Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 5

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 5

–**–**–

یہ رحمن پروڈکشن کا اسٹوڈیو تھا۔ شاندار کیبن کے اندر مسٹر رحمن اپنی کرسی پر براجمان تھا۔ سامنے ٹی وی پر کسی گلوکار کی پرفارمنس دیکھ رہا تھا۔

”سر آرجے نوجوانوں میں بہت مشہور ہوچکا ہے۔۔اسکی فین فالوٸنگ لاکهوں میں پہنچ چکی ہے۔۔!!

سیکرٹری نے اپنے سامنے بیٹھے مسٹر رحمن سے کہا جو بہت غور سے گانا گاتے لڑکے کو دیکھ رہا تھا۔

جانتا ہوں۔۔!!
مسٹر رحمن نے دو لفظی جواب دیا۔

”پھر کیا سوچ رہے ہیں آپ سر۔۔؟ ہم اپنی نٸی البم مرجان کیلیے اسے کاسٹ کر سکتے ہیں۔۔!!!

”آواز اچھی ہے۔۔دم بھی ہے۔۔ لیکن۔۔
لڑکے کے پاس جذبات نہيں ہیں اور تم جانتے ہو مجھے ایسے گلوکار پسند ہیں جنکی آواز دل سے نکلتی ہو۔۔ !!!

جی سر۔۔ پھر اب۔۔؟؟

”پھر یہ کہ میں ابھی اسے نہيں کاسٹ کر سکتا۔۔ میں انتظار کروں گا تب تک کا جب تک اسکے اندر جذبات نا جاگ جاٸیں۔ اسکے دل سے نکلی آواز جب میرے دل پر لگے گی میں خود جاٶں گا اسکے پاس۔۔۔ اور تب تک مجھے انتظار کرنا ہوگا۔۔!!!
“یہ تو طے ہے جب تک ہماری آواز دل سے نا نکلے تاثیر نہیں رکھتی جذبات کی آواز میں ایک الگ جادو ہوتا ہے”

مسٹر آرجے نے اپنا فیصلہ سنایا تو سیکرٹری نے اثبات میں سر ہلادیا۔ اسے آر جے بہت پسند تھا وہ چاہتا تھا انکی اگلی البم میں وہ کام کرے۔
لیکن شاید وہ دونوں یہ نہيں جانتے تھے کہ آرجے کے پاس جذبات نام کی چیز نہيں تھی۔ اگر تھی بھی تو وہ اسے کنٹرول کرنا اچھے سے جانتا تھا۔

“اچھے رہتے ہیں وہ لوگ جو اپنے جذبات کو کسی کے سامنے عیاں نہیں ہونے دیتے ورنہ یہ دنیا والے جینے نہیں دیتے”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”اپنے لاڈلے کو اچھے سے سمجھا دیں بی جان کہ جب تک وہ ملتان میں ہے کوٸی ڈرامہ نا کرے الیکشن کے دن سر پر ہیں۔۔ اور مجھے اس پر بالکل بھی بھروسہ نہيں ہے۔۔!!
سید جبیل نے اپنے سامنے بیٹھی بی جان سے کہا۔

”نہيں کرے گا اب وہ ایسا کچھ۔۔ بچہ نہيں رہا اب بڑا ہوچکا ہے۔۔!!
بی جان نے تسلی دی۔

”جتنا وہ بڑا ہوتا جا رہا ہے اسکے کارنامے اس سے بھی بڑھ رہے ہیں۔۔
اللہ جانے یہ لڑکا سید خاندان کے ساتھ کیا کرے گا۔۔؟؟“
سید جبیل غالباً اپنے بیٹے سے بہت تنگ تھے۔

”میں ہشام سے کرتی ہوں بات۔۔ ویسے بھی کل وہ واپس چلا جائے گا پریشان ہونے والی کیا بات ہے۔۔“

”کیا پتا وہ جاتے جاتے کچھ کر جائے۔۔ کوٸی اسکی پیشن گوٸی بھی تو نہيں کرسکتا۔۔۔“
سید جیبل نے اٹھتے ہوئے اپنی چادر درست کی۔ اور باہر کی طرف چلے گئے۔

”سیڑھیوں پر کھڑے آرجے نے اپنے باپ کی آواز صاف سنی تھی اور پھر اسکے چہرے پر پراسرار سی مسکراہٹ پھیل گٸی۔۔
یعنی پکا وہ کچھ کرنے والا تھا۔۔!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“‏میرے بس میں ہو تو کبھی کہیں
کوئی شہر ایسا بساؤں میں
جہاں برف برف محبتوں پہ
غمِ جہاں کا اثر نہ ہو
راہ و رسمِ دنیا کی بندشیں ،
غمِ ذات کے سبھی ذائقے
سمِ کائنات کی تلخیاں،
کسی آنکھ کو بھی نہ چھو سکیں..!”””

وہ ایک خوبصورت دنیا تھی۔۔ جہاں تک نظر جاتی تھی سفید برف نے ہر چیز کو سفید بنا دیا تھا۔ اور اس سفید برف کی چادر کے درمیان کھڑی وہ عمارت۔۔
ہاں وہ شہزادیوں کے دیس میں آگٸی تھی۔ اسے یقین نہيں ہورہا تھا کہ وہ واقعی وہاں موجود تھی۔
آس پاس سے گزرتے لوگ جو اپنے سے زیادہ وزن کے اونی کوٹ میں ملبوس اسے عجیب سی تمانت بخش رہے تھے۔
اس نے قدم بڑھائے اور عمارت کی طرف چلنا شروع کیا۔۔
ابھی وہ کچھ فاصلے پر تھی کہ۔۔

”ہانی۔۔ ہانی آپی۔۔ اٹھ جاٶ جلدی۔۔“
اسکے نام کی پکار کانوں سے ٹکراٸی۔
کوٸی اسے بلا رہا تھا۔

”ہانو آپی۔۔“
جواد اسکا نام بگاڑنے میں کوٸی کمی نہيں چھوڑتا تھا۔

”کیا ہے۔۔۔؟؟“
وہ سخت بدمزہ ہوٸی۔

”اٹھ جاٶ مہرو آپی کی کال آٸی ہے بلا رہی ہے آپکو۔۔“ وہ اسکی رضاٸی کھینچتے ہوئے بتا رہا تھا۔

”آرہی ہوں جاٶ تم۔۔!!!
بس تھوڑا سا فاصلہ رہ گیا تھا یہ لوگ کبھی مجھے میرے خوابوں میں بھی سکون سے نہيں رہنے دینگے۔ “

وہ بڑبڑا رہی تھی۔ اسے خواب ٹوٹ جانے کا دکھ ہوا تھا۔ ایسا تو ہمیشہ ہوتا آیا تھا۔ لیکن جانے کیوں پریوں کے دیس جانے کے خواب اسکا پیچھا نہيں چھوڑتے تھے۔

وہ لاکھ سمجھدار سہی لاکھ بڑی سہی جو وہ بن گٸ تھی۔۔ اسکا اندر اب بھی ویسا ہی تھا۔ معصوم پریوں کے خواب دیکھنے والا۔۔!!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”آرجے آپکا آٸی کیو لیول کتنا ہے؟ آپ کو سب کچھ یاد رہتا ہے کیا آپ بتائيں گے پلیز اپنا آٸی کیو لیول۔۔ ؟؟“
اسکی نٸی نٸی پرفارمنس کے نیچے کسی نے کمنٹ کیا تھا۔
یہ سچ تھا اسے بچپن سے لے کر آج تک کا ہر واقعہ یاد تھا۔ اسے ہر شخص یاد رہتا تھا جس کا اس سے سامنا ہوتا تھا۔ اسے کچھ نہيں بھولتا تھا۔
لڑکے کی بات سن کر اسکے چہرے پر پراسرار سی مسکراہٹ پھیلی۔۔۔ اور زندگی کے کچھ اوراق اسکے دماغ نے پیچھے کی جانب پلٹے۔۔
اسکے سامنے کھلے لیپ ٹاپ پر ایک نٸی فلم چلنے لگی تھی۔۔

”مسٹر جبیل آپ نے تو کہا تھا کہ آپکا بچہ ایک غیرمعمولی بچہ ہے۔۔ جو عام انسانوں سے بہت مختلف ہے۔۔ جس کا دماغ بہت شارپ ہے۔۔“

”جی جی بالکل۔۔۔!!
سید جبیل نے اپنے ساتھ والی کرسی پر بیٹھی اپنی بیوی کو ایک نظر دیکھ کر سامنے بیٹھے شخص کو جواب دیا۔

”غلط۔۔ بالکل غلط۔۔ آپکا بیٹا باقی بچوں کی نسبت بہت ہی نالاٸق ہے۔۔۔ اس نے آٸی کیو لیول کا جو ٹیسٹ دیا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسکا آٸی کیو لیول زیرو ہے۔ اگر یقین نہيں آتا تو پیپر دیکھ لیں۔۔“

اس شخص کی بات سن کر وہ دونوں حیران رہ گئےتھے۔ سکول کے پرنسپل نے انہيں مجبور کیا تھا کہ وہ آرجے کا آٸی کیو لیول ٹیسٹ کرواٸیں اور اسکے بعد اگر چاہیں تو اسے کسی اور سکول میں منتقل کروا سکتے ہیں۔
لیکن یہاں تو الٹ ہی ہوگیا تھا۔ ٹیسٹ دیکھنےکے بعد سید جبیل کو یقین نہيں آرہا تھا۔
جبکہ آرجے پرسکون سا بیٹھا تھا۔ جانے اسکے دماغ میں کیا چل رہا تھا۔

دراصل سکول کا پرنسپل اور ہر ٹیچر جو آرجے کی کلاس میں آتا تھا وہ اس سے تنگ تھا۔ بلاشبہ وہ غیر معمولی بچہ تھا لیکن اسکے سوالوں نے ٹیچرز کا دماغ ہلا دیا تھا۔ پرنسپل اس بچے کو سکول سے تو نہيں نکال سکتا تھا اس لیے اس نے آرجے کے والدین کو نیامشورہ دیا تھا۔
جو بری طرح ناکام رہا تھا۔

”میں آرہا ہوں پرنسپل سر۔۔۔ آرجے آرہا ہے۔۔!!
وہ دل ہی دل میں بڑبڑایا تھا۔

”چلیں بیٹا۔۔؟
مسز جبیل نے اٹھتے اپنے بیٹے سے کہا۔

”یس مام۔۔۔!!
وہ آرام سے کھڑا ہوگیا تھا۔
وہ لوگ آفس سے باہر نکل آئے تھے جب وہ ایک دم رکا۔

“مام شامو کا فون تو اندر ہی رہ گیا۔۔ میں ابھی لے کر آتا ہوں۔۔!!
کس کمال سے وہ بنا بتائے ہشام کا فون اٹھا لایا تھا۔
اس سے پہلے کہ مسز جبیل کو کچھ کہتیں وہ اپنا ننھا سا ہاتھ چھڑا کر آفس کی طرف بھاگا۔

”آرجے اور کوٸی چیز بھول جائے۔۔۔ کمال ہے!!
وہ حیران ہوٸیں۔

”ہیلو انکل۔۔۔“
وہ اس شخص کے سامنے جا کر کھڑا ہوگیا تھا۔

”آپ نے ابھی جو اندر مس سے باتیں کی نا وہ سب اس میں ریکارڈ ہوچکی ہیں۔۔“
اگر آپ نے دوبارہ سید جبیل سے کہا نا کہ میں نالاٸق ہوں تو میں یہ سب کو سناٶں گا۔
آرجے نے اپنی جیکٹ سے فون نکالتے ہوئے کہا جو اس نے مشکل سے چھپایا تھا۔
جبکہ سامنے بیٹھے شخص کو کچھ سمجھ نہيں آیا تھا۔

”میں نے کہا نا مس جیا پیسےآپکے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہوجاٸیں گے۔۔ میری واٸف کو پتا نہيں چلنا چاہیۓ۔۔!!
اس نے بٹن دبا کر ریکارڈنگ آن کی جسے سن کر اس شخص کے پسینے چھوٹ گئے تھے۔

”بیسٹ آف لک انکل۔۔۔“
وہ مسکراتا ہو باہر کی جانب آیا تھا۔
وہ آرجے تھا وہ اتنی آسانی سے کسی کو خود کو جاننے کا موقع نہيں دے سکتا تھا۔
اسکا دماغ شیطان سے زیارہ تیزی سے کام کرتا تھا۔ شیطان بھی جیسے آر جے کا کلاس فیلو رہا تھا ۔۔۔
وہ ہونٹوں کے ہلنے سے جان لیتا تھا کہ دور انسان کیا بات کر رہا ہے۔

”بتائيں نا آرجے آپکا آٸی کیو لیول کتنا ہے۔۔۔ میں آپکا انٹرویو اپنے میگزین میں چھاپنا چاہتا ہوں۔۔!!

”زیرو۔۔۔“
ایک لفظی جواب دے کر وہ لیپ ٹاپ بند کرچکا تھا۔ اسے فکر نہيں تھی سامنے والے بندے کو کتنی حیرت ہوٸی تھی۔
بس وہ ایسا تھا۔ بچپن کے واقعے نے اسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیلا دی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“ہر کوئی اُداس آنکھیں لئے پھرتا هے””

“ہر کوئی محبت کا سزاوار هو جیسے”””

”تم سوچ نہيں سکتی ایلا آج میں بہت خوش ہوں۔۔۔“
ماہی کے ہاتھ شدت جذبات سےکانپ رہے تھے۔
بتاٶ میں اب کیا کروں؟ کیسے اس شخص سے بات کروں۔۔؟؟
ماہی کی آواز بھرا گٸی تھی۔
سامنے لیپ ٹاپ پر اس شخص کی تصویر چمک رہی تھی۔
کتنی مشکلوں سے ڈھونڈا تھا اسے ماہی نے۔۔

”کرنا کیا پاگل۔۔ سب سے پہلے ایڈ کرو انہيں پھر بات کرلینا۔۔۔!!
ایلا نے مشورہ دیا۔

”وہ مجھ سے بات تو کرینگے نا؟؟“
ماہی کو یقین نہيں آرہا تھا وہ اسی شخص کا اکاٶنٹ تھا۔

”سید ہشام بن جبیل۔۔!!!
ہاں یہی نام تھا اس شخص کا جو سفید کلف لگے کپڑے پہنے۔۔ بھورے رنگ کی چادر کو کندھوں پر پھیلائے اپنی تمام تر وجاہت کے ساتھ بیٹھا تھا۔
وہ بنا پلکیں جھپکائے اسکی پروفاٸل پکچر کو دیکھ رہی تھی۔

”ہوش میں آٶ ماہی۔۔۔ اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے بات کرلو۔۔ !!
ایلا کہتی کمرے سے باہر نکل گٸی تھی جبکہ ماہی کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
اسکی آنکهوں میں نمی چمکی تھی۔ وہ شخص کس حد تک اسے عزیز ہوچکا تھا وہ خود نہيں جانتی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”ہانی تمہيں وہ اسمارہ آپی یاد ہے جو سکول میں ہماری سینٸر تھی۔؟“
مہرو نے سامنے بیٹھی حانم سے پوچھا جو تیزی سے رجسٹر پر قلم چلا رہی تھی۔

”نہيں کچھ خاص نہيں۔۔۔“

”وہی جس سے میری اچھی خاصی دوستی تھی۔ جس نے ٹاپ بھی کیا تھا۔۔“
مہرو نے یاد کرونا چاہا۔

”کیا ہوا اسے۔۔؟؟“
حانم نے پوچھا۔

”اسکی مما کا پرائيویٹ کالج ہے اچھا خاصا ہے۔ انہيں دو ماہ کیلیے ایک ٹیچر کی ضرورت ہے کل اسمارہ آپی کی کال آٸی ہوٸی تھی وہ پوچھ رہی تھی کہ اگر کوٸی ٹیچر ہو۔۔۔
ایف ایس سی کے سٹوڈنٹس کو پڑھانا بس دو ماہ۔۔“

حانم نے اب کی بار سر اٹھا کر اسے دیکھا۔

”کیا وہ مجھے رکھ لیں گے۔۔؟؟“
اسکا ذہن مہرو کی بات کو سمجھ گیا تھا۔

”ہاں میں نے بات کی تھی۔ وہ کہہ رہے تھے اگر ڈیمو اچھا دیا تو۔۔

”میں کوشش کرونگی۔۔ دو ماہ ہی کافی ہیں میرے لیے۔۔ !!
اب حانم کا دماغ تیزی سے کام کر رہا تھا۔

”ویسے وہاں سارے ٹیچرز بہت ہاٸی کوالیفاٸیڈ ہیں لیکن اب انکی بھی مجبوری ہے اور اسمارہ آپی میری بات بھی مان لیتی ہے وہ اپنی مما کو منا لے گی۔۔ لیکن تم سوچ سمجھ لو دو کام ایک ساتھ کرلو گی؟؟“

“ٹائمنگ کیا ہے کالج کی؟؟“
حانم نے پوچھا۔

”صبح آٹھ سے ایک بجے تک۔۔“

”بس ٹھیک اکیڈمی کا ٹائم دو بجے سے شروع ہوتا ہے۔۔بس دو ماہ کی تو بات ہے میں کرلونگی کچھ نا کچھ۔۔“
حانم کے دماغ سے جیسے بہت سا بوجھ اتر گیا تھا البتہ اب اسے ایک نٸی فکر تھی پتا نہیں اسے یہ جاب ملتی یا نہیں۔۔؟؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہشام آرجے کو بلانے اسکے کمرے میں آیا تھا لیکن وہ اسے وہاں نظر نہيں آیا۔ واشروم کا دروازہ بند تھا اور شاور کی آواز سے اس نے اندازہ لگا لیا تھا کہ وہ اندر تھا۔

ابھی وہ کچھ کہنے والے تھا جب اسکی نظر آرجے کے موبائل پر پڑی جو بلنک کر رہا تھا۔
وہ واحد شخص تھا جو اسکے فون کو ہاتھ لگا سکتا تھا۔

ہشام نے آگے بڑھ کر فون اٹھایا اور دوسرے ہی پل اسےجھٹکا لگا تھا۔ جیسے کوٸی کرنٹ۔۔
ہاں موبائل فون سے۔۔

“Don’t Touch My phone You Bromides”
موبائل کی سکرین سے آواز ابھری تھی اور اس پر لکھا بھی چمک رہا تھا۔
ایک بڑا سا ٹاٸیگر منہ کھولے کھا جانے والی نظروں سے اسے گھور رہا تھا جسکے منہ میں یہ الفاظ چمک رہے تھے۔

”کیا ہوا شامو کاکا ڈر گئے۔۔۔“
اندر سے اسکی آواز ابھری تھی۔ جانے اسے کیسے پتا چل جاتا تھا۔

”ڈوب کے مرجاٶ تم۔۔ انتہائی کوٸی ذلیل انسان ہو ویسے۔۔!!!
ہشام کو غصہ آگیا تھا۔
جبکہ آرجے کا قہقہہ ابھرا تھا۔

”بروماٸڈ صاحب کیا لینے آئے ہو میرے کمرے۔۔؟؟“
اسکے بروماٸڈ کہنے پر ہشام مزید تپا۔

”تمہیں پتا بھی ہے بروماٸڈ کا مطلب کیا ہے؟؟

”یہ تو تمہیں پتا ہوگا شامو کاکا انگلش لٹریچر تو تم پڑھ رہے ہو۔۔“

”بروماٸڈز کا مطلب پرانے خیالات۔۔۔کیا تمہيں میں پرانے خیالات کا لگتا ہوں۔؟؟
ہشام کو اسکا بروماٸڈ کہنا برا لگا تھا۔

”جی بالکل۔۔ شامو کاکا آپ Old Fashioned انسان ہیں۔۔ اس بات کا اندازہ آپ اپنے کپڑوں سے لگا لیں۔۔“
وہ ترکی بہ ترکی جواب دے چکا تھا۔
جبکہ ہشام دانت بھینچ کر رہ گیا تھا۔

”نہا کر جلدی نیچے مرو۔۔ مدیحہ آٸی ہے تمہيں بلا رہی ہے۔۔!!!
(مدیحہ ہشام کی چھوٹی بہن تھی جو ڈاکٹر بن رہی تھی)
وہ کہہ کر رکا نہيں تھا بلکہ کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔ کیونکہ آرجے سے بحث کرنا فضول تھا۔

……………………….
رہنے دو ہانی ایک وقت میں تم سے دو کام نہيں ہونگے پھر تم کہو گی کہ پڑھاٸی پر دھیان نہيں دے پارہی۔۔!!
آسیہ بیگم نے اپنی بیٹی کو سمجھانا چاہا تھا۔

”وہ تو ویسے بھی نہيں دے پارہی اماں۔۔ فاٸدہ ہی ہوگا نا مجھے۔۔ بس دو مہینے کی تو بات ہے۔“
ہانی نے جواب دیا۔

”اچھا ہے جانے دیں امی۔۔ گھر میں رہ کر بھی تو اس نے کتابيں چاٹنی ہیں باہر نکلے گی باہر کی دنیا سے ملے گی اسکا غصہ بھی کم ہوگا۔۔“
ماہم نے ٹانگ اٹکاٸی۔ حانم نے اسے کھاجانے والی نظروں سے گھورا۔

”اسے چھوڑو تم کھانا کھاٶ۔۔ اسکی تو عادت ہے بولنے کی۔!!
آسیہ بیگم نے اپنی حانم سے کہا جسے بہت جلدی غصہ آتا تھا۔ البتہ وہ غصہ دوسروں پر کم اترتا تھا۔ اندر ہی اندر پینے کی وجہ سے وہ بہت تلخ ہوگٸی تھی۔

”بس اماں دو ماہ۔۔ دس ہزار دینگے وہ لوگ۔۔
ایک بار داخلہ چلا جائے گا اور دوسری دفعہ کی تنخواہ میں کوٸی موبائل لونگی۔ انٹرنیٹ کی بہت ضرورت پڑتی ہے مجھے۔۔!!!
آج دو پوری محنت کرکے گٸی تھی کلاس اور پرنسپل کو اسکا ڈیمو پسند آگیا تھا۔
کل سے وہ باقاعدہ اپنی ٹیچنگ کا آغاز کرنے والی تھی۔
”یہ بھی شکر ہے کہ انہوں نے مجھے رکھ لیا۔ اگر انکار کر دیتے تو کیا ہوتا۔۔؟؟“

”رکھتے کیوں نہيں بھٸی۔ تیس ہزار جس ٹیچر کو دینے تھے انہوں نے اب اسکے بدلے انہيں دس ہزار میں ٹیچر مل گٸی ہے۔ کیسے نا رکھتے۔۔؟؟“
ماہم باز نہيں آتی تھی۔

”تم چپ کرکے بستر لگا دو۔۔ مجھے نیند آٸی ہے بہت۔۔!!

”وہی کر رہی ہوں۔۔ دیکھ تو لو پہلے۔۔!!
حانم کی بات پر بستر لگاتی ماہم نے جواب دیا تھا۔
جبکہ حانم کا دماغ ٹیچنگ میں الجھ کر رہ گیا تھا۔ اسے ٹیچنگ کرنا نہيں پسند تھا۔ لیکن وقت انسان سے کیا کچھ کروالیتا ہے۔ وہ بس گہری سانس لے کر رہ گٸی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ فٹبال لے کر سیدوں کی حویلی سے باہر نکل آیا تھا۔ اب اسکا رخ گراؤنڈ کی طرف تھا جہاں علاقے کے لڑکے فٹبال کھیلتے تھے۔

”ارے آرجے آٶ آٶ۔۔۔!!
لڑکوں نے اسے دیکھ کر آواز دی۔۔
اور وہ مسکراتا انکی طرف بڑھ گیا تھا۔
اسکی نظریں ایک انسان کوتلاش کر رہی تھیں۔ جسکا کل مدیحہ نے اسے بتایا تھا کہ جب وہ گھر آرہی تھی ڈرائيور کے ساتھ تو ایک لڑکے نے باٸیک پر انکا پیچھا کیا تھا اور کچھ نازیبا کلمات بھی اچھالے تھے یہ جاننے کے باوجود کہ وہ سید خاندان کی لڑکی تھی۔

جلد ہی اسکے کمپيوٹر سے تیز چلتے دماغ نے اس لڑکے کو سکین کیا اور پھر وہ فٹبال کے ساتھ میدان کود پڑا۔
کچھ دیر نارمل کھیلنے کے بعد اس نے لڑکے کا نشانہ رکھ کر فٹبال کو کک لگائی اور منہ پہ دے مارا تھا۔ اور پھر وہ پاگل ہوگیا تھا۔
وہ

سارے لڑکے اسکے پاگل پن کو دیکھ کر بھاگ گئے تھے جبکہ وہ بری طرح اب اس لڑکے کو ہاتھوں اور لاتوں سے پیٹ رہا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: