Sulphite Novel by Noor Rajput – Episode 51

0
سلفائیٹ از نور راجپوت – قسط نمبر 51

–**–**–

( زندگی کے سات پہروں کی کہانی )

”یہ بیچاری ہانی کی قمست کہ اسے شاک (Shock)دینے والا شوہر ملا ہے۔۔ اسے معلوم ہی نہيں روحان جبیل تو لندن کی بڑی بڑی شخصيات کو گہرے Shocks دیتا ہے۔۔ اور یہ وہ تو پھر ایک نازک سی لڑکی ہے__!!
ایلا شرارتی لہجے میں کہہ رہی تھی۔
ایلا کی بات سن کر ماہی نے اسے گھورا تھا جبکہ روحان پریشان کھڑا تھا۔
اسے سمجھ نہيں آرہا تھا کہ آگے کیا ہوگا۔۔؟
وہ حانم کے ردعمل سے نابلد تھا__

”ڈاکٹر نے کیا کہا ہے؟؟“
ماہی نے پوچھا۔

”انہوں نے کہا ہے وہ بالکل ٹھیک ہے جب ہوش آجاٸے تو گھر لے جا سکتے ہیں__“

”ہمم۔۔ میں دیکھتی ہوں۔۔“
ماہی کہتی کمرے کے اندر چلی گٸی تھی۔
جبکہ ایلا غور سے روحان کو دیکھ رہی تھی۔ اسکی آنکهوں میں بےیقینی تھی۔

”ایک سال بعد ملی ہوں آج آپ سے۔۔ مجھے آج بھی یقین نہيں ہوتا کہ آپ آرجے ہی ہیں___ مطلب کوٸی اتنا کیسے بدل سکتا ہے__؟؟“
ایلا نے اپنے دل کی بات کر ہی دی تھی۔
روحان نے گہری نظروں سے ایلا کو دیکھا تھا۔ اسکی آنکهوں میں عجیب سی چمک تھی۔ اسکے اس طرح دیکھنے پر ایلا سٹپٹا گٸی تھی۔

”یہ تو سچ میں آرجے ہے۔۔“
ایلا زیرلب بڑبڑاٸی۔ روحان کی آنکهوں کی چمک دیکھ کر اسے وہ دن یاد آگیا تھا جب اس نے حشام اور مکی کے ساتھ بیٹھے آرجے کا آٹوگراف لیا تھا۔
اسکی آنکهوں کی چمک اور ذہانت اسکے آرجے ہونے کی گواہ تھی۔

”کوٸی بھی انسان کبھی بھی بدلتا نہيں ہے۔۔ وہ وہی رہتا ہے۔۔ اسکا اصل وہی ہوتا ہے__ بس یا تو وہ بگڑ جاتا ہے یا پھر سدھر جاتا ہے__ اور ہم سمجھتے ہیں انسان بدل گیا ہے__!!
وہ گہرے سنجيدہ لہجے میں کہہ رہا تھا۔
اس سے پہلے ایلا کچھ کہتی اچانک حانم کے کمرے سے شور کی آوازیں ابھری تھی۔

”تم سب نے مل کر مجھے دھوکا دیا ہے__ سب نے مجھے بےوقوف بنایا ہے“
حانم دبی دبی آواز میں چلا رہی تھی۔ شدت جذبات سے اسکا پورا وجود کانپ رہا تھا۔ اس نے کبھی سوچا نہيں تھا کہ جس شخص کا وہ نام سننا بھی گنوارا نہيں کرتی تھی۔ وہ اسکی زندگی کا سب سے اہم فرد بن گیا تھا___ اور تو اور وہ انجانے میں اسی شخص سے محبت کر بیٹھی تھی۔

”ہانی تمہيں کسی نے دھوکا نہيں دیا۔۔ وہ روحان بن حیدر جبیل ہے آرجے نہيں“
ماہی نے اسکے پاس بیٹھتے ہوٸے پیار سے سمجھایا۔

”سب سمجھ آرہا ہے مجھے اب۔۔ سب سمجھ رہی ہوں۔۔“
حانم نے دونوں ہاتھوں سے سر کو پکڑتے ہوٸے کہا تھا۔ وہ رونا نہيں چاہتی تھی۔ لیکن گلے میں کچھ اٹک گیا تھا۔
ایلا بھی کمرے میں آگٸی تھی۔ جبکہ روحان کمرے سے باہر کھڑا اسکی باتيں سن رہا تھا۔

”اپنے دل سے پوچھو ہانی۔۔ تمہيں محسوس ہوگا تمہيں کسی نے دھوکا نہيں دیا۔ سب تم سے پیار کرتے ہیں۔۔ سب___“
ماہی نے اسکا ہاتھ پکڑتے ہوٸے اسے اشارہ کیا تھا۔

حانم آنسوں ضبط کرتی سرخ آنکهوں سے اسے دیکھ کر رہ گٸی تھی۔

”چلو اٹھو اب ہم نے گھر جانا ہے۔۔ اور اس سے پہلے روحان سے مل لو۔۔ کب سے باہر بیٹھا تمہارے ہوش میں آنے کا انتظار کر رہا ہے۔۔“
ماہی اسکا ہاتھ دباتی ایلا کو لے کر کمرے سے باہر نکل گٸی تھی۔
حانم نے تھک ہار کر بیڈ سے ٹیک لگا لی تھی۔
وہ تھک گٸی تھی۔ وہ ماضی کو نہيں سوچنا چاہتی تھی۔۔ روحان کے آنے سے اسکی زندگی کتنی خوبصورت ہوگٸی تھی۔ وہ جیسے سارے غم بھول گٸی تھی۔۔
اور اب روحان کو دیکھ کر جیسے اسکے سارے زخم ہرے ہوگٸے تھے۔
اسے سمجھ نہيں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔۔؟؟
دماغ جیسے سن ہو کر رہ گیا تھا۔
کوشش کے باوجود بھی اسکی بند آنکهوں سے ایک آنسو نکلا اور کنپٹی پر پھسلتا چلا گیا۔

”میں نے اپنے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ میں کبھی تمہاری آنکھ میں آنسو نہيں آنے دونگا۔۔ اور آج مجھے خود پر افسوس ہو رہا ہے__!!
روحان کی آواز پر وہ کرنٹ کھا کر اچھلی تھی۔ وہ اسکے سامنے کھڑا تھا اپنی تمام تر وجاہت کے ساتھ۔
سفید رنگ کی شرٹ کی بازو پر سرخ داغ لگے تھے۔ وہ شاید حانم کا خون تھا جو پیشانی پر چوٹ کی وجہ سے نکلا تھا۔
یعنی وہ اٹھا کر لایا تھا۔ حانم یہ سوچ پر دنگ رہ گٸی تھی۔
وہ چہرہ دوسری جانب پھیر چکی تھی۔ اور ہونٹوں کو سختی سے ایک دوسرے میں بھینچ لیا تھا۔
روحان اسکے یوں چہرے کا رخ بدلنے پر حیران ہوا تھا۔ اسے لگا تھا کہ وہ چیخے گی برا بھلا کہے گی۔۔ لیکن نہیں۔ وہ خاموش تھی_____

”حانم۔۔“
کتنے جذب سے پکارہ تھا اس نے۔ حانم نے آنکهيں میچیں۔ اسکا دل دھڑکا تھا۔ ایسے ہی وہ اسے فون پر پکارا کرتا تھا۔

”میں آرجے نہيں رہا اب__ میں اپنی صفائی میں کچھ نہیں کہونگا۔۔ اور نا ہی معافی مانگوں گا۔۔ شاید مجھے اسکا حق نہيں لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں___ تم سے گزارش ہے کہ میری محبت کو مت دھتکارنا__!!
اسکا نرم گرم لہجہ جذبات کی آنچ سے دہک رہا تھا۔
وہ خاموش رہی تھی۔ آنسوٶں کو ہاتھ کی ہتھیلی سے صاف کیا تھا۔
کتنا خوش تھی وہ آج کے دن___ لیکن پھر ساری خوشیاں جیسے آنسوٶں میں بدل گٸیں۔
کچھ پل گہری خاموشی کی نظر ہوٸے تھے۔ حانم اپنے چہرے پر اسکی گہری نظروں کی تپش کو محسوس کر رہی تھی۔ حانم کو لگا تھا اسکا سانس رک جاٸے گا۔

وہ ایک جھٹکے سے بیڈ سے نیچے اتری تھی۔

”دھیان سے۔۔“
روحان بیتابی سے اسکی جانب لپکا تھا۔ وہ اسے پکڑنا چاہتا تھا۔

”میں ٹھیک ہوں۔۔“
حانم نے ہاتھ بڑھا کر اسے دور رہنے کا اشارہ کیا تھا۔ اسکا لہجہ سرد تھا۔
روحان ایک سرد آہ بھر کر رہ گیا تھا۔
وہ اپنے سکارف کو اچھی طرح سر پر لپیٹتے ہوٸے اب جوتے پہننے کی کوشش کر رہی تھی۔
روحان سنجيدہ چہرہ لیے بغور اسکا جاٸزہ لے رہا تھا۔ وہ ناراض اور مصروف سی اچھی لگ رہی تھی۔ سال بعد اسے اپنی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔

نیچے جھک کر جوتے پہننے پر درد کی ایک ٹھیس اسکے سر میں اٹھی تھی۔
شاید نیچے گرنے کی وجہ سے گردن پر بھی چوٹ آٸی تھی۔ اسے کراہتے دیکھ کر وہ حانم کی طرف لپکا۔

”مجھے لگا تھا کہ ان چھ سالوں میں تم بھی بدل گٸی ہوگی۔۔ لیکن نہيں۔۔ مجال ہے جو ام حانم بدل جاٸے__ وہ آج بھی ویسی ہی ضدی اور ہٹ دھرم ہے__!!
اسکے خوبصورت جوتے کو نیچے سے اٹھاکر اسکی جانب بڑھاتے ہوٸے وہ گھمبیر سنجيدہ لہجے میں کہہ رہا تھا۔
حانم نے اسکے قریب آنے پر گھور کر اسے دیکھا تھا۔

”ایسے کیا دیکھ رہی ہو۔۔ اب یہ جوتا میرے سر میں مت مار دینا۔۔ پہننے کے لیۓ دیا ہے__!!
اسکے تیکھے لہجے پر حانم کا چہرہ سرخ ہوا تھا۔ وہ انتہا کا صاف گو تھا۔

”تت۔۔ تم۔۔“
وہ کہنا چاہتی تھی لیکن تم کا لفظ اسکی زبان سے ادا نہیں ہوا تھا۔ وہ پورا ایک سال اسے آپ آپ کہتی رہی تھی۔ محبت سے زیادہ وہ روحان حیدر سے عقیدت رکھتی تھی۔

”میں خود پہن لوں گی۔۔“
حانم نے ایک جوتا پہننے کے بعد دوسرا اٹھانے کیلیۓ دوبارہ جھکی۔

”مجھے ضدی اور ہٹ دھرم لڑکياں نہيں پسند“
وہ ایک گھٹنا زمین ہر ٹکاٸے بیٹھا تھا۔ نظریں حانم کے چہرے پر تھیں۔
جبکہ حانم اسے دیکھنے سے گریز کر رہی تھی۔
اس ایک سال میں اس نے روحان کی ہر بات مانی تھی۔ وہ کافی تابعدار ثابت ہوٸی تھی۔ اب آرجے کو اپنے سامنے دیکھ کر اس میں ہانی والی روح جاگ اٹھی تھی۔
حانم اب دوسرا جوتا بھی پہن چکی تھی۔ اس نے خود کو سخت الفاظ کہنے سے روکا ہوا تھا۔

”چلیں“
روحان نے کھڑے ہوکر اسکی جانب ہاتھ بڑھایا تھا۔

”شکریہ۔۔“
حانم اسکے ہاتھ کو مکمل نظرانداز کرکے بیڈ سے اٹھی تھی اور دروازے کی طرف بڑھ گٸی۔
روحان بس ایک سرہ آہ بھر کر رہ گیا تھا۔

_________________________

انہيں گھر چھوڑنے کے بعد روحان حشام کے گھر کی طرف بڑھ گیا تھا۔
پورا راستہ وہ خاموش سی گاڑی سے باہر دیکھتی رہی تھی۔
اسے سمجھ نہيں آرہا تھا روحان جیسے ہمسفر کے ملنے پر ہنسے۔۔ یا آرجے کے لوٹ آنے پر روٸے۔۔
اسے سمجھ نہيں آرہا تھا کہ قمست کی اس ستم ظریفی پر وہ کیا کرے___
حانم کو اب افسوس ہو رہا تھا کہ کاش وہ نکاح والے دن اسے دیکھ لیتی__ لیکن جو ہونا تھا وہ تو ہوگیا تھا__

گاڑی رکنے پر وہ سب سے پہلے گاڑی سے اتری تھی اور پھر بنا پیچھے دیکھے وہ بلڈنگ کی طرف بڑھی تھی۔

”پریشان مت ہونا روحان۔۔ وہ تھوڑی پاگل ہے۔۔ تم بھی جانتے ہو۔۔ لیکن سب ٹھیک ہو جاٸے گا۔۔“
ماہی نے اسے تسلی دی تھی جس پر وہ مسکرا کر رہ گیا تھا۔
____________________________

حانم اپنے کمرے میں پریشانی سے ادھر ادھر ٹہل رہی تھی۔ اسے سمجھ نہيں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے__
اگر وہ آسیہ بیگم سے بات کرتی تو یقيناً وہ سب پوچھتیں۔

”تم سب نے مل کر دھوکا دیا ہے مجھے۔۔“
حانم کی سماعت سے اسکے اپنے الفاظ ٹکراٸے۔

”ہانی تمہيں کسی نے دھوکا نہيں دیا۔۔ وہ روحان بن حیدر جبیل ہے آرجے نہيں“
ماہی نے کہاتھا۔

”اففف“
حانم نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھاما تھا۔ وہ انجانے میں کیا بول گٸی تھی لیکن جو جواب ماہی نے دیا تھا اسے اب احساس ہو رہا تھا یقيناً وہ بہت کچھ جانتی تھی۔

”یہ کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ۔۔؟؟“
حانم کو اپنا دماغ سن ہوتا محسوس ہوا تھا۔
وہ بیڈ پر بیٹھے بیٹھے لیٹ گٸی تھی۔ آنکهوں کو بند کیا تھا۔ وہ سوجانا چاہتی تھی۔۔
پریشانیوں سے بچنے اور غلط سوچوں کو اپنے ذہن سے نکالنے کا یہی ایک بہترین طریقہ تھا۔
وہ اس وقت کچھ سوچنا نہيں چاہتی تھی___ سب کیا ہوا تھا کیوں ہوا تھا؟ کچھ بھی نہيں۔

وہ کتنی ہی دیر آنکهيں موندے لیٹی رہی تھی اور پھر شاید ابھی تک وہ دواٶں کے زیراثر تھی اسی لیۓ سوگٸی۔
_______________________

”کیسا لگا حانم سے مل کر۔۔؟؟“
یہ ایلف تھی۔وہ جانتی تھی روحان آج اس سے ملنے والا تھا۔ اسی لیۓ اس نے رات کو فون کیا تھا۔

”مجھے خود سمجھ میں نہيں آرہا تھا۔ مجھے جس ردعمل کی توقع تھی وہ نہيں ہوا۔۔ لیکن جو نہيں سوچا وہ ہو رہا ہے___ وہ خاموش ہے۔ اس نے کچھ نہيں کہا مجھ سے__“
روحان نے نہ چاہتے ہوٸے بھی ایلف کو بتادیا تھا۔ وہ اچھی لڑکی تھی اور ہمیشہ مفید مشورہ دیتی تھی۔
”یعنی ایک سلفاٸیٹ نے دوسرے سلفاٸیٹ کو حیران کردیا ہے۔۔“
وہ مسکراٸی تھی۔

”ہاں بہت زیادہ۔۔“
روحان نے اعتراف کیا تھا۔

”یقيناً وہ صدمے کے زیراثر ہوگی۔۔ اسے کچھ وقت دو۔۔ حالات کو سمجھنے کا اور تم خود اسے سمجھنے کی کوشش کرو۔۔ امید ہے سب بہتر ہوگا۔۔“
ایلف کی بات سن کر روحان کے تنے ہوٸے اعصاب ڈھیلے پڑے تھے۔ ایلف فون بند کر چکی تھی۔ جبکہ روحان ایک بار پھر گہری سوچ میں ڈوب گیا تھا۔

____________________________

”صرف ایک ہفتہ رہ گیا ہے ماہم کی شادی میں۔۔ میں چاہتی ہوں ماہی بیٹا اب تم بھی شادی کرلو۔۔ حانم کی بھی ہوچکی ہے۔۔ میں چاہ رہی ہوں ماہم کے ساتھ ہی حانم کی بھی رخصتی ہوجاٸے۔۔ بس ایک تم رہ گٸی ہو۔۔“
آسیہ بیگم کا فون تھا۔ ماہی غور سے انکی باتيں سن رہی تھی۔

”آپ میری چاہت سے واقف ہیں چھوٹی امی۔۔ میں حشام کے علاوہ کسی اور کا نہيں سوچ سکتی__ جب تک وہ شادی نہ کرلے میں بھی نہيں کرونگی۔۔ میں اسکا انتظار کرونگی۔۔“
ماہی اب انہيں چھوٹی امی کہہ کر بلاتی تھی۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ پرخلوص تھیں۔

”حمدان تمہيں لے کر پریشان رہتے ہیں ماہی۔۔ اور مجھے بھی اچھا نہيں لگتا کہ میری اپنی بیٹیوں کی شادی ہوجاٸے اور تمہاری نہيں___ میں تمہيں بھی اپنے گھر میں خوش دیکھنا چاہتی ہوں۔“

”میں جانتی ہوں بابا بھی یہی چاہتے ہیں۔۔ اگر آپ مجھے خوش دیکھنا چاہتی ہیں تو میرے لیۓ دعا کیا کریں۔۔ میری خوشی حشام ہے۔۔ صرف حشام۔۔“

”لیکن ماہی بیٹا اسکا تو رشتہ ہوچکا ہے۔۔ منگنی بھی۔۔ تم ابھی بھی۔۔“
آسیہ بیگم بات ادھوری چھوڑ گٸی تھیں۔
بی جان نے حشام کا رشتہ اپنی بھانجی سارہ سے کردیا تھا۔
انکی بات سن کر ماہی کو اپنے اندر کچھ کٹتا محسوس ہوا تھا۔ لیکن وہ آنسو ضبط کر گٸی تھی۔

”جانتی ہوں اور ابھی نکاح نہيں ہوا۔۔ نکاح ہونے تک مجھے انتظار کرنا ہے“
ماہی کا لہجہ اٹل تھا۔ آسیہ بیگم گہری سانس لےکر رہ گٸی تھیں۔

_________________________

وہ پین سے گرم دودھ کو گلاس میں ڈال رہا تھا جب دروازے پر ہونے والی مسلسل بیل نے اسکی توجہ اپنی جانب مزول کرواٸی۔

”آرہا ہوں صبر کرو۔۔“
جورڈن نے چھوٹے سے کچن سے ہی ہانک لگاٸی تھی۔ وہ اس وقت ٹی شرٹ اور ٹراٶزر میں ملبوس تھا۔
بالوں کو اس نے پونی میں قید کیا ہوا تھا۔ ٹی شرٹ سے اسکے کسرتی بازو نمایاں تھا۔ اسے باکسنگ اور جم جانے کا بچپن سے ہی شوق تھا۔ اور آہستہ آہستہ باکسنگ کا شوق اسکا پیشہ بن گیا تھا۔

دودھ کے گلاس کو لاٶنج میں پڑے میز پر رکھنے کے بعد وہ دروازے کی طرف بڑھا تھا۔
جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا باہر کھڑے لوگوں کو دیکھ کر دنگ رہ گیا تھا۔ پہلے وہ حیرت سے حشام جبیل،روحان جبیل اور ضیا ٕ جبیل کو دیکھتا رہا تھا اور پھر اسکی آنکهوں میں نفرت کے شعلے بھڑکے۔
ایک ہی پل میں غصے سے اسکا دماغ گھوما۔ جورڈن نے اپنی مٹھیوں کو بھینچ کر سامنے کھڑے اس شخص کو دیکھا جو اسکا باپ تھا۔۔جسے وہ اپنی ماں کا قاتل سمجھتا تھا۔
جورڈن نے بنا کچھ کہے دروازہ بند کرنا چاہا جسے آگے بڑھ کر حشام نے پکڑا تھا۔

”پلیز جورڈن ایک بات ہماری بات سن لو۔۔“
حشام نے منت کی تھی۔ ضیا ٕ جبیل کی آنکهوں میں اپنے کڑیل جوان بیٹے کو دیکھ کر نمی ابھری تھی۔ وہ مارتھا سے بہت مشابہت رکھتا تھا۔
وہ اسے محبت پاش نظروں سے دیکھ رہے تھے۔

”کیوں آٸے ہو تم لوگ۔۔ دفع ہوجاٶ یہاں سے میں تم سب سے نفرت کرتا ہوں۔۔“
جورڈن دھاڑا تھا۔

”ہم چلیں جاٸیں گے میرے بچے۔۔ بس ہماری بات سن لو ایک بار۔۔“
ضیا ٕ جبیل نے بھراٸی آواز میں کہا تھا۔ جورڈن نے غصے سے دونوں دانتوں کو بھینچا تھا۔
اسکا بس نہيں چل رہا تھا ورنہ وہ سامنے کھڑے شخص کا خون کر دیتا۔

ضیا ٕ جبیل کو پیرس حشام نے بلایا تھا۔ جورڈن سے ملنے کے بعد کتنے ہی دن حشام پریشان رہا تھا۔ وہ اپنے باپ سے ناراض رہا تھا۔ غصہ ٹھنڈا ہونے پر اس نے اب ضیا ٕ جبیل کو بلایا تھا تاکہ وہ جورڈن سے معافی مانگ سکیں اور اسے اپناٸیں۔

”مجھے کوٸی بات نہيں سننی جاٶ یہاں سے۔۔۔“
وہ پھر چیخا۔

”تمہيں مارتھا تاٸی امی کی قسم ہے جورڈن۔۔ ایک بار بات سن لو۔۔“
روحان کے کہنے جورڈن کے اعصاب ڈھیلے پڑے تھے۔ وہ تھک گیا تھا۔ اس نے خود پر ضبط کرکے انہيں اندر آنے دیا تھا۔

____________________________

ضیا ٕ جبیل نے جورڈن سے معافی مانگی تھی وہ اسے پاکستان لے جانا چاہتے تھے۔ وہ اسکا خون تھا۔
جورڈن خاموش بیٹھا رہا تھا۔

”آپ مجھے میری ماں واپس نہيں لوٹا سکتے۔۔ میری محرومیوں والی زندگی اور بچپن کا مداوہ نہيں کر سکتے۔۔ آپ کچھ نہيں کر سکتے پھر کیوں آٸے ہیں آپ یہا۔۔ مجھے آپکی ضرورت نہيں ہے۔۔ میری ماں آپکی بےوفاٸی کے دکھ میں مری ہے۔۔ مجھے آپکی ضرورت نہيں ہے جاٸیں یہاں سے“
وہ دبی دبی آواز میں چلا رہا تھا۔

”میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں میرے بچے۔۔ میں تمہيں اتنے سالوں میں ایک پل کیلیۓ بھی نہيں بھولا۔۔ مجھے معاف کردو۔۔“
ضیا ٕ جنیل رو دیٸے تھے۔

”یقيناً تاٸی امی نے تمہيں معاف کرنا سکھایا ہوگا جورڈن۔۔ معاف کردو بڑے ڈیڈ کو۔۔ وہ ابھی اتنے سالوں سے سکون کی نیند نہيں سوٸے۔۔ پچھتاوے کی آگ میں جلتے رہے ہیں___“
روحان نے آگے بڑھ کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔ اور جورڈن کو مارتھا یاد آگٸی تھی۔۔ جو اسے معاف کرنے اور محبت کا درس دیتی تھی۔
حشام سارا وقت خاموش رہا تھا۔ وہ ان دونوں باپ بیٹوں کو اپنے اپنے دل کی باتيں کہہ دیتے ہوٸے دیکھنا چاہتا تھا۔

_________________________

”ہانی پیکنگ ہوگٸی تمہاری۔۔۔؟؟“
ماہی اسکے کمرے میں داخل ہوتی پوچھ رہی تھی۔ جو بےدلی سے سوٹ کیس میں اپنے کپڑے رکھ رہی تھی۔

”کر رہی ہوں۔۔“
حانم نے سرد سے لہجے میں جواب دیا تھا۔ وہ سب لوگ پاکستان جا رہے تھے۔ ماہم کی شادی تھی۔
شام کی فلاٸٹ تھی انکی۔ حانم ماہی اور ایلا کے ساتھ ساتھ سب سے ناراض تھی۔
وہ کسی سے بھی بات نہيں کر رہی تھی۔ ان چھ سالوں میں وہ پہلی بار پاکستان جا رہی تھی۔ جسکی وجہ سے وہ پاکستان چھوڑ کر آٸی تھی وہ اب اسکی زندگی کا سب سے اہم حصہ بن گیا تھا۔۔ اب پاکستان سے کیا دشمنی تھی۔

ماہی نے غور سے حانم کو دیکھا تھا جسکے چہرے پر سنجيدگی چھاٸی تھی۔ ماہی جانتی تھی حانم بہت غصے میں تھی۔ اگر وہ کم غصے میں ہوتی تھی تو لڑجھگڑ لیتی تھی۔
لیکن بہت زیادہ غصہ اسے صدمے میں پہنچا دیتا تھا۔ اور اس وقت بھی وہ گہرے صدمے میں تھی۔ اسی لیۓ خاموش تھی۔

”ٹھیک ہے اچھی بات ہے۔۔ پیکنگ کرکے آجاٶ ناشتہ کرلو۔۔ روحان بھی آیا ہے۔۔“
ماہی اسے اطلاع دیتی جا چکی تھی۔ جبکہ حانم کی غصے سے تیوری چڑھی۔

____________________________

وہ تینوں جورڈن کے پاس سے واپس آگٸے تھے۔ جورڈن نے ناچاہتے ہوٸے بھی انہيں معاف کردیا تھا۔ لیکن پاکستان جانے سے منع کردیا تھا۔
وہ کسی صورت پاکستان جا کر انکے ساتھ نہيں رہنا چاہتا تھا۔

ضیا ٕ جبیل نے بہت منتیں کی تھیں۔لیکن وہ لوگ اسے نہيں منا پاٸے۔۔
ایک بوجھ سا ضیا ٕ جبیل کے دل سے اتر گیا تھا۔
جبکہ جورڈن کے انکار نے انہيں مزید ایک بوجھ تلے دبا دیا تھا۔
وہ بوجھل دل کے ساتھ واپس آگٸے تھے۔

______________________________

وہ تیار شیار ہو کر اپنے کمرے سے باہر نکلی تھی۔ نیچے کھانے کی میز پر سب کے ساتھ روحان موجود تھا۔
حانم انہيں نظر انداز کرتی باہر کی طرف بڑھی تھی۔

”ہانی کہاں جارہی ہو تم۔۔ ناشتہ نہيں کرنا کیا۔۔؟؟“
ماہی نے اسے باہر جاتے دیکھ کر پوچھا۔

”نہيں مجھے بھوک نہيں ہے۔۔“
وہ سرد لہجے میں کہتی باہر نکل گٸی تھی۔ ۔ماہی نے سوالیہ نظروں سے روحان کو دیکھا تھا جس نے کندھے اچکا کر اپنی بےخبری کا اظہار کیا تھا۔ وہ خود نہيں جانتا تھا کہ وہ کہاں جا رہی تھی۔

_____________________________

حشام پوری توجہ سے کلاس کو لیکچر دے رہا تھا جب کلاس روم کے دروازہ پر ہونے والی دستک نے چونکایا۔

”مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے مسٹر حشام جبیل۔۔“
حانم کو دیکھ کر وہ حیران رہ گیا تھا۔ پوری کلاس کبھی حشام کو تو کبھی حانم کو دیکھ رہی تھی۔ وہ کلاس سے معذرت کرتا باہر نکل آیا تھا۔

کچھ دیر بعد وہ دونوں ڈیپارٹمنٹ کے لان میں موجود تھے۔

”خیریت مسز حانم روحان جبیل کو آج میری یاد کیسے آٸی۔۔؟؟“
وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتے ہوٸے پوچھ تھا۔

”آپ بھی سب کے ساتھ ملے ہوٸے تھے نا۔۔؟؟“
حانم کے خوبصورت چہرے پر غصہ تھا۔
ہلکی ہلکی دھوپ نے سردی کی شدت کو تھوڑا کم کیا تھا۔ لیکن دھوپ کا یہ دورانیہ بہت ہی کم ہوتا تھا۔
اسکی بات سن کر حشام نے ایک گہرا سانس لیا تھا۔
”مجھے جو ٹھیک لگا وہی کیا۔۔“
حشام نے نرم لہجے میں جواب دیا تھا۔

”آپ جانتے تھے نا کہ میں آرجے سے نفرت کرتی ہوں آپ نے مجھے نہيں بتایا کہ وہ زندہ ہے۔۔ اور اور۔۔“
شدت جذبات سے حانم کی آواز کانپ رہی تھی۔

”سالوں تک روحان بھی تمہيں مرا ہوا سمجھتا رہا ہے۔۔ ہر سکے کے دو رخ ہوتے ہیں حانم۔۔ آپ نے بس ایک دیکھا ہے___ جب آپ دوسرا دیکھیں گی تو یقيناً آپکو آپکے ہر سوال کا جواب مل جاٸے گا۔۔“
وہ سنجيدہ لہجے میں کہتا اسکی بات کاٹ چکا تھا۔
حانم بس اسے دیکھ کر رہ گٸی تھی۔
خاموشی___گہری خاموشی___
وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی حشام کے سامنے آکر کھڑی ہوگٸی تھی۔

”آپ مجھ سے شادی کرنا چاہتے تھے نا۔۔؟؟ مجھے آرجے کے ساتھ نہيں۔۔ کیا آپ مجھ سے شادی کرینگے اگر میں اس سے طلاق لے لوں۔۔“
وہ چاہ کر بھی ”روحان سے طلاق“ کا لفظ استعمال نہيں کر پاٸی تھی۔

حشام تو اسکی بات سن کر دنگ رہ گیا تھا۔ وہ حیرت سے حانم کو دیکھ رہا تھا جو کافی پرسکون کھڑی تھی۔
کچھ دیر تک وہ حانم کی آنکهوں میں دیکھتا رہا تھا جیسے تصدیق چاہتا ہو کہ وہ مذاق کر رہی تھی یا سچ کہہ رہی تھی۔
سورج کی روشنی خاص زاویے سے حانم کے چہرے کو چھو رہی تھی۔ اور پھر اسکا پیداٸشی نشان چمکا تھا۔۔ تیز روشنی حشام کی آنکهوں سے ٹکراٸی تو وہ رخ پھیرنے پر مجبور ہوگیا تھا۔

یہ روشنی ہمیشہ اسکی نظروں کو حانم کے چہرے سے ہٹا دیتی تھی۔۔ اور یہ ثابت کرتی تھی اسے دیکھنا کا حق حشام کو نہيں____

”ہرگز نہيں۔۔“
حشام بولا تو اسکا لہجہ سخت تھا۔

”لیکن کیوں۔۔۔؟؟“
حانم نے پوچھا۔

”آپ پاگل ہوگٸی ہیں ام حانم۔۔ آپ میرے بھاٸی کی بیوی ہیں۔۔ میرے لیۓ قابل احترام۔۔ لگتا ہے روحان کو زندہ دیکھ کر آپکے سوچنے سمجھنے کی صلاحيت کام کرنا چھوڑ گٸی ہے۔۔ لیکن اسکا زندہ ہونا اللہ کا حکم اور مرضی ہے___ میرے دل میں جو جذبات تھے وہ دو سال پہلے تھے اب نہيں رہے__ بہتر ہوگا آپ حالات کو سمجھنے کی کوشش کریں اور آٸندہ اس طرح کا خیال اپنے ذہن میں مت لاٸیں___!!“
حشام کا لہجہ سخت تھا۔وہ کافی غصے میں تھا۔

حانم اسکی بات سن کر لاجواب ہوچکی تھی۔ وہ کافی دیر خاموش کھڑی رہی اور بنا کچھ کہے وہاں واپس چلی گٸی۔

حشام جو رخ موڑے کھڑا تھا اسکے جانے کے بعد پلٹا اور نم آنکهوں سے اسے دور جاتا دیکھ رہا تھا۔

بہت مشکل ہوتا ہے اس شخص کا دل توڑنا جسے آپ بےپناہ محبت کرتے ہوں______

وہ دھیرے دھیرے اسکی نظروں سے دور ہورہی تھی۔ اسے حانم سے اس بےوقوفی کی امید نہيں تھی۔

”میں جانتا ہوں
کہ یہ تعلق بہت دِنوں تک نہیں رہے گا
کسی سفر کی کسی سڑک پر بغیر پوچھے بغیر بولے
بغیر اک دوسرے کو دیکھے
نظر جُھکائے
خود اپنی اپنی مسافتوں پر نکلنا ہو گا
میں جانتا ہوں کسی پڑاٶ پہ عُمر بھر کے لئے اچانک بچھڑنا ہو گا
سو ایسا کر لیں__
ہم ایک دوجے کو دل میں بھر لیں
میں تجھ کو سارے کا سارا رٹ لوں
تُو مجھ کو سارے کا سارا پڑھ لے
سُنا ہے لمبی مسافتوں کے سفر میں زادِ سفر نہ ہو
طویل رستے نہیں گزرتے___!!

حشام نے اسے جاتے ہوٸے دیکھ کر سوچا تھا۔۔ لیکن وہ یہ اچھے سے جانتا تھا صرف وہی اسکو دل میں بھرنے والا تھا۔۔ صرف وہی اسے رٹنے والا تھا___ نہ وہ اسے چاہتی تھی اور نہ کبھی ایسا ممکن تھا۔ وہ اس وقت غصے میں تھی۔ کچھ سوچ نہيں پارہی تھی۔۔
لیکن وہ یہ بھی اچھے سے جانتا تھا کہ وہ صرف روحان جبیل سے محبت کرتی تھی___

__________________________

وہ تمام لوگ اس وقت ایٸر پورٹ پر موجود تھے۔ ماہی،ایلا، حانم، روحان، حشام اور ضیا ٕ جبیل وہ سب پاکستان جا رہے تھے۔
ماہم کی شادی تھی۔ جو کافی دھوم دھام سے ہونی تھی۔
حانم کی دوبارہ ابھی تک براہ راست روحان سے ملاقات نہيں ہوٸی تھی۔
وہ اس سے چھپ رہی تھی۔۔ اسے نظر انداز کر رہی تھی۔ روحان یہ بات اچھے سے جانتا تھا۔ وہ خاموش تھا وہ چاہتا تھا کہ حانم تھوڑا وقت لے اور سب سمجھنے کی کوشش کرے۔

ماہی غور سے حشام کو دیکھ رہی تھی۔ اسے خوشی ہو رہی تھی وہ انکے ساتھ جا رہا تھا۔ کچھ دیر بعد ماہی کو احساس ہوا تھا کہ حشام کے چہرہ کا رنگ زرد پڑ چکا تھا۔
اسے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کافی کمزور ہوگیا تھا۔ لیکن وہ پوچھ نہيں پاٸی تھی۔

شام کے اس پہر میں وہ پیرس کو خیر آباد کرکے پاکستان کی طرف روانہ ہو چکے تھے۔

____________________________

حشام اور ضیا ٕ جبیل اکٹھے بیٹھے تھے۔ حانم کی سیٹ ماہی کے ساتھ لیکن اسکی سیٹ پر ایلا بیٹھ چکی تھی۔

”یہ میری سیٹ ہے۔۔“
حانم نے دہاٸی تھی۔

”سوری لیکن مجھے اور ماہی کو ایک ساتھ سفر کرنے کی عادت ہے۔۔ ویسے بھی میرا دل خراب ہوجاتا ہے۔ میں اپنے کرش کے پاس بیٹھ کر اسکا بھی دل خراب نہيں کر سکتی۔۔“
ایلا شرارت سے کہہ رہی تھی۔ حانم نے اسے گھورا تھا۔
”جاٶ اپنے شوہر کے ساتھ جا کر بیٹھو ایسا موقع بار بار نہیں ملتا۔۔“
ایلا نے ایک آنکھ دباتے ہوٸے کہا تھا۔ حانم کا چہرہ سرخ ہوا۔ وہ مزید ایلا کی باتيں نہيں سن سکتی تھی۔ اسی لیۓ روحان کی طرف بڑھ گٸی۔

”مجھے اس طرف بیٹھنا ہے۔۔“
روحان کے پاس پہنچ کر اس نے جیسے حکم دیا۔

”ہاں ہاں کیوں نہيں__!!“
روحان نے مسکراہٹ دبا کر اسے گزرنے کی جگہ دی۔

حانم نے بیٹھنے کے بعد چہرے کا رخ شیشے کی جانب موڑ لیا تھا۔

”کیا ہم بات۔۔

”بالکل نہيں۔۔“
روحان کی بات مکمل ہونے سے پہلے حانم انکار کر چکی تھی۔

”کیوں“

”میری مرضی“
حانم نے منہ بنایا۔ روحان نے اپنی مسکراہٹ ضبط کی۔

”لیکن مجھے تو بولنے کی عادت ہے۔“
وہ جان بوجھ کر اسے چڑا رہا تھا۔ حانم نے ایک سرد سی نظر اس پر ڈال کر پھر سیٹ سے ٹیک لگا کر آنکهيں بند کرلی تھیں۔
اس نے خود کو اب حالات کے حوالے کردیا تھا۔
اسے اب افسوس ہو رہا تھا۔ طلاق کا وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔
لیکن جانے کیسے اس نے یہ لفظ اپنے منہ سے نکالا تھا۔

اب اسے احساس ہو رہا تھا کہ غصہ واقعی بہت بری چیز ہے۔۔ انسان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحيت کو مفلوج کردیتا ہے۔

______________________________

حمدان ولا میں ایک دم ہی بہت رونق ہوگٸی تھی۔ وہ لوگ رات کو پہنچے تھے۔
آسیہ بیگم ماہی اور حانم کو دیکھ کر بہت خوش ہوٸی تھی۔ وہ دونوں سالوں بعد پاکستان آٸی تھیں۔
ماہم بہت خوبصورت اور خوش نظر آرہی تھی۔
رات کا کھانا بہت اچھے ماحول میں کھایا گیا تھا۔
کھانے کے بعد حشام اور ضیا ٕ جبیل اپنے گھر چلے گٸے تھے جو پاس ہی تھا۔ البتہ روحان حمدان صاحب کے ساتھ بیٹھا کچھ اہم باتيں کر رہا تھا۔
حمدان انکل اس سے شادی کے متعلق باتیں کر رہے تھے۔

انہيں لاٶنج میں باتوں میں مگن دیکھ کر حانم کچن میں آسیہ بیگم کے پاس آگٸی تھی جو چاٸے بنا رہی تھیں۔
جبکہ ایلا اور ماہی ماہم کے کمرے میں اسکی شاپنگ دیکھ رہی تھیں۔

”بہت خوشی ہوٸی آج مجھے اپنے بچوں کو گھر میں دیکھ کر۔۔“
آسیہ بیگم واقعی خوش نظر آرہی تھیں۔

”مجھے بھی۔۔“
حانم مسکرا دی تھی۔

”میں نے اور حمدان نے فیصلہ کیا ہے کہ ماہم کے ساتھ ہی تمہاری بھی رخصتی کردیں۔۔“
آسیہ بیگم نے مصروف سے لہجے میں کہا تھا۔
سٹول پر بیٹھی حانم ایک دم اچھلی تھی۔

”کک۔۔ کیا مطلب۔۔؟؟“
وہ ہکلاٸی۔

”ہاں۔۔ تمہیں بھی ساتھ ہی رخصت کیا جاٸے گا۔۔ دو تین دنوں میں اپنی شادی کی تیاری کرلو۔۔“
آسیہ بیگم بتا رہی تھیں جبکہ حانم حیرانگی سے انکی پشت کو گھور رہی تھی۔

”میری رخصتی کیوں۔۔ خیریت۔۔؟؟“

”کیوں۔۔ تم نے رخصت ہو کر اپنے گھر نہيں جانا۔۔ ویسے بھی تمہاری ساس کہہ رہی تھی کہ انکی سید حویلی ویران پڑی ہے۔۔ وہ تمہيں اب اپنی حویلی میں دیکھنا چاہتی ہیں۔۔“
حانم کو اپنا دم گھٹتا محسوس ہوا تھا۔

”ایسے کیسے میں رخصت ہو کر چلی جاٶں؟؟ آپ لوگوں نے یہ بھی نہيں دیکھا کہ لڑکا کماتا بھی ہے یا نہيں۔۔ اماں آپکو پتا بھی ہے آپکا داماد بےروزگا پھرتا ہے۔۔“
حانم نے گویا اپنے دل کی بھڑاس نکالی تھی۔

”بےروزگار۔۔؟؟“
آسیہ بیگم نے حیرت سے اسے پلٹ کر دیکھا۔

”ہاں اور نہيں تو کیا۔۔؟ کیا کام کرتا ہے وہ؟؟“
حانم ناک منہ چڑھا کر پوچھ رہی تھی۔

”پڑھ رہا ہے ساتھ ساتھ۔۔ اور بتا رہا تھا ایک بہت بڑی لیب میں ایک ساٸنسدان کے طور پر کام کرتا ہے۔۔ اتنا کم ہے کیا تم مستقبل کے ایک عظیم ساٸنسدان کی بیوی ہو۔۔“
حانم حیرت سے منہ کھولے اپنی ماں کو دیکھ رہی تھی جو روحان کے متاثرین میں شامل تھی۔

”اور تو اور دین کا کام بھی کر رہا ہے ماشاءاللہ اتنے اچھے بیان کرتا ہے سن کر خوش ہوجاتی ہے۔۔“

حانم نے اپنا سر پیٹ لیا تھا۔ یہاں اسکی دال نہيں گلنے والی تھی۔

”اتنا نیک شریف بچہ ہے۔۔ اتنے ادب سے بات کرتا ہے__“

”اماں میں تھک گٸی ہوں سونے جا رہی ہوں“
حانم مزید اسکی تعریفیں نہيں سن سکتی تھی۔

”ارے چاٸے تو پی لو اب۔۔“
وہ چاٸے کپ میں ڈالتے ہوٸے بولیں۔

””نہيں بس ٹھیک ہے۔۔“
وہ جانے کیلیے پلٹی تھی اور پھر دروازے میں ایستادہ روحان کو دیکھ کر گڑبڑاگٸی تھی جو گہری نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

”یہ اپنے داماد کو پلا دیں چاٸے۔۔“
وہ روحان کو گھورتی اسکی جانب بڑھی تھی جو اب دلچسپی سے اسے دیکھ رہا تھا۔

”راستہ دیں۔۔“
حانم نے اسکے سامنے کھڑے ہو کر کہا تھا۔ البتہ نظریں جھکی ہوٸی تھیں۔

”میری براٸیاں کی جا رہی تھیں۔۔؟؟“
وہ شرارتی لہجے میں پوچھ رہا تھا۔

”مجھے کوٸی ضرورت نہيں“
حانم نے منہ پھلا کر جواب دیا۔

”ارے بیٹا تم یہاں۔۔ میں بس آہی رہی تھی چاٸے لے کر۔“
آسیہ بیگم اسے کچن کے دروازے میں دیکھ کر بوکھلا گٸی تھیں۔
روحان نے سیدھے ہوتے ہوٸے حانم کو راستہ دیا جو بنا کچھ کہے سنے وہاں سے رفوچکر ہوگٸی تھی۔

”کیا باتيں ہو رہی تھیں؟؟“
وہ اب خوشدلی سے پوچھ رہا تھا۔

”کچھ بھی نہیں رخصتی کی بات کر رہی تھی حانم سے۔۔“

”پھر کیا کہا اس نے؟؟“

”مجھے سمجھ نہيں آرہی کہ وہ کیا چاہتی ہے۔۔“
آسیہ بیگم نے صاف بات کی۔

”آپ پریشان نا ہوں۔۔ میں کرلونگا بات اس سے“
وہ انہيں تسلی دے رہا تھا۔ آسیہ بیگم اسکی بات سن کر مسکرادیں۔

_________________________

وہ سونے کی تیاری کر رہی تھی جب دروازے پر دستک ہوٸی۔
حانم کو لگا کہ ملازمہ چاٸے دینے آٸی ہوگی۔

”آجاٶ۔۔“
وہ اب لیٹ چکی تھی۔ کمبل اوپر لیا۔ تھک گٸی تھی۔ اسے ہمیشہ سفر کے بعد بہت نیند آتی تھی۔
تبھی دروازہ کھلا اور وہ اندر آیا۔

”بیگم صاحبہ کو نیند آگٸی ہے؟؟“
وہ سنجيدہ لہجے میں پوچھ رہا تھا۔ حانم کرنٹ کھا کر اٹھی۔

”آپ۔۔ آپ یہاں کیا کر رہے ہیں۔۔؟؟“
حانم حیران سی اسے دیکھ رہی تھی۔

”آج جب میں نے یہ گھر دیکھا تو مجھے احساس ہوا کہ سالوں پہلے جب بارش میں بھیگتی ایک لڑکی اس گھر سے باہر نکلی تھی تو وہ واقعی تم تھی۔۔ لیکن اس وقت میں نے اسے اپنا وہم سمجھا تھا“
وہ اب کمرے کی کھڑکی کھول کر باہر دیکھتے ہوٸے کہہ رہا تھا۔ حانم اسے حیرت سے دیکھ رہی تھی۔ اسکے کمرے میں ہلکی ہلکی روشنی تھی۔

”کتنا پاگل ہوں نا میں بھی۔۔ جب تم پاس تھی تو خبر نہيں تھی کہ کہاں رہتی ہو۔۔ اور جب دور ہوٸی تو یہاں بس گٸی۔۔“
روحان کھڑکی میں کھڑے ہوٸے اپنے سینے پر دل کے مقام پر انگلی رکھے بتا رہا تھا۔
حانم حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔

”میں سوچتا تھا کہ کیا کبھی مجھے کسی سے محبت ہوگی؟؟ میں اکثر سوچا کرتا تھا کہ ناجانے مجھے کتنی شادیاں کرنی پڑیں گی۔۔“
وہ خود ہی مسکرا دیا۔
ایک پل کیلیۓ حانم اسکی مسکراہٹ میں گھم سی ہوگٸی تھی۔

”لیکن جب محبت نے مجھ پر حملہ کیا تو میں دنگ رہ گیا___ ایک لڑکی کیلیۓ میں دربدر پھرا ہوں___ شاید تم یقین نہ کرو مسز ام حانم لیکن روحان جبیل کو ام حانم سے شدید محبت ہے__!!“
وہ پھر مسکرادیا تھا۔
حانم اسکی بات سن کر سٹپٹا گٸی تھی۔

”سنو۔۔ تم جو چاہو سزا دے لو۔۔ لیکن مکی والی بات کو کسی کے سامنے مت لانا۔۔ میں تمہارا نام کسی اور کے ساتھ برداشت نہيں کر سکتا۔۔!!“
روحان کے لہجے میں التجا تھی۔
حانم کے دل کی دھڑکن تیز ہوٸی تھی۔ اسکی پلکیں جھک گٸی تھیں۔
وہ جانتی تھی وہ اس شخص سے بدتمیزی نہيں کر سکتی تھی۔۔ وہ چاہتی تھی کہ وہ اس پر چیخے چلاٸے۔۔ اسے برا بھلا کہے۔۔ لیکن جب بھی وہ سامنا آتا تھا۔۔ حانم کی زبان سے کوٸی غلط لفظ ادا ہی نہیں ہوتا۔۔ وہ اب آرجے نہيں تھا جسے سے آگ لگانے والے جملے سناتی تھی۔ وہ روحان جبیل تھا___ سید روحان بن حیدر جبیل__
کچھ لوگوں کی شخصیت ایسی ہوتی ہے کہ اللہ لوگوں کے دلوں میں انکا رعب اور عزت ڈال دیتا ہے۔۔ اور شاید روحان جبیل ان خوش نصیب لوگوں میں سے ایک تھا جسے اللہ نے ہمیشہ بہت عزت سے نوازا تھا۔

”جھوٹ بھول رہے ہیں آپ۔۔ کوٸی محبت نہيں کرتے۔۔ نہ مجھے یقین ہے۔۔“
حانم نے ہمت کر کے کہا تھا۔

”کیسے یقین کروگی۔۔؟؟“
وہ پوچھ رہا تھا۔
اسکی بات سن کر سوچ میں پڑھ گٸی تھی۔ وہ جانتی تھی روحان جبیل کیلیۓ کچھ بھی مشکل نہيں تھا۔۔ وہ اس سے شدید نفرت کرنا چاہتی تھی۔ لیکن نہيں کر پارہی تھی___ وہ اس شخص کے سامنے بےبس ہوگٸی تھی۔
وہ کافی دیر سوچتی رہی تھی۔

”مجھے سید حویلی چاہیۓ___“
حانم نے سوچنے سمجھنے کے بعد ڈیمانڈ کی تھی۔ وہ جان بوجھ کر ایسا بول رہی تھی۔ وہ بس روحان کا ردعمل دیکھنا چاہتی تھی۔
اسکی بات سن کر حیرت زدہ رہ گیا تھا۔ وہ بنا کچھ کہے دروازہ کھول کر کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔
حانم کا رکا ہوا سانس بحال ہوا۔

”شکر ہے جان چھوٹی۔۔ یااللہ کہاں پھنسا دیا ہے مجھے۔۔“
وہ پھر سے سونے کیلیۓ لیٹی۔۔ آنکهيں نیند سے بوجھل ہو رہی تھیں۔

ابھی پانچ منٹ ہی گزرے تھے۔۔ حانم نیم غنودگی کی حالت میں تھی جب کمرے کا دروازہ جھٹکے سے کھلا۔
حانم ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔

”اب کیا ہے۔۔؟؟“
وہ سرخ آنکهيں لیۓ پوچھ رہی تھی۔

”یہ لو۔۔“
روحان نے ایک فاٸل حانم کے سامنے بیڈ پر پھینکی۔

”یہ کیا ہے۔؟؟“
وہ نیم غنودگی کی حالت میں پوچھ رہی تھی۔
روحان کو وہ نیند سے بوجھل آنکهيں لیۓ بہت دلچسپ لگ رہی تھی۔

”کھول کر دیکھ لو۔۔“
روحان کے کہنے پر حانم نے فاٸل کو کھول کر دیکھا تھا۔ اور پھر اسکی نیند اڑن چھو ہوٸی۔ وہ سید حویلی کے کاغذات تھے۔

”ہمارے خاندان میں روایت ہے جو شخص گدی پر بیٹھتا ہے اسکی بیوی کے نام سید حویلی کو کیا جاتا ہے۔۔ جب میرے ڈیڈ نے گدی سنبهالی تو یہ حویلی میرے مام کے نام ہوچکی تھی۔۔ جسے میں نے دوستوں سے شرط لگا کر دھوکے سے مام کے ساٸن کروا کر اپنے نام کروالیا تھا__ یہ میرے نام تھی۔۔ اور اب تمہاری ہوٸی۔۔ یہ بتاٶ اور کچھ___!!“

وہ پرسکون سے انداز میں بتاتا حانم کو ورطہ حیرت میں ڈال گیا تھا۔ وہ منہ کھولے حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔ اللہ جانے وہ شخص کیا چیز تھا__!!

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: