Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 50

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 50

–**–**–

(زندگی کے سات پہروں کی کہانی)

”میں وہ کتاب لے لوں۔۔؟؟“
آواز دوبارہ ابھری تھی۔
روحان کا دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا۔

”حشام یہ حانم ہے۔۔“
وہ کانپتی آواز میں پوچھ رہا تھا۔۔ جبکہ حشام نے فون بند کردیا تھا۔

”حانم۔۔ یہ حانم تھی۔۔ یہ پیرس میں۔۔ کیسے۔۔؟؟“
روحان کو اپنا دماغ گھومتا ہوا محسوس ہوا تھا۔

”کیا یہ میرا وہم ہے۔۔؟؟“
روحان اب بڑبڑا رہا تھا۔

”کیا واقعی وہ حانم تھی۔۔ لیکن وہ تو__ نہيں وہ زندہ ہے۔۔ میں جانتا ہوں۔۔ میرا دل کہتا تھا کہ حانم زندہ ہے__“
خوشی کی لہر روحان کے پورے جسم میں دوڑ گٸی تھی۔

وہ اب بار بار حشام کا نمبر ملا رہا تھا جو فون نہيں اٹھا رہا تھا۔

”ًحشام فون اٹھاٶ۔۔“
وہ اب کمرے میں ٹہل رہا تھا۔
روحان کا دل پسلیاں توڑ کر باہر نکلنے کو تیار تھا۔ اسکا پورا وجود کپکپا رہا تھا۔
تقریباً ایک گھنٹے بعد حشام نے اسکا فون اٹھایا تھا۔

”حشام تم فون کیوں نہيں اٹھا رہے میرا۔۔ وہ اور وہ لڑکی۔۔ وہ حانم کی آواز تھی۔۔ اور اس نے اپنا نام بھی لیا تھا۔۔۔وہ سچ میں حانم ہے نا۔۔؟؟“
اسکی زبان سے الفاظ ٹوٹ پھوٹ کر نکل رہے تھے۔

”تم خاموش کیوں ہو حشام بولو نا۔۔ وہ حانم تھی نا۔۔؟؟“
روحان کو حشام کی خاموشی ناگوار گزر رہی تھی۔

اسکی باتوں کو سننے کے بعد حشام نے ایک گہرا سانس لیا تھا۔

”ہاں وہ ام حانم ہی تھی“
حشام نے سپاٹ سے لہجے میں کہا تھا۔ روحان کے چہرے کا رنگ فق ہوا۔
اسے اپنی ٹانگوں کی جان نکلتی ہوٸی محسوس ہو رہی تھی۔
وہ ایک دم بیڈ پر بیٹھ گیا تھا۔

”تم جانتے تھے نا کہ وہ زندہ ہے۔۔ تم نے مجھ سے چھپایا حشام۔۔ کیوں۔۔“
روحان کے لہجے میں بےیقینی سی تھی۔ اسے سمجھ نہيں آرہا تھا حانم کے ملنے پر خوش ہو یا حشام کے سب کچھ جانتے ہوٸے بھی اتنا بڑا سچ چھپانے پر دکھی۔

”کیوں کیا تم نے ایسا حشام۔۔؟؟“
وہ دوبارہ پوچھ رہا تھا۔

”مجھے کچھ کام ہے میں بعد میں بات کرونگا۔۔“
وہ سخت لہجے میں کہتا فون بند کرچکا تھا۔

”بات سنو حشام۔۔ سنو۔۔“
لیکن حشام فون بند کرنے کے بعد نمبر بند کرچکا تھا۔
جبکہ روحان کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔۔
اسکا دل رقص کرنے کو چاہ رہا تھا۔

”وہ زندہ تھی___ جو اسکا سب کچھ تھی__!!“
آج اسے ساری رات خوشی سے نیند نہيں آنی تھی۔
صبح اسکا پیپر تھا لیکن حانم کے زندہ ہونے کی خبر سن کر وہ سب بھول گیا تھا۔
بہت انتظار کیا تھا اس نے۔۔ ساڑھے چار سال سے بھی اوپر___
وہ اب جا کر ملی تھی۔ ہوش کھونا تو بنتا تھا۔

میری زندگی تو فراق ہے
وہ ازل سے دل میں مکیں سہی
وہ نگاہ شوق سےدور ہے
رگ جاں سے لاکھ قریں سہی
ہمیں جان دینی ہے ایک دن
وہ کسی طرح وہ کہیں سہی
ہمیں آپ کهینچئے دار پر
جو نہیں کوئی تو ہمی سہی
سر طور هو سر حشر ہو
ہمیں انتظار قبول ہے
وہ کبھی ملے وہ کہیں ملے
وہ کبھی سہی وہ کہیں سہی
نہ ہو ان پہ کچھ میرا بس نہیں
کہ یہ عاشقی هے ہوس نہیں
میں انہی کا تها میں انہی کا ہوں
وہ میرے نہیں تو نہیں سہی
مجھے بیٹهنے کی جگہ ملے
میری آرزو کا بھرم رہے
تیری انجمن میں اگر نہیں
تیری انجمن کے قریں سہی
میری زندگی کا نصیب ہے
نہیں دور مجھ سے قریب ہے
مجھے اس کا غم تو نصیب ہے
وہ اگر نہیں تو نہیں سہی
جو هو فیصلہ وہ سنائیے
اسے حشر پر نہ اٹهایئے
جو کریں گے آپ ستم وہاں
وہ ابهی سہی وہ یہیں سہی
انہیں دیکھنے کی جو لو لگی
تو ”نصیر“ دیکھ ہی لیں گے ہم
وہ ہزار آنکھ سے دور ہوں
وہ ہزار پردہ نشیں سہی___!!

اور اب دیکھنے کا وقت ہوچکا تھا___ روحان جبیل کے ہونٹوں پر زندگی سے بھرپور خوبصورت مسکراہٹ دوڑ رہی تھی۔

________________________

گیراج کے گاڑی نکالنے کے بعد سبیل جیسے ہی گیٹ کی جانب بڑھا اسے ایلف آسکر اندر آتی دکھاٸی تھی۔ وہ ایک پل کیلیۓ حیران رہ گیا تھا۔

”ایلف یہاں۔۔“
وہ انجن بند کرکے گاڑی سے باہر نکل آیا تھا۔

”قاتل یہودی حسینہ“
اسے دیکھ کر سبیل کے ذہن میں یہی تاثر ابھرتا تھا۔

”گڈ مارننگ مسٹر سابیل۔۔“
وہ مسکرا کر کہہ رہی تھی۔

”گڈ مارننگ۔۔“
سبیل حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔

”آرجے اندر ہے۔۔؟؟“
ایلف نے صاف پوچھا تھا۔
سبیل تو اسکے آرجے کہنے پر اچھل پڑا تھا۔ اسے حیرت ہورہی تھی ایلف نے آرجے کو پہچان لیا تھا۔

”ہاں۔۔ وہ مجھے لگتا ہے ابھی اٹھا نہيں ناشتہ بھی نہيں کیا۔۔“
سبیل بامشکل بول پایا تھا۔

”کوٸی بات نہيں مجھے ضروری کام ہے میں انتظار کرلوں گی۔۔“
وہ مسکرا کر کہتی اندر داخل ہوچکی تھی۔ جبکہ سبیل حیرانی سے کندھے اچکا کر رہ گیا تھا۔۔ کچھ دیر وہ کھڑا رہا۔ اور پھر گاڑی میں بیٹھ کر عدالت کی طرف روانہ ہوگیا۔

_______________________

”آپ سے ملنے کوٸی لڑکی آٸی ہے۔۔“
ملازم نے اسے خبر دی تھی۔

”لڑکی۔۔؟؟“ روحان چونکا۔ اسکے ذہن میں ایمی کا خیال آیا تھا۔
وہ ساری رات نہيں سویا تھا۔ جاگتا رہا تھا۔۔ وہ حشام سے بہت کچھ پوچھنا چاہتا تھا لیکن اسکا نمبر مسلسل بند جارہا تھا۔

تھک ہار کر اس نے فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد کتابیں اٹھاٸی۔۔ آج ایک بجے اسکا آخری پیپر تھا۔
روحان کتابوں کو بند کرکے کرسی سے اٹھتا ملازم کے ساتھ ہی نیچے آیا تھا۔

لاٶنج میں صوفے پر ایلف کو براجمان دیکھ کر حیران رہ گیا تھا۔
ایلف کی نظر سیڑھیاں اترتے روحان پر پڑی تو وہ کھڑی ہوگٸی۔

”سوری مسٹر آرجے۔۔ میں یہاں آگٸی۔۔ لیکن مجھے بہت ضروری بات کرنی ہے تم سے۔۔“
ایلف کے لہجے میں بےتابی نمایاں تھی۔

”جی بیٹھ جاٶ۔۔“
روحان نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا۔
وہ اب اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔

”تم نے میری بات کا جواب نہيں دیا۔۔؟؟“
وہ پوچھ رہی تھی۔

”کونسی بات۔۔۔؟؟“
وہ ذہن پر زور دیتے ہوٸے بولا۔
ایلف کے چہرے کا رنگ پھیکا پڑا تھا۔

”کیسے بھول سکتے ہو تم۔۔ میں ایک رات بھی ٹھیک سے نہيں سوٸی۔۔ میں ٹھیک سے پڑھ نہيں پارہی۔۔ میں روزانہ اس امید سے ڈیپارٹمنٹ جاتی ہوں کہ شاید آج مجھے میری بات کا جواب مل جاٸے۔۔ اور تم کہہ رہے ہو کونسی بات۔۔؟؟“
وہ پھٹ ہی پڑی تھی۔ روحان سٹپٹاگیا تھا۔ اسے اندازہ نہيں تھا کہ ایلف سنجيدہ تھی۔
وہ تو اب تک ایلف کی محبت کے اقرار کو بھول بھی گیا تھا۔

”میں نے آپکو اسی وقت جواب دے دیا تھا۔۔ شاید آپ بھول چکی ہیں۔۔“
وہ تم سے آپ پر آگیا تھا۔ ایلف کو وہ ایک دم ہی بہت اجنبی سا لگا تھا۔

”مجھے ایمی نے بتایا تھا کہ شاید وہ لڑکی تمہيں چھوڑ کر جا چکی ہے۔۔ جسے تم نے چاہا تھا۔۔ اس نے دھوکہ دیا شاید۔۔ لیکن میرا یقین نہيں کرو میں ایسا کچھ نہيں کرونگی۔۔“
ایلف کی آواز بھرا گٸی تھی۔۔ اسکی آنکهيں نم ہوٸی تھیں۔۔ محبت جیسے منہ زور جذبے نے اس نازک لڑکی کو توڑ کر رکھ دیا تھا۔

”ایسی بات نہيں ہے___ میں پہلے بتا چکا ہوں مجھے جس کا ہونا تھا ہوچکا ہوں اب سوال پیدا ہی نہيں ہوتا__“

”آخر کیوں۔۔ جب وہ ہے ہی نہيں تو اسکی یاد میں رونے یا اداس ہونے کا کیا فائدہ۔۔ کیوں تم خود کو میرا نہيں کر دیتے__!!
ضبط کرنے کے باوجود بھی ایلف رو دی تھی۔

”پلیز ایلف آپ روٸیں مت__ میں جانتا ہوں محبت نا ملنا بہت تکلیف دہ ہوتا ہے__ میرا مقصد آپکی دل آزاری کرنا نہيں تھا__ آپ رکیں میں آپکو کچھ دکھاتا ہوں“
وہ کہتے ہوٸے صوفے سے اٹھا اور اوپر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا تھا۔
جبکہ پیچھے ایلف اپنے آنسو ضبط کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
اس ایک ماہ میں وہ بہت کمزور ہوگٸی تھی۔ محبت کے جذبے نے جہاں اسے ایک دوسری دنیا کی سیر کروائی تھی وہیں روحان کے انکار پر محبت جیسے اسے جہنم میں پھینک آٸی تھی۔۔
وہ روز جل رہی تھی۔

چند منٹ بعد روحان اسے واپس آتا دکھاٸی دیا تھا اسے۔۔
اسکے ہاتھ میں کچھ تھا۔۔ ایک کاغذ۔۔ جسے اس نے ایلف کی طرف بڑھایا تھا۔

”یہ دیکھیں___“
ایلف نے کپکپاتے ہاتھوں سے اس کاغذ کو تھاما تھا۔

اور پھر چند پلوں تک نظریں اس کاغذ پر جماٸے رکھنے کے بعد ایلف ایک جھٹکے سے وہ کاغذ کا ٹکرا اسکے خوبصورت نازک ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے جا گرا تھا۔

”یہ۔۔یہ نہيں ہو سکتا۔۔ تم Married ہو۔۔؟؟“
ایلف کے لہجے میں حیرانی اور بےیقینی دونوں واضح تھیں۔

روحان جھک کر اسکے پیروں کے پاس سے وہ نکاح نامہ اٹھایا تھا جو تقریباً چھ سال پرانا تھا۔

”جی۔۔ میں میرڈ ہوں۔۔“
روحان پراعتماد لہجے میں کہہ رہا تھا۔
ایلف کو لاٶنج کی چھت اپنے اوپر گرتی ہوٸی محسوس ہوٸی تھی۔

”پہلے کیوں نہيں بتایا تم نے آرجے۔۔ کیوں چھپایا اتنا بڑا سچ۔۔؟؟“
ایلف ناچاہتے ہوٸے بھی چلا اٹھی تھی۔ اسکا نازک وجود ہولے ہولے کانپ رہا تھا۔

”آپ جان چکی ہیں کہ میں آرجے ہوں۔۔ یہ سچ ہے۔۔میں آرجے ہی ہوں۔۔“
ایلف کو ایک اور جھٹکا لگا تھا۔
وہ آنسوٶں سے لبریز چہرے کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی۔

” معصوم روحان سے آرجے اور پھر آرجے سے روحان جبیل تک کا سفر__ آسان نہيں تھا“
روحان اب سینے پر ہاتھ باندھ کر لاٶنج میں لگی کھڑکی میں جا کر کھڑا ہوگیا تھا۔
وہ باہر آسمان کو تک رہا تھا___اسکی وسعتوں اور خلاٶں میں جانے وہ کیا تلاش کرتا تھا___

”کیا ہوا تھا ایسا کہ تم اتنا بدل گٸے۔۔؟؟“
ایلف آنسو صاف کرتے ہوٸے پوچھ رہی تھی۔

”دنیا میرے مزاج سے الگ تھی بہت
اپنا ایک الگ جہاں بسانا پڑا مجھے__“

روحان نے ایک گہرا سانس لینے کے بعد بولنا شروع کیا تھا۔

_________________________

”بہت تڑپا ہوں اسے ایک نظر دیکھنے کیلیۓ۔۔ ایک بار ملنے کیلیۓ۔۔ خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جنکا محبوب انکی نظروں کے سامنے ہوتا ہے اور وہ اسے اور کچھ نہيں دیکھ تو سکتے ہیں نا___میں یہ پونے پانچ سال اسے دیکھنے کی خاطر دربدر پھرا ہوں__ مجھے کہیں اسکا نشاں نہيں ملا___“
دو گھنٹوں سے وہ ایلف کو اپنی کہانی سنا رہا تھا۔ حانم کے ذکر پر اسکی آنکهوں میں نمی ابھری تھی۔
ایلف اسکی کہانی سنتے سنتے رو دی تھی۔ حانم کی موت کا سن کر اسکی سسکیاں ابھری تھیں۔

”مجھے معاف کردو آرجے۔۔ میں بہت خود غرض ہوں۔۔ میں نے صرف اپنی محبت کا سوچا__“
وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔

”ارے نہيں آپ آپ روٸیں نہيں بلکہ یہ وقت تو خوش ہونے کا ہے__ آج تک وہ مجھے نہيں ملی تھی
لیکن رات۔۔ شاید میری خوش قسمتی مجھے اسکا سراغ مل گیا__!!“

ایلف نے چونک کر اسے دیکھا تھا جسکے چہرے پر الوہی سی چمک تھی۔

”یہاں سے میری زندگی کا ایک اور سفر شروع ہوا ہے۔۔ جو بہت مشکل ہے۔۔ جو مجھے اکیلے ہی طے کرنا ہے۔۔ مجھے اس سفر میں کسی اور کی ضرورت نہيں پڑے گی__ اگر میں نے کسی اور کا ہاتھ تھاما تو میری منزل کھو جاٸے گی۔۔ کبھی نہيں ملے گی__!!
روحان نے ایلف کی آنکهوں میں دیکھتے ہوٸے کہا۔ ایلف اسکا اشارہ سمجھ چکی تھی وہ نظرں جھکا گٸی۔ اذیت کی لہر اسکے جسم میں سرایت کر گٸی تھی۔
لیکن اسے خوشی ہوٸی تھی کیونکہ وہ شخص خوش تھا جسے وہ چاہتی تھی۔

”لیکن ہاں مجھے اس سفر میں بہت سی دعاٶں کی ضرورت ہے__جو حانم تک پہنچنے میں میری مدد کریں___وہ تو پہلے ہی مجھے ناپسند کرتی تھی اب تو نفرت کرتی ہوگی___ آگ کے دریا کو پار کرنے کا وقت آگیا ہے__ اور میں نے سنا ہے اچھے لوگوں کی دعائيں قبول ہوتی ہیں۔۔!!“

”بٹرنگ Buttering کر رہے ہو تم۔۔“
ایلف اسکی بات سن کر مسکرا دی تھی۔

”جی بالکل۔۔“
وہ بھی مسکرا دیا۔

_________________________

”کب جا رہے ہو اسے لینے۔۔؟؟“
ایلف پوچھ رہی تھی۔ انکے پیپر ختم ہوچکے تھے۔
ایلف کیلیۓ یہ سب سے مشکل دن تھے۔۔۔ اور ابھی اسکی تکلیف بڑھنی تھی جب وہ دونوں کو ایک ساتھ دیکھے گی__

”بہت جلد۔۔ لیکن ڈر لگ رہا ہے اسکا رد عمل جانے کیا ہوگا۔۔ جو چہرہ ایلف کو اچھا لگتا ہے اس چہرے سے نفرت ہے حانم کو۔۔“
وہ پھیکی مسکراہٹ لیۓ کہہ رہا تھا۔ وہ دونوں اس وقت دریاٸے ٹیمز کے کنارے پر بیٹھے تھے۔

”کوٸی خاص بات بتاٶ نا اسکی۔۔ تمہيں وہ کیوں پسند آٸی۔۔؟؟“
جانے کیوں لیکن ایلف جاننا چاہتی تھی۔

”وہ لڑکی جو فطرتاً خاموش طبع تھی وہ جب میرے سامنے آتی تھی تو یقين کرو پٹر پٹر بولتی تھی۔۔ ایسا لگتا جیسا گڑیا کو چابی لگا دی گٸی ہو۔۔ لڑکياں مرتی تھیں تو وہ دور بھاگتی تھی۔۔ لوگ میری تعریف کرتے تھے تو وہ ایسی انسلٹ کرتی تھی کہ میں اکثر سوچا کرتا تھا کہ اس گستاخ لڑکی کی زبان کاٹ دینی چاہیۓ۔۔ پھر نا جانے کب۔۔ اسکا سب سے کم بات کرنا اور مجھ سے لڑنا مجھے اچھا لگنے لگا___ اسکی شامیں برباد کرکے مجھے خاصا سکون ملتا تھا۔۔ لیکن جب وہ نظروں سے اوجھل ہوٸی تو میرا سارا سکون اپنے ساتھ لے گٸی___!!
بات کے آخر میں اسکا لہجہ پھر بھاری ہوگیا تھا۔
ایلف سن کر مسکرا دی تھی۔

”میں اس سے ملنا چاہوں۔۔ میرا اشتیاق بڑھ گیا ہے۔۔ اور ایک سلفاٸیٹ__ یقین نہيں ہوتا۔“

” ان شاء اللہ بہت جلد ملواٶں گا۔۔“ وہ پراعتماد تھا۔

”تم نے کہا وہ اس چہرے سے نفرت کرتی ہے۔۔ تو تم اسےابھی یہ چہرہ ہی مت دکھاٶ۔۔!!
کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد ایلف نے مشورہ دیا تھا جسے سن کر روحان چونکا تھا اور پھر اسکی آنکهوں کی چمک بڑھ گٸی تھی۔

__________________________

روحان پیرس آگیا تھا___ مون کے روپ میں
حشام کو بنا بتاٸے، یہ تھوڑا مشکل کام تھا لیکن اسے مون بننا پڑا تھا__ چہرے کو جلے ہوٸے ماسک سے چھپانا پڑا اور گونگے ہونے کا ناٹک کیا__
اسکا مشورہ اسے ایلف نے دیا تھا۔ وہ فی الوقت حانم کو دیکھنا چاہتا تھا۔۔
وہ جاننا چاہتا تھا کہ وہ ویسی ہی تھی یا بدل گٸی تھی___
اور جب حانم اینجل کے روپ میں سامنے آٸی تو وہ حیران رہ گیا تھا۔

اسے ایمی جیسی چالاک اور ایلف جیسی بہادر لڑکياں اچھی لگی تھیں۔ اسکا ماننا تھا کہ لڑکيوں کو اتنا مضبوط ہونا چاہیۓ کہ مردوں کے الفاظ تو کیا انکے فعل بھی لڑکیوں کو نقصان نہ پہنچا سکے۔

لیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹ ہوگیا تھا___ وہ حانم تو کہیں سے بھی نہيں تھی۔
خاموش اور رحم دل حانم۔۔ یہ تو اینجل تھی۔۔ جو اینجل کم اور ڈاٸن زیادہ تھی___

یہ ایمی کی طرح چالاک اور ایلف سے زیادہ بہادر تھی۔
لیکن حانم کو سرتا پیر بدلا ہوا دیکھ کر روحان کا دل کرلایا تھا۔
وہ بہادر اور چالاک ہونے کے ساتھ ساتھ ماڈرن بھی ہوگٸی تھی___ بڑے سے ڈوپٹے والی اسکی حانم کہیں گھم ہوگٸی تھی۔

اسے اندازہ تھا اسکا یہ سفر کافی مشکل تھا__ لیکن اب حانم کو دیکھ کر وہ جان گیا تھا ننگے پیروں انگاروں پر چلنے کا وقت آگیا تھا۔

_________________________

پیرس جیسے شہر میں حانم کو ڈھونڈنا مشکل تھا نامکمن نہيں۔ روحان نے حشام پر نظر رکھی تھی۔ وہ ایک دو بار کام کے سلسلے میں ماہی کے گھر گیا تھا اور وہیں روحان کو اینجل یعنی حانم ملی تھی__
روحان کو اب سمجھ آیا تھا کہ ضیا ٕ جبیل یعنی اسکے بڑے ڈیڈ نے اسے کیوں ڈانٹا تھا۔ وہ لڑکی حانم ہی تھی جسے نروس بریک ڈاٶن ہوا تھا۔ اسکی اتنی بری حالت کا ذمہ دار وہی تھا۔ روحان کا دل پھر سے جلنے لگا تھا__ دکھ اور پچھتاوا اسے نوچنے لگے تھے۔

لیکن اسے بہت کچھ کرنا تھا اب۔۔ حانم کے ملنے کے بعد اس نے حشام کو چھوڑ کر حانم پر نظر رکھنی شروع کردی تھی اور پھر وہ میڈی تک پہنچ گیا۔
میڈی تھوڑا معصوم اور بےقوف لڑکا تھا۔۔ اسکو ایکسیڈنٹ سے بچا کر جو وہ خود کروا رہا تھا۔۔ روحان اسکے گھر میں جگہ بنانے میں کامياب ہوگیا تھا__
جب میڈی نے پہلی بار روحان کو حانم سے ملوایا تو الوہی چمک لئے اسے دیکھتا رہا تھا__ اسکے اس طرح دیکھنے سے حانم کو کوفت ہوٸی تھی۔ اور پھر وہ ہر جگہ مون بن کر اینجل کے پیچھے رہنے لگا۔
اسکو میڈی کا اینجل کے ساتھ گھومنا پسند نہيں تھا۔
اور جب میڈی نے اینجل کو پرپوز کیا تھا تو مون یعنی روحان نے اچھی خاصی دھلاٸی کی تھی اسکی۔۔
دو تین ماہ وہ مون بنا حانم کے پیچھے گھومتا اورجس روز حانم نے اسے دھمکی دی کہ وہ اسکا بچا ہوا چہرہ بھی جلا دے گی۔۔ اس روز وہ خوب ہنسا تھا__
اور اس نے ایک فیصلہ کرلیا تھا۔
اگلے روز وہ حشام کے پاس جانے والا تھا۔۔۔ مون نہيں بلکہ روحان جبیل بن کر___

____________________________

”تم یہاں کیا کر رہے ہو۔۔؟؟“
حشام اسے اپنے سامنے دیکھ کر حیران ہوا تھا۔

”کیوں کیا مجھے نہيں آنا چاہیۓ تھا؟؟“
روحان کا لہجہ کاٹ دار تھا۔

”نہيں میرا مطلب۔۔ کافی دنوں سے تم سے رابطہ نہيں ہوا آج یوں اچانک۔۔؟؟“
حشام کے وجیہہ چہرے پر پریشانی کی لکیریں واضح تھیں۔

”کچھ سوالوں کے جواب لینے آیا ہوں۔۔“
روحان جبیل سنجيدہ تھا۔۔ اتنا سنجيدہ اسے کبھی حشام جبیل نے نہيں دیکھا۔

”کیسے جواب۔۔؟؟“

”تم جانتے تھے حانم زندہ ہے۔۔ تم یہ بھی جانتے تھے کہ میں اسے ڈھونڈ رہا ہوں۔۔ پھر بھی تم نے چھپایا۔۔ کیوں۔۔؟؟“
اسے حشام سے یہ امید نہيں تھی۔ وہ اسکا سب سے اچھا دوست اور بھاٸی تھا۔ روحان کو دکھ ہو رہا تھا۔

” بولو حشام۔۔ پچھلے پانچ سالوں سے میں گناہ کی آگ میں سلگ رہا ہوں۔۔ پچھتاوا مجھے جینے نہيں دیتے۔۔ اسے دیکھنے کی تڑپ مجھے سکون نہيں لینے دیتی__تم سب جانتے تھے پھر بھی۔۔ پھر بھی تم نے مجھ سے چھپایا۔۔۔ کیوں۔؟؟“
وہ دبی دبی آواز میں چیخا تھا۔ حشام اس سے چھ سال بڑا تھا لیکن اس وقت وہ دونوں ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے تھے۔
ان دونوں میں کہیں بھی کوٸی فرق نہيں تھا۔ دونوں خوبرو تھے۔
دونوں ہی ایک لڑکی کو چاہتے تھے۔
روحان کی باتيں سن کر حشام دنگ رہ گیا تھا۔ اسے اندازہ نہيں تھا کہ روحان اس قدر چاہتا تھا حانم کو۔۔ اسے لگتا تھا کہ بس وہ اس سے مل کر معافی مانگنا چاہتا ہے۔۔ لیکن یہاں تو وہ پورا کا پورا گھاٸل تھا۔

”تمہاری خاموشی تمہيں گنہگار بنا رہی ہے حشام کچھ تو بولو۔۔“
روحان سننا چاہتا تھا اس نے ایسا کیوں کیا تھا۔

”چھ ماہ پہلے پتا چلا مجھے کہ حانم زندہ ہے۔ اس سے پہلے میں بھی اسے مرا ہوا سمجھ رہا تھا۔۔۔ لیکن سچ تو یہ حانم مر چکی ہے۔۔ جو زندہ ہے سانسیں لے رہی ہے وہ حانم نہيں اینجل ہے__ میں تمہارا بھاٸی ہوں صرف اسی وجہ سے وہ مجھ سے نفرت کرتی ہے۔۔ سوچو تم سے کتنی نفرت کرتی ہوگی__!!“
جس تکلیف سے حشام نے وہ الفاظ بولے تھے اتنی ہی گہری اذیت روحان کے جسم میں سن کر اتر گٸی تھی۔

”میں صرف یہ چاہتا تھا کہ وہ خوش رہے۔۔ تم تو اسے مردہ سمجھ ہی چکے تھے۔۔ اگر تمہيں بتادیتا تو یقيناً تم پہلے کی طرح اسکی زندگی میں دخل اندازی کرتے__!!“
حشام اب بیٹھ چکا تھا۔ روحان نے اذیت سے آنکهيں موند لی تھیں۔

”میں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔“
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد روحان بولا تو حشام کو جیسے کرنٹ لگا تھا۔

”یہ تم کیا کہہ رہے ہو۔۔؟؟“

”وہی جو تم نے سنا۔۔ میں ام حانم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔“
وہ اب پرسکون سا اپنی بات دہرا رہا تھا۔

”تمہيں کیا لگتا ہے وہ آرجے سے شادی کرے گی۔۔ وہ آرجے جس نے اسے اندھیروں کی دنیا میں دھکیل دیا تھا۔۔؟؟“
حشام حیران تھا۔ اسکے ایک طرف حانم تھی تو دوسری طرف روحان۔۔ وہ دونوں سے محبت کرتا تھا۔۔ اور دونوں کو تکلیف میں نہيں دیکھ سکتا تھا__

”آرجے سے نا سہی۔۔ روحان بن حیدر جبیل سے توکرلے گی نا۔۔؟؟“
روحان پرعزم تھا۔

”روحان تم سمجھنے کی کوشش کرو تم اب اسکا پیچھا چھوڑ دو۔۔ وہ بہت مشکلوں سے نارمل زندگی کی طرف لوٹی ہے۔۔۔ اگر تم زندگی میں جاٶ گے تو اچھا نہيں ہوگا۔۔“
حشام نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔

”یہ ممکن نہيں۔ وہ میری ہے۔۔ اور میری ہی رہے گی۔“

”وہ تمہارے لئے نہيں بنی۔۔ اگر بنی ہوتی تو مل جاتی اب تک تمہيں__!!“
حشام کی بات سن کر روحان کے لبوں پر خوبصورت سی مسکراہٹ کھیل گٸی تھی۔ وہ حشام کی بات سے لطف اندوز ہوا تھا۔

”کس نے کہا ہے وہ میرے لئے نہيں بنی۔۔ وہ میرے لئے ہی بنی ہے اور سالوں پہلے میں اسے اپنا چکا ہوں__!!

روحان کی بات نے حشام کو چونکنے پر مجبور کردیا تھا۔ اس نے جیب سے وہ نکاح نامہ نکال کر حشام کو دکھایا تھا۔
جسے دیکھ کر حشام سکتے میں چلا گیا تھا۔

”میں جانتا ہوں یہ سب ایک ڈرامہ تھا۔۔ لیکن اس ڈرامے میں ہم دونوں جڑ چکے ہیں__ شرعاً نا سہی قانونی طور پر یہ نکاح نامہ گواہ ہے کہ وہ میری بیوی ہے۔۔ اس سے بڑا کیا ثبوت چاہیۓ تمہيں حشام کہ وہ میری نہيں ہے۔۔“

روحان کی بات سن کر حشام نے ایک سرد آہ بھری تھی۔ وہ ہار گیا تھا۔

”اور جہاں تک بات ہے حانم کے مرنے اور بگڑ کر اینجل بننے کی تو تم فکر مت کرو۔۔ میں نے بگاڑا تھا میں ہی سنواروں گا___ وہ چاہے نفرت کرے یا محبت۔۔ لیکن شرط یہ ہے کہ مجھ سے ہی کرے__!!
حشام اسکا پاگل پن دیکھ کر حیران رہ گیا تھا۔

____________________________

”تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے حشام۔۔ تم جانتے ہو ہمارے خاندان میں خاندان سے باہر شادی نہيں کرتے۔۔“
حشام کی بات سن کر سید جبیل بھڑک اٹھے تھے۔

”میں جانتا ہوں چھوٹے بابا ساٸیں۔۔ لیکن روحان ان باتوں کو نہيں مانتا۔۔ اور وہ اسی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے۔۔ آپ اسے اچھے سے جانتے ہیں نکاح کرنا اسکا حق ہے۔۔ اگر آپ اجازت نہيں دیں گےتو وہ بابا ساٸیں کو اپنے ساتھ ملا کر یہ نکاح کرلے گا۔۔ بہتر ہوگا ہم سب دل سے اسکی خوشی میں شریک ہوں۔۔“
حشام نے ہی روحان کے نکاح کی بات گھر کی تھی۔ یہ سزا اسے روحان نے دی تھی۔

”لیکن اسے اتنی عقل نہيں کہ باہر شادی کرنے سے نسل۔۔

”ڈیڈ نسل مردوں سے چلتی ہے عورتوں سے نہيں__ مجھے امید ہے آپ اپنی مرضی سے اس رشتے کی اجازت دیں گے۔“
روحان نے سید جبیل کی بات پوری ہونے سے پہلے حشام کے ہاتھ سے فون لے کر اپنی سنا کر فون بند کرچکا تھا۔

”تم بہت ہی۔۔

”میں بہت ہی ذلیل آدمی ہوں۔۔ یہی کہنا چاہتے ہو نا۔۔“
روحان نے جل کر کہا تھا۔
ناچاہتے ہوٸے بھی اسکی بات سن کر حشام کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گٸی تھی۔
__________________________

حشام نے ماہی اور ایلا کو بلایا تھا اور انہيں ساری صورتحال سے آگاہ کیا تھا۔
البتہ مکی والی بات نہيں بتاٸی تھی۔ روحان نے یہ بتایا تھا کہ اس نے حانم پر الزام لگایا تھا کچھ جسکی وجہ سے وہ اس سے ناراض ہو کر پاکستان چھوڑ کر آگٸی تھی۔

ایلا تو آنکهيں پھاڑے روحان کو دیکھ رہی تھی۔ اسے یقین نہيں آرہا تھا وہ اتنا بدل گیا تھا۔

”ہمیں دونوں کی شادی کروانی ہوگی۔۔“
حشام دل پر پتھر رکھ کر سب کر رہا تھا۔ وہ اتنا تو جان گیا تھا کہ حانم اسکے لیۓ نہيں بنی۔۔

”بس اتنی سی بات۔۔ آپ لوگ پریشان نا ہوں سب ٹھیک ہو جاٸے گا۔۔“
ماہی پرجوش سی کہہ رہی تھی۔

__________________________

اور پھر حمدان انکل کے فون آنے۔۔ اور ماہی کے بدتمیزی کرنے سے نکاح ہونے تک سب کچھ ماہی کا پلان تھا۔
سواٸے آسیہ بیگم جنہيں بزنس میں نقصان کا کہا گیا تھا سب کو حقيقت معلوم تھی۔ اسی لئے سب خوش تھے___

سب سے زیادہ خوش جواد تھا۔۔ جو اب بچہ تو نہيں رہا تھا لیکن آرجے کیلیۓ وہ اب بھی پاگل تھا__
اسے ایک نٸے روپ میں اپنے سامنے دیکھ کر وہ خوشی سے آنکهيں نم کر بیٹھا تھا۔
روحان جبیل نے کھینچ کر اسے اپنے گلے لگایا تھا۔
ماہم بھی اسے نکاح والے دن دیکھ کر حیران رہ گٸی تھی۔
آرجے کی موت کے دکھ سے کہیں زیادہ خوشی جواد کو روحان جبیل کے ملنے کی ہوٸی تھی۔
یہ روحان کے حق میں اچھا رہا تھا کہ حانم نے اسے دیکھنے یا ملنے میں کوٸی دلچسپی ظاہر نہيں کی تھی۔ اور یوں سادگی سے نکاح ہوا تھا۔

جواد اسکے ساتھ ہی چپکا بیٹھا تھا۔
نکاح پر صرف حشام اور سید ضیا ٕ جبیل تھے۔ الیکشن کے دن تھے سید جبیل آ نہيں سکے تھے۔
باقی رخصتی پر سب اکٹھے ہونے والے تھے۔

یہی وہ وقت تھا جب جورڈن نے حشام اور ضیا ٕ جبیل کو ایک ساتھ دیکھا تھا۔ اور پھر اس نے حشام کو مار کر اپنا بدلا لینے کا فیصلہ کیا تھا۔

________________________

”اپنی بیوی کو ایک نظر دیکھ سکتا ہوں۔۔؟؟“
روحان ماہی کے سامنے کھڑا پوچھ رہا تھا۔

”ہمارے انکار کرنے سے آپ کونسا رک جاٸیں گے مسٹر روحان جبیل۔۔ جاٸیں دیکھ لیں۔۔“
وہ مسکراٸی تھی اور روحان حانم کے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا۔

وہ سرخ و سفید سادہ سے جوڑے میں دلہن کا روپ لیۓ بہت پیاری لگی تھی۔
وہ کتنی ہی دیر اسے دیکھتا رہا تھا۔
روحان کو یقین نہيں ہورہا تھا وہ اب ہر طرح سے اسکی تھی۔

”تمہارا اور میرا وہ تعلق ہے
جو کسی کتاب میں درج نہيں
تمہاری یاد اور
میری سماعت نے
ہم دونوں کے درمیان
ایک ربط قاٸم کیا ہے__

ہمارے درمیان کوٸی رابطہ نہيں ہے
پھر بھی ہم دونوں ایک دوسرے کیلیۓ
لازم و ملزم ہیں__!!
تم میرے لیۓ بہتے دریا کی مانند ہو جو
ہر رشتے کو سیراب کرتا ہے___!!

”تم نہيں جانتی حانم میں کہاں کہاں بھٹکا ہوں صرف تمہيں ایک نظر دیکھنے کیلیۓ۔۔ میں جانتا ہوں جب تمہيں سچائی پتا چلے گی تو تمہيں بہت برا لگے گا۔۔ لیکن میرا یقین کرو میں سب ٹھیک کردونگا__!!
وہ اسکے بیڈ کے پاس بیٹھتے ہوٸے کہہ رہا تھا۔

”تم بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔ اتنی پیاری کہ میں نے کبھی اتنی پیاری لڑکی نہيں دیکھی۔۔ لیکن تم بہت ظالم ہو۔۔ چہرہ جلانے جیسی خوفناک باتیں کرتی ہو۔۔!!“
وہ ریسٹورینٹ کا منظر یاد کرکے مسکرادیا تھا۔
کتنی ہی دیر وہ سرگوشیوں میں سوٸی ہوٸی حانم سے باتيں کرتا رہا تھا۔۔ لیکن جب وہ جانے لگا تو کھڑکی کے پاس رکھا گلدان نیچے گرگیا۔۔ جس سے حانم اٹھ گٸی تھی۔
لیکن وہ نکل آیا تھا۔

”آج تو بچت ہوگٸی۔۔ ورنہ نکاح کے دن ہی میرا قتل ہوتا__!!“
وہ بڑبڑاتا واپس آگیا تھا۔
_________________________

وہ لندن واپس چلا گیا تھا۔ ایک سمیسٹر فریز کروا کر آیا تھا۔
سب سے زیادہ خوشی اسے حانم سے بات کرکے ہوتی تھی۔۔ اسکی محبت دن بدن بڑھتی جا رہی تھی۔
اسے خوف تھا کہ کہیں حانم اسکی آواز نا پہچان لے۔۔ لیکن ایسا کچھ نہيں ہوا تھا۔
اسے کبھی کبھی احساس ہوتا تھا کہ حانم بعد میں سے دھوکے باز سمجھے گی۔۔ لیکن اسکا قصور بھی نہيں تھا اسی نے ملنے اور دیکھنے سے منع کیا تھا۔

وہ دونوں ایک سال بعد اٹھارہ جنوری کو اپنے نکاح کے دن ملنے والے تھے۔
انکا پہلا نکاح جو نکاح کا ایک ڈرامہ تھا وہ بھی اٹھارہ جنوری کو ہوا تھا۔۔ اور اصل نکاح بھی۔۔ اور آج بھی اٹھارہ جنوری تھی جب روحان جبیل کی محبت___ ام حانم___جو شاید اب اس سے شدید محبت کرتی تھی پیرس میں اسے خوش آمدید کہنے والی تھی___

روحان جہاں خوش تھا وہیں اسکا دل ڈر بھی رہا تھا__ وہ حانم کے ردعمل کو لے کر خوفزدہ تھا۔
اور کبھی کبھی جس بات کا ہمیں ڈر ہو۔۔ جو انہونی ہمیں خوفزدہ کرتی ہو۔۔ وہ پورا ہو جاتا ہے__ وہ انہونی ہو جاتی ہے___

حانم نے اسکی توقع سے بھی زیادہ شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا۔۔ اور اب ہسپتال میں سر پر لگنے والی چوٹ کی وجہ سے بےسود پڑی تھی۔

تکلیف تو بہت ہوٸی تھی روحان کو۔۔ لیکن وہ ہار نہيں ماننا چاہتا تھا___ چھ سال بعد آج ملن کا دن آیا تھا۔۔ وہ اس سے بری طرح ناراض ہوگٸی تھی۔

”کیا ہوا ہانی کو۔۔ وہ ٹھیک تو ہے نا روحان__؟؟“
ماہی کی آواز اسکی سماعت سے ٹکراٸی تھی۔ روحان چونک کر خیالوں سے باہر آیا تھا۔

زندگی کا ایک پہر اور گزر گیا تھا__ ایلا اور ماہی دونوں اسکے سامنے کھڑی تھیں۔ وہ دونوں جانتی تھیں آج روحان آنے والا تھا۔

”ہاں وہ ٹھیک ہے۔۔ لیکن سر پر چوٹ لگی تھی۔۔“
روحان نے سرد آہ بھرتے ہوٸے جواب دیا تھا۔

”شاک لگا ہے اسے شاید۔۔ اسی وجہ سے بےہوش ہوگٸی ہے۔۔!!“
روحان افسردہ لہجے میں کہہ رہا تھا۔

”یہ بیچاری ہانی کی قمست کہ اسے شاک (Shock)دینے والا شوہر ملا ہے۔۔ اسے معلوم ہی نہيں روحان جبیل تو لندن کی بڑی بڑی شخصيات کو گہرے Shocks دیتا ہے۔۔ اور یہ وہ تو پھر ایک نازک سی لڑکی ہے__!!
ایلا شرارتی لہجے میں کہہ رہی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: