮯ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺩﯾﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﮐﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﺳﮯ ﺳﺮﺗﺎﺑﯽ ﮐﯽ ﺟﺮﺍٔﺕ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ.
ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭﻧﮯ 17 ﻻﮐﮫ ﻣﺮﺑﻊ ﻣﯿﻞ ﮐﺎ ﻋﻼﻗﮧ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﻈﺎﻡ ، ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺴﭩﻢ ﻧﮧ ﺩﮮ ﺳﮑﺎ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﺳﺴﭩﻢ ﺩﯾﮯ ﺟﻮ ﺍٓﺝ ﺗﮏ ﭘﻮﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺋﺞ ﮨﯿﮟ،
ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻓﻘﺮﮦ ﺍٓﺝ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺣﻘﻮﻕ ﮐﮯ ﭼﺎﺭﭨﺮ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ۔ ”ﻣﺎﺋﯿﮟ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺍٓﺯﺍﺩ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ، ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﺐ ﺳﮯ ﻏﻼﻡ ﺑﻨﺎﻟﯿﺎ۔“
ایک بار خود ہی ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﻮﮞ۔ “ﻋﻤﺮ ﺑﺪﻝ ﮐﯿﺴﮯ ﮔﯿﺎ۔‘‘
ﺍٓﭖ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﺗﮭﮯ، ﺟﻨﮩﯿﮟ ’’ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ‘‘ ﮐﺎ ﺧﻄﺎﺏ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔
ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺬﺍﮨﺐ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺼﻮﺻﯿﺖ ﮨﮯ ،ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺧﺼﻮﺻﯿﺖ ﻋﺪﻝ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻭﮦ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﺱ ﺧﺼﻮﺻﯿﺖ ﭘﺮ ﭘﻮﺭﺍ ﺍﺗﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﻋﺪﻝ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻋﺪﻝ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻋﺪﻝِ ﻓﺎﺭﻭﻗﯽ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔

جن کے بارے میں مشرکین اعتراف کرتے ہیں کہ ”اسلام میں اگر ایک عمر اور ہوتا تو آج دنیا میں صرف اسلام ہی دین ہوتا۔۔“ ﺟﻦ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ٰ ﻋﻠﯿﮧ ﻭالہ وﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ،
’’ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻌﺪ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺒﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻋﻤﺮ ﮨﻮتا-“

اگر تم انکے متعلق جانو تو تمہيں محسوس ہوگا کہ الیگزینڈر دی گریٹ بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔۔ ہماری بدقسمتی یہ کہ آج مسلمان اسلام سے بہت دور ہوچکے ہیں۔۔۔ ورنہ مغربی ساٸنسدانوں کے کارنامے جو آج تم سنتی ہو انکی بنیاد رکھنے والے بھی مسلمان تھے۔۔ چونکہ وہ مسلمان تھے اس لیۓ بڑی چالاکی سے انکا نام اور کام صاف کر دیا گیا ہے___

لیکن سچ تو سچ ہے۔۔ اسے جھٹلایا نہيں جا سکتا۔۔
لیکن میں حیران ہوتا ہوں کہ مغرب کے لوگ مسلمانوں سے اتنے خوفزدہ کیوں ہیں۔۔؟؟ مسلمان بھی تو انسان ہی ہیں___

”اب ایسی بھی بات نہيں۔۔ میں تو نہيں ڈرتی۔۔“
ایلف نے جان بوجھ کر منہ بنایا اور پھر مسکرا دی۔

”میری مثال دیکھ لو۔۔ ابھی میں نے کچھ بھی نہيں کیا اور لوگوں کو خوف محسوس ہونے لگا ہے مجھ سے۔۔ایسا کیوں؟؟“
روحان نے حقيقت بیان کی تھی۔ ایلف لاجواب ہوچکی تھی۔

” جس ہستی کے متعلق تم نے بتایا ہے اگر وہ سچ ہے تو مجھے بہت خوشی ہوگی جب میں الیگزینڈر کا نام ٹاپ سے ہٹا کر دوسرے نمبر پر لکھوں گی۔۔“
وہ مسکراٸی تھی۔

”تم اسلامی تاریخ سے واقف نہيں ہو ایلف___ اگر تم اسلامی تاریخ کو پڑھو اور جانو تو یقين مانو الیگزینڈر عرف اسکندر اعظم کا نام تمہاری لسٹ میں کہیں بھی نہيں رہے گا۔۔!!“
وہ پراعتماد لہجے میں کہہ رہا تھا جبکہ ایلف بس اسے دیکھ کر رہ گٸی تھی۔

________________________

اسے یونيورسٹی میں واپس دیکھ کر بہت سے سٹوڈنٹس خوش ہوٸے تھے۔ روحان حیران تھا اسے اندازہ نہيں تھا کہ سٹوڈنٹس اسے اتنا پسند کرنے لگے تھے۔

وہ بھی کچھ دنوں کیلیۓ اس ہنگامے دور رہنا چاہتا تھا۔ ابھی وہ سٹوڈنٹس کے درمیان گھرا اس صورتحال پر سوچ رہا تھا جب اسے پروفيسر ایلبس کا بلاوا آیا۔

وہ وہاں سے سیدھا پرفیسر ایلبس کے آفس میں آگیا تھا۔

”تم جو کھیل کھیل رہے ہو نا وہ میں سب سمجھ رہا ہوں۔۔ یہ تمہارا آخری موقع ہے۔۔ اگر تھوڑی سی بھی غلطی کی تو تم بچ نہيں پاٶ گے۔۔“
وہ کاٹ دار لہجے میں کہہ رہے تھے۔ روحان نے ابرو اچکا کر
انہيں دیکھا تھا۔۔ وہ پرفیسر ایلبس کو ٹھیک سمجھ رہا تھا لیکن یہاں معاملہ الٹ نکلا تھا۔

”جاٶ اب یہاں سے۔۔ اور دھیان رکھنا۔۔“
روحان بنا کوٸی جواب دیے واپس آگیا تھا۔ اسکا دماغ بری طرح سے گھوم گیا تھا۔

______________________

”آج میرا Birthday ہے۔۔ کیا تم میرے ساتھ میری پسندیدہ جگہوں پر چلو گے۔۔“
اس دن ہفتہ تھا۔۔ اسے صبح صبح ایلف کا میسج موصول ہوا تھا۔

”میں نہيں آسکتا۔۔ مجھے کام ہے۔۔“
ابھی وہ یہ الفاظ ٹاٸپ کر ہی رہا تھا کہ ایلف کی گزارشیں شروع ہوگٸیں۔

”پلیز روحان۔۔ پلیز۔۔“

”اوکے۔۔“
وہ کچھ سوچ کر اٹھ کھڑا ہوا تھا۔

باہر برف باری ہورہی تھی۔ وہ موٹے اونی کپڑے پہنے ہوٸے تھا۔

ایلف سفید رنگ کا موٹا وزنی اونی کوٹ پہنے برف کی ملکہ لگ رہی تھی۔

“Happy Birthday”
وہ اسے دیکھ کر مسکرایا تھا۔

”بہت بہت شکریہ۔۔“
روحان کے ساتھ ایلف کو اپنا یہ دن بہت خاص لگ رہا تھا۔

وہ سب سے پہلے چرچ گٸی تھی۔ روحان کو کوٸی اعتراض نہيں تھا۔ اسکے بعد اس نے اپنے پسندیدہ ہوٹل سے چاٸے پی تھی۔

”تمہارے لیۓ ایک سرپراٸز ہے۔۔“
روحان نے چاٸے پیتے ہوا تھا۔ ایلف حیران ہوٸی تھی۔ وہ ہمیشہ اپنا یہ دن اکیلے مناتی تھی۔ اسکا باپ کے پاس اتنا وقت نہيں تھا کہ وہ اسکا یہ خاص دم مزید خاص بنا سکے۔

”کیا واقعی۔۔؟؟“
وہ حیران ہوٸی۔

”ہاں چلو۔۔“
روحان اسے لے کر مطلوبہ جگہ پر تھا جو ایمی کا گھر تھا اور وہاں پر ایلف کیلیۓ سرپراٸز پارٹی تھی۔ روحان مزید اسکے ساتھ اکیلے گھومنا نہيں چاہتا تھا۔ اس لیۓ اس نے ایمی کو سب بتا کر پارٹی کا انتظام کروایا تھا۔

ایلف سب دیکھ کر حیران ہوٸی تھی اور بہت خوش تھی۔ اسکی پوری کلاس وہاں موجود تھی۔

”میں جو جی رہا ہوں۔۔
وجہ تم ہو۔۔“
اچانک ہی نقلی آرجے یعنی رونلڈ جیکب نے گٹار پر دھن چھیڑ دی تھی۔
روحان کا دل دھڑکا تھا۔ اسے وہ شام یاد آٸی تھی جب اس نے یہ گانا گا کر حانم کو بری طرح سے زچ کیا تھا۔

وہ کچھ ذہن پلوں کیلیۓ اسکے ذہن سے اتری تھی کہ زمانے نے پھر یاد کروادیا۔
روحان کو اب وہ پارٹی فضول لگ رہی تھی۔ وہ سب کی نظروں سے بچتے ہوٸے وہاں سے باہر نکل آیا تھا۔۔ لیکن اسے ایسا کرتے برف کی ملکہ نے دیکھ لیا تھا۔

”رک جاٶ روحان۔۔“
وہ اسکے پیچھے لپکی تھی۔

”پلیز رک جاٶ۔۔“
ایلف سے بھاگا بھی نہيں جارہا تھا۔۔ باہر برف نے سفید قالین بچھا دیا تھا۔
ناچاہتے ہوٸے بھی اسے رکنا پڑا تھا۔

”کیا ہوا۔۔؟؟“
وہ پوچھ رہی تھی۔

”کچھ نہيں۔۔“
روٕحان کے لہجے میں سنجيدگی تھی۔

”مجھے کچھ کہنا ہے۔۔“
ایلف نے اپنا تنفس بحال کرتے ہوٸے کہا۔

”جلدی بولو مجھے کچھ کام ہے۔۔“

”ویسے تم بہت تیز ہو۔۔ میں یہ دن صرف تمہارے ساتھ گزارنا چاہتی تھی اور تم نے۔۔
خیر مجھے بہت اچھا لگا سب۔۔ بہت بہت شکریہ میرا یہ دن اتنا خاص بنانے کیلیۓ۔۔“
وہ مسکرا رہی تھی۔۔ اسکی آنکهوں میں ایک الوہی سی چمک تھی۔۔ کچھ نرم گرم جذبوں کی شدت تھی۔

”کوٸی بات نہيں۔۔ کلاس فیلو کیلیۓ اتنا تو کیا جا سکتا ہے نا۔۔“

”کیا تم صرف مجھے کلاس فیلو سمجھتے ہو۔۔؟؟“
وہ حیران ہوٸی۔ روحان خاموش رہا تھا۔ اسکی خاموشی سے ایلف کو تکليف ہوٸی تھی وہ اسکا جواب سمجھ چکی تھی۔

”اوکے۔۔ کوٸی بات نہيں۔۔ لیکن میں تمہيں بہت خاص سمجھتی ہوں۔۔اور بہت ہی خاص رشتہ بنانا چاہتی ہوں“
وہ مسکراٸی تھی۔ روحان چونکا تھا۔

”میں نہيں جانتی ایسا کب ہوا؟ کیوں ہوا۔۔؟ میں نے خود پر بہت ضبط کیا لیکن میں بےبس ہوں مسٹر جبیل۔۔ میں ہار گٸی ہوں۔۔ ایلف آسکر نے زندگی میں پہلی بار ہار مانی ہے۔۔ وہ دل و جان ست ہار گٸی ہے۔۔ مجھے پتا ہی نہيں چلا کہ کب تم سے محبت ہوگٸی۔۔ میں تمہيں بہت چاہتی ہوں روحان۔۔ بہت زیادہ__“
اسکا لہجہ جذبات کی آنچ سے دہک رہا تھا۔ روحان نے حیرت سے اسکی آنکهوں میں دیکھا اور پھر ایک سرد آہ بھر کر سر جھکا لیا۔

”جواب نہيں دیا تم نے___؟؟“
برف کی ملکہ برف کے قالین پر اپنے سامنے سر جھکاٸے کھڑے اس شخص سے پوچھ رہی تھی جو اپنے درد ضبط کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

”پوری دنیا کے مشکل سے مشکل سوالوں کے مسکرا کر جواب دینے والا شخص میرے سامنے سر جھکاٸے کھڑا ہے۔۔ اچھا نہيں لگ رہا___!!“
وہ محبت کے دیوتا کو بولنے پر اکسا رہی تھی۔ شاید محبت کے دیوتا کا ضبط ٹوٹا تھا۔۔ وہ مزید کھڑا نہيں رہ سکتا تھا۔
اس نے سر اٹھا کر ایک نظر اپنے سامنے کھڑی برف کی ملکہ کو دیکھا تھا__جو چیمبر آف ڈسکشن کے ساتھ ساتھ پورے لندن پر راج کرتی تھی۔۔ لوگ اس سے جڑنا چاہتے تھے۔۔ اور وہ محبت کے اس دیوتا کو جسکی محبت کی دیوی کب کی روٹھ چکی تھی اسے اپنا بنانا چاہتی تھی۔

محبت کے دیوتا نے سر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا تھا__شدید دھند میں روٸی کے گالے ان دونوں کو چھو رہے تھے۔
اس نے ایک گہری سانس لی تھی اور پھر بنا کچھ کہے پلٹا اور جانے کیلیۓ قدم بڑھایا۔

”تم میرے سوال کا جواب دیٸے بنا نہيں جا سکتے__!!“
برف کی ملکہ نے اسکا ہاتھ تھاما۔ وہ اسے جانے سے روک رہی تھی۔ برف کی ملکہ کا دل تیز دھڑک رہا تھا۔
وہ پلٹا اور گہری نظر اس پر ڈالی۔

”کیوں ڈرتے ہو__دل نہيں توڑوں گی__ہمیشہ ہر قدم پر ساتھ نبھاٶں گی__ ایک بار میرا ہوکر تو دیکھو سارے دکھ بھلا دونگی__!!“
برف کی ملکہ کے لہجے میں التجا تھی۔۔ اسکی آنکهوں میں رد کیۓ جانے کا خوف تھا۔
محبت کا دیوتا اسکا درد سمجھ سکتا تھا۔۔ لیکن وہ بےبس تھا وہ کچھ نہيں کر سکتا تھا۔

”جانتا ہوں تم ساتھ نبھاٶ گی__“
وہ مسکرا کر کہہ رہا تھا۔۔ اسکی یہ مسکراہٹ اسکی نازک جان لڑکی کی روح فنا کرتی تھی۔

”لیکن کچھ چیزیں ہمارے اختیار میں نہيں ہوتیں__“
محبت کے دیوتا نے اسکے نازک ہاتھ سے، جو ٹھنڈ کی شدت کی وجہ سے برف بن چکا تھا، نرمی سے اپنا ہاتھ چھڑایا۔

”لیکن___
وہ کچھ کہنا چاہتی تھی۔

”کچھ مت کہنا۔۔ میں کسی کو بھی تکلیف نہيں دے سکتا۔۔ مجھے جسکا ہونا تھا میں ہوچکا ہوں___ کسی اور کا ہونا میرے اختیار میں نہيں__!!“
محبت کے دیوتا نے اس سے چپ رہنے کی التجا کی۔
برف کی ملکہ کو اسکے انکار پر اپنے رگوں میں خون منجمند ہوتا محسوس ہوا تھا۔ وہ اسے کھو نہيں سکتی تھی۔۔ کسی قیمت پر بھی نہيں___

”لیکن۔۔ مم۔۔ میں__
برف کی ملکہ کے ہونٹ پھڑپھڑاٸے تھے۔

”ششش۔۔“
وہ اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھے اسے پھر سے چپ رہنے کا اشارہ کر رہا تھا۔
اب وہ الٹے قدموں پیچھے کی جانب چل رہا تھا۔ اسکا سر نفی میں ہل رہا تھا۔۔ اسکے ہونٹوں پر جان لیوا مسکراہٹ تھی جبکہ آنکهوں کی نمی کو وہ واضح محسوس کر سکتی تھی__
اسکے قدم دوری بڑھا رہے تھے، برف کی ملکہ کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہو رہا تھا__

کچھ دیر الٹے قدموں چلنے کے بعد وہ پلٹا تھا__اور پھر تیز تیز قدم اٹھاتا دھند میں کہیں غاٸب ہوگیا تھا۔
برف کی ملکہ اسکے قدموں کے نشان تک رہی تھی۔۔ ہوا ساٸیں ساٸیں کرتی اسکے وجود سے ٹکرا رہی تھی۔۔ اسے بھی اپنے سامنے ہر منظر دھندلا ہوتا محسوس ہوا تھا___شاید اسکی آنکهيں نم ہوٸی تھیں__!!
_________________________

”تو تم نے اسکے سب سے خاص دن پر اسکی محبت ٹھکرا کر اسکا دن خراب کردیا۔۔“
یہ کچھ دن بعد کی بات تھی۔ روحان نے حشام کو سب بتایا تھا۔ اسکے دوسرے سمیسٹر کے پیپر ختم ہونے والے تھے۔ اسے لندن آٸے ہوٸے سال ہونے والا تھا۔

”تم جانتے ہو حشام۔۔ میں ایسا نہيں کر سکتا۔۔ کسی اور کا ہونا میرے بس میں نہيں۔۔“

”تمہيں اب شادی کرلینی چاہیۓ روحان۔۔ تم حانم کو بھول جاٶ اب۔۔“
حشام کا لہجہ سخت تھا۔

”ایسا نہيں ہو سکتا۔۔یہ ناممکن ہے۔۔“

”کچھ بھی ناممکن نہيں ہوتا۔۔ ایلف اچھی لڑکی ہے تم نے خود بتایا تھا۔۔ اب تو وہ تم سے محبت بھی کرتی ہے۔۔ پھر کیا مسٸلہ ہے۔۔؟؟“
حشام کو غصہ آگیا تھا۔۔ پچھلے کچھ مہینوں سے حانم کے ذکر پر وہ ایسے ہی رد عمل کا اظہار کرتا تھا۔ جسے روحان سمجھنے سے قاصر تھا۔
حشام چاہتا تھا کہ روحان جلد سے جلد شادی کرلے کسی سے۔

”لیکن میں اس سے محبت نہيں کرتا۔۔ اور نا کبھی کر سکوں گا۔۔ میں نے بس ایک لڑکی کو چاہا ہے یہ تم جانتے ہو۔۔“

”وہ لڑکی اب نہيں رہی روحان۔۔ اگر زندہ بھی ہوٸی تو تم سے شاید شدید نفرت کرتی ہوگی۔۔“
حشام نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔

”نفرت منظور ہے مجھے۔۔بس کہیں نا کہیں وہ مل جاٸے۔۔ میرا دل کہتا ہے وہ کہیں آس پاس ہے۔۔“
روحان نے بتایا تھا۔

”مسٹر حشام جبیل جو کتاب آپ اشو کرواچکے ہیں وہ ام حانم کو یعنی مجھے چاہیۓ۔۔ آپکو کوٸی مسٸلہ تو نہيں۔۔۔؟؟“
حشام کے فون سے آواز ابھری تھی۔ اور روحان کو جیسے کرنٹ لگا تھا۔
وہ لیٹا ہوا تھا ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔

وہ آواز ام حانم کی۔۔ روحان اس آواز کو اچھے سے پہچانتا تھا۔
حشام نے کوٸی جواب نہيں دیا تھا۔

”میں وہ کتاب لے لوں۔۔؟؟“
آواز دوبارہ ابھری تھی۔
روحان کا دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا۔

”حشام وہ حانم ہے۔۔؟؟“
وہ کانپتی آواز میں پوچھ رہا تھا۔۔ جبکہ حشام نے فون بند کردیا تھا۔

”حانم۔۔ یہ حانم تھی۔۔ یہ پیرس میں۔۔ کیسے۔۔؟؟“
روحان کو اپنا دماغ گھومتا ہوا محسوس ہوا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: